Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 20
Rate this Novel
Episode 20
“ہاہاہاہا۔۔۔ گھمنڈی کہیں کی۔۔۔ یہ فیصلے نہیں ضد ہے تمہاری۔۔۔ عشنا سے ایک بار بھی پوچھا تم نے۔۔؟؟ اسے کیا چاہیے کیا نہیں۔۔۔؟؟
وہ نفرت کرتی ہے ارحام سے۔۔۔ وہ تمہارا فیصلہ کیوں مانے گی۔۔۔؟؟
اسی وقت انکار کردے گی تم دیکھ لینا۔۔۔عشنا۔۔۔۔”
اپنی بات مکمل کرتے ہی ایک جھٹکے سے لبابہ کو پیچھے دھکیل دیا تھا انہوں نے اور عشنا کو اونچی آواز دے کر بلایا تھا
“اگر عشنا نے میرے فیصلے پر انکار کردیا نہ ضیشم۔۔۔ تو پھر کبھی عشنا کو لیکر میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گی ۔۔”
عشنا کے قدم تھم گئے تھے اپنی ماں کی آواز میں ایک ہار دیکھ کر۔۔۔
آج ماں باپ کی لڑائی نے ان بچپن کی لڑائیوں کو پھر سے تازہ کردیا تھا۔۔۔
آج وہ پانچ سال کی کمزور عشنا نہیں تھی۔۔۔
آج وہ گھمنڈی تھی۔۔۔ اور آج وہ اپنا گھمنڈ اپنے ماں باپ کو دیکھا کر رہے گی۔۔۔
ایسی سوچ رکھ کر وہ فل کنفیڈنٹ سے آگے بڑھی تھی،،،
“موم۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔”
“بیٹا بتاؤ اپنی موم کو اپنا فیصلہ۔۔۔ انکی غلط فہمی تو ختم ہو آج۔۔۔”
“ڈیڈ موم نے جو بھی فیصلہ کیا ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔۔۔”
اس نے آنکھیں بند کرکے وہ الفاظ ادا کردئیے تھے۔۔۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ میں راضی ہوں ارحام کے ساتھ شادی کرنے کے لیے۔۔۔”
“ہاہاہاہا مسٹر ضیشم سن لیا اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔۔”
“موم۔۔۔ میری شادی کا ہر فنکشن ڈیڈ کے گھر سے ہوگا۔۔ اور آپ دونوں ہر وہ فرض ایک ساتھ ادا کریں گے جو آپ دونوں نے کبھی نہیں کیا۔۔۔
ایک ہیپی کپل بن کر آپ میری شادی کی ہر رسم پوری کریں گے۔۔۔
میرے سسرال میں یہ باتیں نہیں ہونی چاہیے کہ میرے ماں باپ کی شادی کامیاب نہیں ہوئی تو میں بھی گھر بسا نہیں سکتی۔۔۔”
بات کرتے کرتے وہ گھمنڈی اشک بار ہوگئی تھی۔۔۔
“اگر آپ دونوں کو میری شرط منظور ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔ اسی ہفتے منگنی ہوگی ارحام کے ساتھ میری۔۔۔
اگر نہیں تو آپ دونوں۔۔۔۔ چپ چاپ میری زندگی سے چلے جائیے گا۔۔۔ میں خود کو یتیم سمجھ کر باقی کی زندگی گزار لوں گی۔۔۔”
اور وہ اس کمرے سے بھاگ گئی تھی۔۔۔۔
ان دونوں لوگوں کو ہی نہیں ان چار بڑے لوگوں کو اپنی باتوں سے بہت چھوٹا بنا گئی تھی وہ ۔۔۔
لبابہ۔۔۔لڑکھڑا کر صوفہ پر بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔اور ضیشم صاحب۔۔۔ اسی جگہ کھڑے تھے۔۔۔
۔
۔
“یہ کیا کہہ گئی ہے ماں ۔۔۔؟؟ یہ یتیم لفظ کیسے استعمال کرسکتی ہے خود کے لیے۔۔؟؟
میں اسے۔۔۔”
انکا ہاتھ پیچھے سے کسی نے پکڑ لیا تھا۔۔۔پر وہ انکی ماں نہیں انکی بیوی تھی۔۔۔
“ضیشم۔۔۔ میں اور عشنا کل ہی شفٹ ہو جائیں گے تمہارے مینشن میں۔۔۔اسی ہفتے منگنی ہوگی عشنا اور ارحام کی۔۔۔۔۔
اسی مہینے شادی بھی ہوگی۔۔۔۔اسکے بعد میں چلی جاؤں گی “
ہاتھ پکڑے ہوئے انہوں نے اپنی بات مکمل کی تھی۔۔۔
اور ضیشم صاحب اپنے گھٹنوں پر تھے لبابہ کے سامنے۔۔۔
“لبابہ۔۔۔ اتنی جلدی یہ سب۔۔۔ تم اسے وقت دو ۔۔۔ وہ ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔”
