51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

“امی میں اب جو کرنے جا رہا ہوں مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہوگا۔۔۔
عشنا جیسے گھمنڈی لڑکی۔۔۔ میری بیوی بننے کے لائق نہیں تھی۔۔۔رشنا بھی ایک اچھی لڑکی ہے میری عزت کرنے والی۔۔۔آپ سب کی عزت کرے گی ہمارے گھر کے ماحول میں ایڈجسٹ ہوجائے گی آپ دیکھ لیجئے گا۔۔۔”
۔
وہ جتنے فخر سے اس کمرے سے گیا تھا۔۔۔اسے ایک اجنبی سا درد ہونا شروع ہوگیا تھا اسکے دل میں۔۔۔
اسے کیا پتا تھا اس منگنی کی انگوٹھی پہننے کے بعد اسکا دل بغاوت کردے گا۔۔۔
اور اسے وہ درد بھی محسوس ہونا شروع ہوجائیں گے جو اسے فلذہ سے جدا ہوکر محسوس نہیں ہوئے تھے۔۔۔
اسے اس گھمنڈی سے اپنی اس محبت کا احساس ہونا شروع ہوچکا تھا جب فلذہ نے اسے وہ رنگ پہنا دی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
“بہت بہت مبارک ارحام بیٹا رشنا میری بچی۔۔۔”
تابین بیگم نے ان دونوں کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔۔
“ارحام رشنا۔۔۔”
رشنا نے ارحام کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
وہ جو نام ارحام نے ساتھ جوڑ دئیے تھے۔۔۔اسے نہیں پتا تھا۔۔۔
اس گھمنڈی نے کس طرح سے الگ کردینے تھے۔۔۔
وہ جو خاموشی سے چلی گئی تھی وہ محبت کی ماری عُشنا تھی۔۔۔وہ جو ڈر گئی تھی۔۔۔
آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔۔اب ارحام ابراہیم کی تقدیر میں اسکا نام تو بہت پہلے ہی لکھا جا چکا تھا
۔
۔
“ارحام میٹ مائی بزنس پارٹنر مسٹر احمد ہماری کمپنی انکے ساتھ بہت سے مرج کنٹریکٹ سائن کر چکی ہے۔۔۔”
ضیشم صاحب نے اپنے دکھ کو اپنی خوشی میں بدل لیا تھا۔۔۔انکی نظریں ڈھونڈ رہیں تھیں انکی بیٹی کو جو اب کہیں نظر نہیں آرہی تھی
“اور سب ہی کامیاب ہوئے تھے،،،ضیشم تمہاری بڑی بیٹی نہیں نظر آرہی۔۔؟ ارے بھائی اتنا کچھ سنا ہے کہاں ہے۔۔۔؟؟”
“ایکسکئیوزمئ انکل میں ابھی آیا۔۔۔”
ارحام وہاں سے چلا گیا تھا پر ہال سے جا نہیں پایا تھا رشنا نےاس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“آج ارحام سے مل لیں سب پھر مت کہنا میں نے نہیں ملوایا۔۔۔”
رشنا نے ارحام کو اپنی سب دوستوں سے انٹردیوس کرانا شروع کردیا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میم آپ کچھ لینا پسند کریں گی۔۔؟؟”
“نوو تھینکس بس مجھے کوئی اب ڈسٹرب مت کرے۔۔۔”
عشنا نے سیٹ پر سر رکھ لیا تھا آنکھیں بند ہورہیں تھیں پھر کھل رہیں تھیں کھڑکی کے باہر اندھیرا بڑھتا جارہا تھا وہ جہاز جیسے جیسے زمین سے دور ہوتا جارہا تھا۔۔۔
