51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“سب جھوٹ ہے سب جھوٹ ہے دور رہو مجھ سے تم۔۔۔”
انہوں نے عشنا کو جیسے ہی تھپڑ مارا تھا اسکے ماتھے سے نکلنے والا خون انکی انگلیوں میں بھی لگ گیا تھا
“جھوٹ نہیں ہے آپ کی شفقت کے لیے میرا دل ترس گیا۔۔۔۔آپ کی زبان سے اپنا نام سننے کے لیے میرے کان ترس گئے تھے۔۔۔”
“اس لیے تم تھی وہاں اس شخص کے پاس۔۔۔جب میں تھیں اس پاگل خانے میں تب کہاں تھی تم۔۔۔”
“بوڈنگ سکول میں۔۔۔تھی میں۔۔۔مجھے دور کردیا تھا آپ سے۔۔۔دس سال اس جہنم میں رہی ہوں میں۔۔۔میں تو وہاں غیر جگہ پر انتظار کرتی تھی کہ مجھے انتظار میرے باپ کا نہیں میری ماں کا تھا۔۔۔مجھے آپ کا انتظار تھا۔۔۔”
آنکھوں کے آگے جیسے جیسے اندھیرا چھا رہا تھا عشنا گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی لبابہ کے۔۔۔
“مجھے دنیا نے بہت پہلے مار دیا تھا۔۔۔باپ کے دھوکے نے آپ کو ہی نہیں مجھے بھی مار دیا تھا ماما۔۔۔
اور پھر مجھے لوگوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا۔۔۔میں تو انتظار میں رہی ہوں آپ کے۔۔۔
آپ آج مجھے مار دیں پر مجھے اپنی بیٹی کہہ کر ماریں ماما۔۔۔میں۔۔”
لفظ بند ہوگئے تھے اسکی بند آنکھوں کے ساتھ۔۔۔
“عشنا۔۔۔۔میری پری۔۔۔”
۔
انہوں نے اس گرتی ہوئی بیٹی کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔۔۔
۔
“لبابہ چھوڑ دو اسے۔۔۔خدا کا واسطہ ہے بخش دو اس معصوم بچی کو جس کا کوئی قصور نہیں تھا۔۔”
شہناز بی نے عُشنا کا سر جیسے ہی لبابہ کی گود سے اٹھایا تھا خون دیکھ کر وہ خود پریشان ہوگئیں تھیں۔۔
“شہناز باجی۔۔۔وہ بوڈنگ سکول میں رہ۔۔۔رہی تھی۔۔؟؟”
انہوں نے ایک سرگوشی کی تھی
“تمہیں اس سے کیا۔۔؟ تم جاؤ اپنے کمرے میں اور اپنے شوہر کے دھوکے پر ماتم کرو۔۔تمہیں کیا لبابہ۔۔؟ اولاد ایک نعمت ہے جس کی قدر نہ تم نے کی نہ ہی تمہارے ضیشم نے۔۔
تمہیں کیا وہ کس عذاب سے گزری ہے۔۔تمہیں کیا وہ تمہاری محبت کو ترستے ہوئے تم جیسی بن گئی گھمنڈی۔۔۔تمہیں کیا لبابہ۔۔۔تمہیں صرف ایک ہی انسان سے الفت تھی نہ۔۔ ؟؟
تمہارا شوہر۔۔وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔۔۔”
اپنی چادر سے وہ عُشنا کے ماتھے سے خون صاف کر رہی تھی گلے کر رہی تھی لبابہ سے۔۔۔
“یہ آج بھی وہیں ہے لبابہ جہاں یہ پانچ سال کی عمر میں تھی۔۔۔اس بچی نے تب سے اب تک نفرت کی ہے اپنے باپ سے ہر ایک سے جو اسکے سامنے تھے آس پاس تھے۔۔
