51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

“تمہیں گاڑی چلانی بھی نہیں آتی۔۔؟؟”
“آتی ہے چلانی۔۔وہ تو بس میری گرفت نہیں بن پا رہی تھی۔۔”
ارحام نے اپنی گھبراہٹ چھپا کر گاڑی کی سپیڈ ہلکی کرنے کی کوشش کی تھی پر پیچھے بیٹھی شیرنی کی نظریں اسکی گرفت مظبوط ہونے ہی نہیں دے رہی تھی گاڑی پر۔۔
“اگر اسے ایک بھی سکریچ آیا تو آئی سویر۔۔۔”
اور ارحام سے گاڑی بلکل بے قابو ہوگئی تھی اور درخت سے جا ٹرائی تھی۔۔۔وہ جو ابھی اتنا بڑبڑا رہی تھی وہ آگے آ کر گری تھی ارحام کی طرف۔۔
“وہ۔۔۔مجھے یہ اتنی لمبی گاڑی چلانی نہیں آتی ۔۔۔آر یو اوکے۔۔۔۔۔؟؟؟”
ارحام نے جیسے ہی عشنا کی جانب دیکھا تھااسکے سارے بال اسکے چہرے پر آگرے تھے۔۔۔جس پر ارحام اپنی ہنسی کنٹرول نہیں کر پایا تھا
“ہاہاہا۔۔۔۔ایم سوری۔۔۔مس۔۔۔”وہ ہنستے ہوئے باہر نکل گیا تھا اسے پتا تھا اب والکینو بج اٹھے گا۔۔۔
“ہو دا ہیل آر یو۔۔؟ جاہل ہو۔۔؟ گاڑی چلانی نہیں آتی۔۔؟ “
وہ اتر آئی تھی گاڑی سے باہر اور اس نے دروازہ اتنی زور سے بند کیا تھا کہ ارحام کو بھی غصہ آگیا تھا اس پر۔۔۔
“آواز نیچی رکھیں محترمہ میں برداشت کر رہا ہوں آپ کی بدتمیزی۔۔۔”
“تمہیں جب پتا تھا نہیں چلا سکتے تو کیوں چھوڑنے آئے مجھے۔۔؟”
دو قدموں کا فاصلہ بھی نہیں چھوڑا تھا عشنا نے
“تو اپنے والد کو اتنی رات کو آنے دیتا۔۔؟ “
” تو احسان کرنا تھا اتنی رات کو آکر۔۔؟ ملازم ہے اسی بات کے پیسے لیتے ہیں ہم سے۔۔”
“آپ سے نہیں لیتے وہ پیسے۔۔۔اور نہ ہی وہ آپ کے ملازم ہیں مس گھمنڈی۔۔”
“یوو۔۔۔۔۔”
عشنا کی انگلی اٹھی تھی اسکی ہیلز میں اسکی ہائٹ بلکل ارحام جتنی تھی پر پھر بھی ارحام کا قدم کچھ انچ اوپرہی تھا
“انگلی نیچے کیجیے۔۔۔میں کلا ابو سے کہ کر اسے ٹھیک کروا دوں گا۔۔چلیں گھر چھوڑ دوں آپ کو۔۔۔”
ارحام نے ہاتھ کا اشارہ کیا تھا بہت ادب سے۔۔۔
“تم مجھے آرلریڈی گھر چھوڑ چکے ہو اور میں پہنچ گئی ہوں۔۔اب جائیے یہاں سے میں بلا لوں گی کوئی ٹیکسی۔۔۔”
اس نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اپنا پرس نکالا تھا
“کوئی فائدہ نہیں میڈم۔۔۔سگنل نہیں آتے اس ایریا میں۔۔کم میں چھوڑ دوں گا۔۔”
اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے ارحام نے آہستہ آہستہ چلنا شروع کردیا تھا۔۔
“یوزلیس آدمی۔۔۔” عشنا اپنا پرس پکڑے اسکے پاس سے گزر گئی تھی یہ کہتے ہوئے
“سرپھری گھمنڈی۔۔۔”
چلتے چلتے کب وہ دونوں ایک ساتھ چلنے شروع ہوگئے تھے انہیں پتا نہیں چلا تھا۔۔۔
یہ اس سفر کا آغاز تھا جو اب ساتھ ساتھ ہی ہونا تھا۔۔۔
۔
کبھی چلتے چلتے ارحام کی نظریں عشنا پر پڑتی تھیں تو کبھی عشنا کی۔۔۔
عشنا نے اپنا موبائل جیسے ہی دیکھا تھا کچھ سگنل آئے تھے اور اسے کچھ وائس میسج نے چلتے چلتے روک دیا تھا۔۔۔
۔
“Missy I Realy Need Your Help Please Come back withen a wek
the Sponsers Rescheduled The Modling show And..”