اور لبابہ بیگم نے بھیگی پلکیں اٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔۔۔
“وقت ہی تو نہیں ہے ضیشم۔۔۔۔ وقت ہی نہیں ہے۔۔۔۔”
۔
۔
اپنا ہاتھ چھڑائے وہ وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔۔
۔
“ضیشم۔۔۔”
وہ وہیں اپنے گھٹنوں پہ بیٹھے رہ گئے تھے۔۔
۔
“آپ کہہ دیجئے امی میں نے جو سنا غلط سنا۔۔کیوں وقت نہیں ہے اس کے پاس۔۔؟
کیا اس بار ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جائے گی وہ۔۔؟؟”
تھکن سے چور آنکھوں نے مان کی بوڑھی آنکھوں میں بہت مایوسی سے دیکھا تھا
وہ بھی اپنے بیٹے کے پاس بیٹھ گئیں تھیں
“ضیشم وہ پہلے بھی خود نہیں گئی تھی تم نے اسے نکال دیا تھا تمہاری بےوفائی نے اسے نکال دیا تھا
ابھی تو تمہیں موقع دے رہی ہے تمہاری بیٹی۔۔۔ عشنا کی شادی تک کا وقت تو ہے نہ۔۔؟؟
لبابہ کو منا لو بیٹا۔۔۔”
انہوں نے بنا کچھ کہے ماں کی گود میں سر رکھا تھا۔۔۔
اسی وقت انہوں نے اپنی بیٹی کو اشارہ کیا تھا وہ لبابہ اور عشنا کو دیکھ کر آئیں۔۔۔
ایک دم سے گھبراہٹ ہوگئی تھی انہوں لبابہ کی بات سے۔۔۔
وہ جانتی تھیں اس بار وقت لوٹ کر نہیں آئے گا۔۔۔
وہ یہ بھی جانتی تھیں اس بار ان کا بیٹا برداشت نہیں کرپائے گا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یوزلیس آدمی۔۔۔”
“سرپھری گھمنڈی۔۔۔”
۔
“عشنا ضیشم۔۔۔۔”
وہ پہلی ملاقات کی پرانی یادوں نے اسے اور اداس کردیا تھا پر ہونٹوں پر ہنسی بھی چھا گئی تھی اسکے۔۔۔
۔
“تم نہیں آپ۔۔۔آئندہ آپ کہہ کر بات کرنا۔۔تم ایک ہی دن میں اتنی گستاخیاں کر چکے ہو کہ اگر ایک اور کرو گے تو پچھتاؤ گے۔۔۔”
۔
“عشنا۔۔۔”
ارحام کی آواز بہت بھاری ہوگئی تھی۔۔۔
روم کی لائٹس بند کئیے وہ یہاں کھڑکی کے پاس اندھیرے میں کھڑا تھا۔۔
ایسے ہی دن گزر رہے تھے اس کے۔۔ نہ باہر رہتا تھا۔۔۔ اور نہ دل کرتا تھا اب اس کا فیملی میں بیٹھنے کو۔۔
ہر ایک کا یہی سوال تھا جاب پر نہیں جا رہے کیا ہوا ہے۔۔۔پھر چھوڑ دی ۔۔۔
خاص کر اپنے بڑے بھائی کے طعنوں سے وہ تنگ آچکا تھا۔۔۔
اور جو باقی کی کمی رہ گئی تھی وہ بھی آج پوری ہوگئی۔۔
جب اسکے ابو نے عشنا کی منگنی کا گھر میں سب کو بتایا تھا۔۔۔
۔
“نینا تیرے کجرارے ہیں۔۔۔
نینوں پہ ہم دل ہارے ہیں۔۔
انجانے ہی تیرے نینا یہ
وعدے کئیے کئی سارے ہیں۔۔”
۔
“کیسے دیکھوں گا تمہیں کسی اور کا ہوتے ہوئے عشنا۔۔۔؟؟”
اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی وہ انگوٹھی دیکھی تھی اس نے۔۔۔
اپنے ہی ہاتھوں سے اس نے سب کچھ برباد کردیا کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔۔۔
کسی کو اسکی تکلیف کا اندازہ ہی نہیں ہوا تھا۔۔۔ وہ اندر ہی اندر گھٹ رہا تھا۔۔۔
وہ کیسے اور کسے بتاتا اس نے کیا کھو دیا ہے۔۔۔
۔
“کیا میرے نصیب میں محبت نہیں ہے یا اللہ۔۔۔؟؟”
اوپر آسمان کی طرف جیسے اس نے نگاہ اٹھائی تھی اسکی آنکھیں چھلک اٹھی تھیں اور ان آنسوؤں نے اسکا چہرہ بھگو دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“”مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے مجھے تمہارے اس گھمنڈ سے محبت ہونے والی ہے۔۔۔؟؟
“مجھ سے محبت تمہاری زندگی کی آخری غلطی ہوگی۔۔۔”
“ہاہاہاہا بدلے میں اگر تم ملتی ہو تو پھر آخری غلطی ہی سہی۔۔۔ویسے تم سے محبت میری زندگی کی غلطی نہیں ہو سکتی۔۔۔”
۔
“تمہیں روکتی آئی مجھ سے محبت سے۔۔۔اور خود وہی غلطی کربیٹھی میں۔۔
اپنے ماں باپ کی ناکام محبت دیکھنے کے بعد بھی۔۔۔
اس گھمنڈی کو محبت ہوگئی تم سے ارحام ابراہیم۔۔۔
اس شخص سے محبت ہوگئی جسے شاید محبت کے معنی بھی نہیں پتہ
جو مجھے میرے لائف پارٹنر میں چاہیے تھا۔۔۔ وہ تو بلکل ہی مختلف ہے اس سے۔۔۔
محبت کے بغیر تو رشتے نبھائے جاسکتے ہیں پر یقین اور بھروسے کے بغیر کیسے گزار پاؤں گی
اس کچے کانوں کے انسان کے ساتھ۔۔۔
جو پہلا موقع ملنے پر ہی ہر یقین کو توڑنا جانتا ہو۔۔۔”
۔
“عشنا۔۔۔”
عشنا نے اپنی آنکھیں صاف کرلی تھی جلدی تھی۔۔
دروازے پر دادی کھڑی ہوئی تھیں جو روم میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہیں کھڑی تھیں۔۔
“عشنا بیٹا۔۔۔”
“آپ چلیں دادی میں ابھی آتی ہوں فریش ہو کر۔۔۔”
“فریش ہونے جا رہی ہو یا اور رونے ۔۔؟؟ کیا لگتا ہے۔۔؟ مجھ سے چھپا لو گی اپنی یہ سرخ آنکھیں۔۔؟؟
کیا تم اس شادی کی وجہ سے اتنی مایوس ہو۔۔؟ یا ارحام سے ہو رہی اس وجہ سے۔۔؟؟”
ایک ایک قدم وہ اس اندھیرے میں رکھ رہی تھیں اور ایک ایک سوال پوچھ رہیں تھیں عشنا سے۔۔۔
عشنا کے قدموں تلے جیسے زمین نکل گئی تھی ۔۔۔ دادی کی ہر بات سن کر۔۔۔
۔
“دادو۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔میں نہیں رو رہی۔۔ یہ گھمنڈی اتنی کمزور بھی نہیں ہے۔۔
ویسے بھی یہ شادی ہے۔۔۔ زندگی موت کا مسئلہ نہیں۔۔۔ اگر نہیں برداشت ہوا تو۔۔۔”
۔
“تو۔۔۔؟؟ بات مکمل کرو میری بچی۔۔۔ تو کیا توڑ دو گی۔۔؟؟ رشتے توڑنا اتنا آسان نہیں ہوتا عشنا۔۔۔”
ضیشم صاحب بھی اس کمرے میں داخل ہوئے تھے
“یہ آپ کہہ رہے ہیں ڈیڈ۔۔۔؟ جنہوں نے ہر قدم پر رشتہ توڑا۔۔۔
یو نو وٹ۔۔۔؟ آپ میری زندگی کے وہ آخری پرسن ہوں گے جو مجھے رشتوں پر لیکچر دیں گے۔۔۔
اور ایک بات۔۔۔ آپ کے گھر میں اگر میری ماں کی ایک بات بھی تذلیل ہوئی تو یاد رکھئیے گا۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے ضیشم صاحب کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
“اس بار رشتہ آپ نہیں میں توڑوں گی آپ سے وہ بھی ہمیشہ کے لیے۔۔۔
میری ماں کو اس گھر میں وہ عزت ملنی چاہیے جب تک میں بیاہی نہیں جاتی وہاں سے۔۔۔
پھر میں اور میری ماں دونوں ہی چلے جائیں گے آپ کی زندگی سے۔۔۔”
۔
“ضیشم بھائی۔۔۔۔”
“آج سچ میں ۔۔۔ میں ایک ناکام باپ۔۔۔ ایک ناکام شوہر ثابت ہوا ہوں۔۔۔
آپ سب ٹھیک کہتے تھے۔۔۔میں پچھتاؤں گا۔۔۔ ماں میں پچھتا رہا ہوں۔۔۔”
۔
وہ باہر اشکبار تھے تو وہ گھمنڈی انکی آواز میں چھپے درد کو محسوس کرکے اندر رو رہی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ابراہیم بھائی میں نے پہلے بھی کہا تھا میں آس مند ہوں میں امید لگا کر بیٹھا تھا۔۔”
ذیشان تم نے مجھے کچھ دن پہلے رشتے کا کہا تھا۔۔۔ مجھے پہلے خبر نہیں تھی اس بارے میں۔۔
تمہیں پہلے بتانا چاہیے تھا۔۔۔”
“پہلے کیسے بتاتا۔۔؟؟ مجھے یہی لگا ہمیشہ سے۔۔۔ بلکہ سب کو یہی لگتا تھا کہ فلذہ بیٹی کی شادی ارحام سے ہوگی۔۔۔ اس لیے میں نے تبسم کو بھی منع کیا تھا آپ سے بات کرنے کو۔۔۔
پر اب جب میں نے آپ سے بات کرنا چاہی آپ نے کوئی اور لڑکی نظر میں رکھی ہوئی ہے۔۔۔”
وہ دونوں بھائی آمنے سامنے تھے۔۔۔ اور انکی بیویاں خاموشی سے یہ بڑھی ہوئی بحث سن رہی تھیں۔۔۔
