Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 22
Rate this Novel
Episode 22
“ضیشم۔۔۔ کیوں رو رہے ہو۔۔۔؟؟ زندگی نے ناانصافی میرے ساتھ کی ہے تمہارا تو کچھ نہیں گیا نہ۔۔۔؟؟
میرا گیا ہے میں نے کھویا ہے۔۔۔۔
میری آخری خواہش ہے عشنا کی شادی دیکھنا اسکی خوشیاں دیکھنا۔۔۔
بس تب تک ڈاکٹر سے کہنا مجھے ایسے دوائیاں دے جو مجھے ٹھیک رکھیں۔۔۔
دعا کرنا تب تک زندہ رہوں میں۔۔۔۔
اپنی بیٹی کے لیے۔۔۔۔ اپنی عشنا کے لیے۔۔۔۔
وہ برداشت نہیں کر پائے گی ضیشم۔۔۔۔”
ضیشم صاحب کے بالوں پر انکی چلتی انگلیاں رکی تھی جب ضیشم صاحب نے سر اٹھا کر اپنی بیوی کو دیکھا تھا
“اور میں۔۔۔؟؟ میں برداشت کرلوں گا ۔۔۔؟؟”
“تم تو چاہتے تھے میں چلی جاؤں ضیشم۔۔۔ تم مجھے نہیں رکھنا چاہتے تھے اپنی زندگی میں۔۔۔
اس لیے تو تم نے وہ سب کیا۔۔۔ جو کوئی دشمن بھی نہ کرے۔۔۔
تم چاہتے تھے میں چلی جاؤں۔۔۔ اب میں فائننلی جا رہی ہوں۔۔۔۔۔”
۔
“میں ایسا بلکل نہیں چاہتا تھا کبھی نہیں چاہتا تھا تمہاری موت تو بلکل نہیں لبابہ۔۔۔ تم میری پہلی محبت میری پہلی چاہت تھی۔۔۔”
“تو پھر جا کر اس پاگل خانے کو دیکھو جہاں تم نے مجھے پھینکوا دیا تھا ضیشم چند پیسوں کی رشوت دے کر۔۔۔موت تو پھر آسان ہے ان سختیوں سے جو تمہاری محبت اور ہماری شادی نے دی مجھے۔۔۔”
“لبابہ۔۔۔ ہم اچھے ڈاکٹر سے علاج کروائیں گے کسی سپیشلسٹ سے تم دنوں میں ٹھیک ہوجاؤ گی تم دیکھ لینا۔۔۔”
انہوں نے کسی معصوم بچے کی طرح خود کو اور لبابہ کو ایک جھوٹی امید دینے کی کوشش کی تھی
جواپنا ہاتھ چھڑا چکی تھی۔۔۔
“ضیشم مجھے آرام کرنے دو۔۔ عشنا کے سامنے بھی جانا ہے۔۔ مجھے انرجی چاہیے۔۔۔ میں نہیں چاہتی میری بیماری کا پتہ چلے اسے۔۔۔ بہت تیاریاں کرنی ہیں اپنی بیٹی کو رخصت کرنا ہے۔۔۔
اسکے سارے ارمان پورے کرنے کے بعد آنکھیں بند کروں گی تاکہ مجھے رخصت کرتے وقت اسے مجھ سے کوئی گلہ نہ رہے۔۔۔ہماری اکلوتی بیٹی کا ہر خواب ہر خواہش پوری ہونی چاہیے ضیشم۔۔۔۔”
آنکھیں بند کرلی تھیں انہوں نے۔۔پر انکی باتیں تو ضیشم صاحب کو اندر تک ہلا کر گھائل کر چکی تھی۔۔۔
“میں تمہیں رخصت نہیں کرنا چاہتا لبابہ۔۔۔ ہمت نہیں ہے مجھ میں۔۔۔ شاید کبھی ہو بھی نہ پائے۔۔۔”
لبابہ سو گئی تھیں۔۔۔۔ اور ضیشم صاحب بھی انکا ہاتھ پکڑے اسی بیڈ پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرچکے تھے۔۔۔۔۔
۔
۔
“”اب نہیں رہے۔۔۔۔
اگر گلے تھے بھی کبھی۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اگلی صبح۔۔۔۔”
