Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 22)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

اس چھوٹے سے فلیٹ کے لاوئنج میں دو نفوس کی موجودگی کے باوجود بھی پن ڈراپ سائلنس تھا۔۔۔ پری نے یو ایس بی لیپ ٹاپ سے کنیکٹ کر کے چند کیز دبائیں تو لیپ ٹاپ کی سکرین پر ایک منظر ابھرا ۔۔۔ شمائل ہاتھ کی مٹھی بنائے ہونٹوں ہر رکھے کہنی صوفے کی ہتھی پر ٹکائے مکمل یکسوئی اور توجہ سے ناقدانہ نگاہوں سے لیپ ٹاپ کی سکرین کو دیکھ رہی ہے۔۔۔ لیپ ٹاپ کی سکرین تاریک ہونے پر ایک بھرپور چمک اسکی نگاہوں میں ابھری۔۔۔

ویل ڈن پری۔۔۔۔ تمہیں تو ایکٹرس ہونا چاہیے تھا۔ ایکسٹرا آردنری پرفارمنس۔۔۔۔ تمہیں پتہ ہے پلان کا یہ دوسرا حصہ زیادہ تہلقہ مچائے گا۔۔۔۔۔

بس تمہارا کام اتنا ہی تھا آگے کا کام میرا۔۔۔۔ یقینا کل کا سورج انکی زندگیوں میں ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔۔۔ مگر مجھے میرے لیول سے نیچے آنے پر مجبور بھی ان گھٹیا لوگوں نے ہی کیا ہے۔۔۔

تم آرام کرو باقی میں دیکھ لوں گی۔۔۔ اسکی آواز گہری سوچ کی عکاسی کرتی سوچوں کے گہرے بھنور سے موصول ہو رہی تھی

اسکے بعد پری نے ساری رات شمائل کو ایک پل کے لئے بھی سوتے نہیں دیکھا رات بھر وہ کچھ احمر اور کچھ اپنے توسط سے مختلف لوگوں سے باتیں کرتی ان دونوں کے لئے پھندا تیار کرتی رہی تھی۔۔۔ تہجد کی نماز ادا کر کے اللہ کا نام لے کر اسنے لیپ ٹاپ پر کچھ دیر کام کرتے پلان کا اگلا حصہ پایا تکمیل تک پہنچایا۔۔۔

پری ڈئیڑ۔۔۔ بھس میں چنگاڑی چھوڑ چکی ہوں میں بس آگ لگنا باقی ہے اور اس چنگاری سے آگ کے بھرکنے تک کا میں انتظار نہیں کر سکتی۔۔۔ اب ایک مخلصانہ مشورہ تمہیں میرا یہ ہے کہ فلحال اپنا موبائل بند کر دو۔۔۔ کیونکہ اب سب سے پہلے مختلف لوگوں اور عہدیداروں کے تمہیں فون آنے والے ہیں لیکن جب تک ہمارا پلان جنگل میں لگی آگ کی طرح طول نہیں پکڑ جاتا تب تک تم کسی سے بات کر کے کسی بات پر ڈن نہیں کرو گی۔۔۔ بلخصوص تم عدنان سے تب تک بات نہیں کرو گی جب تک میں تمہیں سگنل نہیں دے۔دیتی۔۔۔۔

میں اب سکون سے چند گھنٹوں کی پرسکون نیند لینا چاہتی ہوں سو کر اٹھنے کے بعد ہی اب میں اس بھرکتی ہوئی آگ کے براہ راست مناظر دیکھوں گی۔۔۔

فجر کی نماز کے بعد شمائل ہر کام سے فارغ ہو کر کچھ دیر آرام کرنے سے پہلے صوفے پر بیٹھی پری سے گویا ہوئی۔۔۔

بلکل۔۔۔۔ ایسا ہی ہو گا۔۔۔۔ تم سامنے والے کمرے میں آرام۔کر سکتی ہو اور اپنی مرضی سے نیند پوری کر کے اٹھنا جبکہ میں تو چنگاری سے آگ بھڑکنے کا ایک ایک عمل کھلی آنکھوں سے دیکھوں گی۔۔۔ آخری میری اگلی زندگی اسی واقعہ پر منحصر ہے پری کے لہجے میں کھنک اسکی حقیقی خوشی کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔ تب تک میں اسے اپنے سوشل اکاونٹس سے بھی پھیلاوں گی ۔۔۔ یہ ہی تو وقت ہے جب میری فین فالونگ بھی بڑھے گی جسکا یقیناً مستقبل میں مجھے بہت فائدہ ہو گا۔۔۔ پری کے کہنے پر شمائل نے تعجب سے اسے دیکھا۔۔ دماغ تو تمہارا بھی اپنے فائدے کے کام پر بروقت چلتا ہے۔۔۔

******

کیا بات کر رہی ہو امی۔۔۔ اس لڑکی کی اتنی جرات کہ وہ منہ بھر کر مجھ سے شادی سے انکار کر ے۔۔۔۔ یہ اچھا نہیں کیا اسنے امی۔۔۔ میں نہیں چھوڑوں گا اسے۔۔۔۔ آخر سمجھتی کیا ہے وہ خود کو۔۔۔ اس بےعزتی کا بدلہ اسے چکانا پڑے گا۔۔۔ آخر کس چیز کی اکڑ ہے اس میں۔۔۔۔ اسکی یہ ہی اکڑا توڑ کر اسے منہ چھپا کر سسکنے پر مجبور نا کیا نہ میں نے تو کہنا کہ عتیق تو مرد کی اولاد نہیں۔۔۔

عتیق غصے سے کھولتا ماں کے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹتا اپنی بھراس نکال رہا تھا۔۔۔

ابھی اسے رقیہ کے ذریعے آفتاب کے اس رشتے سے انکار کا پتہ چلا تھا جس پر رقیہ نے خاصا ہنگامہ بھرپا کیا تھا لیکن اس کے باوجود آفتاب اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کو تیار نا تھا۔۔۔۔ اب رقیہ نے عتیق کے پوچھنے پر اسے آفتاب کا رشتے سے انکار بمعہ گڑیا کی اس روز کی بدتمیزی مرچ مصالحہ لگا کر سنائی تھی جسے سنتا عتیق بھپر اٹھا تھا۔۔۔۔

میں اب بھلا کیا کر سکتی ہوں اس میں عتیق زبردستی تو اب اسکا نکاح تمہارے ساتھ نہیں پڑھوا سکتی نا رقیہ خود آفتاب کے جواب کے باعث غصے میں تھی اسی لئے جھنجھلا اٹھی۔۔۔ کل پھر سے کوشیش کر کے دیکھوں گی اگر آفتاب ماں جاِئے تو۔۔۔ وہ ماتھا مسلتی وہیں پلنگ پر نیم دراز ہوئی۔۔۔

کوئی ضرورت نہیں تجھے انکے گھر جا کر اتنا ہلکا پڑنے کی اب وہ خود تیرے سامنے ناک رگڑ کر تجھے اپنی اس بدزبان بیٹی کا رشتہ دیں گے اور تب میں بھی اسے اپنی سبھی شرائط منوا کر اپناوں گا۔۔۔ عتیق کے سرد لہجے میں اتنی پراسراریت ضرور تھی کہ نیم دراز ہوتی رقیہ حیرت و انبساط سے اٹھتی اسکی صورت تکنے لگی۔۔۔ مطلب کا ہے تیری بات کا۔۔۔ ایسا کیسے ممکن ہوگا۔۔۔

یہ سب تو مجھ پر چھوڑ دے میرے پاس ایک دم دار منصوبہ ہے جس پر عملدرآمد ہونے کے لئے مجھے تیری مدد کی ضرورت ہے۔۔ عتیق کی پراسرایت اسکی آنکھوں کی شیطانی چمک رقیہ کو ٹھٹکنے پر مجبور کر گئ تھی۔۔۔

پھر بھی کچھ بتا تو صحیح۔۔۔ اچھا تو سن۔۔۔ وہ پرجوش سا ماں کے قریب ہء بیٹھتا اسے اپنے منصوبے سے آگاہ کر رہا تھا جسے سنتی ہر لمحہ رقیہ کے چہرے کی رونق دوبالا ہوتی جا رہی تھی۔۔

ماں صدقے۔۔۔ میرا شیر پتر۔۔۔ دماغ ہو تو تیرے جیسا کیا منصوبہ نکالا ہے میرے پتر نے۔۔۔ رقیہ نے فرط جذبات سے اسکا ماتھا چومتے اسے تھپکی دیتے اسکا حوصلہ بڑھایا تھا۔۔۔ باقی کا کام تجھے سمبھالنا ہے ماں ۔۔۔۔ اس بات کی تو فکر ہی نا کر اس بات کا تو وہ واویلہ مچاوں گی کہ اس زبان دراز چڑیل کے ساتھ اسکا باپ بھی چہرا چھپا کر خودکشی کرنے کو جگہ ڈھونڈے گا ہنہہ۔۔۔۔ اسنے تنفر و حقارت سے سر جھٹکا

******

گڑیا کا آج سکول میں آخری دن تھا۔۔۔ سکول چونکہ سیکنڈری تھا تو آج وہ سیکنڈایئر کی رولنمبر سلپ لینے سکول گئی تھی۔۔۔ اسکی دیکھا دیکھی کچھ لوگوں نے ہمت پکڑتے اپنی بچیوں کو آگے پڑھنے اسی سکول میں داخل کروایا تھا اب گڑیا باپ کے ساتھ جانے کی بجائے نویں کی طلبہ دو جڑواں بہنوں کے ساتھ سکول آتی جاتی تھی وہ دونوں بہنیں گڑیا سے خاصی متاثر تھیں اسی لئے باتوں میں اتنا لمبا راستہ کیسے کٹتا پتہ ہی نا چلتا۔۔۔

آج ان دونوں بہنوں نے سکول سے چھٹی کی تھی۔۔۔ نیز آفتاب بھی پچھلے دو دنوں سے شہر ٹھیکے پر کام کرنے گیا تھا اور آج گڑیا کا سکول رولنمبر سلپ لینے جانا بھی انتہائی ضروری تھا اس لئے چارونا چار وہ اکیلی ہی رولنمبر سلپ لینے کی غرض سے کالج چل دی تمام اساتذہ نے اپنی اس ہونہار اور ذہین طالبعلم کو دعاوں کے حصار میں رخصت کیا تھا۔۔۔ یہ تمہارے لئے گڑیا واپسی پر پرنسپل صاحبہ نے اسکی جانب ایک پین بڑھایا۔۔۔ میم یہ ۔۔ گڑیا نے مسکراتے ہوئے وہ پین تھاما اسکے لئے یہ ایک اعزاز کی بات تھی۔۔۔ بیٹا یہ کوئی سادا پین نہیں یہ ڈیجیٹل کیمرا پین ہے میرے لئے میرا بھانجا امریکہ سے لایا تھا مگر میرے خیال سے تم جیسی بہتریں سٹودینٹ کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں ہو سکتا یقیناً یہ مستقبل میں تمہارے بہت کام آئے گا انہوں نے اسکا کندھا تھپتھپاتے اسکا حوصلہ بڑھایا۔۔ گڑیا حیرت و تعجب سے پین کا دھکن اتارے اسے الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی جسکے دھکن کی ڈنڈی پر ہیرے کی مانند چمکتا ہول کیمرا فکس تھا جسے کوئی بھی بنا غور و توحہ سے دیکھے پہچان نہیں سکتا تھا۔۔۔ آپکا بہت بہت شکریہ میم زندگی میں پہلی مرتبہ کسی نے تحفہ دیا تھا وہ بھی اتنا بہتریں وہ کیسے نا خوش ہوتی۔۔۔۔ واپسی پر دھوپ کی شدت اور تنہائی کے باعث وہ تیز تیز قدم اٹھاتی آ رہی تھی ناجانے کیوں یکدم ہی دل اتنا گھبرانے لگا تھا وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتی تھی جب یکدم ہی سر پر زوردار ضرب لگنے کے باعث اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اس سے پہلے کے وہ چکراتے سر کو پکڑے پلٹ کر حملہ آور کا چہرا دیکھتی پڑنے والی دوسری ضرب پر وہیں ڈھیر ہو گئ تھی

