Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 24)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
محض دو راتیں اور ایک دن شمائل نے پری کے فلیٹ پر گزارا تھا اور اگلے دن وہ پوری شان سے سر اٹھائے واپس یونیورسٹی میں داخل ہوی تھی۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی اس کا پہلا ٹکراؤ پریشان حال کھڑے نوفل سے ہوا تھا جو پریشانی میں ماتھا مسلتا علایہ اور ضامن سے کوئی بات کر رہا تھا ۔۔ وہ خود سے کوئی بھی چھیڑ کھانی کرنے کے حق میں نہ تھی لہذا اسے نظر انداز کرتی آگے بڑھی۔۔
ابھی وہ چند قدم بھی آگے نہ بڑھ پائی تھی جب ایک ہی جست میں نوفل درانی نے اس کے سامنے آتے اس کا راستہ روکا ۔۔
اوہ تو مرغی کے چوزے نے بھی پڑ نکالنا شروع کر دیئے اس روز تو بڑا چھپ چھپا کر بھاگا گیا تھا ۔۔۔ آج کیا۔ساتھ میں باڈی گارڈ ہائر کر کے آئی ہو کیونکہ ریپورٹ تو تمہارے خلاف ابھی تک دائر ہے۔۔۔
شمائل کو پراعتماد چال چلتے آتا دیکھ نوفل حیرت سے سب کچھ وہیں چھوڑ ایک۔ہی جسٹ میں اسکے سامنے آتا گویا ہوا ۔۔۔
شمائل نے سینے پر ہاتھ باندھتے اسکی آنکھوں میں جھانکا اور بھرپور انداز سے مسکرا دی۔۔۔ ٹام اینڈ جیری شو دیکھا ہے کبھی تم نے۔۔ جب جیری کے ہاتھ سے ٹام نکل جاتا ہے نا تو اسکی حالت ایسی ہوتی ہے۔۔۔ وہ لطف لینے کے انداز میں آنکھ سے اسکی جانب اشارہ کرتی قہقہ لگا کر ہس دی۔۔۔
میری ایک فون کال پر یہاں لگنے والا تماشا پوری یونیورسٹی لائیو دیکھے گی۔۔۔ وہ اسکے اتنے ٹھنڈے طنز پر مٹھیاں بھینچتا چبا چبا کر بولا۔۔۔ تو کرو نا فون کرتے کیوں نہیں ۔۔۔ کب تک خالی خولی دھمکیوں سے کام چلاتے رہو گے۔۔۔ پتہ ہے کیوں
Let me explain.. .
,وہ انگلی سے اسکی جانب اشارہ کرتی اسکے گرد چکر لگانے لگی جبکہ وہ ماتھے پر بل ڈالے شمائل کا نا فہم رویہ دیکھ رہا تھا۔۔ جے ایم اکیڈمی ایکسپوز ہو کر سیل ہوگئ۔۔۔وہ چکر مکمل کرتی اسکے سامنے آ کر رکی۔۔۔ اسکے آنر کو پولیس۔اور پاکستان کا میڈیا کتوں کی طرح دھونڈ رہا ہے لیکن وہ قائروں کی طرح منہ چھپائے گوشہ نشین ہوا پڑا ہے۔۔۔چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ امڈ آئی تھی۔۔۔ ایسے میں اس بدنام زمانہ اکیڈمی سے ڈکیٹی کا کیسا کیس مسٹر۔۔۔ یہ تم مجھے سے زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہو کہ ایسے میں اس کیس کو اچھالنا مطلب مزید خود کو ننگا کرنا ۔۔۔۔۔ میرے ایک بیان پر کہ اس گھٹیا جگہ پر ان گھٹیا لوگوں کے گھٹیا احداف کو پایا تکمیل تک پہنچانے سے انکار پر میں ڈکیٹ ثابت کر دی گئ ہوں لوگ تم لوگوں کو محض انڈے نہیں ماریں گے بلکہ ساتھ میں ٹماٹر بھی ماریں گے وہ بھی گلے ہوئے ۔۔۔۔ سو اکڑ تو میرے خیال سے ابھی تک توٹ جانی چاہیے تھی۔۔۔ نہیں ٹوٹی۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔ اس ٹورنے کے لئے میرا اللہ ہے میرے ساتھ ۔۔۔ شمائل کے انداز و اطوار اسکا اعتماد ذات کی مضبوطی نوفل کو کوئی الگ ہی داستان سنا رہی تھی۔۔۔ اگر مجھے پتہ چلا نا کہ اس سارے میس میں تمہارا ایک فیصد بھی ہاتھ۔۔۔