۔
عشنا نے وائس سٹاپ کردی تھی جب ارحام رکا تھا۔۔
“تم ویک کی بات کر رہی ہو۔؟ میں پرسو کی فلائٹ سے واپس آرہی ہوں یہاں کچھ بھی آرگنائزڈ نہیں ہے۔۔۔ ڈیڈ کی دوستیاں صرف مسٹریس کے ساتھ ہیں بہت سے غریبوں کے ساتھ بھی ہیں۔۔۔جن کے ساتھ مجھے اس وقت پیدل گھر جانا پڑ رہا ہے۔۔۔
ایک دن میں اتنی شرمندگی ہو رہی ہے۔۔۔”
اس کی آواز ضرورت سے زیادہ اونچی تھی۔۔ یہ ارحام کی برداشت ہی تھی جو سن بھی رہا تھا اور وہیں کھڑا بھی تھا پر سر فخر سے اونچا تھا اسکا۔۔۔
“اوکے بائے ڈیوڈ کی ڈیٹ انتظار کرسکتی ہے اور اسکی فوٹو شوٹ بھی۔۔۔یہاں کا نمبر کسی کو مت دینا۔۔۔۔۔۔مجھے انکی فکر نہیں ہے وہ جو میری موم کے قصوروار ہیں چاہیں میرے ڈید۔۔۔بائے۔۔”
عشنا نے فون بند کردیا تھا۔۔۔
“اور وہ چلنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
“آپ جیسے بڑے سٹینڈرڈ کے لوگ اتنا سب ہونے کے بعد بھی خالی ہاتھ ہوتے ہیں نا۔۔؟
جنہیں نہ کسی سے بات کرنے کی تمیز ہوتی ہے نہ کسی رشتے کی عزت کا احترام۔۔؟”
ارحام نے چلتے چلتے ہیلکی آواز میں یہ بات کی تھی جب وہ گھر کے سامنے آچکے تھے
۔
“رشتوں کا احترام۔۔؟؟ ہاہاہاہا عزت۔۔۔؟؟ تم مجھے بتاؤ گے۔۔؟ جو کچھ دیر پہلے اپنے بھائی کی منگیتر کے ساتھ دوریاں مٹا کر اس رشتے کو پامال کرنے کے در پہ تھا۔۔؟؟
تم مجھے بتاؤ گے احترام۔؟ ہم بڑے لوگ سٹینڈرڈ بھی بڑا رکھتے ہیں تم جیسے چھوٹے لوگوں کی طرح نہیں۔۔۔”
اسکی باتوں نے ارحام کے ہوش اڑا دئیے تھے۔۔۔
“ایک اور لفظ نہیں تم کچھ نہیں جانتی تمہیں کوئی حق نہیں۔۔۔”
ارحام نے عشنا کو جیسے ہی بازو سے پکڑا تھا اسکی آنکھوں میں شدید غصہ تھا وہ پہلی بار ایسی حرکت کر رہا تھا کسی غیر کو اس طرح ہاتھ لگانے کی۔۔
“ہاؤ ڈیڑھ یو۔۔؟؟ لیو مائی ہینڈ رائٹ ناؤ۔۔۔۔”
عشنا کے بازو میں درد ہوا تھا اسکی مظبوط گرفت سے۔۔۔ اسے کبھی کسی نے اس طرح سے ٹریٹ نہیں کیا تھا۔۔۔ ارحام نے جیسے ہی ہاتھ چھوڑا تھا عشنا نے اپنا سیدھا ہاتھ اسی بازو پر رکھ لیا تھا۔۔۔
“تم نہیں آپ۔۔۔آئندہ آپ کہہ کر بات کرنا۔۔تم ایک ہی دن میں اتنی گستاخیاں کر چکے ہو کہ اگر ایک اور کرو گے تو پچھتاؤ گے۔۔۔”
وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہونا شروع ہوئی تھی۔۔۔
“تم سرپھری ہو پچھتاؤ گی تم دیکھ لینا۔۔۔” ارحام نے اپنی مٹھی بند کرلی تھی
“ہاہاہاہا۔۔۔” عشنا نے ارحام کا کالر پکڑ لیا تھا۔۔۔
“گھمنڈی ہوں۔۔۔پچھتانا میری فطرت نہیں۔۔۔پر تمہارا مقدر ضرور بنا دوں گی۔۔۔اس لیے اپنی شکل دوبارہ میرے سامنے مت لانا۔۔۔۔”
وہ وہ جیسے ہی گیٹ کے پاس پہنچی تھی سب گارڈ ایکٹو ہوگئے تھے جلدی سے دروازہ کھول دیا گیا تھا اسکے لیے۔۔۔
۔
“سر تھینک یو سوو مچ صاحب کا فون آگیا تھا۔۔ میں ڈرائیور کو کہہ دیتا ہوں وہ آپ کو چھوڑ۔۔”
“شکریہ۔۔۔میں چلا جاؤں گا۔۔۔”
۔
ارحام واپس اسی رستے میں پیدل نکل پڑا تھا۔۔۔اسے غصہ بھی تھا اور اب افسوس بھی ہورہا تھا اس نے جس طرح سے عشنا کا بازو پکڑا تھا۔۔۔
۔
“اسے کیسے پتا چلی وہ بات۔۔؟ کہیں یہ کسی کو بتا نہ دے۔۔۔
مجھے کچھ کرنا ہوگا۔۔۔صبح آکر ملوں گا معافی مانگ کر ریکوسٹ کروں گا کہ کسی کو نہ بتائے خاص کر اپنے ڈیڈ کو۔۔۔”
۔
وہ یہی باتیں سوچتے سوچتے اپنے گھر کی طرف چل دیا تھا ۔۔۔جہاں اسے پھر سے وہی تکلیف محسوس ہونے والی تھی جو کچھ دیر تک تو تھم گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام۔۔۔ایک ڈانس تو کرو گے نہ اپنی بیسٹ فرینڈ کی مہدی پر۔۔؟”
رخسار نے اسکا ہاتھ جیسے ہی پکڑا تھا فلذہ نے منہ نیچے کرلیا تھا۔۔۔
“فلذہ۔۔کیا ہوا اداس اداس لگ رہی ہو۔۔؟؟ تم خوش ہو نہ اس رشتے سے۔۔؟
اگر کوئی بھی سیکنڈ ٹھوٹ ہیں تو تم بتا سکتی ہو میں خود سب سے بات کر لوں گا۔۔؟”
اس نے اس پورے فنکشن میں پہلی بار پاس بیٹھے منگیتر کو نگاہ اٹھاکر دیکھاتھا اسکی نظروں میں بےتحاشہ خوشی جھلک رہی تھی کہ وہ خود کو روک نہیں پائی تھی مننان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھنے سے۔۔۔
“اب اداس نہیں ہوں۔۔۔”
آنکھوں سے نکلنے والے آنسو کو مننان خوشی کے آنسو سمجھ بیٹھا تھا۔۔۔پر وہ آنسو آخری الوداع تھے اسکی اور ارحام کی محبت کو۔۔۔
جب فلذہ نے ارحام کی طرف دیکھا تو اس نے بھی بھری ہوئی آنکھوں سے ہاں میں سر ہلایا تھا وہ اب خوش ہوگیا تھا فلذہ کے فیصلے سے۔۔۔
۔
“اب گوارہ نہیں کوئی اور بھی ہو۔۔ جو میری طرح یو ں تم پہ مرے۔۔۔
چھونا تو دور ہے۔۔اب نہ منظور ہے۔۔۔کوئی میرے سوا تیرا ذکر بھی کرے۔۔”
مننان فلذہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی رخسار اور ارحام کے پاس لے آیا تھا۔۔۔خوشی کا سما بند گیا تھا وہاں پھر سے۔۔۔
“تو نے فاصلے مٹا کے۔۔۔زندگی بدل دی۔۔۔”
۔
“ماشاللہ ابراہیم دونوں بچے ساتھ بہت اچھے لگ رہے ہیں۔۔تمہارا فیصلہ ٹھیک تھا مننان کے لیےفلذہ بیٹا اچھا انتخاب ہے۔۔”
اپنا سگار دوسری طرف پھینک دیا تھا انہوں نے بات کرتے کرتے
