51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“ابھی تک جو بھی فیصلے ہوئے اور آج جو اناونسمنٹ مسٹر ضیشم نے کی ہیں میں ان سب کو ری جیکٹ کرتی ہوں۔۔۔
اس کمپنی کی ‘سی-ای-او’ میری بیٹی عُشنا بنیں گی۔۔۔جو پہلے سے تھیں۔۔۔”
“پر وہ جا چکی تھی یہاں سے۔۔۔ڈیڈ آپ کچھ کہیں پلیز۔۔۔”
رشنا اپنی جگہ سے اٹھ کر چلائی تھی۔۔۔
“میں کر رہا ہوں بات بیٹا بیٹھ جاؤ۔۔۔
مس لبابہ جہاں تک مجھے یاد ہے اس کمپنی کے 50 فیصد شئیر آپ کے پاس تھے۔۔ آپ میرے کئیے گئے فیصلے کو رد نہیں کر سکتیں۔۔۔”
“مسٹر ضیشم یہ رہے وہ تمام شئیرز جو میرے نام پر ٹرانسفر ہوئے اور اب میری بیٹی عشنا شیرگل کے نام پر ہیں۔۔”
“عشنا شیر گل۔۔؟؟ سیریسلی۔۔؟ وہ عشنا ضیشم ہے۔۔۔”
“ان دونوں کی لڑائی پر عشنا نے اس ٹیبل سے نظریں اٹھائیں تھیں اور اسکی آنکھیں اس شخص سے جا ٹکرائی تھیں جو خاموش تھا ابھی تک۔۔۔
“آپ سب نے سن لیا ہوگا۔۔۔آُ سب جا سکتے ہیں باقی میٹنگ ہم کچھ دیر بعد کنٹینیو کریں گے۔۔۔گڈ ڈے۔۔۔”
سب ممبرز وہا ں سے چلے گئے تھے۔۔۔
“اینڈ یو مسٹر ارحام۔۔۔ اپنی پرانی ڈیوٹی پر آجائیں جس کا کنٹریکٹ سائن کیا تھا کمپنی کے ساتھ آپ نے میرے پرسنل سیکٹری ہیں آپ۔۔۔اب آپ جا سکتے ہیں۔۔۔باہر والوں کا فیملی میٹر میں کوئی کام نہیں۔۔۔”
اسکا لہجہ اتنا سخت اور ٹھنڈا تو شاید انکی پہلی ملاقات پر بھی نہیں تھا جو آج تھا۔۔۔
۔
“ارحام تم کہیں نہیں جا رہے۔۔۔”
رشنا نے ارحام کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“ڈیٹس اِٹ۔۔۔۔”
عشنا اپنی سیٹ سے کھڑی ہوگئی تھی جب رشنا نے ارحام کا ہاتھ پکڑا تھا
“گیٹ آؤٹ بوتھ آف یو۔۔۔مس رشنا ابھی کے ابھی دفعہ ہو جائیں اس سے پہلے میں سیکیوڑٹی کو بلاؤں۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔”
“تم جاؤ بیٹا،،،میں دیکھ لیتا ہوں پلیز۔۔۔”
ضیشم صاحب کا لیجے جیسے ہی نرم ہوا تھا رشنا کے لیے اسی وقت لبابہ کی نظریں ضیشم پر گئیں تھیں اور پھر اپنی بیٹی پر۔۔۔
انکا جسم ایسے تھا جیسے کسی نے جان نکال لی ہو انکی۔۔۔
“پلیز سر۔۔۔پلیز رشنا۔۔۔آپ لوگوں کو میرے لیے بحث کرنے کی ضرروت نہیں ہے۔۔۔ مجھے جانے دیجئے۔۔۔”
ارحام نے ڈور ہینڈل کو ٹچ کیا ہی تھا جب عشنا نے پھر سے اسے آواز دی تھی
“میرے کیبن کو پوری طرح سے آرگنائز کریں میرے آنے سے پہلے۔۔۔میری چائے کا کپ ٹیبل پر ہونا چاہیے اور آج کی میٹنگ شیڈول بھی۔۔۔ ناؤ ایکسکئیوزمئ۔۔۔”
عشنا کے لہجے نے سب کو ہی شوکڈ کردیا تھا یہاں تک کہ لبابہ کو بھی۔۔۔
“عشنا۔۔۔”دروازہ بند ہونے پر ضیشم صاحب چلائے تھے”
“آواز نیچی رکھو ضیشم۔۔۔عشنا اب لاوارث نہیں ہے زندہ ہوں میں اس لیے عزت کے ساتھ بات کریں آپ مسٹر۔۔۔۔”
وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے ہوئے تھے ایک دوسرے کے۔۔۔
“عشنا ضیشم کی بھی بیٹی ہے یہ بات مت بھولو لبابہ۔۔۔”تابین ان دونوں کے درمیان میں آگئیں تھیں۔۔۔
“وہ بیٹی جسے بہت سال پہلے بوڈنگ میں چھوڑ دیا تھا ۔۔؟؟”