۔
۔
“عشنا میم آپ کو ڈرائیو کرنے کی ضرورت نہیں تھی ہم ڈراائیور کو بلا لیتے۔۔۔”
ماریہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی عشنا کے کہنے پر ۔۔۔ لیکن وہ گھبرا رہی تھی بار بار اپنے باس کو ڈرائیور کرتے دیکھ کر۔۔
“یہ گاڑی میری پرسنل ہےماریہ بس تم مجھے میٹنگ کی بریفنگ دو جس کے لیے ہم جارہے ہیں۔۔۔”
اپنی گلاسیز لگا کر اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔۔۔
آفس سے کچھ فاصلے پر تیز دھوپ میں چلتا وہ شخص جو کئی لوگوں میں چلتا بھی دیکھائی دے گیا تھا عشنا کو۔۔۔
اسکی آنکھوں میں ایک شرارت چھلکی تھی جس رخ وہ جارہا تھا اس روڈ پر کھڑے کیچڑ کے پانی کو دیکھ کر
“میم ساحر آج پھر آفس آیا تھا۔۔۔ ہمیں اسے ایک موقع دینا چاہیے وہ ڈیڈیکیٹڈ کینڈیڈیٹ ہے۔۔
خاص کر اس ارحام سے زیادہ۔۔۔وہ لوزر تو۔۔۔”
ماریہ کی باتوں نے اسے اتنا غصہ دلا دیا تھا کہ وہ جو شرارت کرنا چاہتی تھی وہ کب سپیڈ تیز کرچکی تھی اسے پتہ نہیں چلا
اور جب فل سپیڈ میں وہ گاڑی کے ٹائر اس کیچڑ سے گزرے تھے وہاں چلتے بس ایک ہی شخص پر پڑے تھے۔۔۔
“شٹ۔۔۔۔ وٹ دا ہیل۔۔۔۔ پاگل انسان گاڑی چلانی نہیں آتی۔۔۔”
ارحام نے اپنی وائٹ شرٹ کو پوری طرح سے دیکھ کر کہا تھا۔۔۔
“میم۔۔۔”
ماریہ نے شاکڈ ہوکر دیکھا تھا اور عشنا نے گلاسیز اتار کر گاڑی بیک کی تھی اسکی والی سائیڈ ارحام کی طرف تھی
“اندھے ہو نظر نہیں آتا۔۔؟ جاہ۔۔۔۔”
عشنا نے شیشہ نیچےکر کے ہاتھ باہر نکالا تھا۔۔۔اور اپنے ہاتھ سے لوزر کا سائن بنایا تھا ارحام کا کھلا منہ دیکھ کر اسکی ہنسی اس نے بہت مشکل سے کنٹرول کی تھی۔۔۔
“کل بہت چپک رہے تھے مسٹر ارحام۔۔۔ اپنی حیثیت مت بھولو اس شرٹ پر پڑے اس کیچڑ جیسی ہے۔۔۔اور یہی رہو گے۔۔۔
اگر دوبارہ ایسی کوئی حرکت کی تو شادی کے بعد بیڈروم سے باہر سویا کرو گے یاد رکھنا۔۔۔
تمہارے کل کے وہ بورنگ سے رومینٹک ڈانس کی وجہ سے میری کزنز نے ٹیز کرکے میرا جینا مشکل کیا ہوا۔۔۔اگر پھر ایسا کیا تو دیکھ لیا۔۔۔”
اپنی انگلی سے اس نے جیسے ہی وارننگ دی تھی ارحام نے اپنی انگلی سے اسکی انگلی پکڑ لی تھی
“تو کیا میری جنگلی بلی۔۔؟؟ تم بھی تو وہ سلو رومینٹک ڈانس اینجوائے کررہی تھی۔۔۔؟”
ارحام ونڈو کی طرف بڑھا تھا اسکے چہرے کچھ ہی فاصلے پر تھا عشنا کے چہرے سے
“مسٹر۔۔۔”
“مس گھمنڈی یہ خوبصورت چہرہ جو غصے سے لال ہو رہا ہے کل تو شرم و حیا سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔”
