51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

“یہ ارحام ہے تمہارا بیٹا۔۔؟؟”
وہ ابھی بھی ہنس رہی تھیں
“چڑیل۔۔؟؟ جنگلی بلی۔۔۔؟؟”
عشنا نے جیسے ہی کہا تھا ارحام کی دھڑکنے تیز ہوگئیں تھی۔۔۔
وہ جیسے ہی پیچھے مڑا تھا اسکے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔۔تم ہو کیا۔۔؟؟ آفس میں تو بچے کی جان چھوڑتی نہیں ہو گھر میں بھی منڈلا رہی ہو۔۔۔؟؟”
ارحام سیڑھیوں پر بیٹھ گیا تھا سر پکڑ کر۔۔۔
“تم بچے ہو۔۔۔؟؟ ابھی تو بس آفس میں دن گننا شروع کردیں آپ مسٹر ارحام۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ اب میرے بیٹے کی ٹینشن میں لینا چھوڑ دوں بیٹا۔۔۔؟؟”
ابراہیم نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
عشنا کے چہرے پر ہنسی دیکھ کر ارحام کے چہرے پر ایک مسکان آگئی تھی اس وقت۔۔۔
اس نے جیسے ہی عشنا کی آنکھوں میں دیکھا تھا عشنا نے اپنا چہرا جھکا لیا تھا۔۔۔
آج اس شخص کے دیکھنے میں ایک الگ کشش تھی جو پہلے محسوس نہیں کی تھی عشنا نے۔۔۔
۔
“مجھے کیوں لگ رہا ہے میری گھمنڈی بیٹی شرما رہی ہے۔۔۔؟؟”
عشنا نے شاکڈ سٹیٹ میں نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا تھا جہاں ارحام بھی اتنا ہی شاکڈ تھا۔۔۔
“سیریسلی ماما۔۔؟؟ “
“ہاہاہا اوکے سوری بیٹا۔۔۔”
“آپ لوگ پلیز بیٹھیں۔۔۔ارحام بیٹا فریش ہوکر آجاؤ نیچے۔۔۔”
“جی امی۔۔۔بس ابھی آیا۔۔۔”
ارحام ایک نظر عشنا کو دیکھ رکر وہاں سے چلا گیا تھا
“مجھے کیوں لگ رہا ہے یہاں کچھ ہورہا ہے۔۔؟؟”
کزن کی بات پر فلذہ کی نے جاتے ہوئے ارحام کو دیکھا تھا۔۔۔
اسے ابھی بھی سمجھ نہیں آیا تھا ایک انجان عورت کے ساتھ عشنا کا اس گھر میں آنا۔۔۔
اور اب ارحام کے چہرے پر وہ مسکان جا نہیں پا رہی تھی جس کی وجہ وہ گھمنڈی تھی۔۔۔
“لگنا کیا ہے صاف ظاہر ہے دونوں میں ابھی بھی کچھ ہے منگنی ٹوٹ جانے کے بعد بھی۔۔۔۔”
ایک اور کزن کی سرگوشی پر فلذہ نے واپس اپنے کمرے میں جانا بہتر سمجھا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔ ۔ ۔ “آپ کو سمجھنا ہوگا موم وہ میرا ہے۔۔۔اور وہ کمپنی بھی ہماری ہے۔۔ کیسے وہ عورت اتنی زیادہ بکواس کرگئی اور آپ سنتی رہیں۔۔۔؟” رشنا نے باقی کی پلیٹ بھی گرا دی تھی ڈائننگ ٹیبل سے۔۔۔ “آپ کو یہی وقت ملا تھا رشنا آپی۔۔؟ ڈنر کرنا تھا ہم نے۔۔۔” “تمہیں ڈنر کی پڑی ہے یو ایڈیٹ۔۔۔” چھوٹے بھائی کو غصے سے دیکھا تھا “تم ٹھوس لو۔۔۔کھا لو کھانا صبح تو نصیب نہیں ہوگی نہ تمہیں۔۔۔؟؟” “شٹ اپ رشنا۔۔۔