51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

“مجھے کھونا نہیں چاہتے تو میرے ساتھ چلو۔۔۔ یہاں سے بہت دور میری دنیا میں۔۔”
اسکے چہرے پر کوئی نرمی کوئی پیار نہیں تھا آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی آج وہی غرور تھا اس گھمنڈی کے چہرے پر جب اس نے ارحام کے سامنے یہ آفر رکھی تھی
“ساتھ چلوں۔۔۔؟؟ تمہاری دنیا میں۔۔؟؟ ہمارے نکاح کے بعد میرا تمہارا کچھ نہیں رہا تھا عشنا۔۔۔
میں تم سے ہم ہوئے تھے اس نکاح کے بعد۔۔۔میں کیسے اپنے ماں باپ اپنی فیملی کو چھوڑ کر ساتھ جا سکتا ہوں عشنا۔۔۔؟؟
میں شوہر ہوں اور جب میں کہہ رہا ہوں تو یقین کرو تمہاری قسم ہر قدم پر تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہوں سب کچھ چھوڑ کر میں آگے بڑھنے کو تیار ہوں۔۔۔
پر میرے ماں باپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔۔”
ارحام نےدونوں ہاتھ عشنا کے چہرے پر رکھ کر اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“کیا ایک بار۔۔۔۔تمہارے جانے سے پہلے تمہیں اپنے گلے سے لگا سکتا ہوں میں۔۔؟؟
اب تو محرم ہیں۔۔۔اب تو میری محرم ہو۔۔۔”
جب عشنا نے سرجھکا لیا تو ارحام نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔۔
اسکے آنسو ارحام کی شرٹ بھیگو رہے تھے اور ارحام کے اسکے کندھے پر گر رہے تھے۔۔۔
“گھمنڈی۔۔۔۔ میں جانتا ہوں اس وقت سب سے زیادہ نفرت تمہیں مجھ سے ہورہی ہوگی۔۔۔ میں اس وقت تمہارا ساتھ چھوڑ رہا ہوں جب تمہیں میری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔۔۔
پر عشنا بہت مشکل سے خودداری کی زندگی جینا شروع کی ہے۔۔۔اپنی زمہ داریوں سے منہ نہیں موڑ سکتا۔۔۔۔”
ارحام نے ماتھے پر بوسہ دے کر کچھ قدم پیچھے ہونے کی کوشش کی تھی جب عشنا نے ارحام کے چہرے کو اپنے پاس کرلیا تھا۔۔۔
“تمہیں تمہاری خودداری کی زندگی بہت بہت مبارک ہو ارحام۔۔۔”
ارحام کے گکے میں بازو ڈالے اس نے ان دو چہروں کے درمیان کی وہ دوری بھی ختم کردی تھی جب بوسہ دیا تھا ارحام کے لبوں پر۔۔۔۔اور پھر اسکی آنکھوں پر۔۔۔۔
اور وہ پیچھے ہوچکی تھی پوری طرح۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم یہ کہنا چاہ رہے ہو رات کی تاریکی میں تمہاری بیوی چلی گئی اور تمہیں غیرت نہیں آئی کہ اسے روک سکو۔۔۔؟؟”
اگلی صبح ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے سب فیملی ممبرز خاموش تھے سوائے مننان صاحب کے
جو زخموں پر نمک چھڑک رہے تھے۔۔۔
ابراہیم صاحب کی آنکھوں کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے
“ابو میں ضیشم مینشن جا رہا ہوں آپ چل رہے ہیں۔۔۔؟”
ارحام نے مننان کی باتوں کو اگنور کردیا تھا جس پر وہ اور آگ بگولہ ہوا تھا۔۔
“میں نے کچھ پوچھا ہے ارحام۔۔۔؟ بیوی کہاں گئی ہے تمہاری۔۔ تم سے وہ لڑکی قابو نہیں ہو پائی اگر میری بیوی ہوتی تو لگاتا میں۔۔۔”
اگلے لمحے ارحام شیر کی طرح دھاڑا تھا مننان کو گریبان سے پکڑ کر کرسی کے ساتھ پن کردیا تھا اس نے
“آپ کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں۔۔۔؟ پہلے میرے اور میری بیوی کے درمیان فساد ڈال دیا اور اب جب آپ کی خواہش کے مطابق وہ چلی گئی ہے تو آپ مجھے پھر بھی چین نہیں لینے دے رہے۔۔۔؟؟
چاہتے کیا ہیں میں چلا جاؤں یہاں سے۔۔۔؟ اندر ہی اندر پتہ نہیں کب سے آپ میری جڑیں کاٹ رہے تھے مننان بھائی اور مجھے اب احساس ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ ڈسگسٹنگ۔۔۔۔”
ارحام انہیں جھٹک کر تیز قدموں سے نکل گیا تھا وہاں سے۔۔۔
کسی طوفاں کے جانے کے بعد کء خاموشی تھی
تمام لوگوں کے سامنے مننان کی اتنی ذلت وہ برداشت نہیں کرپایا تھا اور اٹھ کر وہ بھی گھر سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“ابراہیم بھائی بات جو بھی ہو پر ارحام کچھ زیادہ ہی بےعزتی کررہا ہے منناں کی وہ داماد ہے ہمارا۔۔۔”
فلذہ کے والدہ کی بات پر باقی سب نے بھی حامی بھری تھی
“مجھے سمجھ نہیں آتی جب مننان اتنا سب بول رہا ہوتا تب تو آپ لوگ کچھ کہتے نہیں ہیں اور بعد قصوروار آپ سب کو ارحام نظر آتا ہے
ہر روز ایک ہی تماشہ۔۔۔
ابراہیم بس اب مننان سے دو باتیں کرہی لیجئے آپ۔۔۔
میرے دونوں بیٹوں میں مسلسل غلطی مننان کی ہے۔۔۔ جانے کس بات کی دشمنی ہے اپنے ہی چھوٹے بھائی سے اسے۔۔۔۔”
۔
اسمارہ بیگم وہاں سے اٹھ کر کچن میں چلی گئیں تھیں۔۔۔
