Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 17)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

گہری ہوتی رات میں کمرے کی کھڑی میں ساکت سی کھڑی شمائل پر کسی مجسمے کا گمان ہوتا تھا جو باہر اندھیرے میں کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی مسلسل uiغائب دماغ تھی آج در پیش پے در پے واقعات نے اسکے اعصاب مفلوج کر کے رکھ دیئے تھے۔۔۔ آج اسے نا تو اپنا کوئی کام کرنا یاد رہا تھا اور نا ہی اسے اپنے وقت کے ضائع ہونے کا احساس ہو رہا تھا وہ پچھلے ایک گھنٹے سے وہیں اس کھڑکی میں کھڑی تھی بار بار ذہن کی سکرین پر وہی مناظر چل رہے تھے وہ چاہ کر بھی اس عفریت سے جان نہیں بچا پا رہی تھی واردن کے کمرے میں خود کو مضبوط ظاہر کرنے والی لڑکی تنہائی میسر ہوتے ہی خود پر سے ضبط کھونے لگی تھی ۔۔۔

آج انکی ایک ہاسٹل میڈ کی برتھ ڈے پارٹی تھی جسکی وجہ سے انکا پورا گروپ اس لڑکی کے کمرے میں بارہ بجے کے بعد سے سیلبریشن کے لئے موجود تھا ۔۔ حرا نے بہت کوشیش کی تھی اسے کھینچ تان کر ساتھ لیجانے کی مگر وہ دماغی طور پر اتنی ڈسٹرب اور غیر حاضر تھی کہ وہ حرا سے بھی تلخ ہوتی سختی سے جانے سے منع کر گئ تھی جسکے بعد حرا سنجیدگی سے اسکا رویہ دیکھتی خاموشی سے کمرے سے چلے گی۔۔۔ اب بھی جب وہاں کھڑے کھڑے اسکے پاوں شل ہونے لگے تو وہ کسلمندی سے آ کر بیڈ پر لیٹی۔۔۔ اعصابی بے سکونی کے اثرات اب جسم پر بھی ظاہر ہونے لگے تھے اسے اس ویڈیو کا بہت حوصلہ تھا جو وہ انجانے میں بروقت بنا چکی تھی اب اسے اپنے اس تحفے کی افادیت کا اندازہ ہو رہا تھا جسے وہ ایک لمبے عرصے تک غیر اہم سمجھ کر ادھر سے ادھر پھینکتی رہی تھی۔۔۔ اسنے خاموشی سے بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کی اور سونے کی کوشیش کرنے لگی لیکن دل نجانے کیوں ابھی بھی کسی انہونی کے خیال سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔

******

نوفل یار کیا کر رہا ہے۔۔۔ یہ بہت رسکی کام ہے پکڑے گئے تو بہت جوتے لگیں گئے۔۔۔ نوفل اور عدنان اس وقت اندھیرے میں ڈوبی سڑک پر اپنی گاڑی کے پاس کھڑے سامنے موجود گرلز ہاسٹل کی بلڈنگ کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ ہم نہیں صرف میں۔۔۔ تمہاری جان میں جان واپس لانے کے لئے تمہیں بتا دوں کہ اندر صرف میں جاوں گا تم باہر یہیں میری واپسی انتظار کرو گئے اور فکر مت کرنا میں نہیں پکڑا جاوں گا اور اگر بالفرض پکڑا گیا بھی تو یہ ہمارے حق میں مزید بہتر ہوگا ۔۔ نوفل کے اسکی جانب دیکھتے چمکتی آنکھوں اور پراسرار انداز میں گویا ہونے پر عدنان چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔ مطلب تم کرنے کیا والے ہو۔۔ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں ۔۔ اور تم اندر کیسے جاو گئے۔۔۔ کیا پائپ سے۔۔۔ کیا تمہیں پائپ پر چڑھنا آتا ہے۔۔۔ عدنان کے حیرت سے پے در پے سولات پوچھنے پر نوفل قہقہ لگاتا اسے دیکھنے لگا۔۔۔

