Gumaan Se Agy By Umme Hania Readelle50343 Gumaan Se Agy (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Gumaan Se Agy (Episode 1)
Gumaan Se Agy By Umme Hania
اسے اپنے سر اور آنکھوں پر ایک نا محسوس سا بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔اپنی تمام تر ہمت مجتمع کرتے اسنے نہایت دقت سے آنکھیں وا کئیں۔۔۔ کچھ پل لگے تھے اسے ماحول سے مانوس ہوتے۔۔۔ لیکن سب یاد آتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔ اسنے ہراساں نگاہوں سے ارد گرد دیکھا وہ ایک ویران جگہ تھی جس میں ایک خستہ ہال اور سیلن زردہ دیواروں کے حامل کمرے میں وہ سخت پتھریلی زمین پر موجود تھی ساتھ ہی کچھ لکریوں کے گھٹھر پڑے تھے۔۔۔
وہ خوفزدہ نگاہوں سے کسی سہمی ہوئی ہرنی کی مانند اردگرد دیکھ رہی تھی جب اپنے پیچھے پڑنے والے قہقے کی آواز پر اسنے جھٹکے سے پلٹ کر دیکھا۔۔۔ آپ۔۔۔ سامنے موجود کرسی پر کروفر سے بیٹھے شخص کو دیکھتے اسکی آنکھیں حیرت سے وا ہوئی تھیں۔۔۔۔۔
ہاں میں۔۔۔ کیسا محسوس ہو رہا ہے تمہیں میری قید میں آ کر جان من ۔ تمہیں کیا لگا تھا کہ میں اپنی بے عزتی اتنی جلدی بھول جاوں گا۔۔ تمہیں حساب دینا پڑے گا۔۔۔ ایک ایک چیز کا حساب۔۔۔ تم سے تمہاری ذات کا مان نہ چھین لیا نہ تو کہنا ۔۔۔ آج یہاں سے تم نکلو گئ تو تمہارے چہرے پر نصیب کی وہ کالک اور سیاہی ثبت ہو گئ کہ کسی سے تو کیا تم خود سے بھی نگاہیں نہیں ملا پاو گئ۔۔۔ تم جیسی بدبخت بیٹی کے باعث لوگ تمہارے باپ پر تھو تھو کریں گئے۔۔۔ ذلیل و خوار نہ کر کے رکھ دیا نا تمہیں تو کہنا کہ میرا نام۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔
وہ شخص متکبرانہ التقابات سے اسے نوازتا کرسی سے اٹھتا اسکی جانب بڑھا تھآ۔۔۔ اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھا وہ سہمی ہوئی ہرنی سرعت سے اٹھی تھی۔۔۔ سفید کالج کے یونیفارم پر جگہ جگہ مٹی لگ چکی تھی۔۔۔ لمحوں میں اسکی آنکھیں پانیوں سے بھری تھی۔۔۔ جب موت تہہ ہے تو لڑ کر مروں گی نہ پہلے ہی کیوں ہتھیار ڈال دوں اس طاقتوار فرعون کو دیکھتے اس دھان پان سی لڑکی کی اندرونی انا اور عزت نفس نے انگرائی لی تھی نہتہ بنا لڑے مرنے کے احساس نے اس کے حوصلوں کو وسعت دیتے پرواز بخشی تھی۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ شخص اس پر جھپٹتا اس لڑکی نے اپنی پوری قوت سے ٹانگ اس شخص کے پیٹ کے نچلے حصے پر ماری تھی وہ شخص درد سے بلبلاتا جھک کر دونوں ہاتھ مخصوص جگہ پر رکھتا کچھ قدم پیچھے ہٹا تھا وہ اس دھان پان سی لڑکی سے اتنی جرات کی امید نہیں رکھتا تھا۔۔۔