میرا سو فیصد ہاتھ ہے اس کیس میں اب آگے۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ انگلی اٹھاتا چبا چبا کر کہتا اپنی بات مکمل کرتا وہ سینے ہر ہاتھ باندھتی اسکی بات کاٹتی پرسکون انداز میں گویا ہوئی۔۔۔
اسکے اس اعتراف پر یکدم نوفل کا رنگ پھیکا پڑا تھا وہ اس نافہم لڑکی سے اتنی جرات کی توقع نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
یو۔۔۔ انتہائی طیش میں اسنے شمائل پر ہاتھ اٹھایا تھا۔۔۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ تھپڑ شمائل کے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑتا شمائل نے بروقت ردعمل سے اسکا اٹھا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔
مسٹر نوفل درانی۔۔۔ شمائل حسن اپنی جانب اٹھنے والی غلیظ نگاہ تک کو پھوڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے تم نے تو پھر ہاتھ اٹھانے کی غلطی کی ہے ۔۔۔ کسی بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہو تم۔۔۔ اس ہاتھ کو سمبھال کر رکھو کہیں کاٹنا نا پڑ جائے ۔۔۔اسنے جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑا
عدنان ملک اپنے انجام کو جا پہنچا اب تمہاری باری ہے۔۔۔ وہ شعلے اگلتی نگاہوں سے اسے دیکھتی پہلی بار اسے کھلم کھلا چیلنج کر گئ تھی۔۔ تم مجھے دھمکی دے رہی ہو۔۔۔ مجھے۔۔۔ نوفل درانی کو۔۔۔ وہ حیرت و تعجب سے اپنی جانب انگلی اٹھاتا صدمے سے گویا ہوا۔۔۔ دھمکیاں تم جیسے گیڈر دیتے ہیں شمائل حسن عملی طور پر کر کے دکھانے کو ترجیح دیتی ہے۔۔۔
So just wait and watch
بہت ہو چکا تھا چوہے بلی کا کھیل۔۔ اب کھلم کھلا آمنے سامنے آنے کا وقت ہے۔۔۔ وہ بائیں ہاتِھ کی دو انگلیوں سے پہلے اسکی آنکھوں کی جانب اشارہ کرتی اور پھر اپنی آنکھوں کی جانب اشارہ کرتی گویا ہوئی۔۔۔
تمہیں کچھ تصویریں بھیج رہا ہوں انکا کیا کرنا ہے کیسے انہیں استعمال کرنا ہے وہ میں تمہیں واٹس ایپ کرتا ہوں نیز شمائل حسن کے ریکارڈ سے اسکے گِھر کا ایڈریس چاہیے مجھے۔۔۔ شمائل کے وہاں سے چلے جانے کے بعد اسنے طیش میں جیب سے موبائل نکالتے نمبر ملایا ۔۔ واقعی بہت ہو چکا چوہے بلی کا کھیل شمائل حسن اب آمنے سامنے آنے کا ہی وقت ہے۔۔ دیکھتے ہیں کہ کس کی قسمت میں کیا ہے لکھا۔ موبائل بند کرکے جیب میں رکھتا وہ جنونی انداز میں گویا ہوا
******
حور۔۔۔ بات تو سنو یار۔۔۔۔ آج ویک اینڈ تھا اور حور کسی کام سے اکیڈمی سے باہر جا رہی تھی جب اسے خارجی دروازہ عبور کرتے دیکھ رضا نے دور سے آواز لگائی اور تقریباً دوڑتا ہوا اسکے قریب پہنچا۔۔۔
کہاں جا رہی ہو ۔۔۔ وہ اسکے قریب پہنچتا پھولے سانسوں سمیٹ گویا ہوا۔۔۔