عشنا اور ارحام کی باتوں نے ماریہ کا منہ ضرور بند کردیا تھا
“یو۔۔۔۔”
“شادی کی شاپنگ پر جلدی لے جاؤں گا۔۔۔ بس یہ جاب مل جائے مس گھمنڈی۔۔۔
منگنی کی انگوٹھی آدھی سیونگ اڑا گئی ہے۔۔ خدا حافظ۔۔۔ورنہ نظر لگ جائے گی اس چمکتی دھوپ میں چہرا کھلکھلا رہا ہے تمہارا۔۔۔”
ارحام نے منہ صاف کیا تھا۔۔۔
“اس حلیہ میں جاؤ گے شاپنگ پر۔۔؟؟ یہ لو شاپنگ۔۔۔”
عشنا نے بہت غرور سے پیسے نکال کر ارحام کو دئیے تھے
“ہاہاہاہا۔۔۔ ٹھیک کہا عشنا میم نے۔۔۔ پیسے رکھ لو ارحام۔۔۔”
ان دونوں کے چہرے سے ہنسی مذاق چلا گیا تھا ماریہ کی بات سن کر اب انہیں احساس ہورہا تھا اسکی موجودگی کا جسے کسی خاطر خوا نہیں لائیے تھے ابھی تک۔۔۔
“میری جیب میں اتنے پیسے ہی جس پر میرا گزارا ہواجائے۔۔۔ اللہ حافظ۔۔۔”
ارحام سنجیدگی سے کہتے ہوئے پیچھے ہوا تھا اور بنا عشنا کی طرف دیکھے وہاں سے جانے لگا تھا جب عشنا نے گاڑی سے باہر نکل کر اسی آواز دی تھی
“ارحام۔۔۔۔”
“گاڑی سے باہر کیوں آئی۔۔؟؟ دیکھو شوز خراب ہوگئے ہیں۔۔۔ واپس جاؤ۔۔۔”
ارحام نے نیچے کیچڑ کے کھڑے پانی کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔ وہ تو مڑ کے جانے لگا تھا جب عشنا نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا پیچھے سے۔۔۔
“ایک منٹ۔۔۔۔”
اپنے گلے میں پہنے سکارف کو اتار کر عشنا نے ایک اور قدم ارحام کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔ اور اسکے چہرے کو صاف کرنا شروع کیا تھا۔۔۔
“ہمارا رشتہ چاہے نفرت کا ہو یا دشمنی کا۔۔۔ کسی تیسرے کو کوئی حق نہیں ہے اسکا فائدہ اٹھانے کا۔۔۔
گھر جاؤ چینج کرکے پھر انٹروئیو کی تیاری کرنا۔۔۔ تم میں قابلیت ہے تو ٹرائی کرو ایک ہی جگہ کو آخر مت سمجھو۔۔۔ اور جلدی جلدی میں ایکسکئیوز کرکے اپنا کردار جھکانے سے بہتر ہے تم آگے کی جانب دیکھ کر قدم بڑھاؤ۔۔۔۔”
اسکی انگلی ارحام کے ہونٹ کو چھونے والی تھی جب اس نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کرلیا تھا۔۔۔
اسکا سکارف وہیں رہ گیا تھا جب وہ تیز قدموں سے واپس گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
ارحام وہیں اسی جگہ کھڑا رہ گیا تھا وہ گھمنڈی ایک بار پھر اس سرپرائزڈ کرگئی تھی۔۔۔
اسکا ہر پہلو ارحام ابراہیم کو ایک نیا جھٹکا دے رہا تھا
وہ سکارف سے اس نے جیسے ہی اپنے ہونٹ صاف کئیے تھے عشنا کی گاڑی پاس سے گزر گئی تھی
اور اس بار گاڑی بہت آہستہ سے گزری تھی تاکہ کیچڑ نہ گرے۔۔۔
۔
“گھمنڈی۔۔۔ کیا میں تمہیں کبھی سمجھ بھی پاؤں گا۔۔؟؟”
