Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 20)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
کیا تم عزت کی زندگی ہے جینا چاہتی ہو۔۔۔ان دونوں کو ریسٹورنٹ آئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب شمائل نے کافی کا گھونٹ بھرتے پری زاد سے پوچھا ۔۔۔
عزت کی زندگی مجھ جیسی لڑکیوں کے لئے نہیں ہوتی پیاری ۔۔۔۔پری زاد نے طنزیہ ہنسی ہستے اسے یوں دیکھا جیسے کوئی چھوٹے بچے کو اسکے معصومانہ سوال پر دیکھتا ہے۔۔۔۔
کوشش کرنے میں کیا حرج ہے ۔۔۔ بہتر سے بہتریں کی کوشیش کرتے رہنا چاہیے کیا پتہ خوش قسمتی آپکے درواٙزے پر دستک دے دے۔۔۔۔
کیا مطلب شمائل کے پر اسرار انداز پر وہ الجھی۔۔۔
مطلب میں سمجھاتی ہوں۔۔۔مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے اگر تم میری مدد کرنا چاہو تو اس میں پچاس فیصد چانسسز ہیں کہ اس کے بعد تم ایک عزت درانہ زندگی گزار سکو گی ۔۔۔ شمائل نے اسے آہستہ آہستہ اپنا سارا منصوبہ سمجھایا جسے سن کر پری زاد کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری جو شمائل کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں رہ پائی تھی۔۔۔ پلان تو تمہارا بہت جاندار ہے اور پچاس فیصد نہیں اس میں اسی فیصد چانس ہے میری آگے کی زندگی عزت سے گزرنے کا۔۔۔ باقی کے بیس فیصد کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہیں پلان ناکام بھی ہو گیا تو بھی کوئی فکر نہیں ایک بد نام زندگی تو پھر میں پہلے بھی گزار ہی رہی ہوں تو پھر کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔ تو تمہاری مدد بھی کر کے دیکھ ہی لی جائے کیا پتا تمہاری مدد کے صدقے ہی اللہ میرے لیے کوئی روشن در کھول دے۔۔۔ شمائل کا پلان سن کر وہ بہت پر جوش ہو چکی تھی آخر اس فیلڈ میں رہتے یہ پلان کبھی اسے کیوں نہیں سوجا تھا۔ ۔۔۔
لیکن خیال رکھنا پری وہ لوگ بہت خطرناک ہیں اگر انہیں ہمارے پلان کی بھنک بھی پڑ گئی تو وہ تمہارا قتل کروانے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔۔۔ شمائل نے اسے سکے کا دوسرا پہلو بھی دکھانا چاہا ۔۔۔ اس چیز کی تم فکر نہ کرو پیاری۔۔۔ پری نے بھی گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے ایسے الو کی دم کو سیدھا کرنا میں اچھے سے جانتی ہوں اور رہ گئی بات پلان پر عملدرآمد ہونے کی تو اس کے لئے میں دیر کی کائل نہیں جتنا جاندار پلان ہے میں آج ہی اس پر عمل درآمد ہونا چاہوں گی۔۔۔
لیکن تمہیں بھی اتنا ریلیکس پھرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا ان لوگوں کے بیک گراؤنڈ کے بارے میں تم مجھے بتا چکی ہو۔۔۔ ان سے کچھ بعید نہیں کے ابھی تک وہ تمہاری زمانت کینسل کروا بھی چکے ہوں۔۔۔ اور تم لا علمی میں ہی ماری جاو۔۔۔ میری مانو تو کچھ دیر کے لیے ہاسٹل سے چھٹی لے کر یا تو واپس اپنے گھر چلی جاؤ یا پھر میرے ہی فلیٹ میں شفٹ ہو جاؤ کچھ دیر کے لئے روپوش ہو جاؤ جیسے ہی یہ مسئلہ حل ہوگا پھر سے منظر عام پر آ جانا ۔۔۔ اگر شمائل نے اسے سکے کا دوسرا رخ دکھانا چاہتا تھا تو پری نے بھی جھٹ سے قرض اتارتے اس کے سامنے ایک نئی صورت حال رکھی تھی جسے سنتی وہ کئی لمحوں کے لیے ساکت رہ گئی تھی واقعی اس بارے میں تو اس کے دماغ نے کام ہی نہیں کیا تھا وہ ان لوگوں سے کسی بھی قسم کی گراوٹ کی توقع کر سکتی تھی اب ۔۔۔ وہ واقعی ایسا کر سکتے تھے۔۔۔