تم بس دیکھتے جاو عدنان آگے آگے ہوتا ہے کیا۔۔۔ یقیناً آج کا ایڈوینچر بہت دلچسپ ہونے والا ہے۔۔ اور مجھے پائپ سے جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ جب جیب میں پیسے ہوں اور آپ دام دینے کو تیار ہو تو سب بکتا ہے۔۔ عدنان اسکے ایک ایک انداز کو الجھتا ہوا دیکھ رہا تھا جو اس وقت بہت مسرور دکھائی دے رہا تھا نوفل عدنان کا کندھا تھپتھپاتا سرمستی سے ہاسٹل کے دروازے کے پاس پہنچا۔

******

گڑیا مسرور سی صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی اپنے نوٹس بنا رہی تھی وقفے وقفے سے اسکے ہونٹوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ چھب دکھلاتی کبھی کبھی وہ مسکراہٹ اتنی گہری ہوتی کہ وہ پیٹ پکرتی دہری ہو جاتی۔۔۔

اسکی طمانیت کی وجہ دیوار پار سے اسکی تائی کے گھر سے آتی بلند آوازیں تھیں۔۔۔ جس سے انکے گھر کے علاوہ آس پاس کے گھر والے بھی مستفید ہو رہے تھے کچھ تو باقاعدہ اپنی اپنی چھتوں پر کھڑے وہاں لگا تماشہ براہ راست دیکھ رہے تھے۔۔۔

مہینہ بھر پہلے تائی کے سب سے بڑے بیٹے شمشیر نے مائی سلامتے کی بیٹی سے نکاح کر لیا تھا جب اسنے دھنکے کی چوٹ پر بیوی کو گھر لا کر ماں سے متعارف کروایا تو رقیہ تو گاون کی سب سے جھگڑالو بدزبان اور بدلحاظ لڑکی کو اپنی بہو کے روپ میں دیکھ کوسنے اور واویلا مچانے کیساتھ ساتھ اپنے ہی بال نوچنے لگی تھی ۔۔۔ اسکا بس نا چل رہا تھا کہ اس ڈائن کا گلہ ہی دبا دیتی جو انکے گھر ڈاراریں ڈالنے آ گئ تھی پر سامنے بھی منہ زور اپنی ہی اولاد تھی جو ماں کے واویلوں پر سر جھٹکتا بیوی کا ہاتھ تھامے اسے اندر لے گیا۔۔۔

اسکے بعد یہ روز شام کو گڑیا کے لئے ایک تفریح کا سامان بن گیا تھا کیونکہ روزانہ شام کے وقت انکے گھر پر یہ تماشا لگنا روز کا معمول بن گیا تھا۔۔۔ زبان دازضی میں نا بہو کم تھی نہ ساس اور دو پتھر ٹکراتے تو شور پورا گاوں سنتا تھا۔۔۔ دونوں میں اینٹ کتے کا بیڑ تھا رقیہ اگر اسے طنزیہ ایک بات کہتی تو وہ آگے سے دس سناتی تھی۔۔۔ سارا دن ہی انکا گھر میدان جنگ بنا رہتا ۔۔ رہتی کسر شمشیر بنا بات سنے بیوی کا ساتھ دے کر پوری کر دیتا۔۔۔ اب بھی یہ ہی ہوا تھا یکدم گھر میں داخل ہوتے شمشیر نے غصے سے دونوں کے درمیاں مداخلت کی ۔۔۔

بس کر دے ماں۔۔۔ تنگ آ گیا ہوں میں تیرے روز روز کے ڈرامے سے کیوں تو ہاتِھ دھو کر آسیہ کے پیچھے پڑ گئ ہے کیا تجھے کوئی اور کام نہیں۔۔۔ وہ خاصا بدتمیزانہ انداز میں گویا ہوتا بیوی کو بازو سے پکڑے اندر لے گیا۔۔ جبکہ پیچھے رقیہ دہائیاں دیتی رہ گئ۔۔۔ ارے بد بخت نئ نئ شادی کا خمار ہے جو بیوی کا نشہ سر چڑھ کر بول ریا ہے۔۔۔ چار دن رک جا اس کلموہی کے کرتوت آ جائیں گے تیرے سامنے۔۔۔

نجانے کیوں گڑیا کو تائی کے گھر لگتے اس روز روز کے تماشے سے ایک کمینی سی خوشی محسوس ہوتی تھی۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اتنا اچھا بننے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تائی کی موجودہ حالت پر اظہار افسوس ہی کر سکتی۔۔ اسکے ماں باپ کو ہمہ وقت بے سکون رکھنے والے لوگ آج خود بے سکون تھے تو ناجانے کیوں اسکے دل میں ٹھنڈ سی اتر رہی تھی۔۔۔ حالانکہ فاطمہ اٹھتی بیٹھتی شمشیر کے لئے ہدایت کی دعائیں کرتی تھی جسے سن کر گڑیا ہمیشہ سر جھٹک دیتی ۔۔ پتہ نہیں اسکی ماں اتنی اچھی کیوں ہے وہ ہمیشہ سوچ کر رہ جاتی۔۔۔

اب بھی تائی بکتی جھکتی بہو کو بددعائیں دیتی انہیں کے گھر آئی تھی۔ ۔ اب آگے کیا ہونے والا تھا وہ جانتی تھی اس لئے اب وہ اس ڈرامے سے اکتانے لگی تھی اسی غرض سے چیزیں سمیٹتی وہاں سے اٹھنے لگی۔ رقیہ اب فاطمہ کے پاس بیٹھی آبدیدہ ہوتی بہو کی بدتمیزیاں مرچ مصالحہ لگا کر سناتی بہو کو ظالم اور خود کو مظلوم ثابت کرنے کی شعوری کوشیش میں سرگرداں تھی۔۔۔ فاطمہ دکھ بھی تو اسی چیز جا ہے جب اپنی ہی اولاد منہ زور ہوتی سامنے تن کر کھڑی ہو جائے تو۔۔

ارے تائی کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔ پھر کیا ہوگیا اگر شمشیر لالا نے آپ سے بدکلامی کر لی تو آخر آپکا بیٹا ہے وہ۔۔۔ آپکا نام لیوا۔۔۔ آپکے مستقبل کا سہارا۔۔۔ پھر کیا ہو گیا اگر وہ منہ زور ہوتے بیوی کا حمایتی بن گیا تو آخر آپ نے اسی کے سہارے تو بڑھاپا کاٹنا ہے۔۔۔ وہ کمرے میں جانے سے پہلے تائی کی بات کاٹتی خاصی تلخی و طنز سے گویا ہوئی جسے رقیہ نے تو سوں سوں کرتے زیادہ اہمیت نا دی جبکہ فاطمہ اسکا طنز سمجھتی اسے گھور کر رہ گئ۔۔۔ وہ سر جھٹکتی اندر کمرے میں آ گئ۔۔ ناجانے کیوں لوگ براہ راست بیٹوں کی سنگدلی کی مثالیں دیکھتے ہوئے بھی بیٹی اور بیٹے کے فرق کو مٹا نہیں پا رہے تھے ۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں بیٹے بوڑھے ماں باپ کو انکے برھاپے کی پرواہ کئے بنا تنہا بے سہارا چھوڑ جاتے تھے تب بھی ناجانے کیوں لوگ بیٹوں کو بڑھاپے کا سہارا کہتے تھے۔۔۔ ناجانے کیوں لوگ اس تلخ حقیقت کو جانتے بوجھتے اس سے نظریں پھیر لیتے تھے گڑیا کی سوچیں اس وقت اسی چیز کے گرد گھوم رہی تھی۔۔۔ جب اسے یاد آیا کہ اسے آج مزید ایک ایڈ بنا کر اپنی فزکس کی ٹیچر کو سینڈ کرنی یے۔۔۔ اسکی فزکس کی ٹیچر اپنی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل کے ذریعے سپانسرڈ ایڈز رن کرتی تھی۔۔ سپانسر ایڈ یعنی کہ اپنے وسیع پلیٹ فارم پر پیسے لے کر کسی دوسرے کے کام کو پروموٹ کرنا ۔۔۔ گڑیا نے انکے کام کو سمجھتے خود سے تجربہ حاصل کرنے کو ان سے انکی مدد کرنے کی اجازت طلب کی تھی اور اس ہفتے میں یہ اسکی تیار کردہ تیسری ایڈ تھی۔۔۔ اسکی تیار کردہ پہلی دو ایڈز پر بہت اچھا رسپانس آیا تھا۔۔

پیارے دوستو اگر آپ معیاری اچھا صاف ستھرا موٹیویشنل اور بہتریں ناولز پڑھنا چاہتے ہیں تو فیسبک پر ام ہانیہ آفیشل پیج کو فالو کرتے اس ڈیجیٹل فیملی کا حصہ بنیں۔۔۔ امید ہے کہ اس ڈیجیٹل فیملی کا حصہ بن کر آپ بہت اچھا محسوس کریں گے کیونکہ وہاں آپ کو ملے گئ فری معیاری تفریح ۔۔۔ ام ہانیہ کے ناول روزانہ کی بنیاد پر پیر تا جمعہ پوسٹ ہوتے ہیں نیز ایک ناول ختم ہونے کے بعد اگلا ناول اسی ہفتے کے دوران شروع ہو جاتا ہے یعنی کہ ریڈرز کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔۔۔ اس سال میں ابھی تک لگاتار گمان سے آگے انکا چوتھا ناول ہے مجھے امید ہے ام ہانیہ آفیشل پیج سے جڑ کر اس ڈیجیٹل فیملی کا حصہ بن کر آپکے نالج میں امپورومنٹ ضرور ہو گئ۔۔۔ اسنے کھٹاکھٹ اگلی سپانسرڈ ایڈ ٹائپ کر کے اپنی فزکس ٹیچر کو سینڈ کی اور اپنی کتابیں سمیٹتی کمرے کا بکھیرا سمیٹنے لگی۔۔

******

ابھی شمائل کو سوئے کچھ ہی وقت ہوا تھا جب اسکی آنکھ آکسیجن کی کمی ہونے اور سانس بند ہونے کے احساس سے کھلی۔۔۔ آنکھ کھلتے ہی جو منظر اسنے دیکھا وہ اسکے پیروں تلے سے زمین نکالنے کو کافی تھا۔۔ اسکے کمرے میں نوفل درانی اسکے بیڈ کے پاس کھڑا اس پر جھکا ہوا تھا ایک ہاتھ اسکا بیڈ کے کراون پر جبکہ دوسرا ہاتھ شمائل کے چہرے پر سختی سے پیوست تھا۔۔۔ اس منظر کو دیکھ اسکی نیم وا آنکھیں پھٹ پڑی تھیں تھیں وہ وہاں کیا کر رہا تھا ۔۔۔ وہ بھی رات کے اس پہر۔۔۔ وہ وہاں آیا کیسے آیا تھا۔۔۔ لمحوں میں سینکڑوں سوال اسکے ذہن میں آ سمائے تھے اسنے بھرپور مزاحمت کرتے نوفل کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹانا چاہا۔۔۔

شش۔۔۔ ہاتھ ہٹا رہا ہوں آواز مت کرنا ورنہ انجام کی ذمہ دار بھی تم خود ہو گئ۔۔ وہ شر بار نگاہوں سے اسے دیکھتا سرد لہجے میں گویا ہوتا اسکے چہرے کو اپنی آہنی گرفت سے آزاد کرتا سیدھا ہوا۔۔۔ اسکے پیچھے ہٹتے ہی شمائل ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔ بھورے لمبے بالوں کی آبشار کمر پر پھیلتی چلی گئ۔۔ وہ خوبصورت تھی نوفل جانتا تھا مگر اس وقت حسن بے حجاب تھا جو نوفل درانی کو جکڑ چکا تھا ۔۔۔ حالات کی نزاکت کا احساس کرتی وہ اپنے حلیے سے ہی بے پرواہ تھی فوراً سے بیڈ سے اترتے اسنے نوفل کو ٹکتکی باندھے خود کو دیکھتا پایا تو اسکے ارتکاز کا ماخز سمجھتی سٹپٹا کر اپنے آپ میں سمٹی اور جھپٹ کر بیڈ پر پڑا آنچل اٹھا کر اسے خود پر پھیلایا۔۔۔