بہت لوگ وہاں خوش تھے پر بہت لوگ حیران بھی تھے۔۔۔
“ابراہیم بھائی۔۔۔”
“آج ختم ہے ضیشم نے کچھ کیا ہے کہ وہ لوگ کچھ بتا نہیں رہے شمع باجی کا فون آیا تھا،،
میں وہیں جارہا ہوں اگر آپ میں سے کسی نے چلنا ہے تو چلیں میرے ساتھ۔۔”
ابراہیم صاحب نے اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کی طرف دیکھا تھا باقی وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“لبابہ ضیشم۔۔۔۔ نہیں لبابہ شیر گل۔۔۔۔لبابہ۔۔۔”
ضیشم ٹھیک اسی جگہ بیٹھے تھے جہاں عشنا بیٹھی ہوئی تھی کچھ گھنٹے پہلے۔۔۔
“تم گئی اور وہ بھی چلی گئی جو تمہاری چھوی تھی۔۔۔ ہماری بیٹی۔۔ بہت مشکل سے تو پایا تھا اسے۔۔۔ اور بہت مشکل سے آئی تھی تم واپس۔۔ میں تو جان ہی نہیں پاتا لبابہ اس جہنم میں سے تم کہاں گئی کسی کو کچھ نہیں پتہ چلا تھامیں نے بہت کعشش کی تھی لبابہ۔۔۔ بہت کوشش کی تھی۔۔۔ جب اس بورڈ میٹنگ میں تم سامنے آئی تھی عشنا کو کمپنی کا ‘سی-ای-او’ بنایا تھا اس دن تم مجھے دیوانے کا خواب لگی تھی جتنے حق سے تم نے عشنا کو وہ پوزیشن دی تھی۔۔۔”
ضیشم صاحب نے سرجھکا لیا تھا آنسوؤں کی لڑی بندھ گئی تھی اور بات کرنا مشکل ہورہا تھا ان سے
“اس دن میرے دل نے پھر سے دھڑکنا شروع کیا تھا تمہارے بغیر زندگی جیا نہیں تھا گزار رہا تھا۔۔۔ میری خوبصورت محبت۔۔۔ تم کیوں چلی گئی مجھے چھوڑ کر ابھی تو امید جاگی تھی تمہیں پھر سے حاصل کرنے کی تمہیں پھر سے پانے کی ابھی سے چلی گئی ہو تم۔۔۔
مجھے تنہا چھوڑ کر۔۔۔ لبابہ۔۔۔ بہت جدا کردیا تمہاری جدائی نے۔۔۔
میں نے۔۔ میں نے تابین کو چھوڑ دیا ہے طلاق دہ دی ہے۔۔۔ تم واپس آجاؤ۔۔
تم میں تابین ہم تینوں کہیں دور چلیں جائیں گے۔۔۔ واپس آجاؤ۔۔۔”
انہوں نے سر اس قبر پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔
پر رونے سے جانے والے واپس آجاتے تو مرنے کے ہر دورے دن بعد لوگ زندہ اٹھ اٹھ کر واپس آتے اپنے روتے ہوئے پیاروں کے پاس۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عشنا۔۔۔۔؟؟ بیٹا تم کب آئی۔۔؟؟ اور لبابہ۔۔۔؟؟”
عشنا کے گارڈ نے وہ بیگ ملازمہ کو پکڑا دئیے تھے اور عشنا سے اجازت لیکر باہر چلا گیا تھا
عشنا وہیں کھڑی تھی ۔۔۔ اسے کسی کا سوال جواب سنائی نہیں دے رہا تھا سوائے اپنی ماں کی یادوں کے۔۔۔
یہیں سے وہ لیکر گئی تھی انہیں پاکستان واپس۔۔۔ ہاتھوں میں ہاتھ پکڑے۔۔۔
۔
“لبابہ میڈم نہیں آئی۔۔؟؟”
عشنا نے ان دو نوکروں کو دیکھا تھا اور پھر اس عورت کو جو جانے کتنے سالوں سے دیکھ بھال کررہی تھیں اسکی بھی اسکی ماں کی بھی۔۔۔۔
“وہ نہیں آئی۔۔۔ انہوں نے منع کردیا۔۔۔ کہا ہے جاؤ میرے بغیر جینا سیکھو عشنا۔۔۔
تمہارے نصیبوں میں خوشیاں نہیں ہیں ہم تمہارے ماں باپ ہونے کے ساتھ ساتھ دشمن بھی ہیں تمہارے۔۔۔
اور بن کر بھی دیکھایا ان دونوں نے۔۔۔۔ میرے دشمن۔۔۔”
عشنا کی باتوں نے انہیں شاکڈ کیا تھا پر شہنازبی وہیں خاموش کھڑی تھی
“اوووہ۔۔۔۔”
انہوں نے آہ بھری تھی جب عشنا انکے سامنے کھڑی تھی
“بس آہ۔۔۔؟؟ میں آپ کو بتا رہی ہوں جن کی کئیر ٹیکر آپ تھیں وہ جا چکی ہیں
شئ از ڈیڈ۔۔۔۔ مر چکی ہیں وہ۔۔۔ وہاں چلی گئی جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔۔۔”
وہ روتے روتے وہیں گر گئی تھی اپنے گھٹنوں پر۔۔۔ اسے فکر نہیں تھی اب وہ کمزور پڑنا چاہتی تھی۔۔۔
یہ گھر ہی تو تھا جہاں اسکی ماں اسکے پاس تھیں اسکے ساتھ تھیں۔۔۔
چاہے بیمار تھیں۔۔۔
“تمہیں خوش ہونا چاہیے۔۔۔ تمہاری ماں اس عذاب سے نجات پا گئی ہے عشنا۔۔۔
اتنے سال اس بیماری کے ساتھ وہ بیمار عورت لڑتی رہی۔۔۔۔”
“آپ جانتی تھی۔۔۔؟؟ آپ نے بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔؟؟ آپ سب لوگ کیوں اتنے مطلب پرست نکلے۔۔؟؟ وہاں وہ۔۔۔اور یہاں آپ۔۔۔
میں نے کیا بگاڑا تھا آپ لوگوں کا۔۔۔؟؟”
وہ چلائی تھی اپنا چہرہ صاف کیا تھا اس نے وہاں سے اٹھ کر۔۔۔
“ہاں ہم مطلب پرست ہیں۔۔ کیونکہ لبابہ نے تمہاری خوشیاں دیکھی۔۔ تمہیں پریشان نہیں دیکھنا چاہتی تھی وہ۔۔۔
اسے تم پر بہت یقین تھا عشنا۔۔۔ وہ چاہتی تھی زندگی میں جو وہ نہ پا سکی وہ تم پا لو۔۔۔ شوہر کا سچا پیار۔۔۔ زندگی بھر کا ساتھ۔۔۔
اب سمجھ آئی مجھے ایک ماہ پہلے یہ سب یہاں کیوں ملا تھا۔۔۔
یہ دیکھو۔۔۔ یہ لیٹر۔۔۔ جس پر تمہاری ماں نے صاف صاف لکھا ہے اگر عشنا یہاں واپس آگئی تو میں سمجھ جاؤں گی اس نے سب سے ترکِ تعلق کردیا۔۔۔”
