Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Last updated: 10 November 2025
Rate this Novel
Gumaan Se Agy By Umme Hania
ارے فاطمہ آج میں بڑے مان سے تم لوگوں کے گھر کچھ مانگنے آئی ہوں۔۔۔ شام کے وقت رقیہ انکے گھر آئی تو شومئ قسمت آفتاب بھی گھر ہی تھا اور اسے یہ وقت ان سے بات کرنے کو مناسب لگا۔۔۔ رقیہ کے انداز سے وہ دونوں ٹھٹھکے۔۔۔۔ جی بھابھی کہیے۔۔۔ فاطمہ نے مروت نبھاتے مسکرا کر کہا۔۔۔ میں اپنے عتیق کے لئے گڑیا کا ہاتھ مانگنے آئی ہوں اور میں ہاں سن کر ہی واپس جاوں گی۔۔۔ ارے بیٹی بنا کر رکھوں گی گڑیا کو آخر اپنا خون ہے میرا۔۔ آج غیر متوقع طور پر رقیہ کی زبان سے پھول جڑ رہے تھے کہیں تو وہ اپنے بیٹوں کے لئے فاطمہ کی بیٹیوں کا نام تک سننے کی روادار نا تھی اور کہیں وہ آج اسکے در پر سوالی بن کر آئی تھی فاطمہ کیساتھ ساتھ آفتاب نے بھی اسے الجھ کر دیکھا جو ہاتھوں پر سرسوں جما رہی تھی۔۔۔ بس تم مجھے ہاں کرو میں ابھی گڑیا کے ہاتھ پر شگن رکھ کر اسے اپنے عتیق کی امانت بنا کر چھوڑ کے جاوں گی اور جلد ہی پوری تیاری کیساتھ شادی کی تاریخ لینے آوں گی۔۔۔ ارے بھابھی ہمیں سوچنے کا وقت تو دیں یہ کام اتنی جلد بازی میں نہیں ہوتے ۔۔۔ آفتاب نے اسکی جلد بازیاں ملاخظہ کرتے بیوی کی جانب دیکھتے کہا ۔۔۔۔ اندر اپنے نوٹس بناتی گڑیا نے سانس روکے باہر ہوتی ساری بات سنی تھی لمحوں میں اسکا میٹر گھوما تھا ساری مصلحتیں بالائے طاق رکھتے اسکے اندر کی باغی و خودسر لڑکی انگرائی لے کر جاگی تھی وہ پوائنٹر وہیں پھینکتی طیش میں جوتا پہنتی باہر کو نکلی ابھی تو وہ شمشیر کی بے غیرتی نہیں بھولی تھی کجا کہ تائی کا یہ عمل۔۔۔ ارے آفتاب کیسی بات کر رہے ہو۔۔۔ سوچنے سمجھنے کا کام غیروں میں ہوتا ہے اپنوں میں بھلا کیا سوچنا عتیق تمہارا اپنا خون ہے تم اسے بچپن سے جانتے ہو تو۔۔۔ جی بالکل ابا اسے بچپن سے جانتے ہیں اسی لئے یہ بھی جانتے ہیں کہ آپکے ہونہار بیٹے کے لئے انکی نالائق بیٹی کا کوئی جوڑ نہیں بنتا آپ نے ہمارے لئے اتنا سوچا آپکا بہت بہت شکریہ لیکن ہماری طرف سے نہ ہے۔۔۔ لحاظہ آپ اپنے لائق فائق سپوٹ کے لئے کہیں اور رشتہ دیکھ سکتی ہیں۔۔۔گڑیا نے صحن میں آتے ہی بنا ادب لحاظ رکھے طیش میں انکی بات کاٹتے کہا تو رقیہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی۔۔۔ دل تو چاہا کہ لمحوں میں اس منہ پھٹ چنڈال کو اسکی اوقات دیکھا دے مگر وہ ابھی جذباتیت میں آ کر کوئی کام خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے ضبط سے غصہ پی گی۔۔۔ ایک دفعہ یہ شادی ہو جاتی تو وہ دھنکے کی چوٹ پر اسکے سبھی کس بل نکال لیتی۔۔۔ کنواری لڑکیاں اس معاملے میں بولتی اچھی نہیں لگتی۔۔۔ تم دونوں اس بارے میں اطمیئنان سے سوچ لو میں صبح پھر آوں گی۔۔۔ رقیہ شہد آگیں لہجے میں پہلے گڑیا اور پھر ان دونوں سے کہتی باہر کو بڑھی۔۔۔ اس معاملے میں آپکو صبح تو کیا کبھی بھی آنے کی ضرورت نہیں۔۔ اسے باہر جاتے دیکھ گڑیا نے چلا کر کہا۔۔۔ رقیہ اسکی بکواس پر سر جھٹکتی دہلیز پار کر گئ کیونکہ جانتی تھی کہ اگر وہ وہاں رکتی تو ضرور کام خراب ہو جاتا اور ابھی وہ کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ بدزبان بد لحاظ تیری اتنی جرات کہ تو باپ کے ہوتے منہ بھر کے جواب دے۔۔۔ رقیہ کے گھر سے نکلتے ہی فاطمہ نے طیش سے اسکی جانب بڑھتے اسکے چہرے پر پوری قوت سے تماچہ دے مارا تھا۔۔۔ گڑیا لڑکھڑا کر پھٹی پھٹی نگاہوں سے ماں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ اور ماریں مجھے امی۔۔۔ جان سے مار دیں چاہیں تو زندہ درگو کر دیں مگر اتنا ظلم مت کریں مجھ پر۔۔۔ مجھے بے حسوں کے گھر نا دیں۔۔۔ لمحے میں اسکا سکتا ٹوٹا تھا اور وہ ڈھاریں مار مار کر روتی پھٹ پڑی تھی۔۔۔ ابا۔۔۔ میں آپکی گڑیا ہوں۔۔ آپکی بیٹی۔۔۔ آپکی شہزادی۔۔۔ وہ ماں کو چھوڑ چارپائی پر بیٹھے بے بسی سے سر ہاتھوں میں تھامے باپ کے قدموں میں ڈھیر ہوتی انکے دونوں ہاتھ تھامتی التجائیہ گویا ہوئی۔۔۔ جب جہاں جس سے چاہیں نکاح پڑھوا دیں میں منہ سے ایک حرف تک نہیں نکالوں گی مگر مجھے نا قدروں کے گھر بھیجنے کا سوچیے گا بھی مت۔۔۔ بیٹتی یا بیٹا پیدا کرنا ہم انسابوں کے بس کا کام نہیں مگر یقینا کل کو بیٹی پیدا کرنے پر آپ میرا آسیہ جیسا حال ہوتے نہیں دیکھ سکیں گے۔۔۔ اور امی۔۔۔ وہ اپنے آنسو رگڑ رگڑ کر صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوتی ساکت کھڑی ماں کی جانب بڑھی۔۔۔ آپ اسے بے غیرتی کہیں بد لحاظی کہیں بد زبانی کہیں یا منہ پھٹ ہونا مگر مجھے اپنا ہمسفر بالکل اپنے باپ جیسا چاہیے۔۔۔۔ جو بیٹیوں کو زحمت نہیں بلکہ رحمت مانے۔۔۔ جسکی بیٹیاں باپ کی شہزادیاں ہوں۔۔۔ جو خود زمانے کی ہر سرد و گرم خود پر سہتے اپنی بیٹیوں کو اپنے سائے تلے ہر آفت و مصیبت سے محفوظ رکھے وہ ایک دفعہ پھر بھل بھل بہتے آنسو پر بند باندھے بنا بہتی آنکھوں سمت کہتی اندر کو بھاگی۔۔۔ فاطمہ بیٹی کی باتیں سنتی ساکت سی وہیں بچھی چارپائی پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔ وہ خود بھی کبھی اپنی گڑیا بے قدروں میں دینے کا سوچتی بھی نا۔۔۔ آسیہ والا واقعہ اسے بھی خون کے آنسو رلا گیا تھا مگر گڑیا کا شدید رد عمل اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔ *****
Complete novel available in DOWNLOAD LINK