یہ کیسی زبان استعمال کر رہی ہو گھر میں۔۔۔؟؟؟” ضیشم صاحب نے اپنا بیگ ملازم کو پکڑا دیا تھا جو پانی کا گلاس لیئے کھڑا تھا وہاں۔۔۔ “آپ کب آئے ضیشم۔۔۔۔؟” “حیران مت ہو تابین۔۔۔۔ کب سے وہ اس طرح کر رہی ہے اور تم کچھ کہہ نہیں رہی اسے۔۔۔۔؟؟” رشنا چپ ہوگئی تھی والد کی ڈانٹ پر۔۔۔ “وہ بچی ہے غصے میں ہے۔۔۔۔” “ہر روز غصہ۔۔؟ کبھی آفس میں اس طرح کی شکایات تو کبھی گھر میں۔۔۔ آج کیا وجہ ہوئی ہے غصے کی۔۔؟ آج بھی کہہ دو عشنا نے کچھ کیا۔۔۔” طنزیہ کہتے ہوئے اپنی ٹائی اتار دی تھی انہوں نے۔۔۔۔ “آج اسکی وجہ سے ڈیٹ خراب ہوگئی میری۔۔۔۔ ابھی ریسٹورنٹ میں پہنچے ہی تھے کہ میڈم کی پی اے نے فون کردیا تھا ارحام کو۔۔۔۔” “اوکے۔۔۔۔ ” وہ صوفہ پر بیٹھ گئے تھے “اوکے۔۔۔؟؟ جسٹ اوکے ڈیڈ۔۔۔؟؟؟ شئ از ڈسٹروئنگ مائی ریلیشن شپ ود مائی فیانسی۔۔۔” رشنا کی آنکھیں بھر آئیں تھیں “وہ میرا رشتہ خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے ڈیڈ ارحام کے ساتھ۔۔۔” رشنا ایک بار پھر سے چلائی تھی اور اوپر روم میں بھاگ گئی تھی۔۔۔ وہاں سب کو پریشان چھوڑ کر۔۔۔۔۔ “ضیشم۔۔۔۔” “تابین ایک اور لفظ مت کہنا۔۔۔میں عشنا سے کوئی بات نہیں کروں گا۔۔۔ اب اسکی ماں نے میرا گریبان پکڑ لینا ہے اور میرے سوال پر مجھ سے سوال کر دے گی کہ عشنا کے جانے پر بیٹی کو ڈھونڈنے کے بجائے مجھے کیوں اتنی جلدی تھی دوسری بیٹی کی منگنی کروانے کیئ۔۔۔؟؟” انکی بات نے تابیں بیگم کو وہیں خاموش کروا دیا تھا۔۔۔۔ “ڈیڈ پر اس کمپنی پر حق ہمارا بھی ہے۔۔۔” “اگر تم اپنے حق کی بات کر رہے ہو تو اس انویسٹمنٹ کا بتاؤ جو تمہارے کاروبار پر لگائی تھی وہ سب حصہ ہی تھا تمہارا۔۔۔۔” “ضیشم۔۔۔کیاہوگیا ہے آپ کو۔۔۔؟ آپ نے کبھی بچوں سے ایسے بات نہیں کی تھی۔۔” “کبھی بچوں نے بھی سوال جواب نہیں کیے تھے تابین۔۔۔۔ سب کچھ تو دیا انہیں۔۔۔ اب خود سے کریں جو کرنا ہے بار بار میں جواب نہیں دوں گا۔۔۔۔” ۔ وہاں انکے بچے منہ بنا کر چلے گئے تھے تو یہاں ضیشم صاحب۔۔ اور تابین بیگم کو اب وہ باتیں سچ ہوتی دیکھائی دے رہی تھی جو لبابہ نے اس دن آفس میں کہی تھیں۔۔۔۔۔۔ ۔ “تم مجھ سے وہ سب نہیں چھین سکتی لبابہ کبھی نہیں۔۔۔ میں نے اتنے سال گا دئیے ضیشم کو پانے کے لیے۔۔۔۔ میرے بچوں کے ساتھ میں وہ نہیں ہونے دوں گی جو تمہاری بیٹی کے ساتھ ہوا۔۔۔۔۔” اپنے گھر کے ہر جانب نظر دہرائی تھی انہوں نے۔۔۔ ۔ ۔ ۔
۔
۔
“عشنا بیٹا تم بھی کچھ لو نہ۔۔۔؟