۔
“ماریہ ہم میٹنگ میں نہیں واپس آفس جارہے ہیں۔۔۔ تم اپنا حساب اکاؤنٹنٹ سے کروا کر اپنا کیبن خالی کردینا صبح تک۔۔۔”
“پر عشنا میم۔۔ میں۔۔۔”
ماریہ نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا تھا ڈرتے ڈرتے
“وہ ارحام ابراہیم میرا منگیتر ہے۔۔۔ میری اور انکے درمیان ہر چیز ہر مذاق صرف ہمارا ہے۔۔
تم پہلے بھی ساحر کے معاملے میں اپنی لمٹ کراس کرچکی ہو ارحام کو انسلٹ کرکے۔۔
اور میں نہیں چاہتی شادی کے بعد ارحام جب اس آفس کے ہیڈ ہوں تو تم جیسے لوگ آس پاس بھی نظر آئے۔۔۔”
۔
“میم ایم سوری میں ارحام سے بھی معافی مانگ لوں گی۔۔”
“ارحام سر۔۔۔۔ مس ماریہ۔۔۔۔ اوقات بھولنے والے لوگ مجھے زہر لگتے ہیں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہاہا ارحام۔۔۔۔یہ کیا ہے یار تمہارا تو ہر دوسرے دن یہ حال ہوجاتا ہے۔۔۔”
وہ سب لوگ ہنس دئیے تھے پر اسمارہ بیگم جیسے ہی ارحام کے پاس آئیں تھی اداس نظروں سے ارحام اور باقی سب پریشان ہوگئے تھے
“ارحام جلدی سے کپڑے بدلو ہمیں ابھی کہیں جانا ہے۔۔۔”
“کیا ہوا بھابھی۔۔؟؟ سب ٹھیک ہے۔۔؟؟”
انکے دیور نے چائے کا کپ وہیں رکھ دیا تھا۔۔۔
“کچھ ٹھیک نہیں ہے بھائی صاحب۔۔۔ ابراہیم کی کال آئی تھی۔۔۔”
“جی وہ رات سے اپنے دوست کے پاس ہسپتال ہیں بتا کر گئے تھے وہ۔۔ اب انکا دوست ٹھیک ہے۔۔؟؟”
“امی کیا بات ہے۔۔؟ ابو رات سے باہر ہیں۔۔؟ مجھے بتایا نہیں۔۔؟؟کہاں کس دوست کے پاس ہیں وہ۔۔؟؟”
ارحام نے خالی کرسی پر اپنی امی کو بٹھا دیا تھا
“بیٹا۔۔۔ رات کو۔۔۔ ضیشم بھائی کا فون آیا تھا۔۔۔وہ جس دوست کو ہسپتال دیکھنے گئے تھے۔۔
وہ لبابہ ہے۔۔۔ رات سے ایڈمٹ ہے۔۔۔”
“پر میں تو ابھی عشنا سے مل۔۔۔۔ ایسا کیسے ممکن ہے عشنا تو ٹھیک لگ رہی تھی امی بلکل بےفکر۔۔؟؟ اگر آنٹی ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں تو وہ۔۔۔”
“اسے نہیں پتہ ارحام۔۔۔ کسی کو نہیں پتہ کل رات لبابہ کی طبیعت خراب ہوئی۔۔۔”
“اففف امی ڈرا دیا تھا آپ نے۔۔۔آنٹی نے زیادہ کھا لیا ہوگا۔۔۔ اس لیے۔۔۔ میں چینج کرکے آتا ہوں پھر۔۔۔”
“لبابہ کے پاس زیادہ وقت نہیں رہا ارحام۔۔۔ٹیومر لاسٹ سٹیج پر پہنچ گیا ہے۔۔۔”
انہوں نے ارحام کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا،، جس کی سانسیں رکی تھی اور دل و دماغ نے ایک ہی نام دہرایا تھا۔۔۔
“عشنا۔۔۔”
“یا اللہ رحم۔۔۔ لبابہ کے ساتھ ظلم ہوا ہے بھابھی۔۔۔”
انکی دیورانی آگے آئی تھی اسمارہ بیگم کا ہاتھ ارحام کے ہاتھ سے چھڑا کر اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا
“شمیم۔۔۔ اس بیچاری کے پاس شاید اتنا وقت بھی نہیں کہ عشنا کی خوشیاں دیکھ سکے۔۔۔ارحام۔۔۔”
“امی میں کپڑے بدل کر بس ابھی آیا۔۔۔”
ارحام کی آواز بھاری ہوگئی تھی۔۔۔وہ جلدی سے چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام بیٹا میری گاڑی لے جاؤ”
ارحام جیسے ہی کپڑے بدل کر روم سے باہر آیا تھا ذیشان صاحب نے اسکا راستہ روک کر چابی آگے کی تھی
“چاچو وہ میں اپنی بائیک پر لے جاؤں گا۔۔۔”
“امی کو اتنا وقت ہوگیا تمہاری بائیک پر بیٹھے ارحام اچھا نہیں لگتا تم اپنی کھٹاڑا بائیک۔۔۔
امی میں لے جاتا ہوں چلیں ارحام گھر ہی رہے اسکے جانے سے کیا ہوگا۔۔۔”
ارحام نے غصے سے اپنی مٹھی بند کرلی تھی۔۔۔
“مننان کوئی تو موقع چھوڑ دو۔۔۔ ویسے بھی وہ ارحام کا سسرال ہے تمہارا نہیں تم گھر آرام کرو۔۔۔ارحام بیٹا بائیک سٹارٹ کرو میں چادر لے آئی۔۔”
ارحام جلدی سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
“بھابھی کچھ زیادہ ہی سائیڈ لینا شروع ہوگئیں ہیں ارحام کی۔۔۔”
فلذہ کی امی نے جیسے ہی کہا تھا مننان اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔ وہ بھی سب نوٹ کر رہا تھا یہ سب۔۔۔
۔
“امی آپ بھی موقع مہر دیکھ لیا کریں دیکھیں اب مننان ناراض ہوگئے ہیں۔۔”
“تو۔۔ اسکے گھر والے سب کے سامنے اسکی بے عزتی کر دیتے تب کچھ نہیں ہوتا۔۔۔
میں کہہ رہی فلذہ ابھی سے اپنی پوزیشن سٹرونگ کرو ورنہ۔۔۔
وہ لڑکی سب کچھ چھین لے گی۔۔۔”
“آپ کو کیا پتہ امی اس نے کیا چھین لیا ہے مجھ سے۔۔۔”
فلذہ آہستہ آواز میں کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی مننان کو منانے کے لیے۔۔۔
ہر بار مننان کا غصہ اسے ہی برداشت کرنا پڑتا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“موم کہاں گئیں ہیں دادو آپ کو تو پتہ ہوگا اور پھوپھو آپ۔۔۔؟”
شام ہونے کو تھی اور عشنا پریشانی کے عالم میں بار بار وہی نمبر لبابہ کا ڈائل کر رہی تھی جو آف جا رہا تھا صبح سے۔۔۔
“عشنا بیٹا تمہارے اٹھنے سے پہلے وہ چلی گئی تھی”
پھو پھو نے نظر چرا کر جواب دیا تھا
“ایک منٹ وہ تو رات سے ہی کمرے میں نہیں تھیں دادو آپ نے رات کو کہا وہ دوست کے پاس گئی اور اب پھو پھو بھی۔۔۔
موم مجھے بتائے بغیر کہیں کیسے جا سکتی ہیں۔۔۔؟؟”
وہ ہرٹ ہوئی تو اپنی موم کی لاپرواہی پر۔۔۔۔
“عشنا بیٹا کوئی مجبوری ہوگی۔۔۔”