پچھلے کچھ گھنٹوں سے یہی سب ہورہا تھا۔۔۔
“دیکھیں ذیشان بھائی ابراہیم کو یا مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔”
“کیوں نہیں تھا اسمارہ بھابھی۔۔؟؟ گھر کی بیٹیوں میں کوئی کمی ہے جو آپ ارحام کے لیے باہر کی لڑکی لانا چاہتے ہیں۔۔؟؟”
تبسم بیگم نے اسمارہ کی بات کو کاٹ دیا تھا۔۔۔
“دیکھو تبسم۔۔۔ بیٹیوں میں کمی کوئی نہیں ہے الحمداللہ۔۔۔ پر میں ارحام کی شادی کی زبان کسی اور کو دے چکا ہوں۔۔۔”
“اووو۔۔۔۔ تو پھر وہی بڑے خاندان کی بگڑی ہوئی لڑکی۔۔؟؟ یا وہ گھمنڈی تایا جان۔۔؟؟”
رخسار جو روم کے باہر سب سن رہی تھی اب وہ غصے سے سامنے آئی تھی سب کے۔۔۔
“چپ کرجاؤ رخسار۔۔۔ جاؤ اپنے کمرے میں۔۔”
“ایک منٹ ابو۔۔۔ تایا جان آپ کو کیا لگتا ہے میں مری جارہی ہوں۔۔؟؟ شکر کریں کہ ہم تیار تھے اس رشتے کے لیے۔۔۔ ورنہ ارحام جیسے ناکام آدمی کے ساتھ کون لڑکی گزارا کرنا چاہے گی۔۔؟؟”
اس نے جس قدر بدتمیزی سے بات کی تھی ابراہیم صاحب نے اپنے غصے کو قابو میں کرکے اپنی بیوی کی طرف دیکھا تھا اور پھر اپنی بہو کی طرف جو چائے کی ٹرے پکڑے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
اور اسکے پیچھے کھڑے اپنے بیٹے ارحام کو۔۔۔
وہ بےساختہ مسکرا دئیے تھے۔۔۔
“ذیشان۔۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ تم نے تاخیر کردی۔۔۔ اور میں نے ارحام کی شادی باہر کہیں طہ کردی۔۔۔ ورنہ ہم بھائیوں کا رشتہ خراب ہوجانا تھا۔۔۔”
ابراہیم نے رخسار کی جانب دیکھے بنا اسے شرمندہ کردیا تھا۔۔۔
“اور ایک بات بھابھی۔۔۔ بچوں کو اچھی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس بات کی اچھی تربیت بھی دینی چاہیے کہ خاندان میں بڑوں کی عزت کریں۔۔۔
ہمارے اس گھر میں کبھی آج سے پہلے ایسے نہیں ہوا۔۔۔”
وہ بات کرتے کرتے رکے تھے اور پھر رخسار کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ کر وہاں سے چائے کا کپ لیکر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
“بدتمیز کچھ شرم ہے یا نہیں۔۔؟ کس نے کہا تھا بھائی صاحب کے سامنے اس طرح سے بکواس کرنے کی۔۔؟؟”
“ابو تایا جان نے بھی تو غلط بات۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔ عزت سے بات کرو۔۔۔ کچھ غلط نہیں کیا انہوں نے۔۔۔ جو بہت ہوشیار چلاک ہوتے ہیں نہ بیٹا وہ ایسے ہی خطا کھاتے ہیں۔۔۔
تبسم اب مجھے مت کہنا کہ میں نے بات نہیں کی تھی۔۔۔ اپنی اولاد کو زرا تمیز سیکھاؤ۔۔۔”
وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
“بھابھی رخسار کی طرف سے میں آپ سے معافی مانگتی ہوں۔۔۔”
“تبسم کوئی بات نہیں ابراہیم کا غصہ وقتی تھا رخسار بچی ہے ہماری۔۔۔پر میں ایک بات کہنا چاہوں گی۔۔۔ ارحام کے لیے جو لڑکی اس بار منتخب کی ہے ہم نے۔۔۔
وہ کہیں نہیں بھاگنے والی۔۔۔ اور نہ بھاگنے دے گی ہمارے ارحام کو۔۔۔
ہیرا ڈھونڈا ہے ہم نے اس بار ہمارے بیٹے کے لیے۔۔۔”
وہ جاتے ہوئے ان تین لیڈیز کو تو شاکڈ چھوڑ گئیں تھیں پر روم سے باہر ان کا بیٹا جو اپنی ہی منگنی کی نیوز سن کر حیران پریشان وہیں کھڑا تھا۔۔۔ کہ اسمارہ بیگم ہنس دی تھیں۔۔۔
“ہاہاہاہا ابھی تو پرسو تمہارے چہرے کا نقشہ بدلے گا میرے بیٹے۔۔۔”
“امی۔۔۔یہ سب۔۔۔”
“اپنے ابو سے پوچھو بیٹا۔۔۔”