قریبی مارکیٹ تک جا رہی ہوں۔۔۔ چلو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں مجھے بھی اسی طرف جانا ہے وہ پارکنگ سے گاڑی نکالنے کے لئے بڑھا تو حور نے بھی گہری سانس خارج کرتے اسکی تقلید کی۔۔۔
ایک بات بولوں حور۔۔۔ گاڑی کو روڈ پر لاتے ہی اسنے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی۔۔۔
ہمم کہو۔۔۔ اکیڈمی کے ہر ٹیسٹ کی پرفارمینس پر تم مجھ سے آگے رہی ہو چاہیے وہ سپورٹس ویک ہو رٹن ٹیسٹ فزیکل ٹیسٹ یا آرل ٹیسٹ ہوں۔۔۔ تمہیں پتہ ہے میں سر توڑ کوشیشوں کے باوجود تمہیں بیٹ نہیں کر پایا تمہاری ہر کامیابی پر میں نے خوشی محسوس کی ہے حالانکہ کہتے ہیں کہ دوست فیل ہو جائے تو دکھ ہوتا ہے لیکن اگر دوست ٹاپ کر جائے تو اس سے بھی زیادہ دکھ ہوتا ہے وہ شوخ انداز میں گویا ہوا تو حور بھی قہقہ لگاتی ہس دی۔۔۔۔۔ مطلب تمہیں افسوس ہوتا رہا ہے میری اچیومنٹس کا۔۔۔ ہرگز نہیں حالانکہ ہونا چاہیے مگر تمہارے معاملے میں میں خود کو بے بس تصور کرتا ہوں۔۔۔ شوخی سے کہتا وہ یکدم ہی سنجیدہ ہو اٹھا تھا۔۔۔ اسکی سنجیدگی پر حور بنا کچھ کہے خاموش ہوگئ۔۔ دونوں کے بھیچ طویل ہوتے خاموشی کے وقفے کو رضا کی آواز نے توڑا تھا۔۔۔ ایک بات مانو گی حور۔۔۔
کیا؟؟؟؟؟؟؟؟
تم سلطان سے دوستی ختم کردو پلیز۔۔۔ لب بھینچے وہ ناجانے کس ضبط سے گویا ہوا تھا۔۔۔۔ خود پر اختیارت ظاہر کرنے جیسا کوئی حق اس لڑکی نے اسے نہیں دیا تھا اور وہ اسے اپنے سوا کسی اور کیساتھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔ ہر بار اسے سلطان سے بات کرتے دیکھ وہ جس اذیت سے گزرتا تھا وہ شاید ہی اسے لفظوں میں بیان کر پاتا۔۔۔
وہ رضا کی بات پر یوں مسکرائی جیسے کسی نے اسے لطیفہ سنایا ہو۔۔۔ تمہیں پتہ ہے رضا میں ہسی کیوں ایسے ہی کچھ خیالات سلطان بھی تمہارے بارے میں مجھ سے شیئر کر چکا ہے ۔۔ حور کے کہنے ہر رضا نے تعجب سے اسے دیکھا۔۔۔ ناجانے کیسی جیلسی تھی جو وہ سلطان نامی شخص سے محسوس کرنے لگا تھا۔۔۔ اندر کہیں پکڑ دھکر شروع ہو گئ تھی۔۔ پھر تم نے کیا کہا ۔۔۔ خودبخود ہی لہجے میں تجسس در آیا تھا۔۔۔
وہی جو ابھی تمہیں کہنے والی ہوں کہ حور کسی کے لئے بھی کسی دوسرے کو نہیں چھوڑتی جب تک اس انسان کے حوالے سے میری اپنی زندگی میں کوئی ناقابل فہم عمل نا ہو۔۔۔ تم دونوں ہی میرے بیج میٹ ہو میں کسی ایک کو کسی دوسرے پر فوقیت نہیں دے سکتی۔۔۔
کتنی ظالم ہو تم حور ۔۔۔ کیوں تم میری دل کی سر زمین سے خوشگمانی کی ہر ننھی کونپل کو اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہو۔ کیسی حسرت تھی اس لہجے میں حور کو راہ فرار ڈھونڈنا مشکل ترین کام لگا اسے شدت سے رضا سے لفَٹ لینے کا اپنا فیصلہ احمقانہ لگا۔۔۔۔ ایسی ہی کچھ خوشگمانیاں اسنے بھی پال رکھی ہیں اور میں اس بارے میں بے بس ہوں اور کسی کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتی تم پلیز یہیں گاڑی روک دو مجھے یہاں کچھ کام ہے۔۔۔ اسنے سنجیدگی سے کہتے وہیں اترنے کو ترجیح دی شاید وہ اپنے ہی باغی ہوتے دل سے ڈر گئ تھی۔۔۔