اسمارہ بیگم نے پلیٹ آگے کی تھی عشنا کے۔۔۔
“نہیں میں کھانے نہیں کھاتی انجان لوگوں کے گھروں میں۔۔۔”
عشنا نے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔۔ ارحام کے ہاتھ کھانا کھاتے ہوئے رکے تھے۔۔۔۔
“بیٹا انجان۔۔۔؟ تمہاری ماما سے پوچھو ہم کتنے اپنے ہیں اور اب تو ارحام کے ساتھ منگنی بھی ہوگئی ہے رشنا کی۔۔۔۔”
“چچی پلیز آپ کھانا کھائیں۔۔۔۔”
ارحام نے شاید وہ ہرٹ دیکھ لیا تھا عشنا کی آنکھوں میں۔۔۔۔
“کسی پتا وہ منگنی کتنے وقت کی ہو۔۔۔؟؟ “
عشنا نے بھی اسی طنزیہ لہجے میں انہیں جواب دیا تھا۔۔۔
“اگر تمہاری بہن بھی تمہاری طرح عین ٹائم پر بھاگ نہ جائے۔۔۔۔”
فلذہ کی بات کہنے کی دیر تھی اور سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔
“عشنا بیٹا ریلیکس۔۔۔۔”
لبابہ ںیگم نے عشنا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا ٹیبل کے نیچے سے۔۔۔انہیں پتا تھا عشنا کے غصے کا۔۔۔
“میں وہاں سے بھاگی نہیں تھی۔۔۔۔ میں نے ارحام کو موقع دیا تھا اسکی مرضی کرنے کا۔۔۔۔
وہ جو میرے کردار اور گھمنڈ کو روو رہا تھا اس رات کسی غیر عورت کے سامنے۔۔۔۔
میں نے اسے موقع دیا تھا وہ اب اپنی پسند کی لڑکی سے رشتہ جوڑے۔۔۔
جو اس نے کیا بھی۔۔۔۔ منگنی ٹوٹ جانے پر کونسی عزت خراب ہو جاتی جو اتنی جلدی رشنا کو اپنا لیا۔۔۔۔؟؟؟”
عشنا نے ارحام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے یہ سب باتیں کی تھیں۔۔۔۔
وہ بھی غصے سے کھڑا ہوا تھا اور باقی سب بھی۔۔۔۔
“اننف عشنا۔۔۔۔”
اسکے غصے سے بھرے ان دو لفظوں پر عشنا بھی اپنی کرسی سے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
“ایگزیکٹلی اننف ارحام۔۔۔ اپنی فیملی کو بتاؤ کہ ہوا کیا تھا اس رات۔۔۔
میں ان لڑکیوں میں سے نہیں جو عزت کے لیے وہ انسان اپنا لیں جو پہلے ہی کسی اور کے سامنے اتنا کمزور ہو۔۔۔۔
مجھے برابری پسند ہے چاہے وہ کردار ہو یا پھر خودداری۔۔۔۔”
عشنا اس جگہ سے اٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
آج اس نے اس شخص کو فائننلی سب کے سامنے بےعزت کردیا تھا جس نے دو گھڑی انتظار نہیں کیا تھا اور کرلی منگنی اسکی بہن سے۔۔۔۔
۔
وہ جلدی جلدی میں وہاں سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
پیچھے سب لوگ اس قدر خاموش تھے کہ کسی میں بات کرنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
۔
۔
۔
“ماما آپ آگئیں ہیں تو چلیں۔۔۔۔”
