51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

“یہ پانی انہوں نے دیا ہے۔۔”
“کس نے۔۔؟؟”
“وہ۔۔۔پتا نہیں کہاں گئی وہ۔۔”
وہ بچہ وہاں سے بھاگ گیا تھا ارحام نے جیسے ہی پیچھے دیکھا تھا اس روڈ پر کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔
۔
“تھوڑے بھرے ہیں۔۔۔تھوڑے سے خالی ہیں۔۔
تم بھی ہو الجھے سے۔۔۔ہم بھی سوالی ہیں۔۔۔”
۔
جب اس نے اس پانی سے اپنے منہ پر چھینٹے مار کر پانی پی لیا تھا دور کھڑی وہ گاڑی بھی وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
۔
اس گاڑی میں بیٹھی وہ لڑکی خود کو سمجھ نہیں پائی تھی کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا ہوا کوئی کام ملا۔۔؟”
پر جب ارحام کے کپڑوں پر کیچڑ دیکھا تھا وہاں ڈائننگ ٹیبل پر موجود ہر کوئی ہنسنا شروع ہوگیا تھا ارحام کی حالت پر اور وہ سر جھکا کر کچن میں وہ لنچ باکس رکھنے چلا گیا تھا
“یا اللہ ارحام یہ کیا حال بنایا ہوا ہے۔۔؟ ساری سفید شرٹ خراب کر لی تسلیم دھاتے ہوئے اتنی باتیں سناتی ہے۔۔”
“ہاہاہا اور میں سوچ رہا تھا آپ کو شرٹ سے زیادہ میری فکر ہوگی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا نہیں بھابھی سفید کپڑوں کو لیکر زیادہ فکرمند ہوتیں ہیں۔۔”
چچی اور فلذہ بھی ہنسنے لگی تھیں
“بس اب جاؤ اور چینج کرکے آؤ ڈنر سب کے ساتھ کرنا ہے۔۔۔”
چچی اور وہ کھانے کی ڈشزز باہر لے گئی تھیں جب ارحام نے وہ لنچ باکس کاؤنٹر پر رکھ دیا تھا۔۔
“انٹرویو کیسا رہا ارحام۔۔؟”
“کہیں وہ میرے قابل نہیں تھے تو کہیں میں انکے قابل نہیں تھا۔۔۔
ناکامی ملی ہر جگہ سے “
“ارحام۔۔اگر یہ سب تم نے بہت پہلے شروع کردیا ہوتا تو آج حالات کچھ اور ہوتے۔۔
اگر وہ قابل نہیں بھی تھے تو تم جاب پھر بھی ایکسیپٹ کر لیتے سٹارٹ ایسے ہی ہوتا ہے۔۔”
“ایک پئین کی جاب پر لگ جاتا یا گیٹ کیپر کی۔؟”
“یہاں سب کی باتیں سننے سے تو اچھا تھا نہ۔۔؟ تمہارے پیچھے سب کزنز کیسے ہنستے ہیں تمہیں اندازہ ہے۔۔؟”
“نہیں مجھے اندازہ نہیں ہے،،میں اتنا جانتا ہوں میں ایک خوددار آدمی ہوں۔۔ میں نے یہ ڈگریاں اس لیے نہیں لی کہ جب میں کام کروں تو اپنے آپ سے نظریں نہ ملا پاؤں۔۔”
۔
باہر جانے کے لیے اس نے پھر سے قدم بڑھائے تھے
“پھر تو اچھا ہوا ارحام تم سے میری شادی نہیں ہوئی ورنہ باہر ہو رہی تمہاری بےعزتی اور مذاق کا حصہ میں بھی بن جانا تھا نہ۔۔؟