سب سے پہلے مجھے ان کی نشاندہی کرواؤ پھر میں تمہارا یہ مسئلہ حل کرنے کے بارے میں بھی کچھ سوچتی ہوں پری کے کہنے پر شمائل نے اپنے موبائل سے عدنان اور نوفل درانی کی تصویریں نکال کر پری کو دونوں کی پہچان کروائی۔۔۔ لڑکے تو دونوں ہی ڈیشنگ ہیں۔۔۔
صورت مومنہ اور کرتوت کافراں کے مثال انہیں پر صادق آتی ہے پری کا تبصرہ سن کر شمائل جل کر گویا ہوئی ۔۔۔
********
کیا بکواس کر رہے ہو تم عتیق تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ۔۔۔اس لڑکی کی زبان دو گز لمبی ہے۔۔۔ اور تمہیں لگتا ہے کہ میں آسیہ کے بعد اس گڑیا کو اپنے گھر کی بہو بناؤ گی۔۔۔ بیٹے کی بات سن کر رقیہ کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا عتیق اس وقت ماں کے کمرے میں ہی موجود انہیں گڑیا کے لیے اپنا رشتہ لے جانے کے لیے قائل کر رہا تھا جب وہ ہتھے سے اکھرتی بیڈ سے ہی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔
آج کل اس کا دماغ ویسے ہی بہت گرم رہتا تھا کیونکہ زنیرہ کے ہاں ایک گول مٹول سے بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جس پر فاطمہ کے ساتھ ساتھ گڑیااور عمیرا بھی بہت خوش تھیں ان کے گھر میں اتنے عرصے بعد آنے والا وہ پہلا بچہ تھا اس لئے انکی خوشی دیدنی تھی۔۔۔ رقیہ اس بات پر دل مسوس گئی تھی کیونکہ وہ دل ہی دل میں۔زنیرا کے ہاں بھی اسکی ماں کی طرح پے در پے بیٹیوں کی ہی پیدائش کی آس لگائے بیٹھی تھی۔۔۔ جہاں اس معاملے میں وہ پہلے ہی فاطمہ کی بیٹیوں کی قسمتیں دیکھتی حسد میں مبتلا تھی وہاں شمشیر کے ہاں پیدا ہوتی جڑواں بیٹیوں نے باقی ماندا کسر بھی پوری کر دی تھی جس کے بعد سے وہ اب اٹھتے بیٹھتے آسیہ کو کوسنے اور بد دعائیں دینے لگی تھی لیکن ان سب اعصاب شکن واقعات کے بعد آج عتیق کا مطالبہ اسے سیخ پا کر گیا تھا ۔۔۔
تو واقعی پاگل ہوگیا عتیق۔۔۔۔
اتنا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ماں ایک دفعہ بیٹھ کر میری ٹھنڈے دماغ سے بات سن لے پھر باقی کا فیصلہ تیرا خود کا ہوگا ۔۔۔عتیق نے ماں کا ہاتھ تھام کر اسے واپس پلنگ پر بیٹھایا۔۔۔۔ شمشیر جوئے میں ابا کی ساری زمین ہار چکا ہے یہ گھر تک ہم گروی رکھ چکے ہیں یہ بات تو اچھے سے جانتی ہے ۔۔۔