“ایسی کیا مجبوری ہوگئی کہ مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا یہ جانتے ہوئے بھی کہ مجھے کتنی پریشانی ہوگی۔۔۔”
“عشنا میری بچی۔۔۔۔”
“اٹس اوکے انکا وہ کام زیادہ ضروری ہوگا مجھ سے بھی۔۔۔”
وہ جیسے ہی اپنے کمرے میں گئیں تھی وہاں کھڑی ملازمہ ساری رپورٹ تابین بیگم کو دینے انکے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
جو پہلے ہی موقع کی تلاش میں تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ابو آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟”
ارحام آئی سی یو کے باہر بیٹھے پریشان والد کے پاس جاکر بیٹھ گیا تھا۔۔
“لبابہ کو ٹیومر ہے۔۔۔ارحام ضیشم کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”
“ابو سنبھالیں آپ خود کو ابھی آپ کے دوست کو بھی ضرورت ہے آپ کی ہم انٹی کا علاج “کسی اچھے ڈاکٹر سے کروائیں گے۔۔۔وہ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔”
“بیٹا کاش ایسا ہوتا سائنس ٹیکنالوجی جتنی مرضی ترقی کرلے کچھ فیصلے اللہ کی رضا مندی کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔”
ارحام حیران ہوگیا تھا۔۔ ابراہیم صاحب تو جیسے یہ سب تسلیم کرچکے تھے سر جھکائے وہ وہیں بیٹھے تھے جب ارحام انکا ہاتھ پکڑ کر انکو اندر لے گیا تھا جہاں کچھ دیر پہلے اسکی امی گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم بکواس مت کرو۔۔۔ تم ٹھیک ہوجاؤ گی لبابہ۔۔۔”
“ہاہاہاہا دل بہلانے کے لیے یہ جملہ اچھا ہے اسمارہ پر۔۔۔ارحام۔۔۔”
لبابہ بیگم نے بہت خوشی سے ارحام کو پکارا تھا اور ہاتھ آگے بڑھایا تھا
“جاؤ بیٹا۔۔۔۔”
ابراہیم صاحب بھی ضیشم کے پاس ایک کارنر پر بیٹھ گئے تھے خاموشی کے ساتھ
۔
“السلام علیکم۔۔۔ آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔؟؟ کچھ پل کو تو ڈرا دیا تھا آپ نے آپ کی مسکان دیکھ کر جان میں جان آئی۔۔۔ زیادہ ینگ لگتیں ہیں ایسے مسکراتے ہوئے۔۔۔”
ارحام اسی جگہ بیٹھا تھا جہاں کچھ سیکنڈ پہلے اسکی امی بیٹھی تھیں۔۔۔
“ہاہاہاہا اس گھمنڈی سے بھی زیادہ خوبصورت۔۔؟؟”
لبابہ نے ٹیز کرتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“وہ خوبصورت کہاں۔۔۔؟ وہ تو گھمنڈی ہے۔۔۔ویسے آپ ہی کی ہے نہ۔۔؟”
“ہاہاہاہاہاہا ارحام۔۔۔۔”
وہ کھلکھا کر ہنسی تھی ضیشم صاحب کے چہرے پر بھی ہنسی آئی تھی باقی سب کی طرح،،،
۔
“ارحام کچھ کہنا چاہتی ہوں پھر چاہے موقع ملے نہ ملے۔۔۔”
“اوکے۔۔۔”
ارحام نے انکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئیے کہا تھا۔۔۔