اور انہوں نے ایک باکس عشنا کے سامنے رکھ دیا تھا جو بہت خوبصورتی کے ساتھ پیک کیا ہوا تھا۔۔۔
“یو نو وٹ مسز احمد۔۔۔ نکل جائیں آپ سب مجھے ایسے ملازموں کی ضرورت نہیں ہیں۔۔۔
دوبارہ واپس نہ آئیے گا یہاں پر۔۔۔
اس گھمنڈی نے ساری زندگی تنہا گزاری ہےاب بھی جی لوں گی۔۔۔”
۔
وہ سب لوگ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔سب کے سب بس وہاں عشنا تھی۔۔۔
اور وہ باکس۔۔۔ اور ماں کی یادوں سے بھرا ہوا وہ گھر۔۔۔
۔
۔
“بڑی چال سیدھی ہے روٹھے دِنوں کی۔۔۔
پلٹ کر کبھی پھر وہ مڑتے نہیں ہیں۔۔۔۔”
۔
۔
“ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں ساری زندگی نہ قدری کرتے رہتے ہیں کبھی محبت میں بےوفائی کرکے تو کبھی رشتے میں بددیانتی کرکے کسی کو خاطر خوا نہیں لاتے منظورِ نظر نہیں رکھتے۔۔۔۔
اور جب کوئی پیارا ہمیں چھوڑ جاتا ہے تو ہم اسکی قبر پر جاکر بیتی ہوئی زندگی کو روتے ہیں جانے والے کو روتے ہیں۔۔۔ ہم انسان اس وقت معجزے کی دعا مانگتے ہیں۔۔۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ جانے والے لوٹ کر نہیں آتے وہ بس چلے جاتے ہیں۔۔۔ہمیں پچھتاوا دے کر۔۔۔
اور ہم مٹی میں انگلیاں پھیر کر وہ لمس محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو پاس ہوتے ہوئے ہمیں قیمتی نہیں لگا پر منوں مٹی نیچے جانے پر اسکی قدر پتہ چلی ہمیں۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم پاگل ہوگئے ہو۔۔؟؟ کرکیا رہے ہو۔۔؟؟ جواب دو مجھے۔۔۔”
ابراہیم نے انہیں کندھے سے پکڑ کر واپس کمرے میں کھڑا کیا تھا
“یہی میں سمجھا رہی ہوں یہ ہے کہ سنتا ہی نہیں ابراہیم بیٹا تم ہی اسے سمجھاؤں۔۔۔”
ضیشم صاحب خاموشی کے ساتھ کھڑے سب سن رہے تھے۔۔۔
“سمجھانا کیا ہے مجھے۔۔؟؟ میں بچہ نہیں ہوں۔۔۔ طلاق دے چکا ہوں میں اسے۔۔”
“اس عمر میں ضیشم بھائی۔۔؟؟ آپ نے اپنے بچوں کا بھی نہیں سوچا۔۔؟؟”
ابراہیم کے چھوٹے بھائی ذیشان نے آگے بڑھ کر کہا تھا
ابراہیم کے دونوں بھائی ان کے ساتھ آئے تھے یہاں جہاں بلکل خاموشی تھی اب یہ گھر سہی معنوں میں سوگ منا رہا تھا جانے والے کا۔۔۔
۔
“اس عمر میں ہی تو عقل آئی مجھے۔۔ بہت دیر سے آئی۔۔۔ آپ سب لوگ یہی تو سمجھاتے تھے مجھے کہ میں غلطی کررہا ہوں تابین سے شادی کرکے۔۔۔
میں بہت پچھتاؤں گا۔۔۔
اور اب میں پچھتا رہا ہوں۔۔۔ تابین کو طلاق دینے پر نہیں۔۔۔ اسے بہت دیر سے سزا دینے پر پچھتا رہا ہوں۔۔۔”
“بہت غلط ہوا ضیشم۔۔۔ تابین بھابھی جیسی بھی تھی وہ بیوی تھی اس عمر میں ایک عورت کو طلاق دے کر گھر سے باہر نکال دینا سب کچھ ہو سکتا ہے پر مردانگی نہیں۔۔
مرد ایسے نہیں کرتے۔۔۔ آج تک جو بھی ہوا تمہاری رضا مندی سے ہوا تم کیسے صرف تابین پر الزام لگا سکتے ہو۔۔؟؟”
ابراہیم نے آج پہلی بار ضیشم صاحب سٹریٹ فارورڈ باتیں کی تھی انہیں آئینہ دیکھایا تھا
“اب تم مجھے بتاؤ گے ابراہیم۔۔؟؟ بس ایک احسان کرنا میری بیٹی کے ساتھ وہ مت ہونے دینا جو میرے ساتھ ہوا ورنہ میں برداشت نہیں کر پاؤں گا۔۔۔ اب جاؤ۔۔۔”
وہ بے رخی سے کہہ کر اپنے کمرے کی جانب جانے لگے تھے جب ابراہیم صاحب نے ان پر ایک اور قیامت گرا دی تھی
“وہ جاچکی ہے ضیشم۔۔۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔ ہمیں بھی چھوڑ کر۔۔۔ اپنے شوہر کو بھی چھوڑ کر وہ چلی گئی ہے۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔”
“سوری۔۔؟؟تم میری بیٹی کا خیال نہیں رکھ سکے۔۔؟؟جانے دیا۔۔؟؟ کیوں۔۔۔؟؟”
انہوں نے ابراہیم کا کالر پکڑ لیا تھا
“ضیشم بیٹا۔۔۔”
“اننف ضیشم بھائی صاحب۔۔۔آپ کی بیٹی اپنی مرضی سے گئی ہے ابراہیم بھائی کا گریبان چھوڑیں۔۔۔”
۔
“دیکھ لوں گا میں سب کو۔۔۔ جاؤ چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔کوئی تعلق نہیں ہے میرا تم لوگوں کے ساتھ۔۔۔ “
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
عشنا نے وہ باکس جیسے ہی کھولا تھا اس میں خوبصورت سی ڈائری نکلی تھی اور بہت سے خط
اور کچھ سی ڈیز تھی سب سے نیچے ایک البم تھا جن میں ساری تصاریر بہت تازہ تھیں انکی اور عشنا کی۔۔۔
۔
عشنا نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس سی ڈی کو جلدی سے اپنے لیپ ٹاپ پر آن کیا تھا۔۔۔ وہ جانتی تھی اس میں کیا ہے اسکی ماں کے وہ لمحات جو جانے سے پہلے کے تھے۔۔۔
اور وہ سہی ثابت ہوئی جب وہ ویڈیو چلنا سٹارٹ ہوئی۔۔۔
۔
“عشنا۔۔۔ میری بچی۔۔۔۔ اگر میری جگہ یہ ویڈیو ملی تو سمجھ جانا ماں بہت مجبور تھی۔۔۔
