Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 10)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
اس روز کے بعد سے سب نے گڑیا میں واضح تبدیلیاں دیکھی تھیں۔ ۔۔ وہ جو بات بات پر ہر کسی کو کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی اب بالکل خاموش ہو چکی تھی ایک گہری مگر پرسکون جھیل کی مانند۔۔۔ اب اس کی زبان کا کام اس کی نگاہیں پوری کر دیتی تھیں اگر کوئی بھی فضول گوئی کرنے کی کوشش کرتا تو وہ اسے ایسی نگاہوں سے دیکھتی کہ اگلا بندہ خود ہی شرمندہ ہوتا خاموش ہو جاتا۔۔۔ ماں کو پلٹ پلٹ کر جواب دینا وہ بند کر چکی تھی فاطمہ اس کی اس روش سے خوش تھی جب کبھی وہ بہت غصے میں ہوتی اور اس کو ڈانٹنے لگتی تو گڑیا خاموشی سے اٹھ کر وہ جگہ ہی چھوڑ دیتی اور کمرہ نشین ہو جاتی۔۔۔ زینب بی بی کے گھر وہ ابھی بھی جاتی تھی اب اس کا بیشتر وقت اپنی کتابوں کے ساتھ سر کھپانے میں گزرتا۔۔۔ نا محسوس انداز میں وہ ماحول سے کٹنے لگی تھی اپنے آپ میں مگن اس نے اپنی ایک دنیا بسا لی تھی ۔۔۔ گھر کے کام کا بوجھ اس پر پہلے ہی سب سے چھوٹی ہونے کے باعث کم تھا زنیرا اور عمیرا ہی ماں کا ہاتھ بٹانے کو ہمہ وقت پیش پیش رہتی تھیں اب تو اس کی کتابوں سے وابستگی دیکھتے اس کا کھانا بھی اس کے پاس ہی جا کر دیا جاتا تھا۔۔۔۔ جہاں کہیں اسے کسی بھی چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی تو وہ بڑے دھڑلے سے بنا وقت کا تعین کیے آدھی رات کو بھی سمیرا یا عمیرا کو اٹھا کر وہ سوال سمجھتی تھی۔۔۔
اب آپ لوگ میری آپیاں ہیں مجھے جس چیز کی سمجھ نہیں آئے گی آپ لوگوں سے ہی سمجھوں گی نا ۔۔۔نا کہ ہمسایوں کے گھر سے جا کر سمجھو گی اور فائدہ میرے گھر میں دو عدد مجھ سے سینئر آپیوں کے موجود ہونے کا جو ان سے بھی کوئی چیز سمجھنے کے لئے مجھے وقت کی نزاکت کا احساس کرنا پڑے۔۔۔
اس روز عمیرا کے ناشتے کے وقت اس کا آدھی رات کو اٹھا کر کوئی سوال سمجھنے کو لے کر شکوہ کرنے پر وہ جھٹ سے بنا توقف کے اپنے ازلی انداز میں پڑاٹھا کھاتی گویا ہوئی ۔۔۔
ہاں بھائی ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے میری گڑیا اسے جس وقت جس چیز کو سمجھنے کی ضرورت محسوس ہو ۔۔۔ تم دونوں اپنا ہر کام چھوڑ کر پہلے اسے سمجھاؤ دیکھو تو بچی کتنی محنت کر رہی ہے۔۔۔ ناشتے کے بعد چائے پیتے آفتاب نے مسکرا کر گڑیا کا سر تھپتھپاتے کہا تو وہاں موجود باقی تینوں نفوس بھی مسکرا دیئے آفتاب کی بات میں دم تھا وہ لوگ اسی پر خوش تھے کہ گڑیا نے ہر وقت جلنے کڑہنے کی روش چھوڑ کر کتابوں سے دل لگا لیا تھا۔۔۔ تبھی دروازے پر دستک کی آواز کے ساتھ رقیہ کی آواز سن کر زنیرا سب کچھ چھوڑ چھاڑ دروازہ کھولنے گی جب کہ گڑیا نے غصے سے نوالہ چنگیر میں پٹخا۔۔۔
پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے انہیں یہ کیوں اپنے گھر میں ٹک کر نہیں رہ سکتیں ہر وقت توہ لینے کی عادت کے کسی کے گھر میں کیا ہو رہا ہے اتنا تو خیال کریں گے ابھی ناشتے کا وقت ہے ابھی ناشتہ کر رہے ہوں گے سب مگر نہیں دوسروں کے گھروں میں تانکا جھانکی کرنے کی عادت لوگوں کی جاتی نہیں۔۔۔ رقیہ کو اندر آتا دیکھ کر وہ غصے سے بربراتی ناشتہ ادھورا چھوڑ کر اٹھ کے کمرہ نشین ہوگئی اسے سخت زہر لگتی تھی اپنی تائی کی یہ عادت ہر وقت ان کے گھر آ دھمکنے کی اور ان کے گھر کے رہن سہن اور طور طریقوں پر مسلسل بار بار نقطہ چینی کرنے کی ۔۔۔ فاطمہ تاسف سے بیٹی کو دیکھ کر رہ گئی کہ کئی مقام پر بیٹی کے صحیح ہونے کے باوجود وہ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی تھی کہ وہ ایسے معاملوں کو ہوا دے کر بڑھانا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