“ضیشم۔۔میں تو کہتا ہوں تم بھی رشتہ ڈھونڈنا شروع کر دو۔۔کروں میں بڑی بی سے بات۔۔؟”
“ہاہاہا امی نے یہ بات سن کر ایک ہی لفظ کہنا ہے کہ مجھے میری ہی بیٹی کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔
انہیں تو لگے گا میری کوئی سازش ہے۔۔آج تک میں نے جو کچھ کیا انہیں میں غلط ہی نظر آیا ہوں۔۔۔”
وہ دونوں ایک خاموش کارنر پر کھڑے باتیں کر رہے تھے پر انکی نظریں وہیں سٹیج پر تھی انکے بچوں پر۔۔۔
“تمہارا ہر فیصلہ سہی تھا سوائے ایک کے۔۔۔اسے بوڈنگ میں بھیج کر تم نے اسے خود سے اور سب سے دور کردیا ضیشم میں آج بھی تمہارا ڈرائیور ہوں اور تب بھی تھا۔۔پر فرق اتنا ہے میں آج بنا ڈرے بول سکتا ہوں تمہارے سامنے تب نہیں بول سکا تھا۔۔۔میں تمہیں بتانا چاہتا تھا کہ تم غلط ہو۔۔تم زیادتی کر رہے ہو۔۔۔”
“تم جانتے ہو وہ ضرورت تھی وقت کی اور۔۔۔”
“وقت کی نہیں تمہاری ضرورت تھی۔۔۔اس وقت تم اپنی بچی کو اپنی نئی بیوی اور شادی شدہ زندگی سے الگ رکھنا چاہتے تھے۔۔۔بس۔۔۔”
“ضیشم بیٹا میں بھی گھر جانا چاہتی ہو عشنا اکیلی ہوگی۔۔۔”
انکی والدہ جیسے ہی آئی تھی وہ دونوں دوست چپ ہوگئے تھے
“ماں جی تھوڑی دیر اور رک جاتی آپ۔۔”
“ارے نہیں بیٹا بہت رات ہوگئی۔۔۔بہت مزہ آیا اور بیٹا اگر کوئی اچھا رشتہ نظر میں ہو تو مجھے ضرور بتانا عشنا کے لیے۔۔۔”
ضیشم کی ڈرنک منہ سے نکل آئی تھی۔۔۔ جب ابراہیم صاحب نے قہقہ لگایا تھا
“ہاہاہا ضرور ماں جی۔۔۔پر آپ کی پوتی ہے بہت گھمنڈی لڑکا مشکل سے ملے گا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا گھمنڈ میں بلکل لبابہ پر گئی ہے۔۔۔”
ضیشم اتنا کھلکھلا کر ہنسے تھےکہ انکی امی کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔
“پر لبابہ جیسے نصیب نہیں ہونے چاہیے اسکے ضیشم۔۔۔
اور ابراہیم۔۔۔لبابہ جیسے جیون ساتھی بھی نہیں ملنا چاہیے۔۔۔جب تم لڑکا ڈھونڈو تو باکردار ڈھونڈنا بیٹا۔۔۔”
ابراہیم کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ وہاں سے چلیں گئیں تھیں۔۔۔
“ضیشم انکا مطلب۔۔۔”
“کیا تم تابین اور باقی سب کو اندر سے بلا دو گے۔۔؟؟ میں بھی آرام کرنا چاہتا ہوں گھر جا کر۔۔۔۔”
“ہمم میں کہتا ہوں سب کو۔۔ہنت رکھو ضیشم اللہ سب ٹھیک کردے گا۔۔”
۔
ضیشم صاحب نے بس ہاں میں سر ہلایا تھا ور باہر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عشنا بیٹا۔۔۔”
عشنا شاور سے باہر آگئی تھی جب اس نے ٹاول سے بال صاف کئیے تو اسکی نظر اسکے بازو کے نشان پر پڑی تھی
“سچ آ اِللٹریٹ پرسن۔۔۔بدتمیز۔۔۔” وہ کپڑے چینج کر کےباہرآگئی تھی
“دادی۔۔۔نووو وے۔۔۔آج آپ دونوں پھر سے میرے روم میں۔۔؟”
عشنا نے اریٹیٹ ہوکر کہا تھا اپنی پھوپھو اور دادی کو جو دونوں بیڈ کی ایک ایک سائیڈ پر لیٹ گئی تھیں اور درمیاں میں عشنا کے لیے تھوڑی سی جگہ ہی چھوڑی تھی انہوں نے کل کی طرح
“مجھے لبابہ کی بہت یاد آرہی تھی۔۔اب تم میرے پاس ہو تو ایسے لگتا ہے میری گھمنڈی بہو میرے پاس ہے عشنا۔۔۔”
انہوں نے جیسے ہو اپنے ہاتھ کھولے تھے عشنا بیڈ پر آگئی تھی اسکا چہرہ ابھی بھی سخت تھا۔۔۔وہ ایسی ہی تھی اسے جذبات دیکھانے نہیں آتے تھے کسی کو بھی وہ یا تو ہاں میں سر ہلا کر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتی تھی یا کچھ بول کر سامنے والے کو ذلیل رسوا۔۔۔۔
ہاں وہ ہے گھمنڈی۔۔کیونکہ اس نے کسی کو حق نہیں دیا تھا اسے ذلیل و رسوا کرنے کا۔۔
۔
” تو سب کیسے ہیں وہاں پر۔۔؟؟”
پھوپھو نے عشنا کے بال سہلاتے ہوئے پوچھا تھا جو دادی کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر چکی تھی
“ویسے ہی ہیں جیسے آپ چھوڑ کر آئے تھے۔۔۔بکھرے ہوئے ٹوٹے ہوئے۔۔۔
گھمنڈی۔۔۔”
وہ خود بھی ہلکا سا ہنسی تھی گھمنڈی لفظ پر جیسے دادی اور پھوپھو ہنسی تھیں۔۔
۔
“اور لبابہ۔۔۔”
“پلیز دادی۔۔۔ وہ جہاں ہیں جس دنیا میں ہیں خوش ہیں۔۔ایسا بھی نہیں ہے کہ یو رئیلی کئیر فور ہر۔۔؟ آپ نے پوچھا ایم تھینکس فل۔۔۔”
عشنا رؤڈلی کہہ کر اٹھ گئی تھی بیڈ سے۔۔
” لک دادی۔۔ایم سوری۔۔بٹ آپ دونوں جائیں یہاں سے جسٹ لئیو۔۔۔۔”
۔
عشنا خود بھی چلی گئی تھی ٹیرس پر
“عشنا۔۔۔”
“امی آپ بھی نہ۔۔جب آپ کو پتا ہے عشنا اسی طرح ری ایکٹ کرتی ہے لبابہ کے نام تو کیوں آپ پکارتی ہیں۔۔اور سہی تو کہا اس نے لبابہ کی فکر تھی ہی کب ہمیں۔۔”
۔
وہ اٹھ کر جیسے ہی باہر جانے لگیں تھیں ضیشم صاحب پہلے سے باہر کھڑے تھے
“آپ کیا ٹہلتے رہتے ہیں بھائی اس وقت۔۔؟ آپ کی بیوی پریشان ہورہی ہوگی۔۔
آپ پلیز ابھی عشنا کے پاس مت جائیے گا۔۔بھاگ جائے گی یہاں سے وہ۔۔۔”
چھوٹی بہن وہاں سے چلی گئی تھی
“امی چلیں آپ کو آپ کے کمرے میں چھوڑ آؤں۔۔۔”
ضیشم صاحب نے اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں بیڈ سے اٹھایا تھا اور انکے کمرے میں لے گئے تھے۔۔۔
انہیں بستر پر لٹانے کے بعد ان پر کمفرٹ اوڑھا دیا تھا۔۔۔پر جب وہ وہاں سے جانے لگے تھے انہوں نے ہاتھ پکڑ لیا تھا