ورنہ میں اپنی ایک ہی اولاد کو تنہا چھوڑ کر نہیں جا سکتی عشنا۔۔۔۔
کہاں سے شروع کروں۔۔؟؟”
ویڈیو رک گئی تھی۔۔۔ جب عشنا نے دیکھا تھا لبابہ بھی دیکھ رہی تھی سکرین کو ہاتھ لگا رہیں تھیں اور یہاں عشنا۔۔۔۔
“عشنا ہمت نہیں ہارنی ماں یہیں ہیں تمہارے دل میں۔۔۔ بیٹا۔۔۔ میں چاہ کربھی کچھ نہیں کرسکی۔۔۔ یہ لاسٹ سٹیج تھی اس ٹیومر کی میری بچی۔۔۔
ماں کو معاف کردینا۔۔۔ جانے والوں سے زیادہ ناراض نہیں رہتے ورنہ انکی روح بھی بےچین رہتی ہے عشنا۔۔۔
میں تمہیں کچھ بھی کیسے بتادیتی۔۔۔؟؟ تمہاری منگنی پہلے بھی میری وجہ سے ٹوٹ گئی تھی عشنا۔۔ کونسی ماں اپنی اولاد کی خوشیوں کو پھیکا ہونے دے گی بتاؤ۔۔۔؟؟”
وہ بات کرتے کرتے کھانسی کرنا شروع ہوگئی تھی اور انکے ناک سے نکلتے خون کو دیکھ کر عشنا روتے ہوئے چیخی تھی چلائی تھی پر کوئی سننے والا نہیں تھا۔۔۔
لبابہ نے چہرہ جلدی سے صاف کیا اور وہ مسکان سجائے واپس سکرین کی طرف دیکھا تھا
“اگر تم یہاں ہو اور شہناز بی نے تمہیں یہ سب دہ دیا تو اسکا مطلب یہ ہوا تم سب چھوڑ آئی۔۔۔ ارحام کو بھی چھوڑ آئی۔۔۔
یہاں بھی سب کو نکال دیا ہوگا۔۔؟؟ تنہا کرلیا ہوگا۔۔۔ ہم دونوں گھمنڈی ایسی ہی رہی نہ۔۔؟؟ میں نے بھی ضیشم کے دھوکے کے بعد خود کو ایسے کرلیا تھا عشنا۔۔ میری ماں بہن فیملی سب کو بھلا دیا تھا۔۔۔
جب وہ میرے انتظار میں تھے تب میں نے درگزر کیا اور جب میں انہیں ملنا چاہتی تھی عشنا۔۔۔تو وہ مجھے دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔۔۔
میں ایک محبت اور اپنے گھمنڈ کے پیچھے بہت کچھ کھو چکی۔۔۔ عشنا سب کچھ گنوا دیا۔۔۔
اور وہی تم کررہی ہو۔۔۔ میری محبت اور اپنے گھمنڈ میں سب سے ترکِ تعلق کردیا۔۔؟؟
کیوں میری لاڈلی۔۔۔”
لبابہ کی بھیگی آنکھیں اور نہیں دیکھی جارہی تھی عشنا نے وہ کلیپ بند کردیا تھا۔۔۔
“ماما۔۔۔ پلیز واپس آجائیں۔۔۔۔”
۔
اسکی آواز اسے ہی سنائی دے رہی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“موم پلیز باہر آجائیں ہم کہیں چلتے ہیں باہر ڈنر پر آپ۔۔”
تابین بیگم نے رشنا کے منہ پر تھپڑ مارا تھا
“ڈنر۔۔۔؟؟ عدت پر ہے تمہاری ماں۔۔۔ تمہیں نظر نہیں آرہا۔۔؟؟
میرا گھر میری آنکھوں کے سامنے اجڑ گیا رشنا۔۔۔ تمہارے ڈیڈ نے مجھے طلاق دہ دی۔۔۔
میں کیا کروں گی۔۔۔ میری زندگی کا سرمایا ضیشم تھے۔۔۔ میں اب کیا کروں گی۔۔؟
ساری زندگی پلان بناتی رہی لبابہ جیسی دوست کو برباد کردیا۔۔۔ پر رشنا طلاق تو اسے بھی نہیں دی تھی تمہارے ڈیڈ نے۔۔۔۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔
اور میں مجھے یہ کہتے ہوئے ایک بار نہیں سوچا،،، کیا تھی میں ضیشم کی زندگی میں۔۔۔؟؟
بس دوسری عورت۔۔۔؟؟
کیوں ہوا ایسا۔۔۔۔”
وہ جیسے پاگل ہورہی تھی۔۔۔ رشنا نے انہیں چپ کروانے کی کوشش کی تھی پر وہ اور انچی بول رہی تھی جب انکے بیٹے نے ماں کو سنبھالنے کی کوشش کی
“موم۔۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ یہ ہوٹل روپ ہے یہاں تماشہ مت کریں۔۔۔
آپ نے جو بویا تھا آپ وہی کاٹ رہی ہیں۔۔۔ دیکھیں آپ اتنے سالوں کے بعد آپ کہاں ہیں۔۔۔
وہ مر کربھی آمر ہوگئی ہیں۔۔۔ اور آپ۔۔۔ ہم ہم بچے آپ ہم سب سیکنڈ چوائس ہیں ڈیڈ کی۔۔۔۔
آپ انہیں پانے میں کامیاب ہوگئیں پر انکی محبت وہ۔۔۔ نہیں پا سکی۔۔”
۔
“کسی کا ہستا بستا گھر توڑنے سے پہلے آپ اگر اپنی لالچ کا انجام دیکھ لیتی تو شاید ماضی میں آپ وہ گناہ نہ کرتی اپنی دوست کو دھوکا نہ دیتی کسی کے شوہر پر ڈورے ڈال کر اپنی طرف مائل نہ کرتی۔۔۔ دیکھیں وہ تو اپنی پہلی بیوی کے ہی رہے۔۔۔
آج آپ اور آپ کے بچے کہاں کھڑے ہیں دیکھ لیجئے۔۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ مہینوں بعد۔۔۔۔۔”
۔
۔
“مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے۔۔۔”
“ڈاکٹر میری بیٹی فلذہ کیسی ہے۔۔؟؟”
“وہ بھی بلکل ٹھیک ہیں۔۔”
“مننان بیٹا بہت بہت مبارک ہو۔۔۔”
ابراہیم اسمارہ فلذہ کے ولادین سب بہت خوش تھے سوائے مننان کے جو بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“مننان کو کیا ہوا ابراہیم بھائی وہ خوش نہیں لگ رہا۔۔۔؟؟”
چھوٹے بھائی کے سوال پر ابراہیم صاحب نے اپنی بیگم کودیکھا تھا۔۔۔
“وہ شکرانے کے نوافل ادا کرنے گیا ہوگا حیات۔۔ میں دیکھتا ہوں۔۔۔
بیگم یہ پیسے غریبوں میں بانٹ دیجئے۔۔۔۔ پورے وارڈ میں مٹھائی تقسیم کروانی ہے۔۔۔ میں بہت زیادہ خوش ہوں۔۔۔”
ابراہیم اپنے چھوٹے بھائی کے گلے لگے تھے ایک بار پھر سے اور مننان کے پیچھے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کانگریچولیشن یہ سیٹ آپ کی ہوئی۔۔”
“تھینک یو سو مچ سر۔۔۔ مجھے اس پوسٹ پر ہائیر کرنے کے لیے۔۔۔”
“بس کل سے جوائن کیجئے۔۔۔ ارحام مجھے بس ایمانداری چاہیے آپ محنت اور لگن سے کام کیجئے۔۔۔ وقت کے پابند رہیں بس۔۔۔ اور کوئی رولز ریگولیشن نہیں۔۔۔”
ارحام ان کے ساتھ ہاتھ ملا کر کیبن سے باہر آگیا تھا اور اسی وقت اسکا فون بجا تھا
“بیٹا ایک خوش خبری ہے۔۔۔”
“امی میں نے بھی ایک گڈ نیوز سنائی ہے۔۔۔”
“بیٹا مننان کے ہاں بیٹی ہوئی ہے۔۔”
“امی مجھے مینیجر کی پوسٹ مل گئی ہے۔۔۔”
ان دونوں نے ایک ساتھ کہا تھا۔۔۔ اور دونوں ہی چپ ہوگئے تھے۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو امی۔۔۔”
“بیٹا تمہیں بھی جاب کی۔۔۔”
“امی میں ابھی رکھتا ہوں راستے میں ہوں۔۔۔۔”
ارحام نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔ آض اسے فلذہ کی خوشی سے جلن نہیں ہورہی تھی۔۔
آج اسکے دل میں ایک الگ درد ہوا تھا۔۔۔ سب ہی اپنی زندگی میں خوش تھے۔۔
پر وہ ۔۔؟؟ وہ کیوں اتنا اکیلا ہوگیا تھا پچھلے کچھ مہینوں نے۔۔۔
اسے لگتا تھا عشنا کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا پر نہیں۔۔۔
اسے لگتا تھا عشنا واپس آجائے گی۔۔۔
کب دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے عشنا کی کوئی خیر خبر نہیں۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ رشتے داروں کے کس کس طنز و طعنے سے گزر رہا تھا ۔۔۔
اور اب یہ خوش خبری۔۔ اسے پتہ تھا اب اسے اور بہت کچھ سننے کو ملے گا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مننان کہاں سے آئے ہو۔۔؟؟ ایک ہفتے کے بعد۔۔۔ تمہیں پتہ ہے فلذہ کی کیا حالت تھی۔۔؟؟”
“ابو شروع مت ہوجائیں میں آفس میٹنگ پر گیا تھا “
“اتنے دن چلنی والی میٹنگ۔۔؟؟ کیا چھپا رہے ہو۔۔؟؟”
آہستہ آہستہ سب لائٹس چلنا شروع ہوگئیں تھیں۔۔۔
سب اپنے اپنے کمرے سے باہر آگئے تھے ابراہیم کی اونچی آواز سن کر۔۔۔
“کیونکہ میں ہاتھ پاؤں جوڑنے گیا تھا اپنے باس کے باس کے آگے۔۔۔ نوکری سے نکال دیا تھا مجھے۔۔۔ وہیں سے آرہا ہوں۔۔۔”
اپنا کوٹ اتار کر نیچے پھینک دیا تھا۔۔
“مننان اتنی بھی کیا قیامت ٹوٹ پڑی تھی جو اپنی بچی کو دیکھنے نہ آسکے آپ۔۔؟؟”
فلذہ نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“کیونکہ میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔ نہیں چاہیے تھی مجھے بیٹی۔۔۔”
“مننان بھائی۔۔۔”
ارحام درمیان میں آگیا تھا۔۔۔
“اووہ۔۔۔ جب یہ ہے تو میری کمی کیوں محسوس ہوئی تمہیں فلذہ۔۔؟؟”
مننان نے سب کو شاکڈ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
“کیا بکواس کررہے ہو
“امی بکواس نہیں سچ کہہ رہا ہوں بہت پرانہ یارانہ ہے۔۔۔ اس لیے تو میں دیکھنا نہیں چاہتا اسکی شکل۔۔۔ یہ میری بیوی کا عاشق ہے میرا بھائی۔۔۔”
ارحام کا ہاتھ اٹھ گیا تھا مننان پر جس کے منہ پر پڑنے والا مکا اتنی زور سے لگا تھا کہ وہ دس قدم دور ہوگیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ فلذہ۔۔۔ میں نے سوچا تھا تمہیں موقع دوں گا۔۔ پر تم اس قابل نہیں ہو۔۔۔ چھوٹے بھائی۔۔۔ جا میں آزاد کرتا ہوان اپنی بیوی کو۔۔ تو۔۔”
ارحام نے اس کے بعد کچھ نہیں دیکھا تھا جس طرح اس نے مننان کو مارا تھا۔۔۔
“بے ہودہ شخص۔۔۔ الزام لگاتے ہو ہم پر۔۔۔ شادی شدہ ہوں میں۔۔ میری بیوی ہے جو میری زندگی ہے میری محبت ہے۔۔۔ اپنی بیوی تم سے نہیں سنبھالی جاتی تو کیوں اسکی اور اپنی زندگی عذاب بنا رہے ہو۔۔۔
شکر کرو امی ابو نے رشتہ کروا دیا تم اس قابل نہیں تھے۔۔۔”
ارحام گریبان چھوڑ کر اسے وہیں زمین پر پھینک کر گھر سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
کوئی ایک شخص کوئی بڑا تو دور کی بات کوئی چھوٹا بھی اپنی جگہ سے نہیں ہل پایا تھا اس وقت۔۔۔
۔
وہ لوگ حیران تھے۔۔۔
مننان کی کنفیشن نے سب کچھ الجھا دیا تھا ہر ایک رشتہ۔۔۔۔
۔
“ارحام اچھا نہیں کیا مجھ پر ہاتھ اٹھا کر اب دیکھ میں کیا کرتا ہوں تیرے ساتھ تجھے میں چھوڑوں گا نہیں۔۔۔ بھول جاؤں گا کہ تو میرا چھوٹا بھائی تھا۔۔۔”
مننان ایک قدم اٹھا تھا اور پھر سے گھر کر بےہوش ہوگیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام بیٹا گھر آؤ مجھے بات کرنی ہے۔۔۔”
“ابو ایم سوری۔۔۔ میں نہیں آسکتا۔۔۔جو ہوا اسکے بعد میں خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا تو آپ سب سے کیسے ملاؤں گا۔۔۔”
“ارحام بیٹا بس ایک بات کا جواب دہ دو،،،کیا مننان نے جو کہا وہ سچ تھا۔۔۔؟؟”
“وللہ کچھ بھی سچ نہیں تھا امی۔۔۔ فلذہ ایک اچھی باکردار لڑکی ہے اسکے کردار پر اس طرح کیچڑ نہ اچھالتے وہ۔۔۔
ہاں آپ دونوں سے جھوٹ نہیں بولوں گا میں۔۔۔
مننان بھائی کی شادی سے پہلے میں فلذہ کو پسند کرنے لگا تھا۔۔۔ اور مجھے یقین تھا میں نوکری کے بعد آپ دونوں سے بات کروں گا۔۔۔ پر مننان بھائی نے پہلے رشتہ بھیج دیا۔۔۔
امی۔۔۔ امی میں نے تو کبھی فلذہ کے سامنے اعتراف نہیں کیا تھا اپنی پسند کا۔۔۔
اور مننان بھائی اتنا گندہ اور گھٹیا الزام لگا گئے مجھ پر۔۔۔”
ارحام نے گہرا سانس بھرا تھا اپنے ماں باپ سے اس طرح کھل کر بات کرنے میں بھی اسے شرمندگی ہورہی تھی۔۔۔
“اور اب ارحام۔۔۔ اب فلذہ کے بارے میں۔۔۔”
اسمارہ بیگم نے موبائل فون سے نظریں اٹھا کر سب گھر کے افراد کو دیکھا تھا جس میں سب بڑے بزرگ ہی موجود تھے فیملی کے اور ایک کونے پر بیٹھی ہوئی روتی ہوئی فلذہ۔۔۔۔
۔
ارحام کا جواب سننے کی سب کو بے تابی تھی جلدی تھی پتہ نہیں کیوں سب سننا چاہتے تھے ارحام کے جواب کو۔۔۔
۔
“جو فیلنگس تھی وہ اس وقت ختم ہوگئی تھیں امی جب فلذہ کا نکاح ہوا تھا بھائی کے ساتھ۔۔۔
اور میں۔۔۔ ہمم۔۔۔ امی مجھے وہ گھمنڈی پہلی نظر میں بھا گئی تھی دوسری نظر میں اس نے میرے دل میں ایک مقام حاصل کرلیا تھا۔۔۔
ہمارے نکاح والے دل اس کی محبت نے پوری طرح قبضہ کرلیا میرے معصوم دل پر۔۔۔”
ارحام کی آواز میں مسکان تھی اور آنکھوں میں آنسو عشنا کو دیکھنے کے لیے اسکی آواز سننے کے لیے وہ ترس گیا تھا
“ارحام۔۔۔۔”
وہ ارحام کو روکنا چاہتی تھی انہیں لگ رہا تھا لاؤڈ سپیکر پر موبائل لگانے سے ارحام کی پرائیویسی نہیں رہے گی وہ فون بند کرنا چاہتی تھیں فلذہ نے سر جھکا لیا تھا جب انہوں نے اسکی طرف دیکھا تھا
“امی عشنا میری زندگی ہی نہیں میرے جینے کی وجہ بن گئی ہے۔۔۔ وہ میری آخری محبت ہے۔۔۔۔
فلذہ ایک اچھی لڑکی ہے مننان بھائی کو معاف کردے گی اس جھگڑے کے بعد۔۔۔”
“مننان نے طلاق دہ دی ہے فلذہ کو۔۔۔”
“اووہ۔۔۔۔۔”
ارحام نے اسکے بعد فون بند کردیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہیں کیا ضرورت پڑ گئی نوکری کی مننان بیٹا۔۔؟؟”
“انکل جاب ہی نہیں رہنے کے لیے چھت کی بھی ضرورت ہے۔۔۔”
مننان نے اپنی فائل ضیشم صاحب کے سامنے رکھ دی تھی اور خود کھڑا رہا تھا چہرے پر پٹی تھی زخم ہوئے تھے
“کیا ہوا ہے بیٹا۔۔؟؟ میں ابراہیم کو فون کرتا ہوں۔۔”
“کچھ فائدہ نہیں ہے۔۔۔ وہ شاید آپ سے بات نہ کریں۔۔۔ اس گھر میں جو ہورہا وہ تو خود نظریں نہیں ملا پا رہے اپنے آپ سے۔۔۔”
“کیا ہوا ہے ایسا۔۔۔؟؟مننان بیٹا بیٹھو۔۔۔ اور بتاؤ،،،”
“آپ کی بیٹی نے اچھا کیا جو ارحام کو چھوڑ گئی۔۔۔ وہ صرف آپ کو ہی نہیں ہم سب کو چیٹ کررہا تھا۔۔۔
میری بیوی۔۔۔ جسے میں طلاق دہ چکا ہو انکل۔۔۔ اسکا اور ارحام کا آفئیر چل رہا تھا۔۔۔
میں۔۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔مجھے تو شک ہے وہ بچی بھی میری۔۔۔”
“اننف۔۔۔۔ایک اور لفظ نہیں۔۔۔ تم جانتے بھی ہو کیا بکواس کررہے ہو۔۔؟
ارحام داماد ہے میرا وہ مجھے اتنا بڑا دھوکا نہیں دے سکتا۔۔۔”
“انکل۔۔۔ یہ سچ ہے۔۔۔۔”
“کہاں ہے وہ بے غیرت۔۔؟؟”
“وہ انک۔۔۔۔ اسکی نوکری۔۔۔کچھ بلاک آگے ہی ایک کمپنی میں بہت اچھی پوسٹ پر لگا ہے۔۔۔
آپ کی بیٹی بھی اسکی مٹھی میں۔۔۔ اور میری بیوی بھی۔۔۔ سب گھر والے بھی انکل۔۔۔
میں تو برباد ہوگیا۔۔۔ مجھے ہی ذلیل کرکے نکال دیا ابو نے۔۔۔ میں تو برباد ہوگیا۔۔۔”
مننان نے جیسے ہی رونا شروع کیا تھا یا پھر یوں کہیں جیسے ہی ایکٹنگ شروع کی تھی ضیشم صاحب اٹھ گئے تھے اپنی سیٹ سے۔۔۔
“چلو میرے ساتھ۔۔۔”
مننان اپنی شیطانی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے انکے پیچھے پیچھے تھا،،،
اور ساتھ انکے گارڈز۔۔۔
کچھ منٹوں میں وہ لوگ اس کمپنی کے باہر تھے جہاں ارحام کام کررہا تھا
۔
۔
“یہ تمہارا بونس ہے تمہاری سیلری کے ساتھ۔۔۔ اس منتھ کی بیسٹ پرفارمنس پر کمپنی کی طرف سے بونس مسٹر ارحام کو جاتا ہے۔۔۔”
ارحام کے باس نے ارحام کو سینٹر پر کھڑا کیا تھا پر اسکے ہاتھ میں بونس کی جگہ اسکے چہرے پر ایک تھپڑ مارا تھا ضیشم صاحب نے۔۔۔اور اسکا گریبان پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا
“میں نے بہت بڑی غلطی کی تجھے اپنی بیٹی دے کر ارحام تو اتنا بڑا دھوکے باز نکلا۔۔۔”
“کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔”
“چھوٹے بھائی میں نے انہیں سب کچھ بتا دیا ہے۔۔۔ جو بھی ہوا۔۔ جو تم نے فلذہ نے مل کر عشنا کے ساتھ کیا۔۔۔”
“مننان بھائی۔۔۔”
ارحام جیسے ہی مننان کی طرف غصے سے بڑھا تھا ضیشم صاحب کے گارڈ نے اس ایک مکا مار کر پیچھے کیا تھا
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
ارحام نے اس گارڈ کو اس سے بھی زیادہ زور سے مارا تھا۔۔۔
“ضیشم سر میری بات۔۔۔”
اور پیچھے سے اسکے سر پر وار کیا تھا ایک گارڈ نے۔۔۔۔
“تمہیں تمہاری اوقات سے زیادہ مل گیا تم نے قدر نہ کی اب میں تمہارا جینا مشکل کردوں گا اس شہر میں تم نے ضیشم احمد کو دیکھا نہیں ابھی تک بچے۔۔۔”
پیچھے انکے گارڈ ارحام کو مار رہے تھے اور وہ اپنے کوٹ کا بٹن بند کرکے کمپنی کے اونر کی طرف بڑھے تھے
“یہ اگر مجھے اس کمپنی میں نوکری کرتا نظر آیا تو یہ کمپنی۔۔۔”
“سر میں اسے ابھی نکال دیتا ہوں۔۔۔۔ اپنے گارڈز سے کہیں اسے باہر پھینک دے۔۔۔”
کچھ منٹ مارنے کے بعد ارحام کو اٹھا کر اس کمپنی کے باہر پھینک دیا تھا اور وہ لوگ جیسے آئے تھے ویسے چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔
۔
ارحام کے سر سے جسم سے خون پانی کی طرح نکل رہا تھا۔۔۔
اسکے چہرے پر ایک ہنسی بھی تھی۔۔۔
“گھمنڈی ماں گھمنڈی بیٹی۔۔۔ باپ دس قدم آگے نکلا۔۔۔۔
عشنا کہاں پھنسا دیا یار تم نے۔۔۔”
ہونٹوں پر مسکان تھی پر آنکھیں بند ہونا شروع ہوگئیں تھیں اسکی۔۔۔
۔
“عشنا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام۔۔۔۔۔۔۔۔”
ماتھا پسینے شرابور تھا چلتے ‘اے-سی’ میں بھی وہ ہانپتے ہوئے اٹھ گئی تھی بیڈ سے،،،
“نظریں بار بار کمرے کو دیکھ رہی تھی
وہ بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر آگئی تھی جیسے وہ کمرہ اسے قید کرنے کو تھا۔۔۔
“ارحام۔۔۔”
کچن سے پانی کا گلاس پی کر واپس رکھا تھا اس نے ۔۔۔ دل کی دھڑکن بار بار تیز کم ہورہی تھی۔۔۔ ہال میں اس نے اپنے اس خاموش گھر کو دیکھا تھا اور پھر اپنے خالی ہاتھوں کو۔۔۔
آج اسے وہی ڈر لاحق ہوا تھا جو لبابہ کے جانے سے پہلے ہوا تھا۔۔۔
وہ واپس کمرے میں نہیں گئی تھی وہیں صوفے پر سر رکھ کر لیٹ گئی تھی
ابھی بھی ٹائم تھا صبح ہونے میں۔۔۔ اس نے آنکھیں جیسے ہی بند کی تھی اسے نیند آگئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
کچھ دیر بعد اسکی آنکھیں دروازے پر ہورہی دستک سے کھلی تھیں۔۔۔
“شہناز بی دروازہ کھولیں کون صبح صبح پاگل ہو رہا ہے۔۔۔”
عشنا نیند میں بول رہی تھی اور جب کوئی جواب نہیں ملا تب اس نے غصے سے شہناز بی کا نام لیا تھا پھر کوئی جواب نہیں
“ہمم۔۔ میں کیوں بار بار بھول جاتی کہ اب یہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے۔۔۔”
“کون۔۔۔۔”
اس نے دروازہ کھول دیا تھا
“ہیلو میم۔۔۔ میں مس لبابہ شیر گل کا وکیل۔۔۔ انکی وسیعت کے ساتھ آیا ہوں۔۔۔”
“موم کی وِیل۔۔۔؟؟”
“جی۔۔۔”
“کم انسائیڈ۔۔۔”
“ایک سال بعد یاد آیا۔۔۔؟؟”
عشنا نے پانی کا گلاس انکے سامنے رکھ دیا تھا عام روٹین میں وہ ایسا بلکل بھی نہیں کرتی پر اب کوئی ملازم نہیں تھا تو اس نے خود گلاس پانی کا لاکر سامنے رکھا
“مجھے انتظار تھا آپ کے واپس جانے کا۔۔۔ پر آپ واپس نہیں گئی اور میرے اسسٹنٹ کی کال آئی تھی پاکستان میں آفس میں جو ہورہا وہ لبابہ میم کے خواہش کے خلاف ہونے جا رہا ہے۔۔۔”
“کیا مطلب۔۔؟؟؟ کیسی خواہش کیا ہو رہا پاکستان میں۔۔؟؟”
ارحام کو لیکر ایک ڈر سا ابھرا تھا اسکے دل میں۔۔۔
“یہ آج ہی ریسیو ہوئی ویڈیو کلپ۔۔۔اور اب ضیشم سر کسی اور کو کمپنی ہینڈ آورر کرنا چاہتے ہیں جو کہ قانونی طور پر بھی غلط ہے۔۔۔”
وکیل صاحب نے وہ ویڈیو آن کردی تھی جس میں ارحام کو مار رہے تھے کچھ لوگ۔۔۔
اور جب ضیشم صاحب کو دیکھا سکرین پر تو عشنا اپنی سیٹ سے اٹھ گئی تھی۔۔۔
“موم کی کیا وش تھی۔۔؟؟”
“یہی کی مسٹر ارحام کمپنی کے ‘سی-ای-او’ بنے۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ میں کیوں نہیں۔۔؟ میں تو بیٹی تھی انکی۔۔۔”
“وہ۔۔۔ میم۔۔۔ وہ۔۔۔”
“ڈونٹ سٹیمرنگ۔۔۔”
“وہ چاہتی تھی آپ چھوٹے ارحام یا چھوٹی عشنا کا خیال رکھیں اور ارحام آفس کا کام دیکھے اور آپ بچوں کو۔۔۔”