“ارحام ابراہیم۔۔۔تم سے محبت ہوگئی تھی اس گھمنڈی کو۔۔۔لیکن تمہاری منظورِنظر رشنا ہے شاید۔۔۔ میں وہ نہیں بن سکتی جو اسکی ماں تھی ارحام۔۔وہ تمہاری نزدیکیاں دوسروں کے ساتھ برداشت کر سکتی ہے پر میں نہیں۔۔۔
محبت کو بھول جانا اتنا تکلیف دہ نہیں جتنا محبوب کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا ہوتا ہے۔۔۔”
کیا ایسا ممکن تھا جس لمحے محبت کا اظہار ہو اسی لمحے ترکِ تعلق بھی کیا جا سکے اس محبت کو۔۔؟
ایسا کون کرسکتا تھا۔۔۔سوائے اس گھمنڈی کے۔۔۔
جسے محبت میں شراکت قبول نہیں تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم اب رونا بند کرو گی۔۔؟”
“نہیں کر سکتی باجی آج ارحام کی منگنی ہے۔۔۔میں کیسے رہوں گی اسکے بنا۔۔
میں نے اسے پانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا تھا،،، فلذہ کے ساتھ اتنا برا کردیا مجھے پھر بھی ارحام نہیں ملا۔۔۔”
رخسار تکیے میں سر چھپائے رونا شروع ہوگئی تھی۔۔
“رخسار پلیز چپ ہوجاؤ کوئی سن لے گا۔۔”
“سب وہاں گئے ہوئے ہے جہاں اسکی منگنی ہورہی ہے۔۔۔
وہ گھمنڈی فلذہ بھی نہیں ہے جسے پاگل بنایا جا سکے باجی۔۔۔میں کیسے حاصل کروں گی۔۔۔؟؟”
“جیسے مجھ سے چھینا۔۔۔ویسے اس بھی چھین لینا۔۔۔اور اب تمہیں اس گھمنڈی کی فکر چھوڑ دینی چاہیے۔۔۔وہ جا چکی ہے۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟”
“کیا۔۔۔۔؟؟”
ان دونوں بہنوں نے فلذہ کی طرف دیکھا تھا جو دروازے پر کھڑی تھی
“وہ جا چکی ہے۔۔۔رشنا کی منگنی ہوئی ہے ارحام سے۔۔۔عجیب لگا مجھے۔۔۔جب ہم گھر سے نکلے تھے تو بات ارحام اور عشنا کی منگنی کی چل رہی تھی اور اب رشنا کے ساتھ ہوئی منگنی۔۔۔”
“یاہوووووو۔۔۔۔۔۔ رشنا تو ایسے چٹکیوں میں سائیڈ پر کردوں گی۔۔۔”
رخسار کی بہن نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا تھا جیسے ہی فلذہ کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔
“تم کیا لگتا ہے تم اسے حاصل کر لو گی تو وہ تمہارا ہوجائے گا۔۔؟ رخسار۔۔آج جو تم روئی ہو نہ وہ بہت کم تھا۔۔۔ میری محبت تم نے مجھ سے چھینی تھی تم خود بھی آباد نہیں رہو گی یاد رکھنا۔۔۔”
۔
“بس کرجاؤ فلذہ بی بی۔۔۔اگر ارحام بھی تم سے محبت کرتا توتمہارا ساتھ نہ چھوڑتا وہ۔۔
وہ انٹرسٹد کیسے ہوسکتا ہے تم میں۔۔ اگر ہوتا تو کبھی بھی وہ تمہیں چھوڑ کر نہیں جاتا۔۔۔”
وہ تو جیسے شیرنی بن گئی تھی اپنے آنسو صاف کرکے وہ فلذہ کے سامنے کھڑی تھی
“تم بہت پچھتاؤ گی رخسار،،،”
“ارے اس گھمنڈی کے ہوتے مجھے یقین تھا ارحام اب نہیں ملنے والا۔۔۔تم جانتی ہو کیوں۔۔؟”
رخسار نے سرگوشی کی تھی
“کیونکہ اس آنکھوں میں ایک جنون تھا گھمنڈ تو تھا ہی۔۔۔لیکن اگر اس جیسی لڑکی پیچھے ہٹ گئی ہے تو ظاہر سی بات ہے ارحام کی غریبی اور سٹیٹس دیکھ کر ہی ہوئی ہوگی۔۔۔
اور اب تو میں پورا پورا فائدہ اٹھاؤں گی تم دیکھ لینا فلذہ۔۔۔”
۔
“وہ جھومتی ہوئی باہر چلی گئی تھی اس کمرے سے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ سہی ہے ارحام بھائی دیکھو تو سہی شہر کے امیر ترین لوگوں میں کھڑے ہیں آج۔۔”
کزن نے جیسے ہی بات کی تھی مننان نے بھی اسکی جانب دیکھا تھا۔۔۔
“ارے وہ مزہ کہاںجو بڑی بیٹی کے ساتھ شادی کرنے میں تھا بھائی۔۔”
“اظہر۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے غصے سے کہا تھا
“ارے میرا وہ مطلب نہیں تایا جان۔۔میرا مطلب ہے کہ یہ ایمپائر تو بڑی بیٹی کا ہے۔۔۔کبھی ہسٹری پڑھیں اس فیملی کی۔۔۔وہ لڑکی تو سچ میں حق رکھتی ہے گھمنڈ کرنے کا۔۔۔
یورپ کی فیمس ڈیزائنر ہے اور یہاں کڑور پتی ماں باپ کی بیٹی۔۔۔”
“ہاہاہاہا ہائے ہمارے رشتے دار بن گئے ہیں اب تو یہ لوگ۔۔۔”
وہ لوگ آپس میں لگ گئے تھے پر ابراہیم کی پریشان تو کچھ اور تھی۔۔اپنی بیگم کی باتیں سن کر انہیں ارحام پر غصہ بھی آیا تھا۔۔۔پر انہیں آج عشنا کا بن بتائے جانے کا فیصلہ بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔
۔
۔
“ارحام میں ابھی آتی ہوں ویٹ۔۔۔”
ارحام اس ہال کی گہما گہمی سے اوجھل ہوجانا چاہتا تھا۔۔۔
کیا تھا اس لمحے میں جو نظریں اٹھتی تھی اور دروازے کی طرف جاتی تھیں۔۔۔
“اس نے میری سب باتیں سن لی تھیں۔۔؟؟”
وہ چلتے چلتے سیڑھیوں سے ٹیرس پر آگیا تھا اب سکون تھا۔۔۔پر اس کا دل اب بھی بےچین تھا۔۔۔
۔
“مجھے اوڑھا دیں یہ شال۔۔۔”
ٹھنڈےہوا کے جھونکے نے پھر سے وہ رات یاد دلا دی تھی اسے۔۔۔
“گھمنڈی۔۔۔”
۔
رئیلنگ پر ہاتھ رکھے وہ آنکھیں بند کر کے کھڑا تھا۔۔۔
چاند کی روشنی چہرے کو اور بھی روشن کر رہی تھی۔۔پر دل ایسے ڈوبا جا رہا تھا اسکا جیسے اس نے کوئی بہت بڑی غلطی کردی ہو۔۔۔
۔
“وہ گھمنڈی مجھے کیسے پسند آسکتی ہے جس سے میں پہلی ملاقات میں نفرت کرنا شروع ہوگیا تھا۔۔”
اس نے کیا سب سن لیا تھا۔۔؟ میں نے بھی تو سب دیکھا تھا اسے اس ہوٹل روم میں جاتے دیکھا تھا
عشنا۔۔۔”
ارحام نے پھر سے آنکھیں کھولی تھی
“مجھے اس سے محبت نہیں ہے۔۔۔میں اس گھمنڈی سے کیسے محبت کرسکتا ہوں۔۔۔”
اپنی کہی بات اسے جیسے ہی یاد آئی تھی اس رئیلنگ پر اسکی گرفت مظبوط ہوگئی تھی
“مجھے تم سے محبت نہیں ہوئی تھی گھمنڈی۔۔۔پر اچھا لگنے لگا تھا تمہارا یہ گھمنڈ۔۔