“لبابہ پلیز۔۔۔”
پر ضیشم صاحب کو واپس اسی جگہ بٹھا دیا تھا ابراہیم صاحب نے زبردستی۔۔۔
۔
“ارحام۔۔۔مرد عورت کی خوبصورتی اس میں نہیں کہ وہ ایک رشتہ آدھا ادھورا چھوڑ کر آگے نیا رشتہ جوڑ لیں ۔۔۔
مرد عورت کی خوبصورتی انکے حسن سے نہیں انکی خوبصورتی انکے رشتے سے دیکھی جا سکتی ہے۔۔۔
خاص کر میاں بیوی کے رشتے کی خوبصورتی انکی وفا ہوتی ہے۔۔۔”
وہ باتیں ارحام سے کر رہیں تھیں انکی نظریں بار بار ضیشم پر جارہی تھیں۔۔۔
جو سر جھکائے بیٹھاہوا تھا۔۔۔
“ارحام۔۔۔ میں عشنا سے ہمیشہ یہی کہتی آئی ‘ کچے کانوں کا مرد کبھی سچی محبت نہیں کرسکتا۔۔۔’ میں اسے بتاتی تھی مرد زات اعتبار کے قابل نہیں۔۔۔یہ میرا تجربہ تھا جو مجھے اس زندگی میں سیکھا دیا اس شخص نے جسے میں نے خود سے بھی زیادہ پیار کیا تھا۔۔۔”
گہرا سانس لیا تھا انہوں نے۔۔۔اور پھر ارحام کی طرف دیکھا تھا
“تم جانتے ہو اس شادی کے لیے عشنا کو میں نے مجبور کیا تھا ارحام۔۔۔ مجھے تم سے زیادہ یقین تمہارے ماں باپ پر تھا۔۔۔ یہ دونوں کبھی میری بیٹی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔۔۔
پر ارحام آج صبح دماغ میں ایک ہی بات گردش کررہی تھی۔۔۔
یقین تو مجھے ضیشم کی ماں باپ پر بھی تھا۔۔۔ پر پھر بھی وہ سب ہوا نہ۔۔۔؟؟”
کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔ارحام کی گرفت مظبوط ہوگئی تھی انکے ہاتھ پر
اسے ایک ڈر لاحق ہوگیا تھا کہیں لبابہ اس رشتے سے انکار نہ کردیں ابھی۔۔۔
ابھی جب اس نے اس گھمنڈی کو دل سے اپنا لیا تھا۔۔۔
۔
“ارحام میں اس رشتے کو ختم نہیں کررہی۔۔۔ اس رشتے کو اب کوئی ختم نہیں کرسکتا جب تک تم دونوں کسی تیسرے کو درمیان میں نہیں لاؤ گے تب تک کوئی نہیں آئے گا۔۔۔
میں اپنی بیٹی کو جانتی ہوں ارحام میری بچی آخری سانس تک اس رشتے کو نبھائے گی
وہ گھمنڈی اس گھمنڈی کی بیٹی ہے۔۔۔پر کیا تم ارحام میری بچی کووہ محبت وہ عزت
وہ اعتبار دے پاؤ گے جو مجھے کبھی نہیں ملا تھا۔۔۔
کیا میری گھمنڈی کو ویسے ہی اپناؤ گے جیسی وہ ہے۔۔؟؟ یا تم بھی کوئی تیسرا لے آؤ گے شادی کے کچھ سالوں کے بعد۔۔۔؟؟”
ان کا چہرہ بھر گیا تھا ضیشم صاحب کی طرح۔۔۔
“ابراہیم چلیں۔۔۔”
اسمارہ اپنے آنسو صاف کرکے ابراہیم صاحب کو وہاں سے لے گئیں تھیں باہر۔۔۔
۔
“ارحام اگر عشنا کے ساتھ بھی وہی ہوا جو میرے ساتھ ہوا تو میری بچی بھی ایک دن اسی طرح ایسے ہی کسی ہسپتال میں اپنی آخری سانسیں گن رہی ہوگی۔۔۔
وعدہ کرو میری بیٹی کا خیال رکھو گے۔۔۔”
۔
