51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

“سیریسلی ماما۔۔۔؟ ہاہاہا۔۔۔ آپ نے رشتہ دیکھ بھی لیا۔۔۔؟ صبح تک تو سب ٹھیک تھا۔۔۔؟؟ “
عشنا نے روم میں گرے ہوئے کشن اٹھا کر بیڈ پر رکھے تھے۔۔
“وہاں کانچ ٹوٹا ہے تم صفائی کو چھوڑو میری بات کا جواب دو بیٹا۔۔۔”
عشنا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بیڈ پر بیٹھا دیا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا ارے آپ تو فل غصے میں لگ رہیں ہیں ہوا کیاہے۔۔۔؟
اچانک سے میری شادی کی بات۔۔۔؟؟؟”
“اچانک سے نہیں۔۔۔ میں نے ہمیشہ ہی یہ خواب دیکھا تھا عشنا۔۔۔ وہ الگ بات ہے میرا کوئی خواب حقیقت نہ ہوسکا۔۔۔”
“ماما پلیز آپ کے سب خواب حقیقت ہوں گے۔۔۔ آپ میری شادی کروانا چاہتی ہیں تو ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔”
لبابہ کے ہاتھوں پر بوسہ دیا تھا عشنا نے۔۔۔
“پکی بات ہے کہیں لڑکے کا نام سن کر انکار نہ کردینا۔۔۔”
عشنا کی دھڑکن بند ہوئی تھی پر وہ لبابہ کے لیے ہونٹوں پر ہنسی لے آئی تھی اپنے۔۔۔۔
ارحام ابرہیم کے ساتھ ساتھ شاید اسکے نصیب نہیں جڑے تھے۔۔۔
“ہاہاہا نہیں کرتی ماما انکار۔۔۔ ویسے بھی عاصم کا نام تو سر فہرست ہوگا۔۔۔؟ ہاہاہاہا باقی آپ وہ شہوار کی بات کریں گی۔۔۔؟؟؟”
عشنا بیڈ سے اٹھ گئی تھی اپنی آنکھیں صاف کرلی تھیں اس نے پیچھے مڑکر۔۔۔۔
“نہ ہی عاصم ہے اور نہ ہی شہوار۔۔۔۔
میں ارحام سے تمہارے رشتے کی بات کررہی ہوں۔۔۔۔ اور میں چاہتی ہوں اسی مہینے منگنی کے بعد شادی ہوجائے عشنا۔۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟ ماما آپ۔۔۔۔”
“میں بات کر چکی ہوں ابراہیم بھائی سے۔۔۔۔ اپنے ڈیڈ کے لیے تو تم نے ایک بار ہاں کی تھی۔۔۔ اب اپنی ماں کی خوشی کے لیے ہاں کردو عشنا۔۔۔”
عشنا کو وہی لاجواب چھوڑ گئیں تھیں وہ۔۔۔۔
۔
“سیریسلی ماما۔۔؟؟ آپ مجھے فورس نہیں کرسکتی ہیں۔۔۔ وہ شخص ویسا ہی ہے جیسے ڈیڈ۔۔۔
آپ ہی کہتیں تھیں کچے کانوں کا مرد پکے رشتے نہیں نبھا سکتا۔۔۔
میں کیا اپنی زندگی میں وہ کروں گی جو ابھی تک نہیں کیا تھا ۔۔۔
جھکا دوں خود کو اسکے سامنے۔۔۔؟؟”
عُشنا نے چلاتے ہوئے ٹیبل پڑا انٹیک پیس شیشے پر دے مارا تھا۔۔۔
جس کا آدحسا حصہ پہلے ہی ایک گھمنڈی توڑ چکی تھیں اپنے غصے میں اور باقی کا عُشنا نے توڑ دیا تھا۔۔
اور اسی وقت روم کا دروازہ کھلا تھا پھر سے۔۔۔
“یا اللہ لڑکی۔۔۔ گھمنڈ میں میری کاپی کرنا چھوڑ دو کاپی کیٹ۔۔۔”
لبابہ بیگم زبان دیکھاتے ہوئے واپس بھاگ گئیں تھیں وہاں سے
“ماما۔۔۔۔ آپ سے ہی ملا ہے یہ گھمنڈ۔۔ اب نہیں ایدجسٹ کرپاؤں گی میں اسکے ماحول میں جس کے ساتھ آپ مجھے باندھنا چاہتی ہیں۔۔۔”
عُشنا بیڈ پر بیٹھ گئی تھی وہ مایوس بھی تھی اور کنفیوز بھی۔۔۔
پہلے کی بات اور تھی۔۔۔ پر اب اسے یقین ہوگیا تھا ارحام ابھی بھی اپنی پہلی محبت میں گرفتار ایک ناکام عاشق کی طرح تھا۔۔۔
وہ موو آن بھی کرے گا تو کسی کو دیکھانے کے لیے کسی کو جلانے کے لیے۔۔۔
میں پریکٹیکل لڑکی کیسے یہ سب برداشت کروں گی۔۔؟؟؟”
اس نے خود سے بات کر تے ہوئے پیچھے بیڈ پر گرا دیا تھا خود کو اوپر کی سیلنگ اسے وہ سب یاد دلا رہیں تھیں اس کمرے کی۔۔۔ وہ جب سے پاکستان آئی تھی۔۔۔
۔
“میں یہاں کیا کرنے آئی تھی۔۔؟ میرا مقصد دادی سے ڈیڈ سے مل کر واپس اپنی دنیا میں لوٹ جانا تھا پھر میں کیوں یہاں یہ سب کر رہی ہوں۔۔؟؟
۔
اگر میں کچھ دن یہاں سے واپس چلی جاؤں تو شاید ماما اپنا فیصلہ بدل دیں۔۔؟؟
ماریہ سے رابطہ بھی نہیں کیا۔۔ میں اس زندگی کے پیچھے اپنا وہ وجود وہ زندگی کیوں بھول گئی ہوں۔۔؟؟”
۔
“مجھے پاکستان سے جانا ہی ہوگا۔۔۔یہاں رہ کر کچھ بھی ٹھیک سے نہیں سوچ پاؤں گی۔۔۔”
عُشنا کچھ دیر وہاں سے اپنے کمرے میں جاچکی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“رحیم چچا وہ کچھ دن پہلے تو یہیں تھا۔۔؟ اب نظر ہی نہیں آتا۔۔۔؟؟”
ارحام نے اپنا بیگ کندھے سے اتار کر وہیں سگیٹ کیپر کی کرسی پر رکھا تھا اور خود وہ اسی پپی کو ڈھونڈنے لگا تھا جسے وہ یہاں کھانا یا دودھ دے کر جاتا تھا پر پچھلے کچھ دنوں سے شدید ٹینشن کی وجہ سے اسے کچھ بھی یاد نہیں رہتاہے۔۔۔ آج فرصت میں اس نے پوچھ ہی لیا تھا آفس کے سیکیورٹی گارڈ سے۔۔۔
“ارے بیٹا وہ تو کچھ دن پہلے ہی یہاں گاڑی کے نیچے آکر مر گیا تھا۔۔۔”
“گاڑی۔۔؟ کس کی گاڑی۔۔؟؟ کیا اسے کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لیکر گئے تھے۔۔۔؟؟”
“ہاہاہا ارحام سر۔۔۔ وہ ایک جانور تھا اب جس کی گاڑی کے نیچے آیا اس پر کیس تو کرنے سے رہے۔۔۔ اور اس جانور کے پیچھے ہسپتال لے جانے جتنا وقت کون ضائع کرتا۔۔؟؟”
ایک اور سیکیورٹی گارڈ نے مذاق اڑایا تھا۔۔ اور باقی بھی ہنس رہے تھے ارحام کے اس احمقانہ سوال پر۔۔۔
“ارحام بیٹا جانے دو اس بات کو کوئی بات نہیں۔۔۔”
ارحام کے غصے کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اسے سمجھایا تھا۔۔۔
“جانور وہ تھا۔۔ پر آپ تو انسان ہیں نہ۔۔؟؟ جانور کو جانور کہنے سے بےحس کیسے بن جاتے ہیں انسان۔۔؟؟
کیا فرق پڑجاتا اگر تھوڑی سی انسانیت ہم کسی جانور پر دیکھا دیں۔۔۔
اگر احساس ہے ہی نہیں تو ہم بھی کسی جانور سے۔۔”
“اوو ارحام بابو شرافت سے اندر چلے جائیں۔۔۔ لحاظ کررہا ہوں۔۔۔ تمہاری آفس میں کوئی حیثیت نہیں ہے ہم پر رؤب نہ جھاڑو۔۔۔”
وہ گارڈ غصے سے چلایا تھا۔۔۔ اندر جانے والے لوگ وہیں رک گئے تھے۔۔۔ جب ارحام کے پیچھے کھڑا وہ خاموش شخص بولا تھا