یہاں کیا کر رہے ہو گھٹیا انسان میں تمہارا خون پی جاوں گئ۔۔ ابھی میں چیخ چیخ کر سب کو یہاں اکھٹا کر لوں گئ پھر تم۔۔۔۔غصے کے باعث اسکی رگیں پھولنے لگی تھیں۔۔۔

چچ ۔۔ چچ۔۔۔ چچ۔۔۔ چلو یہ بھی تم کر کے دیکھ چھوڑو۔۔۔ مگر صد افسوس رات کے اس پہر تمہارے پاس سے ایک نامحرم کی موجودگی میرا تو کچھ نہیں بگاڑے گی مگر تمہارا کچھ چھوڑے گی نہیں۔۔ کیونکہ میں نے تو سیدھا سیدھا بول دینا کہ یہ لڑکی میری گرل فرینڈ ہے اور اسی نے مجھے آج رات یہاں بلوایا ہے۔۔۔ وہ تیزی سے اسکی بات کاٹتا شمائل کی حالت سے خط اٹھاتا اسی کے بستر پر نیم دراز ہوتا گویا ہوا۔۔۔

ہاں یہاں سب پاگل ہیں نا جو تمہاری بکواس ہر یقین کریں گے۔۔۔ شمائل تنفر سے اسکی بات جھٹلاتی شدت سے گویا ہوئی۔۔۔ ہاہاہاہاہا۔۔۔ سویٹ ہارٹ چلو مان لیا کہ میری بات ماننے پر انہیں شک بھی ہوا تو چوکیدار سمیٹ ہاسٹل کی چار پانچ لڑکیوں کی گواہی کہ میں سچ کہہ رہا ہوں اور اکثروپیشتر یہاں تمہارے بلانے پر آتا ہی رہتا ہوں میرے بات پر یقین کی مہر ثبت کرنے کو کافی ہو گی۔۔ پھر آگے کیا ہو گا یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔۔۔سیدھا ہاسٹل سے باہر وہ بھی بنا ٹکٹ کے۔۔۔ وہ جھٹکے سے اٹھتا اسکے سامنے کھڑا ہو کر ہاتھ سے جہاز کے اڑان بھرنے کا اشارہ کرتا سیٹی بجا کر گویا ہوا جبکہ شمائل حق دق کھڑی رہ گئ۔۔۔

چاہتے کیا ہو تم۔۔۔ ساکت کھڑے نمک کے مجسمے کی زبان سے سرسراتے ہوئے الفاظ ادا ہوئے۔

عدنان والی ویڈیو جو تم نے اکیڈمی میں بنائی تھی۔۔۔۔

ہرگز ہرگز نہیں۔۔۔۔ بے بسی سے نم آنکھوں سمیت وہ ترخ کر گویا ہوئی۔۔۔

شمائل حسن تمہاری آنکھوں میں موجود یہ بے بسی مجھے کس قدر مسرور کر رہی ہے یہ میرے لئے جس قدر طمانیت کا باعث ہے کاش میں تمہیں بتا سکتا ۔۔فلحال تم کسی بھی قسم کی من مانی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو ڈئیر۔۔ شاید تمہاری روم میٹ آتی ہی ہوگی۔۔ وہ جیبوں میں ہاتھ ارستا شوخ نگاہوں سے اسے دیکھتا مزید دو قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔ شمائل نے زور سے مٹھیاں بھنچیں ۔۔ وہ صحیح کہہ رہا تھا شمائل واقعی اس وقت بہت برا پھنس سکتی تھی۔۔۔ اسنے جذباتیت کو پرے رکھتے عقلمندی سے کام لینا چاہا۔۔۔ اور عقلمندی کا تقاضا یہ ہی تھا کہ اسے وہ ویڈیو دے دی جاتی۔۔۔

