Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 03
Rate this Novel
Episode 03
“چھوڑو مجھے گلزار جا رہا ہوں میں۔۔”
ارحام کی نظریں ابھی بھی اسی جانب تھی اسکے چہرے کے تاثرات بدل رہے تھے وہ جیسے جیسے وہاں سے روڈ کی جانب چل رہا تھا اسکے دل میں نفرت بڑھتی جارہی تھی عشنا کے لیے۔۔
“اتنی گھمنڈی۔۔اتنا گھمنڈ۔۔اسکو کس نے حق دیا فلذہ کے بارے یہ سب بولنے کا میرے کردار پر کچھ بھی بولنے کا۔۔
میرا باپ انکا ملازم ہیں میں نہیں۔۔۔آج تک اس طرح سے نہیں ہوا کسی نے اس طرح سے بےعزت نہیں کیا مجھے ۔۔۔
غلطی میری ہی ہے میں کیوں معافی مانگنے آیا ایٹ دا فرسٹ پلیس۔۔؟ “
۔
“کیسے میری پرفیکٹ لائف میرے ہاتھوں سے بکھر رہی ہے۔۔؟ پہلے فلذہ اور اب یہ سب تماشے۔۔۔”
۔
وہ پیدل چلتے چلتے گھر کا رستہ طہ کرچکا تھا۔۔۔
“ارحام کہاں تھے صبح سے۔۔؟ تمہیں پتا بھی ہے مننان کا نکاح ہے اور کتنے کام ابھی ادھورے ہیں “
ابراہیم صاحب ارحام کو ڈانٹ کر باہر چلے گئے تھے۔۔۔
مہمانوں سے بھرے ہوئے گھر میں وہ ایک سینٹر میں کھڑا ہوگیا تھا جہاں کزنز فلذہ کو پارلر لے جارہی تھیں۔۔۔
“ارحام۔۔۔ابھی بھی وقت ہے۔۔”
فلذہ جاتے جاتے پاس رک گئی تھی ارحام کے
“تم جہاں رہو خوش رہو فلذہ میری دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔”
ارحام اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر چلا گیا تھا اپنے کمرے میں۔۔
“ارحام۔۔”
“فلذہ بھابھی بیسٹ فرینڈ سے نکاح کے بعد بات کر لیجئے گا ابھی چلیں۔۔؟”
رخسار نے بہت اونچی آواز میں کہا تھا۔۔
“ہاہاہاہا اووپسس میرا مطلب ہے دیور سے۔۔۔ ہونے والے۔۔”
وہ جو سیڑھیوں کے پاس کھڑا تھا فائننلی اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔۔
روم کا دروازہ بند کرکے ارحام نے جیسے ہی دروازے کے ساتھ ٹیک لگائی تھی اسکی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔
۔
“رنگ سے بےرنگ کیوں ہوگئے۔۔۔کیوں خفا ہوگئے۔۔
کہ تم سے جدا ہو کے ہم۔۔۔تباہ ہوگئے۔۔۔تباہ ہوگئے۔۔۔”
۔
۔
“میں مرد ہوں آسان ہے میرے لیےسب کچھ روکنا تم سے محبت کا سب کے سامنے اظہار کرنا فلذہ پر میں ایک مرد بہت سے خوبصورت رشتوں سے جڑا ہوا ہوں۔۔
میرا بھائی جو میرے باپ جیسا ہے۔۔۔غلطی ہوئی وقت رہتے اظہار نہیں کرپایا میں اپنی محبت کا تم سے۔۔
اب جب وقت نہیں رہا تھا تو یہ اظہار محبت بہت رشتوں کو ختم کردے گا۔۔
ہماری ہماری محبت کو یہیں دفن کردینا ہےہی بہتر ہے فلذہ۔۔۔”
۔
بیڈ پر اپنا سوٹ اٹھا کر وہ باتھروم میں چلا گیا تھ آنے والے کٹھن سفر کی تیاری کرنے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سووو۔۔۔صبح سے اٹھ گئی تھی میری بچی۔۔”
دادی نے عشنا کو پیار دیا سر پر اور اپنے ساتھ والی کرسی پیچھے سرکا دی تھی عشنا کے بیٹھنے کے لیے پرعشنا اس کرسی پر بیٹھ گئی تھی جس پر تابین بیگم بیٹھتی تھی
۔
“لیٹس سٹارٹ ۔۔؟؟”
عشنا نے ضیشم صاحب کی طرف دیکھا تو وہ قہقے لگا کر ہنسنا شروع ہوگئے تھے
“ہاہاہاہاہاہا امی آپ کو یاد ہے بہت سال پہلے لبابہ بھی ایسے ہی آپ کی کرسی پر بیٹھ کر ابو کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کرتی تھی۔۔”
“ہاہاہاہا اور تمہارے ابو بھی ٹھیک ایسے ہی ہنسے تھے۔۔
وہ دونوں ہنس رہے تھے پر عشنا کے چہرے پر کچھ بھی تاثر نہیں تھے کوئی ایک شکن نہیں تھی ماتھے پر بریڈ کا ایک پیس اٹھا کر اس نے کھانا شروع کیا تھا پر اسکا چہرہ اب جو تاثرات دے رہا تھا ضیشم صاحب جانتے تھے آج پھر انکی بیٹی اپنی باتوں سے ایک نیا گھاؤ دے گی انہیں۔۔
۔
“لبابہ از اٹ۔۔؟ آپ کی وائف لبابہ۔۔؟ جس کہہ دیتی تھی دن کو رات تو رات سمجھ لیتے تھے آپ جو کہہ دیتی تھی رات کو دن تو مان لیتے تھے آپ۔۔جو زمانہ کی چاہت کو پرے رکھ کر آپ سے محبتیں نبھاتی رہیں وہ لبابہ۔۔؟
کہاں ہیں وہ لبابہ۔۔؟ جن کے ہنسنے سے یہاں لوگوں کے چہرے کھل اٹھتے تھے اور جان آجاتی تھی یہاں سب میں،،،؟ کہاں ہیں وہ لبابہ جن کو آپ یہاں دلہن بنا کر لائے تھے اور ایمبولنس میں رخصت کیا تھا وہ لبابہ۔۔۔؟؟”
عشنا نے جوس کا گلاس اٹھا کر پینا شروع کردیا تھا۔۔
“عُشنا بیٹا۔۔”
“دادی آپ کی طبیعت اب ٹھیک ہے تو میں پرسو کی فلائٹ کروا سکتی ہوں۔۔؟ میرا فیشن شو ہے اور اب وہ آگے شیڈول نہیں ہوسکتا۔۔”
“تم اتنی جلدی کیسے جا سکتی ہو۔۔؟؟”
ضیشم صاحب نے اسکی بدتمیزی کو درگزر کرتے ہوئے پوچھا تھا
“جیسے اتنی جلدی آسکتی ہوں ویسے جا بھی سکتی ہوں ناؤ ایکسکئیوزمئ ۔۔۔ ہیو آ گڈ ڈے ۔۔”
“گڈ ڈے۔۔؟ سارا دن تو خراب کر گئیں ہیں ہماری سا کالڈ عشنا باجی کیوں ڈیڈ۔۔؟
انکی بیٹی بھی یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی تھی
تابین ابھی بھی اپنی جگہ پر شوکڈ بیٹھیں تھیں انکے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا عشنا کے سامنے آنے پر جیسے ماضی کی شرمندگیاں انکے سامنے آجاتی تھیں۔۔۔
۔
“ضیشم وہ سچ میں چلی جائے گی۔۔”
