Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 18)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

بہت دیر تک ایک ہی نقطے پر سوچ بچار کرنے کے بعد بالآخر وہ کچھ سوچتی ہوئی اٹھی اور اپنا موبائل اٹھا کر احمر کا نمبر ملانے لگی ۔۔۔ اس وقت وہاں وہ واحد تھا جس سے وہ مدد طلب کر سکتی تھی نیز وہ اچھے سے جانتی تھی کہ رات کے اس پہر بھی وہ جاگ رہا ہوگا اس لیے اس نے بنا وقت کا تعین کیے اس کا نمبر ملایا ۔۔۔

جی شمائل آپ کی اسائنمنٹ مکمل ہوگی ۔۔۔دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا اور وہ فون اٹھاتے ہی کام کی بات پر آیا کیونکہ وہ یہی سمجھا تھا کہ رات کے اس پہر شمائل نے اسے کام کی وجہ سے ہی فون کیا ہوگا ۔۔۔ احمر مجھے آپ سے آپنے ایک ذاتی مسلے پر مدد درکار ہے وہ ہونٹ چباتی شش و پنج میں مبتلا آہستگی سے گویا ہوتی کمرے سے باہر نکل گئی کیونکہ اب لڑکیاں برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے بعد واپس کمرے میں آنے لگی تھیں۔

شمائل اسے آہستہ آہستہ اپنے ساتھ درپیش تمام واقعات الف تا یے سناتی چلی گئی۔۔۔۔ اب تم کیا چاہتی ہو میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں۔۔۔ ساری بات سننے کے بعد فون کے دوسری طرف چند منٹ تک مکمل خاموشی چھای رہی ۔۔وہ خاموشی اب شمائل کو مختلف وہمات کا شکار کرنے لگی تھی جب دوسری جانب سے آواز ابھری۔۔۔

نوفل درانی چونکے مجھ سے وہ ویڈیو حاصل کرچکا ہے تو یقینی بات ہے کہ وہ کل صبح دوبارہ سے اسی کیس پر ایکش ری پلے کروائے گا۔۔۔ پلیز آپ میری اتنی سی مدد کر دیں کہ کل صبح تک کسی اچھے وکیل کو ہائر کروا کر میری عبوری ضمانت کروا دیں ۔۔۔ باقی اس میس سے مجھے کیسے نکلنا ہے وہ سب میں خود دیکھ لو گی ۔۔۔۔

ایک تو میں اس شہر میں نئی ہوں نیز وکیلوں کو ڈیل کرنے کا میرا کوئی خاص تجربہ نہیں ۔۔۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس کام کو بذات خود کرنے کے لئے مجھے کم از کم بھی کل کا دن درکار ہے اور میں کل صبح پولیس کے کوئی بھی ایکشن لینے سے پہلے اپنی عبوری ضمانت کروانا چاہتی ہوں ۔۔۔ اگر آپ میری اتنی سی مدد کر دیں تو میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں گی وہ واقعی اس وقت بہت بڑی مشکل میں گھر چکی تھی وہ جانتی تھی کہ صبح اس کے یونیورسٹی جانے سے بھی پہلے پولیس آ کر اس سے اریسٹ کر کے لے جاتی اور ایک شریف لڑکی کے لیے حوالات کا چکر لگانا موت کے مترادف تھا۔۔۔۔اگر یہ خبر اس کے پیچھے اس کے گھر تک پہنچ جاتی تو وہاں کیا قیامت آتی وہ اچھے سے سمجھ سکتی تھی وہ اس وقت خود کو بے بسی کی انتہاوں کو چھوتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔ ٹھیک ہے تم فکر مت کرو میں کچھ کرتا ہوں اور اسکے بارے میں تمہیں جلد ہی مطلع کروں گا۔۔۔

احمر کے حامی بھرنے پر اسے اپنے سر سے ایک بڑا بوجھ کھسکتا محسوس ہوا باقی آگے وہ اب انہیں کس کس انداز میں جواب دینے والی تھی اگر وہ اس کی سوچ تک کو بھی پا جاتے تو شاید یہ شہر ہی چھوڑ کر روپوش ہوجاتے۔۔۔ شمائل خود سے کسی سے پنگا نہیں لیتی تھی لیکن اپنے ساتھ پنگا لینے والوں کو کفر کاردار تک لیجا کر چھوڑتی تھی۔۔۔