آج کی رات کے بعد عشنا تم سے متعلق کچھ بھی اچھا نہیں لگے گا۔۔۔میں تو سب جاننے کے بعد بھی تمہیں اپنانا چاہتا تھا اس ہوٹل روم کی بات کو بھلا کرہر بےعزتی بھلا کر۔۔۔
پر تم نے کیا کیا۔۔۔آج سب کے سامنے ذلیل ہونے کے لیے چھوڑ گئی۔۔۔
اگر رشنا نہ ہاں کہتی تو کیا ہوتا۔۔؟؟ تم نے تو مجھے رشنا کا قرض دار بنا دیا ہے۔۔۔”
“ارحام۔۔۔”
رشنا کی آواز پر اس نے جیسے ہی منہ دوسری طرف کیا تھا آنکھ سے پانی چھلکا تھا جس نے اسے اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔
“ارحام تم یہاں ہو۔۔چلو نیچے چلیں ڈنر کرتے ہیں آجاؤ۔۔۔”
وہ ہاتھ پکڑ لے گئی تھی اسے وہاں سے۔۔۔
اور وہ ابھی تک حیران تھا آنکھ سے نکلنے والے اس آنسو پر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ریورپ۔۔۔۔”
اسکی فلائٹ جیسے ہی لینڈ ہوئی تھی سیکیورٹی کی تین گاڑیاں پہلے سے انتظار میں تھیں
“گڈ مارننگ میم ۔۔غڈ ٹو سی یو اگین۔۔۔”
ڈرائیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا وہ بنا کسی کی بات کا جواب دئیے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔
اب اسکے ہاتھوں میں پسینہ آرہا تھا جیسے اسکے ماتھے سے ۔۔۔
وہ بس اپنے گھر پہنچنا چاہتی تھی۔۔۔اس ایک انسان کو دیکھنا چاہتی تھی جو اسکی کل کائنات تھا۔۔۔
۔
“میم سٹوڈیو چلیں یا آفس۔۔؟”
“سیدھا گھر لیکر چلو۔۔۔”
اس نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
“شانزے کو فون کرکے بتا دینا ابھی میں کسی سے بھی ملنا نہیں چاہتی مجھے کوئی بھی ڈسٹرب نہ کرے۔۔۔”
“جی میڈم۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ نے آج دیکھ لیا نہ وہ باعثِ شرمندگی تھی آپ کے لیے ضیشم۔۔
اگر آج ہماری بیٹی رشنا منگنی کے لیے ہاں نہ کہتی تو کیا ہوتا ہماری عزت کا۔۔؟؟”
فنکشن کے بعد صرف گھر کے لوگ موجود تھے۔۔۔
“بھائی امی کل صبح میرے ساتھ جا رہی ہیں۔۔۔”
“کیوں ۔۔؟ امی آپ نہیں رہیں گی اب یہاں۔۔؟”
ضٰشم صاحب انکے پاس آکر بیٹھ گئے تھے
“میں اس لیے یہاں واپس آئی تھی بیٹا کیونکہ عُشنا آئی تھی یہاں واپس۔۔۔”
“امی اسے میں نے تو نہیں کہا تھا جانے کو وہ اپنی مرضی سے گئی ہے۔۔۔”
انکے لہجے میں بہت غصہ تھا
“تو تم نے کونسا پتا کرلیا۔۔؟ اگر اس نے منگنی سے بھاگنا ہوتا تو پہلے کیوں نہیں گئی۔۔؟ میرے سامنے تیار ہوئی تھی وہ۔۔اچانک سے کیسے چلی گئی۔۔۔
تم نے ایک بار بھی پتا کیا کہاں گئی وہ۔۔”
وہ اپنے بیٹے پر برس پڑی تھی
“اچانک سے اس نے کچھ نہیں کیا امی وہ تو چاہتی تھی ضیشم کی عزت خراب کرے۔۔آخر کیا ہی ہے ان ماں بیٹی نے ہمیشہ سے۔۔۔
ضیشم کو بھی تو صلہ ملنا چاہیے تھا جو ہر جگہ میری بڑی بیٹی کا نام لیتے تھے۔۔