اسے اپنے سر اور آنکھوں پر ایک نا محسوس سا بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔اپنی تمام تر ہمت مجتمع کرتے اسنے نہایت دقت سے آنکھیں وا کئیں۔۔۔ کچھ پل لگے تھے اسے ماحول سے مانوس ہوتے۔۔۔ لیکن سب یاد آتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔ اسنے ہراساں نگاہوں سے ارد گرد دیکھا وہ ایک ویران جگہ تھی جس میں ایک خستہ ہال اور سیلن زردہ دیواروں کے حامل کمرے میں وہ سخت پتھریلی زمین پر موجود تھی ساتھ ہی کچھ لکریوں کے گھٹھر پڑے تھے۔۔۔

وہ خوفزدہ نگاہوں سے کسی سہمی ہوئی ہرنی کی مانند اردگرد دیکھ رہی تھی جب اپنے پیچھے پڑنے والے قہقے کی آواز پر اسنے جھٹکے سے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ آپ۔۔۔ سامنے موجود کرسی پر کروفر سے بیٹھے عتیق کو دیکھتے اسکی آنکھیں حیرت سے وا ہوئی تھیں۔۔۔۔۔

ہاں میں۔۔۔ کیسا محسوس ہو رہا ہے تمہیں میری قید میں آ کر جان من ۔ تمہیں کیا لگا تھا کہ میں اپنی بے عزتی اتنی جلدی بھول جاوں گا۔۔ تمہیں حساب دینا پڑے گا۔۔۔ ایک ایک چیز کا حساب۔۔۔ تم سے تمہاری ذات کا مان نہ چھین لیا نہ تو کہنا ۔۔۔ آج یہاں سے تم نکلو گئ تو تمہارے چہرے پر نصیب کی وہ کالک اور سیاہی ثبت ہو گئ کہ کسی سے تو کیا تم خود سے بھی نگاہیں نہیں ملا پاو گئ۔۔۔ تم جیسی بدبخت بیٹی کے باعث لوگ تمہارے باپ پر تھو تھو کریں گئے۔۔۔ ذلیل و خوار نہ کر کے رکھ دیا نا تمہیں تو کہنا کہ میرا نام۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔

عتیق متکبرانہ التقابات سے اسے نوازتا کرسی سے اٹھتا اسکی جانب بڑھا تھآ۔۔۔ اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھا وہ سہمی ہوئی ہرنی سرعت سے اٹھی تھی۔۔۔ سفید کالج کے یونیفارم پر جگہ جگہ مٹی لگ چکی تھی۔۔۔ لمحوں میں اسکی آنکھیں پانیوں سے بھری تھی۔۔۔ جب موت تہہ ہے تو لڑ کر مروں گی نہ پہلے ہی کیوں ہتھیار ڈال دوں اس طاقتوار فرعون کو دیکھتے اس دھان پان سی لڑکی کی اندرونی انا اور عزت نفس نے انگرائی لی تھی نہتہ بنا لڑے مرنے کے احساس نے اس کے حوصلوں کو وسعت دیتے پرواز بخشی تھی۔۔۔ اس سے پہلے کہ عتیق اس پر جھپٹتا گڑیا نے اپنی پوری قوت سے ٹانگ اس شخص کے پیٹ کے نچلے حصے پر ماری تھی عتیق درد سے بلبلاتا جھک کر دونوں ہاتھ مخصوص جگہ پر رکھتا کچھ قدم پیچھے ہٹا وہ اس دھان پان سی لڑکی سے اتنی جرات کی امید نہیں رکھتا تھا۔۔۔

وقت کے فرعون کیا تو نہیں جانتا کہ وہی اللہ ہے جو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے پھر تو نے کیا سوچ کر آج میری تقدیر میں سیاہیاں بھرنے کا خدائی دعوی کیا۔۔ وہ خون آشام نگاہوں سے اسے دیکھتی بنا اسے سمبھلنے کا موقع دیئے پاس پڑے لکڑیوں کے گھٹھر سے ایک مضبوط لکڑی اٹھائے بنارکے پوری قوت سے اس پر پے در پے وار کر رہی تھی۔۔۔ گڑیا کا سانس بری طرح پھولنے لگا تھا ماتھے پر پسینے کے ننھنے قطرے چمک اٹھے تھے۔۔۔

اندر سے سوکھے پتے کی مانند تھر تھر کانپتی بظاہر وہ خود پر بہادری جرات اور حوصلے کا لبادہ اوڑھے مقابل سے اپنا ڈر و خوف چھپائے کھڑی تھی۔۔۔ اسقدر جرات اور حوصلے کا مظاہر کرتے بھی متوقع صورتحال کے پیش نظر اس پر کپکپی طاری ہو رہی تھی۔۔۔ کپکپاتے ہاتھوں میں تھامی مضبوط لکڑی کو مزید تھامے رکھنا دشوار ثابت ہو رہا تھا مگر وہ سب کچھ اپنے اندر دبائے ثابت قدم کھڑی تھی۔۔۔۔جبکہ اس خستہ حال کمرے میں اس شخص کی کراہیں گھونج رہی تھیں۔۔۔

بیٹی ہوں تو کیا ہوا اب مجھ سے جینے کا حق تک بھی چھینوں گے۔۔۔ میرے باپ کا سر ہمیشہ میرے باعث فخر سے بلند ہوگا۔۔۔۔میرے باپ کو رسوا کرنے اور نیچ دکھانے کی خواہش تم قبر کی مٹی میں ہی ساتھ لے کر جاو گئے کیونکہ میرے ہوتے ہوئے تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔۔۔۔ بیٹیوں کے متعلق تم جیسے گھٹیا شخص اور انکی گھٹیا سوچ کو تیل ڈال کر آگ لگانے کے لئے ہی میرا نزول ہوا ہے۔۔۔ اسنے ایک اور ضرب پوری قوت سے اسکے سر پر لگائی تھی۔۔۔ لمحوں میں وہ فرش خون سے لال ہوا تھا۔۔ نجانے کون کونسی محرومیوں کے بدلے آج وہ قدرتی طور پر وقت کی جانب سے ملے موقع پر اس سے لے رہی تھی۔۔۔ بلآخر ہانپتی ہوئی وقت کی نزاکت کا احساس کرتی وہ اسے وہیں چھوڑے اپنا کالج بیگ اٹھاتی بعجلت وہاں سے بھاگی۔۔۔ اسکے کالج کی چھٹی دو بجے ہوتی تھی اب نجانے کیا وقت تھا اور وہ نجانے کہاں تھی اسے جلد از جلد اپنے گھر پہنچنا تھا جہاں نا جانے اسکی گمشدگی کے باعث کیاحالات تھے۔۔۔

باہر نکل کر ادھر ادھر بھاگتے وہ جلد ہی اس جگہ کو پہچان گئ تھی وہ اس گاوں میں موجود آڑے کا گودام تھا یہاں سے اسکا گھر اتنی دور نا تِھا اسنے اپنا بیگ دونوں ہاتھوں سے دبوچا اور گھر کی جانب سرپٹ دوڑ لگا دی۔۔۔ اپنی گلی کی نکر پر پہنچ کر اسنے زرا سانس بحال کی۔۔۔

کہاں تھی تم اب تک۔۔۔ اتنی دیر کیسے ہو گی تمہیں۔۔۔۔ اور اتنی بوکھلائی ہوئی کیوں ہو۔۔۔۔ گھر میں داخل ہوتے اسکا پہلا ٹاکرا ہی فاطمہ سے ہوا تھا۔۔۔ جو ماتھے پر بل ڈالے اسے تفتیشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

گڑیا نے بےساختہ دیوار گیر گھڑی کی جانب دیکھا جو شام کے ساڑھے تین بجا رہی تھی ۔۔۔۔ اسنے لمحوں میں وقت کی توڑ جوڑ کی گھر پہنچتے پہنچتے اسے آرھائی سے پونے تین ہو جاتے تھے مطلب وہ اتنی بھی لیٹ نا ہوئی تھی۔۔۔

وہ امی آج سکول میں آخری دن تھا نا تو اس لئے پیپروں کے بارے میں سمجھاتے ٹیچر نے ایک ایکسٹرا کلاس لی تھی جسکی وجہ سے دیر ہوگی اس کلاس کا مجھے پہلے علم نہیں تھا ورنہ صبح جاتے آپکو بتا جاتی ۔۔۔ اب پلیز کھانا دے دیں بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔ گڑیا ماں سے نگایں چڑاتی صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھتی جوتے اتارنے کے بعد اب ننگے پاوں جا کر فرج کھول کر پانی کی بوتل منہ سے لگاتی ایک ہی سانس میں بوتل خالی کر گئ تھی۔۔۔ دل ابھی بھی سوکھے پتے کی مانند کانپ رہا تھا۔۔۔

بس یہ ہی کسر رہ گئ تھی۔۔۔ تین میل دور جا کر بارہ جماعتیں پڑھ لی لیکن تمیز تہذیب چھو کر نا گزری۔۔۔ اس چولہے میں مٹی کا تیل ڈال کر آگ لگا چھوڑو ان ڈگریوں کو جو تمہیں پانی پینے کا طریقہ نا سیکھا سکیں۔۔ اونٹوں کی طرح منہ اٹھائے گھٹا گھٹ پانی چڑھا رہی ہو جیسے کیسی نے پانی چھین لینا ہو۔۔۔ جاو جا کر کپڑے بدلو کھانا لاتی ہوں میں۔۔۔ فاطمہ کو ہمیشہ سے ہی اسکی ایسی حرکتوں سے چڑ تھی اب بھی اسکا یہ عمل دیکھتی بنا لحاظ کئے اسکے لتھے لینے لگی تھی گڑیا زبان دانتوں تکے دابے سرعت سے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔

ارے فاطمہ گڑیا نہیں آئی ابھی تک۔۔۔ گڑیا ابھی کھانا کھا کر فارغ ہوتی نیم دراز ہوئی ہی تھی جب تائی کی آواز پر جھٹکے سے اٹھی۔۔۔ ناجانے کیوں اسکے دماغ نے ایک سگنل دیا تھا جیسے آج تائی کا یہاں آ کر اسکی تفتیش کرنا بھی آج کے درپیش واقعے کا پس منظر تھا ورنہ پہلے کب وہ اسکی فکر میں ہلکان ہوتیں اسکی آمد کا دریافت کرنے آتی تھی۔۔ مگر وہ تائی سے اتنی گڑاوٹ کی توقع نہیں کر سکتی تھی کہ وہ بیٹے کی اتنی گھٹیا حرکت پر اسکا ساتھ دیتی۔۔ اپنی سوچ پر خود ہی سر جھٹکتی وہ بنا جوتا پہنے باہر نکلی۔۔۔

کیوں تائی خیریت۔۔۔ کوئی کام تھا مجھ سے۔۔۔ وہ بظاہر پرسکون اور سادہ سے انداز میں پوچھتی تائی کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

لمحوں میں رقیہ کے چہرے کی رنگت فق ہوئی تھی وہ بناجواب دیئے انہی قدموں پر واپس پلٹی۔۔۔ گڑیا یہاں تھی تو عتیق کہاں تھا۔۔۔ اسے ایک نئ فکر لاحق ہو گئ تھی۔۔۔

********

آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ اسنے طیش میں شیشے کے میز پر پڑا کانچ کا کلاس اور جگ ہاتھ مار کر نیچے گرانے کے بعد شیشے کا میز ہی الٹ دیا یکدم فضا میں چھناکے سے مختلف کانچ توٹنے کی ناپسندیدہ آواز گھونجی تھی وہ پاگل پن کی حدودوں کو چھوتا اپنے بال نوچتا وہیں صوفے پر بیٹھا ۔۔۔ خون آشام سرخ ہوتی نگاہوں میں غصہ کرب بے بسی وحشت کونسا ایسا تاثر تھا جو چیخ چیخ کر اسکی بے بسی و ہار کا اعلان نہیں کر رہا تھا۔۔۔ وہ ہاتھ پاوں کاٹ کر اس جگہ پھینک دیا گیا تھا جہاں وہ مفلوج ہوتا پھڑپھڑا کر رہ گیا تھا۔۔ محض ایک رات میں یہ کھیل نے کیسا پلٹا کھایا تھا جو وہ عرش سے فرش پر نہیں بلکہ گہری کھائی میں پٹخ دیا گیا تھا۔۔۔ ایسا کیسے ممکن تھا وہ سالوں سے یہ کام کرتا آ رہا تھا مگر آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا اسکا سیدھا سادا مطلب یہ ہی تھا کہ وہ ٹریپ کیا گیا تھا۔۔۔

موبائل بجنے پر اسنے صوفے سے جھپٹ کر موبائل اٹھایا۔۔۔ نوفل اس لڑکی نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ فون اٹھاتے ہی عدنان کرب سے گویا ہوا۔۔۔ نہیں عدنان یہ شمائل کی پلانینگ نہیں ہو سکتی وہ ایک مڈل کلاس بیک گراونڈ سے ہے وہ اتنی پاور فل اور اونچے لیول کی پلانینگ نہیں کر سکتی یقیناً یہ کسی بڑے حریف کا کام ہے۔۔۔ نوفل نے پریشانی سے اپنا ماتھا مسلتے اپنے سامنے موجود میز کیطرف دیکھا جہاں مختلف پاکستان کے مشہور انگلش اور اردو اخبارات میں ایک ہی خبر ہیڈ لائن میں بریکنگ نیوز تھی سامنے چلتی ایل ای ڈی میں خاموشی سے چلتے مختلف مناظر بھی اسی نیوز سے ملحقہ تھے گویا ہر نیوز چینل ہر اخبار میں وہی نیوز تھی بس۔۔۔ اونچے لیول پر ان پر ہاتھ ڈالا گیا تھا اگر بات کسی ایک اخبار تک مختص ہوتی تو وہ پیسے لگا کر کسی حریف کی چال کہتے کسی دوسری اخبار پر تردیدی خبریں لگوا کر اس خبر کو دبا دیتے مگر ہر طرف سے ایک ساتھ ہی امڈتے اس طوفان کو ایک وقت میں کیسے روکتے گویا مکمل پلانینگ سے انہیں ہر طرف سے گھیرے میں لیتے انکی فرار کی ہر راہ بند کرتے اس انداز میں ان پر وار کیا گیا تھا کہ وہ جب تک اس بپھرے طوفان پر قابو پانے کی پلانینگ کرتے بات حدود سے نکل چکی ہوتی۔

میں برباد ہو چکا ہوں نوفل ڈیڈ سے میرا رابطہ نہیں ہو پا رپا اس سے پہلے کہ پولیس آ کر مجھے اڑیسٹ کرے

Do something….

وہ اتنی دور سے بھی اس وقت عدنان کی بے بسی سمجھ سکتا تھا۔

*****

شمائل ابھی ابھی ایک بھرپور نیند لے کر فریش سی اٹھی تھی اسنے اٹھتے ہی بنا ناشتہ کیے سب سے پہلے لیپ ٹاپ کھولتے بھس میں چھوڑی چنگاری کی اپڈیت چیک کرنا چاہی۔۔۔ وہ بے تاثر نگاہیں لیپ ٹاپ کی سکرین پر جمائے الڑٹ بیٹھی تھی یکدم اسکے چہرے پر دلنیشن مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔۔۔ اسکی چھوڑی چنگاری نے اسکی سوچ سے زیادہ آگ لگائی تھی ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں تہلکہ مچا دیا تھا۔۔۔ ہر چھوٹا بڑا یوٹیوب چینل اس واقع کو مزید اچھالتا لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا تھا۔۔۔ شمائل نے مسکراتی نگاہوں سے اپلوڈ کی ویڈیو کو دوبارہ سے پلے کیا۔۔۔۔۔۔

جی تو ریڈرز کیا ہے ویڈیو میں۔۔۔ ایسی کونسی نیوز ہے جس نے ہر طرف تہلکا مچا دیا۔۔۔ اب سارا کام میرا ہی تو نہیں نا۔۔۔۔ کچھ سوچنے کا کام میرے ڈیسنٹ اور انٹیلیجنٹ سے ریڈرز کا بھی تو ہے نا۔۔۔ ہے نہ۔۔۔ تو چلیں پھر جلدی جلدی سے دماغ چلائیں اور نیچے👇

کمنٹ باکس میں بتائیں کہ آپکے خیال میں اصل معاملہ ہے کیا۔۔۔ میں ملتی ہوں کل اسی وقت آپ سے اصل واقعہ کے ساتھ تب تک ایکچولی ی ی ی ی ی میں بھی دھونڈتی ہوں کہ اصل معاملہ ہے کیا۔

______