عشنا کا چہرہ ریڈ ہوگیا تھا۔۔۔
پر وہ کلیپ جیسے جیسے چلتی جارہی تھی اسکا چہرہ اب غصے سے لال ہوا تھا۔۔۔
“تو آپ میرا منہ کیا دیکھ رہے ہیں۔۔۔ یہ کاغذات مسٹر ارحام کو بھیجوائیے بلکہ آپ خود جائیں۔۔۔ اور اگر اس نے انکار کیا تو آپ جانتے ہیں آپ نے کیا کرنا ہے۔۔؟؟”
عشنا نے انہیں سب باتیں سمجھائی تھیں۔۔۔
وہ وکیل صاحب جاتے جاتے رکے تھے۔۔۔
“میم آپ نہیں چلیں گی پاکستان۔۔؟؟”
“یہ جنگ اب ارحام ابراہیم کی ہے۔۔۔ میں بھی تو دیکھوں کیسے ہینڈل کرتے ہیں کمپنی کو۔۔۔
اور ایک بات۔۔۔۔ مننان ابراہیم کی سب انفارمیشن مجھے دیجئے۔۔۔ انکی فیملی کی بھی۔۔۔”
“جی بہتر۔۔۔ ٹیک کئیر میم۔۔۔۔”
وہ سب کاغذات کی کاپیز وہیں چھوڑ گئے تھے اور ان کاغذات میں ایک لیٹر بھی تھا۔۔۔
“مووووووم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
دروازہ بند کئیے عشنا اس خط کو لیکر سیدھا لبابہ کے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
“۔۔۔خط۔۔۔۔۔”
۔
“تم سچ میں گھمنڈی ہو۔۔۔ عشنا۔۔۔ ابھی تک یہاں تنہا ہو میری بچی واپس چلی جاؤ۔۔۔
شوہر کو زیادہ دیر اکیلا چھوڑو گی تو کوئی اور جگہ لے لے گی تمہاری۔۔۔
پھر میری گھمنڈی اکیلی رہ جائے گی۔۔۔ اور میری روح بےچین ہوجائے گی عشنا۔۔۔ ابھی تو بہت سکون کے ساتھ تمہیں ارحام کے حوالے کیا تھا۔۔۔
پر اگر یہ نوبت آگئی ہے اور یہ کاغذات تمہیں ملیں ہیں تو اس کا مطلب یہی ہوا تم دونوں ساتھ نہیں ہو۔۔۔
میں نے ایک سال بعدکا کہا تھا اپنے وکیل سے۔۔۔
ایک سال۔۔۔۔عشنا واپس چلی جاؤ۔۔۔ مجھے زیادہ انتظار نہ کروانا چھوٹے ارحام اور عشنا کے لیے۔۔۔
یاد رکھنا میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔ تمہیں ٹوٹتا نہیں دیکھ سکتی میں۔۔۔
ارحام تمہاری منزل ہے۔۔۔ میری ججمنٹ اب غلط نہیں ہوگی میری پری۔۔۔۔”
۔
۔
عشنا نے وہ کاغذ اپنے سینے سے لگالیا تھا اور بیڈ کے ساتھ بیٹھ گئی تھی
ٹیبل پر پڑےریموٹ سے اس نے بڑی سی سکرین آن کی تھی جہاںوہی ویڈیو چل رہی تھی جو اسے یہاں آنے کے بعد ملی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“”۔۔۔۔ایک سال بعد۔۔۔۔””
۔
۔
“ارحام بیٹا ناشتہ کرکے جاؤ۔۔۔”
“امی میری ضروری میٹنگ ہے۔۔۔ یہ پروجیکٹ بہت ضروری ہے کمپنی کے لیے۔۔۔”
“نہیں تم کھانا کھا کر جاؤ گے ارحام۔۔ آپ بیٹھے امی میں گرم کرکے لاتی ہوں۔۔۔”
فلذہ نے اپنی دو سال کی بچی کو اسمارہ بیگم کو پکڑایا تھا اور جلدی سے کچن میں چلی گئی تھی
“امی پلیز مجھے جانا ہے۔۔۔”
“ارحام چپ۔۔۔۔”
“پر۔۔۔”
اس چھوٹی بچی نے ارحام کی طرف اشارہ کیا تھا ارحام کے چہرے پر مسکان آگئی تھی
“اوکے۔۔۔ پر ہماری پرنسزز بھی ہمارے ساتھ ناشتہ کرے گی چاچو کے ساتھ ناشتہ کرے گی نہ اریبہ۔۔؟؟”
ارحام نے اپنی گود پر بٹھا لیا تھا۔۔۔۔
اور فلذہ کھانا لیکر آگئی تھی۔۔۔
سب افراد انہیں دیکھ رہے تھے ایک ہیپی فیملی کی طرح۔۔۔۔
“ارحام بیٹا۔۔ تم تینوں ایک ساتھ کتنے اچھے لگ رہے ہو۔۔۔ ایک بار پھر سوچ لو بیٹا اپنا لو میری بچی کو۔۔۔۔”
“چچی وہ بات نہ کریں جو میں پوری نہیں کرسکتا آپ جانتی ہیں میں شادی شدہ ہوں۔۔۔
میری بیوی جس سے میں بہت محبت۔۔۔”
“ارحام ایک بار سوچ لو۔۔۔ تم دوسری شادی میری بچی سے کرلو۔۔۔ ہمیں اعتراز۔۔۔”
ارحام کے چچا نے اسے ٹوک کر اپنی بات مکمل کی تھی ۔۔۔۔پر ایک آواز نے وہاں سب کو شاکڈ کردیا تھا
۔
“دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے گھر سے رستے بنا لیے”
۔
عشنا نے تالی بجا دی تھی اسکا بیگ ابھی اسکے پاؤں کے پاس پڑا تھا۔۔۔۔
وہ ایک لائن بول کر سب کی بولتی بند کرچکی تھی خاص کر فلذہ کے والدین کی۔۔۔
“عشنا۔۔۔۔”
ارحام نے اریبہ کو واپس اپنی والدہ کو پکڑا دیا تھا اور عشنا کی طرف بڑھا تھا جس کی آنکھوں میں غصہ تھا ارحام کو دیکھ کر اور ایک شک بھی۔۔۔
پر ارحام نے سب کچھ اگنور کردیا تھا۔۔۔عشنا کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی آغوش میں لیا تھا۔۔۔ اپنے سینے سے لگالیا تھا۔۔۔
اور جب عشنا کے دونوں ہاتھ اسے اپنی ویسٹ پر محسوس ہوئے تھے اس نے آنکھیں بند کرلی تھی
“گھمنڈی۔۔۔۔”
“لوزرر۔۔۔۔ تھری پیس سوٹ میں بہت ہوٹ لگ رہے ہو۔۔۔”
ان دونوں نے ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔
آنکھیں بند تھیں وہ بن کچھ کہے بہت کچھ کہہ گئے تھے۔۔۔
ارحام تھوڑا سا پیچھے ہوا تھا۔۔۔ اور عشنا کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