اسنے نے بنا کوئی دوسری بات کئے دراز سے یو ایس بی نکال کر اسکی جانب بڑھائی۔۔۔۔ نوفل نے اسے اتنی جلدی ہتھیار ڈھا دینے پر تعجب سے دیکھا مگر حالات کے اپنے حق میں ہونے کے باعث سر جھٹک گیا۔۔۔

اس کی کوئی اور کاپی۔۔۔ اسنے حفظ ماتقدم کے تحت پوچھا ۔۔۔ بس یہ ہی ہے۔۔۔ انداز میں شکستگی واضح تھی۔۔۔ وہ جس طرح آیا تھا ویسے ہی فاتحانہ چال چلتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔

کیا ہوا۔۔ ملی ویڈیو۔۔۔ عدنان اسے اتنی جلدی باہر آتا دیکھ حیرت سے اسکی طرف بڑھتا تجسس سے گویا ہوا۔۔۔۔ نوفل نے بنا جواب دیئے دلفریب مسکراہٹ چہرے پر سجائے یو ایس بی اسکی جانب بڑھائی۔۔۔

کیا بات ہے تیری تو نوفل۔۔۔ مگر تو اندر گیا کیسے۔۔۔ اشتیاق سے اسکے ہاتھ سے یو ایس بی پکڑتے عدنان نے تعجب سے پوچھا ۔۔ چوکیدار کو پیسے لگائے یار ۔۔۔ اسنے اندر بھیجنے کیساتھ ساتھ سبھی چور راستے بھی سمجھا دیئے وہ بے فکری سے کندھے اچکاتا گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔۔۔ کل صبح وہ لڑکی مجھے حوالات میں بند چاہیے۔۔۔ ایک دفعہ پھر سے اسکی آنکھیں شعلے اگلنے لگی تھیں۔۔۔ بالکل۔۔۔

گاڑی سیاہ کالی رات میں روڈ پر فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔۔۔

شمائل ابھی تک وہیں گم صم سی بیٹھی تھی۔۔ آج وہ شخص اسے ڈنکے کی چوٹ پر بلیک میل کر کے گیا تھا ۔۔ وہ ایسا روز روز کر سکتا تھا اسے جلد ہی اسکا کوئی سدباب کرنا تھا۔۔۔ مگر بڑا سوالیہ نشان یہ تھا کے وہ ہاسٹل کے اندر آیا کیسے یقیناً کوئی اندر کا غدار اسکے ساتھ ملا تھا۔۔۔ شمائل سمجھ سکتی تھی کہ وہ ویڈیو نوفل کو دے کر وہ اپنے ہاتھ کاٹ کر اسے دے چکی تھی اب وہ بہت برا پھس سکتی تھی وہ جانتی تھی۔۔۔ اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔۔۔

نوفل دراںی کہتے ہیں کسی گھٹیا انسان کیساتھ مقابلے پر پورا اترنے کے لئے اسکے لیول پر آتے گھٹیا بن کر مقابلہ کیا جاتا ہے۔۔۔ اب شمائل حسن تمہیں تمہاری زبان میں جواب دے گئ۔۔۔ وہ خود سے مصمم ارادہ کر چکی تھی مگر اس سے پہلے اسے اس مصیب سے نکلنے کا کوئی حل تلاشنا تھا جس میں وہ جلد پھنسنے والی تھی اسکا دماغ تیزی سے چل رہا تھا مگر کوئی حل نکلتا دکھائی نہیں دے رہا تھا اسے صبح ہونے سے ڈر لگ رہا تھا۔۔ ناجانے صبح کا سورج اسکی زندگی میں کیا طوفان لانے والا تھا۔۔۔

*******