اب وقت ملے تو اپنی چھوٹی بیٹی کا بھی شکریہ ادا کردیجئے گا جس نے عین ٹائم پر ہاں کہہ دی۔۔۔”
وہ ٖخر سے دندناتے ہوئے کہہ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
اور آج ضیشم صاحب نے انہیں کچھ بھی نہیں کہا تھا۔۔۔
“بہت زبان چلنا شروع ہوگئی ہے تابین کی۔۔”
“امی اس نے غلط کیا کہا ہے۔۔؟ عشنا نے جو کیا اچھا نہیں کیا۔۔۔اب کمپنی میں پتا نہیں کس کس کو جواب دینا ہوگا۔۔۔
رشنا کا سامنا کیسے کر پاؤں گا میں اسے تو میں نے ذلیل کیا تھا امی۔۔آج وہی تیار تھی اتنی بےعزتی ہونے کے باوجود۔۔۔”
۔
وہ بھی وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
“امی عشنا ٹھیک ہوگی آپ فکر مت کریں۔۔”
“عشنا ایسے خاموشی سے بھاگ جانے والوں میں سے نہیں ہے بیٹا ضرور کوئی بڑی وجہ رہی ہوگی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“مجھے چھوڑ دو ۔۔چھوڑ دو مجھے۔۔جانا ہے مجھے ۔۔مجھے جانے دو۔۔”
“بس کر جاؤ بیٹا۔۔۔سکون کا سانس لو یہ لوگ کچھ نہیں کریں گے تمہیں۔۔”
“نہیں مجھے یہ نہیں لگوانا مجھے سونا نہیں ہے مجھے جاگنا ہے مجھے جانے دو۔۔۔”
۔
“بس کر جائیں۔۔۔فار گوڈ سیک بس کر جائیں جانوروں کی طرح آپ ڈیل کر رہے ہیں جن کے ساتھ ماں ہے وہ میری پیچھے ہٹ جائیں۔۔۔”
عُشنا نے ان نرسز کو پیچھے دھکا دہ دیا تھا اور
چین میں بندھے ہوئے انکے پاؤں دیکھ کر اسکی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا۔۔۔
“کس نے لگایا لاک ان چینز پر۔۔؟؟ کس کی اجازت سے لگایا۔۔۔؟؟ چابی دیں مجھے نہیں تو آپ لوگوں کا انجام دنیا دیکھے گی۔۔۔”
اس بیڈ سے وہ نرز اور ڈاکٹر جلدی سے پیچھے ہوگئی تھیں۔۔۔۔
“عشنا۔۔۔۔”
ایک تھکی ہوئی مرجھائی ہوئی آواز نے جیسے ہی عشنا کو بلایا تھا اسکی آنکھوں سے ایک قطار آنسوؤں کی جاری ہوئی تھی اور وہاں سب ہی حیران تھے آنکھیں نیچی کئیے سر جھکائے اس نے انکے ہاتھ کھول دئیے تھے
“آپ فکر نہ کیجئے میں آگئی ہوں میں سب کو سزا دوں گیی دیکھ لیجئے گا ماما۔۔۔”
آج اسکی آواز اس پانچ سال کی بچی کی طرح تھی جس کے لب کانپ اٹھے تھے ماما لفظ بولتے ہوئے
“بس ایک منٹ یہ پاؤں کی چین کھول دوں میں۔۔۔”
عُشنا جلدی سے پاؤں کی چین کھولنا شروع ہوئی تھی۔۔۔
“لاک۔۔۔لاک کی چابی دو مجھے۔۔۔”
نرس کے ہاتھ سے اس نے جلدی سے چابی لگائی تھی۔۔۔
“بس ماما ایک منٹ۔۔۔۔”
پیچھے سے ایک بھاری چیز اس کے سر پر ماری تھی کسی نے۔۔۔
اسکا سر انہیں پاؤں پر گر گیا تھا۔۔سر سے نکلنے والا خون پاؤں پر گرنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“عُشنا۔۔۔یا اللہ یہ کیا کردیا تم نے لبابہ۔۔۔”
“میں نے اسکی آخری نشانی کو ختم کردینا ہے شہناز باجی۔۔۔میں اسے مار دوں گی۔۔۔”
“بس کر جاؤ لبابہ۔۔۔”
شہناز بیگم نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“نہیں شہناز بی۔۔۔انہیں مار لینے دیجئے۔۔۔
ماما آپ نے مجھے مارنا ہے۔۔؟ مار دیجیئے۔۔۔آج قصہ ختم کردیں آپ۔۔۔”
“ایک اور ڈرامہ۔۔۔ایک اور جھوٹ تمہارا۔۔۔جیسے تمہارا باپ تھا۔۔۔جھوٹا۔۔۔”
عشنا پاؤں کی چین کھول چکی تھی
انکی۔۔۔
“مار دیجئے۔۔۔پر کیا مجھے مارنے سے آپ ٹھیک ہوجائیں گی۔۔؟ مجھے مار دیجئے پر آپ ٹھیک ہوجائیں۔۔۔”
“ہاں تمہیں مار کر میں ٹھیک ہوجاؤں گی۔۔۔تم میں مجھے وہ نظر آتا ہے۔۔۔۔”
ہاتھ میں پکڑا ہوا وہ انٹیک پیس انہوں نے ایک بار پھر سے اپنے پاگل پن میں عشنا پر مارا تھا۔۔۔
“آپ کی آواز سننے کے لیے ترس گئی تھی میں ماما۔۔۔میں اس شخص کا خون ضرور ہوں۔۔
پر میں میں انکی نہیں آپ کی بیٹی ہوں۔۔۔مجھے مارنے سے پہلے ایک بار مجھے اپنے سینے سے لگا لیں پھر چاہے میری جان لے لیجئے۔۔۔”
“ڈاکٹر انجیکشن لگا دیجئے لبابہ کو۔۔پھر سے پینک اٹیک آیا ہے آپ۔۔۔عشنا کو ہسپتال لیکر جانا ہوگا۔۔”
“کوئی کچھ نہیں لگائے گا۔۔ سب جائیں یہاں سے۔۔آج مجھے بات کرلینے دیجئے۔۔۔”
“ماریں مجھے۔۔۔مجھے سزا دیجئے کہ مجھ میں ان کا خون ہے۔۔۔پر مجھے آپ کی بیٹی بننے کی خوشی بھی دیجئے مجھے بیٹا کہہ کر۔۔۔”
“سب جھوٹ ہے سب جھوٹ ہے دور رہو مجھ سے تم۔۔۔”
انہوں نے عشنا کو جیسے ہی تھپڑ مارا تھا اسکے ماتھے سے نکلنے والا خون انکی انگلیوں میں بھی لگ گیا تھا
“جھوٹ نہیں ہے آپ کی شفقت کے لیے میرا دل ترس گیا۔۔۔۔آپ کی زبان سے اپنا نام سننے کے لیے میرے کان ترس گئے تھے۔۔۔”
“اس لیے تم تھی وہاں اس شخص کے پاس۔۔۔جب میں تھیں اس پاگل خانے میں تب کہاں تھی تم۔۔۔”
“بوڈنگ سکول میں۔۔۔تھی میں۔۔۔مجھے دور کردیا تھا آپ سے۔۔۔دس سال اس جہنم میں رہی ہوں میں۔۔۔میں تو وہاں غیر جگہ پر انتظار کرتی تھی کہ مجھے انتظار میرے باپ کا نہیں میری ماں کا تھا۔۔۔مجھے آپ کا انتظار تھا۔۔۔”
آنکھوں کے آگے جیسے جیسے اندھیرا چھا رہا تھا عشنا گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی لبابہ کے۔۔۔
“مجھے دنیا نے بہت پہلے مار دیا تھا۔۔۔باپ کے دھوکے نے آپ کو ہی نہیں مجھے بھی مار دیا تھا ماما۔۔۔
اور پھر مجھے لوگوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا۔۔۔میں تو انتظار میں رہی ہوں آپ کے۔۔۔
آپ آج مجھے مار دیں پر مجھے اپنی بیٹی کہہ کر ماریں ماما۔۔۔میں۔۔”
لفظ بند ہوگئے تھے اسکی بند آنکھوں کے ساتھ۔۔۔
“عشنا۔۔۔۔میری پری۔۔۔”
۔
انہوں نے اس گرتی ہوئی بیٹی کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