“میں صرف آپ کو خوش کرنے کے لیے کوئی وعدہ نہیں کرسکتا آنٹی۔۔۔
کل جب میری بیوی کے سامنے یہ باتیں آئیں گی تو وہ میری محبت کو ایک ہمدردی سمجھے گی۔۔۔”
مایوسی میں لبابہ نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔
“آنٹی۔۔۔میں اس گھمنڈی سے پیار کر بیٹھا ہوں۔۔۔ اسکے کردار سے محبت ہوگئی ہے مجھے
اسکے گھمنڈ سے میری چاہت ہر روز بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔۔۔
اور ان سب سے زیادہ میں اسکی عزت کرنے لگا ہوں وہ عزت جو اس نے حاصل کی میرے دل میں۔۔۔
میں آگے زندگی کی گارنٹی نہیں دیتا۔۔۔ پر میرے دل میں میری آخری سانس تک بس ایک ہی نام رہے گا ایک ہی لڑکی میری زندگی میں رہے گی اور وہ آپ کی گھمنڈی بیٹی عشنا ضیمشم ہے۔۔۔۔ موت آئے تو آئے درمیان پر بےوفائی نہیں آئے گی۔۔۔
میں کچے کانوں کا ضرور ہوں آنٹی پر کردار میں اتنا پختہ ہوں کہ اپنی شریک حیات کی برابری میں کسی باہر والی کو نہیں لاؤں گا۔۔۔”
ارحام نے منہ جھکا کر لبابہ کے ہاتھ پر بوسہ دیا تھا۔۔۔اور جب آنکھ سے نکلے آنسو کو صاف کرکے ضیشم صاحب کو دیکھا تھا اس نے۔۔
آج اسکی آنکھوں میں کوئی عزت نہیں ایک نفرت جھلکی تھی ضیشم صاحب کے لیے
۔
“آپ نہیں جانتے سر آپ نے جوانی کے خمار میں کیا کھو دیا۔۔۔ اب مجھے ڈر ہے کہیں یہ پچھتاؤا آپ کو کہیں کا نہ چھوڑ دے۔۔۔”
ارحام وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اور ایک سکون تھا اس کمرے میں۔۔۔ بس اس مشین کی آواز آرہی تھی جو لبابہ کی دل کی دھرکن کو مانیٹر کررہی تھی
وہ اوپر سیلنگ کو دیکھ رہی تھی اور ضیشم صاحب اپنےخالی ہاتھوں کو۔۔۔
۔
“میں تمہیں ایک بات بتا رہا ہوں لبابہ اگر تمہیں کچھ ہوا تو میں بھی مر جاؤں گا۔۔۔”
“ضیشم۔۔۔مجھے گھر جانا ہے۔۔۔ میں اس ہسپتال میں اور نہیں رہنا چاہتی۔۔۔ ڈاکٹر سے کہہ کر ڈوس اور زیادہ کروا دینا تاکہ میں ہر فنکشن اچھے سے اٹینڈ کرسکوں۔۔۔”
ضیشم صاحب کی بات کو مکمل طور پر اگنور کردیا تھا انہوں نے اور وہ شرٹ سے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے کمرے سے باہر جانے لگے تھے جب پاؤں ٹیبل سے ٹکرا گیا تھا۔۔۔
“ضیشم۔۔۔”
وہ پیچھے سے چلائی تھی۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں لبابہ۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔”
لڑکھڑاتے ہوئے باہر چلے گئے تھے وہ۔۔۔
۔
۔
“بحرِ غم سے پار ہونے کے لیے
موت کو ساحل بنایا جاے گا”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔
