Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 23)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
اکیڈمی کے نام پر فحاشی کا اڈا۔ ۔۔ جے ایم اکیڈمی ایکسپوز۔۔۔ ویڈیو کا ٹائٹل ہی ایسا تھا جو خودبخود ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کر رہا تھا ویڈیو میں عدنان ا
سٹوڈنٹ کے روپ میں موجود پری زاد سے مسکرا کر باتیں کرتا اسے بہلا پھسلا کر اکیڈمی میں بنے بیسمینٹ کی سیڑھیاں اترتے اسیے تہہ خانے میں لے کر جارہا تھا جو کہ ایک پرتعیش فرنشڈ کمرا تھا۔ ۔۔
ویڈیو میں اب عدنان کی پری زاد کے ساتھ نا زیبا حرکات اور پری کی بے بسی و مزاحمت صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ اس بھڑیا نما انسان کی گھناونی اصلیت جسے وہ کسی خاطر میں نہیں رکھتا تھا اب دنیا بھر کی سکرین پر وہی اصلیت آئی تھی۔تو خود چہرہ چھپاتے گوشہ نشین ہوا پڑا تھا۔۔۔
تو نازرین آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک تعلیم فراہم کرنے والی مقدس جگہ پر کس طرح کے گھناونے فعل سرانجام دیے جا رہے تھے۔۔۔ عدنان ملک جیسے لوگ انسان نہیں بھیڑیے ہوتے ہیں جو کہ نہ جانے کتنی معصوم کلیوں کی عصمت پامال کر چکے ہیں ان جیسے لوگوں کو جینے کا کوئی حق نہیں ۔۔۔۔ ویڈیو نے نیوز کی دنیا میں ہر جانب تہلکا مچا دیا تھا جے ایم اکیڈمی سیل کر دی گئی تھی ۔۔۔ عدنان کا باپ اس وقت ملک سے باہر تھا اور وہیں سے سر توڑ کوشش کر رہا تھا اس واقعے کو دبانے کی مگر حالات ہاتھ سے نکلتے بے قابو ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔
پری اپنا موبائل فون آن کرو ۔۔۔اور اگر عدنان تم سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی کال اٹینڈ کرو ۔۔ شمائل لیپ ٹاپ وہیں میز پر ہاتھ سے کھسکاتی صوفے پر نیم دراز ہوتی سامنے سنگل صوبے پر موجود پری سے گویا ہوئی۔۔۔ موبائل آن کرنے کے محض چند ہی منٹوں بعد سب سے پہلی فون کال عدنان ہی کی آئی تھی ۔۔۔
فون آنے پر پری نے شمائل کی جانب دیکھا اور شمائل کے اشارہ کرنے پر اسنے کال اٹینڈ کرتے فون سپیکر پر لگایا ساتھ ہی اسکی ریکارڈنگ آن کی ۔۔۔
یہ جو پروپیگنڈا تم نے شروع کیا ہے نہ پری زاد اس کی بہت بڑی قیمت تمہیں چکانی پڑے گی ۔۔۔ عزت تو گئی ہی ہے لیکن اب تم جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گی تمہارے حق میں بہتر یہی ہے کہ اگلی ویڈیو میں تم اس چیز کا اعتراف کرو کہ یہ سب کچھ جھوٹا اور بے بنیاد ہے اور تم نے میرے حریفوں کے ساتھ مل کر مجھے برباد کرنے کے لیے یہ پلاننگ کی ہے۔۔۔ ورنہ بصورت دیگر انجام کی ذمہ دار تم خود ہوگی میں تمہیں وہاں لے جاکر مارو گا جہاں لوگ تمہاری لاش پہچاننے سے انکار کر دیں گے۔ ۔۔ بے بسی کے شدید احساس تلے دبتا عدنان پری سے رابطہ استوار ہوتے ہی خونخوار لہجے میں اس پر الٹ پڑا تھا۔۔۔
تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے عدنان پری کی گلو گیر آواز پر وہ ایک دفعہ پھر سے آپے سے باہر ہوتا اس پر چڑھ دوڑا ۔۔ پری نے مسکراتے ہوئے فون بند کیا اور ریکارڈنگ سیو کر کے شمائل کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
Now its time to action replay…
پری پلیز کچھ کھانے کو ہے تو مجھے ناشتہ لا دو اب تو میرا بھوک سے برا حال ہو رہا ہے شمائل نے وائر کی مدد سے موبائل سے اس ریکارڈنگ کو لیپ ٹاپ میں ٹرانسفر کرتے بیچارگی سے پری کی جانب دیکھتے کہا تو وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ وہ جانتی تھی صبح سے اس میس میں پھنس کر شمائل نے ابھی تک ناشتہ بھی نہیں کیا تھا۔
*************
اس واقعہ کے طول پکڑنے کے دو گھنٹے بعد ہی اگلی ویڈیو نے ہر جانب دھوم مچا دی تھی یہ ان کے پلان کا دوسرا پارٹ تھا ۔۔۔۔ جس میں پری عدنان کے قدموں میں جھکی اس کے پاؤں پکڑے سسکتے ہوئے اسے خود کو اپنانے کی درخواست کر رہی تھی ۔۔۔ وہ اکیڈمی کا اندرونی منظر تھا ۔۔۔خدارا عدنان سر میرے ساتھ ایسا مت کریں میں دنیا کو کیا منہ دکھاؤں گی خدارا مجھ سے نکاح کر لیں۔۔۔مجھے اپنا لیں ۔۔۔۔ بکواس بند کرو اپنی گھٹیا لڑکی تم جیسی لڑکیاں محض دل بہلانے کے لیے ہوتی ہیں شادی کرنے کے لیے نہیں اس لیے تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ چپ چاپ یہاں سے اٹھو اور شکل گم کر لو اپنی۔۔۔ دوبارہ اگر کہیں مجھے دیکھائی دی تو یہ خوبصورت چہرہ کسی دوسرے کے دیکھنے کے قابل نہیں رہے گا اور جلدی اٹھو نکلو یہاں سے ورنہ مجھے گارڈ کو بلوا کر تمہیں دھکے دے کر یہاں سے نکلوانا پڑے گا ۔۔۔۔ عدنان حقارت سے اسے پاؤں سے دھکا دیتے خود کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جب کہ پری کہنیوں کے بل پیچھے کو گرتی سسک اٹھی تھی ۔۔۔۔۔
اس ویڈیو نے پہلی ویڈیو سے زیادہ آگ پکڑی تھی ایک ہی دن کا یہ دوسرا موسٹ ہاٹ ٹاپک تھا۔۔۔ اس ویڈیو کے ریلیز ہونے کے محض آدھے گھنٹے بعد عدنان ملک کی دھمکیوں بھری کال ریکارڈنگ کے وائرل ہونے نے سونے پر سہاگے کا کام کرتے گویا اس کی فرار کے ہر راستے کو بند کر دیا تھا ۔۔۔ وہ گویا ذلت و رسوائی کے اس راستے پر پٹخ دیا گیا تھا جس کے چاروں اور اندھیرا اور قفل زدہ کوار تھے وہ جس جانب بھی جاتا ناکام ہو کر واپس اسی دلدل میں پھنس رہا تھا۔۔۔ ایک عورت کو کمزور جانے کا انجام یہی ہوتا ہے وقت کے فرعون ۔۔۔ خوب لڑی مردانی وہ تو جھانسی والی رانی تھی۔۔۔اٹھارسو پچاس کے اندر جب کوئی وومن امپاورمنت نہیں تھا تب ایک بچے کی حفاظت کی خاطر اسے کمر پر باندھے دونوں ہاتھوں میں تلواریں تھامے جب جھانسی کی رانی لڑکی ہو کر دوشمنوں کو پچھاڑ سکتی تھی تو وہ تو آج کی لڑکی تھی جس کے پاس زرخیر دماغ کیساتھ ساتھ بہت سے رسورسز اور جدید ٹیکنالوجی بھی تھی جب ہارڈ ورک سے زیادہ سمارٹ ورک کام آتا تھا۔۔۔ تاریخ گواہ تھی کہ جب بات عزت و ناموس پر آئی تو اسلام کی شہزادیاں بھی میداں جنگ میں آ نکلی تھیں۔۔۔ جب جب کسی نے عورت کو کمزور جانا تھا اسنے منہ کی کھائی تھی۔۔۔شمائل لیپ ٹاپ کی سکرین کو تکتی بے تاثر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔۔
پچھلے چند دنوں میں اسنے ماوف ہوتے دماغ اور مفلوج ہوتے اعصاب کیساتھ اپنے پلان پر مکمل گرفت حاصل کرنے کو دن رات کا فرق مٹاتے بھوک پیاس غرض ہر احساس سے بے پرواہ ہوتے ان وقت کے فرعونوں کے خلاف محاز کھولنے کو اپنی تیاری مکمل کی تھی ۔۔ انکے انہی کے لیول کے حریفوں سے ملنا انکے ذریعے ملک کے تمام مشہور اور نامور اخبار اور نیوز چینلز تک اپروچ کرنا نیز ہر چیز کو وقت کے لحاظ سے مینج کرنا قطعاً اتنا آسان نا ہوتا آگر پل پل احمر اسکی مدد نا کرتا تو۔۔۔ اگر دنیا میں ننانوے فیصد لوگ گھاگ شکاری اور گھٹیا ہیں تو ایک فیصد اچھے لوگ بھی موجود ہیں احمر نے یہ بات ثابت کر دی تھی جو محض ایک لڑکی کی بے بسی دیکھتا اسکے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔
******
دوپہر سے شام اور شام سے رات کے سائے پھیلانا شروع ہو گئے تھے مگر عتیق کا کہیں کوئی اتا پتہ نا تھا۔۔۔ پلان کے مطابق آج اسے گڑیا پر اپنی مردانگی ظاہر کرنی تھی اور مطلوبہ وقت پر گڑیا کے سکول سے گھر نا پہنچنے پر پیچھے رقیہ نے اس واقعہ کو اچھالتے گڑیا سمیت اسکے باپ کو جی بھر کر ذلیل کرتے اگلے پچھلے سبھی حساب بے باق کرنے تھے اور جب شام کے وقت گڑیا لٹے پٹے انداز میں واپس گھر لوٹتی تو تب آفتاب کا جھکا سر اور نم آنکھیں دیکھتے اسکی بے بسی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے اپنی مطلوبہ شرائط کے مطابق آفتاب کی سبھی جائداد عتیق کے نام لگواتے ان پر احسان عظیم کرتے گڑیا کو اپنی بہو بنانا تھا۔۔۔ مگر یہ لمحوں میں کیا سے کیا ہو گیا تھا۔۔۔ پلان الٹا کیسے پڑ گیا تھا۔۔۔۔ گڑیا گھر تھی تو عتیق کہاں تھا سوچ سوچ کر رقیہ کا دماغ پھٹنے لگا تھا رات کے سائے اسکا دل ہولا رہے تھے۔۔۔ پلان کے مطابق عتیق نے گڑیا کو آڑے کے گودام لے کر جانا تھا ممتا کے ہاتھوں مجبور ہوتی دھڑکتے دل کیساتھ وہ جوتا اڑستی گودام کی جانب بھاگی۔۔۔ اندھیرے کے باعث چاند کی چاندی ہر چیز کو مکمل طور پر واضحح کرنے میں ناکام تھی۔۔۔ وہ باعجلت گودام کے دروازے کو دھکیلتی اندر داخل ہوئی مگر اندر کا منظر دیکھتے وہ دہل کر رہ گئ تھی ۔۔ دل پر ہاتھ پڑا تھا بلبلاتی کیسے نا۔۔۔ سامنے زمین پر خون میں لت پت پڑا جوان بیٹے کا وجود اسکے اعصاب مفلوج کر رہا تھا۔۔۔۔ عتیق۔۔۔ عتیق۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔ آنکھیں کھولو عتیق۔۔۔ وہ دیوانوں کی طرح اسکے پاس دوزانو بیٹھتی بامشکل اسے سیدھا کرتی اسکا خون آلود سر اپنی گود میں رکھتی اسکا چہرا تھپتھپاتی بول رہی رھی تھی۔۔۔