فاقوں پر زندگی گزر بسر ہونی تھی ہماری یا پھر تم نے مننان سے یا ابراہیم تایا سے جیب خرچ مانگ کر گزارا کرنا تھا۔۔۔
کم سے کم مننان کے ساتھ شادی کے بعد ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ایک عزت دار زندگی ملی ہے مجھے۔۔۔
انکے پاس ڈگریاں بھی نہیں ہیں تمہاری طرح پھر بھی وہ ایک قابل پوسٹ پر ہیں۔۔۔”
۔
فلذہ غصے میں اس شخص کو وہ باتیں سنا گئیں تھیں جو شاید کوئی بھی اسے نہ سنا پاتا۔۔۔
ارحام دونوں ہاتھ کاؤنٹر پر رکھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔۔
وہ جانتا تھا اسے اسکی قابلیت پر کوئی نوکری کوئی نہیں ملی تھی۔۔
وہ ایمانداری خود داری کے ساتھ کم آمدن والی نوکری بھی قبول کر لیتا
پر ضمیر بیچ کر اسے کوئی کام منظور نہیں تھا۔۔
یہی وجہ تھی وہ بےروزگار تھا ابھی تک۔۔۔
۔
۔
پر ماضی کی محبت جاتے جاتے اسکے دل کو ایک آئینہ ضرور دیکھا گئی تھی۔۔۔
۔
“تقدیر کسی کو بھی بُرے دن نہ دیکھائے۔۔۔
ہوتے ہیں بُرے وقت میں اپنے پرائے۔۔۔”
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اگلے دن۔۔۔ضیشم انڈسٹریز۔۔۔”
۔
“آپ مجھے فورس کر رہے ہیں۔۔۔ انہوں نے ٹھیک کہا تھا آپ ٹرسٹ کے قابل نہیں ہیں۔۔”
عشنا کی بات نے انہوں ہرٹ کر دیا تھا پر انکے چہرے پر ایک جیت کی خوشی تھی
انکی آنکھوں میں ایک سکون تھا۔۔
“زیادہ خوش نہیں ہوں۔۔ایک دن آپ اپنے اسی فیصلے پر پچھتائیں گے سر ضیشم۔۔”
“ہاہاہاہ دیکھیں گے بچے۔۔اب چلیں بورڈ آف ڈائریکٹر نئے ‘سی-ای-او’ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔”
“آپ کو پتا تھا میں اس لوزر کا نام آنے پر مان جاؤں گی۔؟ اور کیا پتا ہے آپ کو۔؟”
عُشنا نےانکی طرف دیکھ کر پوچھا تھا
“پتا کچھ زیادہ نہیں بس میں چاہتا تھا ارحام کو کمپنی کا۔۔”
“بس کیجئے اب لیٹ نہیں ہو رہے ۔۔؟؟”
وہ دونوں باپ بیٹی کیبن سے میٹنگ روم کی طرف چل دئیے تھے۔۔
۔
“السلام علیکم معذرت چاہتا ہوں تاخیر سے آنے کے لیے۔۔۔”
ضیشم صاحب نے عشنا کے لیے دروازہ اوپن کیا تھا اور دونوں باپ بیٹی اندر داخل ہوگئے تھےتمام ممبرز اٹھ گئے تھے اپنی اپنی جگہ سے
“وعلیکم سلام۔۔اٹس اوکے ضیشم۔۔ہیلو عشنا بیٹا ویلکم بیک”
عشنا کے سر پر پیار دیا تھا اور جب دوسرے ممبرز نے عشنا کو مبارک باد دینے کی کوشش کی تھی وہ آگے بڑھ گئی تھی
“ایم سوری جنٹل مینز۔۔سر ضیشم نے ایک ضروری اناؤنسمنٹ کرنی ہے اور اسکے بعد ہم مل ملا لیں گے آپس میں۔۔بیک ٹو ورک ایوری ون۔۔۔”