اور یہ پاگلوں کی طرح محبت کرتی آئی تم سے۔۔تم تو اسکے پاس بھی نہیں تھی۔۔۔”
انہوں نے ساتھ ہی نرس اور ڈاکٹر کو آواز دہ دی تھی۔۔۔روتے ہوئے چہرے کو جب اٹھا کر لبابہ کی طرف دیکھا تھا سامنے ہاری ہوئی بکھری ہوئی اس عورت اس ناکام بیوی کو دیکھ کر انہوں نے لبابہ کہ چہرے پر بہت پیار سے ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
“لبابہ اب بھی وقت ہے باہر آجاؤ اس ماتم سے اس دھوکے کے سوگ سے۔۔۔تم اپنی اولاد کے لیے واپس آجاؤ۔۔بہت سال روو لی اپنی ناکامی پر۔۔۔
یاد رکھنا شوہر کے دھوکے سے بیوی کی ناکامی ثابت نہیں ہوتی۔۔۔بیوی کی معصومیت ثابت ہوتی ہے اسکی بےپناہ محبت ثابت ہوتی ہے۔۔۔
پر آج تمہاری اولاد کے معاملے میں ناکامی ایک ماں کی ناکامی ہوگی۔۔۔
اس ماں کو ناکام نہ ہونے دینا۔۔۔”
۔
وہ لوگ عُشنا کو اٹھا کر وہاں سے لے گئے تھے۔۔۔۔
انکے ہاتھ خالی تھی خون سے بھرے ہوئے ہاتھ اپنے چہرے کے پاس لے جاکر بہت حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنا شروع ہوگئیں تھیں وہ اسے۔۔۔
“عُشنا میری بچی۔۔۔۔”
ان ہاتھوں میں لگے ہوئے خون میں انہیں وہ پانچ سال کی انکی بچی کا چہرہ نظر آرہا تھا۔۔۔
“عُشنا۔۔۔۔”
دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا لیا تھا انہوں نے۔۔۔انکو اپنی آواز ہی سنائی دہ رہی تھی
ایک تکلیف میں تھی وہ۔۔۔ہاتھوں میں نشان واضح تھے ان چینز کے جن کے ساتھ وہ بندھی ہوئی تھی۔۔۔
آج خالی ہاتھ تھی وہ عورت جو کبھی عروج پر تھی جس کا اپنا گھر تھا ایک۔۔۔
جس کے پاس دنیا تھی ایک پیار کرنے کا والا شوہر تھا اپنا گھر تھا ایک پری جیسی بیٹی تھی۔۔۔
پر اپنے ہی مجازی خدا کے ایک دھوکے نے اسکی ہنستی بستی دنیا اجاڑ دی اور آج وہ خالی ہاتھ تھی۔۔۔
۔
“تم کیا لگتا ہے ضیشم ملنے دہ گے عشنا کو تم سے۔۔؟ تم نے دیکھا ہے خود کو لبابہ۔۔؟
کتنا غرور تھا تمہیں۔۔۔اور آج اس پاگل خانے میں ہو۔۔”
“مجھے میری بیٹی سے ایک بار ملنے دو تابین۔۔”
“ہاہاہاہا وہ نہیں ملنا چاہتی تم سے اور ضیشم وہ تو شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتے تمہاری۔۔۔”
“میں تمہیں مار دوں گی یو بچ تمہیں میں نے دوست ہی نہیں بہن بھی سمجھا تھا۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔بی لئیو می لبابہ تمہارے شوہر پر دل اسی وقت آگیا تھا میرا۔۔۔ جب تم نے ملوایا تھا مجھے۔۔بس پانچ سال لگ گئے مجھےتمہارا گھر توڑنے میں۔۔۔
اور جانتی ہومیں یہاں کیوں آئی ہوں۔۔؟؟ آئی ایم پریگننٹ۔۔۔۔”