******
گڑیا پر اپنے نام نہاد رشتے داروں کی اصلیت کیا آئی وہ بستر کی ہو کر رہ گئ تھی پچھلے ایک مہینے سے اسکا بخار ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔ اسی دوران اسکے پیپرز بھی اسنے بہت ہمت سے دیئے تھے وہ کسی بھی صورت اپنا سال ضائع کرنے کے حق میں نا تھی۔۔۔ آج کچھ طبیعت بہتر ہوئی تو وہ آ کر صحن میں بچھی چارپائی پر گم صم سی بیٹھی۔۔۔ دیوار پار سے آج جشن کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔ رقیہ نے شمشیر کے لئے رشتہ ڈھونڈ لیا تھا آج اسکی بارات تھی۔۔۔ بارات نکلنے کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں
گڑیا کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔۔ خدا کیسے ظالم کی رسی اتنی دراز کر دیتا ہے شاید اسی امید پر کہ وہ آخری لمحے تک واپس پلٹ آئے مگر ہدایت بھی تو قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے۔۔۔
لاعلمی بھی ہزار نعمت ہوتی ہے۔۔۔ کل تک ہر چیز سے لاعلم تھی تو سکون میں تھی آج آگہی کے در واہ ہوئے تھے تو سکون چین سب رخصت ہو گیا تھا۔۔۔ اللہ غارت کر دے ان ظالموں کو۔۔۔ دل سے ایک آہ نکلی تھی اور وہ وہیں نیم دراز ہوگئ۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ باہر سے آتی چیخ و پکار اور رقیہ کے بین کی آواز پر وہ بوکھلا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔ شادی والے گھر سے یکدم ماتم کناں ہونے کی آوازیں آنے پر اسکا گھبرانا قدرتی تھا۔۔۔۔ تبھی محلے کی ایک عورت بعجلت انکے گھر داخل ہوئی۔۔۔
غضب ہو گیا فاطمہ غضب ہو گیا۔۔۔ شہر کی طرف جاتی مین سڑک پر ایک ٹرالہ شمشیر کو کچلتا چلا گیا ۔۔۔۔ موقع پر ہی اسنے دم توڑ دیا ۔۔۔ بہت غضب ہوا فاطمہ۔۔۔ بارات نکلنے میں محض کچھ ہی دیر تھی ایسے میں دلہے کی اتنی درد ناک موت توبہ توبہ۔۔۔ ارے اسکی تو لاش بھی پہچانی نہیں جا رہی۔۔۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اسے آسیہ کی آہیں اور بددعائیں کھا گئیں جو اگلی شادی تک نصیب نا ہوئی۔۔۔
اسکی ماں بھی جوان موت پر دہل کر دل پر ہاتھ رکھتی بے ساختہ جوتا پاوں میں اڑستی رقیہ کے گھر بھاگی آہستہ آہستہ اس عورت کے گھر سے نکل جانے کے باعث اسکی آواز کم ہوتے ہوتے آنا بند ہو گئ تھی۔۔۔ جبکہ گڑیا ابھی تک ساکت کھڑی تھی کیا بدعائیں بھی اتنی جلدی قبول ہو جایا کرتیں تھیں کہ منہ سے نکلے اور پوری ہو جائیں۔۔۔ اسکے کان ابھی تک سائیں سائیں کر رہے تھے۔۔۔ اسنے اندر تک خود کو ٹٹول کر دیکھا مگر ہر جانب ایک گھمبیر سناٹا تھا۔۔۔۔ شاید وہ بے حس ہو چکی تھی یا سخت دل مگر چاہنے کے باوجود بھی وہ شمشیر کی موت کی خبر سن کر بھی اس کے لئے کوئی نرم گوشہ اپنے دل میں محسوس نا کر سکی تھی۔۔۔