عشنا نے اپنی لفٹ آنکھ جلدی سے صاف کرلی تھی۔۔۔
پر اسکے کندھے پر جس قدر مظبوط گرفت تھی کسی ہاتھ کی وہ لبابہ کا نہیں تھا۔۔۔
اس کندھے سے پکڑ کر ارحام نے اپنی طرف موڑا تھا طیش میں
“تمہارا مسئلہ کیا ہے۔۔؟ سمجھتی کیا ہو تم خود کو۔۔؟ میری فیملی کے سامنے کیا بول کر آئی ہو تمہیں کچھ اندازہ ہے عشنا۔۔۔؟؟”
“بازو چھوڑو میرا۔۔۔تمہاری کسی بات کا جواب میں دینا۔۔”
“جواب دینا پڑے گا تمہیں۔۔۔ ہر بات پر میں غلط ہوں میرا قصور ہے کہہ کر تم ایسے بھاگ نہیں سکتی۔۔۔”
ارحا نے اسکابازو چھوڑ دیا تھا۔۔۔ اور جس طرح بےتکلفی بدتمیزی سے اس نے عشنا کے ہاتھ گاڑی کے ساتھ پن کیا تھا عشنا کے ہاتھ میں پہنی ہوئی واچ اس کی کلائی میں چبھنا شروع ہوئی تھی
“کس بات کا جواب۔۔؟؟ اندر جن لوگوں کے سامنے میرا کردار گرا دیا تھا تم نے یہ کہہ کر کہ میں بھاگی ہوں منگنی سے ان لوگوں کو بھی پتا چلنا چاہیے تھا کیوں گئی میں۔۔۔”
“اووو اب میں غلط ہوں۔۔؟ کیا نہیں گئی تھی تم اس ہوٹل روم میں۔۔؟؟ کیا وجہ تھی منگنی کے وقت جانے کی۔۔؟ تمہارے ہی کزن نے کہا ہوگا مجھے چھوڑنے کا۔۔۔؟؟”
“شٹ اپ ارحام ابراہیم۔۔۔ میں نے کہا تھا بناکسی ثبوت کے میرے کردار پر انگلی مت اٹھانا۔۔
تمہیں تو آج میں نے کسی تیسرے کے سامنے بےپردہ کیا ہے تو تم جل اٹھے ہو۔۔۔
اور جو تم ہماری منگنی پر کر رہے تھے ہمارے رشتے کو بےپردہ۔۔؟؟
شرم نہیں آئی تھی تمہیں اس وقت اپنی محبوبہ کو یہ سب بتاتے ہوئے۔۔۔؟؟
میرے جانے کی وجہ عاصم نہیں تم تھے۔۔۔ تمہاری وہ باتیں تھیں جو تم کرتے پھیر رہے تھے۔۔۔”
عشنا کے اعتراف پر ارحام کی گرفت کمزور ہوگئی تھی۔۔۔
“میں نہیں مانتا عشنا۔۔۔تمہاری کسی بات کو بھی۔۔۔
چاہتی کیا ہو۔۔۔؟ کبھی تمہاری نفرت تو کبھی تمہارا گھمنڈ۔۔۔”
ارحام کا چہرہ اتنے کلوز تھا عشنا کے کہ اس نے بات کرنا بند کردیا تھا جب اس نے عشنا کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔۔
“تمہارا گھمنڈ تمہارا ہے عشنا پر وہ نفرت جب سے ملی ہو جب سے میری زندگی میں آئی ہو مجھے صرف تمہاری نفرت اور اس گھمنڈ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔۔۔
کبھی کبھی مجھے خود میں وہ خامیاں نظر آنے لگتی ہیں جو مجھ میں ہے ہی نہیں۔۔۔
تم مجھے حقیر سمجھ کر ٹھکرا گئی تھی۔۔۔
اب کیوں ہے نفرت تمہاری آنکھوں میں۔۔۔؟؟؟”
ارحام کی آنکھوں میں سوال تھے اسکی زبان کی طرح۔۔
اور عشنا۔۔۔وہ جیسے قید ہوگئی تھی ارحا م کے حصار میں۔۔۔
