Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 11)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

گڑیا کی آٹھویں کلاس کا رزلٹ آیا تھا۔۔ اسنے پورے سکول میں ٹاپ کیا تھا خبر ایسی تھی جس نے گھر بھر میں خوشی کی لہر ڈورا دی۔۔۔ ابا نے بالخصوص اسے پانچ سو انعام دیئے تھے وہ کتنی ہی دیر نم آنکھوں سے اس نوٹ کو دیکھتی رہی یہ نوٹ اسکے لئے دنیا کی ہر چیز سے اہم تھا۔ زنیرا نے جھٹ سے دیسی گھی میں حلوا بنا ڈالا تھا۔۔۔ وہ وہی حلوہ لیئے زینب بی بی کے پاس چلی آئی۔۔۔

تمہیں بہت بہت مبارک ہو میری بچی۔۔ تم نے تو دل خوش کر دیا میرا۔۔۔ اللہ تمہیں زندگی کے ہر میدان میں کامیاب کرے ۔۔۔ زینب بی بی نے اس مومی گڑیا کے ماتھے کا بوسہ لیتے صدق دل سے دعا دی۔۔۔

بیٹا یہ علم ہی ہوتا ہے جو انسان کو اشراف المخلوقات بناتا ہے انسان کو فرشتوں پر برتری دیتا ہے۔۔۔ اللہ نے حضرت آدم کی بنیاد رکھی تو سب سے پہلے انہیں علم ہی سیکھایا وقت کچھ آگے گزرا تو حضرت محمدؐ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ علم حاصل کرنے کی ہی تھی۔۔۔ اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں تمہاری ماوں کے پیٹوں سے بالکل کورے دماغ کیساتھ جنا ہے۔۔۔ تمہیں دو آنکھیں دو ہاتھ دو پاوں اور دیگر نعمتیں عطا کی تاکہ تم اپنے جسم اپنے دماغ اور اپنی عقل سے اس دنیا میں مثالیں قائم کر سکو۔۔۔ تاریخ رقم کر سکو۔۔۔ بیٹا یہ علم کی طاقت ہی ہے جو کسی ایک انسان کو باقی سبھی انسانوں پر فوقیت دیتی ہے۔۔۔ ہر انسان کورے دماغ سمیت ہی اس دنیا میں آتا ہے وہ جو جتنا علم حاصل کرتا ہے جو سیکھتا ہے اسی دنیا سے سیکھتا ہے یہ علم ہی ہے جو اچھے اور برے کی تمیز بتاتا ہے۔۔۔ صحیح اور غلط کا فرق بتاتا ہے بنا علم حاصل کئے بھلا کوئی کیسے حق اور باطل میں فرق کر سکتا ہے۔۔۔

یہ علم کا فقدان ہی ہے جو آج بیٹی کو رحمت کی بجائے زحمت سمجھا جاتا ہے یہ علم کی کمی ہی ہے جو بیٹی کی پیدائش پہ باقاعدہ سوگ منایا جاتا ہے۔۔۔ بیٹا یہ علم ہی خودشناسی کے مراحل طے کرواتا ہے یہ علم ہی خدا کی معارفت حاصل کرواتا ہے۔۔۔ جس راہ پر اب تو چل نکلی ہے نا کبھی یہاں سے قدم واپس موڑنے کا نا سوچنا۔۔۔ کسی ایک انسان کی بدولت نسلیں سنور جاتی ہیں۔۔۔ میں رہوں نا رہوں ہمیشہ یاد رکھنا تو کسی سے کم نہیں۔۔۔ تیرے پاس وہ طاقت ہے جسکی بدولت تو ستاروں پر کمنڈ ڈال سکتی ہے۔۔۔ تیرے پاس تیرے رب کی طاقت ہے۔۔۔ ہمیشہ اپنے رب پر یقین کامل رکھنا یہ یاد رکھنا کہ کوئی تیرے ساتھ کھڑا ہو یا نا ہوں تیرا اللہ ہمیشہ تیرے ساتھ کھڑا ہے۔۔۔ ہمیشہ اسے راضی کرنے کے جتن کرتی رہنا ۔۔ بزرگوں کی دعائیں لینا۔۔۔ اپنے کام میں اپنا سو فیصد دینا اور ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ تو وہ ہے جس نے نسلوں کی قسمت سنوارنی ہے لوگوں کے غلط نقطہ نظر کو بدلنا ہے۔۔۔ ثابت کرنا ہے کہ ایک بیٹی بھی باپ کے لئے باعث فخر ہوسکتی ہے۔۔۔ اگر زندگی کے کسی میدان میں تیرے قدم تھرکنے لگیں جوانی کا جوش سر چڑھ کر بولنے لگے تو بس ایک بار پیچھے مڑ کر بوڑھے بے بس باپ کی نم آنکھوں اور جھکی کمر کی جانب دیکھ لینا تو کبھی اپنے مقصد سے نہیں ہٹ سکے گئ۔۔۔ شیرنی ہے تو شیرنی گڑیا۔۔۔ شیر کی مانند اپنے راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو چیر کر رکھ دینا جیسا بھی وقت آئے کبھی ہمت نا ہارنا۔۔ زینب بی بی کی باتیں ہمیشہ کی طرح آج بھی اسکے حوصلے بلند کر رہی تھی اسکے عزائم میں پختگی لا رہی تھی۔۔۔ آج واقعی اسے زینب بی بی کی حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی کیونکہ سالوں بعد وہ آج اپنے گاوں کی ایک پختہ رسم کو توڑنے جا رہی تھی۔۔۔ پانی میں کنکر پڑنا تھا تو شور بھی ہونا تھا اور چھینٹے بھی گرنے تھے وہ دل کڑا کرتی واپسی کے راستے ہر گامزن تھی بلاشبہ یہ سفر کھٹن تھا اسے پہلا مرحلہ سر کرنا ہے کسی پہاڑ کی چوٹی سر کرنے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ مگر پہلے ہی مرحلے پر وہ تھک کر ہار مان کر بیٹھ نہیں سکتی تھی اسے آخری حد تک کوشیش کرنی تھی۔۔۔

*****

رضا نے ان چند دنوں میں حور کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا تو اسے اصول و ضوابط نظم و ضبط اور وقت کا بے حد پابند پایا ۔۔۔ اسکی انہی عادات کے باعث کامنز تو کامنز بلکہ انسٹرکٹرز تک اس سے خوش نظر آتے تھے۔۔۔ وہ انسٹرکٹرز کے تو کیا اپنے خود کے بنائے اصولوں پر بھی سمجھوتا کرنے کو تیار نا تھی۔۔۔ وہ ہر دم متحرک رہتی تھی ہر وقت کسی نا کسی کام میں مصروف ٹرینینگ کے اوقات کے بعد بھی وہ اکثرو پیشتر مصروف ہی ہوتی۔۔۔

ویک اینڈ پر جہاں سبھی کامنز اپنی روٹین کو چھوڑتے لمبی پرسکون نیند لیتے تھے وہیں حور اس دن بھی اپنی بنائی روٹین سے ہٹنے کو تیار نا تھی۔۔۔ آج بھی ویک اینڈ تھا جب حور ٹریک پر واک کرتی اپنا چکر مکمل کرتی آرہی تھی۔۔۔ رضا نے دور سے ہی ڈور کر ٹریک پر چکر مکمل کرتے اسے دیکھ لیا تھا وہ اسکی مخالف سمت سے آ رہا تھا۔۔۔ پہلے تو نہیں مگر بیماری سے اٹھنے کے بعد سے رضا نے صبح کی جاگنگ کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تھا۔۔۔ رفتہ رفتہ فاصلہ سمٹتا جا رہا تھا حتی کہ حور اسکے بالکل سامنے بہت قریب آ گئ تھی۔۔۔

ہیلو ۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔ اسکے قریب جاتے رضا نے رک کر اس سے دریافت کیا اور رخ بدلتا خود بھی اب اسکے ساتھ ہی واک کرنے لگا۔۔۔

بالکل فٹ۔۔۔ وہ بشاشت سے مختصراً گویا ہوئی۔۔۔ رضا کو یہ وقت اپنی بات کہنے کے کئے کسی نعمت معترکبہ سے کم نا لگا کیونکہ ویک اینڈ کے باعث اکا دکا لوگ ہی وہاں تھے نیز عام حالات میں وہ ویسے بھی اتنی مصروف ہوتی تھی کہ اسے یوں بالخصوص کوئی بات کرنے کے لئے اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔۔۔

مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے حور۔۔۔۔ اسکے ہم قدم چلتا وہ قدرے سوچتا ہوا گویا ہوا۔۔

سن رہی ہوں ۔۔۔۔ حور اپنا چکر مکمل کر کے وہیں پاس ہی نصب بینچ کی جانب بڑھی تو رضا نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔ آف وائٹ چوری پاجامہ پر آف وائٹ ہی آنچل سینے پر پھیلائے وہ اسے اس وقت نہایت پاکیزگی کا احساس دلا گئ۔۔۔

حور۔۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں پلیز کیا تم میرا پرپوزل ایکسیپٹ کرو گی۔۔۔ حور سے اس اظہار کے حوالے سے پچھلے ایک ہفتے میں اسنے جتنی جوڑ توڑ کی تھی۔۔ جتنے جملے اکھٹے کیے تھے سبھی دلائل اور وضاحتیں سب اس ایک لمحے میں اس لڑکی کے سامنے پانی پر بلبے ثابت ہوتے ختم ہوگئے تھے اور وہ یہ دو لائینیں بولنے کے بعد اب خود بھی کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ اسنے نہایت بودے انداز میں حور کو پرپوز کیا ہے۔۔۔۔

کچھ دیر کے توقف کے بعد فضا میں گھونجتے حور کے نقری قہقے نے اسے سوچوں کے بھنور سے کھینچا تھا۔۔۔ نہایت بودا مذاق ہے یہ وہ مسکرا کر کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ یہ مذاق نہیں ہے۔۔۔ محبت کرتا ہوں تم سے ۔۔ ڈیم۔۔ کیوں یقین نہیں کر لیتی تم میری محبت کا۔۔۔ اس سے پہلے وہ وہاں سے جاتی رضا نے اسے اسکے دونوں کندھوں سے تھامتے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔

مسٹر رضا اپنی اوقات میں رہو۔ ۔۔ تم میری معمولی علیک سلیک کا نہایت غلط مطلب اخذ کر چکے ہو۔۔۔ خوشگمانیوں کے بھنور سے نکل آو۔۔۔ اگر تم اس دنیا کے آخری شخص بھی ہوئے نا تو تب بھی حور کا انتخاب نہیں ہوگے۔۔۔ حور اسکے ہاتھ جھٹکتی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔

نہیں حور خدارا میرے ساتھ ایسا مت کرو۔۔۔ میرے جذبات بالکل سچے اور کھرے ہیں کم از کم اس معاملے میں تم مجھے ہمیشہ مخلص پاو گئ۔۔۔ میں تمہیں کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا۔۔۔ خدارا مجھ پر رحم کرو۔۔۔ وہ شخص اسکے اتنے سخت رد عمل پر اسکے سامنے سسک اٹھا تھا جبکہ حور بنا اسکی پرواہ کئے اسے پیچھے ہٹاتی تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چلے گئ تھی۔۔۔ اسکا دل ابھی تک بری طرح سے ڈھرک رہا تھا۔۔۔ وہ رضا سے ایسی حرکت کی توقع نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ رضا اسکے بارے میں ایسے کوئی جذبات رکھتا ہوگا درحقیقت وہ ابھی تک شش و پنج میں مبتلا تھی اسے سرے سے رضا کی کسی بات کا اعتبار ہی نا تھا۔

*****

احمر سے شمائل کی ملاقات کے نتائج خاصے مثبت رہے تھے۔ ۔۔ اس سے احمر نے ابتدائی چند ضروری سوالات پوچھنے کے بعد اس کی ذہانت اور اس فیلڈ میں دلچسپی دیکھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے دی تھی ۔۔۔ اس کے بعد وہ اگلے ایک گھنٹے تک احمر شیخ کے ساتھ کمپیوٹر لیب میں بیٹھی اس کے پراجیکٹس پر کام کرنے کے حوالے سے ضروری ہدایات لیتی اپنے اگلے دن کی اسائنمنٹ لے کر وہاں سے اٹھی تھی ۔۔۔ آج کا دن یقیناً اس کے لئے بے حد مصروفیت بھرا تھا جس میں اس کا ایک دو بار نوفل درانی سے ٹکراؤ تو ہوا لیکن وہ نظریں پھیرتی راستہ بدل کر وہاں سے نکل گئی کیونکہ اس کا آج کا شیڈول اتنا مصروفیات بھرا تھا کہ اس میں وہ کسی بھی فضول چیز میں وقت ضائع نہیں کر سکتی تھی اپنی جلد بازی میں وہ نوفل درانی کی آنکھوں کی وہ مخصوص چمک دیکھ ہی نا پائی تھی جو شکاری کی آنکھوں میں چڑیا کو جال میں پھنستے دیکھ در آتی تھی ۔۔۔

پے در پے اگلی دو کلاسیز اٹینڈ کرنے کے بعد وہ عفیفہ کے ساتھ اس کے والد صاحب کے ہسپتال گئی تھی جہاں پر اسے عفیفہ کی بدولت وی آئی پی پروٹوکول ملا تھا عفیفہ اس کا تعارف وہاں موجود سبھی سپیشلسٹ ڈاکٹرز سے کروا کر اور انہیں اس کی آمد کا مقصد بتا کر خود وہاں سے چلی گئی تھی اس کے بعد وہ شام تک وہی مختلف ڈاکٹرز سے اپنی ریسرچ کے بارے میں ڈسکس کرتی ان سے مختلف بیماریوں کی مختلف نوعیت پر مریض کی مختلف فیز کی ریپورٹ حاصل کرتی رہی تھی ۔۔۔ وہاں سے اسے ایک بھاری مقدار میں ڈیٹا حاصل ہوا تھا لیکن پچھلے دس سالوں کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے اسے مزید وقت درکار تھا اب تک کا حاصل ہونے والا سبھی ڈیٹا اس نے ایک یو ایس بی میں سیو کیا اور ڈاکٹرز سے پھر کل آنے کا کہتی اپنی رسٹ واچ میں وقت دیکھتی ہسپتال سے باہر نکلی کیونکہ اسے آج شام میں اکیڈمی انٹرویو دینے کے لئے جانا تھا اور وہ وہاں جانے کے کئے مزید دیر نہیں کرسکتی تھی۔۔۔

ساری رات کی بے آرامی اور صبح سے پے در پے کام کرنے کے باعث اب وہ بے طرح سے تھکان کا شکار ہو رہی تھی جب اسے یک دم یاد آیا کہ آج کام کے چکر میں وہ اپنا لنچ گول کر گئی ہے ۔۔۔ اس نے وہیں ہسپتال کی کینٹین سے چائے کے ساتھ سینڈوچیز کھائے اور دوبارہ سے اٹھ کر اکیڈمی کی جانب رواں ہوئی ۔۔ یہ جانے بنا کے آگیا کونسا حادثہ اس کا منتظر کھڑا ہے ۔

*******

اس لڑکی کی ہر کل ہی نرالی ہوتی ہے میں بہت خوش ہو رہی تھی کہ اتنے دنوں سے اس نے اپنی پرانی روش چھوڑ رکھی ہے مگر نہیں وہ خاموشی خاموشی نہیں تھی درحقیقت وہ خاموشی اس لڑکی کے اٹھائے جانے والے طوفان کے آنے سے پہلے کا سناٹا تھا ۔۔۔۔ فاطمہ کا بس نہ چل رہا تھا کہ بیٹی کی خود سری دیکھتے اسے دو لگا ہی دیتی ۔۔۔

ان کے گاؤں میں محض مڈل تک ہی ایک سرکاری سکول تھا اور وہاں پر مڈل تک ہی لڑکیوں کو تعلیم دلوانا بہت بری بات تھی۔ ۔۔ لیکن اپنی بیٹیوں کی تعلیم میں دلچسپی دیکھتے ہوے آفتاب نے انہیں پرائیویٹ آگے تعلیم دلوائی تھی ۔۔۔ جب کہ اب گڑیا کی کل ہی نرالی تھی وہ آگے ریگولر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی تھی جب کہ آگے کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے سیکنڈری سکول اگلے گاؤں میں تھا اور وہاں تک کا فاصلہ دو میل بنتا تھا تو ایسے میں ایک ایسی جگہ جہاں پر لڑکیوں کو تعلیم دلوانا ہی نہایت معیوب سمجھا جاتا تھا وہاں پر اپنے گھر سے دو میل کا کا فاصلہ طے کر کے اگلے گاوں روزانہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے جانا ایک ناممکن سا امر تھا۔ ۔۔