“لبابہ پرسنل میٹرز کو اس کمپنی سے دور رکھو۔۔۔آج شام کو اگلی میٹنگ میں تم ایکسکئیوز کرو گی۔۔۔اور رشنا کو ‘سی-ای-او’ بناؤ گی۔۔۔میں عشنا کو سمجھا دوں گا۔۔۔
کیوں عشنا بیٹا میری بات مانو گی نہ۔۔؟؟”
انہوں نے عشنا کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہا تھا جو پیچھے ہوگئی تھی ان سے
“آپ اپنی لاڈلی بیٹی رشنا سے بھی یہ ریکوسٹ کرسکتے ہیں ڈیڈ۔۔۔”
عشنا اپنا سیل فون اٹھا کر وہاں سے چلی گئی تھی
“یہ تمہاری شے کا نتیجہ ہے لبابہ۔۔۔”
وہ غرائے تھے لبابہ پر۔۔۔۔
“وہ لبابہ مر چکی ہے جو تمہارے لیے رات کو دن اور دن کو رات کہتی تھی ضیشم۔۔۔
کسی کو کوئی ایکسکئیوز نہیں کرنے والی میں۔۔
میری محنت ہے اس کمپنی میں۔۔۔تم تابین سے کہو کہ وہ اپنی محنت سے ایسا ایک ایمپائر کھڑا کرے اور اپنی بیٹی کو ‘سی-ای-او’ بنا دے۔۔۔کیونکہ یہ انڈسٹریز تو عشنا کی ہی ہوگی۔۔۔۔
اور ایک بات۔۔۔
انہوں نے اپنی گلاسیز لگا لی تھی اور جاتے جاتے رکی تھی وہ تابین کے سامنے
“جیسے یہ کمپنی میری بیٹی کی ہے ویسے وہ لڑکا بھی۔۔۔جسکی منگنی تم نے اپنی بیٹی سے کروا دی تھی۔۔۔
تم بس گنتی جاؤ تابین تمہارے ہاتھوں سے میں کیا کیا چھیننے والی ہوں۔۔۔
تم نے صرف اپنی کالج فرینڈ یا ضیشم کی بیوی کے روپ میں دیکھا مجھے۔۔۔
لبابہ شیرگل کو تم اب سے دیکھو گی۔۔۔”
اور وہ وہاں سے چلی گئی تھیں ان تینوں کو ہکا بکا شاکڈ چھوڑ کر۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ آج کا شیڈول ہے اور یہ۔۔۔”
کس سے پوچھ کر اندر آئے ہیں آپ۔۔۔؟؟”
عشنا نے ونڈو سے باہر دیکھتے ہوئے ارحام سے پوچھا تھا۔۔۔
“وہ عش۔۔۔”
“میڈم عشنا۔۔۔باہر جائیں اور ناک کر کے میری اجازت کے بعد میرے کیبن میں داخل ہوں مسٹر ارحام۔۔۔۔”
“اوکے میڈم۔۔۔”
وہ غصے سے کہہ کر واپس باہر چلا گیا تھا کیبن سے اور پھر پرمیشن لیکر اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
“یہ آج کی میٹنگز اور یہ چائے آپ کی۔۔۔”
ارحام نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ جیسے ہی آگے بڑھایا تھا اسکے ہاتھ میں پہنی ہوئی اس رنگ نے عشنا کی آنکھوں میں ایک الگ ہی جلن اتار دی تھی۔۔۔
“یہ ٹھنڈی چائے۔۔؟؟ لیکر جاؤ اسے اور نئی چائے بنا کر لاؤ۔۔۔”
اس نے وہ چائے کا کپ پھینک دیا تھا جس کے چھینٹے ارحام کی شرٹ پر بھی گرے تھے
“ایکسکئیوزمئ میں چائے بناؤں۔۔؟؟ “
“کیوں تمہیں چائے بنانے میں کیا ہوتا ہے۔۔؟ پرسنل سیکٹری ہو میرے۔۔۔جو میں کہوں گی وہ کرنا ہوگا۔۔۔”
“اور اگر میں نہ کروں تو۔۔؟ کیا کر لو گی تم۔۔۔”
اور بھی اسی غصے سے بولا تھا۔۔۔
“پانچ کڑور ہرجانے کا نوٹس بھجوا دوں گی تمہارے باپ کو۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟؟”
“میری گاڑی کو ڈیمیجڈ کیا تھا بھول گئے ہو۔۔؟؟ اس کمپنی کے ساتھ سائن کرکے اپنی ڈیوٹی پوری نہ کرنا۔۔۔
کمپنی کی ‘سی-ای-او’ کو چیٹ کرنا۔۔۔اور بھی بہت سے الزام مسٹر ارحام ابراہیم جن کا نوٹس اگر ابراہیم ہاؤس تک پہنچا تو عزت چلی جائے گی نہ صرف تمہاری بلکہ تمہارے باپ کی بھی۔۔۔”
“سیریسلی۔۔۔؟؟ تم اس حد تک جاؤ گی مجھے نیچا دیکھانے کے لیے۔۔۔؟؟