وہ دونوں ایسے باتیں کر رہے تھے اس طرح ایک دوسرے سے سوال جواب کر رہے تھے جیسے انکا رشتہ بہت پرانا ہو۔۔۔
“تم انتظار کر سکتے تھے۔۔پر تم نے تو فرسٹ آپرچیوننٹی کو ہی اپنا لیا ارحام۔۔۔
تم پردہ رکھ سکتے تھے۔۔پر تم تو لوگوں کو یہ بتاتے پھیر رہے تھے کہ میرے ساتھ تمہارا رشتہ کتنا زبردستی کا تھا۔۔۔
“میرا گھمنڈ کبھی کم نہیں ہوگا ارحام۔۔۔اور میری نفرت کی وجہ تمہاری ہاں تھی۔۔۔
اب میری ضد ہے میں تمہیں پچھتاتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں اس رشتے میں تم دیکھو گے اب عشنا ضیشم کو اسکے گھمنڈ کو۔۔۔ اور اپنے رشتے کو ناکام ہوتے ہوئے۔۔۔”
“میں کبھی نہیں پچھتاؤں گا ۔۔۔ اس لڑکی نے میرا ہاتھ اس وقت ھاما جب تم چھوڑ گئی تھی مجھے۔۔۔
اور اب تو مجھے الفت ہوگئی ہے اس رشتے سے ۔۔۔رشنا سے۔۔۔۔”
ارحام کی بات پر عشنا کی نگاہیں ٹکرائی تھی حیرانگی سے۔۔
“کیا کہا تم نے۔۔۔؟؟”
اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“مجھے محبت ہوگئی ہے رشنا سے۔۔۔ اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میرے پچھتانے کا”
ارحام کی بات پر عشنا نے اپنی آنکھوں بند کرلی تھی۔۔۔
“لئیو مائی ہینڈ۔۔۔”
اسکی خاموشی ملی تھی ارحام کو جس کا دل بےچین تھا کسی ری ایکشن پر۔۔
پر جب عشنا نے آنکھیں کھولی تھی اس نے بس ایک ہی بات کہی تھی۔۔۔
“عشنا۔۔۔”
“میرا ہاتھ چھوڑو ارحام۔۔۔۔”
ارحام ہاتھ چھوڑ کر کچھ قدم پیچھے ہوا تھا عشنا سے۔۔۔۔
“دس از دا لاسٹ ٹائم ۔۔۔تم میرے اتنے قریب آئے ہو۔۔۔”
اپنی انگلی دیکھائی تھی ایک وارننگ دیتے ہوئے وہ گاڑی کی دوسری جانب بڑھی تھی ڈارئیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے گاڑی سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اگلے دن۔۔۔۔۔”
۔
“عشنا ہر سال اسی ہوٹل روم میں اسی سوٹ میں برتھ ڈے سیلیبریٹ کرتے آئے ہیں ہم لوگ۔۔اور اس بار تم انکار کر رہی ہو۔۔۔”
عاصم نے چئیر پر بیٹھتے ہی شکوہ کیا تھا
“مجھے اب نہیں جانا کسی بھی ہوٹل روم میں عاصم۔۔۔ ماما نے ویسے بھی اپاڑٹمنٹ اوپن کروا لیا ہے نانو اور خالہ کو وہاں لے آؤ۔۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ وہ تینوں ضد کی پکی ہیں ان میں سے پہل کوئی بھی نہیں کرے گا۔۔۔”
“عاصم پچھلی بار ہوٹل روم میں جا کر میں نے بہت سے لوگوں کی چھوٹی سوچ اور کردار پر اٹھنے والی انگلیاں برداشت کرلی۔۔۔ جن کی اوقات بات کرنے کی نہیں تھی انکی بھی جرات بڑھی میرے کردار پر انگلی اٹھانے کی۔۔۔”
