Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 16
Rate this Novel
Episode 16
“سچ آ ڈسگریس۔۔۔شیم آن یو رشنا۔۔۔ یہ کرتوتیں ہیں تمہاری۔۔؟؟ منگنی سے پہلے سب کچھ ہوتا تو بات اور تھی۔۔۔پر منگنی کے بعد۔۔۔؟؟”
عشنا نے اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔۔۔
“تم ہوتی کون ہو میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے والی۔۔۔؟؟”
تابین کو عشنا کے پاس جانے سے پہلے انکا ہاتھ ضیشم صاحب نے پکڑا تھا۔۔۔
“تم کون ہوتی ہو مجھے ایسے مارنے والی۔۔؟ کس حق سے۔۔؟ میری زندگی ہے یہ عشنا یو بچ۔۔”
اور ایک تھپڑ پڑا تھا کہ رشنا نیچے گر گئی تھی۔۔۔
“بچ ورڈ دوبارہ کہا تو منہ توڑ دوں گی بدتمیز لڑکی۔۔۔ اور کونسی زندگی۔۔؟
ارحام کو چیٹ کرکے اسکے ساتھ منگنی کرکے یہ گل کھلا رہی ہو تم۔۔
اگر ارحام کی جگہ کوئی اور منگیتر ہوتا تو میں برداشت کرلیتی پر تمہیں ایک وہی شخص ملا دھوکا دینے کے لیے رشنا۔۔؟ وہ جو تمہارے ساتھ اتنا مخلص رہا۔۔وہ جو میرے آنے کے بعد اپنا فیصلہ بدل سکتا تھا۔۔ پر نہیں بدلا۔۔۔کیونکہ وہ کمیٹڈ تھا تمہارے ساتھ۔۔۔
اور تم اسی کو ڈبل کراس کر گئی۔۔؟؟ شرم نہیں آئی۔۔؟؟ اگر یہ سب ارحام کو پتا چل جاتا تو کیا بیتتی اس پر۔۔؟؟”
عشنا جیسے ہی چلائی تھی سب چپ ہوگئے تھے اسکے غصے کو دیکھ کر۔۔
“اس پر جو بیتتی جو بیتتی۔۔۔تمہیں کیوں اتنی آگ لگ رہی ہے۔۔ اگر تمہارے چھوڑ جانے کے بعد وہ اتنی جلدی میرے ساتھ مووو آن کرگیا ہے تو اس نیوز کے بعد بھی اس نے برداشت کرلینا تھا۔۔۔ ایسا ہوگیا ہے تو ہوگیا۔۔۔یہ اس گھٹیا شخص کی وجہ سے ہوا ہے جس نے یہ سب وائرل کیا بلڈڈی باسٹرڈ۔۔۔۔”
” یو نو وٹ رشنا۔۔۔ تم جیسی لڑکی ارحام ابراہیم کو ڈیزرو نہیں کرتی۔۔۔ اور مجھے سمجھ نہیں آتی تم جیسے سازش کرنے والیوں کو کیسے ایسے مرد مل جاتے ہیں۔۔؟ جنہوں دوسروں کی معصومیت پر نہیں جھوٹ پر یقین ہوتا ہے۔۔”
یہ بات کرتے ہوئے اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔اور پھر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔پر جاتے ہوئے وہ جس شخص سے ٹکرائی تھی اسکی طرف دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا اس نے۔۔۔
“ار۔۔۔ارحام۔۔۔۔”
رشنا زمین سے اٹھ نہیں پا رہی تھی جب ارحام نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔
اور اسکے چہرے پر ایک جیت کی مسکراہٹ آگئی تھی
“ارحام میں جانتی تھی تم اس گھمنڈی پر نہیں مجھ پر یقین کرو گے وہ سب جھوٹ۔۔۔”
رشنا کے الفاظ دھرے کے دھرے رہ گئے تھے جس پکڑے ہوئے ہاتھ کی انگلی سے ارحام نے منگنی کی وہ انگوٹھی اتار لی تھی۔۔۔
اسے اپنی شرٹ کی جیب میں ڈال کر اپنے ہاتھ سے اپنی انگوٹھی نکال کر ارحام نے ضیشم صاحب کے ہاتھ میں تھما دی تھی۔۔۔
۔
“میں نے ہمیشہ عزت کی۔۔۔عُشنا سے شادی کے لیے ہاں میں نے آپ کی خوشی کے لیے کی تھی۔۔
رشنا سے منگنی میرے ابو کے جڑے ہاتھوں کو دیکھ کر کی۔۔
پر یہاں آکر اس مقام پر آ کر سمجھ آرہی ہے وہ کیوں مجھے کہتی رہی کہ مجھ میں خود داری باقی نہیں رہی۔۔۔ اب سمجھ آرہا ہے۔۔۔ جب انسان اپنے اصول و ضوابط بھلا کر دوسرے کے آگے خود کو جھکا لے تو خودداری ہوا میں بلبلے کی طرح سے اڑ جاتی ہے۔۔۔