ان سب میں میرا قصور کیا ہے۔۔۔؟؟”
عشنا دو قدم بڑھی تھی۔۔۔
“قصور۔۔۔؟؟ میرے جانے پر میری ہی بہن کے ساتھ منگنی کرنا۔۔۔تمہارا قصور تھا مسٹر ارحام جسکی کوئی معافی نہیں ملے گی تمہیں۔۔۔تم اس وقت کو پچھتاؤ گے۔۔۔”
وہ ڈور کی طرف بڑھی تھی جب ارحام نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا
اسکی بیک جیسے ہی ڈیسک کے ساتھ لگی تھی ارحام اسکے اور قریب ہوا تھا۔۔۔
“کسی کے ساتھ ہوٹل روم میں تم جاتی ہو ۔۔۔کسی کے لیے ہماری منگنی کے دن تم مجھے اکیلا چھوڑ گئی تھی اور قصور میرا ہوا مس عشنا۔۔۔؟؟
یو نو وٹ۔۔۔تم اسے اپنے کزن کو ڈیزرو کرتی ہو جس کے ساتھ میں نے تمہیں ہوٹل روم میں جاتے دیکھا تھا۔۔۔”
گھمنڈی کی بولتی بند کر دی تھی ارحام کی بات نے۔۔۔پر اسکی اگلی بات نے عشنا کو غصہ بھی دلا دیا تھا۔۔۔
“رشنا نے ٹھیک کہا تھا تمہارا کزن عاصم اور تمہارا۔۔۔”
“ایک اور لفظ نہیں ارحام۔۔۔میں خود نہیں جانتی کہ اگر تم نے میرے کردار پر ایک انگلی بھی اٹھائی تو میں کیا کر گزروں گی۔۔۔”
اسکے لبوں سے جیسے ہی یہ الفاظ ادا ہوئے تھے ارحام نے اپنے آپ کو پیچھے کرلیا تھا
“تم سچ کو ماننا نہیں چاہتی تو نہ مانو۔۔۔میں اس سچ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی اس منگنی اس رشتے کے لیے تیار تھا عشنا۔۔۔
پر شکر ہے تم چلی گئی۔۔ ورنہ میں تو کتنا پاگل تھا نہ فیملی کے لیے تمہیں اپنانا چاہتا تھا جس کے دل میں کوئی اور بسا ہوا تھا،،،،”
ارحام ٹوٹے ہوئے کپ کو اٹھانے کے لیے جھکا تھا
“تم مرد اسی ذینیت کے مالک ہوتے ہو۔۔۔کسی کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کے لیے ایک نکتہ چاہیے ہوتا ہے نہ۔۔؟؟
کسی کے ساتھ ہوٹل روم میں مرد عورت کے جانے پر ایک ہی شک ابھرتا ہے۔۔۔
پر ایک بات یاد رکھنا مسٹر ارحام۔۔۔ جو لفظ زبان سے نکالے ہیں ان الفاظ پر تمہیں پچھتانا پڑ جائے گا ۔۔۔اور جس منگنی اور جس منگیتر پر تمہیں اتنا فخر ہے تم دیکھنا تمہارا یہ رشتہ سوائے رسوائی کے اور کچھ نہیں ہوگا،۔۔۔ یہ عشنا ضیشم کا وعدہ ہے۔۔۔۔”
۔
عشنا کو جس طرح اس نے لاجواب کیا تھا عشنا نے بھی اسی زبان میں اسے جواب دئیے تھے اور کیبن سے باہر چلی گئی تھی دروازے کو غصے سے مار کر۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ سمجھتا کیا ہے خود کو۔۔۔اسکی ہمت کیسے ہوئی میرے کردار پر شک کرنے کی۔۔۔”
عشنا آفس کے ٹیرس پر آگئی تھی۔۔۔ڈھلتا دن آج اسے سکون نہیں اسے بےسکونی دے رہا تھا۔۔۔
“عشنا۔۔۔کب سے ڈھونڈ رہی ہوں بیٹا۔۔۔”
لبابہ بیگم کی آواز پر عشنا نے پیچھے دیکھا تھا۔۔۔
“موم آپ اتنے بلندی پر کیوں آئی ہیں۔۔ چل کر آئی ہیں یا ایلویٹر یوز کیا تھا۔۔۔؟؟”
عشنا نے انکا ہاتھ پکڑ کر چئیر پر بٹھا دیا تھا
“ہاہاہاہا تم تو مجھے کوئی بہت اولڈ لیڈی کی طرح ڈیل کر رہی ہو لڑکی۔۔۔ہیلز پہن کر آئی ہوں اوپر تک۔۔۔”
“ہاہاہاہا موم۔۔۔ایسی بات نہیں ہے شہناز بی نے کہا تھا آپ کو زیادہ چلنے کے بعد سانس کا مسئلہ ہوجاتا ہے آپ کا ان ہیلر اور ۔۔۔”