عشنا کی غصے میں اکے پین کی نب ٹوٹ گئی تھی اس فائل پر سائن کرتے کرتے۔۔۔
۔
“ارحام تم عشنا میڈم کے کیبن کے باہر کیا کر رہے ہو۔۔۔؟؟”
آفس کالیگ کی با سن کر ارحام نے اپنی مٹھی بند کر لی تھی۔۔۔
“کچھ نہیں۔۔۔ کیا عشنا میڈم کی سالگرہ کی ڈیٹ بتا سکتی تم مجھے۔۔۔؟؟ “
“انکی تو اسی منتھ ہے انیس جنوری۔۔۔”
“اور رشنا میڈم کی بھی اسی دن ہوتی ہے۔۔؟؟”
“نہیں انکی تو ٹونٹی نائن کو ہوتی ہے ۔۔۔کیوں پوچھ رہے ہو۔۔؟؟”
“کچھ نہیں ۔۔۔”
ارحام جلدی سے رشنا کے کیبن کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
۔
“یا اللہ۔۔۔سچ جان کر بھی کیوں میں یقین کرنا نہیں چاہتا۔۔۔؟؟
اگر وہ گھمنڈی ان سب میں بےقصور ہوئی تو۔۔۔سچ میں میں پچھتاؤں گا ساری زندگی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہا اس برتھ ڈے پر کوئی پلان ہے ہنی۔۔؟؟”
“نہیں ہے اس بار ایک ہی پلان ہے بس اب کے بار ڈیڈ کے سامنے انکی بڑی بیٹی کو نیچا دیکھانا ہے۔۔”
“رشنا تم پہلے ارحام سے شادی تو پکی کروا لو اپنی۔۔کمپنی کے چکر میں فیانسی نہ چلا جائے ہاتھ سے۔۔”
“ہاہاہاہا وہ نہیں جاتا۔۔۔بلکہ وہ تو احسان سمجھتا ہے میری ہاں کو۔۔۔ “
“ہاہاہا اس بار اصل ڈیٹ پر سالگرہ کا جشن ہوگا یا پچھلے سال کی طرح عشنا کی برتھ ڈۓے پر۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا اب رؤنگ ڈیٹ کا فائدہ نہیں ہے۔۔۔ پر اب فیک ڈیٹ رکھنی تو پڑی گی نہ۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔”
۔
ارحام نے اس آدھے کھلے ہوئے کیبن کے دروازے کو بند کردیا تھا۔۔۔
“گھمنڈی۔۔۔۔”
ایک گرم آہ بھری تھی اس نے وال کے ساتھ ٹیک لگا کر۔۔۔
۔
“کسی کے ساتھ ہوٹل روم میں تم جاتی ہو ۔۔۔کسی کے لیے ہماری منگنی کے دن تم مجھے اکیلا چھوڑ گئی تھی اور قصور میرا ہوا مس عشنا۔۔۔؟؟”
۔
“ایک اور لفظ نہیں ارحام۔۔۔میں خود نہیں جانتی کہ اگر تم نے میرے کردار پر ایک انگلی بھی اٹھائی تو میں کیا کر گزروں گی۔۔۔”
۔
کسی کے ساتھ ہوٹل روم میں مرد عورت کے جانے پر ایک ہی شک ابھرتا ہے۔۔۔
پر ایک بات یاد رکھنا مسٹر ارحام۔۔۔ جو لفظ زبان سے نکالے ہیں ان الفاظ پر تمہیں پچھتانا پڑ جائے گا ۔۔۔اور جس منگنی اور جس منگیتر پر تمہیں اتنا فخر ہے تم دیکھنا تمہارا یہ رشتہ سوائے رسوائی کے اور کچھ نہیں ہوگا،۔۔۔ یہ عشنا ضیشم کا وعدہ ہے۔۔۔۔”
۔
۔
ان باتوں نے ایک دائرے میں گھومنا شروع کردیا تھا اسکے دماغ میں۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