“آپ کو اندر رہنے والوں نے باہر آ کر بتایا تھا کہ انکی اندر کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔؟؟
اتنے ہی سمجھدار ہیں تو اندر ارحام کی جگہ میرے پرسنل سیکریٹری آپ کو ہونا چاہیے نہیں۔۔؟؟”
“عُشنا میم۔۔۔ میں بہت معذرت خواہ ہوں۔۔۔”
“نو نیڈ۔۔۔ ۔۔ مجھے میری اس بلڈنگ میں وہ لوگ نہیں چاہیے جو میرے سٹاف ممبرز کی عزت نہیں کرتے ہوں۔۔۔
اندر والوں کی عزت ہی نہیں کرسکتے تو آپ ہیں کیوں یہاں پر۔۔؟؟
انکا حساب آج ہی کلئیر کرکے فارغ کردیا جائے انہیں۔۔۔۔”
عُشنا اندر آفس میں چلی گئی تھی۔۔۔
“اب جائے آپ بھی اندر۔۔ خوش ہوجائیں چلی گئی ہے میری نوکری۔۔۔”
وہ گارڈ ارحام کو اب بہت آہستہ سے کہہ کر گیا تھا۔۔۔
“رحیم چچا میں بات کرتا ہوں عُشنا میڈم سے آپ انہیں کہیں انکی نوکری کہیں نہیں جاتی۔۔۔”
ارحام اپنا بیگ اٹھا کر اندر چلا گیا تھا پر وہ آفس کے لوگ ابھی بھی وہاں گوسپ کررہے تھے۔۔۔
“ہاہاہا دیکھا میں نے کہا تھا نہ دونوں کے درمیان کچھ چل رہا ہے۔۔۔ سی دیکھا نہ۔۔؟؟”
“میں نے سنا تھا دونوں کی ایگینجمنت ہوگئی ہے۔۔۔ ورنہ ہماری گھمنڈی باس اور ارحام کے ساتھ کوئی سین۔۔؟ نوو وے۔۔ مس عُشنا کا اپنا سٹینڈرڈ ہے۔۔۔”
“ارے وہ تو ٹوٹ بھی گئی تھی۔۔۔ ضیشم سر کی دوسری بیٹی سے منگنی ہوئی تھی۔۔۔”
“ہاہاہاہا کہیں بہن نے تو بہن کے حق پر۔۔؟؟ ہاہاہاہا۔۔۔”
وہ چار ایمپلائے قہقے لگاتے ہوئے اندر چلے گئے تھے۔۔۔
“ان لوگوں کا کچھ نہیں ہو سکتا جس کی کمپنی میں کام کرتے ہیں انہی کے کردار کو بھی نہیں چھوڑتے کیچڑ اچھالنے میں۔۔۔”
۔
وہ واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“یہ آپ کی چائے میم اور یہ آج کی آپ کی میٹنگ کی فائل۔۔۔”
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔؟ مارکیٹنگ کی سیٹ پر ہو نہ تم۔۔؟؟ نام کیا ہے تمہارا۔۔؟؟”
عشنا نے اپنی کیز اور پرس ٹیبل پر رکھ دیا تھا پچھلے بیس منٹ سے وہ ارحام کا ویٹ اپنے کیبن میں کر رہی تھی۔۔۔
“میم وہ۔۔۔میرا نام۔۔ میم۔۔۔”
“ڈونٹ سٹیمپرنگ گرل۔۔۔ جو پوچھا ہے اسکا جواب دو۔۔”
اسکی آواز بہت سخت تھی اور سامنے کھڑی وہ لڑکی کانپنے لگی تھی
“میم ثانیہ۔۔۔ ارحام نے مجھے بھیجا تھا وہ دوسری فائلز کو مکمل کرنے میں بیزی تھا تو اس نے۔۔۔”
“گیٹ اؤٹ۔۔۔ اور بھیجو اس کو جس نے تمہیں نوکری پر رکھا ہے شاید۔۔؟؟”
یہ الفاظ باہر تک سنائی دئیے تھے اور پھر کپ ٹوٹنے کی آواز بھی۔۔ ارحام اٹھ کر عُشنا کے کیبن میں آیا تھا جلدی سے۔۔۔
“تم ٹھیک ہو ثانیہ۔۔؟؟” ارحام نے دروازے کے ساتھ وال پر چائے اور ٹوٹا ہوا کپ دیکھ کر کہا تھا۔۔۔
“پرانہ دوستانہ ہے یا پھر۔۔؟؟”
“اووہ ایم سو سوری میم۔۔۔”
ارحام آگے بڑھا تھا۔۔۔
“ایگزیکٹ کس لیے سوری بول رہے ہیں مسٹر ارحام۔۔؟؟ آپ کی بلاوجہ کی بحث سے گارڈ کی نوکری گئی یا اب مس ثانیہ کی نوکری چلے جانے پر۔۔۔؟؟”
ثانیہ جو ٹوٹا ہوا کپ اٹھا رہی تھی وہ پھر سے گر گیا تھا
“وٹ میم۔۔۔؟ پر میم میں نے ارحام کے کہنے پر۔۔۔ایم سوری میم عشنا۔۔۔ اس کمپنی نے مجھے جو سہولیات دی ہیں وہ مجھے کہیں اور نہیں مل سکتی۔۔ انفیکٹ مجھے تو آگے نوکری بھی نہیں ملے گی۔۔۔پلیز۔۔۔”
وہ ہاتھ جوڑ کر التجائیں کر رہی تھی اور ارحام اتنا زیادہ عشنا کے رؤڈ بی ہیویر سے وہ عشنا کو دیکھی جا رہا تھا جو غصہ اتار رہی تھی ثانیہ پر۔۔۔
“ثانیہ آپ جائیں یہاں سے۔۔۔”
“پر ارحام بھائی۔۔۔”
“پلیز آپ جائیں۔۔۔”
ثانیہ کا ہلکی آواز میں بھائی کہہ جانا اس گھمنڈی کو سنائی دے گیا تھا پر اس نے ظاہر نہیں کیا تھا۔۔۔
“اگر مجھ پر غصہ ہے کوئی شکایت ہے کوئی ناراضگی ہے تو مجھ سے کہیے۔۔۔”
ثانیہ کے باہر جاتے ہی ارحام عشنا کے ڈیسک کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“غصہ۔۔؟؟ ان پر کیا جاتا ہے جن سے کوئی امید وابسطہ ہو۔۔۔
شکایت ان سے کی جاتی ہے جو کچھ اہمیت رکھتے ہوں ہماری زندگی میں۔۔۔
اور ناراضگی۔۔۔؟؟ وہ صرف اپنوں سے کی جاتی ہے غیروں سے نہیں مسٹر ارحام۔۔۔”
وہ منہ میں آنے والا ہر وہ کڑوا لفظ بول رہی تھی جو ارحام ابراہیم کو چوٹ پہنچا رہا تھا۔۔۔
۔
“”درد پہلے سے ہیں زیادہ۔۔۔ خود سے پھر یہ کیا وعدہ۔۔۔
خاموش نظریں ۔۔۔۔ رہیں بےزباں۔۔۔””
۔
“اوکے۔۔۔میں کچھ نہیں ہوں تمہاری نظروں میں ۔۔میں نے تسلیم کرلیا۔۔ اگر سچ میں کچھ نہیں ہے درمیان تو کیوں نکال دیا اسے نوکری سے۔۔؟؟ کرنے دیتی میری بےعزتی اسے۔۔۔
سمجھ نہیں آتا تم سب کے سامنے پریٹینڈ کرتی ہو یا میرے سامنے مس گھمنڈی۔۔۔؟؟”
ارحام نے دونوں ہاتھ ڈیسک پر رکھ کر اپنا چہرہ آگے کیا تھا۔۔۔
۔
“”دور جاتا رہا پاس آتا رہا۔۔۔
خوامخوا بےوجہ خواب بنتا رہا۔۔۔””
۔
“تمہیں کیا لگتا ہے مسٹر ارحام۔۔۔؟؟ تمہیں کیا لگا تھا ۔۔؟؟ کہ سب تمہارے کنٹرول میں رہے گا۔۔؟؟ تم ایٹی ٹیوڈ دو گے اور میں برداشت کروں گی۔۔؟ یہ تمہاری زمہ داری تھی صبح کی چائے یہاں رکھنے کی فائلز رکھنے کی۔۔۔
تم کیوں اپنی حیثیت بھول جاتے ہو۔۔؟
اور باہر میں نے تمہاری سائیڈ نہیں لی تھی اس پوسٹ کو عزت دی تھی جو میرے انڈر ہے۔۔
تم عُشا ضیشم کے ملازم ہو اس ملازم کے ملازم نہیں ہو۔۔؟؟ یو انڈرسٹینڈ۔۔۔؟؟”
عُشنا بھی اپنے ڈیسک پر ہاتھ رکھے کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔ ان دونوں کے چہرے اتنے قریب تھے۔۔۔۔
جب کیبن کا دروازہ ناک ہوا تھا۔۔۔
“اب آپ جا سکتے ہیں اور دوبارہ چائے اور فائل آپ لیکر آئیں گے مسٹر ارحام ناؤ لئیو۔۔۔۔”
۔
ارحام نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گہرا سانس لیا تھا