سب واپس اپنی اپنی سیٹ پر کھڑی ہوگئے تھے۔۔
“لبابہ کی ڈٹو کاپی ہے۔۔۔”
ضیشم کے دوست اور بورڈ ممبر نے انکے کان میں کہا تھا
“اسکی کاپی ہے پر لیٹسٹ ورژن ہے۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔”
۔
“آپ سب جانتے ہیں میں اپنی کرسی اور اس پوسٹ سے اگلے مہینے ہی ریٹائر ہونے والا تھا۔۔پر میں چاہتا ہوں میری پوسٹ اور کمپنی کی ‘سی-ای-او اب میری بیٹی عشنا بنے۔۔”
“تو آپ کا بیٹا نہیں بنے گا۔۔؟ اور آپ کی بیٹی مس رشنا۔۔؟ انہوں نے لاسٹ منتھ ہی کہا تھا وہ آپ کی سیٹ سنبھالیں گی۔۔”
“ویل سر۔۔۔اب وہ کمپنی کی ‘سی-ای-او ‘ تھوڑی ہیں جو انکی کہی ہوئی بات پر یقین کرلیا جاتا۔۔؟
میرے ڈیڈ مجھے جب اس کمپنی کی بھاگ دوڑ دے چکے ہیں تو میں ایک ہی بات کہنا چاہتی ہوں۔۔مجھے ہر ایک سٹاف ممبر یہاں ایماندار اور ایکٹو چاہیے۔۔
آپ کی زرا سی بھول ود آؤٹ نوٹس آپ کو کمپنی سے ہی نہیں اس کنٹری کی ہر کمپنی سے بلیک لسٹ کروا سکتی ہے۔۔۔
مجھے دھوکا دینے اور چھوٹ بولنے والے لوگ پسند نہیں ہیں سو احتیاط کیجئے گا آپ سب۔۔۔”
۔
اور وہ وہاں سے چلی گئی تھی ضیشم صاحب کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا
“شوکڈ کر گئی ہے۔۔ویسے ضیشم یہ سب کرنے کے بعد تمہارے بچے تم سے کیا ناراض نہیں ہوں گے۔۔؟ انکا بھی تو حق۔۔”
“یہ کمپنی میری اور لبابہ کی محنت کا نتیجہ ہے میری اور تابین کی نہیں۔۔۔
لبابہ کی محنت پر عشنا کا حق ہے۔۔۔رشنا کا نہیں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم مینشن۔۔۔”
۔
“میں نے سنا ہے تم کمپنی کی ‘سی-ای-او’ بننے کے خواب دیکھ رہی تھی رشنا۔۔؟”
عشنا نے لیونگ روم میں جیسے ہی سب کو بیٹھے ہوئے دیکھا تھا وہ رک گئی تھی
“خواب۔۔؟؟ میں ڈیڈ کی کمپنی کی ‘سی-ای-او’ بنو گی عشنا باجی۔۔۔”
“اوکے۔۔۔اوقات سے بڑے خواب جب ٹوٹتے ہیں ٹوٹتی ہیں انکے ساتھ ہماری امیدیں بھی۔۔۔سی۔۔۔میرے پاس وہ پیپرز ہیں۔۔۔ضیشم گروپ اینڈ انڈسٹریز کی نیو ‘سی-ای-او۔۔۔ عُشنا ضیشم۔۔۔”
سامنے ٹیبل پر وہ تمام کاغذات پھینک دئیے تھے اس نے۔۔
“سچ میں عشنا بیٹا۔۔؟ واااووو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔”
دادی نے عشنا کا ماتھا جیسے ہی چوما تھا رشنا اور آگ بگولہ ہوگئی تھی
“دادی آپ اسے کیسے مبارک باد دہ سکتی ہیں وہ جگہ وہ کرسی میری تھی۔۔”
“امی رشنا کی بات بھی ٹھیک ہے۔۔۔بیٹا عشنا میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں پر اس سیٹ کی لیے رشنا نے بہت محنت کی تھی پچھے دو سالوں سے۔۔امی آپ بات کیجئے ضیشم سے۔۔۔”
تابین نے بہت پیار اور آہستہ آواز میں کہا تھا
“دو سال۔۔؟ یہ کرسی کو اس سیٹ کو اس مقام پر پہنچانے والی میری ماں ہیں قانونی طور پر بھی میں ہی اصل حقدار ہوں۔۔۔
ویل ابھی تک تو مجھے یہی لگ رہاتھا اس کمپنی کو کچھ دنوں میں چھوڑ دوں گی۔۔
پر اب میں نے سوچا ہے یہاں رہنے کا۔۔۔چھوٹی بہن ۔۔۔”
عشنا دادی کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہاں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھنا شروع ہوئی تھی
“وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔۔؟ جو مجھے کہتے آئے کہ میں انکی لاڈلی بیٹی ہوں اور کوئی نہیں۔۔۔”
رشنا کی اونچی آواز سے عشنا کے پاؤں اوپر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے رکے تھے اور ضیشم صاحب جو ابھی ابھی داخل ہوئے تھے انکی نظر صرف عشنا پر تھی
وہ ایک ہی دعا کر رہے تھے یہ الفاظ عشنا نہ سن لے کیونکہ وہ جانتے تھے ان کی گھمنڈی بیٹی ظاہر نہیں کرے گی پر تکلیف سے ضرور گزرے گی۔۔۔
بلآخر عشنا نے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔اسکی نظریں ضیشم صاحب پر مرکوز تھیں۔۔
اسکی خاموش زبان آج باپ کو بہت کچھ کہہ گئی تھی آنکھوں سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔ضیشم انڈسٹریز”
۔
“رئیلی انکل ضیشم۔۔؟ میرا مطلب سر سیریسلی۔۔؟ مجھے اس کمپنی کے ‘سی-ای-او’ کے پرسنل سیکٹری کی پوسٹ مل گئی ہے۔۔؟؟ وااووو۔۔۔۔”
۔
ارحام نے اٹھ کر ضیشم صاحب کو اپنے گلے لگا لیا تھا انکی سیکٹری کے سامنے جو ہنس رہے تھے
“ہاہاہاہا اوکے مائی بوائے اب کب سے جوائن کر رہے ہو۔۔؟ یا ابھی سوچنے کے لیے وقت چاہیے بیٹا۔۔؟؟”
“نووو نوو آج سے ہی۔۔۔آپ کے انڈر کام کرنے سے بڑی آپرچیونٹی کہاں ملے گی مجھے۔۔۔”
“ہاہاہاہا پر بیٹا اب میں نہیں کوئی اور ‘سی-ای-او’ ہے۔۔”
“رشنا۔۔؟؟ پھر تو اور اچھی بات ہے۔۔تھینک یو سووو مچھ سر۔۔۔کہاں سائن کرنے ہیں۔۔؟”
ارحام نے جلدی جلدی میں بنا پیپرز ریڈ کئیے سائن کردئیے تھے اور اسی وقت کیبن کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔
“ڈیڈ مجھے آپ سے ایک ہی بات پوچھنی ہے جو لیگل لوگ ہے ہی نہیں انہیں کمپنی کی طرف سے۔۔۔”
عُشنا بولتے بولتے خاموش ہوگئی تھی۔۔۔اور ارحام کے ہاتھ سائن مکمل کرچکے تھے۔۔
“زہیب یہ کمپنی کے لیگل ڈاکومنٹ مسٹر ارحام کے پیپرز کے ساتھ مینیجر کو بھیج دیجئے۔۔۔”
انہوں نے جلدی سے وہ کاغذات باہر بھجوا دئیے تھے شاید اپنے بیٹی اور دوست کے بیٹے کو وہ جانتے تھے اچھی طرح سے
“یہ تو باہر واپس نہیں چلی گئی تھی۔۔؟”
یہ کیا کر رہا ہےیہاں ڈیڈ۔۔؟؟”
ان دونوں نے ایک ساتھ پوچھا تھا
“ویل۔۔۔ عُشنا۔۔یہ ہیں تمہارے نیو پرسنل سیکریٹری اور مسٹر ارحام یہ ہیں کمپنی کی نیو ‘سی-ای-او’ ناؤ ایکسکئیوز مئ۔۔۔مجھے جانا ہے۔۔”
وہ جلدی سے اپنا موبائل پکڑ کر بھاگ گئے تھے
“تم میں کوالیفیکیشن بھی ہیں۔۔؟ ‘سی ای او بننے کی۔۔؟”
“اور تمہاری اتنی اوقات بھی ہے کہ ایک کمرے میں میرے ساتھ کھڑے ہو سکو۔۔؟ “
“ویل مس عشنا ساتھ ہی کھڑا ہوں۔۔۔”
“ہمم۔۔۔تم ایک دن بھی ٹک نہیں پاؤ گے یہاں۔۔۔”
“لیٹس سی۔۔۔”
عشنا نے وہ فائلز ارحام کے ہاتھوں میں تھما دی تھی۔۔۔
وہ جیسے ہی کیبن سے باہر گئی تھی۔۔ارحام بھی وہ فائلز پکڑے اسے فالو کرتے ہوئے کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
“ناؤ مسٹر ارحام۔۔ایک بدتمیزی برداشت نہیں ہوگی۔۔آپ میرے پرسنل سیکریٹری نہیں آج سے اس کمپنی میں ایک آفس بوائے ہوں گے۔۔۔ایک مہینے تک۔۔۔اگر اس ایک مہینے میں آپ نے یہ ایک پوسٹ پر ٹک کر کام کرلیا تو آپ کو کمپنی میں اسی پوسٹ پر رکھ لیا جائے گا۔۔۔ورنہ ایک مہینے میں تم۔۔۔ارحام ابراہیم خود چھوڑ کر بھاگ جاؤ گے کمپنی۔۔۔”
۔
“آفس بوائے۔۔؟ یہ کیسا امتحان ہوا۔۔؟ تم پرسنل اور پروفیشنل دشمنی کو اس طرح سے،،،”
“ہم میں کچھ بھی پرسنل نہیں تھا مسٹر ارحام۔۔جائیں اور چائے لیکر آئیں میرے لیے۔۔باہر میری پی اے کو ڈھونڈ لیجیئے آپ کو بتا دے گی چائے کہاں سے لانی ہے۔۔”
ارحام کے ہاتھ سے وہ فائلز پکڑ کر عشنا اپنی کرسی پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔۔
“گھمنڈی کہیں کی۔۔۔”
ارحام غصہ کنٹرول کرتے ہوئے کیبن سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
تم تو ایک ہفتہ بھی نہیں ٹک پاؤ گے دیکھ لینا۔۔۔تمہارا کیا حال کرتی ہوں۔۔۔
بدتمیز کہیں کا۔۔۔”
۔
پر اسکا دھیان آج پیپر ورک پر نہیں اسکا دماغ ان باتوں پر تھا جنکی وجہ سے وہ ارحام ابراہیم کا جینا مشکل کرنے والی تھی اس آفس میں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عُشنا میم باہر بارش بہت تیز ہورہی ہے اور ارحام سر ابھی بھی چیف گیسٹ مسٹر فیاض کا ویٹ کررہے ہیں۔۔آپ کہیں تو میں ارحام کو اندر بلا لوں۔۔؟”
“ایکسکئیوزمئ ہو دا ہیل آر یو۔۔؟ وہ سر کب سے ہوگیا تمہارا ۔۔؟ اسکی پوسٹ کی مطابق اسے عزت دو۔۔اور اسکی حیثیت ایک آفس بوائے سے زیادہ نہیں ہے۔۔”
“بٹ میم وہ باہر۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔جاؤ یہاں سے مسٹر فیاض آجائیں تو لیکر آجائے گا وہ واپس آفس میں۔۔”
اسکی سیکریٹری جیسے ہی باہر گئی تھی عشنا نے ونڈو سے نیچے دیکھا تھا جہاں وہ بارش میں پوری طرح سے بھیگ رہا تھا اور روڈ پر نظر دہرا رہا تھا۔۔۔اور اسی وقت عشنا کے موبائل پر رنگ ہوئی تھی۔۔۔
“ہیلو۔۔۔”
“مس عشنا ۔۔ فیاض راؤ بات کر رہا ہوں۔۔ میرا پی اے بتا رہا تھا آپ نے آج کی میٹنگ کینسل کر دی۔۔؟ کیا میں وجہ جان سکتا ہوں۔۔؟؟”
“مسٹر فیاض آپ نے دو کام بہت غلط کئیے ہیں ایک میرے پرسنل نمبر پر فون کرکے دوسرا مجھ سے اس طرح وجہ پوچھ کر۔۔۔اچھا ہوا جو آج کی میٹنگ میں نے کینسل کردی تھی۔۔ کمنپی کے ساتھ آپ کے باقی کے پروجیکٹس بھی کینسل ہوچکے ہیں۔۔”
“وٹ۔۔کب کیسے کیوں۔۔؟؟”
انہوں نے گھبرا کر اتنا ہی کہا تھا
“آپ کو شاید احساس نہیں ہوا مجھے سوال کرنے والے لوگ اور جواب مانگنے والے لوگ پسند نہیں ہیں۔۔۔مجھے حکم ماننے اور سر جھکا کر تسلیم کرنے والے لوگ چاہیے کمپنی میں۔۔”
“پر میم۔۔۔”
عشنا فون کاٹ چکی تھی۔۔۔
۔
پورے تین گھنٹے بعد وہ باہر گئی تھی ہاتھ میں چھتری لئیے۔۔۔پارکنگ میں کھڑے ارحام پر جیسے ہی چھتری کا سایا کیا تھا اس نے آہستہ آہستہ اپنا چہرہ ارحام کے چہرے کے بہت پاس لے گئی تھی۔۔
آفس کے ورکرز رک گئے تھے یہ سین دیکھ کر۔۔۔
۔
“اب تمہیں پتا چلا گیا ہوگا کہ آئی ایم دا باس۔۔۔آج تم نے کسی ایک پرسن کے سامنے مجھے ذلیل کرنے کی کوشش کی اور یہاں پورا دن تمہیں ہزاروں لوگوں کے سامنے ذلیل ہونا پڑا۔۔۔
اینڈ بائے دا وے مسٹر فیاض نے میٹنگ کینسل کردی تھی سو تم گھر جا سکتے ہو۔۔۔”
وہ ارحام کے کان میں سرگوشی کرکے جیسے ہی پیچھے ہٹی تھی ارحام نے اسکا بازو پکڑ کر اسے پھر سے پاس کیا تھا پر فاصلہ پھر بھی تھا
“اچھا ہوا وہ نہیں آیا نہیں اگر آجاتا تو میں نے اسے مار مار کر ہسپتال پہنچا دینا تھا۔۔۔
مجھے جتنا غصہ اس پر آرہا ہے مس عشنا اتنا تم پر بھی آرہا ہے۔۔۔
مجھے لگتا تھا تم گھمنڈی ہو۔۔۔لیکن تم تو پاگل بھی ہو۔۔۔”
“یہ تو اچھی بات نہیں ہے تمہیں پتا لگنا۔۔۔۔۔کیونکہ تم نہ میرا گھمنڈ برداشت کر سکتے ہو نہ ہی میرا پاگل پن۔۔۔آنکھیں نیچی کرلو اور بازو چھوڑ دو میرا۔۔۔ہماری یہ پوزیشن آنے والے اخبار کی سرخی بھی بن سکتی ہے۔۔۔جو میں نہیں چاہتی۔۔۔۔
تمہارا سٹینڈرڈ نہیں ہے میرے ساتھ میرے اتنے پاس بھی کھڑے ہونے کا۔۔۔”
وہ چھتری ان نے جیسے ہی پیچھے کی تھی ارحام پر بارش کا پانی پھر سے گرنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے دونوں ہاتھوں سے بارش کا پانی منہ سے صاف کیا تھا اور گردن کو ہلایا تھا۔۔۔وہ پانی کے چھینٹے عشنا کے منہ پر بھی جا گرے تھے
“سٹینڈرڈ مس عُشنا۔۔؟ اوقات حیثیت۔۔۔میں میں اور میں۔۔۔ان سب سے باہر نکل کر دیکھو۔۔۔زندگی صرف آسائش میں جینے کا نام نہیں ہے۔۔کیونکہ زندگی ساری زندگی اس چھتری کی طرح سایہ نہیں بنتی ۔۔جب میں میں انسان کو لے ڈوبتی ہے تو بارش کے اس برستے پانی کی طرح پریشانیاں بھی برستی ہیں۔۔اور ان سے بچنے کے لیے سایہ دیوار یا چھت بھی میسر نہیں ہوتی۔۔۔”
۔
“ہاہاہا مجھے قسمت نہیں چاہیے۔۔۔وہ تو تم جیسے لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے قسمت کی۔۔”
آفس گارڈ نے جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولو تھا عشنا نے گاڑی میں بیٹھ کر سٹارٹ کردی تھی گاڑی اسی وقت ارحام اپنا بیگ لیکر آفس سے باہر آگیا تھا۔۔۔پاس سے گزرنے والی ٹیکسی کو اس نے روکنے کی بہت کوشش کی تھی پر کوئی بھی نہیں رکا تھا اسکے اشارے پر۔۔۔
۔
عشنا نے گاڑی کو آہستہ کردیا تھا ارحام اس روڈ پر جیسے ہی گاڑی کے پاس گزرا تھا عشنا نے گاڑی روک دی تھی۔۔۔بارش اب پہلے سے زیادہ تیز ہو گئی تھی کہیں کسی ایک کونے میں وہ ارحام کو باہر بارش میں کھڑا کرنے پر پچھتا رہی تھی ۔۔۔
“گیٹ ان مسٹر ارحام۔۔”
فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا اس نے۔۔
“نو تھینکس مس عشنا میں چلا جاؤں گا۔۔۔”
“بارش بہت ہورہی ہے۔۔۔”
“جیسے پہلے تو پھول برس رہے تھے نہ۔۔؟؟”
ارحام نے غصے سے پھر سے چلنا شروع کردیا تھا
وہ پھر سے گاڑی کو سٹارٹ کر چکی تھی اور ارحام کے پاس روکی تھی۔۔
“بیٹھ رہے ہو یا فون کروں ڈیڈ کو۔۔؟ انکے سامنے تو بہت نمبر بناتے ہو۔۔میں گھر چھوڑ آؤں۔۔اب کوئی نہیں ہے تو میں اکیلی ڈرائیو کر لوں۔۔؟؟”
ارحام نے جیسے ہی اسے دیکھا تھا عشنا کے چہرے پر ایک ہلکی سی ہنسی آئی تھی۔۔
“کم آن۔۔۔مجھے گھر بھی جانا ہے تمہارے ڈرامے نے دیکھنے۔۔۔”
ارحام جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا تھا اس نے گاڑی کا دروازہ زور سے بند کردیا تھا۔۔۔
“تمہارے ابو نے پیسے نہیں بھرنے دروازے کے۔۔زرا تمیز سے بند کرو۔۔۔”
۔
“یووو۔۔۔”
پر عشنا نے ایف ایم آن کردیا تھا اور گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
۔
“جی میں آتا ہے تیرے دامن میں۔۔
سر چھپا کے ہم روتے رہیں روتے رہیں۔۔۔
تیری بھی آنکھوں میں آنسوؤں کی نمی تو نہیں۔۔۔”
۔
ارحام نے جیب سے موبائل نکالا تو اس میں سے بھی پانی نکل رہا تھا۔۔اس نے ایک دم سے عشنا کو غصے کی نگاہ سے دیکھا جس نے چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا پوری طرح سے اگنور کر کے۔۔۔
۔
“حیران ہوں جو گاڑی کے دروازے کے خراب پونے پر اس طرح چلائی مجھ پر۔۔اب پانی سے یہ سیٹ خراب ہورہی اس پر کوئی طنز نہیں کوئی طعنہ نہیں۔۔؟؟”
۔
“فرق ہے۔۔۔تم نہیں سمجھے۔۔؟ یہاں جو میری مرضی سے ہو وہ مجھے پسند ہے۔۔تم یہاں بیٹھے ہو تو میری حکم پر۔۔۔ مجھے وہ لوگ پسند ہیں جو میرے ہر حکم پر سر جھکاتے ہیں۔۔۔”
ارحام نے اپنا موبائل غصے سے اپنی جیب میں واپس رکھ لیا تھا۔۔۔۔ اور وہ سونگ ویسے ہی چل رہا تھا۔۔۔پر وہ ساتھ ساتھ بیٹھے دو لوگ خاموش تھے
۔
“تم جو کہہ دو تو آج کی رات چاند ڈوبے گا نہیں۔۔۔
رات کو روک لو۔۔۔رات کی بات ہے۔۔۔
اور زندگی باقی تو نہیں۔۔۔”
۔
تیرے بنا زندگی سے کوئی۔۔۔شکوہ تو نہیں۔۔۔۔
شکوہ نہیں۔۔۔۔شکوہ نہیں۔۔۔”
۔
گاڑی جیسے ہی ابراہیم ہاؤس کے سامنے رکی تھی ارحام نیچے اتر گیا تھا۔۔۔
مین گیٹ پر چھتری لئیے مننان اور فلذہ کھڑے ہوئے تھے ارحام کے انتظار میں۔۔۔
“میں کیا کہوں۔۔؟؟ شکریہ کہوں یا کچھ بہت برا کہوں۔۔؟ میرا موبائل خراب ہوگیا کتنے گھنٹے بارش میں کھڑے رہنے سے مس عشنا،۔۔۔لیکن میں ہار نہیں مانوں گا۔۔۔”
عشنا نے کچھ نہیں کہا تھا بس گاڑی چلا دی تھی۔۔
“ارحام تم نہیں جانتے کتنا پریشا ہوگئے تھے سب۔۔۔”
فلذہ کا ہاتھ جیسے ہی ارحام کے کندھے کو چھوا تھا۔۔۔سٹئیرنگ ویل پر عشنا کی گرفت اتنی ہی مظبوط ہوگئی تھی۔۔۔
۔
۔
وہ تینوں تو اندر چلے گئے تھے پر وہ گھمنڈی وہیں کھڑی تھی۔۔۔نہ وہ گاڑی چلا رہی تھی نہ ہی انجن بند کر رہی تھی۔۔
اور اسکی نظر سیٹ پر پڑے ارحام کے بیگ پر پڑ گئی تھی۔۔۔
۔
وہ لڑکی جو آفس سے لیکر یہاں تک بارش کے ایک قطرے سے بچتی رہی اب ارحام ابراہیم کا بیگ اٹھا کر تیز بارش میں ابراہیم ہاؤس جا رہی تھی۔۔
۔
۔
پر اسے نہیں پتا تھا آج کی یہ ملاقات۔۔۔اسکا ارحام کے گھر یوں جانے بہت کچھ بدلنے والا تھا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