۔
“آئی کل یو۔۔۔مار دوں گی تمہیں۔۔۔”
۔
ماضی کی پرانی یاد نے انہیں پھر سے مار پینک کرنا شروع کردیا تھا۔۔۔
اس کمرے کی چیزیں توڑنا شروع کردی تھیں انہوں نے۔۔۔
انکی نرس نے انہیں انجیکشن لگا دیا تھا جلدی جلدی میں۔۔۔
یہ انکی روٹین تھی۔۔۔روز کی روٹین۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“السلام علیکم ۔۔۔گڈمارننگ ایوری ون۔۔۔۔”
ارحام سب کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر آکر بیٹھ گیا تھا
“گڈ مارننگ بیٹا تم تیار نہیں ہوئے۔۔؟ آفس نہیں جانا کیا۔۔؟”
“نہیں امی اب رشنا انچارج ہے تو اس نے کہا ہے میں اپنی مرضی سے آفس آ جا سکتا ہوں”
وہ ناشتہ کرنا شروع ہوگیا تھا۔۔
“ہاہاہاہا اپنی ہونے والی منگیتر کے انڈر کام کرو گے اب ارحام۔۔؟؟”
“تو اس میں برائی کیا ہے مننان بھائی۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔حیران ہوں چھوٹے بھائی اب ساری خودداری کہاں گئی تمہاری۔۔؟؟
اسی وجہ سے وہ لڑکی نے تم سے منگنی کرنے سے انکار کردیا تھا۔۔؟؟”
مننان کے چہرے پر ہنسی تھی پر اسکی بات پر کوئی بھی نہیں ہنسا تھا
“کس نے کہا اس نے انکار کیا تھا۔۔؟؟”
ارحام نے بہت اونچی آواز میں پوچھا تھا
“تو کیا نہیں کیا تھا انکار۔۔؟؟؟؟”
“میری بیٹی نے انکار نہیں کیا تھا مننان بیٹا۔۔۔عُشنا کو ایک ضروری کام کے لیے جانا پڑگیا تھا۔۔۔
اور مجھے تو بعد میں پتا چلا تھا ارحام کو رشنا پسند کرتی ہے۔۔۔”
ضیشم صاحب کے ساتھ انکی بیوی اور پیچھے ملازم کے ہاتھ میں بیت سے تحائف پکڑے ہوئے تھے
۔
“انکل میں تو مذاق کررہا تھا چھوٹے بھائی سے۔۔گڈ لک ارحام اور بہت بہت مبارک ہو۔۔۔”
ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہ آفس کے لیے نکل گئے تھے۔۔۔
“ابراہیم اب دوست کو ویلکم بھی نہیں کرو گے۔۔؟؟”
ابراہیم ابھی اپنے ٹرینس سے باہر آئے تھے۔۔۔وہ جانتے تھے مننان مذاق نہیں کررہا تھا
وہ یہ بھی جانتے تھے یہ طعنے ارحام کو ہر روز سننے کو ملیں گے اب۔۔۔ضیشم کی آواز پر وہ اٹھ کر انہیں گلے لگا کر بہت چاہت سے ملے تھے اور انکی بیوی تابین بیگم کو
“بھائی صاحب ان سب کی کیا ضرورت تھی۔۔؟؟ تابین تم بھی نہ ایسے ہی آجاتے بھلا۔۔۔”
“بھابھی اب ایسے کیسے آ سکتے ہیں۔۔۔یہ سب تو میری اور تابین کی خوشی سے ہیں۔۔۔”
“ماں جی نہیں آئی ضیشم۔۔؟”
ابراہیم صاحب لیونگ روم میں لے آئے تھے انہیں۔۔۔گھر کے بڑے سب موجود تھے۔۔اور سب چھوٹے ڈائننگ ٹیبل پر
“ارحام بھائی قسمت جاگ گئی ہے آپ کی تو۔۔۔۔اتنے گفٹ۔۔۔”
چھوٹی کزن نے تمام تحائف کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔۔
ارحام جو مننان کی باتوں سے پہلے ہی غصے میں تھا اب اور آگ بگولہ ہو رہا تھا
“ارحام بھائی واااوووو۔۔۔۔اور کیا چاہیے۔۔۔”
ایگزیکٹلی اور کیا چاہیے ارحام سب تو مل گیا ہے نہیں۔۔؟؟”
فلذہ کی آواز نے اسکے قدم روک دئیے تھے۔۔۔
“سیریسلی گائیز۔۔؟؟ ہوکیا گیا ہے تم لوگوں کو۔۔۔ایسے کر رہے ہو جیسے لالچ ہو مجھے ان سب کی۔۔۔نہ مجھے پہلے پرواہ تھی نہ ہی اب ہے۔۔۔مجھے دوبارہ اس معاملے میں پھر کسی کا طعنہ نہیں سننا۔۔۔”
ارحام کی اونچی آواز اندر لیونگ روم تک بھی گئی تھی پر اسے فرق نہیں پڑرہا تھا وہ اس قدر غصے میں تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈاکٹر وہ ٹھیک تو ہے نہ۔۔؟؟ اسے کچھ ہوگا تو نہیں خون بہت زیادہ نکل رہا تھا سر کی چوٹ تھی”
شہناز بی ڈاکٹر کو بولنے کا موقع ہی نہیں دے رہیں تھیں
“آپ ٹینشن مت لیجئے۔۔۔مارنے والی ماں تھی وہ غصے میں بھی تھی اور اسکی مار میں وہ شدت نہیں تھی۔۔۔ہاں عُشنا کو زخم آئے ہیں پر خطرے میں نہیں ہے وہ۔۔۔سر پر چوٹ اتنی گہری نہیں آئی۔۔۔
شہناز بی ماں بیٹی کا آمنا سامنا تو ہونا ہی تھا نہ۔۔؟؟ مجھے حیرانگی ہے کہ عُشنا نے کیسے ہمت کر لی۔۔؟؟”
شہناز بی اندر روم میں عشنا کے بیڈ کے ساتھ چئیر پر بیٹھ گئیں تھیں اور سامنے وہ لیڈی ڈاکٹر جن کی باتوں سے پتا چل رہا تھا وہ اچھے سے جانتی تھی سب کو ۔۔۔
۔
“میں نے اسے بلایا تھا سونیا بیٹا۔۔۔لبابہ کی حالت اب دیکھی نہیں جا رہی تھی۔۔۔پچھلے کچھ دنوں سے اس نے تو جیسے جینے کی ہر آس امید ہی چھوڑ دی تھی
میں ڈر گئی تھی۔۔ڈر گئی تھی اس نے خاموشی سے چلے جانا تھا۔۔اور کسی کو فرق نہیں پڑنا تھا کسی کو تو پتا بھی نہیں چلنا تھا۔۔۔”
“آپ نے اچھا کیا۔۔پر کچھ دیر رک جاتی آپ عُشنا کی منگنی کے اگلے روز بلا لیتی۔۔”
“کیا۔۔عُشنا کی منگنی۔۔؟؟ مجھے تو پتا بھی نہیں تھا۔۔۔یا اللہ۔۔۔میں نے اسکی زندگی میں آنے والی ایک اور خوشی چھین لی اس سے۔۔؟ کیا اس نے منگنی کرلی ہوگی۔۔؟ یا واپس آگئی ہوگی۔۔؟؟”
پریشانی کے عالم میں وہ عشنا کے بیڈ پر بیٹھ گئیں تھیں آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور لب خاموش ہوگئے تھے انکے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام۔۔۔یہ رات بہت چھوٹی ہے بلکل ہماری زندگی کی طرح۔۔۔لے جانے اور چھوڑنے میں گزر جائے گی۔۔۔سووووان لمحات کو سمیٹ لینا چاہیےان کی قدر کرنی چاہیے۔۔۔آپ کو آپ کی منزل پر چھوڑ دیا اب مجھے اپنا راستہ لینا ہے۔۔۔”