مگر یہاں پر گڑیا نے اپنی ہٹ ڈھرمی کے سبھی ریکارڈ توڑ ڈالے تھے مسلسل اپنی بات کی نفی ہوتے دیکھ اپنی بات منوانے کو وہ کل سے بھوک ہڑتال پر تھی جبکہ فاطمہ ایسے ہیں اٹھتے بیٹھتے بار بار اس کی شان میں قصیدے پڑھ رہی تھی جسے وہ کان بند کئے سن رہی تھی۔۔۔

اسے باپ کے سفید ہوتے بالوں کی بھی لاج نہیں ہے دنیا پہلے ہی بہت باتیں کرتی ہے مزید تمہارے اس قدم سے ان کی زبانوں کے آگے بند باندھنا ناممکن ہو جائے گا۔ ۔۔

ماں آپ جو بھی کہہ لیں لیکن میرا فیصلہ اٹل ہے۔۔۔ تعلیم حاصل کرنا میرا بنیادی حق ہے اور آپ مجھے میرے اس بنیادی حق سے محروم نہیں کر سکتی ۔۔۔ آج بہت دنوں کے بعد وہ پھر سے اپنے حق کی خاطر ماں کے مدمقابل آئی تھی ۔۔۔ نہیں تو کیا تمہاری بہنیں تعلیم حاصل نہیں کر رہی گھر بیٹھ کے وہ بھی پڑھ لکھ رہی ہیں تجھے ایسے پڑھتے ہوئے کیا موت پڑتی ہے ۔۔۔ فاطمہ ہاتھ میں پکڑا پانی کا جگ پاس ہی بنے چبوترے پر پٹختی غصے سے گویا ہوئی۔۔

میرے خواب بہت بلند ہیں ماں اس لحاظ سے میرا معیار بھی بلند ہے ۔۔۔۔

ہاں تو نے بھی جو دو میل کی مسافت طے کر کے جھنڈے گاڑ لینے ہیں ۔۔۔اس سے پہلے کہ گڑیا اپنی بات کی وضاحت میں مزید دلائل دیتی فاطمہ نے غصے سے اس کی بات کاٹی ۔۔۔

کیا پتا جھنڈے گاڑ ہی ڈالوں ماں۔ ۔۔ مخالفت اگر لوگ کریں نا تو دل کو صبر آ ہی جاتا ہے لیکن یہاں تو پہلی مخالفت ہی میرے گھر سے میری ماں کی جانب سے شروع ہوئی ہے میں کیسے توقع کروں کہ میں کامیاب ہو جاؤ گی۔۔۔۔ ماں آپ کو تو مجھے اپنی دعاؤں سے نوازنا چاہیے کہ جا بدبختے خدا تجھے کامیاب کرے مگر یہاں تو آپ ہی سب سے پہلے میری مخالفت مول لیے کھڑی ہیں۔۔۔۔ بس اس کا صبر اس کی ہمت یہیں تک تھی ماں کی مسلسل نہ سے وہ چہکوں پہکوں رونے لگی تھی جبکہ اسے یوں آنسو بہاتے دیکھ فاطمہ کا اپنا دل پسیج گیا تھا وہ اب اپنے ہاتھوں کی پشت سے آنسو رگڑ رگڑ کر صاف کرتی پیر پٹختی کمرا نشیں ہو گئی تھی جبکہ فاطمہ اس کے ردعمل سے ابھی تک ساکت کھڑی تھی ایک بے بسی بھرا آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹا تھا۔ ۔۔

جا نیک بختے خدا تجھے زندگی کے ہر مقام پر کامیاب کرے تو جس چیز کو ہاتھ لگائے خدا اسے سونا بنا دے ایسی تاثیر تیرے ہاتھ کو عطا کرے رب سونا۔ ۔۔ فاطمہ خاموش آنسو بہاتی اسکے کمرے کی جانب دیکھتی صدق دل سے دعا گو ہوئی۔

*****