Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 26) 2nd Last Episode

Gumaan Se Agy By Umme Hania

صبح یونیورسٹی داخل ہوتے ہی نوفل درانی سے ہوئے ٹاکرے کے باعث اسکا سارا دن نوفل درانی کے بارے میں ہی سوچتے گزرا تھا اسے جلد از جلد اس نوفل نامی بلا سے پیچھا چھڑوانا تھا اس سے پہلے کہ وہ پھر سے کوئی ناقابل تلافی نقصان اسکی جھولی میں ڈالتا اسے پہلے ہی کوئی سدباب کرنا تھا۔۔۔ وہ کینٹین میں بیٹھی یہ ہی سب سوچ رہی تھی جب اسنے نوفل کو علایہ اور ضامن کیساتھ کینٹین میں داخل ہوتے دیکھا ۔۔ کسی خیال کے تحت وہ وہ اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔ ان لوگوں کے ایک ٹیبل پر بیٹھنے کے بعد اسنے اس ٹیبل کی بالکل پچھلی ٹیبل کا انتخاب کرتے وہاں اپنی وہ فائل رکھی جس کے ساتھ وہ اپنا ڈیجیٹل پین ہمیشہ نتھی کئے رکھتی تھی۔۔ اس پین کی کپیسٹی کم سے کم پانچ گھنٹے لگاتار ریکارڈنگ کی تھی اس لئے وہ کہیں بھی جاتے وقت اسے اپنی فائل میں اٹکاتی اسکی ریکارڈنگ آن ہی رکھتی تھی۔۔۔ اور روزانہ کی بنیاد پر رات میں اس ریکارڈنگ پر ایک نظر مارتے اسے ڈیلیٹ کر کے اگلے دن کے لئے پھر سے تیار کر لیتی تھی۔۔۔ اسکی اس عادت نے اسے دو دفعہ بڑی مشکل میں پھنسنے سے بچایا تھا۔۔۔ فائل وہ ہمیشہ اس زاویے سے پکڑتی یا بیگ کے ساتھ کھڑی کر کے رکھتی کے ارد گرد کا سارا منظر اس کیمرے کی آنکھ میں مقید ہوتا۔۔۔

اب بھی وہ اسکی ریکارڈنگ آن کرتی خود کینٹین سے نکل گی۔۔۔آدھے گھنٹے بعد وہ ان لوگوں کے کینٹین سے نکل جانے کے بعد اپنی فائل وہاں سے اٹھا لائی تھی۔۔۔

ٹیبل چونکہ قریبی اور پچھلا تھا تو ان میں سے کسی کی ویڈیو تو واضحح نا ہو سکی تھی مگر آواز کلیئر آ رہی تھی۔۔۔ ابھی وہ اس ریکارڈنگ کے باعث انکے موجودہ پلان سے آگاہ ہو پائی تھی۔۔۔ وہ تینوں آج رات ایک بجے یونیورسٹی ڈین کے آفس سے فائنل ایگزیم کے پیپرز چرانے والے تھے۔۔۔ وہ انکا سارا پلان سن چکی تھی ۔۔

انکے چھوڑے ایک خاص منجر نے ڈین کے آفس میں پیپروں کی منجری دی تھی۔۔۔ وہ رات کے کس پہر کس طرح سے کس طرف سے یونیورسٹی آنے والے تھے انکا سارا پلان پاور فل تھا مگر برا ہوا جو وہ شمائل کے علم میں آ گیا تھا۔۔۔

شمائل نے بیڈ سے اترتے گھڑی میں وقت دیکھا جو رات کے ساڑھے بارہ بجا رہی تھی مطلب ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ لوگ یونیورسٹی پہنچنے والے تھے۔۔۔ اسنے سرعت سے الماری کھول کر اندر سے سیاہ عبایہ نکال کر پہنا ۔۔۔ روم میٹ کے سنیکرز پہنے چہرا اچھے سے نقاب میں دھانپ کر وہ اپنا وہی پین ہاتھ میں تھامے ہاسٹل کے کمرے سے باہر نکلی ۔۔ باہر ہر جانب ہو کا عالم تھا مہیب خاموشی اور سناٹے نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔۔ ہاسٹل کے رولز کے مطابق رات آٹھ بجے کے بعد ہاسٹل آنے جانے کی خاص پابندی تھی ۔۔۔ وہ اس وقت رولز تورٹے ہوئے الیگلی وہاں سے جانے والی تھی۔۔۔ اگر جو اسکی یہ حرکت کسی کی نظروں میں آ جاتی تو ناجانے کیا ہنگامہ بھرپا ہوتا اپنی اس حرکت کا اسے کیا خمیازہ بھگتنا پڑتا۔۔۔ ناجانے وہ رات کے اس پہر ہاسٹل سے نکل کر انکے پیچھے یونیورسٹی جا کر ٹھیک کر رہی تھی یا نہیں مگر اگر اسے نوفل درانی کو پچھاڑنا تھا تو اس جیسی پاور فل شخصیت پر ہاتھ بھی بھاری طریقے سے ڈالنا تھا۔۔۔ تھا تو یہ ایک بہت بڑا رسک مگر آگے کنواں پیچھے کھائی کے مصداق اسے یہ رسک لینا ہی تھا۔۔۔

سامنے گیٹ کے پاس ہی چوکیدار کرسی سے ٹیک لگائے اونگھ رہا تھا شمائل وہاں سے دبے پاوں ہاسٹل کے پچھلی جانب بڑھی۔۔۔ دیوار اتنی اونچی بھی نا تھی اور گاوں میں رہتے بچپن میں کھیل کود کے دوران اکثر وہ باآسانی دیواریں اور چھتیں پھیلانگ جایا کرتی تھی۔۔۔ لیکن یہ بچپن کی بات تھی اور بچپن گزرے عرصہ ہوگیا تھا مگر پھر بھی وہ ناقدانہ نگاہوں سے دیوار کا جائزہ لیتی پرامید تھی کہ وہ دیوار پھیلانگ ہی جائے گی۔۔ ایک ہاتھ سے عبایہ پین اور موبائل سمبھالتی دوسرے ہاتھ سے دیوار کا سہارا لیتی وہ بامشکل پانچویں کوشیش میں دیوار پر چڑھ سکی تھی دوسری جانب چھلانگ لگانے کے نتیجے میں وہ گھٹنوں کے بل زمین بوس ہوئی ۔۔ گھٹنے اور کہنیاں بری طرح چھل گئ تھیں گرتے ہی وہ درد کو نظر انداز کئے لب بھینچتی دونوں ہتھیلیوں پر وزن ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ چاروں جانب گھمبیر سناٹے اور مہیب تاریکی کا راج تھا رات کے اس پہر چلتی تیز ہواوں کے باعث درختوں کے پتوں کی سرسراہٹ ماحول پر ایک عجیب پراسراریت قائم کر رہی تھی اس دہشتناک ماحول میں ایک پل کو اسکے قدم آگے بڑھنے سے انکاری ہوئے مگر اگلے ہی پل وہ دل کڑا کرتی اللہ کا نام لے کر آگے بڑھی۔۔۔ خاموش تاریک رات میں وہ چاروں جانب چوکنے انداز میں دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔ دس منٹ کی مسافت کے بعد وہ بلآخر یونیورسٹی کے گیٹ کے سامنے پہنچ چکی تھی۔۔۔ سامنے ہی نوفل کی گاڑی ان لوگوں کے وہاں پہنچ جانے کی نشاندہی کر رہی تھی وہ تیزی سے اس مقام کی جانب بھاگی جہاں سے ان لوگوں نے یونیورسٹی کے اندر جانا تھا۔۔۔ رات کی تاریکی میں وہ سیاہ عبایہ زیب تن کئے سیاہ رات کا ہی حصہ معلوم ہوتی تھی۔۔۔

ضامن چوکنے انداز میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جبکہ علایہ کی ٹارچ کا رخ نوفل کے ہاتھوں کی حرکات کی جانب تھا جو اب چابی سے چھوٹا گیٹ کھول رہا تھا۔۔ ناجانے کسی ایمان فروش نے اسے چابی دی تھی یا ان لوگوں نے ڈپلیکیٹ چابی بنوائی تھی شمائل سمجھ نا سکی۔۔۔ شمائل ان سے خاصے فاصلے پر ایک درخت کی عار میں چھپی تھی آج اسنے پین سے ریکارڈنگ کرنے کیساتھ ساتھ موبائل پر بھی ریکارڈنگ شروع کر رکھی تھی۔۔۔ کیونکہ رات کی تاریکی کے باعث موبائل کے کیمرے میں نسبتاً بہتر شناخت ہو رہی تھی۔۔۔

ان لوگوں کے یونیورسٹی کے اندر داخل ہونے پر وہ بھی سرعت سے اندر داخل ہوئی انکے انداز سے یہ ہی ظاہر تھا کہ وہ اس کام کے عادی ہو چکے ہیں کیونکہ انکے ہاتھ میں اتنی نفاست اور انداز میں اتنا اطمیئنان تھا کہ یہ ثابت کرنا مشکل تھا کہ وہ یہ کام پہلی مرتبہ کر رہے ہیں۔۔۔ شمائل کے انکے پیچھے پیچھے جانے کے باعث کئ پتے اسکے پاوں کے نیچے آ کر چڑمڑا گئے تھے ۔۔۔۔

کون۔۔۔ کون ہے یہاں۔۔۔ پتوں کی نا پسندیدہ آواز ابھرنے کے باعث علایہ نے یکدم پیچھے مڑتے ٹارچ کی روشنی اسکی جانب کی۔۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں شمائل اسکی حرکت سمجھتی لان میں لگے درخت کی آر میں ہوئی۔۔۔ حملہ غیر متوقع تھا مگر شمائل دھرکتے دل کیساتھ ضرورت سے زیادہ محتاط تھی اسی لئے فورا سے پیشتر پاس ہی موجود درخت کی آر میں ہوتی اب سینے ہر ہاتھ رکھے گہرے گہرے سانس لیتی غیر ہوتی حالت کو اعتدال پر لانے کی سعی کر رہی تھی۔

کوئی نہیں ہے علایہ تمہارا وہم ہے چلو جلدی اندر ہمیں جلد از جلد یہاں سے نکلنا بھی ہے۔۔۔ ضامن نے اسکے یوں ٹھٹک کر رکنے اور بوکھلانے پر اسے ڈپٹے ہوئے آگے بڑھنے کو کہا وہ الجھتی ہوئی اسکے ساتھ آگے بڑھی نا جانے کیوں وہ اس چیز کو اپنا وہم نہیں گردان سکی تھی۔۔۔

لیکن شمائل اس کے بعد مزید محتاط ہو گئ تھی۔۔۔ وہ اب مخصوص فاصلہ برقرار رکھے درختوں اور پلرز کی آر لیتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔

وہ لوگ سبھی انتظام کر کے ہی آئے تھے بنا چاپ کئے انہوں نے چابی سے ڈین کے آفس کا لاک کھولا اور دروازہ بند کرتے لائٹ چلا کر پرسکون انداز میں اپنا کام کرنے لگے۔۔۔۔ ادھ کھلے دروازے سے سامنے کا منظر واضح تھا اس چیز نے شمائل کے لئے مزید آسانی فراہم کی تِھی۔۔۔ اب تک کی ویڈیو جس میں محض ہیولے ہی دکھائی دے رہے تھے اب اس میں واضح منظر نگاری ہونے لگی تھی۔۔۔ باہر اندھیرا ہونے کے باعث وہ لوگ شمائل کو دیکھ نا پائے تھے لیکن باہر سے اندر کا منظر واضح دکھائی دے رہا تھا وہ لوگ اب پیپروں کا اینولپ کھولے اندر سے مطلوبہ پیپر نکالے انہیں میز پر رکھے اپنے اپنے موبائل نکالے ان پر جھک کر انکی تصویریں کھینچ رہے تھے۔۔۔ کیمرے کی آنکھ نے ہر چیز کی واضح منظر نگاری کی تھی۔۔۔

ایک آسودہ مسکراہٹ نے شمائل کے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔۔

وہ لوگ اب پیپرز اختیاط کیساتھ اسی طریقے سے واپس اندر رکھ رہے تھے اب شمائل نے بعجلت وہاں سے نکلنے کو ترجیح دی کیونکہ اسکا کام مکمل ہو چکا تھا لحاظہ وہ اب وہاں مزید رکتی تو یقیناً وہ لوگ یونیورسٹی سے نکلتے گیٹ کو لاک کر جاتے اور وہ وہیں قید ہوجاتی اس سوچ کے آتے ہی وہ سرعت سے وہاں سے نکلی۔۔۔ وہ لوگ اب لائٹ بند کرتے واپس آفس کا دروازہ لاک کر رہے تھے۔۔

و۔۔۔ وہاں کوئی ہے۔۔۔ میں نے اسکا ہیولہ وہاں دیکھا ہے ۔۔۔ دو دو دفعہ یہ وہم نہیں ہو سکتا ۔۔۔ یقین کرو میری بات کا ۔۔ کسی نے ابھی ابھی کاریڈور عبور کیا ہے۔۔۔ نوفل لاک لگا کر سیدھا ہوا جب علایہ کی بوکھلائی ہوئی آواز سنتے ضامن کیساتھ ساتھ نوفل بھی اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔ بات ٹھیک تھی اسکی دو دو دفعہ وہم نہیں ہو سکتا اور ویسے بھی کتنی ہی بار وہ لوگ یہ کام کر چکے تھے مگر آج تک علایہ نے کبھی ایسا نا کیا تھا مطلب واقعی دال میں کچھ کالا ضرور تھا۔ اگر ایسی بات تھی تو وہ جو کوئی بھی تھا انکا پیچھا کرتا وہاں تک آ تو گیا تھا مگر واپس جا نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔ ضامن اور نوفل نے بنا تاخیر کئے علایہ کی نشاندہی کردہ جگہ کی جانب دوڑ لگا دی۔۔۔

شمائل انکی باتیں سن چکی تِھی اس لئے اسی راستے سے جانے کی بجائے اسنے شارٹ کٹ چنا تھا۔۔۔ جب تک وہ لوگ اسے دھونڈتے ہوئے وہاں تک پہنچتے وہ گیٹ عبور کر گئ تھی۔۔۔ مگر اب کی بار اسکا ہیولہ علایہ کیساتھ ساتھ ضامن اور نوفل نے بھی دیکھا تھا مگر وہ اس اندھیرے میں یہ شناخت کرنے سے قاصر رہے کہ نوارد لڑکی ہے یا لڑکا۔۔۔ تیر کی سی تیزی کیساتھ وہ لوگ بیرونی گیٹ کے پاس پہنچے مگر چاروں جانب ٹارچ کی روشنی کرنے کے باوجود وہ وہاں کسی زی روح کو تلاشنے میں ناکام رہے۔۔۔

میرے خیال سے نوفل ہمیں مزید یہاں رکے بنا فوراً واپس جانا چاہیے۔۔۔ کافی دیر تک ٹارچ کی روشنی کے بعد جب وہ لوگ گاڑی کی ہیڈ لائٹس چلانے کے بعد بھی اس ہیولے کو تلاشنے میں ناکام رہے تو ضامن کے کہنے پر علایہ نے واپس گیٹ کو لاک لگایا اور گاڑی میں سوار ہوتے گاڑی زن سے بھگا لے گئے۔۔۔

وہیں ایک درخت کی آڑ میں چھپی شمائل نے انکے جانے کے بعد سکون کی سانس خارج کی۔۔۔ لیکن وہ انکے جانے کے آدھے گھنٹے بعد تک بھی وہاں سے نا ہلی تھی۔۔۔ وہ اس مقام پر کوئی رسک نہیں لے سکتی تھی جانتی تھی کہ ان لوگوں کو اس ہر شک ہو چکا ہے لحاظہ وہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والے نہیں ان سے کچھ بعید نا تھا کہ وہ لوگ اسے دکھانے کو وہاں سے جانے کا ڈرامہ کرتے وہیں چھپ کر اسکے باہر نکلنے کا انتظار کرتے۔۔۔

نوفل میرے خیال سے ہمیں واقعی اب چلے جانا چاہیے کیونکہ وہ جو کوئی بھی تھا وہ اب تک جا چکا ہے اگر کوئی یہیں پر چھپا ہوتا تو ہمارے وہاں سے جانے کے بعد ضرور وہاں سے جانے کی کوشیش کرتا مگر ہمیں انتظار کرتے اتنی دیر ہوگئ کوئی سامنے نہیں آیا مطلب یہاں کوئی نہیں ہے۔۔ کافی دیر تک سڑک کنارے اندھیرے میں گاڑی روکے اسی طرف اس ہیولے کے باہر نکلنے کے انتظار میں بیٹھے ضامن نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا تو نوفل نے بھی ہاں میں سر ہلایہ کیونکہ اب وہ بھی اچھا خاصا اکتا گیا تھا۔۔۔ ضامن کی بات درست تھی کہ کوئی ہوتا تو ابھی تک باہر بھی نکلتا مگر انکا حریف انکی سوچ سے دو قدم آگے کا تھا۔۔۔

ابکی بار دور سے گاڑی کی لائٹس جلنے اور پھر اندھیر میں مدغم ہونے پر شمائل نے حقیقتاً سکھ کا سانس لیا اور اختیاط سے درختوں کی آڑ میں ہوتی چلنے لگی۔۔۔۔ اسکے اطمیئنان کو اتنا کافی تھا کہ اسکے پاس نوفل رضا درانی کی شہہ رگ پر پاوں رکھنے کے لئے ثبوت آ چکا تھا

*****

ہاسٹل کے کمرے میں پہنچتے ہی شمائل نے اختیاط سے دروازہ بند کیا اور ہاتھ میں تھاما موبائل اور پین وہیں بیڈ پر رکھتی عبایہ اتارنے لگی کہنی اور گھٹنے بری طرح چھلے تھے جن سے تب تو جوش میں نہیں مگر اب درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگی تھیں۔۔۔ سب سے پہلے اسنے پائیودین سے اپنے زخم صاف کیے اور کچھ دیر تک جھنجھنائے حواس اعتدال پر لاتی وہ ویڈیو پلے کر کے دیکھنے لگی۔۔۔۔

زبردست۔۔۔ ویڈیو دیکھ کر وہ خود کو ہی داد دیئے بنا نہ رہ سکی۔۔۔۔ وہ اس ویڈیو کے کسی حصے کو بھی ایڈٹ نہیں کرنا چاہتی تھی تاکے کل کو کسی خدشے کے تحت ویدیو پر جعلی یا فیک ہونے کا لزام آئے تو چیکنگ کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد بھی یہ اوریجنل ہی ثابت ہو سکے۔۔۔

مطمیئن ہو کر اسنے اس ویڈیو کی تین کاپیاں تیار کر کے انہیں تین مختلف جگہوں پر محفوظ کیا اور اٹھ کر باقاعدہ کمرے کی کھڑکی اور دروازے کو لاک کیا پچھلا واقعہ اسے بہت کچھ سمجھاتا مزید محتاط کر گیا تھا۔۔۔

اسے اب صرف صبح کا انتظار تھا۔۔۔

Nofil raza Durani Your time is finished ….

تمہارے لئے پھندا تیار کر چکی ہوں بس اسے تمہاری گردن میں پہنا کر کسنا باقی ہے۔۔۔ کیونکہ جو لوگ اپنی اکڑ کو ختم نہیں کر سکتے پھر قدرت انکی اکڑ توڑ دیتی ہے ۔

******

Ohhh my God…its amazing

نوفل درانی ہاتھ میں چند تصویریں تھامے انہیں دیکھتا خوشی سے گویا ہوا۔۔۔

وہ اب بس جلد از جلد یہ تصویریں منِظر عام پر لاتے شمائل کی بے بسی بھری آنکھوں سے خط اٹھانا چاہتا تھا۔۔

Hoor Shumail hassan your time is finished..

Now its my turn…

تمہیں تختہ دار پر لٹکا کر سسک سسک کر دم تؤرنے ہر مجبور نا کر دیا نا تو کہنا۔۔۔ وہ قہقہ لگا کر ہسا۔

*****