میں مولوی سے ساری تفصیل پوچھ کر آ رہا ہوں اس کے مطابق اسلام میں بیٹے کے جائیداد میں دو حصے ہوتے ہیں جبکہ بیٹی کا ایک حصہ ہوتا ہے اس کے کام کی بات بتانے پر رقیہ ماتھے کے بل کچھ ڈھیلے کرتی سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔ مطلب یہ کہ چاچا کا کوئی بیٹا نہیں ہے اس کی بیٹیوں کے نام چچا کی آدھی جائیداد جائے گی جبکہ اس کی آدھی جائیداد واپس اس کے بھتیجوں یعنی کے ہم تینوں بھائیوں کے پاس واپس آئے گئ۔۔۔ تو سمجھ رہی ہے نہ میری بات۔۔۔ مطلب زنیرا اور عمیرا تو اپنے اپنے گھروں میں سیٹ ہو گئی وہ اب شادی کے بعد کہاں شہر سے واپس آ کر چاچا کی ذرا سی جائیداد میں حصہ دار بنیں گی۔۔۔
رہ گئی گڑیا جو سب سے زیادہ باغی اور منہ پھٹ ہے۔۔۔ اگر اسکی شادی مجھ سے ہو جاتی ہے تو ہم چچا کی ساری جائیداد کے بلا شرکت غیرے مالک ہوں گے۔۔۔ اور رہ گئ بات اس کے باغی پن اور زبان درازی کی تو شادی کے بعد اس کی زبان کاٹ کر نا رکھ دی تو کہنا کہ میرا نام عتیق نہیں۔۔۔
عتیق کے ساری بات رقیہ کو اچھے سے سمجھانے پر رقیہ گہرا سانس بھرتی مستقبل کے بارے میں جوڑ توڑ کرنے لگی تھی ۔۔۔عتیق کی باتیں اتنی بھی غلط نہ تھی اگر اس ایک لڑکی کو اپنی بہو بنانے سے آفتاب کی ساری جائیداد اس کے بیٹوں کو ملتی ہے تو اس کے لئے وہ یہ کڑوا گھونٹ پینے کو تیار تھی اور پھر جب اس کا بیٹا ہی اپنے ہاتھ کا تھا تو اسے گڑیا سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہ تھی اب تو شمشیر بھی بیٹیوں کی پیدائش کے بعد اس کے ہاتھ میں آنے لگا تھا جو اس کے ساتھ مل کر اب اٹھتے بیٹھتے بیوی کو بیٹیوں کی پیدائش کے باعث گالیاں بکنے لگا تھا ۔۔۔ ماں کی بدولت وہ بیٹیوں کے باپ ہونے کا قلق اپنے ماتھے پر نہیں سجا سکتا تھا وہ بے غیرت نہیں تھا جو مرد ہو کر بھری جوانی میں جب اسکے پاس اور بہت سے انتخاب تھے ایسے میں بیٹیوں کا باپ کہلاتا اور اوپر سے ماں کی ایک سے بڑھ کر ایک کنواری لڑکی سے دوسری شادی کروانے کی شہہ۔۔۔ رقیہ کو امید تھی کہ اسی رفتار سے مزید ایک ہفتہ وہ اگر اسکی برین واشنگ کرتی رہی تو وہ دن دور نہیں تھا جب وہ آسیہ کو اس کی بیٹیوں سمیت تین کاغذ اسکے ہاتھ میں تھما کر اپنے گھر سے نکال باہر کرتا ۔۔۔۔ آخر وہ مرد کا بچہ تھا اور خود بھرپور مرد تھا۔۔۔
******
خوشخبری ہے تمہارے لیے نوافل اس لڑکی کی ضمانت کینسل ہو گئی ہے اب بتاؤ آگے کیا کرنا ہے اگلے دن ٹھیک نو بجے عدنان نے نوفل درانی کو فون کرکے یہ خوشخبری سنائی تھی۔۔۔۔
نوفل درانی نے ابھی یونیورسٹی کی پارکنگ میں گاڑی روکی ہی تھی جب یہ خبر سنتے ہی اس کے چہرے پر ایک الوہی چمک در آئی اور وہ بعجلت گاڑی کا دروازہ کھولتا باہر نکلا۔۔۔ ایک منٹ فون ہولڈ کرو میں ذرا ابھی اس لڑکی کی یونیوڑسٹی میں موجودگی کو یقینی بنا لوں۔۔۔ پھر تمہیں بتاتا ہوں اور تم سگنل ملتے ہی وہاں سے پولیس کو روانہ کر دینا آج تو یونیورسٹی میں لگنے والا ڈرامہ پوری یونیورسٹی لائیو دیکھے گی اس شمائل حسن کی تو ایسی کی تیسی۔۔۔ نوفل درانی یوں دانت پیسے گویا ہوا جیسے دانتوں کے نیچے شمائل کی گردن ہو اس کے قدموں میں گویا بجلی بھر آئی تھی ۔۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا کبھی لان کبھی لابی کاریڈور اور اسکی کلاسز میں دیکھتا شمائل حسن کی موجودگی کو یونیورسٹی میں یقینی بنانا چاہ رہا تھا ۔۔بالآخر دس منٹ تک خواری کرنے کے بعد وہ اسے یونیورسٹی کی پچھلی جانب بنی کلاسز کے سامنے کھڑی نظر آگئ تھی اس کے چہرے پر ایک مکروہ مگر دلکش مسکراہٹ نے چھب دکھلائی تھی ۔۔۔ڈن ہوگیا عدنان ابھی پولیس کو وہاں سے نکالو اور یونیورسٹی بھیجو۔۔۔