اس گھمنڈی کا گلہ کرنا جائز تھا سر۔۔۔ اور اب میرا یہ رشتہ توڑنا بھی۔۔۔”
ارحام نے صرف ضیشم صاحب کو دیکھا تھا اور باقی کسی کو بھی نہیں۔۔۔اور وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“ارحام۔۔۔ارحام پلیز میری بات سنو۔۔۔ڈیڈ پلیز ارحام کو واپس بلا لیں”
ضیشم صاحب کے پاؤں پکڑنے کی کوشش کی تھی جب انہوں نے جھٹک دیا تھا رشنا کو۔۔۔
“جو تم نے کیا ہے اسکے بعد مجھ سے امید نہ کرنا کہ میں ہاتھ پھیلاؤں گا ارحام یا ابراہیم کے سامنے۔۔۔”
وہ اپنے کمرے میں جانے کے بجائے باہر چلے گئے تھے گھر سے۔۔۔
“موم۔۔۔موم پلیز۔۔۔”
“بس بچے میں ہوں نہ میں سب ٹھیک کردوں گی۔۔۔ یہ ارحام واپس بھاگتے ہوئے آئے گا تمہارے پاس۔۔۔”
تابین بیگم بھی اپنی بیٹی کے پاس بیٹھ گئی تھیں۔۔۔
“موم اب آپ انہیں سپورٹ کر رہی ہیں۔۔ رشنا آپ نے جو کیا وہ بلکل بھی ٹھیک نہیں تھا”
“تم مجھے بتاؤ گے۔۔؟ چھوٹے ہو چھوٹے ہی رہو۔۔”
چھوٹے بھائی کو الٹا سنا دی تھی رشنا نے۔۔۔
“کیوں میں نہیں بتا سکتا۔۔؟ کتنی بار تو میں نے دیکھا آپ کو اس لوفر کے ساتھ ارحام کے ساتھ منگنی کے بعد۔۔”
“تم فالو کرتے رہے ہو مجھے۔۔؟ میں منہ توڑ دوں گی اگر ایک اور لفظ بولا تھا۔۔۔”
“بس کرجاؤ تم دونوں۔۔۔” رشنا نے پھر سے رونا شروع کردیا تھا
“موم پلیز ارحام کو واپس لے آئیں وہ اس گھمنڈی کے پاس واپس چلا جائے گا میں اس کے آگے نہیں ہاروں گی۔۔۔”
“ہاہاہاہا اووو تو اس لیے آپ رو رہی ہیں کہ عُشنا حاصل کرلیں گی ارحام ابراہیم کو۔۔؟؟
ویسے مزے کی بات بتاؤں ان دونوں کی جوڑی کمال لگے گی کیسے عشنا آپی نے ارحام کی سائیڈ لی آپ کو تھپڑ بھی مارا۔۔۔”
رشنا نے اپنا سینڈل اٹھا کر جیسے ہی پھینکا تھا وہ بھاگ گیا تھا وہاں سے ہنستے ہوئے۔۔۔
“موم۔۔۔۔”
“اگر اسکی ماں کو جیتنے نہیں دیا میں نے تو اسکی بیٹی کیسے جیت سکتی ہے رشنا۔۔؟؟
کچھ نہیں ہوگا۔۔۔”
۔
ان دونوں ماں بیٹی کو شاید نہیں پتا تھا سامنے وہ گھمنڈی کھڑی تھی وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عُشنا۔۔۔عشنا بیٹا روم میں اتنا اندھیرا کیوں کیا ہوا ہے۔۔؟”
لبابہ نے دروازہ آہستہ سے کھولا تھا
کروٹ لئیے اوندھی لیٹی ہوئی تھی عشنا بیڈ پر۔۔۔سائیڈ لمپ کو وہ کبھی جلا رہی تھی کبھی بجھا رہی تھی ۔۔
“کیا ہوا ہے عُشنا۔۔۔؟؟”
“کچھ نہیں موم۔۔۔بس دل نہیں کر رہا آج کچھ بھی کرنے کو۔۔۔”
منہ پر کشن رکھ کر آنکھیں بند کر لی تھی اس نے فائننلی۔۔۔
“ہممم میں اپنے ہاتھوں سے پکوڑے بنا کر لائی۔۔چائے بنا کر لائی کہ دونوں ماں بیٹی بچپن کی یادیں تازہ کریں گے۔۔۔”
وہ ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھی تھی۔۔۔
“آپ بہت اچھی ہیں ماما۔۔۔”
عشنا نے انکی گود میں سر رکھ لیا تھا
“عشنا کیا بات ہے چندا۔۔؟؟”
“میں نے رشنا پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔وہ بھی سب کے سامنے۔۔۔”
“اوووہ گوڈ عشنا۔۔۔۔”
لبابہ کے لہجے میں ایک سختی آگئی تھی۔۔۔اور پھر کچھ میں انکے ہنسنے کی آوازیں پورے کمرے میں گونج اٹھی تھیں۔۔۔
“سیریسلی۔۔؟؟۔۔۔ کچھ دن پہلے اسکی اماں کو مجھے سے ایک زورد دار تھپڑ پڑا تھا۔۔۔
ہم دونوں کو کیا ہوا ہے۔۔۔؟ یا ان دونوں کے کارنامے مار کھانے والے ہیں۔۔۔؟؟”