وقت کے فرعون کیا تو نہیں جانتا کہ وہی اللہ ہے جو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے پھر تو نے کیا سوچ کر آج میری تقدیر میں سیاہیاں بھرنے کا خدائی دعوی کیا۔۔ وہ خون آشام نگاہوں سے اسے دیکھتی بنا اسے سمبھلنے کا موقع دیئے پاس پڑے لکڑیوں کے گھٹھر سے ایک مضبوط لکڑی اٹھائے بنا پوری قوت سے اس پر پے در پے وار کر رہی تھی۔۔۔ اس لڑکی کا سانس بری طرح پھولنے لگا تھا ماتھے پر پسینے کے ننھنے قطرے چمک اٹھے تھے۔۔۔
اندر سے سوکھے پتے کی مانند تھر تھر کانپتی بظاہر وہ خود پر بہادری جرات اور حوصلے کا لبادہ اوڑھے مقابل سے اپنا ڈر و خوف چھپائے کھڑی تھی۔۔۔ اسقدر جرات اور حوصلے کا مظاہر کرتے بھی متوقع صورتحال کے پیش نظر اس پر کپکپی طاری ہو رہی تھی۔۔۔ کپکپاتے ہاتھوں میں تھامی مضبوط لکڑی کو مزید تھامے رکھنا دشوار ثابت ہو رہا تھا مگر وہ سب کچھ اپنے اندر دبائے ثابت قدم کھڑی تھی۔۔۔۔جبکہ اس خستہ حال کمرے میں اس شخص کی کراہیں گھونج رہی تھیں۔۔۔
بیٹی ہوں تو کیا ہوا اب مجھ سے جینے کا حق تک بھی چھینوں گے۔۔۔ میرے باپ کا سر ہمیشہ میرے باعث فخر سے بلند ہوگا۔۔۔۔میرے باپ کو رسوا کرنے اور نیچ دکھانے کی خواہش تم قبر کی مٹی میں ہی ساتھ لے کر جاو گئے کیونکہ میرے ہوتے ہوئے تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔۔۔۔ بیٹیوں کے متعلق تم جیسے گھٹیا شخص اور انکی گھٹیا سوچ کو تیل ڈال کر آگ لگانے کے لئے ہی میرا نزول ہوا ہے۔۔۔ اسنے ایک اور ضرب پوری قوت سے اسکے سر پر لگائی تھی۔۔۔ لمحوں میں وہ فرش خون سے لال ہوا تھا۔۔ نجانے کون کونسی محرومیوں کے بدلے آج وہ قدرتی طور پر وقت کی جانب سے ملے موقع پر اس سے لے رہی تھی۔۔۔ بلآخر ہانپتی ہوئی وقت کی نزاکت کا احساس کرتی وہ اسے وہیں چھوڑے اپنا کالج بیگ اٹھاتی بعجلت وہاں سے بھاگی۔۔۔ اسکے کالج کی چھٹی دو بجے ہوتی تھی اب نجانے کیا وقت تھا اور وہ نجانے کہاں تھی اسے جلد از جلد اپنے گھر پہنچنا تھا جہاں نا جانے اسکی گمشدگی کے باعث کیاحالات تھے
**********
سورج کی نرم گرم کرنیں بادلوں کے سنگ آنکھ مچولی کھیلتی ایک پل کو اپنی چھب دکھلاتی تو ہر سو جیسے سنہری چمک ابھر اٹھتی مگر دوسرے ہی پل بادل بھرپور اس کھیل میں حصہ لیتے اپنا اہم کردار ادا کرتے پورے استحقاق سے سورج کو اپنے پیچھے چھپاتے ہر منظر پر قبضہ آور ہوتے اس سے اسکا سنہری پن چھین لیتے لیکن اس کھیل میں تادیر کامیاب نا رہ پاتے جب سورج ان پر سبقت لے جاتا اور پھر سے اپنی حدت اور روشنی سے زمین کو منور کرنے لگتا۔۔۔۔ انکی آنکھ مچولی کا یہ کھیل صبح سے جاری تھا جس سے کچھ لوگ تو لطف اندوز ہو رہے تھے جبکہ کچھ لوگ خاصے بیزار دکھائی دے رہے تھے۔۔۔
ایسے میں ایک پری پیکر چہرا ہاتھوں میں فائل تھامے کندھے پر نفیس سا بیگ لٹکائے اٹھی گردن اور ہیروں کی مانند چمکتی آنکھوں میں مستقبل کے کئ خواب سجائے مضبوط مگر متوازن چال چلتی یونیورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔۔ اسنے خاموش مگر جگر جگر کرتی نگاہوں سے اردگرد کا جائزہ لیا۔۔۔ آج یونیورسٹی میں اسکا پہلا دن تھا۔۔۔۔ وہاں اسے تاحد نگاہ ہر رنگ ہر روپ اور ہر طرح کے طبقے سے تعلق رکھتے لڑکی اور لڑکے دکھائی دے رہے تھے۔۔۔بے فکری و آزادی سے چہکتے پھرتے کچھ گراونڈ میں ٹولوں کی صورت موجود خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔ جبکہ کچھ ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے۔۔۔ وہ سب چیزوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔ یہ اسکی بچپن سے عادت تھی اور اس میں چیزوں کو اڈاپٹ کرنے اور ان سے سیکھنے کی صلاحیت اپنے گھر کے باقی ہونہاروں سے کچھ زیادہ تھی۔۔۔۔
جگہ جگہ پر کچھ سینیئر سٹودینٹس فریشرز کو انکی کلاسز کے متعلق گائیڈ کر رہے تھے۔۔۔۔ لیکن وہ پہلے ہی دن ریکنگ کا نشانہ بنتی خود پر احمق عظیم کا ٹیگ نہیں لگوا سکتی تھی۔۔۔۔۔ یہ سراسر اسکی اپنی سوچ تھی۔۔۔ اپنے پورے خاندان سے یونیورسٹی آنے والی وہ پہلی لڑکی تھی جسکے حوصلے چٹانوں سے مضبوط مگر وسائل ضرورت سے زیادہ ہی کچھ محدود تھے۔۔۔ اپنے بقا کی جنگ لڑتی وہ تن تنہا ہی ایک زمانے سے ٹکر لئے یہاں تک پہنچی تھی۔۔۔ یہاں پہنچنے تک اسنے آبلہ پائی کا سفر طے کیا تھا مگر یہ تو ابھی شروعات تھی آگے تو ایک لمبا سفر جگہ جگہ خلیج رکاوٹوں کا پراسرار جہان آباد کئے اسکے حوصلوں کی مضبوطی اور ارادوں کی پختگی ناپنے کو تیار کھڑا تھا۔۔۔
تھوڑا آگے جا کر اسے گراونڈ میں ایک جانب مجمع لگا دکھائی دیا تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوتے اسکے قدم خودبخود اسے اس بھیڑ کا حصہ بنانے اس جانب اٹھے لوگوں کے مجمعے میں اسنے ایڑیاں اٹھا کر اچک کر اندر دیکھنے کی کوشیش کی ۔۔۔ سامنے ایک لڑکی اپنا آنچل لہراتی آنکھیں مٹکاتی آواز پر ڈبلنگ کر رہی تھی جبکہ اسکے پیچھے پیچھے آتا لڑکا دل کے مقام پر ہاتھ رکھے گرنے کی بھرپور اداکاری کر رہا تھا وہ لوگ ٹک ٹاک بنا رہے تھے۔۔۔ وقوعہ سمجھ میں آتے ہی وہ سیدھی ہوتی سنجیدہ صورت بنائے آگے بڑھی۔۔۔ کوئی بھی شخص اسکے چہرے کے تاثرات سے اسکے اندرونی جذبات سمجھنے سے ہمیشہ سے قاصر ہی رہا تھا۔۔۔کسی بھی چیز کے بارے میں اتفاق رائے یا اختلاف رائے کا حق وہ ہمیشہ اپنے پاس محفوظ رکھتی تھی۔۔۔۔
ابھی وہ گراونڈ سے باہر نکلتی روش پر آئی ہی تھی جب کسی سے بے طرح ٹکرائی۔۔۔۔ تصادم کے نتیجے میں اسکے ہاتھ میں تھامی فائل زمین بوس ہوئی تھی جس میں موجود کاغذات ہوا کے دوش پر جابجا ادھر ادھر بکھرے تھے۔۔۔
اتنی بڑی بڑی بٹنوں کی حامل آنکھوں کی بینائی کیا ڈبی میں بند کئے گھر رکھ کر آئے ہو جو سامنے سے آتا کوئی زی روح تمہیں دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ یونیورسٹی داخل ہونے کے بعد یہ شمائل حسن کی پہلی لب کشائی تھی۔۔۔۔ اس شخص کی اس غیر ذمہ درانہ حرکت سے لمحوں میں اسکا دماغ گھوما تھا صبیح پیشانی پر جابجا شکنوں کا جال بچھا تھا جس کے باعث وہ آنکھوں کو مزید چھوٹا کئے سامنے والے سے مستفسر تھی جو پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے لب بھینچے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس لڑکی کے اتنے بدتمیزانہ طرز تخاطب نے اسکے اندر شعلے بھڑکائے تھے۔۔۔ بھلا پہلے کہاں سہا تھا اسنے کسی کا ایسا انداز و لہجہ ۔۔۔۔ نہیں میری بینائی تو میرے پاس ہی ہے۔۔ البتہ تم جیسی لڑکیاں ہینڈسم اور امیر گھرانے کے لڑکوں کو دیکھتی اپنی بینائی کیساتھ ساتھ اپنی عقل و فہم اور نسوانیت کو بھی گھر میں گروی رکھے خود کو باقیوں میں نمایاں کرنے اور توجہ حاصل کرنے کو ایسے گھٹیا سٹنٹ کرتی ہیں۔۔۔ تاکہ خیرات میں کسی کے دو پل کے التفات کو جھولی میں ڈال سکیں اور تم جیسیوں کے لئے یونیورسٹی اپنے ایسے کارناموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوتی ہے۔۔۔۔
مقابل اس پر سوا سیر تھا۔۔۔ لہجے کی تپش کو لفظوں کی صورت اگلتے وہ شمائل کو جلا کر بھسم کر دینے کے در پر تھا۔۔۔ آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ اردگرد کے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے۔۔۔ ٹک ٹاک بنانے کے لئے موجود مجمع اب اپنی سرگرمیاں ترک کرتا انکی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔۔۔ دل کی بھراس نکال لینے پر اب مقابل فاتحانہ نگاہوں سے شمائل کی اڑی اڑی رنگت دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ شمائل اسکی اس قدر بیہودگی پر خون کے گھونٹ پی کر رہ گئ تھی۔۔۔ صورتحال اسکی توقعات سے برعکس ہو چکئ تھی۔۔۔ یونیورسٹی کے پہلے ہی دن وہ اپنی ریپوٹیشن خراب کرنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ مقابل پر وار کرنے کو ہتھیاروں کی اسکے پاس بھی کمی نا تھی۔۔۔ تاریخ گواہ تھی کہ وہ جب جب اپنی کرنی پر آئی تھی مقابل کو بھسم کر کے ہی چھوڑتی تھی مگر یہاں پر بھی باپ کا بے بسی بھرا وعدہ آڑے آگیا جو انہوں نے بیٹی کی باغی فطرت دیکھتے اسے یونیورسٹی جانے کی اجازت دیتے لیا تھا۔۔۔
مسٹر تمہارے اندھے پن کی وجہ سے میری فائل زمین بوس ہو چکی ہے انہیں اکھٹا کون کرے گا۔۔۔ مجمع لگا دیکھ اور بات کو مزید بڑھتا دیکھ وہ ضبط کرتی تحمل سے اپنی تیکھی ناک چڑھاتی جو کہ اسکے پرکشش چہرے کو مزید جاذبیت بخشتی تھی بکھرے کاغذات کی جانب اشارہ کرتی گویا ہوئی۔۔۔
سات ملکوں کے جھنڈے کو اکھٹا کر کے نہیں لینا تھا نا خود کو پارسا ظاہر کرنے کی گھٹیا کوشیش نے یہ سب کیا ہے۔۔۔وہ دل جلاتی مسکراہٹ چہرے پر سجائے اسکے سر پر سلیقے سے اوڑھے آنچل کو دیکھتا طنزیہ گویا ہو۔۔۔ اس سے ٹکر لینے والا اپنے ہونے پر پچھتاتا تھا خود سے پنگا لینے والوں کے لئے وہ اسقدر ہی برا ثابت ہوتا تھا۔۔۔ یہ تو پھر ایک معمولی سی لڑکی تھی اسے وہ کس خاطر میں رکھتا بھلا۔۔۔۔
شٹ آپ گھٹیا انسان۔۔۔ بس اسکی ضبط کی طنابیں یہں تک تھیں جو مزید اسکی گھٹیا الفاظی سنتی جھٹکے سے چھوٹیں تھی۔۔۔ وہ شخص مسلسل اسکی ذات پر کچوکے لگا رہا تھا اب میدان میں اترنا ناگزیر ہو گیا تھا۔۔۔ وہ بھوکی شیرنی بنی مقابل پر جھپٹی تھی اسکا ہاتھ ابھی پوری طرح سے مقابل کے گریبان پر پڑا بھی نا تھا جب نوفل نے پوری قوت سے اسکا ہاتھ جھٹکا ۔۔۔۔۔ یہ سب نوفل کے لئے بھی غیر متوقع تھا ایک معمولی سی لڑکی اور اتنی جرات کہ وہ نوفل درانی کے گریبان پر ہاتھ ڈالتی۔۔۔ اندر سر ابھارتی شدت جذبات کی شوریدہ سر سرکش لہروں پر بند باندھنے کی اسنے ضرورت محسوس نا کی تھی۔۔۔ آنکھوں سے وحشت اور جنون ٹپکنے لگا تھا اسکے ہاتھ جھٹکتے ہی وہ اپنا اور صنف نازک کا فرق مٹائے اسکی جانب لپکا تھا غصے میں وہ ایسے ہی بے قابو ہو جایا کرتا تھا۔۔۔ نوفل چھوڑو سب چلو یہاں سے۔۔۔ عین موقع پر زامن نے اس بپھرے طوفان کو پیچھے سے جکڑتے دور ہٹانا چاہا جبکہ وہ سرکش اور اتھرے گھوڑے کی مانند لپک لپک کر شمائل کی جانب بڑھ رہا تھا کہ کسی طرح سے اسے زندہ درگو کر ہی دے۔۔۔ اتنی دیر میں بڑے بڑے گول شیشوں کی عینک بیضوی چہرے پر لگائے ایک لڑکی نے سرعت سے نیچے بکھرے تمام کاغذات اکھٹے کئے غصے میں جلتی بھنتی شعلے برساتی نگاہوں سے نوفل کو دیکھتی شمائل کو بازو سے کھینچتے منظر سے ہٹانا چاہا۔۔۔
یہ شمائل حس اور نوفل درانی کی پہلی ملاقات تھی ۔۔۔ مجھے گھٹیا کہنے والے گھٹیا انسان تمہاری آج کی بےعزتی کا بدلہ میں نے تم سے سود سمیت نا لیا نہ ۔۔۔ تو کہنا کہ شمائل حسن تم ایک باپ کی اولاد نہیں کیونکہ شمائل حسن نے معاف کرنا تو سیکھا ہی نہیں۔۔۔ ایک اجنبی لڑکی کیساتھ کھینچتی جاتی وہ مسلسل چہرا موڑے اس باغی و سرکش شخص کی جانب دیکؑھتی خود سے مخاطب تھی۔۔۔