بلکہ اسے اندر کہیں اطمیئنان چھاتا محسوس ہوا کہ آج اسکی بہن کا مجرم بیٹیوں کا انکاری بھی اپنے اصل کی جانب لوٹ گیا۔۔۔
جوان دلہے کے لباس میں ملبوس بیٹے کو یوں بے حس و حرکت دیکھ رقیہ پر بار بار غشی طاری ہو رہی تھی۔۔۔ وہ اس سے لپٹ لپٹ کر دھاریں مارتی اسے ایک دفعہ آنکھیں کھولنے کی فریاد کر رہی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں جنازہ اٹھانے کا شور اٹھا تو رقیہ مزید اس صدمے کی تاب نا لاتی وہیں جھول گئ۔۔۔ وہ بیٹوں پر جان چھڑکتی ان کے ہر جائز ناجائز کام میں ساتھ دینے والی ماں تھی جس کے لئے بس ہر حال میں بیٹوں کی خوشی عزیز تھی آج بیٹوں کی ماں ہونے کا وہ مان وہ رعب وہ دبدبہ ٹوٹ گیا تھا ۔۔ وار کاری تھی جو اسکی کمر توڑ گیا تھا۔۔۔ سب سے بڑا بیٹا ہی بھری جوانی میں اسے چھوڑ گیا تھا ۔۔
********
کیسی ہو تم پری۔۔۔ خوش تو ہو نا۔۔۔ اپنے ہاسٹل کے کمرے میں موجود بیڈ پر بیٹھے بیڈ کراون سے ٹیک لگاتی فون کان کو لگائے وہ خاصی فرصت سے گویا ہوئی۔۔۔۔ خوش کوئی ایسی ویسی شمائل۔۔۔ میں تمہارا یہ احسان کبھی زندگی میں نہیں بھول سکتی کہ تم نے مجھے گناہوں کی دلدل سے نکال کر ایک صاف ستھری زندگی فراہم کی۔۔۔ میں تو امید ہی چھوڑ بیٹھی تھی اپنی زندگی میں کسی بہتری کی مگر تمہارا کہا حرف با حرف سچ ہے۔۔۔ اللہ وہ واحد ہستی ہے جو سب کی ہے۔۔۔ وہ میرا بھی ہے۔۔ اسکے لئے تو کیا نیک اور کیا بد۔۔۔ اسکے در پر ہر گناہگار کے لئے معافی ہے ضرورت تو صرف اسے پکارنے کی ہے اور وہ سنتا ہے۔۔۔
عدنان کا رویا کیسا ہے تمہارے ساتھ۔۔ پری کی آواز کی کھنک اسکی حقیقی خوشی کا پتہ بتا رہی تھی۔۔۔ عدنان کے باپ نے بہت مشکل سے اپنے سبھی رسورسز استعمال کرتے اکیڈمی کے راز کو دبایا تھا بھاری رشوت دے کر وہ یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب ہو پایا تھا کہ اکیڈمی میں بیسمنٹ کام کے دوران تھک جانے کی صورت تمام سٹاف کے لئے زرا دیر آرام کرنے کی نیت سے بنایا گیا تھا نیز وہاں کوئی غیر اخلاقی حرکات نہیں ہوتی تھی سوائے ایک پری والے واقعہ کے۔۔۔ اور سوائے پری کے کیس کے انکے پاس کوئی ثبوت بھی نا تھا سو پیسے کے بل پر اکیڈمی کے بڑے کیس پر قابو پا لیا گیا تھا مگر جو ثبوت سب کے ہاتھوں میں تھا اس پر عوام بھپری پڑی تھی۔۔۔ اور اس صورت عدنان کو بچانے کی صرف ایک ہی صورت تھی جس کے مطابق پھر اسکے باپ نے مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق آفیشلی بڑے پیمانے پر عدنان کا پری سے نکاح کروایا تھا۔۔۔
اسکا مت پوچھو شمائل وہ ٹیڑھی کھیر ہے اتنی آسانی سے قابو آنے والی نہیں۔۔ سب کے سامنے تو نہیں مگر گھر آتے ہی اسنے ایک ہنگامہ بھرپہ کیا تھا میرا گلا گھونٹ کر مجھے مارنے دوڑا تھا پری گہرا سانس خارج کرتی گویا ہوئی تو شمائل بے ساختہ سیدھی ہو بیٹھی۔۔۔
پھر۔۔۔ اسکے لبوں سے سراسراتا لفظ ادا ہوا
*******