ہنستے ہوئے وہ پاس سے گزر گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم۔۔۔ میں جانتی تھی تم آؤ گے۔۔۔ تم مجھ سے اتنی محبت کرتے ہو کہ رہ نہیں سکتے میرے بنا۔۔۔تم۔۔۔”
وہ خوشی سے جھومتے ہوئے نیچے آئی تھی سیڑھیوں سے رشنا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئیے۔۔۔
پر ان دونوں ماں بیٹی کی مسکان چہروں سے غائب ہوگئی تھی جب ضیشم صاحب دروازے سے اندر داخل ہوئے تھے اور انکے پیچھے لبابہ بیگم جن کا ہاتھ عشنا نے پکڑا ہوا تھا۔۔۔
“ارے بھائی اب کیا یہیں کھڑے رہنا ہے۔۔؟؟ آؤ بہو۔۔۔ان دونوں باپ بیٹی کو رہنے دو کھڑا یہیں۔۔۔”
دادی لبابہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اندر لے آئیں تھیں۔۔۔
“ضیشم۔۔۔ یہ کیا کررہی ہے یہاں۔۔؟ اور عشنا۔۔۔؟؟ جاتے ہوئے تو بہت ناک سے گئی۔۔۔۔”
“یہ میری بیوی ہے تابین اگر تم بھول گئی ہو تو۔۔۔ اور یہاں لبابہ کا اور میری بیٹی کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ تمہارا اور تمہاری بیٹی۔۔۔”
“تمہاری بیٹی۔۔؟؟ رشنا تمہاری بھی بیٹی ہے ضیشم۔۔۔”
وہ ایگریسویلی آگے بڑھی تھیں۔۔۔
“میرا وہی مطلب تھا۔۔۔”
“مجھے سمجھ نہیں آرہی ضیشم۔۔ اگر آپ ناراض ہیں تو مجھے ڈانٹے خفا ہوں۔۔۔
پر اس عورت کو یہاں میرے سامنے۔۔۔”
“ہاہاہا عورت۔۔؟؟ ہاہاہاابھی کچھ دن پہلے ہی ایک خوبصورت شخص نے مجھے عشنا کی بڑی بہن سمجھ
لیا تھا۔۔۔ عمر میں تم سے کم ہی لگ رہی ہوں۔۔۔”
لبابہ فلی ایٹیٹیوڈ دیتے ہوئے آگے بڑھی تھیں جیسے اس گھر کو اس گھر کے ہر کونے کو جی بھر کر دیکھ رہی تھیں وہ۔۔۔
اور یادیں تازہ کررہی ہوں۔۔۔
۔
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔ خوبصورت۔۔۔؟؟ مائی فٹ،،، عمر میں وہ مجھ سے بھی زیادہ کا ہے ۔۔۔”
“اچھا۔۔۔؟؟ لگ تو نہیں رہا۔۔۔”
لبابہ بیگم نے ضیشم صاحب کو چیلنج دیتے ہوئے پوچھا تھا،،،
جو بلکل پاس آکر کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔ تابین بیگم تو پیچھے رہ گئیں تھیں۔۔۔
آج اتنے سالوں کے بعد بھی انہیں لبابہ اور ضیشم کی آنکھوں میں محبت کا وہی جنون ایک دوسرے کے لیے نظر آرہا تھا۔۔۔
اور رشنا۔۔۔۔ وہ تو جیسے حیران تھی عشنا کو اس طرح مسکراتے دیکھ اپنے موم ڈیڈ کو۔۔۔
۔
“کیوں نہیں لگ رہا۔۔؟؟ کیا ہینڈسم نہیں رہا میں۔۔۔؟؟ “
وہ اور قریب ہوئے تھے اور لبابہ کچھ قدم پیچھے ہوگئی تھیں۔۔۔
تابین کو جیلس کرنے کے چکر میں وہ اپنی لمٹ کراس کر چکی تھی ضیشم کے اتنے قریب جا کر۔۔۔
“عشنا بیٹا۔۔۔ گیسٹ روم ریڈی ہے تو میں۔۔۔”
“نہیں موم آپ میرے روم میں رہیں گی۔۔۔ اس گھر کی مالکن ہوتے ہوئے بھی اگر گیسٹ روم میں رہیں گی تو میں تکلیف میں رہوں گی۔۔۔”
یہ ایک اور شاکنگ سین تھا۔۔۔ عشنا اس طرح سے اپنے جذبات ظاہر کررہی تھی سب کے سامنے۔۔۔
۔
۔
وہ دونوں ماں بیٹی ہنستے ہوئے باتیں کرتے کرتے اوپر چلی گئیں تھی۔۔۔
پر ضیشم صاحب اسی جگہ تھے۔۔۔ انکی آنکھیں بھیگ چکی تھی۔۔۔
۔
ٹھیک اسی جگہ علیحدگی ہوئی تھی انکی۔۔۔۔ انہیں سیڑھیوں سے لبابہ گرتے ہوئے نیچے آئی تھی۔۔۔
جہاں آج وہ کھڑے تھے۔۔۔
اتنے سالوں کے بعد انہیں نظر آئی اپنی بیوی کی سچائی۔۔۔اور اپنی بےوفائی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم۔۔۔۔۔ “
“تابین۔۔۔۔”
وہ دونوں ایک ساتھ بولے تھے اور دونوں کی آنکھیں بھری ہوئی تھی