****
ساری رات شمائل کی کام میں مصروف ہیں گزری تھی حتی کہ صبح فجر کی اذانیں ہونے لگی تھیں۔۔۔ اس کا سر بری طرح دکھنے لگا تھا اور نیند کا غلبہ بری طرح اس پر حاوی ہونے لگا تھا لیکن اس وقت نہ تو وہ سو سکتی تھی اور نہ ہی اس کے پاس آرام کرنے کا وقت تھا سو وہ چپل پرستی اٹھی اور الیکٹرک کیٹل میں نیند بھگانے کو ایک کپ سٹرانگ سی چائے بنانے لگی۔۔۔ گو کے الیکٹرک کیٹل ہاسٹل کے اصولوں کے خلاف تھی لیکن بہت سارے سٹوڈنٹ نے وقت بے وقت چائے بنانے کی غرض سے اسے ہاسٹل کی انتظامیہ سے چھپا کر رکھا ہوا تھا یہ الیکٹرک کیٹل بھی اسکی روم میٹ ضحی کی تھی جس سے وہ وقت بروقت مستفید ہوتی رہتی تھی۔۔۔۔ اکثر اپنے کام میں مگن ہو کر وہ اسی طرح سے اپنی صحت کو نظرانداز کرتی تھی کام کرنے کا جنون اتنا اس پر سوار ہو جاتا کہ پھر نیند اور بھوک پیاس سب بھول جاتی ۔۔ کئی مرتبہ وہ اپنی اس روش کے باعث بیمار ہو چکی تھی لیکن بیماری میں بھی وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے کو تیار نہ تھی اس کا ماننا تھا کہ جتنا سخت طبیعت خود کو بناؤ گے اتنا ہی اس چیز کے عادی ہو جاؤ گے۔۔۔ اس نے جاگتی آنکھوں سے جو خواب دیکھے تھے ان کی تعبیر اسے ٹک کر بیٹھنے نہیں دیتی تھی ۔۔۔ جب اس نے یہ کانٹوں بھرا راستہ چننے کے بارے میں سوچا تھا تب اس نے مسلسل ایک ہفتہ یہی چیز سوچنے میں لگایا تھا کہ اسے ایسا کیا کرنا چاہیے جو اتنی محنت کے بعد سپر ڈپر ہٹ جائے۔۔۔ کام کے حوالے سے ایک اصول جو اس نے جانا تھا کہ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے لوگوں کی اس میں دلچسپی دیکھی جائے کہ کتنے فیصد لوگ اس میں دلچسپی رکھیں گے کسی بھی کام کو کامیاب یا ناکام بنانے میں لوگوں کی دلچسپی کا ستر فیصد ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔ ایسا کام جس سے لوگوں کی بھلائی مشروط ہو یا اس سے لوگوں کو کوئی فائدہ حاصل ہو رہا ہو تو اس سے لوگ جوک در جوک خود بخود جڑتے چلتے جاتے ہیں اور وہ بھی کوئی ایسا ہی کام کرنا چاہتی تھی جس سے لوگوں کا فائدہ مشروط ہوتا ۔۔۔ نہایت سوچ بچار کے بعد وہ اپنی کام کی نوعیت منتخب کر چکی تھے اس کے بعد اس نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر کام شروع کیا تھا بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی ڈیمانڈ اور تیزی سے اپنا آپ منواتی ٹیکنالوجی میں آرٹیفیشل انٹیلیجینس جو کہ کسی وقت میں ایک ناممکن کام لگتا تھا اس نے بہت سرعت سے اپنا لوہا منوایا ہے ۔۔۔ آج کل سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم کے پیچھے موجود الگورتھم میں یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہی ہے جو لوگوں کی نفسیات کو سمجھتے انکی دلچسپی کے مطابق انہیں خود سے باندھے رکھتی ہے ۔۔۔
بڑہتی ہوئی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی افادیت کو سمجھتے ہوئے اس نے پچھلے دو ماہ میں اپنا بہترین وقت اس چیز پر صرف کیا تھا اور یہ اس کی پچھلے دو ماہ کی محنت کا نتیجہ ہی تھا جو اب وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بنیادی چیزوں کو سمجھنے لگی تھی کہ یہ کس طرح سے کام کرتا ہے کس کس جگہ پر اسے اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے کیا کیا چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اس کو کس کس مقام پر اور کس کس طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے یہ سب کچھ اب وہ جانے اور سمجھنے لگی تھی۔۔۔