ان سے اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہورہا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہاہا ماما۔۔۔ یہاں میں ڈر رہی تھی کہ مجھے آپ سے ڈانٹ پڑے گی۔۔۔”
عشنا نے انکی آغوش میں اپنا چہرے چھپا لیا تھا۔۔۔ وہ بچی بن جاتی تھی ہمیشہ لبابہ کے پاس آکر اسکی وہ سائیڈ جو کسی نے نہیں دیکھی وہ لبابہ کو دیکھنے کو ملتی تھی۔۔۔
“ماما۔۔۔ وہ تصاویر جو منگنی ہونے کے بعد کی تھیں رشنا کی کسی اور کے ساتھ۔۔
ڈیڈ نے ان تصاویر کے لیے ایک بھاری قیمت دی وہ بھی کمپنی کے اکاؤنٹس سے۔۔۔
مجھے بہت تکلیف ہوئی۔۔۔ وہ جانتے ہیں کمپنی میں جو کچھ بھی ہوگا نام میرا ہی آئے گا یہ میری زمہ داری ہے۔۔۔
آپ جانتی ہے اس سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے جس بیٹی کی منگنی کروانے کی جلدی کی انہوں نے۔۔۔اسی بیٹی نے اس طرح سے چیٹ کیا ارحام کو۔۔۔”
لبابہ کی انگلیاں عُشنا کے بالوں میں تھیں جب اس نے بات کرنا شروع کی۔۔۔وہ عشنا کی بات سن کر کہیں اور ہی چلی گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے منہ سے وہ الفاظ نکلے جو وہ نہیں کہنا چاہتی تھیں۔۔۔
“بیٹا چیٹ کرنا ان لوگوں کے خون میں شامل ہے۔۔ جیسا باپ۔۔۔ ویسا ماں،،
اور اب وہ۔۔۔”
“تو میں کیوں نہیں ہوں ایسی۔۔۔؟؟”
“کیونکہ تم اس گھمنڈی کی بیٹی ہو۔۔۔ میری بیٹی ہو۔۔۔ ہم مرتے مرجائیں پر دھوکا نہیں کر سکتے عشنا۔۔۔ محبت ایک بار ہوتی ہے اس میں بھی دھوکا۔۔۔؟؟”
انہوں نے مسکراتے ہوئے عشنا کی طرف سر جھکا کر دیکھا تھا پر آنکھوں سے سے بہتے آنسو عشنا کے ماتھے پر گرنا شروع ہوئے تھے۔۔۔
“تم میری بیٹی ہو عُشنا۔۔۔اس شخص کی نہیں۔۔۔ تم میری بیٹی ہو۔۔۔”
عشنا کے ماتھے پر اپنا بھیگا چہرہ رکھ کر انہوں نے آنکھیں بند کرلی تھیں تو عشنا کی آنکھوں سے وہی آنسو بہہ نکلے تھے ماں کو خانوشی سے روتے دیکھ کر۔۔۔
۔
“ماما۔۔۔”
“وہ شخص سب کردیتا پر بےوفا نہ کرتا عُشنا۔۔۔
عورت کو مرد کی دولت شہرت پیسے پر غرور نہیں ہوتا۔۔۔
جتنا ایک بیوی کو اپنے مجازی خدا کی وفا اور غیرت پر ہوتا ہے۔۔۔
میں یہی سوچتی رہی کہ وہ میرا ہے بس میرا۔۔۔بعد میں پتا چلا وہ سب کا تھا سوائے میرے۔۔۔
میری اپنی دوست میرے شوہر پر ڈورے ڈالتی رہی اور مجھے پتا نہ چلا۔۔۔ میرا شوہر محبت کے وعدے نبھاتا رہا اس سے مجھے پتا نہ چلا۔۔۔ میرے سامنے میرا ہنستا بستا گھر کرچی کرچی ہوتا چلا گیا مجھے پتا نہ چلا۔۔۔
پتا چلتا بھی کیسے۔۔؟ کبھی وہم و گماں میں آیا ہی نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایسا کچھ بھی ہوجائے گا۔۔
ایسے شک کیسے ایک ہاؤس وائف کے ذہن میں آسکتے ہیں جس نے ہمیشہ اپنے شوہر کو اپنا مجازی خدا سمجھا ہو۔۔؟؟
میں کیسے شک کرتی کسی پر بھی۔۔؟؟ میں تو آگے کی تیاریاں کر رہی تھی عُشنا۔۔۔
ہمارے آنے والے بچوں کے خواب دیکھ رہی تھی تمہارے چھوٹے بہن بھائیوں کے۔۔۔
پر میرا تو وہ سب بھی چھین لیا گیا مجھ سے جو صرف میرا تھا۔۔۔”
۔
عشنا نےاٹھ کر انہیں اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔
“آپ کو ایک بات کہوں ماما۔۔۔؟؟ انہیں معاف مت کیجیے گا،،،، محبت میں دھوکا دینے والوں کو دوسرا موقع نہیں دینا چاہیے،،،”
“نہیں دوں گی دوسرا موقع عُشنا وہ شخص ایک موقع کا حقدار بھی تب ہوتا جب تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ہوتا۔۔پر اب نہیں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم بھائی ابھی بیٹھ جائیں یہاں آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔”