تابین ضیشم کو لبابہ کے ساتھ اتنے نزدیک دیکھ کر رو دی تھیں۔۔۔
اور ضیشم صاحب ماضی کو یاد کرکے۔۔۔
۔
“تابین۔۔۔ ٹھیک اسی جگہ گری تھی لبابہ۔۔۔ جب اوپر ہماری لڑائی ہوئی تھی۔۔۔
وہ دن میری زندگی کا وہ دن تھا جس دن مجھے سب سے زیادہ نفرت اپنی بیوی سے ہوئی تھی۔۔۔
کیونکہ اس دن وہ میری بےوفائی کو جان چکی تھی پہچان چکی تھی۔۔۔
اور میں ٹھہرا کمزور مرد۔۔۔ الٹا اس پر الزام لگا دیا۔۔۔ ہاتھ اٹھا دیا۔۔۔
وہ وہاں سے گرتے ہوئے نیچے آئی تھی تابین یہاں۔۔۔”
انہوں نے مظبوط گرفت میں تابین کا ہاتھ پکڑا تھا
“ضیشم لئیو مائی درد ہورہا ہے مجھے۔۔۔”
“ششش چپ۔۔۔۔ میری بات مکمل نہیں ہوئی۔۔۔”
“ضیشم بیٹا۔۔۔”
پر ہاتھ کے اشارے سے اپنی امی کو وہیں رکنے کا کہہ دیا تھا انہوں نے۔۔۔
“تابین۔۔۔ تم میرے ساتھ وہاں اوپر کھڑی تھی۔۔۔ تمہیں یاد ہے۔۔۔؟؟ میری بیوی تمہاری بیسٹ فرینڈ کے ساتھ ہمارے کئیے فریب کو۔۔۔؟؟”
ضیشم۔۔۔۔پلیز۔۔۔”
اور ایک جھٹکے سے انکو پیچھے دھکیل دیا تھا تابین بیگم کو رشنا نے تھام لیا تھا جلدی سے۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔۔”
“ضیشم۔۔۔۔”
“مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے امی میں گیسٹ روم میں شفٹ ہورہا ہوں۔۔۔”
“نہیں ضیشم۔۔۔ ایک موقع دو یہ رشتہ ایسے برباد نہ کرو۔۔۔”
تابین نے پیچھے سے ہاتھ پکڑا تھا ان کا۔۔۔
“تم نے برباد کیا رشتہ میرے اور میری بیوی کے درمیان آکر تابین۔۔۔جھوٹ بولا دھوکا دیا مجھے۔۔اب کیا چاہتی ہو۔۔؟ ایک کمرے میں رہوں۔۔ اس بیڈروم میں۔۔؟؟
جو کبھی میرا اور لبابہ کا تھا۔۔۔۔”
وہ چلا اٹھے تھے۔۔۔
رشنا کو دادی نے پیچھے کرلیا تھا جیسے شمع پیچھے کھڑی تھی۔۔۔ یہ ایک الگ ہی سائیڈ تھی ضیشم صاحب کی۔۔۔ اتنا غصہ کرتے انہوں کبھی نہیں دیکھا تھا وہ بھی اتنی شدت کا غصہ۔۔۔
“ضیشم۔۔۔ ہماری اپنی زندگی ہے اپنا گھر ہے ہمارے تین بچے بھی ہیں بھول گئے ہو۔۔؟؟
ماضی کو بھول جاؤ۔۔۔ پلیز ہمارے بیڈروم کو نہ چھوڑو۔۔۔ میں اپنی باقی کی ساری زندگی تمہیں منانے میں لگا دوں گی۔۔۔مت جاؤ دوسرے کمرے میں”
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں تھیں روتے ہوئے۔۔۔۔
“اگر تم میری زندگی میں نہ آتی تو میرے بچے بھی ہوتے لبابہ کے ساتھ تابین۔۔۔
لبابہ کی خوشیوں پر اسکے ارمانوں کا گلہ گھونٹ کر بنایا تھا میں نے یہ آشیانہ تمہارے ساتھ۔۔۔
دیکھو یہ ہوائیں۔۔۔ بکھیر کر لے گئیں نہ۔۔۔؟؟”
انکا پورا چہرہ بھیگ چکا تھا۔۔۔۔
“تمہیں پتہ ہے میرا دل کیا کررہا ہے تابین۔۔۔؟؟”
انہوں نے بہت آۃستہ آواز میں پوچھا تھا۔۔۔
“میرا دل کررہا ہے اپنی بیوی اور بیٹی کو اپنے سینے سے لگا لو ابھی اوپر جا کر۔۔۔
بار بار سینے میں درد اٹھ رہا ہے تابین۔۔۔ میں اتنے سال تک زیادتی کرتا آیا ہوں۔۔۔
اور اب وہ دونوں مجھے ریجیکٹ کر چکی ہیں۔۔۔ تمہیں میری تکلیف کا اندازہ اس لیے بھی نہیں ہے کیونکہ تم نے کسی کو چیٹ نہیں کیا تم تو غیر تھی۔۔۔
میں نے برباد کردیا اپنا گھر۔۔۔ اپنی بیٹی کو بوڈنگ میں بھجوادیا تھا۔۔۔”اور وہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر وہاں سے سیدھا گیسٹ روم میں گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
دو دن بعد۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
