Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 12)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
وہ بعجلت ادھر ادھر دیکھتی روڈ کراس کر رہی تھی جب مخالف سمت سے روڈ کراس کرتی ایک جدید تراش خراش کے ملبوسات میں ملبوس لڑکی سے بے طرح ٹکرائی۔۔۔ تصادم کے نتیجے میں وہ لڑکی پیچھے گری جبکہ دور سے فل سپیڈ میں آتی گاڑی نے اس ناگہانی آفت پر زور سے بریک لگائی فضا میں گاڑی کے تائروں کے چڑچڑانے کا شور بلند ہوا تھا لیکن گاڑی رکتی رکتی بھی اس لڑکی سے بے طرح ٹکرائی جس کے نتیجے میں اس لڑکی کے سر سے بھل بھل خون بہنے لگا اور وہ وہیں ہوش و خرد سے بیگانہ ہوتی جھول گئ۔۔۔ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ منظر دیکھ شمائل کے ہاتھ پاوں پھولنے لگے تھے۔ سوکھے لبوں پر زبان پھیرتے وہ نیچے خون کے جمع ہوتے ڈھیر کو دیکھتی اس کے پاس ہیں نیچے بیٹھی ذرا سا اس کا دھیان ہٹا اور وہ گاڑی والا سرعت سے اسکے اطراف سے گاڑی گزارتا زن سے بھگا لے گیا ۔۔۔ شمائل تو حق دق سی اس بے رحم معاشرے کی بے حسی ہی دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔ وہ جیسے تیسے کر کے کچھ لوگوں کی مدد سے اس لڑکی کو عفیفہ کے والد کے ہی ہسپتال لے کر گئ کیونکہ وہ وہیں پاس ہی میں تھا۔۔۔۔ وہ اس لڑکی کی حالت کے باعث پریشان بھی تھی لیکن اس کی پریشانی کیلئے اس کے پاس اس سے بھی بڑی وجہ یہ تھی کہ آج پہلے ہی دن وہ وقت پر اکیڈمی انٹرویو دینے کے لیے نہیں پہنچ سکی تھی۔۔۔ اب نہ جانے اسے کل وہاں پر انٹرویو دینے کے لئے جانا چاہیے تھا یا وہ لوگ اسے غیر ذمہ دار قرار دیتے یہ سیٹ کسی اور کو دے دیتے تھے ۔۔۔
******
ابھی تک وہ لڑکی پہنچی کیوں نہیں ۔۔۔اپنے بیڈ روم میں بیڈ پر نیم دراز اپنے سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر اکیڈمی کے دفتر کا اندرونی منظر دیکھتا نوفل درانی جھنجھلا کر فون پر اپنے دوست جوکہ اکیڈمی کا آنر تھا سے گویا ہوا۔۔۔۔
اب مجھے کیا اس چیز کے بارے میں معلوم ہو میں تو تمہارے کہے کے مطابق تمام سٹیپ اپ مکمل کیے یہاں پر اس لڑکی کا منتظر بیٹھا ہوں تاکہ وہ یہاں پہنچے اور تمہارے بنائے لائحہ عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے مگر اسکی شاید قسمت کچھ زیادہ ہی اچھی ہے جو وہ یہاں پر ابھی تک نہیں پہنچی ۔۔۔اب اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں۔۔۔ عدنان اپنے دفتر میں ریوالونگ چیئر پر بیٹھا ادھر ادھر کرسی جھولاتا سامنے نصب کیمرے کی جانب دیکھتا نوفل کی حالت سے خط اٹھاتا گویا نوفل کو آگ ہی لگا گیا تھا۔ ۔۔
ان کی اتنی بہترین پلاننگ آج شمائل کے وہاں نا آنے کی وجہ سے فلاپ ہو رہی تھی نوفل پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی۔۔۔
فون کرو اسے عدنان ابھی ۔۔۔اور پوچھو کہ وہ ابھی تک یہاں پہنچی کیوں نہیں ۔۔
پاگل تو ہوگیا ہے میرا دماغ ابھی کام کرتا ہے نوفل۔ ۔۔ تمہیں نہیں لگتا کہ یہ ایک نہایت ہی ہلقہ کام ہوگا کہ ایک اکیڈمی کا آنر خود سے ایک معمولی سی ایمپلائے جس نے ابھی جاب جوائن بھی نہیں کی اسے فون کرکے پوچھے کہ وہ ابھی تک کیوں نہیں پہنچی۔۔۔ تمہارے خیال سے کیا وہ اس وی آئی پی پڑوتوکول سے شک میں مبتلا نہیں ہوگی۔۔۔
عدنان کی باتیں نوفل کی سمجھ میں آ رہی تھی لیکن وہ اس بے بسی و جھنجھلاہٹ کا کیا کرتا جو اس پر سوار ہو رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح سے کھینچ کر شمائل کو اکیڈمی میں لے آتا ۔۔۔
عجب ہی عالم تھا وہ ۔۔۔کہاں وہ شمائل حسن کو بے بسی کی انتہا کو چھوتا دیکھنا چاہتا تھا اور کہاں ابھی خود ہی بے بس پرندے کی مانند پھڑپھڑا رہا تھا ۔۔۔
دیکھو عدنان میں تمہاری رنگین فطرت کے بارے میں بخوبی واقف ہوں وہ لڑکی تمہاری سوچ سے زیادہ خوبصورت ہے ایک دفعہ اسے دیکھو گے تو تمہاری رال ٹپک پڑے گی۔ ۔۔ اس لیے میری پلاننگ کو کامیاب بنانے کے لیے کچھ سوچو اس کے بعد تم اس لڑکی کے ساتھ کیا کرتے ہو یہ میرا مسئلہ نہیں ہوگا ۔۔۔ نوفل درانی کے اس کی جانب جال پھینکنے پر وہ قہقہ لگاتا محظوظ ہوا تھا۔۔۔
رنگین فطرت تو تمہاری بھی کچھ کم نہیں ہے نوفل تم خود یہ کام کیوں نہیں کرلیتے۔ ۔۔
میں اس لڑکی کو اپنے قابل نہیں سمجھتا ۔۔ عدنان کے کہنے پر وہ ترخ کر گویا ہوا ۔۔۔۔
عدنان کے باپ کا بہت بڑے پیمانے پر امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھا۔۔۔ یہ اکیڈمی بھی اس نے اپنی رنگین فطرت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہے ایک سے بڑھ کر ایک نئی لڑکی سے دوستی گانٹھ کر اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کی تھی۔ ان میں سے بہت سی لڑکیاں تو باآسانی اسکے سٹیٹس کو دیکھتیں اسکے دام میں پھنس جاتی تھیں اور جو اسکے قابو میں نہیں آتی تھیں انہیں مختلف طریقوں سے بلیک میل کر کے اپنے احداف حاصل کئے جاتے تھے۔ ۔۔
وہ اس فیلڈ کا گھاک شکاری بن چکا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ نوفل نے شمائل حسن سے بدلا لینے کے لئے عدنان کا ہی انتخاب کیا تھا۔ ۔۔
چلو اگر تم کہتے ہو تو اکیڈمی کی جانب سے اسے ایک رینڈم میسج کروا دیتا ہوں کیونکہ اب تو تمہاری اس شمائل حسن سے ملنا ناگزیر ہو چکا ہے۔۔۔ عدنان دور کسی تصور کی آنکھ سے اس پری پیکر کا چہرہ تصور کرتا گویا ہوا ۔
******
ابا میں کسی اور سے بات نہیں کر رہی۔۔۔ میں صرف آپ کے سامنے دست سوال دراز کیے آئی ہوں کیا آپ مجھے آگے تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے دوسرے گاؤں میں موجود سکول میں داخلہ دلوائیں گے یا نہیں ۔۔۔ اگلے روز شام کے وقت گڑیا سوجھی سرخ آنکھوں سمیت اپنے کمرے سے نکلتی صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھے باپ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتی گویا ہوئی تو کتنی ہی دیر تک آفتاب خاموشی سے اپنی شہزادی کو دیکھتا رہ گیا جس کی آنکھوں میں وہ ایک الگ ہی بغاوت کا ٹھاٹھے مارتا سمندر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
گڑیا کیا تمہیں احساس ہے کہ تمہارے باپ نے تم تینوں کی خاطر کتنی قربانیاں دی ہیں۔۔۔ تم لوگوں کی ضروریات اور ہر خواہش کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے کیا کیا کچھ سہا ہے ۔۔۔فاطمہ نے بیٹی کے تیور دیکھتے اسے ایک مرتبہ پھر سے سمجھانے کی ادنی سی کوشش کی۔۔۔
میں سب جانتی ہوں امی مانتی بھی ہوں اور بلاشبہ یہ باپ ہی ہوتا ہے جس کی موجودگی میں بیٹیاں شہزادیاں ہوتی ہیں ۔۔۔
یہ باپ ہی ہوتا ہے جس کی موجودگی میں بیٹیاں راج کرتی ہیں ورنہ کیا آپ نے کسی یتیم کو اتنے حق اور مان سے اپنی باتیں منواتے دیکھا ہے کسی سے ۔۔۔
بلاشبہ وہ گڑیا ہی تھی اور فاطمہ ہر مرتبہ اس کے سامنے لاجواب ہوکر اس کی ذہانت اور حاضر جوابی کو سراہے بنا نہیں رہ پاتی تھی ۔۔۔۔
مانتی ہوں کہ ابا نے آج تک ہمارے لئے بہت کچھ کیا ہے اور جہاں ابا نے ہمارے لیے اتنا کچھ کیا ہے وہاں ابا مجھے روزانہ دو میل دور اسکول لیجانے اور لے آنے کی ذمہ داری بھی بخوبی و احسن سر انجام دے سکتے ہیں ۔۔۔ ہے نا ابا آپ دیں گئے نہ مجھے اجازت۔ ۔۔
وہ ایک دم نیچے سے اٹھتی آبا کے ساتھ چارپائی پر بیٹھتی ان کے کندھے پر سر رکھتی نم آنکھوں اور مان بھرے لہجے سے گویا ہوئی ۔۔
بلاشبہ وہ اپنی بات منوانے کے ہر حربے سے آگاہ تھی اور اس قدر مان اور محبت کے مظاہرے پر کون قربان نہ جاتا ۔۔۔
آفتاب صاحب نے نم آنکھوں سے اس کا سر تھپتھپاتے ہاں میں سر ہلایا تو وہ کھل اٹھی تھی۔ ۔۔
جبکہ فاطمہ نیچے چہرہ جھکائے آنسو پیتی رہ گئ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ آفتاب نے گڑیا کی ضد کے آگے ہار مانتے اس سے اجازت تو دے دی مگر گاوں والوں کے ساتھ پورا اترنا ان کے لیے ایک بڑا محاذ ثابت ہونے والا تھا۔
*******
روڈ کراس کرتے ہوئے آپ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے مجھے آپ کو یہاں پر لانا پڑا۔۔۔۔ شکر ہے کہ آپ کو ہوش آگیا ۔۔۔
شمائل کافی دیر سے اس لڑکی کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہی تھی بالآخر دو گھنٹوں کے جان گسل انتظار کے بعد اس لڑکی کو ہوش آیا تو شمائل بیتابانہ اس کی جانب بڑھی۔ ۔۔ آپ پلیز اپنے گھر میں سے کسی کا کانٹیکٹ نمبر دے دیں تاکہ انہیں آپ کی حالت کے بارے میں مطلع کیا جا سکے ۔۔۔ شمال اپنا کافی وقت وہاں اس لڑکی پر صرف کر چکی تھی اس لیے اب وہ جلد از جلد اس کے لواحقین سے رابطہ کرتی وہاں سے واپس جانا چاہتی تھی۔۔۔
میری مدد کرنے کے لئے تمہارا بہت بہت شکریہ پیاری لیکن مجھ جیسی لڑکیوں کے لواحقین نہیں ہوا کرتے ۔۔۔وہ لڑکی کرب سے گویا ہوتی ہاتھ میں لگی ڈرپ کو ایک جھٹکے سے اتارتی اٹھ بیٹھی ۔۔۔
ارے یہ آپ کیا کر رہی ہے ۔۔۔۔ شمائل نے جلدی سے اس کی جانب بڑہتے اس کے ہاتھ پر زور سے اپنے ہاتھ کا دباو ڈالاجہاں سے خون کی ننھی ننھی بوندیں نکلنے لگی تھیں۔۔۔
دیکھنے سے تم مجھے کسی شریف گھرانے کی لڑکی لگ رہی ہو لڑکی۔۔۔ تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ تم مجھ سے دور رہو ورنہ تمہارا یہ عمل میرے ساتھ ساتھ تمہیں بھی اس معاشرے کی نظر میں بدنام بنا سکتا ہے ۔۔۔ اس لڑکی کا لہجہ پراسرار اور ہر طرح کے جذبات سے عاری تھا جسے دیکھ کر شمائل ٹھٹھکی اور بے ساختہ دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔
کون ہو تم ۔۔۔ شمائل۔نے تعجب سے پوچھا۔۔۔
ہنہہ۔ ۔۔ بد نام۔۔۔ بدکار۔۔۔ بد چلن۔۔۔ کال گرل۔۔۔ طوائف تم کچھ بھی کہہ سکتی ہو ۔۔۔ اس کا اس قدر ٹھنڈا لہجہ شمائل کے جسم میں ایک سنسنی دورا آگیا ۔۔۔
اس کا دل چاہا کہ بنا مزید کوئی بات کئے وہ سرپٹ وہاں سے غائب ہوجائے مگر پھر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوتی اڑے اڑے حواسوں سمیت گویا ہوئی۔۔۔
تو کیوں اس قدر گھٹیا کام کرکے خود پر اسقدر گھٹیا لیبل چسپاں کرواتی ہو ۔۔۔
جب عزت کے لٹیرے باہر کی بجائے گھر میں موجود ہوں تب وہاں پر ایسے سب سوال بے بنیاد ٹہرائے جاتے ہیں۔۔۔پندرہ سال کی عمر میں میرے سوتیلے باپ نے مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا اس کے بعد پیٹ کی آگ نے اور ماں کی بیماری نے مجھے اس کام پر مجبور کر
دیا۔۔۔ آج میری ماں کو بھی مرے ہوئے دو سال ہو گئے افسوس کے میری اس روش سے اکھٹا کیے جانے والا پیسہ بھی میری ماں کی جان نہ بچا پایا ۔۔۔ شمائل نے نوٹ کیا کہ وہ لڑکی بہت مشکل سے خود پر ضبط کئے بیٹھی تھی ۔
جب مجبوری ہی ختم ہو گئی تو پھر چھوڑ کیوں نہیں دیتی یہ راستہ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا عزت کی زندگی گزارنے کو۔ ۔۔ شمائل جانچتی نگاہوں سے سر تک پیر اس کا جائزہ لیتی گویا اس کی بات میں موجودہ سچائی کو جاننا چاہ رہی تھی ۔۔۔
اس بے رحم معاشرے میں یہ کوشش بھی بے کار ہے دنیا جینے نہیں دیتی یہ دنیا ایک زمانہ بد نام لڑکی کو عزت سے سر اٹھا کر جینے کا حق نہیں دیتی ۔۔ اور اب تمہیں میرا ایک مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ دوبارہ اگر مجھ جیسی کوئی لڑکی تمہیں کہیں پڑ بھی ملے تو بجائے اس کی مدد کرنے کے لخاموشی سے وہاں سے نکل جانا یہی چیز تمہارے حق میں بہتر ہو گی ۔۔۔
یہ میرا کارڈ ہے۔۔۔ تم نے میری بہت مدد کی جس کے لئے میں تمہاری شکرگزار ہوں۔۔۔ اگر زندگی کے کسی مقام پر تمہیں میری مدد کی ضرورت محسوس ہو تو تم مجھ سے رابطہ کر سکتی ہوں تمہاری مدد کرکے مجھے دلی خوشی ملے گی ۔
وہ پر اسرار لڑکی جس طرح ناگہانی طور پر اس کی زندگی میں شامل ہوئی تھی اسی طرح بنا کچھ کہے اپنا کارڈ اسے تھماتی خاموشی سے ہسپتال کے اس کمرے سے نکل گئی ۔۔۔ جبکہ شمائل حیرت سے قسمت کے اس ہیر پھیر کو سمجھتی رہ گئ۔
*******
ہسپتال سے واپسی پر شمائل کافی دیر تک احمر کی دی گئ اسائنمنٹ کو مکمل کرتی رہی تھی۔۔۔ مگر آج کے تھکان بھرے دن کے اختتام پر وہ مزید کام کرنے کا ارادہ ترک کرتی سب کچھ سمیٹتی لیٹ گئی جب سونے سے پہلے اس نے ایک دفع اپنا موبائل چیک کیا تو اکیڈمی سے موصول ہونے والا میسج دیکھتی اٹھ بیٹھی۔۔۔ وہ اکیدمی کی جانب سے آنے والا ایک اجتماعی میسج تھا جس میں اکیڈمی کے مینجر کی طرف سے سبھی امیدواروں کو انٹرویو کینسل ہونے اور کل اسی وقت دوبارہ سے انٹرویو ہونے کی اطلاع بہم پہنچائی گئ تھی۔۔۔ میسج پڑھ کر حور نےسکون کا سانس خارج کیا ۔۔۔ بلاشبہ ابھی اس کے پاس جاب کا ایک آپشن موجود تھا۔۔۔ وہ پرسکون ہو کر لیٹ گئ۔۔۔ اب اسے سکون کی نیند آنی تھی۔۔۔
رات جلدی سونے کے باعث وہ صبح جلد ہی اٹھ گئ۔۔۔ احمر کی دی اسائمنٹ مکمل کر کے وہ یونیورسٹی کے لئے تیار ہوئی۔۔۔
آج کا سارا دن مجموعی طور پر اسکا اچھا گزرا تھا اور اب وہ اکیدمی کی پر شکوہ عمارت کیسامنے کھڑی اندر جانے سے پہلے ایک بار اسکا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔ وہ پر امید تھی کہ یہ جاب اسے ہی ملے گی۔۔ ایک گہری سانس خارج کرتی مضبوط قدم اٹھاتی وہ اکیدمی کی جانب بڑھی۔۔۔
******
آفتاب کے گڑیا کو دوسرے گاوں داخلہ دلوانے کی بات گاوں میں پھیلتے ہی بونچال آ گیا تھا ۔۔ جتنے منہ اتنی باتیں ہونے لگیں تھیں۔۔ لوگ الگ الگ انداز میں اس بات پر اظہار رائے دینے لگے تھے۔۔۔
ارے میں کہتا ہوں آج تک کسی نے گاوں میں ایسی حرکت نہیں کی جو تو نے کر ڈالی آفتابے۔۔۔ جاوید آفتاب کے گھر کھڑا غصے سے بھڑاس نکال رہا تھا۔۔۔ آفتاب صحن میں بچھی چارپائی پر سر جھکائے بیٹھا خاموشی سے بھائی کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔ فاطمہ کو سبھی حالات کا پہلے سے اندازا تھا اسی لئے وہ اس منہ زور ہوتے طوفان کے ریلے کے آگے بند باندھنا چاہتی تھی۔۔۔۔
صد شکر تھا کہ گڑیا سکول گئ ہوئی تھی ۔۔۔ جو وہ گھر موجود ہوتی تو باپ کا جھکا سر دیکھ ناجانے کیسا طوفان اٹھاتی۔۔۔ تب شاید بڑوں کا لحاظ بھی جاتا رہتا۔۔۔
آج تک ہماری سات پشتوں میں کسی کی لڑکی اتنی دور پڑھائی وڑھائی کہ چکروں میں نہیں گئ۔۔۔ پڑھائی کا تو محض نام ہوتا ہے درحقیقت یہ آوارہ گردی اور عیاشیاں ہوتی ہیں جو اس پڑھائی کی آڑ میں کی جاتی ہیں۔۔۔
میں کہے دے رہا ہوں۔۔۔ کل کو کوئی نیا چاند چڑھا آئے گی چھوکڑی۔۔۔ اس سے پہلے کہ کل کلاں کو تیرے منہ پے کالاک مل کے چل دے وقت رہتے۔۔۔۔
بس لالا۔۔۔۔ اپنی بیٹی کے خلاف میں ایک لفظ نہیں سنوں گا۔۔۔۔ آفتاب کی برداشت یہیں تک تھی۔۔۔ جھکا سر اٹھاتے وہ حتمی انداز میں مگر تحمل سے گویا ہوا۔۔۔
ارے کس کس کی زبانیں بند کرے گا تو۔۔۔ باہر نکل کر دیکھ دنیا کیا کیا کہہ رہی ہے نواب زادی کے بارے میں۔۔۔ کہ کہیں آنکھ مٹکا کر آئی ہے اور اسی کی کشش اب اسے دوسرے گاوں تک کھینچ رہی ہے۔۔۔ ویسا ہی بے غیرت باپ تو جس نے بیٹیوں کو گھل کھلانے کو شتر بے مہار چھوڑ رکھا ہے۔ فاطمہ نے کرب سے آنکھیں بند کی۔۔۔ اسی دن سے وہ ڈرتی تھی۔۔۔
میں اپنی بیٹیوں کے بارے میں بہتر جانتا ہوں لالا۔۔۔۔
خاک بہتر جانتے ہو تم آفتاب۔۔۔ شادی کی عمروں کو پہنچ چکی ہیں تمہاری بیٹیاں مگر ابھی تک باپ کی دہلیز پکڑے بیٹھی ہیں۔۔۔ اور جو لچھن ہیں ان کے امید نہیں کہ کوئی رشتہ اس دہلیز پر آئے گا۔۔۔ اب کی بار رقیہ ہاتھ نچاتی سامنے آئی تھی۔۔۔ آفتاب نے بہت ضبط سے یہ کڑوا گھونٹ پیا تھا۔۔۔ کافی دیر تک بکتے جھکتے وہ دونوں میاں بیوی وہاں سے نگل گئے تو دو بے بسی بڑے آنسو آفتاب کی آنکھوں سے ٹوٹے۔۔۔
بیٹی کی ضد انہیں کس کس طرح سے خوار کر سکتی تھی وہ پہلے سے جانتا تھا مگر اب عملی طور پر یہ نشتر سہنا انہیں بہت کمزور اور کم ہمت کر رہا تھا۔۔۔ یہ درد ناقابل برداشت تھا جو سینے پر اپنوں کے لگائے گھاو سے ہو رہا تھا۔
******