“مجھے امی سے ملنا ہے ابھی تک وہ واپس کیوں نہیں آئی۔۔؟؟”
انہوں نے پانی کا گلاس پکڑ کر واپس میز پر رکھا تھا۔۔۔
“وہ آجائیں گی آپ بتائیں تو سہی سب ٹھیک ٹھاک ہے۔۔؟؟ کیا ہوا ہے کیون اتنے پریشان لگ رہے ہیں۔۔۔”
“میں ابھی کچھ نہیں بتا سکتا شمع۔۔۔بس میں تم لوگوں کو لینے آیا ہوں۔۔۔”
“اور تمہیں لگتا ہے ہم واپس جائیں گے ضیشم۔۔؟؟”
انکی والدہ کی آواز نےانکی ساری امیدں توڑ دی تھیں وہ اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہے تھے
“امی میں بہت اکیلا پڑگیا ہوں۔۔اگر آپ لوگ ابھی میرے ساتھ نہیں چلیں گے تو میرے جنازے پر آنے کا ہی فون آئے گا آپ کو۔۔۔”
وہ آہستہ آواز میں کہہ کر وہاں سے اٹھ گئے تھے۔۔۔ جیسے ہی وہ اپنی والدہ کے پاس سے سر جھکا کر گزرنے لگے تھے انکا ہاتھ پکڑ لیا تھا انکی امی نے۔۔۔
“شمع بیٹا پیکنگ کرلو۔۔ہم چل رہے ہیں۔۔۔ضیشم ہوا کیا ہے بتاؤ مجھے۔۔۔”
“امی۔۔۔ لبابہ کو عُشنا کو واپس گھر لیکر آنا ہے آپ سے میری آخری خواہش سمجھ لیں اور۔۔۔”
کہتے کہتے انکے سر میں ایک درد ہوئی تھی اور وہ وہیں بےہوش گر گئے تھے،،،
“ضیشم۔۔۔ میرے بچے شمع رؤف پانی لاؤ۔۔۔ڈاکٹر کو فون کرو۔۔۔۔”
ضیشم کا سر اپنی گود میں رکھے وہ زور زور سے چلائی تھیں۔۔۔۔ضیشم صاحب کے ماتھے سے پسینہ وہ اپنے دوپٹے کے پلو سے صاف کر کر رہیں تھیں۔۔۔
بہت سال پہلے انہیں پتا تھا ایک دن ایسا بھی آئے گا۔۔۔
“بس ایک بار بیٹا آنکھیں کھولو۔۔میں کیسے بھی کر کے ان دونوں کو واپس تمہاری زندگی میں لے آؤں گی۔۔۔میرے بچے ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام پچھلے دو دن ہوگئے ہیں آفس نہیں جا رہے ہو۔۔؟؟”
“ابراہیم صاحب جیسے ہی اپنی کرسی پر آکر بیٹھے تھے سب نے ناشتہ شروع کیا تھا۔۔
“ہاں ارحام بیٹا خیریت ہے۔۔۔؟؟”
چاچو کی آواز پر ارحام نے اپنا چہرہ انکی جانب کیا تھا
“جی سب خیریت ہے۔۔۔”
“ارے کہیں نکال تو نہیں دیا تمہیں نوکری سے۔۔؟؟ ارحام کہو تو میں اپنی کمپنی میں بات کروں۔۔؟ گیٹ کیپر کی یا سیکیورٹی گارڈ کی تو جاب دلوا ہی سکتا ہوں تمہیں۔۔”
مننان کی بات نے قہقہ لگانے پر مجبور کردیا تھا کچھ شرارتی کزنز کو
“مننان بھائی جب اسکی ضرورت محسوس ہوگی میں تب بھی ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا آپ کے آگے نوکری کے لیے۔۔۔”
وہ طیش میں اپنی کرسی سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
“ارے ارحام بھائی کو غصہ بھی آتا ہے۔۔؟؟”
“ہاہاہا ارحام مذاق کر رہا تھا میں چھوٹے بھائی۔۔۔”
“یا رائٹ۔۔۔ مجھے نیچا دیکھانا آپ کو مذاق لگتا ہے مننان بھائی۔۔؟؟”
ارحام کی بات نے مننان کو بھی سیریس کردیا تھا ارحام جو ہر انسلٹ کو ہمیشہ اگنور کرجاتا تھا آج بڑے بھائی کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
“ارحام آواز نیچی رکھ کر مجھ سے بات کرو۔۔۔”
“بس مننان۔۔۔۔”
“ابو اسے کہیں دیکھیں کیسے دیکھ رہا ہے۔۔۔”
“شروع بھی تم نے کیا تھا مننان۔۔۔”
اسمارہ بیگم نے بھی ارحام کی سائیڈ لی تھی
“واہ امی ابو جب سے ارحام کی منگنی اس بڑے گھر میں کیا ہوگئی آپ دونوں تو اسی کی سائیڈ لیتے ہیں۔۔۔”
“مننان پلیز۔۔۔۔”
“اوووہ تو اب میری بیوی بھی تمہاری سائیڈ لے رہی ہے۔۔۔”
مننان نے فلذہ کا ہاتھ بھی اپنے کندھے سے ہٹا دیا تھا۔۔۔
“آپ نے جو واویلا مچایا ہوا ہے بڑے گھر کا۔۔میں منگنی توڑ چکا ہوں۔۔میرے ہاتھوں میں کوئی انگوٹھی نظر آرہی ہے آپ کو۔۔؟؟”
ارحام نے اپنے دونوں ہاتھ دیکھا کر سب کو شوکڈ کردیا تھا۔۔۔
“ارحام۔۔؟”
“جی ابو میں منگنی ختم کرچکا ہوں۔۔۔۔آپ کی اطلاع کے لیے ارض ہے مننان بھائی میں نے رشنا سے اپنا رشتہ ختم کردیا ہے۔۔۔ اب آپ خوش ہوجائیں۔۔کیونکہ میں بھی بہت خوش ہوں۔۔۔”
ارحام جانے لگا تھا جب فلذہ کی بات سن کر رکا۔۔۔
“کیا وہ بھی اپنی بڑی بہن کی طرح نکلی ارحام۔۔؟ وہ بھی بنا بتائے چلی گئی کہیں۔۔۔؟؟”
ارحام کو ایک تکلیف ہوئی تھی اس بات پر۔۔عُشنا کے منگنی چھوڑ جانے کے طعنے شاید ہمیشہ ملتے رہیں اسے۔۔۔وہ مان چکا تھا اس بات کو۔۔۔۔
“اسکی بڑی بہن بنا بتائے کہیں نہیں گئی تھی فلذہ بیٹا۔۔۔جس دن منگنی تھی اسی دن لبابہ کو ایمرجنسی لے جایا گیا تھا۔۔۔
عُشنا کو ایک فون کال نے اتنا مجبور کردیا تھا کہ اس نے اپنی خوشیاں چھوڑ کر اپنی ماں کی محبت کو زیادہ اہمیت دی۔۔۔۔ارحام بیٹا۔۔۔تمہیں گلہ تھا اسی طرح ہم سب کو بھی گلہ تھا۔۔۔
اور ساری زندگی ہم بدظن بھی رہتے عُشنا سے۔۔۔پر لبابہ نے سب حقیقت سامنے رکھ دی تھی۔۔۔”
اسمارہ بیگم نے یہ باتیں کر کے فلذہ کی بولتی بھی بند کردی تھی ارحام اپنی جگہ سے ہل نہیں پایا تھا۔۔۔
“ارحام بیٹا۔۔۔اس وقت تمہیں رشنا سے منگنی کا کہہ کر میں نے بہت بڑی غلطی کردی تھی بیٹا۔۔۔ ہماری اس غلطی کی وجہ سے عشنا جیسی لڑکی چلی گئی تمہاری زندگی سے۔۔۔”
ابراہیم صاحب ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھ چکے تھے جب ارحام نے انکا وہی ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔
“ابو۔۔۔ جو قسمت میں لکھا ہو وہی ہوتا ہے۔۔۔ مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔۔۔”
ارحام نے کہہ تو دیا تھا پر وہی جانتا تھا اسے کتنا پچھتاوا تھا اس گھمنڈی کو کھو دینےکا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔”
“واااووووو شئی از ہوٹ۔۔۔۔”
ریسیپشن پر پڑی میگزین کو اٹھا کر شہوار نے ایک نظر دیکھا تھا
“عُشنا ضیشم سچ میں بےحد خوبصورت اور ہوٹ۔۔۔”
“ہو دا ہیل آر یو۔۔۔؟؟؟”
ارحام نے وہ میگزین کھینچ لیا تھا اسکے ہاتھ سے جیسے اس کا خون جلنے لگا تھا ۔۔
“اووہ بھائی ۔۔”
“بی ہیو یور سیلف مسٹر۔۔۔۔”
“پر میں نے کیا غلط کہہ دیا۔۔؟ وہ اگر ہوٹ لگ رہی تو۔۔۔”
ارحام نے اس کا گریبان پکڑ کر اسے اسکی کرسی سے اٹھا لیا تھا۔۔۔
“مجھے مار پیٹ اچھی نہیں لگتی۔۔اور اگر میں نے مار پیٹ شروع کردی تو تمہیں اچھی نہیں لگے گی۔۔”
“یہ کیا ہورہا ہے۔۔؟؟”
عشنا کچھ کلائنٹس کے ساتھ وہاں سے گزر رہی تھی جب اس کی نظر سامنے ہورہے سین پر پڑی۔۔
“ہائے عُشنا۔۔۔شہوار چوہدری کچھ یاد آیا۔۔۔؟ آپ کی موم کی دوست میری موم اریج۔۔۔”
شہوار نے ہاتھ آگے بڑھایا تو عشنا نے نہیں ملایا تھا۔۔۔
“میں ابھی مصروف ہوں مسٹر شہوار۔۔۔ایکسکئیوزمئ۔۔۔”
وہ ان لوگوں کے ساتھ اپنے کیبن کی طرف چل دی تھی بنا ارحام کی طرف دیکھے۔۔۔
۔
اور جب وہ وہاں سے چلی گئی تھی ارحام نے اپنی نگاہیں اٹھا لی تھی جو وہ چُرا رہا تھا۔۔جانے کیوں اس میں ہمت نہیں تھی اس گھمنڈی کی آنکھوں میں دیکھنے کی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما سیریسلی۔۔؟؟ آپ نے شہوار کو بھیجا آفس۔۔؟؟”
“ہاہاہاہ کیسا لگا سرپرائز۔۔؟؟”
“ہاہاہا ۔۔۔”
لبابہ کی ہنسی سن کر عُشنا بھی ہنس دی تھی۔۔لبابہ کو خوش دیکھ کر اسکی آنکھوں میں بھی ایک خوشی چھا جاتی تھی۔۔۔
۔
“اچھا اب آپ چاہتی ہیں میں اسے اپنے کیبن میں انوائیٹ کروں۔۔۔؟؟”
“جی۔۔۔وہ بھی ارحام کے سامنے۔۔۔میں دیکھنا چاہتی ہوں وہ زرا تو تڑپے جلے تمہارے لیے۔۔۔”
“ایسا نہیں ہونا چاہیے ماما۔۔۔”
عشنا نے کیبن کے مرر سے باہر دیکھا تھا جہاں ارحام اپنی فائلز پر کام کررہا تھا
“کیوں بیٹا۔۔؟؟ ارحام ایک اچھا لڑکا ہے۔۔جو ہوا اسے پچھتاوا ہے۔۔۔”
“ماما اگر وہ پچھتا کر رشنا کی سچائی جان کر میرے پیچھے بھاگتے ہوئے آیا نہ تو وہ جو اسکی عزت ہے نہ وہ بھی ختم ہوجائے گی۔۔۔
اس میں خودداری ہوگی تو وہ میرے پیچھے نہیں بھاگے گا۔۔ مجھے ایسا شخص نہیں چاہیے ماما۔۔۔
جب دوسرے راستے بند ہوئے تو میرے پاس آجائے گا یہ کیسا انصاف ہوا میرے ساتھ۔۔؟
میں ایسے شخص کو ڈیزرو نہیں کرتی۔۔۔ میں اب اسے اپنے ساتھ کسی بھی رشتے میں نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔
پر اتنا چاہتی ہوں کہ وہ اپنی خودداری کو پیروں کی دھول میں نہ اڑا دے۔۔۔”
ارحام نے جیسے ہی اوپر نظریں اٹھا کر دیکھا تھا عُشنا جلدی سے پیچھے چھپ گئی تھی۔۔۔۔
تیز دھڑکتے دل نے اسے کچھ اور ہی پیغام دیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
تھوڑی دیر بعد۔۔۔۔”
۔
“سر جب تک آپ مجھے اپاؤنٹمنٹ لیٹر نہیں دیکھا دیتے میں آپ کو اندر نہیں جانے دے سکتا۔۔۔”
ہاتھوں میں گلاب کے پھولوں کا گلدستہ پکڑے اس شخص کا راستہ روکا ہوا تھا ارحام نے
“تم جانتے ہو میں کون ہوں۔۔ جاؤ اندر جا کر عُشنا سے کہو میں انتظار کر رہا ہوں۔۔”
“میں آپ کو سچ میں نہیں جانتا آپ جو کوئی بھی ہیں آپ انہیں ایسے نہیں مل سکتے۔۔۔”
“ارحام عُشنا میڈم کو کال کرکے پوچھ لو نہ شاید کوئی سپیشل ہو۔۔”
ارحام کے کان میں ایک کالیگ کہتے ہوئے رک گئی تھی وہاں۔۔۔
“سپیشل۔۔؟؟”
“یس میں سپیشل گیسٹ ہوں۔۔۔ آج میں ڈیٹ پر لے جارہا ہوں تمہاری باس کو۔۔۔”
“یو۔۔۔۔”
ارحام نے اس کا گریبان پھر سے پکڑ لیا تھا جب کیبن کا دروازہ کھلا تھا
“چلیں شہوار۔۔۔؟؟”
عُشنا کی نگاہ شہوار پر تھی اور ارحام کی عُشنا پر۔۔۔ارحام نے شہوار کا گریبان چھوڑ دیا تھا اور پیچھے ہوگیا تھا۔۔۔
“اووہ آپ جانتی ہیں۔۔۔ایم سوری۔۔۔”
ارحام نے دو قدم آگے بڑھائے تھے۔۔۔
“مجھے سے نہیں ان سے سوری بولئیے جن کے گریبان تک آپ کا ہاتھ گیا مسٹر ارحام۔۔۔”
“یہ چھوٹے لوگ ہیں اٹس اوکے عُشنا کم چلیں۔۔۔”
شہوار نے وہ پھولوں کا گلدستہ آگے پیش کیا تھا عشنا۔۔۔
“تھینک یو سوو مچھ۔۔۔۔”
۔
عشنا شہوار کے ساتھ وہاں سے ایلویٹر کی جانب بڑھ چکی تھی۔۔۔۔
“گھمنڈی۔۔۔میں تو اپنی کہی بات پر پچھتا رہا ہوں۔۔۔پر تم کبھی اپنی کہی بات سے پیچھے نہیں ہٹو گی یہ بھی جانتا ہوں۔۔۔”
ارحام نے اپنی جیب سے دو رنگ نکال کر عُشنا کے کیبن کے باہر پڑی ڈسٹبن میں ڈال دی تھی۔۔۔
“حالات بگڑ بھی جائیں اگر۔۔۔
ہم دونوں بچھڑ بھی جائیں اگر۔۔۔
یادوں کے چاند شکارے پر۔۔۔