“یو نو وٹ۔۔۔؟؟ تم جیسی تھی ویسی ہی رہو گی عشنا۔۔۔”
“کیسی تھی میں۔۔۔؟؟”
عشنا نے اور آگے چہرہ کرتے ہوئے پوچھا تھا
“گھمنڈی۔۔۔۔”
“تو گھمنڈی بولو نہ عشنا نہیں۔۔۔ناؤ آؤٹ۔۔۔۔”
۔
ارحام وہاں سے غصے میں چلا گیا تھا پر جاتے جاتے آفس کے اس شخص سے ٹکڑایا تھا جس سے اسکی کبھی نہیں بنی تھی۔۔۔
ہادی عبید۔۔۔
جس کی پوسٹ ارحام سے زیادہ ہائی رینک پر تھی اور اسی کا فائدہ اٹھا کر ہادی ارحام کو کوئی نہ کوئی مشکل ٹاسک دیتا رہتا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم۔۔۔ کہاں ہو تم فون کیوں بند تھا۔۔؟ کتنا پریشان تھے میں اور بچے۔۔۔”
ضیشم صاحب کو جو آواز اس پریشانی کے عالم میں ہمیشہ ٹھنڈک پہنچا دیتی تھی۔۔ آج یہ آواز سن کر انکی تکلیف میں مزید اضافہ ہورہا تھا۔۔
“فون کیوں کیا تابین۔۔؟؟”
“وٹ۔؟ مجھے پہلے میرے سوال کا جواب دیں کہاں ہیں آپ۔۔؟؟”
“ملک سے باہر ہوں۔۔۔ ابھی گھر نہیں آسکتا۔۔۔”
سر پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے چائے کا کپ واپس سائیڈ پر رکھا تھا۔۔۔
“ہاہاہا۔۔ جوک تھا یہ۔۔۔؟؟ باہر کے ملک میں پاکستانی نمبر بھی چلتے ہیں ضیشم۔۔؟؟
بیوقوف کسے بنا رہے ہیں آپ۔۔۔؟”
“ہاہاہا بیوقوف تو میں بنتا آیا ہوں تمہارے ہاتھوں تابین بھلا میں کیسے بنا سکتا ہوں تمہیں۔۔۔؟؟”
انکے لہجے میں نفرت اور آنکھوں میں ایک نیا غصہ تھا۔۔۔
“ضیشم یہ سب بھول جائیں۔۔ اب ہماری زندگی نہیں بچوں کی زندگی کے بارے میں سوچیں۔۔۔
اب ہمارے بارے میں سوچیں۔۔۔ رشنا اور ارحام کے رشتے کے بارے میں سوچیں۔۔”
رشتے کے بارے میں۔۔۔ وہ جو ہونے سے پہلے ٹوٹ چُکا ہے۔۔؟؟
مسئلہ پتا کیا ہے۔۔؟؟ ارحام کو سچ پہلے پتا چل گیا اور مجھے گئے تابین بیگم۔۔۔
رشنا کو بھی تم نے اپنے رنگ میں ڈھال ہی لیا نہ۔۔؟؟
کیسی ماں ہو تم۔۔۔؟”
“ضیشم یہ آپ کہہ رہے ہیں۔۔؟؟ آپ بتائیں آپ کیسے باپ ہیں آج اس بیٹی کو جو آپ کی لاڈلی ہوا کرتی تھی اسکے بارے میں آج آپ یہ باتین کررہے ہیں۔۔؟
کیسے باپ ہیں آپ۔۔؟؟ ایک بار بیٹی کے بارے میں نہیں پوچھا آُ کے بچے یہاں کتنے اکیلے ہو گئے ہیں۔۔۔”
“میں کیسا باپ ہوں۔۔۔؟؟” وہ اٹھ گئے تھے بستر سے۔۔۔اور اسی وقت دروازہ کھل گیا تھا انکی والدہ ناشتہ لیکر خود کھڑی تھیں کہ ضیشم صاحب نے اپنی آنکھیں نیچی کرلی تھی جب انکی آنکھ سے آنسو نکل آیا تھا ماں کی محبت دیکھ کر۔۔۔
“میں کیسا باپ ہوں۔۔؟ وہ کیسی بیٹی ثابت ہوئی ہے۔۔۔؟؟ ایک بیٹی نے اپنی ماں کی محبت میں اس منگنی کو رد کردیا وہ چھوڑ چھاڑ کر چلی گئی۔۔۔
اور یہ بیٹی جس نے کسی اور سے ملاقاتیں کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ ارحام پر مجھ پر کیا اثر پڑے گا۔۔؟؟”
غصے سے کہتے ہوئے انہوں نے اپنی والدہ کے لیے بیڈ پر جگہ بنا دی تھی جو بار بار انہیں یہی اشارہ کررہی تھیں کہ غصہ نہ کرو۔۔۔
“یہ آپ نہیں بول رہے لبابہ کی محبت بول رہی ہے۔۔ عُشنا کی محبت پھر سے جاگ گئی نہ ضیشم۔۔؟
اس بار گھر آنے سے پہلے فیصلہ کرکے آئیے گا کہ کون رہے گا آُ کی زندگی میں۔۔۔
ورنہ مجھے زیادہ دیر نہیں لگے گی گھر سے جانے میں اپنے بچو کو لیکر۔۔۔”
ضیشم چپ ہوگئے تھے۔۔۔ بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا لی تھی۔۔۔ انہیں پتا تھا تابین کی تیز چلاتی ہوئی آواز انکی امی کو بھی سنائی دے رہی تھی۔۔۔
اور ایسا ہی تھا انکی والدہ جن کا ہاتھ ابھی ضیشم صاحب کے کندھے پر تھا انہوں نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا تھا۔۔
انہیں پتا تھا جہاں فیصلے کی بات آئے گی ضیشم صاحب تابین اور اپنے بچوں کا انتخاب کریں گے جو وہ ہمیشہ سے کرتے آئے تھے۔۔۔
۔
“ہمم۔۔۔ تابین ٹھیک ہے جسے تم چاہو۔۔۔”
انکی دھڑکنیں اب تیز نہیں تھیں۔۔ اورد دوسری طرف تابین بیگم کے چہرے پر خوشی کی انتہا نہیں تھی۔۔۔ انہیں پتا تھا ضیشم آج بھی انکے کنٹرول میں ہے۔۔ انکا یہ ایموشنل کارڈ ہمیشہ کام آیا انکے۔۔۔
“رشنا کیا کہا تھا میں نے۔۔؟؟ تمہارے ڈیڈ ہمیں ہی آگے رکھیں گے ہمیشہ۔۔۔
تم بس اب تیاری کرو ارحام سے ہی تمہاری شادی ہوگی۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے پاس بیٹھی رشنا کو بتا ناشروع ہوئی تھیں۔۔ موبائل کان سے پیچھے کرکے۔۔
“ضیشم آپ نہیں جانتے آج آپ نے ہمارا ساتھ۔۔۔”
“تابین جیسے تم چاہو کرسکتی ہو۔۔۔تم گھر چھوڑ کر جانا چاہتی ہو تو جا سکتی ہو۔۔۔
بچے اپنی مرضی کرسکتے ہیں۔۔۔
دوسرے گھر کا ارینج کردوں گا میں۔۔۔
ویسے بھی اس گھر پر حق لبابہ اور عُشنا کا ہے۔۔۔ میں امی اور شمع کو اپنے ساتھ لے آؤں گا۔۔۔
اسی گھر سے عُشنا کی ڈولی اٹھے گی۔۔۔ اسکی شادی بھی ارحام کے ساتھ ہوگی۔۔۔”
۔
ضیشم صاحب نے والدہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیکر کر آج وہ باتیں کر ڈالی تھی جو شاید وہ اکیلے کبھی نہ کرپاتے۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔”
رشنا نے موبائل پکڑ کر کان پر لگایا تھا پر کوئی جواب نہیں۔۔۔ وہ تو فون ہی آف کرچکے تھے اپنا۔۔۔
“موم۔۔۔؟؟”
تابین بیگم بھیگے ہوئے چہرے سے وہیں شاکڈ بیٹھیں رہیں تھیں۔۔
“موم۔۔”
“تمہارے ڈیڈ نےہمیں ری جیکٹ کردیا ہے رشنا۔۔؟؟ ہمیں۔۔؟؟
یہ لوگ اب میری وہ سائیڈ دیکھیں گے کہ یاد رکھیں گے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تو کیا کہتے ہیں ابراہیم صاحب۔۔۔؟؟ لبابہ اپنی بیٹی کا رشتہ لیکر آئی ہے۔۔۔ اسی خوشی میں کہیں اور جوان نہ ہوجانا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔ لبابہ سچ میں۔۔۔ جب سے میں نے تمہارے آنے کا بتایا تھا اس دن سے ہی بالے کالے کر رہے ہیں۔۔ مونچھیں دیکھو زرا ایسے جوان بن بن کر گھوم رہے تھے پورے گھر میں۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ ہائے اتنا بڑا کرش تھا مجھ پر۔۔۔؟؟ بتا دیتے ہم دونوں دوتیں ارجسٹ کرلیتیں۔۔۔؟؟؟”
لبابہ نے اسمارہ بیگم کو آنکھ ماری تھی جس پر وہ دونوں اور کھلکھلا کر ہنسنا شروع ہوگئی تھی اور سامنے بیٹھے ابراہیم صاحب لیونگ روم سے باہر دیکھ رہے تھے یہ دونوں اتنا انکو شرمندہ کررہیں تھیں۔۔
“بیگم بس کریں۔۔۔ دیکھ لیں آپ کی دوست لائن مار رہی ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔ لائن۔۔؟ ضیشم سے میری نظر ہٹے گی تو۔۔۔”
لبابہ بیگم کہتے کہتے خاموش ہوگئیں تھیں۔۔۔
“جاؤ جاؤ۔۔۔ اب بات نہیں بدلو۔۔۔ یہ تو اسمارہ آگئی تھی درمیان میں۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے بات کو ٹال دیا تھا۔۔۔ پر لبابہ کے چہرے پر اب کوئی مسکراہٹ آنکھوں میں کوئی شرارت نہیں تھی
“کیوں ابراہیم صاحب اس عمر میں ہڈیوں کی سیٹنگ چینج کروانا چاہتے ہیں۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا بس کر جاؤ اسمارہ چہرہ دیکھو اپنے ڈرے ہوئے شوہر کا۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔”
وہ تینوں پھر سے اسی طرح ہنسی مذاق میں لگ گئے تھے۔۔۔ اور باہر گھر کے بچے اتنے بڑے لوگوں کو اس طرح ہنستے دیکھ کر حیران ہورہے تھے۔۔۔
“السلام علیکم۔۔۔ میم۔۔ آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا میم مت کہا کرو بیٹا۔۔۔”
ارحام نے آگے بڑھ کر پیار لیا تھا ان سے۔۔۔
“ارحام بھی انکے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔۔
“ارحام فریش ہوجاؤ سب ساتھ ہی ڈنر کرتے ہیں۔۔۔”
“جی ابو بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔”
ارحام اٹھ کر باہر جانے لگا تھا جب لبابہ بیگم کی بات پر رک گئے تھے اسکے قدم۔۔۔
“لڑکا بہت اچھا ہے مجھے تو بہت پسند آیا ہے ابراہیم بھائی۔۔۔ سوچا کہ آپ لوگوں سے بھی بات کرلوں۔۔۔ دیکھ کر بتائیے کیسا ہے۔۔۔؟؟”
لبابہ بیگم نے ان لوگوں کو اشارہ کردیا تھا وہ دونوں بھی سیریس ہوگئے تھے ۔۔۔
“لڑکا تو بہت خوبصورت ہے لبابہ۔۔۔ عُشنا کے ساتھ اچھا بھی لگے گا۔۔۔
ارحام بیٹا تم دیکھ کر بتاؤ نہ۔۔۔؟؟”
اسمارہ بیگم نے اپنے بیٹے کو پیچھے سے آواز دی تھی۔۔۔
“امی آپ لوگوں نے دیکھ لیا تو اچھا ہی ہوگا۔۔۔ عُشنا میڈم کے لیے۔۔۔”
اسکے لہجے میں اچانک سے غصہ آگیا تھا۔۔۔
۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ لبابہ۔۔۔ میرے بیٹے کو کھانے کے بعد بتا دیتی۔۔۔ اب ڈنر پر نہیں آئے گا۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔ تھوڑی تڑپ میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں اسمارہ۔۔۔ ہم لوگ اب ان بچوں پر سب نہیں چھوڑ سکتے۔۔۔۔۔”
۔
ارحام آج آفس میں گھمنڈی کے بےرکی سے اتنا ڈسٹرب نہیں ہوا تھا جتنا اس خبر نے اسے کردیا تھا
وہ بنا کسی کزن کی بات کا جواب دئیے اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔
۔
“””تم نہیں آپ۔۔۔آئندہ آپ کہہ کر بات کرنا۔۔تم ایک ہی دن میں اتنی گستاخیاں کر چکے ہو کہ اگر ایک اور کرو گے تو پچھتاؤ گے۔۔۔”””
۔
ارحام نے دروازہ بند کرکے سر رکھ لیا تھا۔۔۔پہلے دن کی ملاقات سے لیکر ہر ملاقات اس گھمنڈی کی ہر بات اسے ستانے لگی تھی۔۔
۔
“یادوں کی۔۔۔ پرچھائیاں۔۔۔ تنہائیاں۔۔۔ تم سے ہی ہیں۔۔۔
تم دل میں شریک ہوئے ۔۔آہستہ آہستہ۔۔۔
روح کے قریب ہوئے آہستہ آہستہ۔۔۔”
۔
“عُشنا ضیشم۔۔۔”
۔
اسکے لبوں پر بےساختہ ہنسی آگئی تھی وہ پہلی ملاقات کی کچھ یادوں پر۔۔۔ اپنی ٹائی اتار کر وہ بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔۔۔
۔
“تم سرپھری ہو پچھتاؤ گی تم دیکھ لینا۔۔۔”
“گھمنڈی ہوں۔۔۔پچھتانا میری فطرت نہیں۔۔۔پر تمہارا مقدر ضرور بنا دوں گی۔۔۔اس لیے اپنی شکل دوبارہ میرے سامنے مت لانا۔۔۔۔”
۔
“چاہتوں کا یہ جو سلسلہ ہے۔۔ خواہشوں کا یہ جو قافلہ ہے۔۔۔
تیری انجمن ہے۔۔۔ تجھ سے ملا ہے۔۔۔”
۔
“کیسے دیکھ سکوں گا تمہیں کسی اور کا ہوتے دیکھ کر۔۔۔؟؟ بہت دیر سے سمجھا ہوں خود کو۔۔۔”
آنکھیں بند کی تھی تووہ ایک آنسو آنکھ سے نکل کر گال سے نیچے گر گیا تھا۔۔۔ اور ارحام نے خود کو شیشے میں دیکھا تھا اٹھ کر۔۔
اور پھر اپنے بھیگے ہوئے چہرے کو۔۔۔
۔
“گھمنڈی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام تم نے سنا۔۔؟؟ عشنا کی شادی ہو رہی ہے۔۔”
“نہیں مننان بیٹا پہلے منگنی ہوگی وہ بھی بہت دھوم دھام سے۔۔۔”
ارحام اپنی کرسی پر آکر بیٹھ گیا تھا اور ڈنر شروع کردیا تھا سب نے۔۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو آپ کو آنٹی۔۔ ویسے ہمت والا ہوگا جو آپ کی گھمنڈی بیٹی سے شادی کرے گا۔۔۔اووپسس سو سوری۔۔۔”
رخسار کو سب گھر والوں نے غصے سے دیکھا تھا۔۔
“ہاہاہا اٹس اوکے بیٹا۔۔۔”
“ہمت والا مطلب۔۔؟؟ جس سے بھی عُشنا کی شادی ہوگی وہ بہت خوش نصیب ہوگا،،،
اور جہاں تک گھمنڈ کی بات رہی۔۔ لڑکیاں میں اتنا گھمنڈ تو ہونا ہی چاہیے رخسار۔۔
انکو وہ آسمان بننا چاہیے نہ کہ وہ زمین۔۔۔۔۔”
ارحام نے کھانا کھانا شروع کردیا تھا۔۔۔
وہ سب حیران ہوکر ارحام کو دیکھ رہے تھے اور ابراہیم صاحب اپنی بیوی اور لبابہ کو دیکھ رہے تھے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے۔۔۔
انہیں اب اس دن کا انتظار تھا جب یہ دونوں شادی جیسے پاکیزہ رشتے میں بندھ جائیں گے۔۔۔
۔
۔
ڈنر کے بعد اور بھی بہت سے ایسی باتیں ہوئیں تھیں جن پر ارحام کو بہت جلن ہوئی تھی۔۔ پر وہ چہرے پر مسکان سجائے ہر بات کو سن رہا تھا۔۔۔
لبابہ ڈنر کر بعد بہت ایکسائیڈڈ ہوکر وہاں سے اپنے اپارٹمنٹ میں آئیں تھیں۔۔۔
پر انہیں کیا پتا تھا ایک نیا سرپرائز تیار تھا انکے لیے۔۔۔
۔
۔
۔
۔
“عشنا بیٹا۔۔۔؟؟ میں جانتی ہوں تم مجھ سے ناراض ہو۔۔۔ پر میرا فیصلہ بھی غلط نہیں ہے۔۔۔
تم اپنی موم کے اتنا نہیں کر سکتی کیا بیٹا۔۔؟؟”
عشنا کے کمرے میں دیر رات کو وہ اس لیے آئیں تھیں کہ وہ جانتی تھی عُشنا کا غصہ اب ختم ہوچکا ہوگا۔۔۔۔
انہوں نے لائٹ جلائے بغیر عشنا کے بیڈ کی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔۔
اور بیڈ پر جا کر بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔
“بچے پلیز۔۔۔ ارحام کو ٹھکرا دینے کا مطلب ہے تم ایک اچھے انسان کو رشنا جیسے لوگوں کے ہاتھ کا کھلونا بنا دو گی۔۔۔
ٹھیک ایسی غلطی میں بھی کی تھی عشنا۔۔۔ مجھے اس وقت لڑنا چاہیے تھا تابین سے میں تو اسی روگ میں بیٹھی رہ گئی کہ میری محبت نے بےوفائی کردی۔۔۔ میں۔۔۔”
بات کرتے کرتے انہوں نے جیسے ہی کمفرٹ پر ہاتھ رکھا تھا تو وہاں انہیں کوئی بھی حرکت محسوس نہیں ہوئی تھی۔۔۔
اور جب سائیڈ لمپ جلا کر اس کمفرٹ کو ہٹا کر دیکھا تو اسکے اندر کشن تکیہ ایسے رکھے ہوئے تھے جیسے کو سو رہا ہو۔۔۔
لبابہ بیگم کھلے منہ کے ساتھ بیڈ کو پھر خالی بیڈ ک کو تکتی رہ گئیں تھیں۔۔۔
اور کچھ سیکنڈ بعد ایک ہی چیخ اپارٹمنٹ کے ملازمہ کو سنائی دی تھی۔۔۔۔
۔
“عُشنا ضیشم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
۔
لبابہ بیگم نے جیسے ہی کمفرٹ کو پیچھے پھینکا تھا ایک چٹ نکل کر نیچے گر گئی تھی۔۔۔
۔
“ہاہاہاہاہا اووووہ میری ماما۔۔۔؟؟ میرا نام اتنی اونچی لے دیا پوری بلڈنگ کو پتا چل گیا ہوگا کہ وہ گھمنڈی یہاں رہتی ہے۔۔۔
ہاہاہاہاہا اتنا غشہ میری پالی مومو کو۔۔۔؟؟ میں ابھی کے لیے واپس جا رہی ہوں۔۔۔ جلدی آجاؤں گی۔۔۔ پر کب یہ مت پوچھیے گا۔۔۔ آفس کا کام ساحر دیکھ لے گا۔۔۔
اور۔۔۔ آئی لووو یو۔۔۔۔
مجھے آپ وقت دیجیئے۔۔۔ آپ نے جو فیصلہ لیا ہے اس پر سوچنے کے لیے وقت دیجئے۔۔۔
اور پلیز۔۔۔۔ اپنے ٹماٹو جیسے لال سرخ چہرے کو کول ڈاؤں کیجئے۔۔۔ ویسے ہوٹ لگ رہیں ہوں مس گھمنڈی۔۔؟؟”
۔
نا چاہتے ہوئے بھی اس چٹ کو پڑھنے کے بعد لبابہ کے چہرے پر ہنسی آگئی تھی
۔
“تمہیں تو واپس آنے پر نہ میں ایک پل کے لیے بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دوں گی عُشنا۔۔۔ ارحام کے ساتھ تمہاری شادی کروانا ہی میری خواہش ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے میرے جانے کے بعد وہ تمہیں خوش رکھے گا۔۔۔”
۔
ایک گہرا سانس بھرا تھا انہوں نے۔۔۔ وہ جانتی تھی اب وقت بہت کم رہ گیا تھا انکے پاس۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عشنا میم ابھی تک آئی نہیں۔۔؟؟
ارحام نے آخر پوچھ ہی لیا تھا۔۔۔ یہ سب پھر سے ہورہا تھا۔۔ عشنا کا خالی کیبن اور وہ چئیر دیکھ کر اسے ایک عجیب سی بےچینی ہورہی تھی۔۔۔
“عشنا میم چھٹی پر ہیں مسٹر ارحام اور انکی غیر حاضری میں میں ہوں یہاں کا ہیڈ۔۔۔ اب سے آپ مجھے رپورٹ کریں گے۔۔۔”
ساحر اندر چلا گیا تھا اپنے کیبن میں۔۔۔ارحام کو شاکڈ چھوڑ کر۔۔۔
“سیریسلی۔۔؟؟ عشنا کو پتا تھا اس آدمی کے ساتھ میری نہیں بنتی پھر بھی اسے مسلط کرگئی ہیں میڈم۔۔؟؟”
ارحام نے سر پکڑ لیا تھا۔۔۔ عجیب ہی کشمکش میں پڑ گیا تھا وہ۔۔ کبھی عشنا کی کوئی بات اسے بہت اچھی لگتی تھی تو کبھی کوئی بات بہت زہر اور ان باتوں میں سے ایک بات یہ ساحر کو ہیڈ بنانے والی بھی تھی۔۔۔
۔
۔
اور اس دن کے بعد ساحر نے ہر طرح سے ارحام کو ذلیل کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔
وہ یہاں بھی ڈبل ڈیوٹی کررہا تھا اور اپنی جاب کی ٹائمنگ اس نے دوسری کمپنی میں بھی چینج کروا لی تھی۔۔۔
یہ دو نوکریاں اسکے لیے دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہیں تھیں۔۔۔
جہاں ساحر اسکے لیے مشکلات پیدا کرتا تھا ہر دن۔۔
وہیں دوسری جگہ دوسرا باس ارحام کی محنت اور لگن دیکھ کر اسی پرموشن کرچکے تھے۔۔۔
۔
۔
اور اب دوسرا مہینہ شروع ہوگیا تھا عشنا کو گئے ہوئے۔۔۔
اور کسی کو پتا بھی نہیں تھا۔۔۔ نہی ہی اس نے کسی سے بات کی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام آج آفس جلدی آسکتے ہو۔۔؟؟ میں چاہتا ہوں اس میٹنگ میں تم میرے ساتھ چلو۔۔۔
اور ہمارے اس پروجیکٹ کو تم ری پریزنٹ کرو۔۔۔ نو ڈاؤٹ تم نے جتنی محنت اس پروجیکٹ پر لگا دی ہے۔۔۔”
ارحام ساحر کے کیبن کے باہر تھا جب اسے کال آئی تھی۔۔۔
“اوکے سر وہاب۔۔ میں کوشش کرتا ہوں۔۔۔ میں ۔۔ آپ مجھے لوکیشن بتا دیجئے میں آجاؤں گا۔۔۔”
ارحام نے ایڈریس سن کر فون بند کردیا تھا اور
“مئے آئی کم ان سر۔۔۔”
“تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں اندر لاؤں میں۔۔؟؟”
ساحر نے غصے سے کہا تھا
“یہ فائل۔۔ اور مجھے کیا لئیو مل سکتی ہے۔۔؟؟”
ساحر کی بدتمیزی کو اگنور کرتے ہوئے ارحام نے پوچھا تھا۔۔
“ہاہاہا صبح صبح تمہارے ڈرامے شروع ہوگئے ارحام۔۔؟؟ تم جیسے لوگ کام کرتے نہیں ہو اور تنخواہ مانگنے۔۔۔”
“اننف۔۔۔ میں تمہاری نہیں اسکی عزت کو لیکر چپ ہوں جس نے تم جیسے بدتمیز کو اس پوسٹ پر بٹھا دیا۔۔۔ آئندہ بات کرنا تو تمیز سے کرنا۔۔۔ اور میں جا رہا ہوں لئیو پر جو کرنا ہے کرلینا۔۔۔”
وہ فائل پر ٹیبل پر رکھ کر نہیں مار کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہوٹل گریسن میں لے چلیں اس میٹنگ کے بعد گھر چلیں گے۔۔۔ ماریہ وہ فائلز لے آئی ہو آفس سے۔۔؟؟”
گاڑی میں بیٹھتے ہی عُشنا نے اپنی پرسنل سیکٹریٹری سے پوچھا تھا۔۔۔
“جی میم۔۔۔مجھے امید ہے یہ پروجیکٹ ہمیں ہی ملے گا۔۔۔ ساحر نے بہت محنت کی ہے اور ارحام۔۔۔”
“آئی ہوپ مجھے ڈسااپؤنٹمنٹ نہیں ہوگی۔۔۔ ورنہ رزلٹ آپ لوگ جانتے ہیں۔۔۔”
۔
۔
“تم گھبرا رہے ہو۔۔؟؟ کم آن مائی بوائے تم کرلو گے۔۔۔”
وہاب صاحب ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر میٹنگ روم میں لے گئے تھے اسے۔۔۔ جہاں اور بھی کمپنیز کے ڈیلیکیٹ موجود تھے۔۔۔۔۔
وہاں بس ایک کرسی خالی تھی۔۔۔ وہ کرسی
۔
۔
ارحام اتنے بڑے بزنس مین میں بیٹھ کر گھبرا گیا تھا۔۔۔ اور وہاب صاحب تھے کہ اسکی تعریف کرتے تھک نہیں رہے تھے وہ دوسرا پانی کا گلاس اٹھا چکا تھا جب دروازہ کھلا تھا۔۔۔
اور وہ پانی کا گھونٹ اسکے منہ سے باہر آتے آتے رہ گیا تھا۔۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟ گھمنڈی۔۔۔؟؟ کہیں یہ میرا یہاں ہونے کو کچھ اور ہی نہ سمجھ لے۔۔۔”
۔
ارحام سے زیادہ عُشنا اس وقت شاکڈ ہوئی تھی کہ ماریہ نے اسے بازو سے ہلایا تھا وہ اس قدر ارحام کو وہاں دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔۔۔
۔
“ماشاللہ۔۔۔ ہمیں یہ اعزاز ملا دا گریٹ ضیشم انڈسٹریز کی اونر سے ملنے کا۔۔۔”
وہاب صاحب نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔ بہت سے لوگوں سے گریٹنگز کے بعد سب ہی لوگ بیٹھ گئے۔۔۔
وہ گھمنڈی کو دیکھ کر سب حیرا ن ہورہے تھے اور وہ گھمنڈی ارحام ابراہیم کو جس میں اتنی ہمت نہیں تھی وہ اٹھ کر عشنا کو سلام بھی کر سکے باقی سب کی طرح۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“نو ڈاؤٹ آپ کی پریزنٹیشن بہت اچھی تھی مس عُشنا۔۔۔ پر یہ پروجیکٹ مسٹر وہاب کی کمپنی کو دیا جا رہا ہے۔۔۔ انکی کوٹیشن اور پریزینٹیشن ہمیں زیادہ اچھی لگی ہے۔۔۔”
“اٹس اوکے سر۔۔ بیسٹ کمپنی کو یہ پریجیکٹ جانا چاہیے۔۔۔”
بیٹر لک نیکسٹ ٹائم مس عُشنا۔۔۔”
وہاب صاحب نے بہت مغرور لہجے میں کہا تھا پر عُشنا کے ماتھے پر ایک بل نہیں پڑا تھا اسکی نظریں ارحام پر ہی تھی۔۔۔
وہ دیکھ رہی تھی کس طرح سب ارحام کو اٹھ اٹھ کر مل رہے تھے اسے مبارکباد دے تھے۔۔۔
آج اسکے ہاتھ سے یہ پروجیکٹ گیا اسے اپنی ہار پر نہیں۔۔۔
ارحام کی جیت پر ایک الگ ہی خوشی مل رہی تھی۔۔۔
اور وہ خود چل کر ارحام کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
“مسٹر ارحام بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ پریزنٹیشن بہت اچھی تھی۔۔۔ بیسٹ آف لک۔۔۔”
ارحام کے سامنے جیسے ہی اس نے ہاتھ کیا تھا ارحام کے سب ڈر ختم ہوگئے تھے جو اسے کچھ دیر پہلے لگ رہے تھے کہ عُشنا غلط نہ سمجھ لے اسے۔۔۔”
“مجھے آپ کے لوس پر دکھ ہو رہا ہے عُشنا۔۔۔ کیوں نہ آج ڈنر پر ہم یہ ڈسکس کرلیں کے اس پروجیکٹ کو ہم ساتھ مل کر بھی ۔۔۔”
وہاب صاحب نے آگے ہاتھ بڑھایا تھا ارحام نے اپنے ہی باس کو غصے سے دیکھا تھا۔۔۔
پر خاموش رہا تھا وہ۔۔۔
“بیٹر لک نیکسٹ ٹائم مسٹر وہاب۔۔۔”
عُشنا وہی لائن بول کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“ویل مسٹر ارحام۔۔۔ عُشنا میڈم کے انڈر کام کرکے بہت سیکھ گئے ہو۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔”
ماریہ نے اتنی اونچی کہا تھا کہ وہاب کو بھی سنائی دے گیا تھا سب۔۔۔
“وٹ۔۔۔ ارحام تم نے بتایا نہیں تم نے عُشنا کے لیے کام کیا تھا۔۔۔؟؟”
“سر میں ابھی بھی انکے لیے کام کرتا ہوں۔۔ اور یہ میں نوکری کرنے سے پہلے اپنی فائل پر مینشن بھی کیا تھا۔۔۔”
۔
ارحام وہا ب کو گہری سوچ میں ڈال کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اس راستے سے یا پھر اس ہوٹل سے ضیشم انڈسٹریز تک عُشنا کے چہرے سے وہ ہنسی جا رہی نہیں رہی تھی۔۔۔
وہ مسکان جو بار بار آرہی تھی کہ اسے ماریہ سے چھپانے کے لیے عُشنا نے گاڑی کی ونڈو سے باہر دیکھنا شروع کردیا تھا۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا اپنی ہار پر خوش تھی۔۔؟؟
وہ گھمنڈی آج ارحام کو ملتی ہوئی عزت دیکھ کر کیوں اتنا فخر محسوس کررہی تھی۔۔؟؟
کیا اس نے اپنی موم کا فیصلہ کھلے دل سے تسلیم کرلیا تھا۔۔۔؟؟
کیا وہ تیار تھی ارحام سے شادی کرنے کو۔۔؟؟”
۔
عُشنا کے بال جیسے ہی چہرے پر آگرے تھے اس نے موبائل فون نکال کر اپنی موم کو ایک ہی میسج کیا تھا۔۔۔
۔
“ایم ریڈی موم۔۔۔۔”
۔
۔
“ہم اسے کتنا معصوم سمجھتے تھے اور یہ ارحام کیا نکلا۔۔؟؟ ہم میں رہ کر ہماری ہی کمپنی کو دھوکا دیتا رہا۔۔؟؟
ساحر پچھلے دو مہینوں سے سہی کر رہا تھا ارحام کے ساتھ اسکی اوقات۔۔۔”
“کیا مطلب۔۔؟؟ ساحر نے کیا کیا۔۔۔؟؟”
۔
عشنا نے باقی کسی بات کو خاطر خواہ نہیں لیا تھا۔۔۔
“عُشنا میڈم۔۔؟؟ ارحام نے چیٹ کیا ہے ورنہ آج یہ پروجیکٹ ہمیں ملتا ہماری کوٹیشن کا پتا ہوگا ارحام کو۔۔۔
اس نے ساحر کو بھی دھوکا۔۔۔”
“میں نے یہ باقی کہانی نہیں پوچھی ساحر نے میرے بعد کیا کیا ارحام کے ساتھ وہ بتاؤ۔۔۔
اور ایک لفظ کی ہیرا پھیری نہ ہو ماریہ تم جانتی ہو مجھے۔۔۔ ناؤ سپیک۔۔۔”
۔
۔
آفس کے راستے تک ماریہ پھر خاموش نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
” میم میں نے وہ کوٹیشن۔۔۔ ان لوگوں سے کم بھیجی تھی۔۔ میری کوٹیشن کے قریب انکے نمبرز اس بات کا ثبوت ہیں ارحام نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔۔۔”
ساحر کیبن میں داخل ہوتے ساتھ ہی اونچی آواز میں بولا تھا۔۔۔
“آواز نیچی کرو اپنی۔۔۔ ارحام کے ساتھ میرے جانے کے بعد کیا کیا اور کس کی اجازت سے۔۔؟؟
کس کی اجازت سے تم نے اپنی اوقات اتنی جلدی بدل دی۔۔؟ تمہیں ایک سیٹ ایک عہدے پر بٹھا کر اس لیے گئی تھی کہ تم میرے اسسٹنٹ کو ہر دن ذلیل کرتے رہو۔۔ اوقات کیا ہے تمہاری۔۔۔”
عشنا نے وہ فائلز ساحر کے طرف پھینک دی تھی۔۔۔
“اور ایک الزام ارحام پر۔؟؟ تمہیں میں بےوقوف لگ رہی ہوں۔۔؟؟ مجھے لوگوں کی پہچان نہیں ہے۔۔؟؟
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اگلے دن۔۔۔۔۔۔”
۔
“مجھے نوکری سے نکال دیا گیا ہے سر۔۔؟؟ وجہ پوچھ سکتا ہوں۔۔؟؟
میری کل کی پرفورمنس کے باوجود۔۔۔؟؟”
ارحام نے اپنے ہاتھ میں وہ سائن ہوئے لیٹر کو پکڑے ہوئے جواب مانگا تھا۔۔۔
ارحام تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں واپس نوکری پر رکھ سکتا ہوں یہ جاننے کے بعد کہ تم نے اس کمپنی کے ساتھ چیٹ کیا ہے۔۔۔
یہ رہی وہ فائل جو انکی کمپنی کی ہے۔۔۔ اور یہ تمہاری فائل۔۔۔”
انہوں نے دونوں ہی ارحام کے آگے رکھ دیں تھی۔۔۔
“سر۔۔۔یہ۔۔۔ میری ہارڈ ورکنگ ہے وہ ساحر بدلا لے رہا ہے۔۔ غلطی میں تھی میں نے اپنے کیبن میں اس پروجیکٹ کی فائل کو رکھا تھا۔۔ سر میں بےقصور ہوں۔۔۔ آپ عشنا میڈم سے پوچھ سکتے ہیں۔۔۔”
ارحام کے ماتھے سے پسینہ ٹپکنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔ جس قدر بڑے الزام اس پر لگائے جا رہے تھے۔۔۔
“عشنا ضیشم۔۔۔؟؟؟ میری بات ہوچکی ہے۔۔۔ جس پر تم اتنے یقین سے کہہ رہے ہو اسی نے فون پر یہ سب ثبوت دئیر ہیں۔۔۔ اور مجھے وارننگ دی ہے اگر تمہیں نوکری سے نا نکالا تو وہ میری کمپنی کا فراڈ سب کے سامنے لیکر آئےگی۔۔۔ تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے اس کمپنی میں۔۔۔ جاؤ یار یہاں سے،،،،،
۔
وہاب صاحب نے پریشانی کے عالم میں منہ پیچھے کرلیا تھا اور ارحام اپنی محنت اور اپنی بچی کچی عزت کو لئیے اس آفس سے باہر آگیا تھا اسکے دل و دماغ میں ایک ہی نام چل رہا تھا گھمنڈی۔۔۔
۔
“اتنی نفرت عُشنا۔۔۔؟؟ تم سے میری کامیابی برداشت نہ ہوئی۔۔۔؟؟”
وہ اپنی بائیک کو وہیں چھوڑ کر اس تیز بارش میں اس راستے پر چل رہا تھا جو ضیشم انڈسٹریز کی طرف جاتا ہے۔۔۔
ارحام کے جانے کے بعد وہاب صاحب کے چہرے سے وہ اداسی ایک دم سے چلی گئی تھی اور انہوں نے اپنے موبائل سے ایک نمبر پر کال کی تھی۔۔۔
۔
“آپ کا کام ہوگیا ہے مس تابین۔۔۔۔ اب وعدے کے مطابق ضیشم انڈسٹریز میں سے وہ شئیر مجھے سیل کریں گی آپ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماریہ مجھے آ ج ہی ساحر سیزائن لیٹر یہاں چاہیے۔۔۔”
“میم پلیز ایک بار ایک موقع دہ دیں۔۔۔اور ایک بات اب اس پروجیکٹ کے بارے میں ارحام سے کوئی بات نہیں کرے گا۔۔۔ وہ محنت ارحام کی تھی۔۔۔ ساحر ایک چیٹ ایک فراڈ۔۔۔”
اور کیبن کا دروازہ کھل گیا تھا
“جسٹ واااوووو عُشنا ضیشم تمہارے بدلتے رنگوں نے تو جھے بھی دنگ کردیا ہے۔۔۔
اتنی جلن ہوئی تھی کل میری کامیابی سے کے تم نے اپنی اوقات دیکھا دی۔۔۔
عشنا اپنی کرسی سے اٹھ گئی تھی ارحام جیسے ہی اس فاصلے کو ختم کرکے اسکی کسری کے پاس کھڑا تھا۔۔۔
عُشنا کے بازو کو زور سے پکڑ کر ارحام نے اسے اٹھا لیا تھا اس کرسی سے۔۔۔
“وٹ دا۔۔۔ میم میں سیکیورٹی کو بلاؤں۔۔۔؟”
“نہیں آپ جائیں جاتے ہوئے دروازہ بند کر جائیے گا۔۔۔”
عشنا ن آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا تھا اسے ابھی ابھی تکلیف اپنے بازو پر نہیں ارحام کے الفاظ پر ہو رہی تھی۔۔۔
“تم جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟؟”
“جو تم سن رہی ہو۔۔۔ آنکھیں کیوں بند ہوگئی۔۔؟؟ دیکھو میری آنکھوں میں اور دیکھو تمہارے لیے میرے دل میں جو نفرت ہے عشنا ضیشم۔۔۔۔۔
اتنے رنگ بدلے تم نے۔۔۔ میں چپ رہا خاموش تھا۔۔۔”
ارحام نے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اسے اپنی جانب کیا تھا۔۔۔
“میں آخری بار پوچھ رہی ہوں ارحام۔۔۔ یہ بدتمیزی میں اس لیے برداشت کررہی ہوں تمہاری کہ ساحر نے جو کیا۔۔۔”
“ساحر نے جو کیا سو کیا تم نے جو کیا وہ تو حد تھی۔۔۔ تم سے میری ایک خوشی برداشت نہیں ہوئی نہ عُشنا۔۔۔؟؟
کیوں تمہیں خوشی ملتی ہے میرے گر جانے پر۔۔؟ کیوں اتنی جلن اتنا زہر ہے میرے لیے۔۔؟؟ میں تو تنگ بھی نہیں کرتا کسی کو۔۔ پھر کیوں ہر ایک کو بغض ہے میرے ساتھ۔۔؟؟
تم بھی ان لوگوں جیسی نکلی نہ جو ارحام کو ہمیشہ نیچے گراتے آئے۔۔۔”
ان دونوں کے چہرے اتنے قریب تھے۔۔۔ پر فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔
عُشنا حیران بھی تھی اور ارحام کے منہ سے نکلنے والے ہر لفظ اسے تکلیف پہنچا رہے تھے
اس گھمنڈی کو جس کے دل کو سب پتھر کہتے رہے آج اسکے دل میں درد ہورہا تھا سامنے کھڑے شخص کی باتیں سن کر۔۔۔
۔
“یو نو وٹ۔۔۔؟؟ اب تو مجھے لگ رہا ہے رشنا سے میری منگنی ٹوٹی نہیں تھی۔۔۔ تم نے محنت کی اسکے پیچھے بھی۔۔۔ تم کیسے کرلیتی ہو اتنا سب۔۔؟؟ اتنا کالا دل تمہارا۔۔۔؟؟
بتاؤ کیا میرا شک بھی سہی ہے میری اور رشنا کی منگنی۔۔۔”
اور اسے پیچھے دھکا دہ دیا تھا عشنا نے۔۔۔
اور اسکا ہاتھ اٹھ گیا تھا ارحام پر۔۔۔
وہ جو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی آج اس سے ہوگیا تھا۔۔۔۔
“تم جیسا گرا ہوا انسان ہی ایسی گری ہوئی سوچ رکھ سکتا ہے ارحام دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔”
ارحام کا منہ دوسری طرف تھا اس تھپڑ پڑنے کے بعد۔۔۔ عشنا نے منہ دوسری طرف کرلیا تھا۔۔۔
“وہاب سر نے مجھے سب بتا دیا۔۔۔ تھا تم نے جو آج میرے ساتھ کیا ہے نہ میں کبھی بھولوں گا نہیں۔۔۔”
۔
ارحام وہاں سے چلا گیا تھا پر دروازہ زور سے بند کرنے کے بعد۔۔۔۔
۔
“نفرت۔۔۔اور تم سے۔۔۔؟؟ میں تو تم سے محب۔۔۔۔”
وہ کہتے کہتے چپ ہوگئی تھی۔۔۔منہ جیسے ہی جھکا تھا وہ آنسو نیچے گرنا شروع ہوگئے تھے اسکے پاؤں پر۔۔۔۔۔
وہ گھمنڈی۔۔۔سر جھکائے کھڑی تھی۔۔۔
۔
“میں اس شخص کو آج اس الزام کے بعد ایسے جانے نہیں دوں گی۔۔۔”
“سیکیورٹی ارحام کو بلڈنگ سے باہر جانے مت دینا اور نہ ہی ساحر کو۔۔۔”
عشنا نے اپنا چہرہ صاف کیا تھا اور اپنے کیبن سے باہر چلی گئی تھی ساحر کے کیبن میں۔۔۔
“میم میں آپ کے کیبن۔۔۔”
“تمہیں سزا اس جھوٹ پر نہیں ملے گی۔۔۔۔ تمہیں سزا مجھ سے جھوٹ پر ملے گی اور اس کمپنی کے ساتھ دھوکا دڑی پر ملے گی ساحر۔۔۔”
وہ اسکا گریبان پکڑ کر اسے اس آفس سے باہر تک لے گئی تھی جہاں ارحام کو پہلے ہی دو گارڈ نے روک ہوا تھا وہ سب لوگ ہی بھیگ چکے تھے پر اس گھمنڈی کو پروا نہیں تھی۔۔۔
“اسے آفس کی گاڑی میں پھینکو اور ساتھ لیکر فالو کرو میری گاڑی۔۔۔”
ان لوگوں نے ساحر کو پکڑ لیا تھا اور دوسری گاڑی کی بیک سیٹ پر بٹھا دیا تھا۔۔۔
سب حیران تھے عُشنا کی آنکھوں میں ایک آگ تھی۔۔۔ اسے اتنا شدید غصہ تھا۔۔۔
“گاڑی میں بیٹھو،،،”
ارحام کے سامنے کھڑی اپنی کا گاڑی کا دروازہ کھولا تھا اس نے۔۔۔
“میں یہ آفس چھوڑ چکا ہوں۔۔ تم نے جس کورٹ میں مجھے لے جانا ہے۔۔”
عشنا نے فرنٹ سیٹ پر زبردستی اسے بٹھا دیا تھا اور خود بیٹھنے کے بعد گاڑی لاک کر دی تھی۔۔
“میں اس ہوا میں سانس بھی نہیں لینا چاہتا جس میں تم نے سانس لیا ہو۔۔۔”
۔
پر عشنا نے گاڑی اور تیز کر دی تھی۔۔۔ اتنی تیز کے کچھ ہی منٹ میں وہ وہاب انڈسٹریز کے باہر کھڑے تھے۔۔۔
گاڑی سے باہر آتے ہی ارحام کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تھا اس نے۔۔۔ اور ارحام کا ہاتھ پکڑ کر اسے اس آفس میں لے گئی تھی جیسے وہ مالک ہو اس جگہ کی۔۔۔
بنا کسی ڈر کے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ سب کیا بکواس ہے۔۔ ارحام۔۔؟ یہ۔۔”
“بکواس تم کرو گے اب۔۔ کیا کہا میں نے تمہیں ارحام کے بارے میں۔۔۔؟؟”
“ارحام یہ سب۔۔۔”
وہاب گھبرا گیا تھا اور گارڈ ساحر کو بھی اس کیبن میں لے آئے تھے۔۔۔
“مسٹر وہاب پنچ منٹ دے رہی ہوں ورنہ یہ باتیں تمہارے باپ کے سامنے ہوں گی اور تم جانتے ہو نقصان کس کا ہوگا۔۔۔”
“ارحام کو میں نے وہی بتایا جو تم نے مجھے کہا تھا فون پر۔۔۔ ارحام نے فراڈ کیا تھا۔۔۔”
“میرا نمبر کیا ہے۔۔؟؟ فون پر کال ریکارڈ دیکھاؤ۔۔۔؟؟؟”
عشنا اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
“وہ۔۔۔ وہ میں نے ڈیلیٹ کردیا۔۔ میں۔۔۔”
اور ایک ہی تھپڑ کی گونج وہاں گونجی تھی۔۔۔۔ وہاب کو جو تھپڑ اس گھمنڈی نے مارا تھا۔۔۔
“یو بچ۔۔۔۔”
وہ عشنا کی طرف جیسے ہی بڑھا تھا ارحام نے اسے اسکی گردن سے پکڑ لیا تھا اور اس شیشے کی ونڈو کے ساتھ پن کردیا تھا۔۔۔
“ایک اور لفظ اور میں ہر عزت اور حد پار کر دوں گا سر وہاب۔۔۔”
“یہی فون ہے نہ۔۔؟؟ کال ریکارڈ دیکھ لیتے ہیں۔۔۔”
عشنا نے اس موبائل کو جیسے پکڑا تھا وہ پاسورڈ پروٹیکٹ تھا۔۔۔
“پاسورڈ۔۔؟؟”
ارحام کی گرفت ہلکی ہوگئی تھی۔۔۔ اسے ڈر بھی لگ رہا تھا اسے غصہ بھی آرہا تھا عشنا پر اسکے اس بولڈ مووز پر۔۔۔
“8931۔۔۔”
عشنا نے موبائل کھول کر ایک ہی نام کو اونچی آواز میں پڑھا تھا۔۔۔
“تابین ضیشم۔۔۔۔ لاسٹ کال تیس سیکنڈ اور بہت سی کالز کا ریکارڈ۔۔۔
ایک کال پھر کرتے ہیں۔۔۔۔”
عشنا نے کل ملا دی تھی۔۔۔
“میں تمہیں کہا تو ہے ضیشم کے سائن کروانے کے بعد وہ شئیرز تمہیں ہی دہ دوں گی۔۔۔ ارحام اگر پھر سے آئے تو وہی کہنا جو میں نے بتایا تھا تمہیں۔۔۔”
اور عشنا نے ارحام کی طرف دیکھتے ہوئے وہ فون بند کردیا تھا۔۔۔
“وہاب یہ ہے وہ فراڈ۔۔۔ جس نے ارحام کا پروجیکٹ کاپی کیا تھا۔۔۔۔
کل تمہیں فائدہ ہوا تھا۔۔۔ اور آج مجھے ہوا ہے۔۔۔
کیونکہ یہ دونوں ہی میری کمپنی کے قابل نہیں تھے۔۔۔۔ مسٹر ارحام آج میں نے صرف ساحر کو میری کمپنی سے نکالنا تھا۔۔۔ پر اب میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ تمہارے ساتھ کمپنی کے جو بھی معاملات تھے انہیں میں ختم کرتی ہوں تم میری کمپنی سے آزاد ہو۔۔۔”
وہ جیسے ہی وہاں سے دروازے تک پہنچی تھی ارحام نے وہاب کو غصے سے اس شئشے کی ونڈو پر مارا تھا جس کے سر پر چوٹ لگ گئی تھی اور اسے تھپڑ مار کر نیچے پھینک دیا تھا۔۔۔
“لعنت ہے تم جیسے لوگوں پر۔۔۔وہ اپنا غصہ کبھی ساحر کو مار کر اتار رہا تھا۔۔۔
پر عشنا پر ایک بھی بات کا فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔
۔
وہ اپنے گارڈز کے ساتھ وہاں سے باہر آگئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
اس نے جو بھی اندر کہا سب سچ کہا تھا۔۔۔۔
آج اس کا فائدہ ہی تو ہوا تھا۔۔۔۔ پر اسکے دل کے نقصان کے بعد۔۔۔۔۔”
۔
۔
“وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنے فیصلے بتا چکے تھے سنا چکے تھے۔۔۔
پر انہیں کیا پتا تھا انکے گھر والوں نے انکے لیے جو سرپرائز تیار کر رکھا تھا اس سے وہ اب بھاگ نہیں سکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