“ششش۔۔۔۔میری فکر چھوڑ دو عشنا۔۔۔یہ بتاؤ۔۔۔یہاں کیا کر رہی ہو اور کوئی جھوٹ نہیں۔۔۔”
“موم آج تک میں۔۔۔میں کبھی کسی کے ساتھ اکیلے میں نہیں ملی۔۔۔کسی ویرانے کسی ایسی جگہ۔۔۔
میں تو عاصم سے بھی ہمیشہ ریسٹورنٹ میں ملتی آئی ہوں۔۔۔سوائے ایک دن کے۔۔۔
مجھے افسوس ہے اس کی سوچ پر جس نے ہوٹل روم میں جاتے تو دیکھ لیا پر اتنا ہمت نہیں جٹا سکا کہ اس دروازے کو ناک کر کے پوچھ سکتا۔۔۔”
وہ خود بھی بیٹھ گئی تھی وہاں
“اوووہ۔۔۔اس نے بنا سوچے سمجھے اتنا بڑا الزام لگا دیا۔۔؟؟”
لبابہ بیگم کو بھی غصہ آیا تھا۔۔۔۔
“اس نے وہ راستہ دیکھا ہے موم جو اسے رشنا نے دیکھایا ہے۔۔۔”
“اوووہ تو اب اتنا غصہ کیوں ہے۔۔؟ کچے کانوں کے مرد کبھی پکی کمٹمنٹ نہیں نبھا سکتے عشنا۔۔۔
وہ شاید رشنا جیسی ہی لڑکی ڈیزرو کرتا ہے۔۔۔”
لبابہ بیگم نے اپنی مسکان چھپا لی تھی عشنا کی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر۔۔۔
“موم بات اسکے دیکھنے کی نہیں تھی۔۔۔بات اسکے وہ الزام کی ہے جو اس نے کسی کے کہنے پر میرے کردار پہ لگائے۔۔۔
جس پر رشنا نے نظر رکھی اور جسے اس نے حاصل کیا ہے وہ میری پسند تھا۔۔۔
میں ہار مان جاؤں ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔؟؟ “
“تم میری بیٹی ہو۔۔۔جو میرے ساتھ ہوا وہ تمہارے ساتھ نہیں ہونے دوں گی میں عشنا۔۔۔
تمہاری محبت تمہیں ضرور ملے گی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا موم محبت۔۔؟؟ نووو وے۔۔۔وہ میری ضد تو بن سکتا ہے میری محبت نہیں”
عشنا نے نظریں چورا گئی تھی
“ہاہاہاہا از اٹ عشنا۔۔۔؟؟ ضد محبت سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے بیٹا۔۔۔”
“موم میری نظر میں محبت سے زیادہ زہر زندگی میں کوئی دوسرا جذبہ نہیں گھول سکتا ۔۔۔
چلیں گھر۔۔۔؟؟”
عشنا کے چہرے پر اب سکون تھا دل و دماغ کی باتیں اپنی موم سے شئیر کرکے
۔
یہاں دونوں ماں بیٹی نے خوب باتیں کی اور وہاں ان دونوں ماں بیٹی نے ضیشم صاحب کے کیبن کو سر پر اٹھا لیا تھا۔۔۔اس قدر وہ دونوں چلا رہی تھیں۔۔۔
“ضیشم سن بھی رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟”
“گھر چل کر بات ہوگی۔۔ڈرائیور کے ساتھ گھر جاؤ۔۔۔”
“بٹ ڈیڈ۔۔”
جسٹ گوووو۔۔۔۔میرا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔میں گھر آکر کرتا ہوں بات۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“لبابہ۔۔۔ویسے کل فری ہو۔۔؟؟ میں سوچ رہا تھا باہر ڈنر کریں۔۔؟؟”
اظہر صاحب نے راستہ روکا تھا انکا۔۔۔
“ہاہاہاہاہا اظہر صاحب آپ نہیں سدھرنے والے۔۔۔”
“ہاہاہاہا ارے میڈم نہیں۔۔۔میرا مطلب تھا فیملی ڈنر۔۔۔میری وائف بہت خوش ہوگی۔۔۔”
“واااااووووو شادی کب کروا لی۔۔؟ میرے جانے کے بعد اتنی جلدی موو آن کرلیا اظہر صاحب۔۔؟؟”
اظہر اور انکے ہنسنے کی آوازیں سب ہی سن رہے تھے
“مجھے تو لگا تھا ماں بھی گھمنڈی ہوگی بیٹی کی طرح۔۔۔پر یہ تو بہت ڈاؤن ٹو ارتھ ہیں۔۔۔۔”
“تم نے جوانی میں انکے ساتھ کام نہیں کیا شاید میری تو موم نے بتائی ہیں انکے گھمنڈ کی بہت سی کہانیاں۔۔”
۔
وہ آپس میں باتیں کر رہی تھیں جب ضیشم صاحب شدید غصے میں اپنے کیبن سے نکلے تھے۔۔۔
“اظہر اگر تمہارا فلرٹ ختم ہوگیا ہو تو میں اپنی بیوی کو لے جاؤں۔۔؟؟؟”
“بیوی۔۔؟ وہ تو تابین نہیں ہے ضیشم۔۔؟”
اظہر صاحب نے جس طرح سے کہا تھا لبابہ ان دونوں کے درمیاں اس طرح کی ٹینشن دیکھ کر حیران تھی
“چلو مجھے بات کرنی ہے۔۔۔۔”
“میں بات کر رہی ہوں اظہر سے۔۔۔اینڈ یو اظہر میرا سیل نمبر سیو کرلیں۔۔۔کل پک کرلیں گے آپ۔۔۔”
“ڈیٹس اٹ۔۔۔”
ضیشم صاحب کی آنکھوں میں ایک الگ ہی جلن تھی جب اظہر صاحب نے اپنا موبائل نکالا تھا۔۔
انہوں نے زبردستی لبابہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور باہر لے گئے تھے آفس میں۔۔۔”
۔
“تم گھر چل رہی ہو میرے ساتھ۔۔بات کرنی ہے مجھے۔۔۔”
گاڑی کے ساتھ جیسے ہی انکی بیک پن ہوئی تھی انہوں نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا تھا۔۔۔
“کس حق سے میرا ہاتھ پکڑ رہے ہو ضیشم۔۔؟؟ تم اپنے سارے حق کھو چکے ہو۔۔۔
یہ لاسٹ ٹائم تھا کہ تم نے سب کے سامنے اس طرح مجھے یہاں لانے کی جرات کی ہے۔۔۔”
وہ واپس اندر جانے لگی تھی جب ارحام اپنے آفس بیگ کو لیکر آیا آرہا تھا آفس سے باہر۔۔۔
وہ تو رکی ہی تھی پر ارحام بھی رک گیا تھا انہیں دیکھ کر۔۔۔
“تم اسکے ساتھ کسی ڈنر پر نہیں جا رہی لبابہ۔۔۔”
“یہاں سب مرد ایک جیسے کیوں ہیں۔۔؟؟”
لبابہ بیگم نے ارحام سے پوچھا تھا جو اپنے پیچھے دیکھنا شروع ہوگیا تھا
“مجھ سے پوچھا میم۔۔؟؟”
“کیوں تمہارے پیچھے کوئی اور بھی کھڑاہے مسٹر۔۔۔؟”
“بچے کو کیا ڈرا رہی ہو گھمنڈی مجھ سے بات کرو۔۔۔تم جاؤ بیٹا۔۔۔۔”
ضیشم صاحب نے بہت ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش کی تھی ارحام کا چہرہ دیکھ کر۔۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟ ضیشم میرے راستے سے پیچھے ہٹو۔۔۔”
وہ دونوں کی پھر سے بحث شروع ہوگئی تھی
“سہی کہہ رہے تھے سب لوگ دونوں ماں بیٹی ہی گھمنڈی ہیں۔۔۔”
ارحام وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“میں نے کہہ دیا ہے لبابہ۔۔۔”
“تمہارے کہنے کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔اب مجھے تم سے تمہاری کسی بات سے۔۔۔
ضیشم اب میری زندگی میں میرے کسی معاملے میں انٹرفئیر مت کرنا اسے میری فائنل وارننگ سمجھنا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔”
۔
“اوکے تو ہم جا کہاں رہے ہیں ماما۔۔۔؟؟”
عشنا نے سیٹ بلٹ باندھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“میری بیسٹ فرینڈ کے گھر۔۔”
لبابہ نے جیسے ہی گاڑی سٹارٹ کی تھی عشنا ایک پل کو ڈر گئی تھی۔۔۔
“ماما آپ ڈارئیو تو کرلیں گی نہ۔۔؟ میرا مطلب ہے اتنے سال آپ نے نہیں چلائی۔۔۔”
“ہاہاہاہا یقین رکھو۔۔۔۔”
“وہ تو خود سے زیادہ ہے ماما۔۔۔ویسے دوست کونسی۔۔۔؟؟”
وہ باتیں کر رہیں تھی پر گاڑی ٹھیک سے کنٹرول نہیں ہو پارہی تھی ان سے۔۔۔
“ہاہاہاہا ماما یہ میری گاڑی ہے سب اسے ہینڈل نہیں کر سکتے۔۔۔چلیں اتریں شاباش۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ اوکے بیٹا۔۔۔پر مجھے لگتا ہے آج کا پروگرام کیسنل کردیتے ہیں بارش نہ ہوجائے۔۔۔ موسم بن رہا ہے۔۔۔”
اور وہ دونوں گاڑی سے باہر آکر سیٹ ایکسچینج کر رہیں تھی جب بارش سٹارٹ ہونا شروع ہو گئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہا جی تو کیا کہہ رہیں تھی ماما آپ۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ جاؤ میں نہیں بات کرتی تم سے۔۔۔”
عشنا ہنستے ہوئے لبابہ کی جانب جھکی تھی گال پر بوسہ دے کر وہ ہنسنا شروع ہوئی تھی۔۔۔
اتنے سالوں کے بعد عشنا کی آنکھوں میں روشنی آئی تھی واپس۔۔۔
لبابہ کی آنکھوں میں آنسو آگیا تھا۔۔۔
انہوں نے جیسے ہی نظریں باہر کی جانب کی تھی تیز بارش میں بھیگتے ہوئے ارحام کو روڈ پر جاتے دیکھ انہوں نے عشنا کو گاڑی روکنے کا کہا تھا
“بیٹا گاڑی روکنا زرا وہ ارحام جا رہا تھا۔۔۔ہم لفٹ دہ دیتے ہیں۔۔۔”
عشنا نے گاڑی کو فل سپیڈ میں بیک کیا تھا اور جب ارحام کے پاس جاکر روکی تھی وہ کیچڑ اپر جیسے ہی گرا تھا لبابہ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ دئیے تھے۔۔۔
“یا اللہ پاگل لڑکی۔۔۔”
عشنا کے کندھے پر ہاتھ مارا تھا انہوں نے۔۔۔۔
“مسٹر ارحام۔۔۔؟؟ آئے ہم چھور دیں آپ کو۔۔۔”
“ماما جنکے ساتھ ڈیٹ تھی انکی انکی گاڑی میں جگہ کم پڑ گئی تھی۔۔؟؟”
ارحام نے منہ سے کیچڑ کے چھینٹے صاف کئیے تھے باقی بارش کے پانی نے صاف کردیا تھا۔۔
“نو تھینکس میم میں مینیج کرلوں گا۔۔۔”
“ماما یہ صاحب مینیج کرلیں گے۔۔۔ویسے بھی بڑے بزنس مین کے داماد ہونے والے ہیں۔۔
گاڑی کی ڈیمانڈ کیوں نہیں کرتے اپنی ہونے والے سسر سے مسٹر ارحام۔۔۔؟؟”
ارحام کی جانب ونڈو تھی عشنا کی اس نے گاڑی کو جس طرح کھڑا کیا ہوا تھا ارحام کے سامنے۔۔۔
وہ بس دیکھ رہا تھا اسے کنٹرول کر رہا تھا خود پر۔۔
“تم یہ سب کہہ کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو۔۔؟ تمہیں کیا لگتا ہے میری انسلٹ کرکے تم مجھے جھکنے پر مجبور کردو گی۔۔؟ مجھے اس بات پر جھکانا چاہتی ہو جس پر میرا نہیں تمہارا قصور تھا۔۔۔”
“دیکھیں آپ دونوں بھول رہیں ہیں کہ میں بھی ہوں یہاں۔۔؟؟”
لبابہ نے ان دونوں کی طرف دیکھا تھا۔۔
“قصور کس کا تھا وہ تو وقت بتا دے گا پر ابھی تمہیں تمہاری اوقات بتانا بھی ضروری ہے۔۔
ایک گاڑی خیریدنے جتنی اوقات نہیں اور میری کمپنی کے پارٹنر بننے جا رہے تھے۔۔؟؟
خودداری کہاں گئی تمہاری ارحام۔۔۔؟؟”
عشنا کی آخری بات میں جیسے بہت گلے شکوے تھے۔۔۔پر لہجہ اتنا ہی سخت تھا۔۔۔
“تمہیں جو سوچنا ہے تم سوچ لو۔۔۔تمہارا گھمنڈ تمہارا غرور زیرو ہے میرے سامنے۔۔۔
رشنا کے ساتھ میری منگنی کا فیصلہ کتنا سہی تھا یہ مجھے اب پتا چلا رہا ہے اور تم۔۔۔”
عشنا نے شیشہ اوپر کردیا تھا اور گاڑی اسی سپیڈ سے بڑھا دی تھی۔۔۔وہ کیچڑ کے چھینٹوں نے اب کی ارحام کے کپڑے پوری طرح سے گندے کردئیے تھے
“گھمنڈی۔۔۔۔”
“بدتمیز۔۔۔۔”
۔
اور لبابہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وٹ دا ہیل مامام یہاں۔۔؟؟یہ آپ کی دوست کا گھر ہے۔؟ ایک ڈرائیور کے گھر۔۔۔”
“ہشش۔۔۔چپ کرجاؤ لڑکی۔۔۔کچھ بھی ایسا نہیں کہنا اندر چل کر۔۔”
“میں نہیں جا رہی اندر۔۔۔میں بعد میں آپ کو پک کر لوں گی۔۔۔”
عشنا نے واپس جانے کی کوشش کی تھی جب لبابہ بیگم نے بہت پیار سے ہاتھ پکڑ لیا تھا عشنا کا۔۔۔
“بیٹا میں تمہارا ہاتھ پکڑ کر چلنا چاہتی ہوں ان رشتوں میں جو میرے ساتھ مخلص تھے۔۔
عشنا میں ایسے ہی چلتی تھی جب تم چھوٹی تھی۔۔اب زندگی بہت شارٹ رہ گئی ہے بیٹا۔۔۔۔”
عشنا نے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا ۔۔۔
“ایم سوری ماما۔۔۔چلیں اندر۔۔۔پر آپ ہی شاکڈ ہوں گی۔۔”
عشنا نے آخری بات ہلکی آواز میں کہی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم بھائی آپ اور یہاں۔۔؟؟”
“امی کہاں ہیں شمع مجھے بات کرنی ہے ان سے۔۔۔”
انہوں نے اپنی چھوٹی بہن کو دو ٹوک جواب دیا تھا۔۔۔
“اوووہ تو وہ دنوں آگئیں ہیں واپس۔۔۔؟؟”
چھوٹی بہن نے پرجوش ہوکر پوچھا تھا۔۔۔اور اسی وقت انکی امی آگئی تھیں وہاں۔۔۔
“امی آپ دونوں کے نام جو شئیرز میں نے کئیے تھے وہ کہاں ہیں۔۔؟”
“وہ ہم نے سیل کردئیے تھے۔۔۔”
“وٹ۔۔؟ کس سے پوچھ کر۔۔؟؟”
“کیا مطلب۔۔؟ تم نے وہ ہمیں دہ دئیے تھے بہت سال پہلے ہم اپنی چیز سیل کرنے سے پہلے کیوں پوچھتے۔۔۔؟؟”
ضیشم صاحب نے وہ فائلز اٹھا کر پھینک دی تھی زمین پر۔۔
“اووہ تو وہ آپ دونوں نے لبابہ کو ٹرانسفر کر دئیے تھے۔۔۔اب سمجھا سب ملے ہوئے ہیں۔۔۔
آپ جانتی ہیں آپ دونوں کے اس طرح کرنے سے میرے بچوںپر انکی زندگیوں پر کیا اثر ہوگا۔۔؟؟
میرا گھر خراب کردیا ہے آپ لوگوں نے۔۔۔”
“کیوں بھائی۔۔۔آپ کے بچے آپ کی دولت کی وجہ سے آپ سے رشتہ تو نہیں توڑ سکتے نہ۔۔۔
اور ویسے بھی کسی کا گھر ٹور کر اپنا مکان کھڑا کرنے والے مظبوط بنیادوں کے باوجود بھی شکار ہوجاتے ہیں توڑ پھوڑ کے۔۔۔”
شمع کچن میں چلی گئی تھی۔۔۔
“ضیشم جو لبابہ اور عشنا کا تھا وہ اب انہیں مل رہا ہے۔۔
تم نے تمہاری فیملی نے بہت سال حکمرانی کر لی۔۔۔اب تمہیں چاہیے اپنی فیملی کو کنٹرول کرلو۔۔۔”
۔
“امی آپ نہیں سمجھ رہیں رشنا اور تابین۔۔۔”
“مجھے افسوس ہے ضیشم۔۔۔اتنے سالوں کے بعد بھی تمہارا جملہ نہیں بدلہ تب بھی تابین اور رشنا کی فکر تھی اور آج بھی۔۔۔
لبابہ سے محبت تو دیوانوں کی طرح کرتے آئے تھے تم۔۔اور عشنا۔۔؟ پہلی اولاد تھی تمہاری۔۔۔
پر افسوس ہے تم پر مجھے ضیشم۔۔۔”
“امی۔۔۔”
“خدا حافظ۔۔۔”
۔
اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا تھا انہوں نے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا میں مس اسمارہ سے مل سکتی ہوں۔۔۔؟؟”
لبابہ نے اپنی گلاسیز اتار دی تھی۔۔۔
“آپ کون۔۔؟؟ عشنا بیٹا۔۔۔؟؟”
ارحام کی چچی نے عشنا کو پہچان لیا تھا۔۔۔
“کمال ہے شازیہ بھابھی مجھے نہیں پہچانا۔۔۔”
“معاف کیجئے پر میں نے نہیں پہچانا۔۔۔۔”
“لبابہ۔۔۔؟؟؟”
پیچھے سے ارحام کی امی کی اواز آئی تھی جو اپنی چیزیں صوفہ پر پھینک کر آگے آئی تھی اور لبابہ کو گلے سے لگا لیا تھا انہوں نے۔۔۔
انکا چہرہ آنسوؤں سے بھر گیا تھا۔۔۔
“لبابہ۔۔۔تم سچ میں میرے سامنے ہو۔۔؟؟ ابراہیم۔۔۔۔ابراہیم۔۔۔”
اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہ چلائی تھی عشنا ایک سائیڈ پر کھڑی یہ جذباتی ملنا ملانا دیکھ رہی تھی۔۔۔
اور اپنی موم کے چہرے پر مسکان دیکھ رک وہ بھی بہت خوش ہوگئی تھی اس وقت۔۔۔
“عشنا بیٹا اندر آو۔۔۔”
وہ عشنا کو بھی اتنی ہی محبت سے ملی تھی۔۔۔
“لبابہ بھابھی۔۔؟؟”
ابراہیم صاحب لیونگ روم میں داخل ہوئے تھے۔۔۔
“بھابھی نہیں۔۔۔صرف لبابہ کہیں۔۔۔”
“لبابہ تم جانتی نہیں ہو میں کتنا خوش ہوں۔۔۔”
اسمارہ بیگم نے پھر سے لبابہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور ااسی وقت باہر سے آوازیں آنا شروع ہوگئیں تھیں۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا ارحام بھائی ایسا کیا کردیا کہ منہ کالا کروا آئے ہو۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ارحام ہوا کیا تھا ویسے۔۔۔؟؟”
چچی نے جیسے ہی پوچھا ارحام روم میں جاتے ہوئے رک گیا تھا۔۔۔
“ایک جنگلی بلی نے راستہ کاٹ لیا تھا چچی۔۔۔گھمنڈی کہیں کی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا لگ رہا ہے بلی کافی پریڈ کروا چکی تمہاری۔۔۔۔”
“اللہ کرے اسکے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔۔۔اسکی گاڑی خراب ہو جائے تیز بارش میں اور جب وہ لفٹ لینے کے لیے کسی روڈ پر چل رہی ہو اس پر بھی ایسے ہی کوئی کیچڑ پھینک دے چڑیل کہیں کی۔۔۔”
ارحام نے فرسٹریشن نکالے ہوئے اونچی کہنا شروع کردیا تھا۔۔۔اور جب پیچھے ٹرن ہوا تو عشنا دونوں ہاتھ باندھے کھڑی تھی اسکے سامنے۔۔۔
“وٹ دا۔۔۔۔”
امی مجھے وہ گھمنڈی نظر آرہی ہے۔۔۔کالی بلی۔۔۔نہیں وہ جو باگڑ بلی نہیں ہوتی موٹی سی۔۔۔”
ارحام کہتے کہتے سیڑھیاں چڑھنا شروع ہوگیا تھا جب نیچے کھڑا ہر ایک فرد ہنس رہا تھا سوائے عشنا کے۔۔۔
لبابہ نے اسمارہ اور ابراہیم کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“یہ ارحام ہے تمہارا بیٹا۔۔؟؟”
وہ ابھی بھی ہنس رہی تھیں
“چڑیل۔۔؟؟ جنگلی بلی۔۔۔؟؟”
عشنا نے جیسے ہی کہا تھا ارحام کی دھڑکنے تیز ہوگئیں تھی۔۔۔
وہ جیسے ہی پیچھے مڑا تھا اسکے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔۔تم ہو کیا۔۔؟؟ آفس میں تو بچے کی جان چھوڑتی نہیں ہو گھر میں بھی منڈلا رہی ہو۔۔۔؟؟”
ارحام سیڑھیوں پر بیٹھ گیا تھا سر پکڑ کر۔۔۔
“تم بچے ہو۔۔۔؟؟ ابھی تو بس آفس میں دن گننا شروع کردیں آپ مسٹر ارحام۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ اب میرے بیٹے کی ٹینشن میں لینا چھوڑ دوں بیٹا۔۔۔؟؟”
ابراہیم نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
عشنا کے چہرے پر ہنسی دیکھ کر ارحام کے چہرے پر ایک مسکان آگئی تھی اس وقت۔۔۔
اس نے جیسے ہی عشنا کی آنکھوں میں دیکھا تھا عشنا نے اپنا چہرا جھکا لیا تھا۔۔۔
آج اس شخص کے دیکھنے میں ایک الگ کشش تھی جو پہلے محسوس نہیں کی تھی عشنا نے۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