ضیشم صاحب نے خود سے سب تیاریاں کروائی تھیں۔۔۔ سب لوگوں کو انوائیٹ کیا تھا۔۔۔
ان دو دنوں میں وہ لبابہ اور عشنا کے سامنے بھی نہیں گئے تھے۔۔۔
وہ بس اتنا جانتے تھے انکی بیٹی نے کچھ مانگا تھا ان سے۔۔۔اور وہ شادی تک ہر رسم کو اس قدر دھوم دھام سے منائیں گے کہ یاد گار بنا دیں گے۔۔۔
“امی ابراہیم کی فیملی آتی ہوگی آپ چیک کیجئے وہ دونوں کب تیار ہو کر نیچے آئیں گی۔۔۔؟؟”
بار بار گھڑی کو دیکھ کر پوچھ رہے تھے
“ضیشم۔۔۔ تابین اور رشنا کو بھی کمرے سے باہر نکال لاؤ بیٹا۔۔۔وہ۔۔”
“امی خدا کے لیے آج نہیں۔۔۔ یہ دن بس میری بیٹی کا ہے۔۔۔ لبابہ کا موڈ خراب نہیں ہونا چاہیے وہ۔۔۔۔”
ابراہیم بھائی آگئے ہیں ضیشم بھائی۔۔۔۔”
۔
۔
وہ اپنی امی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں مین اینٹرینس پر لے گئے تھے اپنے سپیشل گیسٹ کو ویلکم کرنے کے لیے اور انکے پیچھے فیملی کے معزز رشتے دار۔۔۔۔
“ماشاللہ ماشاللہ موسٹ ویلکم۔۔۔۔”
ضیشم صاحب نے ابراہیم صاحب کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا اور کچھ سیکنڈ ایسے ہی رہے تھے
وہ اتنے خوش تھے کہ سب لوگوں سے اتنے پیار اور عزت سے مل رہے تھے۔۔۔
“ارحام۔۔۔۔۔ بہت خوبصورت لگ رہے ہو بیٹا۔۔۔ دیکھا امی۔۔۔ “
اسکا وائٹ سلوار سوٹ اتنا بہترین بھی نہیں تھا۔۔۔ پر جس طرح اسے یہاں سب عزت دے رہے تھے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔
۔
“امی۔۔۔ منگنی ہونے کے بعد میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔۔۔ وہ تو اپکی قسم پر آگیا میں۔۔”
ارحام منہ بنا کر دوسری طرف آفس کے لوگوں کو ملنے چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا آج اسکی منگنی ہے جب اسے پتہ چلے گا تو کیا ہوگا بیگم کچھ سوچا ہے۔۔؟؟”
کچھ دیر میں ضیشم اوپر اپنی بیٹی اور لبابہ کو لینے چلے گئے تھے
“ہاہاہاہ اس نے سب سے پہلے یہی کہنا امی میں اپنی منگنی میں اتنے سادہ سے کپڑے پہن کر گیا تھا۔۔۔
ہاہاہاہا”
اسمارہ بیگم اور ابراہیم صاحب اس طرح ہنسے تھے کہ سب کو متوجہ کردیا تھا اپنی طرف انہوں نے۔۔۔
“لووو۔۔۔۔۔ آگئی تمہاری بہو۔۔۔۔”
“آپ کی بھی ابراہیم۔۔۔۔”
اسمارہ بیگم نے آنکھ کو صاف کرکے کہا تھا یہ خوشی کے آنسو تھے۔۔۔
“ماشاللہ۔۔۔۔ یہ گھمنڈی تو بہت ٹریڈیشنل لگ رہی ہے بیگم۔۔۔۔”
“اور بہت سادہ بھی۔۔۔۔”
“اور بہت مشرقی بھی ابو۔۔۔”
ارحام نے بےخیالی میں جواب دیا تھا۔۔۔ عشنا ضیشم کے سر پر جس طرح سے دوپٹہ پن کیا گیا تھا۔۔۔
وہ اس سادہ شلوار قمیض میں جتنی خوبصورت لگ رہی تھی ارحام کے قدم چلنا شروع ہوئے تھے سیڑھیوں کے پاس جا کر وہ کھڑا ہوا گیا تھا ان مہمانوں میں۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔میں نے اپنی نا سمجھی میں اسے گنوا دیا۔۔۔ اب وہ جس کے نصیبوں میں بھی ہے اسے خوش رکھنا۔۔۔
امی ابو سے وعدہ کرکے آیا تھا یہاں رک جاؤں گا۔۔۔پر عشنا۔۔۔”
ارحام خود سے باتیں کرتے کرتے رکا تھا جب عشنا اور لبابہ بیگم پاس سے گزر گئے تھے۔۔۔۔
کچھ قدم چلتے ہی عشنا نے پلٹ کر ارحام کو دیکھا تھا۔۔۔ جس کی آنکھوں میں اداسی تھی۔۔۔
“تمہیں کسی اور کا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔خوش رہو۔۔۔۔۔”
۔
۔
وہ پیچھے سٹیپ لینا شروع ہوگیا تھا۔۔۔بنا کسی کو بتائے۔۔۔ جیسے ہی عشنا نے ضیشم صاحب کی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔۔
ارحام اس خوش نصیب لڑکے کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا جو عشنا کے پہلو میں کھڑا ہوگا۔۔۔
“بائے مس گھمنڈی۔۔۔۔ ہمارا ساتھ یہیں تک کا تھا۔۔۔”
۔
َ
“میں یہاں بلانا چاہوں گا میرے جگری یار ابراہیم اور ان کے بیٹے ارحام ابرہیم کو جن کے ساتھ میری بیٹی کی منگنی ہونے جا رہی ہے۔۔۔”
“چلیں پتر جی۔۔۔؟؟”
ابراہیم ارحام کا ہاتھ پکڑے واپس ضیشم اور عشنا کے پاس لے گئے تھے۔۔۔
جس کو اپنا کھلا منہ بند کرنے کی ہوش نہیں رہی تھی جو اس قدر شاکڈ تھا
“ابو یہ۔۔۔”
“یہ رنگ بچوں ۔۔۔اسمارہ جی اب میں ان دونوں کو کہیں نہیں بھاگنے دوں گی۔۔۔”
پھولوں سے سجے ہوئے باکس میں دو رنگ ان دونوں کے سامنے رکھ دی گئی تھی
عشنا جو بلکل نارمل تھی پر ارحام۔۔۔؟؟ وہ پریشان ہوگیا تھا۔۔۔
“عشنا بیٹا رنگ پہناؤ۔۔۔۔”
عشنا نے نگاہ اٹھا کر ارحام کو دیکھا تھا۔۔۔ جو کچھ ری ایکٹ کرہی نہیں رہا تھا
“ارحام بیٹا ہاتھ آگے بڑھاؤ۔۔۔”
“واااوووو۔۔۔۔۔۔۔ “
اس نے جیسے ہی گہرا سانس لیکر کہا تھا انکے پاس کھڑے سب لوگ کھلکھلا کر ہنسے تھے۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔کیسا لگا سرپرائز۔۔۔”
“ہاہاہا امی ابو۔۔۔۔ سرپرائز تو بس۔۔۔۔واااااووووو۔۔۔۔ پر میں بہت سادہ سا لگ رہا ہوں۔۔۔”
اسکا چہرہ جگمگا اٹھا تھا۔۔۔وہ اپنی خوشی کا اظہار ایسے کررہا تھا جیسے عشنا پاس نہ ہو۔۔ اس نے اپنا سر جھکا لیا تھا۔۔۔
۔
“ارے عشنا بیٹا کے ڈریس کے کلر کے ساتھ وائٹ سوٹ کر رہا ہے ارحام پتر۔۔۔۔”
ارحام نے واپس اسکے پہنے مہرون رنگ کے سوٹ کو دیکھا تھا اور سرجھکائے اس لڑکی کو جو پہلو میں تےتھی۔۔۔
“آہم۔۔۔۔” ارحام نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا تھا۔۔۔
اور اب اس گھمنڈی کو شرم آرہی تھی وہ انگوٹھی پہناتے ہوئے۔۔۔
“عشنا بیٹا۔۔۔”
لبابہ بیگم نے عشنا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا اور پھر ضیشم صاحب نے بھی ان دو ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
“موم ڈیڈ۔۔۔”
یہ وہ گھمنڈی ہی جانتی تھی کیسے اس نے اپنے آنسو کنٹرول کئیے تھے۔۔۔
پر اس سین نے تو ہال میں موجود باقی سب کو بھی ایموشنل کردیا تھا۔۔۔
“بیٹا رنگ پہناؤ۔۔۔۔”
اور عشنا نے رنگ پہنا دی تھی ارحام ابراہیم کی آنکھوں میں دیکھتے ہی اس نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔
“ارحام بیٹا۔۔۔۔”
“فائننلی۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے بولا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا کچھ زیادہ ہی جلدی نہیں ہے ارحام۔۔؟؟”
ضیشم صاحب نے ارحام کو آنکھ مارتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
اور پھر ارحام نے عشنا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئیے اسے وہ انگوٹھی پہنا دی تھی۔۔۔
۔
“گھمنڈی۔۔۔۔ “
اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“ملا تو مجھے توووو۔۔۔ مگر دیر سے کیوں۔۔۔
ہمیشہ مجھے یہ شکایت رہے گئی۔۔۔۔
لگا لے گلے سے۔۔ مجھے بن بتائے۔۔۔
عمر بھر تجھے یہ اجازت رہے گی۔۔۔۔”
۔
کبھی وہ نظریں ملا رہی تھی تو کبھی چرا رہی تھی۔۔۔
“ارحام ابراہیم۔۔۔۔”
اس بار اس گھمنڈی نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔
