Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumaan Se Agy (Episode 14)

Gumaan Se Agy By Umme Hania

مسلسل بجتی ٹوں ٹوں کی آواز سے جھنجھلا کر حور نے فون اٹھایا وہ سونے کے لئے لیٹ چکی تھی مگر اب فون کی مسلسل آتی آواز اسکے دماغ میں ہتھوڑوں کی مانند برس رہی تھی۔۔۔تمام میسجز کو سلیکٹ آل کر کے اسنے ڈیلیٹ کیا اور اسی نمبر پر میسج ٹائپ کرنے لگی۔۔۔

میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔ ۔۔ مختصر سے الفاظ میں اپنا مدعا بیان کر کے اسنے سینڈ کا بٹن دبایا۔۔۔ ابھی اسنے پرسکوں ہو کر موبائل رکھا بھی نا تھا جب پھر میسج ٹیون بجی۔۔۔

زہے نصیب۔۔۔ تو بلآخر قسمت آج مہربان ہو ہی گئ مجھ پر۔۔۔ کل صبح نو بجے پاس والی کافی شاپ پر ملتے ہیں۔۔۔ اللہ اللہ کیا خوش فہمیاں ہے اس شخص کی۔۔۔ میسج پڑھتے ہی وہ اسکی سوچ پر عش عش کر اٹھی۔۔۔۔

کل صبح پانچ بجے ٹریک پر۔۔۔۔ اسکی انگلیاں ایک مرتبہ پھر سے متحرک ہوئیں تھیں۔۔۔

نہایت ظالمانہ فیصلہ ہے۔۔۔ مگر جو حکم۔۔۔

دوبارہ کوئی میسج آیا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔۔۔ آخری میسج ٹائپ کرکے سینڈ کرنے کے بعد وہ زرا پر سکون ہو کے سوئی۔۔۔

صبح حسب معمول وہ وقت پر ٹریک پر موجود تھی۔۔۔آج بھی ویک اینڈ تھا ۔۔۔ رضا اس سے بھی پہلے وہاں موجود تھا وہ غالباً ٹریک پر اپنا ایک چکر مکمل کر چکا تھا اور اب حور کو وہاں آتا دیکھ خوشدلی سے اسکی جانب بڑھا۔۔۔

کیسی ہو۔۔۔ اس کی نگاہوں میں جذبوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔۔ مجھے تو یقین نہیں آ رہا کہ تم خود مجھ سے ملنے آئی ہو۔۔۔

کیا تم اپنی یہ بے ہودگیاں ختم نہیں کر سکتے رضا۔۔۔ کیا یہ سب کر کے تم یہ ثابت کرنا چاہتے ہو کہ تم ایک گھٹیا انسان ہو جو کبھی اپنی روش سے نہیں ہٹ سکتا۔۔۔ وبال جان بن چکے ہو تم میرے لئے۔۔۔ کیوں تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارے جھانسے میں آتی تمہاری باتوں پر یقین لے آوں گی۔۔۔ ایک بات یاد رکھنا مسٹر رضا مجھے زیر کرنے کی تمہاری خواہش ہمیشہ خواہش ہی رہ جائے گئ حور مر تو سکتی ہے مگر تمہارے آگے جھک نہیں سکتی۔۔۔ تنفر و نفرت اور تحقیرانہ انداز میں گویا ہوتی حور جیسے آج اس شخص کے دل سے خوشگمانی کی ہر ننھی کونپل کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنا چاہتی تھی۔۔۔

یکدم اسے سامنے کھڑے شخص کے چہرے ہر گہرے سائے اور زلزلوں کے اثرات نمودار ہوتے محسوس ہوئے گویا اسکی ذات آندھیوں کی زد میں آ گئ ہو۔۔۔

حور کیا تم وہ سب بھول نہیں سکتی۔۔۔ مانتا ہوں کہ میں نے غلط کیا تمہارے ساتھ مگر میں نے ان سب کی بہت کڑی سزا کاٹی ہے میرے ان پراذیت شب و روز کی چشم دید گواہ رہی ہو تم۔۔۔۔ تو جو پہلے ہی حالاتوں کی چکی میں پسا ہو۔۔۔ جس پر پہلے ہی قسمت نے گہرے گھاو لگائے ہوں جسے اسکے کیے کی سزا اسکا اللہ ہی دے چکا ہو اس سے کیسا بیڑ باندھنا حور۔۔۔ اسکی آواز میں واضح شکستگی بے بسی و نمی گھلی تھی۔۔۔ ایسی بے بسی و شکستگی جو سامنے والے کا دل چیز جاتی سخت سے سخت دل کو پگھلا جاتی۔۔۔ مگر وہ حور تھی جو اپنے دل کے سبھی دریچے اس جذبے کے لئے مقفل کرتی انکی چابی کہیں دور پھینک چکی تھی۔۔۔ رضا کے شوریدہ سر جذبات ان مقفل دریچوں سے سر پٹختے لہولہاں تو ہو سکتے تھے مگر دریچوں سے آگے حور کے دل تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔۔۔

میں تم سے ماضی میں روا رکھے گئے اپنے ہر بد سلوک پر معافی مانگتا ہوں۔۔۔ بہت ٹوٹا ہوا ہوں حور۔۔۔ تمہارے ساتھ کی گئ زیادتیوں کے نتیجے میں ملنے والی بے سکونی کے عذاب سے چھٹکارا پانے کے لئے میں نے آبلہ پائی کا سفر طے کیا ہے۔۔۔ دیکھو میں لہو لہاں ہو گیا ہوں مجھے معاف کردو میری محبت پر یقین کر لو حور۔۔۔ میرے جذبے پاکیزہ ہیں ہر طرح کی کھوٹ اور ملاوٹ سے پاک۔۔۔

وہ اونچا لمبا مضبوط ڈیل ڈول کا حامل شخص بنا حالات و نزاکت کی پرواہ کئے اسکے سامنے جھکا تھا ۔۔۔ گھٹنے زمیں پر ٹیکتا وہ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گیا تھا۔۔۔ اسکی آواز کا کرب بے ساختگی و سچائی حور کو جھنجھوڑ گئ تھی۔۔ دل کے مقفل دریچوں نے جھٹکے کھاتے سبھی قفلوں کو توڑنے کی سر توڑ کوشیش کی تھی۔۔۔ سینے میں موجود دل کپکپا اٹھا تھا۔۔۔

کوئی اتنی بہتریں ایکٹنگ کیسے کر سکتا تھا۔۔۔ کوئی سازش میں بھی کسی کے سامنے کیسے جھک سکتا تھا۔۔۔

تم پپ۔۔۔پلیز۔۔۔ اٹھ۔۔۔ اٹھو ۔۔۔ یہاں سے۔۔۔ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر حور کی آواز لڑکھرا گئ تھی۔۔۔ حواس معطل ہونے لگے تھے اسنے خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے خود کو کمپوز کرنا چاہا۔۔۔

نہیں پہلے تم کہو کہ تم نے مجھے معاف کیا۔۔۔ وہ بضد ہوا۔۔ کیوں ہو تم اتنے ڈھیت رضا۔۔۔ فوراً اٹھو۔۔۔ حالات کی نزاکت سمجھتی وہ غرائی کیونکہ اب اکا دکا کامنز وہاں آنے لگے تھے اور وہ یہاں کوئی سکینڈل افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ میں ماضی کے سبھی حالات و واقعات بھلا چکی ہوں تم پلیز اٹھو۔۔۔ اب کی بار آواز میں نرمی تھی شاید یہ درپیش صورتحال کا پیش خیمہ تھی مگر جو بھی تھا اسکے وہ الفاظ رضا کی غیر ہوتی حالت میں خاصے نفع بخش ثابت ہوئے تھے اسکا چہرا کھل اٹھا۔تھا وہ مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

دیکھو رضا میری بات سمجھنے کی کوشیش کرو۔۔۔ ہمارے درمیان ماضی میں جو بھی کچھ ہوا اگر ان تمام تلخ حالات و واقعات کو میں نظر انداز کر بھی دوں تو تب بھی میں تمہارے پرپوزل کے بارے میں نہیں سوچ سکتی کیونکہ اپنی زندگی کے اس اہم فیصلے کا اختیار بصد شوق اور خوشی خوشی میں اپنے والدیں کو سونپ چکی ہوں اس مان محبت اور اعتماد کیساتھ کہ وہ میرے بارے میں کبھی کوئی غلط فیصلہ لے ہی نہیں سکتے ۔۔۔ انہوں نے مجھ سے زیادہ دنیا دیکھی ہے اس دنیا کو سمجھنے کا اور پرکھنے کا تجربہ انکا مجھ سے زیادہ ہے۔۔۔ وہ میرے لئے کوئی بھی فیصلے کم عمری کے جذباتی پن کے مد نظر نہیں کریں گئے۔۔۔ یہ وہ معاملہ ہے جس کے لئے میرے ہاتھ میں کچھ ہے ہی نہیں تو اس لئے میں تمہیں امید کا کوئی جھوٹا سرا نہیں تھما سکتی۔۔۔ حور نے اس حساس مسلے کو اب سمجھداری سے ہینڈل کرنے کا سوچا تھا اسی لئے وہ ٹریک سے ہٹتی پاس ہی نصب بینچ کی جانب آتی تحمل اور نرمی سے گویا ہوتی رضا کو لاجواب کر گئ تھی۔۔۔

حور شادی تو تم نے کسی نا کسی سے کرنی ہی ہے نا۔۔۔ یہ تو ایک رسک ہے ایک جوا۔۔۔ جس کی بازی آپ جیتتے ہو یا ہارتے ہو یہ تو بعد میں ہی پتہ چلتا ہے تو کیا تم یہ رسک مجھ سے شادی کر کے نہیں لے سکتی۔۔۔ مجھے امید ہے کہ میں تمہیں کبھی مایوس نہیں کروں گا۔۔۔ وہ ابھی تک آس و نراس کی کیفیت میں کھڑا ملتجی ہوا۔۔۔

اس چیز کا اختیار میرے ہاتھ میں نہیں ہے رضا میں بہت واضح تمہیں بتا چکی ہوں۔۔۔ بینچ کی پشت سے ٹیک لگائے وہ پرسوچ انداز میں کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ یہ شخص اسے کن مسافتوں کا راہی بنانا چاہتا تھا جن پر چلنا اسکے لئے پر صراط پر چلنے کے مترادف تھا۔۔۔ کیوں یہ شخص اسکے دل پر لگے سبھی قفل ایک ہی وار میں توڑنے کے در پر تھا وہ یہاں کسی اور کا کیا شکوہ کرتی یہاں تو اپنا دل ہی بغاوت پر اتر رہا تھا۔۔۔ مگر کیا اسکے دل کی اوقات تھی اتنی کہ وہ حور کے مد مقابل آسکتا۔۔۔ کہ وہ حور کو بے بس کر سکتا۔۔۔ اسے تو بڑے بڑے بے بس نا کر سکے تھے تو پھر اس دل کی آخر اوقات ہی کیا تھی۔۔۔ وہ بہت مضبوط اعصاب کی مالک تھی مگر ناجانے کیوں دل میں اٹھتا یہ درد ناقابل برداشت ہونے لگا تھا۔۔۔ سامنے کھڑے شخص کی بے بسی دل پر وار کرنے لگی تھی۔۔۔ یہ کیسے جذبات تھے جن سے وہ زندگی میں پہلی مرتبہ آشنا ہو رہی تھی۔۔۔

ٹھیک ہے حور میں تمہیں کبھی تنگ نہیں کروں گا۔۔۔ کبھی اس معاملے میں فورس نہیں کروں گا میں اپنا معاملہ اپنے رب پر چھوڑتا ہوں۔۔۔ اگر تم میری قسمت میں ہوئی تو ضرور مجھے ملو گئ لیکن میری ایک التجا ہے تم سے ۔۔۔ کیا ہم اچھے دوستوں کی طرح رہ سکتے ہیں۔۔۔ حور کے کھوئے کھوئے انداز دیکھتا وہ یکدم گویا ہوا تو حور نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا۔۔۔ ایک پرسکون مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا احاطہ کیا۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ تم میری بات سمجھ گئے اور ہاں دوست نہیں ہم اچھے کامنز کی طرح رہ سکتے ہیں۔۔۔ کامنز کا ذکر کرتی گویا جاتے جاتے بھی وہ ان دونوں میں حد بندی متعیں کروا گئ تھی۔۔۔

حور کے جانے کے بعد ایک آسودہ مسکراہٹ نے رضا کے چہرے کا احاطہ کیا۔۔۔ حور صرف اسکی تھی۔۔۔ اسے کھونے کا وہ رسک بھی نہیں لے سکتا تھا۔۔۔ اس لئے بیٹھے بیٹھے آگے کا سارا منصوبہ وہ سوچ چکا تھا کہ حور کو حاصل کرنے کے لئے اس کس انداز میں حالات و واقعات اپنی جانب مبذول کرنے تھے۔

“”******

آج اکیڈمی میں شمائل کا پہلا دن تھا ۔۔۔ وہ بہت پراعتماد تھی۔۔۔ مینجر نے اسے اکیدمی آف ہونے کا ٹائم دیا تھا۔۔۔ لحاظہ جب وہ اکیڈمی پہنچی اکیڈمی کی آخری کلاس کو بھی چھٹی ہونے میں محض دس منٹ باقی تھے۔۔۔

مس شمائل آپکی کلاس اوپر ہے۔۔۔ مینجر نے اسے گائیڈ کرتے اوپر کی جانب اشارہ کیا تو وہ مینجر کے ہمراہ لفٹ میں سوار ہوئی۔۔۔

یہ ہے آپکی کلاس۔۔۔ مینجر اسے لئے ایک کلاس میں آیا جہاں پندرہ بیس میٹرک کی لڑکیاں موجود تھیں جنہیں اسے انگلش پڑھانی تھی۔۔۔ وہ سب کی سب پلان کا حصہ تھیں۔۔۔ مینجر اسے کلاس سے متعارف کرواتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ اگلے بیس منٹ تک اکیڈمی مکمل طور پر خالی ہو چکی تھی حتی کہ چوکیدار تک جا چکا تھا اب اکیڈمی میں محض عدنان کے سوا اسکا مینجر اور شمائل تھے یا چند لڑکیاں جنہیں پلان کے مطابق فورا ہی وہاں سے بھیج دیا جانا تھا ۔۔۔ میم سر آپ کو اپنے آفس میں بلا رہے ہیں انہیں آپ سے کچھ ضروری معاملات فکس کرنے ہیں کچھ ہی دیر بعد وہی مینیجر دوبارہ سے وہاں نمودار ہوا تھا۔۔۔ شمائل سر ہاں میں ہلاتی کلاس کو انتظار کرنے کا کہتی کلاس سے باہر نکلی۔۔۔ یہاں سے سیدھا جا کر لیفٹ پہلا کمرہ سر کا آفس ہے مینجر اسے گائیڈ کرنے کے بعد دوبارہ کلاس میں آیا اور کلاس کا پچھلی جانب کھلتا دروازہ کھول کر اسنے بعجلت سب لڑکیوں کو وہاں سے باہر بھیجا اور خود واپس کمرے سے باہر نکلا ۔۔۔

چلیں میں آپ کو گائیڈ کر دیتا ہوں اور ابھی راہ داری بھی نہیں مڑی تھی جب وہی مینیجر تیز تیز قدم اٹھاتا اسکے ہم قدم ہوا۔۔۔چاروں جانب چھایا سناٹا دیکھ کر شمائل کو کچھ عجیب لگا لیکن وہ اسے اپنا وہم گردانتی سر جھٹک کر آگے بڑھی۔۔۔

May I come in sir….

عدنان قہقہ لگاتا ہوا نوفل درانی سے بات کر رہا تھا جو اس وقت اپنے کمرے میں موجود لیپ ٹاپ کی سکرین پر اسکے دفتر کا اندرونی مناظر ملاخظہ فرما رہا تھا۔۔۔شمائل کے اجازت طلب کرنے پر عدنان نے مختصراً بات سمیٹتے بعجلت فون بند کیا اور مکمل طور پر شمائل کی جانب متوجہ ہوا شمائل کو دیکھ وہ مسمرائز ہو گیا تھا اگر نوفل نے اس لڑکی کی اتنی تعریفیں کی تھیں تو وہ بے جا نہ تھیں وہ لڑکی واقعی اس کی سوچ سے بڑھ کر خوبصورت تھی ۔۔۔

Yes coming…

اس کے مسکرا کر اجازت دینے پر شمائل پراعتماد چال چلتی اس کے سامنے موجود کرسی پر آکر بیٹھی اپنے کمرے میں موجود نوفل درانی کی آنکھوں میں اس کا اس قدر پر اعتماد انداز دیکھتے شرارے ڈورنے لگے تھے۔

ویسے تو مس شمائل تمام باتیں میرا مینجر آپ سے فکس کر ہی چکا ہے لیکن اس کے باوجود میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں عدنان پراسرار انداز میں کہتا اپنی جگہ سے اٹھا اور قدم قدم چلتا بالکل شمائل کے سامنے آیا شمائل نے حیرت سے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا ۔۔۔

اس چند ہزار کی نوکری کے لئے کیوں خوار ہو رہی ہو میرے سے ڈیل کر لو تمہیں پیسوں میں نہلا دوں گا وہ اس کے سامنے ہی میز پر ٹکتا اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتا مخمور لہجے میں گویا ہوا تو شمائل اسے دونوں ہاتھوں سے دھکا دیتی بدک کر پیچھے ہٹی یکدم اٹھنے سے کرسی دور جا گری تھی۔۔۔ شمائل کے چہرے کی ہوائیاں اڑنے لگی تھی صورتحال غیر متوقع و غیر یقینی تھی اس کا دل کسی انہونی کے ڈر سے زور زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔

میلوں دور بیٹھے نوفل درانی نے یہ مسحور کن منظر مسکراتے ہوئے دیکھا تھا اس لڑکی کی نگاہوں میں بے بسی و ہار اسے عجیب سی طمانیت فراہم کر رہی تھی۔۔۔۔

دیکھو اتنا بدکنے کی اور اوور ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمام صورتحال کو جتنا جلدی سمجھ جاؤ گی تمہارے لئے اتنا ہی اچھا ہوگا۔۔۔ پوری اکیڈمی اس وقت خالی ہے تمہاری چیخ و پکار اور التجائیں سننے والا یہاں کوئی نہیں ہے کوئی تمہیں یہاں بچانے نہیں آئے گا۔۔۔ خوشی سے یا رو دھو کے تمہیں میری خواہش ہر حال میں پوری کرنی ہی ہے یہ بات اچھے سے ذہن نشین کر لو۔۔۔ جتنا ہاتھ پیر چلاو گئ مزاحمت کرو گئ اتنا اپنا ہی نقصان کرو گئ ۔۔۔ اگر میرے ساتھ تعاون کرو گئ تو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ یہ بات صیغہ راز میں رہے گی دو گھنٹوں بعد جب تم مجھے خوش کر کے یہاں سے جاو گئ تو دنیا کے لئے تم اکیڈمی میں پڑھا کر ہی واپس آ رہی ہوگئ۔۔۔ وگرنہ دوسری صورت تمہیں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ اس لئے کم آن ڈرامے بند کرو۔۔۔ اب تمہارا یہ نوخیر حسن دیکھ کر خود پر ضبط کرنا میرے لئے ممکن نہیں رہا۔۔۔ جلد از جلد تمہارے اس حسن کو خراج پیش کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ وہ تحمل سے اسے ایک ایک بات باریک بینی سے سمجھاتا آخر میں بڑے دوستانہ۔انداز میں مخمور لہجے میں کہتا قدم با قدم اسکی جانب بڑھا۔۔۔

شمائل کے اعصاب مفلوج ہونے لگے تھے۔۔۔ یہ کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ۔۔ اسکے بدن پر چیونٹیاں رینگنے لگی تھیں۔۔۔اسے لگا اسکی روح جسم کا ساتھ چھوڑ دے گئ۔۔۔ اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا بالکل ویسا ہی اندھیرا جو اسے اپنی قسمت پر چھاتا محسوس ہو رہا تھا۔

*******