“ضیشم مین عشنا کو واپس جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی بیٹا۔۔۔پلیز کچھ کرو کہ وہ رک جائے یہاں ہمارے پاس۔۔”
“امی آپ فکر نہ کریں میں سوچتا ہوں کچھ۔۔”
والدہ کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اگلی صبح۔۔۔”
۔
“السلام علیکم امی۔۔۔گڈ مارننگ ایوری ون۔۔۔”
ضیشم صاحب والدہ کے ماتھے پر بوسہ دی کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے تھے ڈائننگ ٹیبل پر تابین بیگم نے پہلے ہی ناشتہ تیا رکھا ہوا تھا آہستہ آہستہ سب اپنے اپنے کمرے سے نکل کر باہر آرہے تھے۔۔۔
انکی دونوں بیٹیاں جن کی عمریں بیس سال تھیں اور ایک بیٹا جو بلکل ضیشم کی کاپی تھا۔۔۔
“تابین عشنا کو نہ اٹھائیں گا آرام کرنے دیں اسے کل رات لیٹ سوئی تھی وہ۔۔۔
آپ سب بسم اللہ کریں۔۔”
سب نے ناشتہ شروع کردیا تھا۔۔
“ڈیڈ آپ تو پسند نہیں کرتے لیٹ اٹھنا پھر عشنا کے لیے کیوں۔۔؟”
“عشنا۔۔؟ باجی کہو بڑی بہن ہے وہ تمہاری۔۔۔”
انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کو ڈانٹ دیا تھا۔۔۔پر ان لوگوں کو کیا پتا تھا عشنا صبح سب سے پہلے اٹھ گئی تھی جاگنگ پر گئی ہوئی تھی۔۔
۔
۔
“گڈ مارننگ میم۔۔۔”
“ہمم۔۔”
عشنا نے جواب نہیں دیا تھا وہ اندر داخل ہوگئی تھی گھر کی ملازمہ جو جوس اور پانی کی بوتل لیکر کھڑی ہوئی تھی عشنا نے پانی پینے کے بجائے اپنے منہ پر ڈالنا شروع کردیا تھا اسے اس قدر پسینہ آگیا تھا تھا۔۔۔
اس اس بات سے بے خبر تھی کے اس پانی سے اسکی شرٹ بھیگ رہی تھی باہر گارڈ اور ڈرائیور کی نظریں بےشرموں کی طرح اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
وہ نظریں اور اسے دیکھتی اگر سامنے کوئی سائے کی طرح آ کر نہ کھڑا ہوتا۔۔
“یہ سٹینڈرڈ ہے ایک گھمنڈی لڑکی کا۔۔؟ تمہارے ٹریک سوٹ کے اندر کے کپڑوں کی کیوں نمائش کروا رہی ہو نوکروں کو۔۔؟”
ارحام نے غصے سے پوچھا تھا اسے بلکہ اس نے جھٹکا تھا وہ ہاتھ جس سے وہ پانی منہ پر ڈال رہی تھی اس نے تھوڑا اور پانی چہرے پر ڈالا تھا۔۔۔ گیلے بال جھٹک کر وہ اس ڈرائیور کی جانب بڑھی تھی جسکی نظریں ابھی بھی اس پر تھی۔۔
اور نے بوتل میں باقی پانی اس کے چہرے پر پھینک دیا تھا
“نظریں کام پر ہونی چاہیے تھیں تمہاری۔۔۔نہ کہ اس مالک کی عزت پر جس نے تمہیں کام دیا۔۔۔ رشید صاحب انکا حساب کتاب کلئیر کریں۔۔۔ نظر نہیں آئیں یہ مجھے یہاں۔۔۔”
ٹیبل سے ٹاول پکڑ کر وہ اندر کی جاب جانا شروع ہوئی تھی