******

زنیرا کے سسرال سے فرقان کے کزن کا پرپوزل عمیرا کے لئے آیا تھا۔۔۔ لڑکے کی فیملی نے اور بذات خود لڑکے نے عمیرا کو زنیرا کی شادی پر دیکھا تھا۔۔۔ لڑکا سوفٹ ویئر انجینئر تھا اور اسے کسی شارٹ کورس کے سلسلے میں امریکہ جانا تھا جس کے لئے وہ لوگ جلد از جلد نکاح کرنا چاہتے تھے رخصتی لڑکے کے واپس آنے پر ہوتی۔۔۔

فاطمہ اور آفتاب تو قسمت کے اس ہیر ہھیر پر حیرت زدہ رہ گئے تھے۔۔۔ کہاں تو وہ بچیوں کی شادی کی فکر میں دن رات گھلتے تھے کہاں انکے رب نے انکے لئے ایسے ایسے وسیلے استوار۔کئے تھے کہ پورا گاوں منہ میں انگلیاں دابے انکے گھر کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔

سادا سی تقریب میں عمیرا اور عمیر کا نکاح لائحہ عمل میں آیا تھا۔۔۔ فرقان جس قدر ڈیسنٹ خاموش طبیعت اور سنجیدہ تھا عمیر اتنا ہی شوخ و چنچل اور باتونی تھا۔۔۔ گڑیا کو پہلی مرتبہ کوئی اپنا ہم مزاج ملا تھا۔۔۔ عمیر سے پہلے ہی اسکی دو تین ملاقاتوں کے دوران اچھی خاصی علیک سلیک ہو چکی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ اسنے سب کی موجودگی میں۔بڑے دھرلے سے وہاں ادھر سے ادھر مہمانوں کے درمیاں چھوٹا موٹا کام کرتی گڑیا کو اشارے سے پاس بلایا تھا۔۔۔

جی بھیا ۔۔۔ کچھ چاہیے آپکو۔۔۔ گڑیا نے اسکے پاس جاتے مسکرا کر پوچھا۔۔۔ ہاں نا سسٹر۔۔۔ اب دیکھیں نا کسی بندے کا نکاح سب بڑوں کی موجودگی میں ہوا ہو اسکے پاس باقاعدہ گواہ و ثبوت بھی موجود ہو تو کیا ایسے میں اچھا لگتا ہے کہ وہ نکاح کے بعد بنا اپنی مسز سے ملے ہی واپس چلے جائے ۔۔۔ کیسی بہن ہیں آپ جو ایک ملاقات نہیں ارینج کروا سکتیں۔۔۔ عمیر کے پرتجسس انداز میں آہستہ ملامتی آواز میں اسے کہنے پر جہاں گڑیا کی پوری آنکھیں کھلیں وہیں پاس بیٹھے فرقان نے اسکا مطالبہ سنتے ہی اسکی کمر میں دھموکا جڑا۔۔۔ عمیر کراہ کر رہ گیا ۔۔۔۔ گڑیا آپ جائیں یہ ایسے ہی بکواس کر رہا ہے۔۔۔ فرقان نے اسے آنکھیں نکالتے گڑیا سے کہا۔۔۔ ہرگز نہیں سسٹر۔۔۔ میں نے اپنی بیوی سے ملنے کا کہا ہے کسی اور کی بیوی سے نہیں جو تمہیں تکلیف ہو رہی ہے۔۔ خود تو بہانے بہانے سے زنیرا بھابھی کو تاڑ رہے ہو میری دفعہ تمہیں تکلیف ہوتی ہے۔۔ عمیر نے گڑیا کو روکتے سرعت سے فرقان سے حساب بے باک کیا اور گڑیا کے سامنے اس قدر عزت افزائی پر فرقان سٹپٹا کر رہ گیا ۔۔ گڑیا اپنی بے ساختہ امڈتی مسکراہت روکے سر نیچے جھکائے انکی گفتگو انجوائے کر رہی تھی اسے اپنے یہ نئے رشتے اپنی بہنوں کے حوالے سے بے حد عزیز تھے۔۔۔

عمیر یہاں یہ سب نہیں چلتا یہاں کے اصول و ضوابط مختلف ہیں۔۔۔ فرقان نے دانت پیستے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں میاں بیوی کی ملاقات پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا۔۔۔ اپنی بیوی سے ملنے کا میں شرعی اور قانوی حق رکھتا ہوں ۔۔ پس ثابت ہوا تھا رکشے میں اونٹ کو بیٹھانا اور عمیر کو سمجھانا ایک برابر تھا فرقان بھی اپنا سر تھام کر رہ گیا۔۔۔

سسٹر آپ میری مدد کر رہی ہیں یا نہیں۔۔۔ اسنے اب گڑیا کی جانب رخ کرتے حتمی انداز میں پوچھا۔۔۔ اچھا مجھے دس منٹ دیں میں حساب کتاب لگا کر آپکو بتاتی ہوں ۔۔ گڑیا مسکراتی ہوئی وہاں سے واپس گھر کے رہائشی حصے کی جانب آئی اسے اب عمیرا کی حالت سوچتے ہسی آنے لگی تھی جسکے صبح سے محض نکاح کے نام پر ہی ہاتھ پاوں ٹھنڈے ہو رہے تھے۔۔۔

*****

پورے دس منٹ ہی لگے تھے اسے ہر چیز کا حساب کتاب لگاتے۔۔۔ سب لوگ گھر کے بیرونی جانب موجود کھلی جگہ پر لگے پنڈال میں بیٹھے تھے اس لئے اسکے لئے یہ کام اتنا مشکل بھی نا تھا۔۔۔

آپی آپ کونے والے کمرے میں آ جائیں یہاں کچھ مہمانوں نے بیٹھنا ہے سب سے پہلے وہ عمیرا کے پاس آتی اسے گھر کے بنے الگ تھلگ کمرے میں لائی تھی جہاں سب کا آنا جانا زرا کم ہی ہوتا تھا۔۔۔ ہمیشہ سے سادہ سی رہنے والی عمیرا اپنے سسرال سے آئے نفیس سے جوڑے اور ہلکی پھلکی جیولری میں مہکتا گلاب ہی لگ رہی تھی۔۔ گڑیا یہ سب لوگ واپس کب جائیں گے۔۔۔ خوفزدہ ہرنی کی مانند اسکی آنکھوں میں حراس و گھبراہٹ دیکھ کر گڑیا کو اپنی ہسی ضبط کرنا دنیا کا مشکل تریں کام لگا۔۔۔

آپ یہاں زرا سکون سے بیٹھیں آپی میں آپکی گھبراہٹ دور کرنے کا سامان کرتی ہوں وہ اسے اس کمرے میں لاتی صوفے ہر بیٹھاتی انہی قدموں پر واپس پلٹی۔۔۔

عمیر بھائی کوشیش کیجیئے گا کہ یہ ملاقات مختصر سے مختصر ہو وہ عمیر کو دروازہ کے سامنے چھوڑتی جاتے جاتے بھی نصیحت کرنا نا بھولی تھی جو کہ پنڈال سے فون سننے کا بہانا بناتا اٹھ کر آیا تھا۔۔۔۔

دروازہ کھولتے ہی عمیر کی پہلی نظر ہی دروازے کے عین سامنے صوفے پر براجمان سر صوفے کی پشت سے ٹکائے آنکھیں موندے ایک پری پیکر چہرے پر پڑی آپنے آپ ہی اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔۔۔ دل پہلو سے مچل کر نکلتا محسوس ہوا۔۔۔ کہاں گئ تھی گڑیا۔۔۔ وہ دروازہ کھلنے کی آواز سے یہ ہی سمجھی تھی کہ گڑیا اندر آئی ہے۔۔ عمیر نے گلا کھنگار کر اسے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔۔۔ غیر متوقع آواز سن کر عمیرا نے پٹ سے آنکھیں کھولیں مگر پہلی نظر ہی عمیر پر پڑتے وہ بوکھائی سی جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔۔۔

آ۔۔۔آپ۔۔۔ یہاں۔۔۔کک۔۔۔کیسے۔۔ حیرت سی حیرت تھی وہ بھلا اس وقت وہاں کیا کر رہا تھا۔۔۔

بیوٹیفل۔۔۔ مسمرائز سا عمیرا کو دیکھتا وہ بے خودی میں گویا ہوا ۔۔

آپ پلیز یہاں سے جائیں ۔۔۔ کک کوئی آ جائے گا۔۔۔ اسے یوں یکدم اپنے سامنے دیکھ عمیرا کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔۔۔ اسنے گھبراتے ہوئے خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ارد گرد کمرے میں نگاہ دورائی جیسے اسے ڈر ہو کہ کوئی انہیں دیکھ تو نہیں رہا۔۔

Ohhh my God….