صحیح معنوں میں وہ آج خوف اور حراس سے واقف ہوئی تھی۔۔۔ فوراً سے وہاں سے نکلتی وہ شمشیر کے مخصوص ٹھکانے پر جاتی اسے بلا کر لائی اور اسکی مدد سے عتیق کو قریبی ڈسپنسری تک لے کر گئ۔۔۔ چھوٹے سے گاوں میں بھلا بات کب تک چھپتی مگر ہر کسی کی عزت اچھالنے والی کو آج اپنی عزت عزیز تھی اسی لئے بات چھپانے کو رقیہ نے ہر کسی کو یہ ہی بتایا تھا کہ عتیق کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔۔
*********
تیرا بیڑا غرق ہو عتیق۔۔۔ ڈوب مر ایسی مردانگی پر ۔۔۔ تجھ سے مرد ہو کر ایک دھان پان سی لڑکی نا سمبھالی گئ۔۔۔ وہ اکیلی نہتہ لڑکی تجھے پچھاڑ گئ۔۔۔ تجھ پر حاوی ہوگئ ۔۔۔ تیری اتنی بری حالت کر گئ ارے لعنت ہو تیری مردانگی پہ بے غیرت انسان۔۔۔ تو نے میرا سر شرم سے جھکا دیا۔۔۔
جب سے رقیہ کو عتیق کہ زبانی ساری حقیقت معلوم ہوئی تھی وہ یونہی بلبلا رہی تھی گڑیا کی جرات سے زیادہ غصہ اسے عتیق کی بزدلی پر آ رہا تھا اسی لئے غصے میں اپنے ہی لاڈلے کو اسکی اوقات بتا رہی تھی ایسے تجھے آفتاب کی جائیداد جیسے ملنے لگی نا۔۔۔ ارے تیرے یہ ہی حالات رہے نا تو تجھے آفتاب کی ساری تو کیا اس جائیدادسے بھی حصہ نہیں ملنے والا جو بھیتیجوں کا شریعت میں بنتا ہے۔۔۔
ارے بے غیرتیا تجھ سے اچھا تو وہ شمشیر ہے جس نے محض سولہ سال کی عمر میں سات سالہ زنیرا کے ساتھ بد فعالی کر کے اتنی صفائی سے اسکا گلہ گھونٹ کر مارتے اسے کھالے میں پھینکا کہ کوئی آج تک اسکی دھول کو نا پا سکا اور تجھ سے بھرپور جوانی میں ایک لڑکی نا سمبھالی گئ۔۔۔ شدید غصے میں وہ بیٹے کا کارنامہ فاش تو کر چکی تھی مگر اب عتیق کی حیرت بھری نگاہیں دیکھ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔ ارے ایسے کیا دیکھ رہا ہے جیسے مجھے تیرے راشی کے ساتھ آنکھ مٹکے کی خبر نہیں۔۔۔ ارے لڑکے تو ایسے کام کرتے ہی رہتے ہیں۔۔۔۔ اپنی بات کا اثر زائل کرنے کو وہ اسی پر چڑھ ڈوری۔
________
گڑیا کے ساتھ ہوئے واقعہ کو پورا ایک دن گزر گیا مگر عتیق کی اتنی گھٹیا حرکت اسکے دماغ سے نکل ہی نا رہی تھی۔۔۔ ماں سے بے تکلفی ہونے کے باوجود وہ خود میں ماں کو یہ بات بتانے کا حوصلہ مفقود پاتی تھی شاید اندر کہیں یہ ڈر کنڈلی مارے بیٹھا تھا کہ حقیقت کھلنے پر بیٹیوں کو سینچ سینچ کر رکھنے والی ماں حفظ ماتقدم کے طور پر کہیں اسکا سکول جانا ہی بند نا کروا دے۔۔۔
اسی لئے وہ گم صم ہوگئ تھی۔۔۔ کل سے ابھی تک گوشہ نشین تھی۔۔۔ زیرک ماں نے بہت جلد یہ بات محسوس کر لی تھی مگر گڑیا بڑی مہارت سے انہیں ٹالتی خرابی طبیعت کا بہانہ بناتی رہی یہ جانے بنا کہ اسے جننے والی اسکی ماں اسے اس سے زیادہ جانتی تھی اسکے اسقدر نافہم رویے کے باعث فاطمہ کے اندر کھد بھد لگ گئ تھی ضرور کوئی بڑی بات تھی جو گڑیا اس سے چھپا رہی تھی۔۔۔ کل اسکا سکول سے لیٹ حواس باختہ سا گھر آنا اور کل سے ہی اسکی غائب دماغی اور کمرا نشین ہونا سبھی کڑیاں جڑتی جا رہی تھیں وہ ماں ہو کر کیسے نا جان پاتی جو اولاد کی آنکھ کی جنبش سے ہی اولاد کا حال جان جاتی تھی۔۔۔ لیکن ابھی فاطمہ نے بھی حالات کے تقاضوں کو سمجھتے خاموشی اختیار کر لی تھی وہ انتظار کر رہی تھی اس وقت کا جب گڑیا خود سے اسکے پاس آتی اسے حقیقت سے آگاہ کرتی۔۔۔