“امی وہ کہیں نہیں جائے گی۔۔۔اس بار یقین ٹوٹنے نہیں دوں گا آپ کا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہائے میرا بچہ کتنا خوبصورت لگ رہا ہے۔۔اللہ ہر بُری نظر سے بچائے ارحام بیٹے تم بھی بھائی کے پاس جا کر کھڑے ہوجاؤ مولوی صاحب نکاح پڑھانے ہی والے ہیں۔۔۔”
والدہ نے ارحام کے چہرے پر پیار دیا تھا
“بھابھی اب بس ارحام کا رشتہ ڈھونڈیں۔۔۔کہیں اس نے تو کوئی پسند نہیں کی ہوئی۔۔”
“ہاہاہا نہیں چچی کوئی پسند نہیں میری۔۔”
ارحام بھی مننان کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا جو بہت خوش تھاارحام کو پاس دیکھتے ہی مننان نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔
“بھائی بس ایسے ہی خوش رہیں آپ۔۔۔”
۔
“کچھ دیر بعد ہی نکاح شروع ہوگیا تھا۔۔وہ پاگل جو ابھی تک یہ سمجھ رہا تھا یہ سب بہت آسان ہے اسے تب پتا چلا تھا جب فلذہ نے وہ دو بول بولے تھے قبول ہے کہ اسکے لیے نہیں بلکہ کسی اور کے لیے۔۔اور وہ کوئی اسکا بڑا بھائی تھا۔۔۔
۔
“یا اللہ محبت میں یہ لمحہ بہت تکلیف دہ ہے۔۔کچھ دیر کے لیے دل درد محسوس کئیے بغیر رہ نہیں سکتا کیا۔۔؟ یہ درد برداشت سے باہر کیوں ہوریا ہے
۔
محبتوں میں جب یہ موڑ آجائے جس میں آخری الوداع کرنے کے لیے لمحات بھی چند ہوں اور کہنے کو ڈھیروں باتیں تو تو محبوب کو ان ڈھیروں باتوں کی دوہائی دینے کے لیے وہ چند لمحے برباد نہیں کرنے چاہیے۔۔۔بس الوداع کہہ دینا چاہیے۔۔۔۔کہ پھر عاشق اور محبوب میں رشتہ محبت کا نہیں اجنبیت کا رہ جاتا ہے۔۔۔”
۔
ارحام لوگوں کی بھیڑ میں پیچھے چلا گیا تھا۔۔۔اس محبت کے احساس سے بہت دور۔۔۔
۔
۔
“بچھڑے بھی ہم جو کبھی راتوں میں۔۔۔ تو سنگ سنگ رہوں گی سدا۔۔۔
قدموں کی آواز سن کے چلوں گی۔۔۔تمہیں ڈھونڈ لوں گی سدا۔۔۔”
ارحام۔۔۔
اسے اتنے شور میں بھی ایک ہی آواز دے رہی تھی اور وہ فلذہ کی تھی۔۔۔
“ارحام۔۔۔گریجویشن پارٹی میں میرے ساتھ چلو گے۔۔۔؟؟”
“نہیں میڈم رخسار نے مجھے تم سے پہلے پوچھاتوو سوری مس۔۔۔”
“اوکے فائن۔۔۔۔بائے۔۔۔”
“فلذہ۔۔۔”
۔
ارحام بیٹا کیا ہوا۔۔؟؟”
“کچھ نہیں امی میں ابھی گھر جاؤں۔۔؟ سر درد ہو رہا ہے۔۔؟؟
“پر بیٹا۔۔۔”
“پلیز امی۔۔۔”
ارحام نے چہرہ جھکا لیا تھا۔۔۔لہجہ بھاری ہوگیا تھا آنکھیں چھلکنے کے در پہ تھی
ماں کا دل بھی سمجھ گیا تھا بیٹے کی اس کیفیت کو
“میں جانتی تھی ارحامیں نے بہت کوشش کی تھی بیٹا پر تمہارے ابو نہیں مانے تھے۔۔انہیں لگتا تھا۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوئی تھی آنکھیں بھر آئیں تھیں انکی بھی
“انہیں لگتا تھا میں بےروزگار ہوں لاپرواہ ہوں کھاتا کماتا کچھ نہیں ہوں تو اسے خوش نہیں رکھ پاؤں گا۔۔۔امی یہی نصیب تھا۔۔آپ اداس نہیں ہوں میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
۔
یہ تو وہی جانتا تھا وہ کتنا ٹھیک ہے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“تمہیں جس جگہ میں نے کہا تھا وہ جاب تمہارے ناک کے نیچے نہیں آئی ارحام تم کرنا کیا چاہتے ہو۔۔؟”
ابراہیم صاحب نے ناشتے کی ٹیبل پر ارحام کو آتا دیکھ ہی بولا تھا۔۔
“ابو میں انٹرویو دینے جا رہا ہوں۔۔۔میں اپنی تعلیم اپنی ڈگری کے مطابق جاب چاہتا ہوں کسی آفس بوائے کی نہیں۔۔”
“ہاں یہی تماشے دیکھ رہا ہوں تمہیں پتا بھی ہے کتنا وقت ضائع کرچکے ہو۔۔؟ اتنی لاپروائی اتنی سستی۔۔۔اچھا ہوا تمہاری شادی نہیں کروائی فلذہ کے ساتھ۔۔۔ورنہ تمہاری ماں نے تو بہت زور ڈالا تھا۔۔۔”
ارحام اور فلذہ دونوں کے ہاتھ رک گئے تھے ناشہ کرتے ہوئے اسکی آنکھیں جیسے ارحام کی طرف اٹھی تھیں ان میں بھی ارحام کو ایک نیا شکوہ دیکھنے کو ملا تھا۔۔۔
۔
“اچھا ہوا ابو آپ نے امی کی نہیں سنی ورنہ اتنی پیاری بیوی مجھے نہ ملتی۔۔۔ہاہاہا۔۔”
مننان کے قہقے پر ماحول پھر سے ویسا ہی ہوگیا تھا۔۔۔
“ارحام مجھے اور فلذہ کو پاس والے شاپنگ مال تک ڈراپ کر دو گے۔۔؟ ہمیں باہر جانے سے پہلے کچھ شاپنگ کرنی ہے۔۔؟؟”
یا شئور۔۔۔”
ارحام ناشتہ چھوڑ کر باہر چلا گیا تھا اپنی فائلز اٹھائے۔۔۔آج باپ کی وہ ڈانٹ اسے راحت نہیں اسکے دل پر تیر چلا رہی تھی۔۔۔
“وہ بھی سوچ رہی ہوگی کہ اچھا ہوا مجھ جیسا نکما شخص نہیں ملا۔۔۔”
ارحام نے جیسے ہی مننان اور فلذہ کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے باہر آتے دیکھا تھا اس نے نظریں چرا لی اور گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔جو سٹارٹ نہیں ہورہی تھی اسکے کئی بار کوشش کرنے پر بھی
۔
“ہاہاہاہا تم اس کھٹارا کو بیچ کیوں نہیں دیتے یار۔۔۔آئے دن خراب رہتی ہے اور جو پیسے ابو کماتے ہیں وہ فضول میں لگ جاتے ہیں یہاں۔۔۔”
مننان کے لہجے میں طنز بھی تھا اور مذاق بھی پر گاڑی سٹارٹ ہوگئی تھی۔۔
“ہوگئی ہے سٹارٹ کھٹارا مننان اب چلیں۔۔؟؟ ارحام کی اس میں کیا غلطی اگر انجن نہیں چل رہا تھا۔۔؟”
وہ بیک سیٹ پر بیٹھ گئی تھی یہ کہتے ہوئے۔۔
“ہاہاہا اففف بیگم میں بھول گیا تھا یہ میرا بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ تمہارا بیسٹ فرینڈ اور دیور بھی ہے۔۔۔چل یار معافی دہ دے۔۔”
ارحام نے گاڑی کو تیز سپیڈ میں چلا دیا تھا۔۔۔مننان کی فلذہ کے ساتھ رومینٹک باتیں اسکی برداشت سے باہر ہورہی تھیں۔۔۔
شاپنگ مال کے پاس گاڑی جیسے ہی رکی تھی فلذہ ارحام کے پاس آکر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
“بیک سیٹ پر لنچ باکس ہے ناشتہ کرلینا ارحام۔۔۔انٹرویو اچھا ہوگا۔۔اگر اچھا نہیں ہوا تو یہ سوچ کر آگے بڑھنا کہ انہوں نے تم جیسے قابل اور ہونہار ایمپلوئے کو کھویا ہے تم نے کچھ نہیں۔۔۔”
۔
وہ اور مننان جیسے ہی اندر گئے تھے ارحام نے سٹئیرنگ ویل پر سر رکھ دیا تھا۔۔۔
وہ کمزور نہیں تھا وہ ایسا تھا ہی نہیں۔۔۔پر آنکھ سے گرنے والے پانی کے اس قطرے نے اسے غلط ثابت کردیا تھا۔۔۔
۔
وہ تھا کمزور۔۔۔محبت میں اظہار نہ کرنے والا کمزور شخص۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم احمد کہاں ملے گے۔۔؟”
اس نے ریسیپشنسٹ کے ڈیسک پر ہاتھ مارا تھا۔۔۔
“آپ کون۔۔؟ سر ابھی ایک ضروری میٹنگ میں ہیں اپاؤنٹمنٹ کہاں ہے آپ کی مس۔۔؟”
“میں نے پوچھا ان کا کیبن کہاں ہے۔۔۔مجھے اپنے باپ سے ملنے کے لیے کسی اپاؤنٹمنٹ کی ضرورت نہیں۔۔”
وہ لیڈی کھڑی ہوگئی تھی اور کیبن کی طرف اشارہ کردیا تھا اس نے۔۔۔
۔
اسکے بعد۔۔۔مس عُشنا ضیشم سیدھا میٹنگ روم میں تھی بنا ناک کئیے ہوئے۔۔۔”
۔
“ایم سوری جینٹل مین کیا بعد میں یہ میٹنگ ہوسکتی۔۔۔سر ضیشم کی ابھی اپاؤنٹمنٹ مرے ساتھ ہے۔۔۔۔”
عشنا کی ایک بات پر سب چلے گئے تھے اور ضیشم صاحب غصے سے کھڑے ہو گئے تھے۔۔
۔
“وٹ از دس۔۔؟؟ یہ کیا بدتمیزی ہے عشنا۔۔؟”
“اوو رئیلی۔۔؟؟ میری پی اے کو فون کرنا میری فلائٹ کینسل کروانا بدتمیزی نہیں ہے۔۔؟ کیوں کیا آپ نے ایسا ڈیڈ۔۔؟”
“کیونکہ میں نہیں چاہتا تم پاکستان چھوڑ کر جاؤ۔۔۔سنا تم نے۔۔؟ میں تمہیں یہاں اپنی انکھوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ہر وقت۔۔۔بہت مرضیاں کر لی تم نے۔۔۔
کہیں نہیں جا رہی تم۔۔۔”
۔
“میں آج رات کی فلائٹ سے جا رہی ہوں ڈیڈ اور میں دیکھتی ہوں مجھے کون روکتا ہے۔۔۔”
“نو یو آر نوٹ گوئنگ اینیوئیر انٹل آئی سئے۔۔۔تم یہاں اپنی مرضی سے آئی تھی مس عُشنا ضیشم پر جاؤ گی میری مرضی سے باپ ہوں تمہارا ۔۔۔”
۔
“تو آپ کو پتا ہونا چاہیے سر ضیشم احمد میں ضد میں سمندر کی ان لہروں کی طرح ہوں جو اپنی آئی پر آجائیں تو راستے میں آنے والی ہر رکاؤٹ بہا لے جاتی ہیں۔۔
اب آپ کی مرضی بھی ان رکاوٹوں جیسی ہے۔۔۔”
بالوں کو کندھے سے پیچھے کرکے اس نے کیبن سے باہر کا رخ کیا تھا
“تو میں تمہارا باپ ہوں۔۔۔گھمنڈ میں بھی آگے ہوں اور ضد میں بھی
میں یہ ساری پراپرٹی تابین رشنا اور اپنے بیٹے کے نام کردوں گا۔۔۔تمہیں ایک پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی میری جائیداد سے۔۔۔”
انہوں نے کسی مغرور شخص کی طرح دونوں ہاتھ اپنے ڈیسک پر رکھے تھے
اگر کوئی تیرا دیکھتا تو بنا جانے اس نے بتا دینا تھا یہ گھمنڈی لڑکی اس گھمنڈی شخص کی بیٹی ہے۔۔
“آپ کو کیا لگا تھا میں کوئی للو پنجو ہوں جو باپ کے پیسوں پر عیاشی کو فخر سمجھوں گی۔۔
آپ یورپ کی نیوز یا میگزین نہیں پڑھتے آپ نہیں دیں گے تو میں بلق بلق کر مر جاؤں گی۔۔؟
آپ اپنا بیش قیمتی دل دے چکے ہیں جو مجھے اور میری ماں کو چاہیے تھا۔۔
آپ کچھ ٹکوں کی جائیداد کسی کو بھی دیں کوئی فرق نہیں پڑتا سر۔۔۔”
۔
عُشنا نے بھی دونوں ہاتھ انکے ڈیسک پر رکھ کر بات کی تھی
“آلرائٹ عُشنا۔۔۔تم اس کیبن سے باہر ایک قدم رکھو گی میں
لبابہ کے تمام شئیرز تابین کے نام کردوں گا۔۔۔۔”
“کردیجئے۔۔۔انہوں نے خیرات دی تھی آپ آگے دہ دیں آئی ڈونٹ کئیر۔۔۔”
ڈور نوب پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ ضیشم صاحب کی بات پر وہ سٹاپ ہوئی تھی پوری طرح
” اوکے فائن رکھو اس کیبن سے باہر قدم۔۔۔۔ میں اس کمپنی کا
‘سی-ای-او’ ارحام ابراہیم کو بنا دوں گا۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟ اس بدتمیز کو جسکی جرات میرے سامنے کھڑے ہونے کی نہیں وہ ہمارا خاندانی نام آگے لیکر جائے گا۔۔؟”
وہ جیسے ہی چلائی تھی ضیشم صاحب کی جان میں آئی تھی۔۔۔
وہ کامیاب ہوگئے تھے اسے روکنے پر۔۔اپنی گھمنڈی بیٹی کو پاکستان سے باہر جانے دینے پر۔۔
“دا چوائس از یورز مس ضیشم”
۔
“ڈیڈ یو نو وٹ۔۔؟ آئی ہیٹ یو۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر کسی آندھی کی طرح باہر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
‘عشنا بیٹا جتنی نفرت کرنی ہے کرلو۔۔میں اپنی بیٹی کو واپس لاکر رہوں گا۔۔۔
تم پھر سے ہماری عشنا بنو گی ہماری روشنی۔۔۔میں اپنی اس بیٹی کو بہت مسڈ کر رہا ہوں عشنا۔۔۔”
انہوں نے ڈیسک پر رکھے فوٹو فریم کو اٹھایا تھا ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سوری مسٹر ارحام آپ کے پاس ڈگری ضرور ہے پر تجربہ نہیں۔۔”
۔
مسٹر ارحام آپ جانتے بھی ہیں جس پوسٹ پر آپ نے اپلائی کیا ہے آپ قابل ہیں اسکے۔۔؟؟”
۔
“مسٹر ارحام سب ویکینسی فل ہوگئی ہیں سوائے گیٹ کیپر کے۔۔اگر آپ چاہیں اسکے لیے آپ کل آجائیے گا۔۔۔”
۔
ارحام کو صبح سے مایوسی اور ری جیکشن ہی مل رہی تھی اسکے پاس کچھ بھی نہیں تھا جو گاڑی تھی وہ بھی وہ مکینک کے پاس چھوڑ آیا تھا سہی کروانے کے لیے۔۔۔
اسکے ایک ہاتھ میں اسکی فائل تھی اور دوسرے ہاتھ میں وہ لنچ باکس۔۔وہ اب کسی سکون والی جگہ میں بیٹھ کر کچھ کھانا چاہتا تھا۔۔۔
۔
“کچھ کھا کر اور جگہ دیکھتا ہوں۔۔۔آج بنا نوکری کے گھر گیا تو ابو پھر سے سب کے سامنے ذلیل کریں گے۔۔کہیں گے ارحام۔۔۔۔”
پاس سے گزرتی تیز رفتار گاڑی نے وہ بھی نہیں چھوڑا تھا کچھ بولنے کے لیے۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔اندھے ہو کیا۔۔؟؟”
ریورس ہوکر وہ گاڑی اتنی ہی سپیڈ سے ارحام کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
۔
“سیریسلی۔۔؟ آپ سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔۔۔؟”
عشنا کو گلاسیز اتارتے گاڑی سے اترتے دیکھ ارحام نے آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔
“یہ ہے تمہاری اوقات یہ دھول اور یہ کیچڑ۔۔۔تم بڑے بڑے سپنے دیکھ رہے ‘سی ای او ‘بننے کے۔۔۔؟؟”
اس نے ارحام کی کیچڑ میں بھری حالت دیکھ کر کہا تھا۔۔۔
“کونسا ‘سی ای او۔۔؟؟”
“پریٹینڈ مت کرو آگئی ہے مجھے سمجھ کیا چاہتے ہو تم اور تمہارے وہ ڈرائیور باپ۔۔ کمپنی ہتھیانا چاہتے ہو ہماری۔۔
پر میں ایسا ہونے نہیں دوں گی یاد رکھنا۔۔۔مسٹر ارحام۔۔۔”
وہ دندناتی ہوئی اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔اور گاڑی جس طرح سے اس نے موڑی تھی وہ کیچڑ کا پانی پھر سے ارحا پر گرا تھا۔۔۔ جس نے اپنا منہ صاف کر کے عشنا کی جاتی ہوئی گاڑی کو دیکھا تھا۔۔
۔
“مجھے سمجھ نہیں آتی لوگوں کو غلط فہمیاں کیوں ہو جاتی ہیں۔۔؟
یہاں مجھے میری الجھی ہوئی زندگی سکون نہیں لینے دے رہی اور وہاں وہ میڈم اپنے ہی گھمنڈ کو بار بار میرے منہ پر مارنے آجاتی۔۔۔”
ارحام کچھ اور چلنے پر ایک پارک کے بینچ پر بیٹھ گیا تھا۔۔اور وہ کنچ باکس اس نے کھول لیا تھا۔۔۔
۔
“فلذہ۔۔۔زندگی تمہارے ساتھ کیسے ہوتی میری۔۔؟ ابھی جب زندگی کی پریشانیوں سے تھکا ہارا گھر آتا تو تم ایسے ہی کھانا گرم کرکے دیتی اور دلاسہ دیتی کہ یہ مایوسی گناہ ہے ارحام۔۔۔تم میں قابلیت ہے۔۔۔ہمت نہیں ہارو تم۔۔۔”
۔
کھاتے کھاتے اسکی حلق میں جیسے وہ نوالہ اٹک گیا تھا جس پر اسے شدید کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
۔
اور دور کھڑی گاڑی میں سے عشنا نے پانی کی بوتل ایک بچے کو پکڑا دی تھی۔۔۔
جس نے وہ پانی ارحام کو دہ دیا تھا۔۔۔
۔
وہ نہیں جانتی تھی وہ واپس کیوں آئی تھی۔۔۔
پر اسے اتنا پتا تھا اسے واپس آنا تھا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