چوبیس گھنٹے۔۔۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر مجھے اس لڑکی کا سارا بائیو ڈیٹا چاہیے۔۔۔ دو دن کے اندر اندر مجھے یہ لڑکی اس یونیورسٹی سے باہر چاہیے وہ بھی بھرپور ذلالت کیساتھ۔۔۔۔ کینٹین میں اپنی مخصوص ٹیبل پر بیٹھتا وہ خون آشام نگاہوں سے بے چینی سے بالوں میں ہاتھ پھیڑتا چٹکی بجاتا مضطرب سا اپنے سامنے بیٹھے ضامن اور علایہ سے گویا ہوا جسے سنتے ان دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کی جانب دیکھا کہ نوفل درانی جو سوچتا تھا اس پر کاربند ہو کر ہی رہتا تھا۔۔۔ انہیں اس لڑکی کی قسمت پر ترس آ رہا تھا جسکا آج یونیورسٹی میں پہلا دن تھا مگر دو دن بعد آخری دن ثابت ہونے والا تھا۔
نجانے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا تھا۔۔۔
********
سورج اپنی مٹیالی کرنیں سمیٹتا واپسی کے در پر تھا پرندے دن بھر کی لمبی اڑان اور مسافت کے بعد غول در غول اپنے ٹھکانوں پر واپسی کے در پر تھے۔۔۔۔
ایسے میں اس بڑے سے صحن کے ایک طرف لگے برگڈ کے درخت کے نیچے موجود تخت کے نیچے بیٹھی بی بی خانم اضطراری کیفیت میں سامنے موجود کمرے کے بند دروازے کی جانب بار بار دیکھتی جیسے کسی کی منتظر تھی۔۔۔۔ پاس ہی صحن میں بچھی چارپائیوں پر سے ایک چارپائی پر بیٹھی رقیہ کی حالت بھی بی بی خانم سے مختلف نہ تھی۔۔۔ سات سالہ سمیرا پانچ سالہ زنیرہ اور تین سالہ عمیرا قریب ہی کچے فرش پر بیٹھیں اپنے چھوٹے چھوٹے کھلونوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔۔۔۔ گھر کا داخلی دروازہ کھلنے کی آواز پر بی بی خانم اور رقیہ دونوں ہی دروازے کی جانب متوجہ ہوئیں۔۔۔
اندر داخل ہوتا آفتاب ماں کو سلام کرتا وہیں انکے پاس ہی تخت پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ سمیرا باپ کو گھر آتا دیکھ جھٹ سے کھیل چھوڑتی بھاگ کر کچن سے مٹی کے گلاس میں ٹھنڈا پانی بھر لائی تھی۔۔۔
سمیرا نے اپنے ننھے ننھے معصوم ہاتھوں سے معصوم مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے گلاس باپ کو پیش کیا تو آفتاب اس ننھی پری کو دیکھتے بےساختہ اسے پیار کر بیٹھے۔۔۔ وہ بچی اتنے میں ہی کھل اٹھی تھی۔۔۔ جبکہ کچھ دور بیٹھی رقیہ نے تنفر اور حقارت سے یہ منظر دیکھا۔۔۔
ہنہہ منہوس۔۔۔۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑاتی سر جھٹک کر رہ گئ۔۔۔۔ اللہ اس بار میرے بیٹے کو بھی بیٹے کی نعمت سے نواز دے تو میں بھی خوش و خرم زرا سکون سے مر سکوں گئ۔۔۔ بی بی خانم نے سامنے بیٹھے خوبرو سے بیٹے کو دیکھتے لمبی آہ بھرتے آنچل کے سرے سے اپنی نم آنکھیں صاف کئیں۔۔۔۔۔
آفتاب ایسے ہی ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے سر جھکائے نگاہیں کسی غیر مری نقطے پر جمائے خاموش بیٹھے تھے۔۔۔ وہ ان لوگوں سے بحث کرتے تھک چکے تھے مگر وہ ہر حربہ استعمال کرکے بھی ہار گئے تھے کیونکہ ان سب کی سوچ ایک ہی نقطے پر سوچتے سوچتے خاصی پائیدار ہوچکی تھی جس پر ضرب لگا کر اس میں ترمیم کرنا اب ممکن نا رہا تھا۔۔
تھک ہار کر وہ ایسے موضوعات پر بولنا ہی ختم کر گئے تھے۔۔۔۔ کمرے میں نصب لکڑی کا دروازہ کھولتے دائی زلیخہ ہاتھ میں ایک نامولود بچہ تھامے نا فہم تاثرات چہرے پر سجائے باہر آئی تھی۔۔ اسے دیکھتے ہی ی بی بی خانم سب کچھ چھوڑ چھاڑ سرعت سے تخت سے اترتی ننگے پاوں دائی زلیخہ تک آئی رقیہ بھی سیدھی ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
میرا پوتا۔۔۔ بی بی خانم نے جذبات سے ٹمٹماتے چہرے سمیت ہاتھ اسکی جانب بڑھائے۔۔۔
چوتھی بیٹی ہوئی ہے آفتاب میاں کے ہاں دائی زلیخہ کے سپاٹ لہجے میں کہنے سے بی بی خانم کے چہرے کی رنگت لٹھے کی مانند سفید ہوئی تھی۔۔۔۔ چہرے کی مسکراہٹ کی جگہ صدمے کے تاثرات نے لے لی تھی۔۔۔ بچے کو تھامنے کی خاطر اٹھائے ہاتھ کٹے ہو شہتر کی مانند نیچے گرے تھے۔۔۔
ہائے او میریا ربا۔۔۔۔ یہ کیا غضب ہو گیا۔۔۔۔۔ ان منحوسوں نے تو میرے بیٹے کے گھر کا راستہ ہی دیکھ لیا۔۔۔ بی بی خانم وہیں چارپائی پر ڈھیر ہوتی سینے پر دو ہتھر مارتی سینہ کوبی کرنے لگی تھی۔۔۔۔
ایک آسودہ مسکراہٹ نے رقیہ کے چہرے کا احاطہ کیا تھا۔۔۔۔ اوپر تلے کی تین اولاد نرینہ نے اسکی گردن میں سریا فٹ کر دیا تھا۔۔۔۔ اب بھی اسکا مقام اس گھر میں اول درجے پر ہی تھا اس عورت کی بھلا اس گھر میں کیا حیثیت جس نے اس خاندان کو پے در پے منحوس ماری چار بیٹیوں سے نوازتے پورے گاوں میں انکی تھو تھو کروائی تھی۔۔۔۔ وہ اس گھر کی بڑی اور چہیتی بہو تھی اور رہے گئ اسکا مقام مصمم تھا۔۔۔
وہ آسودگی سے سہج سہج کر چلتی بی بی خانم کے پاس آئی۔۔۔ بس اماں اس نحوس ماری میں اتنی قابلیت ہے ہی نہیں تھی کہ وہ ایک وارث پیدا کر سکتی۔۔۔ آپ سے بہو ڈھونڈنے کے معاملے میں غلطی ہوگئ۔۔۔
صحن میں کھیلتی تینوں بچیاں اس اچانک آفتاد پر کونوں کھدروں میں چھپ گئ تھیں۔۔۔ دائی زلیخہ وہان کا ماتم کناں ماحول دیکھتی بچی کو کسی اچھوٹ کی مانند چارپائی پر لٹا گئ تھی جسے کسی نے بھی تھامنے کی کوشیش نا کی تھی۔۔۔۔
بچی وہاں تنہا لیتی بھوک کے احساس کے تحت رونے لگی تھی مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔ ان بے حس لوگوں کو تو اس وجود کی حالت اور تکلیف کی بھی پرواہ تک نا تھی جو اندر کمرے میں پڑا اس ننھے وجود کو اس دنیا میں لانے کی خاطر موت کے منہ سے واپس آیا تھا۔۔۔ ان کے لئے وہ عورت معتوب تھی۔۔۔۔ انہیں کوئی پرواہ نہ تھی کہ انکے زہر میں ڈوبے الفاظ کیسے نشتروں کی مانند اس عورت کے دل کو چھلنی کر رہے ہیں جو منہ پر زور سے ہاتھ رکھتی اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے کی کوشیش میں آدھ موِئی ہوئی جا رہی تھی۔۔۔ اس عورت کا گناہ محض اتنا ہی تھا کہ اسنے چوتھی بیٹی کو جنم دیا تھا اور وہ اس خاندان کو ایک وارث نہ دے سکی تھی جو انکی نسل کو آگے بڑھا سکتا ۔۔۔۔۔ جو انکے خاندان کا نام لیوا ہوتا جس کے باعث انکے خاندان کا نام چلتا رہتا
باہر سے اسے اپنی نومولود بیٹی کے رونے کی آوازیں آ رہی تھی جو اسکی دادی اور تائی کے کوسنوں اور بین کے درمیان دب رہی تھی۔۔۔ بے بسی کے شدید حملے کے باعث آنسو پلکوں کی باڑ پھیلانگتے پے در پے بہتے چلے جا رہے تھے۔۔۔ کون کہتا تھا کہ بیٹیاں صرف زمانہ جاہلیت میں ہی زندہ درگو کی جاتی تھیں۔ وہ تو آج بھی کئ جگہوں پر بہت سے لوگوں کی جاہلانہ سوچ کی بھینٹ چڑھ رہی تھیں۔ اس عورت میں اتنی ہمت بھی نا تھی کہ باہر جا کر ان بے حس لوگوں سے اتنا ہی کہہ سکتی کہ بیٹی تو رحمت ہوتی ہے ۔۔۔ ہمارے نبی کی بھی تو چار ہی بیٹیاں تھیں پھر بھلا بیٹیاں منحوس کیسے ہوسکتی ہیں۔۔۔۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ ان بے حس لوگوں سے یہ سب کہنا مطلب بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا۔۔۔ وہ اسکی بات کبھی نا سمجھتے الٹا اسکے ساتھ ساتھ اسکے پچھلوں کو وہ کوسنے دیئے جاتے انکی شان میں وہ قصیدے پڑھے جاتے کہ فاطمہ گم صم ہو کر خاموشی میں ہی عافیت جانتی۔۔۔۔
اللہ تو میری بیٹیوں کا حامی و ناصر ہے۔۔۔۔ مجھے اتنی سکت دینا کہ اس بے رحم دنیا میں اپنی معصوم بچیوں کو انکا مقام دلوا سکوں۔۔۔۔ مگر مقام تو وہ ابھی تک اپنا نا حاصل کر سکی تھی اس گھر میں ان معصوم جانوں کو کیا دلواتی۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے کے مراحل سے گزرتے ملنے والی تکلیف اور اذیت کی شدت کو بھلائے اسنے اپنی تمام ختم ہوتی طاقت کو یکجا کرتے اٹھنے کی کوشیش کی کیونکہ اب اسے اٹھنا ہی تھا ورنہ اسکی بچیاں ماں کے ہوتے یتیموں سی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہوتیں۔۔۔
********