*****
آج پھر گڑیا صحن میں سر جھکائے بیٹھی تیزی سے ہاتھ چلاتی اپنے نوٹس بنا رہی تھی۔۔۔ چہرے کے تاثرات حد درجہ پتھریلے ہو رہے تھے حتی کی ماتھے کی رگیں تک ابھر کر واضح ہو گئ تھی۔۔۔ درد کی شدت ناقابل برداشت ہوئی تو باوجود ضبط کے ایک آنسو ٹوٹ کر اسکی گال پر پھسلا۔۔۔ وجہ آج پھر سے دیوار پار سے آتی جھگڑے کی آوازیں تھیں جو اسے لمحوں میں سالوں پیچھے لے گئ تھیں۔۔۔ آج وہاں وہ تماشہ محض آس پاس کے لوگ نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ پورا گاوں وہاں ایک عورت کی بے بسی دیکھنے کو امڈا پڑا تھا۔۔۔
تو بے غیرت عورت تجھ سے شادی کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔۔۔ آخر دیا ہی کیا ہے تو نے مجھے یہ بیٹیاں۔۔ اسکی آواز میں اتنی حقارت تھی کہ گڑیا کو اپنے بدن پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوئیں۔۔۔ کوئی باپ بھلا اتنا ظالم کیسے ہو سکتا تھا۔۔ مگر وہ باپ کہاں تھا وہ تو مرد تھا ایک غیرت مند مرد۔۔ جسکی غیرت یہ تھی کہ وہ دن ڈیہاڑے بیوی اور بیٹیوں کو دھکے مار گھر سے نکال باہر کرتا۔۔۔
میں باقائم ہوش و حواس تمہیں طالاق دیتا ہوں۔۔۔ طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں۔۔۔ کل تک تمہیں کاغذات بھی پہنچ جائیں گے۔۔ اب اٹھا ان منحوس ماریوں کو اور نکل یہاں سے۔۔۔شمشیر کی آواز اسکے کان کے پردے پھاڑ دینے کے در پر تھی گڑیا کی ہمت جواب دینے لگی تھی وہ وہیں کتاب کو زوردرانہ انداز میں بند کرتی بنا جوتا پہنے اندر کو بھاگی اور کمرے کا دروازہ بند کرتی وہیں زمین پر ڈھتی بیٹیوں کی اس ناقدری پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
اب باہر سے آسیہ کی ان ماں بیٹے کو رو رو کر بد دعائیں دینے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔
اگر تم انہیں اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تو میں بھی نہیں رکھوں گی۔۔ میری بلا سے۔۔۔ جب تمہیں باپ ہو کر احساس نہیں تو مجھے بھی نہیّں۔۔۔ میں انہیں ہر گز ساتھ نہیں لے کر جاوں گی۔۔۔ وہ شمشیر کی بے عیرتی پر کھولتی چیخ اٹھی تھی۔۔۔
میں انہیں اپنی بیٹیاں ہی ماننے سے انکار کرتا ہوں ۔۔ ناجانے کس کا گند میرے سر تھوپنے کی کوشیش کر رہی ہو تم۔۔ نہیں ہیں یہ میری اولاد دفعہ ہو جاو اس گناہ کو پوٹھ کو اٹھا کر یہاں سے۔۔ اسنے محض بولنے پر اکتفا نہیں کیا تھا بلکہ آگے بڑھ کر اسے بالوں سے جھکڑے باقاعدہ جھٹکے دیتے باہر کا راستہ دکھایا تھا۔۔۔ تو غرق ہو شمشیر۔۔ خدا کا قہر نازل ہو تجھ پر۔۔۔ بے غیرت انسان خدا تیری اکڑ توڑے شمشیر۔۔۔ تجھے بڑا زعم ہے نا تیرے مرد ہونے پے۔۔۔ اللہ تیرا یہ زعم توڑے۔۔۔ وہ مسلسل اسکے ساتھ باہر کی جانب گھسیٹتی چیختی چلاتی اسے بددعائیں دے رہی تھی۔۔۔ شمشیر نے وار ہی وہاں کیا تھا کہ وہ بلبلا کر رہ گئ تھی۔۔۔ اس انسانیت سوز۔۔ اخلاق سے عاری عمل پر کچھ طمانیت جبکی کچھ نم آنکھوں سے وہاں لگے تماشے کو دیکھ رہے تھے مگر غلط کو غلط کہنے کی ہمت کسی میں نا تھی۔