مجھے آپ پر چابی والی گڑیا کا گمان ہو رہا ہے ۔۔۔ پلیز ایسا ایک مرتبہ پھر سے کر کے دکھائیں۔۔۔ وہ بار بار عمیرا کی سیکنڈ کے لحاظ سے اٹھتی گرتی پلکوں کی چلمن دیکھتا حیرت سے مسکراتا چند قدم مزید اسکے قریب آ کر انگلی سے اسکی پلکوں کی جانب اشارہ کرتا گویا ہوا تو عمیرا پوری آنکھیں کھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

تبھی اسنے مزید درمیانی فاصلہ عبور کرتے اسکے بالکل قریب آکر اسکے شانے پر بازو پھیلاتے اپنے حصار میں لیا تو اس نا آشنا لمس کو محسوس کرتے عمیرا کی روح تک کانپ گئ اسنے پھٹی پھتی نگاہوں سے اسکی اس جرات مندانہ حرکت پر اسکی جانب دیکھا تبھی کلک کی آواز پر اسنے جھٹکے سے سامنے کی جانب دیکھا جہاں عمیر نے ہاتھ میں تھامے موبائل پر اسکی اور اپنی خوبصورت سی سلفی لی تھی۔۔۔ اسکے سامنے دیکھنے پر ایک مرتبہ پھر سے کلک کی آواز آئی اور ایک مرتبہ پھر سے کیمرے کی آنکھ نے عمیر کے دلکش مگر عمیرا کے حیرت زدہ چہرے کو مقید کیا تھا۔۔۔

ونڈر فل۔۔۔۔ آپکو پتہ ہے یہ تصویریں میں نے شادی کے بعد لارج سائز میں فریم کروا کر اپنے بیڈ روم میں لگانی ہے اور پچاس سال بعد اپنے پوتے ہوتیوں کو انکی دادی کی یہ خوبصورت تصویریں دکھانی ہیں۔۔ وہ اب اسکے شانے سے ہاتھ ہٹاتا مسکرا کر موبائل کی ٹچ سکرین پر انگلی پھیر کر تصویریں آگے پیچھے کر کے دیکھتا شرارت سے گویا ہوا ۔۔۔ عمیرا اسکے شانے سے ہاتھ ہٹانے پر اس سے خاصہ فاصلے پر ہوتی کھڑی ہوئی۔۔۔

یہ آپکے لئے عمیر نے ایک نفیس سا ڈبہ اسکی جانب بڑھایا۔۔ یہ کیوں۔۔۔۔ عمیر کو اسکے ہوائیاں اڑے چہرے کی جانب دیکھ کر بے ساختہ ہسی آئی۔۔۔ اتنا کیوں گھبرا رہی ہیں یقین مانیں اس میں سانپ یا بچو بالکل نہیں ہے۔۔۔ ایک دن کی اتنی دلنشین بیوی کو ایسے تحفے بھلا کون دیتا ہے۔۔۔ وہ اسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھتا پھر سے اسکی جانب بڑھا اور ایک مرتبہ پھر سے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے اسنے عمیرا کا مومی ہاتھ تھام کر اس پر وہ ڈبہ رکھا۔۔۔

یہ موبائل فون ہے۔۔ امریکہ سے میں آپکو فون کروں گا آپ کریں گی نا مجھ سے بات۔۔۔ اسکی نگاہیں عمیرا کے شرمائے لجائے پری چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔۔۔

نن ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ آپ پلیز جائیں۔۔ عمیرا کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کیا کہے کیا بولے اسکی تان اسکی ایک فقرے پر آ کر توٹ رہی تھی۔۔۔ کسی نا کسی کے آ جانے تلوار جو سر پر لٹک رہی تھی۔۔

پھر تو نہیں میں جا رہا۔۔۔ ویسے پتہ ہے آپ پر نا مجھے چابی والی گڑیا کے ساتھ ساتھ ریکارڈد گڑیا کا بھی گمان ہو رہا ہے۔۔۔۔

جی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔ اسکے پرسکون انداز میں صوفے پر بیٹھ کر کہنے پر وہ حیرت سے ایک دفعہ پھر سے پوری آنکھیں کھول کر گویا ہوئی۔۔

اور نہیں تو کیا۔۔۔ جب سے میں آیا ہوں۔۔۔ آپ پلیز جائیں۔۔۔ کوئ آ جائے گا۔۔۔ جی ی ی ی۔۔۔ اسکے سوا آپ کچھ بول ہی نہیں رہیں۔۔۔

