Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 27) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 27) Last Episode
Gumaan Se Agy By Umme Hania
صبح فجر کی پہلی آذان کیساتھ ہی شمائل نے اللہ کا نام لے کر وہ ویڈیو یونیورسٹی کے گروپ میں آئی ڈی تبدیل کر کے بالخصوص ایڈمن ڈین نوفل کے ہم پلہ حریف اور تمام پروفیسرز کو ٹیگ۔کر کے پوسٹ کی تھی ۔۔۔ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد اسنے سکون سے نماز ادا کی اور کچھ دیر آرام کرنے کی نیت سے لیٹ گئ۔۔۔ رات بھر سے تھکی تھی تو لمحوں میں غافل ہو گئ۔۔۔ یہ اسکی پرانی عادت تھی کہ بھس میں چنگاری چھوڑ کر خود پر سکون ہو کر سو جایا کرتی۔۔۔ اور چند گھنٹوں کی نیند لے کر اٹھنے کے بعد مجموعی نتائج دیکھتی۔۔۔ اسے نہایت کوفت ہوتی تھی کام کرنے کے بعد اس پر لوگوں کے ردعمل کا انتؑظار کرتے ہوئے اس لئے وہ کوئی بھی کام سر انجام دے کر اسکے نتائج دیکھئے سے قبل تھوڑی دیر کی نیند ضرور لیتی۔۔۔۔
اب بھی دو گھنٹے بعد الارم کی آواز سے اسکی آنکھ کھلی تو کچھ دیر کسلمندی سے لیٹے رہنے کے بعد اسے کچھ دیر پہلے کا اپنا کارنامہ یاد آیا تو جھٹ سے اٹھ بیٹھی ۔۔۔اٹھتے ہی اسنے اپنی کمر پر پھیلی آبشار کو ایک ہاتھ سے اکھٹا کرتے فولڈ کر کے کیچڑ کی گرفت میں مقید کیا اور سرہانے کے پاس پڑا موبائل اٹھا کر سرعت سے کچھ دیر پہلے چھوڑی چنگاری کی بھڑکتی آگ کو ملاخظہ کرنا چاہا ۔۔۔
آگ اسکی سوچ سے زیادہ بھرکی تھی اسکی پوسٹ پر سینکڑوں شیئرز اور ہزاروں کمنٹس تھے۔۔۔ ہر کوئی اپنی رائے دینے میں آزاد تھا۔۔۔ واقعہ کو خوب خوب اچھالا گیا تھا وہ ویڈیو ضرورت سے زیادہ وائرل ہوئی تھی۔۔۔
امیر کے بچے بچے اور غریب کے بچے کو کوئی حق نہیں۔۔۔ سابقہ مسنٹر کا بیٹا یونیورسٹی کے رول توڑے ڈین کے آفس سے چوری کرے تو کوئی بات نہیں یہ ہی کام کوئی عام سٹودینٹ کرے تو تختہ دار پر لٹکا دو۔۔۔۔
نوفل رضا درانی کے خلاف برائے انصاف کئ مہم چل نکلیں تھی۔۔۔ ہر کوئی جیسے متحرک ہوتا اس واقعہ میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔۔۔۔
یونیورسٹی کا پورا سٹاف شدید طیش میں تھا۔۔۔ اب بات یونیورسٹی کی ریپوٹیشن پر آ پہنچی تھی۔۔۔
لوگوں کا ردعمل دیکھتے شمائل کی دلچسپی اس واقعہ میں کئ گنا بڑھ چکی تھی۔۔۔ہونٹوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ سجائے وہ بھوک پیاس سب نظرانداز کئے ساکت سی بس موبائل کی سکرین کو سامنے کئے سکرول ڈاون کرتی مزید آگ پکڑتی اس خبر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
********
What the hell is that going on there..
نوفل درانی نے طیش میں پوری قوت سے ہاتھ میں تھاما موبائل سامنے موجود قد آدم شیشے میں مارا تھا چھناکے کی آواز سے اسکا کانچ کرچیوں میں بٹٹا جابجا ماربل کے بنے فرش پر بکھرا تھا۔۔۔۔
وہ رات کے اپنے کارنامے کے بعد گہری نیند کے مزے لوٹ رہا تھا یہ جانے بنا کہ وہ تباہی کے کس دہانے پر آ کھڑا ہوا ہے۔۔۔ تبھی اسکے موبائل کی بیل بجی اور پھر نوفل کے بارہا ٹالنے کے باوجود بجتی ہی چلی گی۔۔ اسنے نہایت غصے سے جھپٹتے ہوئے موبائل آن کر کے کان سے لگایا اور بنا لحاظ کئے نوارد پر الٹ پڑا۔۔۔۔
کیا تکلیف ہے کون مر گیا جسکی اطلاع فوری دینی نہایت ضروری ہے۔۔۔
مرا کوئی نہیں مگر بہت جلد ہم مرنے والے ہیں تم نے شاید ابھی تک سوشل میڈیا چیک نہیں کیا۔۔۔ نوفل کی غصیلی بےزار آواز کے نتیجے میں ضامن کی بوکھلائی حواس باختہ آواز حقیقتاً نوفل کو معاملے کی سنجیدگی کا احساس دلا گئ تھی۔۔۔ ہوا کیا ہے کچھ بتا تو سہی ابکی بار آواز کا وہ دم خم غائب تھا۔۔۔ سب سے پہلے اپنے واٹس ایپ سٹیٹس ہی چیک کر لو پتہ چل جائے گا ضامن کے سنجیدگی سے کہہ کر فون بند کر دینے پر اسنے سرعت سے واٹس ایپ کھولا اور وہاں ہر ایک نمبر پر یہ ہی واقعہ زبان زد عام سبکے سٹیٹس کی ذینت بنا ہوا تھا۔۔۔۔ایک کے بعد دوسرا سٹیٹس دیکھتے اسکی کنپٹی کی رگیں ابھرنے لگی تِھیں۔۔۔ خود پر ضبط کھوتے اسنے موبائل پوری قوت سے شیشے میں دے مارا تھا ۔۔۔ دماغ کھول اٹھا تھا مطلب کہ علایہ کی کہی باتیں حرف بہ حرف سچ تھی کسی نے بھرپور منجری کی تھی ان کی لیکن وہ تھا کون اس نے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیر کر اپنے گھنے بالوں میں انگلیاں چلاتے اپنے اضطراب کی شدت کو کچھ کم کرنا چاہا۔۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے اس نے سرعت سے موبائل پر ایک نمبر ڈائل کرتے موبائل کان سے لگایا ۔۔۔۔ پتہ کرو کہ یہ کام کس کا ہے کس نے اس ویڈیو کو اپلوڈ کیا ہے ۔۔۔۔ اگلے آدھے گھنٹے تک مجھے اس شخص کی مکمل جانکاری چاہیے رابطہ استوار ہوتے ہیں وہ بولا نہیں تھا بلکہ پھنکارا تھا ۔۔۔ لہو رنگ آنکھوں سے گویا خون ٹپک رہا تھا۔۔۔
******
آج وہ یونیورسٹی میں سارا دن نہایت پرسکون رہی تھی نوفل درانی کا یونیورسٹی میں دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا ۔۔۔۔ ہر جانب اس خبر نے طوفان مچا رکھا تھا اس نے بھی سوچ سمجھ کر چاروں جانب سے نوافل کے گرد شکنجہ کستے وار کیا تھا ۔۔۔ حور شمائل حسن ایک بلا ہی تھی جو واقعی اپنے حریف کا خون چوس جاتی تھی اب بھی اس نے ہر جانب سوچنے سمجھنے کے بعد ہی یہ قدم اٹھایا تھا نوفل کے باپ نے جان توڑ کوشش کی تھی اس واقعہ کو دبانے کی لیکن بات اب یونیورسٹی کی عزت پر آ چکی تھی طلبہ کے مختلف گروہ اس کے خلاف مہم شروع کر چکے تھے بات حد سے بڑھ چکی تھی اس لیے اسے قابو کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو چکا تھا۔ ۔۔۔ یونیورسٹی میں سر ابھارتے مختلف بغاوتی گروپس کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے نہایت پریشرائز انداز میں ایک سابقہ منسٹر کے بیٹے کو یونیورسٹی سے نکالنے کے آرڈر جاری کیے تھے ۔۔۔۔
ان تینوں کو یونیورسٹی سے نکال دینے کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس جس میں برملا کہا گیا تھا کہ جامعہ کے تمام طالب علم خواہ وہ کسی اونچے خاندان سے تعلق رکھتے ہوں یا ان کا تعلق کسی مڈل کلاس فیملی سے ہو وہ ہمارے لیے برابر ہیں لہٰذا کوئی بھی جامعہ کے تقدس کو پامال کرتے ایسی گھٹیا حرکت کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہو گا اسی وجہ سے ان تینوں کو بنا ان کے باپ کے عہدوں کی پرواہ کئے یونیورسٹی سے نکالا جا رہا ہے۔۔۔
اس نوٹس کے جاری ہوتے ہی یونیورسٹی میں امڈا ہوا بغاوتی طوفان ایک دم ٹھنڈا پر گیا تھا مگر اس کے ساتھ ہی وہ ان تینوں کا سال برباد کر گیا تھا۔۔۔
آج رات یونیورسٹی میں جونیئرز کی طرف سے سینئرز کے لیے الوداعی پارٹی تھے اور سارا دن شمائل نے مکمل یکسوئی سے اپنا کام مکمل کیا تھا اس کے اطمینان کو اتنا کافی تھا کہ نوفل رضا درانی جیسا گھٹیا شخص اس یونیورسٹی سے نکل چکا تھا مگر وہ اپنی زندگی میں آنے والے اگلے طوفان سے ابھی بے خبر تھی ۔۔۔۔۔
****
حور شمائل حسن بس بہت ہوا اب اور نہیں۔۔۔ اب پانی سر سے اوپر جا چکا ہے۔۔۔ نوفل کے ہاتھ میں تھاما کاغذ اسکے ہاتھ کی سخت گرفت کے زیر اثر چڑمڑا گیا تھا۔۔۔ ابھی ابھی اسے اسکے ہائر کئے گئے شخص کی فیکس موصول ہوئی تھی جس میں اس آئی ڈی کا مکمل بائیو ڈیٹا تھا جس نے نوفل کی ویڈیو لیک کی تھی اور وہاں شمائل کا نام دیکھ اسکا خون کھول اٹھا تھا ۔۔۔ اسکا اشتعال سوچنے سمجھنے کی حدود کو عبور کر چکا تھا۔۔۔۔ صبح سے شام تک کا وقت اسنے جس اذیت میں کاٹا تھا یہ وہ ہی جانتا تھا۔۔۔ اسکے باپ کی سر توڑ کوشیشوں کے باوجود انہیں یونیورسٹی سے ڈراپ آوٹ کر دیا گیا تھا۔۔۔ اس واقعہ کے بعد سب سے شدید ردعمل علایہ کا آیا تھا جس نے سیدھے سیدھے اس واقعہ کا الزام اسکے سر تھوپتے اسے کھری کھری سنائی تھی۔۔ وہ لڑکی اسکا مستقبل داو پر لگا چکی تھی اسے جو کرنا تھا وہ کر چکی تھی اب باری اسکی تھی۔۔۔ اسکی آنکھوں میں وہ چنگاریاں دہک رہی تھیں جو حور شمائل کو محض آنکھوں سے ہی جلا کر بھسم کر دینے کا عظم رکھتی تھیں۔۔۔
******
بہت دیر ہو چکی ہے حرا میرے خیال سے اب مجھے چلنا چاہیے۔۔۔۔ بہت سی لڑکیاں تو جا بھی چکی ہیں اگر تمہارا مزید رکنے کا ارادہ ہو تو تم رک جاو۔۔۔ رات کے بارہ بجے بھی یونیورسٹی میں پارٹی اپنے عروج پر تھی۔۔۔۔ ہر جانب رونق ہی رونق تھی۔۔۔ سینئرز جانے پر آبدیدہ تھے تو جونیئرز کا جوش دیدنی تھا۔۔۔۔ لیکن اب شمائل بہت تھک چکی تھی اسی لئے حرا کو بتا کر پارکنگ کی جانب بڑھی۔۔۔
ابھی چند قدم ہی آگے بڑھی تھی کہ قدرے اندھیرے میں ایک ہیولے نے اسے اپنی جانب کھینچتے اپنے حصار میں بھینچتے اسکے منہ پر سختی سے بھاری مردانہ ہاتِھ جماتے اسکے منہ سے برآمد ہوتی چیخ کو گلہ بے دردی سے گھونٹا تھا۔۔۔ حملہ غیر متوقع تھا شمائل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ۔۔۔
تڑپ کر اسنے یہ حصار توڑنا چاہا مگر مقابل کی گرفت سخت تھی۔۔۔ جی توڑ کوشیش کرتی وہ بھرپور مزاحمت کر رہی تھی جب نووارد نے اسے جھٹکے سے خود سے جدا کرتے پیچھے دھکیلا ۔۔۔ شمائل نے تعجب سے پلٹ کر نوارد کا چہرا دیکھنا چاہا۔۔۔
تم گھٹیا انسان۔۔۔ سامنے نوفل درانی کو سپاٹ تاثرات کیساتھ کھڑا دیکھ اسکے ماتھے پر جابجا بل پڑے تھے۔۔۔۔۔ میں یہاں تم سے کسی سلسلے میں کوئی بات نہیں کرنے آیا محض یہ بتانے آیا ہوں کہ تم نے جو کرنا تھا کر چکی اب یہ میری ٹرن ہے۔۔۔ اگر برباد میں ہوا ہوں تو آباد تو تم بھی نہیں رہنے والی۔۔۔ ایسے نہیں ایک منٹ میں تمہیں اپنا شاہکار دکھاتا ہوں۔۔۔ شمائل کو ایسے ہی غصے سے سینے پر ہاتھ باندھے چبھتی نگاہوں سے اپنی جانب دیکھتا پا کر وہ سپاٹ لہجے میں کہتا زرا سا مسکرایا اور ایک ادا سے ماتھا کھجاتا جیب سے موبائل نکال کر کچھ ٹائپ کرنے لگا۔۔۔
شمائل اسکے اس رویے سے الجھی۔۔۔ جب اسنے ایک ویڈیو پلے کر کے اسکے سامنے کی جس میں ایک کے بعد دوسری تصویر خودبخود چلتی جا رہی تھی۔۔
ویڈیو کی جانب دیکھتی اسکی آنکھوں کی ہتلیاں پہلے حیرت سے پھیلیں اور پھر وہیں ساکت ہوتی نوفل کے اندر جیسے اطمیئنان کی لہریں سرائیت کر گئ تھیں۔۔۔ مطلب وار کاری تھا اور ٹھیک جگہ پر لگا تھا۔۔۔
یہ۔۔۔ یہ جھوٹ ہے۔۔۔ بک۔۔۔بکواس ہے۔۔۔ زبان لڑکھڑا گئ تھی۔۔۔ لمحوں میں آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔۔۔ کل صبح اسکی ایک ایک کاپی تمہارے گھر والوں کیساتھ ساتھ تمہارے پورے گاوں کے ایک ایک فرد کے ہاتھ میں ہو گئ۔۔۔ اور بالکل یہ فیک ہیں لیکن اس بات کو ثابت کرنے کے لئے تمہاری پوری زندگی لگ جائے گی۔۔۔ اسکے لہجے میں اتنی سفاکیت تھی کہ شمائل کی ریڈھ کی ہدی تک جھنجھنا اٹھی۔۔۔اسکا لہجہ برف کی مانند ٹھنڈا سرد اور جامد تھا۔۔
تت۔۔۔تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔ زندگی میں پہلی مرتبہ وہ خود کو بے بس تریں محسوس کر رہی تھی۔۔۔ زندگی میں کچھ ایسے مقام بھی آتے ہیں جب انسان کی ہر تدبیر الٹی پڑ جاتی ہے سوچ محدود اور دماغ مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔۔۔ شمائل کو اپنے کان سائیں سائیں کرتے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔۔ نوفل اس پر ایک قہر بھری نگاہ ڈالتا وہاں سے جا چکا تھا جبکہ وہ ابھی تک مختل ہوتے حواسوں کے ساتھ صورتحال سمجھنے کی کوشیش کر رہی تھی۔۔۔ جو اسکی یہ فحش تصویریں واقعی اسکے گھر تک پہنچ جاتیں تو۔۔۔ اس تو کے آگے وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ ہاں بس یہ تھا کہ اس واقعہ کے بعد بیٹی مزید معتوب ٹھہرائی جاتی۔۔۔ صدیوں تک کوئی بیٹی پر یقین نا کرتا۔۔۔ بیٹی کو اسکی بنیادی تعلیم سے بھی محروم کر دیا جاتا۔۔۔ لمحوں میں اسکی آنکھوں کے سامنے کیا کیا نا گھوم گیا تھا ماں کی پرشکوہ نگاہیں باپ کا جھکا سر۔۔ شرمندگی ذلت رسوائی۔۔۔۔ اسکا دل ڈوب کر ابھرا ۔۔۔ وہ رو نہیں رہی تھی بلکہ خون کے آنسو رو رہی تھی۔۔۔ اسکے خواب سب لمحے میں چکنا چور ہونے کے در پر تھے۔۔ چکراتے سر کے ساتھ اسنے گرتے پڑتے یونیورسٹی سے ہاسٹل کا فاصلہ طے کیا تھا۔۔۔ کمرے میں آتے ہی وہ کوئی جائے پناہ نا پاتی وضو کر کے اپنے رب کے حضور سربسجود ہو گئ تھی۔۔۔
اللہ۔۔۔۔ اے میرے اللہ مجھے معاف کر دے۔۔۔ میری آزمائش ختم کر دے میرے مالک۔۔۔ میں تیری گناہگار بندی ہوں آج تیرے در پر بہت آس و امید سے آئی ہوں میرے مالک یہ تیری صفت نہیں میرے اللہ کہ کوئی منگتا تیرے در پر آئے اور تو اسے خالی ہاتھ لوٹا دے وہ سجدے میں سر جھکائے بلک بلک کر رو دی تھی۔۔۔ اللہ میرے پاس جانے کو اور کوئی در نہیں کھٹکھٹانے کو کوئی دروازہ نہیں میری پہلی آس بھی تو ہے میری آخری امید بھی تو ہے۔۔ میرے مالک تو جانتا ہے ۔۔۔تو جانتا ہے کہ میں بے قصور ہوں۔۔ میرے اللہ مجھے اس آزمائش سے نکال دے ۔۔۔ نکال دے اس آزمائش سے مجھے میرے مالک۔۔۔
آنسو لڑئیوں کی مانند قطار در قطار چہرے سے پھسلتے جائے نماز بھگوتے جا رہے تھے۔۔۔ بدن ہچکولے کھا رہا تھا۔۔۔ دل غم سے پھٹ رہا تھا مگر امید کا دامن تھا کہ وہ چھوڑنے کو تیار ہی نا تھی۔۔۔ نا جانے کتنی ہی دیر وہ اپنے رب کے حضور فریادیں کرتی اپنی دعا کو قبولیت کا شرف دلوانے کو سرگرداں بلکتی سسکتی رہی تھی ایک بچے کی مانند جو ضد پر آتا تب تک ایریاں ڑگڑنا بند نہیں کرتا جب تک ماں اکتا کر اسکی حالت پر ترس کھاتی اسکی ضد پوری نہیں کر دیتی۔۔۔ اللہ یہ تیرا وعدہ ہے کہ تو کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا اللہ میری۔۔۔۔ بولتے بولتے آواز موتی ہونے لگی تھی اور پھر آہستہ آہستہ وہ آواز آنا بند ہوگئ وہ اعصابی طور پر اتنا تھک چکی تھی وہیں سجدے کی حالت میں ہی سو گئ۔
*****
ہیلو کیف میں تمہیں کچھ فوٹو گرافز بھیج رہا ہوں کل صبح تک یہ ہر سوشل نیٹ ورک ہر ویب سائٹ ہر نیوز پیپر اور نیوز چینل پر بریکنگ نیوز ہونی چاہیے۔۔۔ یہ فوٹوز اتنی وائرل ہونی چاہیے کہ یہ لڑکی بدنامی اور ذلت و رسوائی کے ڈر سے چہرا چھپا کر خودکشی کرنے پر مجبور ہو جائے ۔۔وہ ایک ہاتھ سے گاڑی ڈرائیو کرتا دوسرے ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے سفاکیت سے بول رہا تھا ۔۔۔ آنکھوں سے نکلتی چنگاریاں سب کچھ بھسم کر دینے کے در پر تھیں۔۔۔۔ فون بند کرتے اسنے ایکسلریٹر پر دباو بڑھاتے گاڑی کی سپیڈ مزید بڑھائی اور فون پر واٹس ایپ کھولتے سینڈ کرنے کے لئے فوٹوز سلیکٹ کرنے لگا سامنے سے دھیان بٹا اور عین اسی وقت موڑ کاٹتے سامنے سے آتے ٹرالے سے زبردست تصادم ہوا۔۔۔ جب تک بات اسکی سمجھ میں آتی بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔ تصادم کے نتیجے میں گاڑی سڑک پر دور تک کلابازیاں کھاتی گئ تھی۔۔۔ دروازوں کے شیشوں کے ٹوٹتے کانچ کی کرچیاں اسکی جلد کے اندر تک پیوست ہوتیں اسے درد سے کراہنے پر مجبور کر رہیں تھیں۔۔۔ درد کی شدت حد سے سوا تھی لمحوں میں آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاتا اسکا سب کچھ تاریک کر گیا تھا
*****
مکھیوں کی بھنبھناہت کی مانند آتی آوازیں سن کر دماغ ان آوازوں کو پہچاننے کی کوشیش کر رہا تھا۔۔۔ جب کسی نے اسکے کندھے پر دباو ڈالتے اسے ہلا کر اٹھانا چاہا۔۔۔ ارے اٹھو شمائل تم تو سجدے میں ہی سوگئ۔۔۔ کندا ہلانے کیساتھ اب یہ آواز قریب سے سنائی دی تو شمائل نے آہستگی سے سجدے سے سر اٹھاتے سوجھی آنکھوں اور سرخ چہرے سے اسے دیکھا۔۔۔
تمہاری طبیعت ٹھیک ہے شمائل ۔۔۔ تمہیں تو بہت تیز بخار ہے اٹھو بیڈ پر بیٹھو ضحی نے اسکا لال بھبھوکا چہرا دیکھ پریشانی سے کہتے اسے سہارے سے اٹھا کر بیڈ ہر بیٹھایا۔۔۔
ارے شمائل تمہیں کچھ پتہ چلا وہ ابھی بیڈ پر بیٹھی ہی تھی جب حرا بھاگتی ہوئی اسکے کمرے میں آئی۔۔۔۔ کیا ۔۔۔ شمائل مضحمل سی گویا ہوئی۔۔۔
ارے کل رات نوفل درانی کا بہت برا ایکسیدینٹ ہو گیا۔۔۔ گاڑی ٹرالے کے نیچے آ کر کچلی گئ۔۔۔ ٹرالے والا بھاگ گیا اور وہ ساری رات وہیں روڈ پر بے یارومددگار پڑا رہا صبح کے وقت ریسکیو ٹیم نے گشت کے دوران اسے وہاں سے ریسکیو کیا ۔۔ یار بہت برا ہوا اسکے ساتھ پتہ چلا ہے کہ وہ کومے میں چلا گیا ہے اسکا جسم مفلوج ہو گیا ہے اور وہ اس وقت ایک زندہ لاش ہے۔۔۔ حرا کی بات سنتی شمائل بے ساختہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔ دل میں کہیں سکون سرایت کر گیا تھا مگر اس کیساتھ ساتھ وہ متضاد کیفیات کا شکار ہو رہی تھی اسنے ایسا کبھی نہیں چاہا تھا کہ وہ زندہ لاش ہی بن جاتا مگر وہ اس میں کر بھی کیا سکتی تھی۔۔جو بھی تھا اس وقت اس پر سجدہ شکر واجب تھا اسکے رب نے ایک مرتبہ پھر سے مصیبتوں کے درمیان سے اسکے لئے ایک خوبصورت راستہ نکال ہی دیا تھا بلاشبہ جہاں پر انسانی عقل ختم ہو جاتی وہ ہستی وہاں سے بھی سازگار مواقع فراہم کر دیتی ہے۔
اس روز کے بعد سے وہ اپنے ہر کام ہر عمل میں آزاد ہوگئ تھی نوفل نامی تلوار جو ہر دم سر پر لٹکی رہتی تھی وہ ہٹ گئ تھی اسنے مکمل یکسوئی اور توجہ سے اپنی ایپ پر کام کرتے اسے لانچ کیا تھا احمر نے اسکا پل پل ساتھ دیا تھا۔۔۔
یہ لانچ ہوگئ ہے مس شمائل مگر اب اسکی پرموشن کا وقت ہے آپکی ایپ بہت اچھی ہے مگر یہ تب تک کسی کام کی نہیں جب تک لوگ اسے جان نہیں جاتے اسکے لئے اب آپکو کچھ انویسٹ کرنا ہوگا کیونکہ پروموشن بہت ضروری چیز ہے چاہیے پھر وہ کسی فلم کی ہو یا کسی تخلیق کی ۔۔۔ ایپ لانچنگ کے بعد احمر نے اسے مخلصانہ مشورہ دیا تھا جس پر عمل پیرا ہوتے اسنے احمر کی ہی مدد سے ایپ کی پروموشن کے لئے ڈیجیٹل مارکٹنگ کو ہی چنا تھا جو اسکے لئے ایک نسبتاً سستی پروموشن تھی۔۔۔
اسنے اگلا ایک سال دن رات کا فرق مٹا کر اپنی پڑھائی پر توجہ دینے کیساتھ ساتھ ایپ اپڈیت کی تھی۔۔۔ ایک سال بعد جہاں اسکی ڈگری مکمل ہوئی وہاں اسکی ایپ نے اچھی خاصی پروگریس دکھائی تھی۔۔۔ ایپ سے لوگوں کو بہت سہولت ہوئی تھی معمولی درد تکلیف جس کے اصل وجہ ہی سمجھ نا آتی تھی اس ایپ سے لوگوں کو یہ مدد ملی کہ اس میں اپنی مطلوبہ انفورمیشن ڈال کر اس میں فیڈ ڈیٹا کی بیس پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس یہ ریکگنائز کر کے بتا دیتی کہ یہ درد کس وجہ سے ہے اسکی وجوہات اور بنیادی اختیاطی تدابیر جس کے بعد مریض اپنے مرض سے واقف ہوتا مطلوبہ ڈاکٹر کے پاس ہی جاتا تھا۔۔۔
لوگوں کو اس سے فائدہ ہو رہا تھا اور لوگوں کے فائدے کا کام کر کے وہ اس ایپ پر ایڈز رن کر کے آنلائن کما رہی تھی۔۔۔ کل اب اسے واپس اپنے گاوں چلے جانا تھا مگر جانے سے پہلے وہ ایک مرتبہ اس شخص سے ضرور ملنا چاہتی تھی جسنے اسکی زندگی جہنم بنا رکھی تھی مگر اس وقت وہ خود دوسروں کے آسرے پر آ چکا تھا پچھلے ایک سال میں اس میں کوئی امپروومنٹ نہیں ہوئی تھی شمائل کے سبھی فیلوز اس کی عیادت کر آئے تھے مگر وہ ابھی تک خود کو اس شخص سے ملنے پر آمادہ نہیں کر پائی تھی مگر اب اس شہر کو الوداع کہنے سے پہلے ایک مرتبہ وہ اسکے روبرو جانا چاہتی تھی۔۔۔۔
*****
یوسف ڈاکٹر کیا کہتے ہیں۔۔۔ کب تک میرا بچہ یونہی زندہ لاش بنا لیٹا رہے گا۔۔۔ گرینی آج بھی روز اول کی طرح ہسپتال کے اس پرائیویٹ کمرے میں نوفل کے بیڈ کے پاس بیٹھی اسکے سر پر ہاتھ پھیرتی اشکبار ہو رہی تھی۔۔۔
ماں ڈاکٹرز کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے بس اللہ سے دعا کریں کے وہ ہمیں معاف کردے۔۔ یوسف صاحب اکلوتی اولاد کی ایسی حالت دیکھ خود ٹوٹ گئے تھے سارا طنطہ اکڑ غرور سب پانی کا بلبلہ ثابت ہوا تِھا اور وہ بے پناہ طاقت اور مال و دولت کے باوجود بھی بیٹے کو واپس صحت مند کرنے میں ناکام رہتے اس خدا کی خدائی پر ایمان لے آئے تھے۔۔۔ گرینی کی حالت خراب ہونے لگی تھی اسی لئے یوسف صاحب انہیں سہارا دیتے اپنے ساتھ کمرے سے باہر لے گئے۔۔۔
ایک آنسو نوفل کی بند آنکھ سے ٹوٹتا کنپتی کی جانب لکیر بناتا چلا گیا تھا۔۔۔ اکڑ تو اس کی بھی بری طرح سے ٹوٹ چکی تھی۔۔۔ بے بسی اکیلا پن محرومی وہ کونسا احساس تھا جو اسنے اس ایک سال میں محسوس نہیں کیا تھا ۔۔۔ وہ سب سن سکتا تھا محسوس کر سکتا تھا مگر ہلنے اور بولنے سے قاصر تھا ۔۔۔ سب اسکا ساتھ چھوڑ گئے تھے علایہ اور ضامن تک شروع شروع کے چند روز کے بعد دوبارہ اس جانب پلٹ کے نا آئے تھے۔۔۔ یہ دنیا محض چڑھتے سورج کی پجاری ہے یہ بات اسے اچھے سے سمجھ آگئ تھی۔۔۔ درحقیقت سبھی اسے مردہ تصور کر چکے تھے صرف اسکے ماں باپ اور گرینی ہی تھیں جو روز ایک نئ آس اور امید کیساتھ اسکے پاس آتے۔۔۔ اس حادثے نے اس پر کھڑے کھوٹے کی اہمیت واضح کر دی تھی۔۔۔ وہ بے بس تھا اور اپنی بے بسی کا احساس یونہی آنسووں کے ذریعے ہی کیا کرتا تھا۔۔۔ دنیا صرف اسی کی رکی تھی باقی تو سب اسی ریس کا حصہ تھے۔۔۔
تبھی ایک مرتبہ پھر سے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر وہ اپنی سبھی حسیات مجتمع کرتا اس جانب متوجہ ہوا۔۔۔
کہتے ہیں جو شخص فرعون سے عبرت نہیں پکڑتا وہ دوسروں کے لئے عبرت بن جاتا ہے۔۔۔ یہ آواز۔۔۔ اسے لگا وہ پتھر کا ہو جائے گا۔۔۔ اس آواز کو وہ ہزاروں کی بھیڑ میں بھی پہچان سکتا تھا سب سے برا اسنے شمائل کیساتھ ہی کیا تھا۔۔۔ کاش وہ اس سے معافی ہی مانگ سکتا مگر وہ یہ بھی کرنا سے قاصر تھا ۔۔۔ بے بسی ایک مرتبہ پھر سے آنسووں کی صورت ظاہر ہوئی تھی۔۔۔
میں تمہیں کیا کہوں نوفل رضا درانی تمہاری سزا تو میرے اللہ نے ہی طے کر دی۔۔۔ میں آج تمہیں تمہارے گزشتہ کسی بھی رویے کا طعنہ نہیں دوں گی کیونکہ توٹے ہوئے کو مزید توڑنا انسانیت نہیں۔۔۔ جاو نوفل رضا درانی آج حور شمائل حسن تمہیں تمہاری ہر خطا ہر زیادتی اور ہر نارواں سلوک کے لئے دل سے معاف کرتی ہے شاید ایسے ہی میرا اللہ تمہاری آزمائش میں کچھ کمی لادے۔۔ اسکے بعد وہ وہاں رکی نہیں تھی بلکہ جس خاموشی سے آئی تھی اسی خاموشی سے اٹھے سر اور مضبوط قدم اٹھاتی وہاں سے نکلتی چلی گئ۔۔۔ آج نوفل کی پشیمانی حد سے سوا تھی وہ کیسے بھی کر کے اسے روک لینا چاہتا تھا بھرپور کوشیش کے باوجود بھی وہ اسے روکنے میں ناکام رہا تھا مگر آج پورے ایک سال بعد اسکے بدن میں جنبس ہوئی تھی
*****”
شمائل کے لئے لوگوں کا رویہ اب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا وہ ڈگری مکمل کر کے واپس گاوں آ گی تھی اپنی ایپ سے وہ گھر بیٹھے اچھا خاصا کما رہی تھی ۔۔۔ گھر کے حالات بہتر ہونے لگے تھے کچے اور ٹوٹے پھوٹے گھر کی جگہ پکے نئے اور خوبصورت گھر نے لے لی تھی مگر وہ اب بھی اس گاوّں سے جاہلیت ختم کرنے سے قاصر رہی تھی کیونکہ اب بھی اپنے متعلق اسے لوگوں کی کئ باتیں سنائ دے رہی تھیں۔۔۔
ارے موبائل سے گھر بیٹھے بھلا پیسے کیسے کمائے جاتے ہیں۔۔۔ ہم سے تو کمائے نا گئے کبھی۔۔۔ موبائل پر تو بس یاریاں لگائی جاتی ہیں۔۔ اور پتہ نہیں کتنوں سے یاریاں لگا رکھی ہے اسنے جو اسے گھر بیٹھے پیسے بھیجتے ہیں ۔۔ ناجانے شہر میں کیا کچھ کرتی آئی ہے ارے یہ تو وہاں پڑھتی بھی لڑکوں کیساتھ ہی تھی۔۔۔ پڑھائی کا تو محض نام تھا ناجانے کیا کرتی تھی وہاں۔۔۔ یہ وہ باتیں تھیں جو اسے بارہا سننے کو ملی تھیں جسکے بعد وہ سنجیدگی سے کچھ سوچنے پر مجبور ہوگئ تھی۔۔۔۔ لوگوں کی باتوں سے اسکا دل دکھا تھا مگر اسنے ان باتوں کو سر پر سوار نا کیا تھا بلکہ وہ سوچنے پر مجبور ہو گئ تھی کہ محض تعلیم یافتہ ہونے سے یا گھر بیٹھ کر کمانے سے اسکا کام نہیں بننا تھا اسے محض پیسہ ہی نہیں بلکہ پاور بھی چاہیے تھی اور تب ہی اسنے سی ایس ایس کرنے کا اٹل فیصلہ کیا تھا اور تاریخ گواہ تھی کہ اسکے فیصلے یونہی اٹل ہوا کرتے تھے۔۔۔۔
******
نوفل درانی کو ہوش تو آگیا تھا مگر وہ چلنے پھرنے حتی کہ بولنے تک سے قاصر تھا۔۔۔ ایک بچے کی طرح فزیوتھراپس گرینی اور ماں کی مدد سے سب کچھ شروع سے سیکھتے وہ اپنی اوقات اچھے سے سمجھ گیا تھا ۔۔۔ بچوں کی مانند توتلا کر اور لفظ توڑ توڑ کر بولتا سٹک کی مدد سے لڑکھڑا کر چلتے اسے ریکور کرنے میں پورے چھ ماہ لگے تھے مگر چھ ماہ بعد جو نوفل تھا وہ پچھلے نوفل سے یکسر الگ اور عاجز شخص تھا وقت نے بہت قاری ضربیں لگا کر اسے توڑا تھا اور توٹ کر جڑنے کے بعد وہ ہر حماقت دماغ سے نکال چکا تھا۔۔۔ اپنی زندگی کے دو بہترین سال کھونے کے بعد اسنے گرینی کے کہنے پر پھر سے زندگی شروع کرنے کے لئے سی ایس ایس کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس بار وہ زندگی میں پہلی بار کسی چیز کو لے کر سنجیدہ ہوا تھا۔
*******
ٹرینینگ مکمل ہونے کے بعد یہ شمائل کی لاہور میں پہلی پوسٹنگ تھی اور اکیڈمی سے آنے سے پہلے وہ نوفل سے ہرگز مل کر نہیں آئی تھی وہ اسکی ایک الگ ہی داستان سناتی نگاہوں سے فرار چاہتی تھی وہ اسے امید کا کوئی دیا نہیں تھمانا چاہتی تھی کیونکہ اسنے اپنی زندگی کے اس انتخاب کے فیصلے کا حق خوشی سے اپنے ماں باپ کو تھمایا تھا اور کل ہی اسکی ماں کا فون آیا تھا کہ وہ اسکا رشتہ طے کر چکے ہیں اسکے اس بار گاوں آنے ہر اسکا نکاح تھا جس پر اسنے بہت خاموشی سے رضا مندی ظاہر کر دی تھی ایسے میں وہ نوفل کو کسی قسم کی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔۔
لاہور پوسٹنگ کے بعد ڈی ہاوس شفٹ ہونے کے بعد اسنے جی توڑ کوشیش کی تھی امی ابا کو اپنے پاس بلوانے کی مگر وہ اسکے پاس آا کر چکر تو لگا گئے تھے مگر وہ اپنا آبائی گاوں چھوڑ کر وہاں رہنے کو ہرگز آمادہ نا تھے ۔۔۔ پوسٹنگ کے بعد پہلی چھٹیوں میں ہی اسنے گاوں کے لئے رخت سفر باندھا۔۔۔ دور سے ہی اسکی سرکاری بتی والی گاڑی دیکھتے لوگ اٹھ اٹھ کر اسے سلوٹ کر رہے تھے۔۔۔ دروازے کے پاس گاڑی کے رکتے ہی وہاں اسکے استقبال کو ایک مجمع لگا پڑا تھا۔۔۔ آج اسنے پہلی دفعہ اپنے باپ کی آنکھوں میں اپنے لئے وہ فخر دیکھا تھا جسکے لئے اسنے اتنی ریاضت کی تھی۔۔۔ ہر غم ہر دکھ سہہ گئ تھی۔۔۔
اسکا خواب آج پورا ہوا تھا وہ لوگ جو کل تک اسکے باپ کو بیٹیوں کا باپ ہونے کا طعنہ دیتے اسے کسی خاطر میں نا لاتے تھے آج اسی بیٹی کی بدولت اسکے باپ کے آگے پیچھے پھرتے تھے۔۔۔ کہیں جانے پر اسکے لئے اٹھ اَٹھ کر جگہ خالی کرتے تھے۔۔۔ اسنے بہت قریب سے انسانوں کو رنگ بدلتے دیکھا تھا۔۔۔۔ اسکی بدولت اب اسکے گاوں میں لوگ اپنی بیٹیوں کو اسکی مثالیں دیتے اسکے جیسا بننے کو کہتے تھے۔۔۔ وہ نم آنکھوں سے یہ اب دیکھ رہی تھی۔۔۔ ہاں پاور میں شاید اتنی ہی طاقت تھی کہ وہ لوگ اس کے اس پاورفل عہدے سے اتنے متاثر ہوگئے تھے۔۔
چودہ سال کی عمر میں اسنے جو خواب دیکھا تھا اسکی تعبیر حاصل کرنے کو اسے پورے دس سال لگے تھے۔۔۔ گھر آتے ہی وہ باپ کے سامنے دوزانو بیَٹھتی انکے دونوں ہاتِ عقیدت سے تھامتی اپنی آنکھوں سے لگاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
چلی جھلی نہ ہوئے تے یہ کونسا موقع ہے رونے کا ۔۔۔ ابھی تو تیری شادی کرنی ہے اپنی رخصتی پر دل کھول کر رو لی۔۔۔ فاطمہ نے بیٹی کو روتا دیکھ محبت سے اپنے حصار میں لیا تو وہ روتی روتی ہس دی۔۔۔
اسنے تینوں بہنوں کے نام موجود باپ کی زمین پر بے سہارا لوگوں کے لئے آفتاب حسن فاونڈیشن بنائی تھی جسکے لئے اسکے کولیگز نے دل کھول کر فنڈز دیئے تھے۔۔۔ وہ دس سالوں کی کاٹ کاٹنے کے بعد اپنے گاوں میں کوئی انقلاب لا پانے میں کامیاب ہو پائی تھی۔۔۔ اسنے واقعی منہ سے کہنے کی بجائے عمل سے اپنی باتیں ثابت کی تھیں۔۔۔ شمشیر کی سابقہ بیوی آسیہ بھی اسکی آمد پر اس سے ملنے آئی تھی۔۔۔ وہ بھی آج کل اپنی سات سالہ جڑواں بیٹیوں کیساتھ اسی فاونڈیشن میں رہ رہی تھی۔۔۔ گڑیا میری درینہ خواہش ہیں کہ میری بیٹیاں بھی تمہاری طرح ہی مضبوط بنیں۔۔۔ اس سے ملتی آسیہ رو دی تھی۔۔۔ انشااللہ آپی ایسا ہی ہو گا پھر انکی مدد کو میں بھی تو ہوں نا اسنے بے ساختہ ان دونوں بچیوں کو گلے سے لگایا ۔۔
*****
بیٹا تمہاری تائی اور تایا پھر سے آئے بیٹھے ہیں وہ تم سے ملنے کو بضد ہیں کیا تم انکے لئے کچھ کر نہیں سکتی۔۔ تائی کے شمشیر سے چھوٹے بیٹے کا ملکوں کے بیٹوں کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا معاملہ لڑکی کا تھا تو انہوں نے موقع پر ہی اسے ہلاک کر دیا۔۔۔ بڑے بیٹے کے بعد چھوٹے بیٹے کی موت رقیہ کو نیم مردہ کر گی تھی۔۔۔ جوش جذبات میں عتیق بھائی کی موت کے غصے میں رات کے وقت خنجر سے بھائی کے قاتلوں پر حملہ آور ہوا جسکے باعث ایک لڑکا موقع پر ہی مر گیا جبکہ دوسرا انتہائی سیریس کندیشن میں ہوسپیٹلائزڈ تھا ۔۔۔ عتیق کو فورا ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔۔۔ دو بیٹے دنیا سے جا چکے تھے جبکہ ایک کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی تھی رقیہ کی کمر بری طرح سے ٹوٹ گئ تھی۔۔۔ گردن میں فٹ سریا خودبخود جھک گیا تھا۔۔۔ کس پر کرتی اب مان۔۔۔ جب سے گڑیا گاوں آئی تھی وہ دونوں میاں بیوی بلاناغہ وہاں اسکے پاس آ رہے تھے کہ وہ اتنی اونچی پوسٹ ہر ہونے کے باعث کوئی شفارش وغیرہ کروا کر عتیق کو پھانسی سے بچا لیتی۔۔۔
ابا میں انکی آنکھوں میں مزید بے بسی نہیں دیکھ سکتی۔۔۔ لیکن میں اس معاملے میں بے بس ہوں۔۔۔ میں کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔ کیونکہ میں نے جن حالات سے گزر کر یہ پوسٹ حاصل کی ہے روز اول ہی میں نے خود سے یہ وعدہ کیا تھا کہ کبھی بے ایمانی نہیں کروں گی کبھی کسی کہ حق تلفی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ چاہیے حالات کیسے بھی ہوں غلط کا ساتھ نہیں دونگی۔۔۔۔ اگر عتیق بے گناہ ہوتا تو میں اپنی جی جان لگا دیتی لیکن میں ابھی کچھ نہیں کر سکتی آپ مناسب الفاظ میں میری یہ بات تایا اور تائی تک پہنچا دیں۔۔۔ عاجزی سے باپ کو کہتی وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئ تھی۔۔۔ صبح اسکا نکاح تھا اور کچھ ہی دیر تک اسکی بہنیں اپنی فیملیز کے ساتھ وہاں پہنچنے والی تھیں۔۔۔
وہ جب سے گاوں آئی تھی اسے نوفل کے بارہا میسجیز موصول ہو رہے تھے مگر وہ مسلسل اسے نظرانداز کر رہی تھی کیونکہ وہ اپنے نئے رشتے کی بنیاد مکمل ایمانداری سے رکھنا چاہتی تھی
*****
حور شمائل حسن ولد آفتاب حسن آپکا نکاح نوفل رضا درانی ولد یوسف درانی کیساتھ بعوض پچاس ہزار حق مہر سکہ رائج الوقت کیا جا رہا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔ نکاح کے مندجات تھے یا کوئی پہاڑ جو اسکے سر پر ٹوٹا تھا وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے جھکے سر کے ساتھ اپنے سامنے موجود نکاح نامے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
دماغ سائیں سائیں کر ریا تھا۔۔۔ یہ سب کیا تھا اور کیسے ہوا تھا کچھ سمجھ نا آ رہا تھا ابا کے سر پر ہاتھ رکھنے پر وہ ہوش میں آئی تھی امی کے کہنے پر اسنے قبول ہے کہتے کانپتے ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط کیے۔۔۔۔ سب لوگوں کے کمرے سے جانے پر اسنے جھٹکے سے سر پر اوڑھا گھونگھٹ اتارا اور سرعت سے پاس پڑا موبائل اٹھایا۔۔۔ کل رات سے زنیرا اور عمیرا اسے لڑکے کی تصویر دکھانے پر بضد تھیں مگر اسنے ہر بار دیکھنے سے انکار ہی کیا تھا گھر میں بارہا لڑکے نام رضا اسنے سنا تھا لیکن ایک پل کو بھی اسکا دماغ نوفل کی جانب متوجہ نا ہوا تھا۔۔۔
کوئی فضول بات نہیں نوفل صرف یہ بتاو یہ سب کیا کیسے تم نے۔۔۔ انتہائی مختصر سی تحریر وہ بھی تنبہیہ کے ساتھ کھٹا کِھٹ سے ٹائپ کرتے اسنے نوفل کو سینڈ کی۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔ مسز نکاح کے بعد سب سے پہلے مبارکباد دی جاتی ہے۔۔۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں جواب موصول ہوا تھا۔۔۔ شمائل دانت پیس کر رہ گئ۔۔۔
خیر جس روز تم نے یہ انکشاف کیا کہ تمہاری زندگی کے اس فیصلے کا انتخاب تمہارے ماں باپ کے پاس ہے اس روز سے میں نے تم کو پٹانا چھوڑ کر آنٹی انکل کو پٹانے پر کمر بستہ ہوا اور یقین مانو آنَٹی انکل کو منانا تمہیں منانے سے کہیں آسان کام تھا نک چڑھی لڑکی ساتھ ہی چڑانے والے ایمجیز تھے۔۔۔
اتنے روز پہلے ہی میسجیز کا ریپلائے دے دیتی تو آج اتنا شاک نا لگتا۔۔۔۔ اسکے بعد میسجز کا ایک سلسلہ چل نکلا تھا لیکن گڑیا نے موبائل سائیلنٹ کرتے سائیڈ پر رکھا اور خود سیدھی ہو کر بیٹھی کیونکہ اب اندر اسکے کچھ سسرالی مہمان اس سے ملنے آ رہے تھے۔۔۔ بحرحال جو بھی تھا اس خبر نے اسکے اندر تک اطمیئنان سرائیت کر دیا تھا
********
پرنسسز آپکو پتہ ہے آپکی ماما کو اپکی ماما بنانے کے لئے کتنے جتن کرنے پڑے ہیں ہمیں۔۔ نوفل نے گاڑی ڈرائیو کرتے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی شمائل کی گود میں موجود اپنی ڈیرھ سالہ بیٹی کے گال پر پیار کرتے شوخی سے شمائل کی جانب دیکھتے کہا۔۔۔ ڈیرھ سالہ بچی باپ کے اس التفات پر کلکاریاں مارتی ہس دی تھی ۔
بس یہ ہی کام باقی رہ گئے ہیں تمہارے بچی کو تو بخش دیا کرو نوفل۔۔۔ اگر نوفل نے یہ بات شمائل کو چڑانے کے لئے کی تھی تو وہ اچھا خاصا چڑ بھی چکی تھی۔۔۔
شادی کے بعد نوفل نے باقاعدہ شمائل سے اپنے ماضی میں روا رکھے سلوک کی معافی مانگی تھی جس ہر اسکا یہ ہی جواب تھا کہ وہ اسے بہت پہلے ہسپتال کے اس کمرے میں ہی معاف کر چکی تھی۔۔۔۔ اب وہ اسکے باپ کے حوالے سے اسکی زندگی میں آیا تھا تو وہ اس نئے رشتے کے لحاظ سے اسکی قدردان تھی اور ماضی کو دہرانا بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اس روز وہ دل سے اس لڑکی کی اچھائی کا قدردان ہو گیا تھا۔۔۔ اسکی خوبیوں کا تو وہ اکیڈمی کے دوران ہی معترف ہو چکا تھا اب تو وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اسے مزید خود کا اسیر بناتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ جتنی اچھی بیٹی تھی اتنی ہی اچھی بیوی بھی ثابت ہوئی تھی اسکی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھتی اپنے ہر ہر عمل سے اسکی اپنی زندگی میں خاص اہمیت کا احساس دلاتی وہ اسے اور بھی دل کے قریب لگتی اس سخت مضبوط اور بہادر لڑکی کے اندر کہی ایک معصوم سی لڑکی بھی موجود تھی جو اس سے آدھی آدھی رات کو اٹھ کر الٹی سیدھی فرمائشیں کرتی اسکی زندگی کو مزید خوبصورت بناتی تھی ۔۔۔ اور ماں کے روپ میں تو وہ اسے اور بھی پیاری لگتی تھی۔۔۔ا اب بھی وہ دو مہینوں بعد شمائل کے والدین سے ملنے گاوں آئے تھے گاوں کی حدود میں داخل ہوتے ہی آفتاب حسن فاونڈیشن دور سے ہی پورے طمطراق کے ساتھ لکھا چمک رہا تھا ۔۔۔ یہ نام تو اب اس گاوں کیساتھ ساتھ آس پاس کے گاوں میں بھی زبان زد عام ہو چکا تھا۔۔۔ سال پہلے عتیق کو پھانسی ہو گئ تھی جاوید بیٹے کا یہ غم نا سہارتے اس دنیا سے رخصت ہو گیا تھا جبکہ پے در پے صدمات سے ہر دم چوکس اور دوسروں کی ٹوہ میں رہنے والی رقیہ وقت سے پہلے ہی بوڑھی ہو چکئ تھی۔۔۔ گھر اور جائیداد پہلے ہی گروی رکھی تھی تو آج کل وہ بھی آفتاب حسن فاونڈیشن میں ہی اپنی پوتیوں کے ہمراہ رہ رہی تھی۔۔۔ اگر اسنے ان ننھی جانوں کو گھر بدر کیا تھا تو گھر اپنا بھی سلامت نا رکھ پائی تھی۔۔۔ گھر کی جانب بڑھتے گڑیا مسلسل کچھ سوچ رہی تھی اسکے تایا کے تین بیٹے تھے لیکن اسکے باوجود آنکا اسکا نام و نشان نا رہا تھا مطلب بیٹے ہوں یا نا ہوں رہتی دنیا تک نام تو کسی کا بھی نہیں رہ سکتا تھا۔۔۔پھر بیٹی اور بیٹوں کا یہ کھلا تضاد کیسا۔۔۔۔ اسکی پوری زندگی کے تجربات کا نچوڑ محض یہ ہی تھا کہ
رہے رب دا نام۔۔۔۔
اللہ ہے باقی ۔۔۔ باقی سب ہے فانی۔۔۔
بیٹیاں اس رب کی سب سے بڑی عطا ہیں جن کے آنے پر حضرت محمد خود کھڑے ہو کر انکا استقبال کرتے وہ کبھی قابل نفرت ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔ مکمل طور پر تو وہ اس سوچ کو نہیں بدل پائی تھی لیکن پتھر میں شگاف ڈال چکی تھی اس امید پر کہ دیے سے دیا روشن ہوتا ہی جائے گا۔۔۔ گاڑی گھر کے سامنے رکی تو وہ مسکراتی ہوئی بیٹی کو کندھے سے لگائے باہر نکلتی اندر جانے کو آگے بڑھی جہاں اسکے ماں باپ اسکا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔
***********
ختم شدہ