وہ اپنی سمجھ بوجھ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی ایپ ڈویلپ کرنا چاہتی تھی جس کو لوگ بوقت ضرورت اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتے جس میں لوگ اپنی عمر اور اپنی بیماری کی نوعیت کو لکھتے تو ان کی بیماری کی میجر وجوہات ان کی علامات اور اختیاطی تدابیر کی ایک لسٹ ان کے سامنے ظاہر ہو جاتی جس کے باعث وہ اپنی بیماری کے بارے میں گہرائی سے جان سکتے۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ یہ ایک نہایت مشکل امر تھا اور اس کے لیے نہایت محنت درکار تھی لیکن اب وہ محنت سے گھبراتی نہیں تھی ۔۔۔ اسی غرض سے اس کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں ڈیٹا فیڈ کرنے کے لئے لوگوں کی مختلف بیماریوں پر سروے کرنے تھے جس میں اسے نے سروے کا ایک بڑا حصہ انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹ کو وزٹ کرکے حاصل کیا تھا جب کہ کچھ سروے اس نے سوشل میڈیا کے سبھی پلیٹ فارم پر آن لائن سروے فارم سبمٹ کرے کے کیے تھے اس کے پاس اب کافی مقدار میں ڈیٹا حاصل ہو چکا تھا۔۔۔ تیسرا اور آخری ڈیٹا وہ اب بالخصوص خود سے سپیشلسٹ ڈاکٹرز سے مل کر ان سے حاصل کرنا چاہتی تھی اسی غرض سے اس نے اپنی ایک سینئر ہاسٹل میٹ سے مدد کی درخواست کی تھی اس کے والد ایک مشہور سرجن تھے اور اس شہر میں اپنا ایک خود کا پرائیویٹ ہسپتال چلا رہے تھے۔۔ عفیفہ نے خوشی خوشی اس کی مدد کی درخواست قبول کی تھی آج احمر سے ملنے کے بعد اس نے عفیفہ کے ساتھ اس کے والد کے ہسپتال بھی جانا تھا احمر سے ملاقات اور اس کے ساتھ مل کر کام کر کے تجربہ حاصل کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔۔۔ وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بارے میں بہت کچھ جان چکی تھی اس کے پاس ڈیٹا بھی کافی حد تک اکھٹاہو چکا تھا لیکن وہ اس ڈیٹا کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں فیڈ کرنے سے پہلے عملی طور پر اس فیلڈ میں کچھ کام کر کے تجربہ حاصل کرنا چاہتی تھی
رائٹنگ ٹیبل پر بیٹھی گھونٹ گھونٹ گرم چائے کے پیتی وہ اب پورے انہماک سے اپنے پورے دن کا شیڈیول تیار کر رہی تھی۔
*****
حور بہت تیزی سے اکیڈمی میں اپنا ایک مستند مقام بناتی جا رہی تھی کامنز سے لے کر انسٹرکٹرز تک ہر ایک اس کا گرویدہ بنتا جا رہا تھا۔۔۔
اگر پہلے ہر کوئی اسکی من موہنی صورت کا دیوانہ تھا تو اب ہر شخص اسکے اخلاق سے متاثر دکھائی دیتا تھا۔ ۔۔ کامن میں اور بھی بہت سی لڑکیاں تھیں مگر حور کا شائستہ لب و لہجہ۔۔۔ ملنسار انداز ۔۔ اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے اور کھانا کھانے کے اطوار و انداز اسے سب میں منفرد و ممتاز بناتے تھے۔۔۔ اسکی ایک ایک چیز سے صفائی نفاست اور سلیقہ چھلکتا تھا۔۔۔ وہ سادگی کا پیکر تھی اپنی دوسری کامنز لڑکیوں کی طرح وہ اضافی ہتھار استعمال نہیں کرتی تھی مگر اسکا لباس سادہ اور باوقار ہوتا۔۔۔ شاید ہی کوئی میل کامن ہو جو اس پر اپنا دل نا ہار بیٹھا ہو۔۔۔ جس کا اظہار مختلف تعریفی کلمات کی صورت اکیڈمی میں مختلف مقامات پر رضا کے کانوں میں پڑتا رہتا تھا۔۔۔ یہاں تک سب ٹھیک تھا مگر پچھلے کچھ دنوں میں وہ سلطان شیرازی کا کچھ زیادہ ہی جھکاو حور کی جانب دیکھ رہا تھا جو ہر دم اسکے پیچھے پیچھے ہر کام میں اسکی مدد کو پیش پیش رہتا تھا۔۔ یہ ہی چیز اسکے اندر شعلے بھرکا رہی تھی
وہ حور کا تصور بھی کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہیں کر سکتا تھا وہ صرف اس کی تھی اور یہاں اس مقام پر وہ خود کو بہت بے بس تصور کرتا تھا نہ جانے اس کے احساسات و جذبات حور پر عیاں ہونے کے بعد اس کا رد عمل رضا کے ساتھ کیسا ہوتا لیکن اب جو بھی ہوتا اسے وقت رہتے حور کو پروپوز کرنا تھا اس سے پہلے کہ زیادہ دیر ہوجاتی اس کے بعد حور کا رد عمل جیسا بھی ہوتا وہ فیس کرنے کو مکمل تیار تھا ۔۔۔۔
*****