دیکھیں پلیز آپ بات کو سمجھنے کی کوشیش کریں۔۔۔ ہمارے گاوں میں رخصتی سے پہلے لڑکا لڑکی کے یوں تنہائی میں ملنے کو بہت معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ اگر کسی کو بھی آپکے یہاں اس کمرے میں آنے کی بھنک بھی لگ گئ تو بات کو بہت بڑھایا جائے گا۔۔۔ پلیز آپ چلے جائیں۔۔۔ جب سے وہ کمرے میں آیا تھا اس چابی والی پلس ریکارڈد گڑیا نے پہلی مرتبہ اتنی لمبی بات کی تھی اسے بے ساختہ اس کی حالت پر ترس آیا۔۔۔

میں آپ کی بات اچھے سے سمجھ رہا ہوں مگر آپ بھی تو میری بات سمجھیں نا۔۔۔ پہلے وعدہ کریں کہ روز مجھ سے بات کیا کریں گئ۔۔ بھئ محرم ہیں میری بات کر سکتی ہیں آپ مجھ سے۔۔ وہ صوفے سے اٹھتا اسکے پاس جا کر اسکے یخ برف ہوتے مومی ہاتھ تھامتا محبت سے گویا ہوئے۔۔۔۔ عمیرا کے نازک ہاتھ اسکے پرحدت ہاتھوں میں کپکپا گئے تھے۔۔۔ ٹھ ۔۔ ٹھیک ۔۔۔ہے امی سے پوچھ کر ۔۔۔ اگر انہوں نے اجازت دی تو۔۔۔ وہ ڈھرکتے دل سے اسکی گرفت سے ہاتھ کھینچتی گویا ہوئی۔۔۔

اپنا بہت خیال رکھنا ۔۔۔ خود کو میری امانت سمجھ کر۔۔۔ وہ جاتا جاتا اسکے کان کے پاس جھکتا سرگوشی میں کہہ کر اسکے دل کے تار چھیر کر جا چکا تھا مگر عمیرا کو لگا وہ اپنی خوشبو یہیں اسکے ارد گرد ہی چھوڑ گیا ہو۔۔۔ ابھی تک اسکا دل زور زور سے ڈھرک رہا تھا ۔۔۔ یہ کیسی لے تھی جس پر اسکا دل عمیر کی ہمراہی میں ڈھرکنے لگا تھا۔

*****

ساری رات شمائل کی بے سکونی میں کٹی تھی۔۔۔ ایک پل کو وہ سو نہیں پائی تھی۔۔۔ سوتی بھی کیسے کسی انہونی کی تلوار جو ہمہ وقت سر پر منڈلا رہی تھی۔۔۔۔ اور صبح ہوتے ہی وہی ہوا جسکا اسے رات سے ڈر تھا۔۔۔۔ صبح کے سات بجے جب لڑکیاں میس میں ناشتے کی غرض سے جا رہی تھیں عین اسی وقت اسکے موبائل پر انجان نمبر سے فون آیا ۔۔۔ اسنے ڈھرکتے دل سے فون اٹھایا اور دوسری طرف سے شمائل حسن کا کنفرم کرنے پر جو آواز گھونجی وہ اسکے قدموں تلے سے زمین کھنچنے کو کافی تھی۔۔۔

مس شمائل حسن آپکے خلاف ڈکیٹی کی واردات کا کیس فائل ہے۔۔۔ نو بجے آپکی تفتیش ہے جسکے لئے آپکو بروقت تھانے آنا ہو گا وگرنہ بصورت دیگر آپکو بنا تفتیش کے ہی مجرم گردانتے آپکے خلاف اریسٹ وارنٹ جاری کرنے پڑیں گے۔۔۔ آواز تھی کہ صور اسرافیل شمائل کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔ ہاتھ میں تھاما موبائل کپکپا گیا تھا۔۔۔ بھلا بنا کسی ثبوت کے وہ اس تفتیش میں بھی خود کو کیسے بے گناہ ثابت کرتی۔۔۔

اسنے بے ساختہ گرنے سے بچنے کے لئے دیوار کا سہارا لیا۔۔۔ اسنے احمر سے وکیل کے بارے میں جاننے کے لئے اسکا نمبر ملایا ۔۔ ایک بار دو بار سہہ بار مگر اسکا نمبر مسلسل آف جا رہا تھا ۔۔۔۔ اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔

*******