میں تم سے ملنے آؤں گا۔۔۔۔
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا۔۔۔
اس چاہت میں مر جاؤں گا۔۔۔
میں پھر بھی تم کو چاہوں گا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا آج کے ڈنر کے بعد میں کوئی امید لگاؤں عُشنا۔۔۔؟”
عشنا گاڑی کا دروازہ بند کر چکی تھی جب شہوار سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا
“بلکل نہیں۔۔۔ میں آج ڈنر پر بھی اپنی ماما کی ریکوسٹ پر گئی تھی۔۔۔”
“ہاہاہا ظالم لڑکی۔۔۔اوووہ سوری گھمنڈی دل ہی رکھ لیتی۔۔۔دل پہ وار کردیا۔۔۔”
شہوار نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا تھا۔۔۔
“گڈ نائٹ شہوار۔۔۔نائس میٹنگ یو۔۔۔”
عُشنا نے اپنی اپارٹمنٹ کی جانب جانا شروع کردیا تھا۔۔۔
“ویسے مس گھمنڈی میرا دل آگیا ہے تم پر۔۔۔”
وہ پیچھے سے چلایا تھا۔۔۔
“پر میرا دل کسی اور پر آچکا ہے بہت پہلے ہی۔۔۔”
عشنا کی بات سن کر شہوار کا ہنستا مسکراتا چہرہ سیریس ہوگیا تھا
“مجھے لگا ہی تھا مجھ جیسا ہینڈسم لڑکا ایسے ہی ریجیکٹ نہیں کر رہی تم۔۔۔ویسے ہے کون۔۔؟؟”
“وہی جس نے تم جیسے ہینڈسم لڑکے کے گریبان کو پکڑنے کی جرات کی تھی۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا سیریسلی۔۔۔؟؟ ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
شہوار کی ہنسنے کی آوازیں اسے اپارٹمنٹ کے دروازے تک آتی رہی تھی۔۔
اسکے چہرے پر بھی ایک مسکان تھی۔۔۔
“ارحام ابراہیم تیار ہوجاؤ گھمنڈی کو برداشت کرنے کے لیے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہت بہت مبارک ہو اسمارہ میں بہت خوش ہوں یار۔۔۔تم دادی بننے والی ہو۔۔۔مننان اور فلذہ کو میری طرف سے بہت مبارکباد دینا۔۔۔”
لبابہ نے کچھ سیکنڈ اور بات کرکے فون بند کردیا تھا۔۔۔
“عُشنا بیٹا آگئی تم میں کھانا گرم کرتی ہوں۔۔۔”
“آپ کس سے بات کررہی تھیں ماما۔۔؟؟”
“اسمارہ سے۔۔۔ فلذہ ایکسپیٹ کر رہی ہے وہ بہت۔۔”
“ماما میں آتی ہوں ابھی۔۔۔آپ کی گاڑی لے جاؤں۔۔؟؟”
“ہاں پر بیٹا اس وقت۔۔۔”
“بائے ماما۔۔۔بس کچھ دیر میں واپس آجاؤں گی۔۔۔”
عشنا انکے ماتھے پر بوسہ دے کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
وہ لڑکی جو اس رات فلذہ اور ارحام کی ادھوری محبت کی داستان سن کر ہنس رہی تھی جس ادھوری محبت کے طعنے اس نے ارحام ابراہیم کو دئیے تھے۔۔۔
آج اسے کیوں لگ رہا تھا اس نیوز سے ارحام کو بہت تکلیف پہنچی ہوگی۔۔۔
تیز سپیڈ میں وہ ابراہیم ہاؤس کے باہر تھی کچھ ہی منٹ میں۔۔۔۔
۔
“بہت بہت مبارک ہو بچوں۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے فلذہ اور مننان کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا ایک خوشی کا سما تھا وہاں سب خوش تھے۔۔۔
اور ایک کونے میں کھڑا وہ انسان اپنی سوچوں میں گم تھا۔۔۔
ان چند ماہ میں اس نے پایا کچھ نہیں تھا بس کھویا تھا۔۔۔
آج عُشنا کے شہوار کے ساتھ جاتے دیکھ وہ سمجھ گیا تھا کہ اسکے پاس پچھتانے کو بھی کچھ نہیں رہا۔۔۔
۔
“ارحام میرے بھائی ابھی تک ناراض ہو۔۔۔چاچو بننے والے ہو تم۔۔۔”
فلذہ ارحام کے سامنے نہیں ائی تھی دوسری طرف چلی گئی تھی وہ۔۔۔
“ارحام۔۔۔۔منہ میٹھا کرو۔۔”
مننان نے مٹھائی کی پلیٹ ارحام کے سامنے کی تھی۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو آپ دونوں کو۔۔۔”