****
کہاں ہو شمائل۔۔۔ شمائل کلاس کے باہر کھڑی اپنی کلاس میٹ سے بات کر رہی تھی جب اسکے فون پر پری کی کال آئی ۔۔۔
میں یونیورسٹی ہوں ۔۔ کیوں خیریت۔۔۔ شمائل اسکے باعجلت انداز پر چونکی۔۔۔ میری بات غور سے سنو شمائل۔۔۔ تمہاری ضمانت کینسل ہو گئ ہے۔۔۔ پولیس کسی بھی وقت وہاں ریڈ کے لئے پہنچ رہی ہوگی۔۔۔ جلد از جلد وہاں سے نکلو۔۔۔ پری کی بات نے حقیقتاً اسے دن میں تارے دکھا دیئے تھے۔۔ اسنے متوحش انداز میں ادھر ادھر دیکھا ۔۔ کچھ ہی فاصلے پر اسے نوفل درانی خود پر نظر رکھے کسی سے فون پر بات کرتا دکھائی دیا۔۔۔ اسے خطرے کی گھنٹیاں کہیں آس پاس بجتی سنائی دے رہی تھی۔۔۔اسنے ڈھرکتے دل کیساتھ بنا تاخیر کئے کاریڈور کی دوسری جانب بڑے بڑے ڈگ اٹھانے شروع کئے۔۔۔
اوہ شٹ ۔۔۔ میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔ اسے وہاں سے جاتا دیکھ نوفل نے فون بند کر کے جیب میں اڑسا اور انہی قدموں پر اسکے پیچھے ڈور لگا دی۔۔۔ وہ آج اسے کسی بھی صورت ہاتھ سے نکلنے نہیں دے سکتا تھا۔۔۔ اسے آج ہر صورت اسکی گرفتاری کروانی تھی۔۔۔
نوفل کو اپنے پیچھے آتے دیکھ اسنے خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے وہاں سے ڈور لگا دی۔۔۔ نوفل اسکے پیچھے ہی تھا وہ لمحے کی تاخیر کرنے کو تیار نا تھا۔۔
لگتا ہے اسے ریڈ کا معلوم ہو گیا ہے۔۔ مگر کیسے ۔ خیر جو بھی ہے آج اسکی گرفتاری پکی ہے۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑاتا مزید تیزی سے اسکے پیچھے بھاگا۔۔۔ دونوں میں چند قدموں کا فاصلہ تھا۔۔ دور سے ہی اسے پولیس کا سائرن سنائی دے گیا تھا۔۔ شمائل کو اپنی روح فنا ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔
وہ تیزی سے بھاگتی سامنے سے آتے لڑکیوں کے گروپ سے بے طرح ٹکرائی۔۔۔ تصادم کے نتیجے میں کچھ لڑکیوں کے ہاتھوں سے کاغذات نیچے گرے تھے۔۔۔ افراتفری کا عالم ہو گیا تھا۔۔۔ سوری ۔۔ سوری۔۔۔ وہ ایکسکیوز کرتی موقع کا فائدہ اٹھاتی درمیان سے جگہ بناتی کھسک کر آگے بڑھی جبکہ نوفل کو آگے جانے کے لئے کوفت سے بھیر چھٹنے کا انتظار کرنا پڑا۔۔۔
کچھ سیکنڈ کا فرق پڑا تھا مگر شمائل غائب ہو چکی تھی۔۔۔ نوفل نے سر پر ہاتھ پھیرتے چاروں جانب سے اسکے بھاگنے کے ممکنا راستے تلاشنے چاہے۔۔۔ ممکنا ایک ہی راستہ تھا لیکن محض کچھ سیکنڈز میں وہ وہاں سے غائب نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ اسکا مطلب تھا کہ وہ یہیں کہیں چھپی تھی۔۔۔ شمائل حسن آج تو تمہیں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا۔۔۔ اسکی سرد آواز ساتھ والی کلاس کے دروازے کے پیچھے چھپی شمائل کی رگوں میں دوڑتے خون تک کو منجمند کر چکی تھی۔۔۔
*****