“اوو۔۔۔ہائے مس عشنا۔۔۔کیا میں بات کرسکتا ہوں۔۔؟ پلیز۔۔؟؟
وہ کل رات۔۔۔”
“اگر تم ڈر رہے ہو کہ میں تمہارا ڈرٹی لٹل سیکرٹ آفئیر کسی کو بتا دوں گی تو ڈونٹ ورری۔۔۔نہیں بتاؤں گی۔۔۔ تم بےفکر رہو۔۔میں ویسے بھی یہاں سے جا رہی ہوں۔۔۔سو تم دونوں کا لو آفئیر میرے ساتھ ۔۔”
۔
“اننف عشنا۔۔۔۔”
۔
عشنا کی نظریں اٹھ گئی تھیں اپنا نام کسی اجنبی کی زبان سے اس طرح سن کر۔۔۔
ارحام خود بھی غصے میں اسے مس کہنا بھول گیا تھا یا وہ اب عزت دینا ہی نہیں چاہتا تھا سامنے کھڑی اس گھمنڈی لڑکی کو۔۔۔
“وہ میرا ڈرٹی لٹل سیکرٹ نہیں ہے۔۔۔سنا تم نے بدتمیز لڑکی۔۔۔
وہ ایک عزت دار باحیا لڑکی ہے ان لائک یو مس عشنا۔۔۔”
عشنا کا ہاتھ جیسے ہی اٹھا تھا وہاں سب لوگوں کے ہاتھ رک گئے تھے۔۔۔
ارحام نے عشنا کے اٹھے ہاتھ کو پکڑ لیا تھا۔۔۔
“تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے کردار پر بات کرنے کی۔۔؟ میں نے تمہیں وارن کیا تھا ایک اور غلطی اور تم پچھتاؤ گے۔۔۔
اور کیا کہا ابھی۔۔؟ ان لائک مئ۔۔؟ کیا جانتے ہو جو بکواس کر رہے ہو۔۔؟؟”
اس نے اپنا ہاتھ چھڑا کر پیچھے دھکا دیا تھا ارحام کو جو عشنا کے غصے کو دیکھ کر تھوڑا سا نرم پڑ گیا تھا۔۔۔
“جب کوئی بات خود پر برداشت نہیں ہو سکتی تو کسی پر کرنے کی کوشش بھی مت کرو ۔یہاں میں تم سے کل رات کے لیے معافی مانگنے آیا تھا۔۔۔پر تم اس قابل نہیں ہو۔۔۔ایک امیر باپ کی بگڑی ہوئی گھمنڈی بیٹی۔۔۔کل کی جاتی آج جاؤ یہاں سے۔۔۔”
“دفعہ ہو جاؤ ایک اور لفظ نہیں۔۔۔اسے باہر نکالو۔۔۔اگر اب مجھے یہ شخص اس پراپرٹی یا میلوں دور بھی نظر آیا تو تم سب کی میں حالت بگاڑ دوں گی۔۔۔
نکالو اسے یہاں سے۔۔۔”
اس نے جیسے ہی منہ پیچھے کیا تھا سیکیورٹی ارحام کو وہاں سے کھینچتے ہوئے لے گئی تھی
“مجھے شوق نہیں ہے تمہاری شکل دیکھنے کا بدتمیز کہیں کی۔۔۔باہر کے ملک سے تھوڑی تمیز بھی سیکھ آتی۔۔۔”
وہ چلاتا رہا تھا پر عشنا اگنور کر کے اندر چلی گئی تھی ان گلاب کے پھولوں کو پاؤں تلے رؤند کر جو اررحام کے ہاتھ سے گرے تھے۔۔
۔
وہ جیسے ہی اندر گئی تھی سیکیوڑٹی نے ارحام کو بھی باہر نکال دیا تھا۔۔
۔
اور اس وقت اس پلر کے پیچھے سے ضیشم صاحب نکل کر باہر آئے تھے۔۔۔اس جگہ جھک کر انہوں نے وہ گلاب کے پھول اکٹھے کئیے تھے۔۔۔
۔
“ہممم میری گھمنڈی بیٹی کو کوئی تو روشنی کی کرن ملی۔۔۔سووو ارحام ابراہیم۔۔؟؟”
مسکراتے ہوئے انہوں نے ابراہیم کو فون ملا دیا تھا۔۔۔
۔
۔