وہ واپس اپنے کمرے کی طرف جانے لگا تھا جب وہ ایک آواز اسکے اور باقی سب کے کانوں میں گونجی تھی
“ارحام۔۔۔”
“عشنا بیٹا۔۔۔۔”
اسمارہ بیگم عشنا کو سب کے درمیان لے آئیں تھیں ۔۔
“بہت مبارک ہو آپ دونوں کو ۔۔۔”
“بہت شکریہ۔۔۔ مس عُشنا۔۔ہمیں اچھا لگا آپ یہاں آئی۔۔۔”
“دراصل میں ارحام سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں۔۔۔کین آئی۔۔؟؟”
“جی ضرور۔۔ہمارے روم میں لے جاؤ ارحام۔۔۔”
مننان نے ایک بار پھر سے روک دیا تھا۔۔۔
“نو اٹس اوکے مننان بھائی۔۔۔ارحام آپ کا روم کہاں ہے۔۔؟؟”
عُشنا کی بات پر وہی کزن پھر سے بےہوش ہوگیا تھا۔۔۔۔
“لگتا ہے سب ٹھیک ہوجائے گا ابراہیم۔۔۔”
“جی چلیں۔۔۔”
ارحام کے پیچھے پیچھے عُشنا نے سیڑھیاں چڑھنا شروع کئ تھیں۔۔۔
“مجھے بھی لگ رہا ہے۔۔۔بس اب کچھ غلط نہیں ہو۔۔۔”
۔
“عُشنا میم۔۔آپ اس وقت یہاں آئی خیریت تھی۔۔۔؟؟”
“مجھے ہیلپ چاہیے تھی۔۔۔”
عشنا کی زبان لڑکھڑا رہی تھی جھوٹ بولتے ہوئے۔۔۔ارحام کے روم میں وہ پہلے بھی آچکی تھی پر آج کا یہ احساس الگ تھا۔۔۔۔ایک نیا احساس۔۔۔۔ خاص کر فلذہ کے سامنے ارحام کے ساتھ اس روم میں آنا۔۔۔
“ہیلپ پر میم۔۔۔”
“عُشنا کہہ سکتے ہو ہم آفس میں نہیں ہیں ۔۔۔اور نیو پروجیکٹ کی پریزنٹیشن میری جگہ آپ کریں گے مسٹر ارحام۔۔۔”
وٹ۔۔۔؟؟؟”
ارحام پانی کا گلاس پیتے پیتے گرا چکا تھا۔۔۔عشنا کی موجودگی اسے اس قدر گھبراہٹ مین ڈال رہی تھی۔۔۔
“ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں تمہارے۔۔۔؟؟؟”
“نہیں تو۔۔۔نہیں کانپ رہے۔۔۔ میں نہیں دوں گا کوئی پریزیننٹیشن۔۔۔ اتنی کمپنیز ہوں گی وہاں۔۔۔ میں کیسے۔۔۔”
وہ بڑبڑاتے ہوئے بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔۔
“کیوں نہیں کر سکتے۔۔؟؟”
ان دونوں کے درمیاں کچھ قدموں کا فاصلہ ختم کیا تھا اس گھمنڈی نے۔۔۔
“میں نہیں کرسکتا عُشنا۔۔۔میں ابھی اس سٹیٹ میں نہیں ہوں۔۔۔ سب خراب کردوں گا۔۔۔میں۔۔۔”
عشنا کا نام بےتکلفی میں لینے کے بعد وہ کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔
“فلذہ کے پریگننسی تمہیں اداس کر گئی ہے۔۔؟؟ کیا آج بھی تم اسے بھلا نہیں پائے۔۔؟؟”
اسکی بات پر بھی ارحام پیچھے نہیں پلٹا تھا۔۔۔
“میرے ساتھ جو ہورہا ہے میں نے وہ سوچا نہیں تھا۔۔۔ آج تکلیف ہوئی ہے مجھے۔۔۔ میں حیران ہوںمیری زندگی کیوں ایسی ہوگئی ہے۔۔۔؟؟
وہ خوش ہے پر میں خوش کیوں نہیں۔۔۔؟؟؟”
بولتے بولتے منہ نیچے کیا تو عشنا اس کی بھیگی انکھیں ونڈو کے شیشے پر دیکھ چکی تھی۔۔۔
“تم نے کبھی خود سے نہیں پوچھا کہ تم خوش کیوں نہیں ہو۔۔؟؟”
اپنی انگلیوں پر ارحام کے رخصار سے گرتے ہوئے آنسو کو اس نے صاف کرلیا تھا۔۔۔
“دروازے پر کھڑی فلذہ اور دوسری کزن ان دونوں کی نزدیکیاں دیکھ کر شاکڈ رہ گئیں تھیں۔۔۔
“خود سے پوچھنے پر مجھے صرف اپنی شرمندگی کا اپنی ناکامی کا احساس ہوتا ہے
عشنا۔۔۔مجھے اس رات منگنی نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔
تمہارا انتظار کرنا چاہیے تھا۔۔۔میں نے اس رات بہت کچھ کھو دیا تھا تمہیں کھو کر۔۔۔”
ارحام نے عشنا کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا تھا۔۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