کل ہر جانب عتیق کے ایکسیڈینٹ کی خبر نے گڑیا کے سبھی زخم تازے کرتے اسکے اندر ایک دہکتی آگ بھڑکا دی تھی ۔۔۔ وہ آج انکے گھر جاتی تائی کے سامنے انکے ہونہار سپوت کے روبرو ہوتی تائی کو اسکے بیٹے کی اصلیت دکھانا چاہتی تھی اسی لئے وہ ماں کو بتاتی دیوار پار تائی کے گھر آئی دروازہ پہلے ہی کھلا تھا اور اندر داخل ہونے پر اسے کوئی ذی روح دکھائی نادیا وہ مایوس ہو کر واپس پلٹنے کو تھی جب عتیق کے کمرے سے آتی تائی کی غصیلی آواز سنتی اسی جانب بڑھی غالباً نہیں یقیناً تائی عتیق کے کمرے میں ہی تھی مگر وہاں جا کر تائی کے منہ سے عتیق کی اصلیت کا انکشاف سن کر اس پر ایک پہاڑ توٹا تھا مطلب تائی بیٹے کی سازش سے آگاہ تھی۔۔۔ شدید غصے و صدمے کے تحت اسکی آنکھیں نم ہو اٹھیں تھی ابھی وہ اسی حملے سے نہیں سمبھلی تھی کہ شمشیر کی اصلیت نے گویا ایک ہی جھٹکے میں اسکے جسم سے روح کھینچ لی ہو۔۔ یہ کیسا انکشاف ہوا تھا آج اس پر۔۔۔ جس بہن کو اسنے اپنی ہوش میں دیکھا تک نا تھا جسکے ساتھ ہوئے ظلم کی اسنے داستانیں سنی تھیں آج اسکا غم گڑیا کا دل چیر رہا تھا۔۔۔ کیسے وہ شخص سات سالہ بچی کو بہلا پھسلا کر ساتھ لے گیا ہو گا اور وہ معصوم بچی بھی اسے اپنا بھائی اپنا محافظ مانتی بنا کسی ڈر و خوف کیساتھ اسکے ساتھ چل دی ہوگئ۔۔۔ اس بھیڑے کو زرا ترس نا آیا ہوگا ایک معصوم سے اسکی معصومیت چھینتے۔۔۔ ایک معصوم سے اسکی سانسیں چھینتے۔۔۔ کیا کسی کی جان لینا اتنا ہی آسان تھا۔۔۔ اسکے ہاتھ نا کانپنے فرعون بنتے ایک معصوم سے اسکے جینے کا حق تک چھینتے۔۔۔ اور وہ معصوم بھی کون سگی تایا زاد۔۔۔ آج اسکا رشتوں پر سے یقین اٹھ گیا تھا۔۔ کون اپنا کون پرایا اس کے لئےتو سبھی بھیڑیے تھے۔۔۔ کھڑے کھڑے جیسے وہ بہن پہ بیتے ہر منظر کو کھلی وحشت ناک نگاہوں سے دیکھ چکی تھی۔۔۔ اسے شمشیر سے بڑھ کر تائی کی بے غیرتی پر رونا آیا ۔۔۔ وہ لوگ انسان نہیں تھے۔۔۔ اسکا دل چاہا وہیں بیٹھ کر اپنے بال نوچتی ڈھاریں مار مار کر رو دے۔۔۔ یکدم حالات کی نزاکت سمجھتے اسکے رونکھتے کھڑے ہو اٹھے۔۔۔ وہ اس وقت کہاں تھی۔۔۔ انسانیت سے عاری لوگوں کے گھر تنہا۔۔۔ جو ماں بیٹوں کی ہر برائی میں انہیں شہہ دیتی آئی تھی اس جیسی گھٹیا عورت سے کچھ عبث نا تھا کہ ہاتھ سے نکلے شکار کو دوبارہ خود چنگل میں آتے دیکھ بیٹے کے سامنے پیش کر چھوڑتی۔۔۔ یکدم اسکا دل زور سے ڈھرکا وہ گھبرائی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتی بےجان ہوتی ٹانگوں پر وزن ڈالتی بنا چاپ کئے باہر کو نکلی۔۔۔ ابھی سب سے ضروری اسکا وہاں سے جانا تھا ۔۔۔ اندر ابھی تک رقیہ بیٹے پر اسکی نا اہلی کے باعث برس رہی تھی
*********