“آخر تم نے اپنا راستہ لے ہی لیا عُشنا ضیشم۔۔۔ان سب میں قصور کیا تھا میرا۔۔؟ اتنے گھمنڈ میں تم مجھے ٹھکرا تو گئی ہو پر یاد رکھنا دوبارہ میں تمہیں میسر نہیں آنے پاؤں گا۔۔۔”
چائے کا سپ لیتے ہوئے اس نے ایک عہد کیا تھا خود سے۔۔۔
“ارحام بیٹا۔۔۔”
ابراہیم صاحب بھی لان میں آگئے تھے۔۔۔
“ابو مجھے اندر بلا لیتے آپ کیوں یہاں آئے۔۔؟؟”
“بیٹھو بیٹا۔۔۔بس چائے پینے کا دل کر رہا تھا تمہیں باہر دیکھا تو سوچا کے میں یہیں آکر پی لوں۔۔”
ارحام کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئے تھے وہ۔۔۔
۔
“جی ابو ضرور میں چائے کا کہتا ہوں۔۔۔”
ارحام جیسے ہی اٹھا تھا ابراہیم صاحب نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“میں کہہ کر آیا ہوں۔۔۔تم کیوں بار بار بہانہ ڈھونڈ رہے ہو جانے کا۔۔؟؟”
“نہیں ابو ایسی بات نہیں۔۔۔مجھے پتا ہے آپ بھی مجھے وہی طعنہ دیں گے یا پھر ڈانٹے گے کہ میں نے ہی کچھ کیا ہوگا جو وہ گھمنڈی چلی گئی۔۔۔”
“تو کیا تم نے نہیں کیا تھا ارحام۔۔؟؟ فلذہ کو تم اپنی پرسنل لائف کے بارے میں بتا کر تم نے کیا غلطی نہیں کی۔۔؟؟”
“نہیں بلکل نہیں ابو۔۔۔وہ گھمنڈی سے شادی میں صرف آپ کے لیے کر رہا تھا۔۔۔
رشنا کے ساتھ منگنی ایک اچھا فیصلہ ہے۔۔۔کیا آپ کو وہ پسند نہیں۔۔۔؟؟”
“ایسی بات نہیں ہے۔۔۔مجھے وہ پسند ہے بیٹا۔۔۔۔پر تمہارے لیے مجھے وہ پسند نہیں آئی۔۔
تمہارے لیے میرا انتخاب وہ گھمنڈی تھی۔۔۔”
انہوں نے ارحام کے کندھے میں ہاتھ رکھا تھا اور ملازم انکی چائے لیکر آگیا تھا۔۔
ارحام کو انکی بات بہت شوکڈ کر گئی تھی وہ اپنے والد کو بار بار دیکھ رہا تھا۔۔۔
“ابو میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کچھ بھی۔۔۔میں نے یہ سب کچھ آپ کے لیے اس خاندان کی عزت کے لیے کیا۔۔۔اب آپ رشنا کو نہیں اس گھمنڈی کو اہمیت دے رہے ہیں۔۔۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ گئی منگنی چھوڑ کر۔۔۔”
ارحام اپنی بات کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔ابراہیم صاحب نے بھی اسے روکا نہیں تھا۔۔۔
۔
“تم نہیں جانتے بیٹا پر میں جانتا ہوں اس گھمنڈی کو۔۔۔وہ جتنی خاموشی سے گئی ہے اس قدر تیز طوفان کی مانند آئے گی واپس وہ لبابہ کی بیٹی ہے۔۔۔پر گھمنڈی بھی ہے اسکی آنکھوں میں تمہارے لیے عزت ہی نہیں پیار بھی دیکھا میں نے تمہارے لیے۔۔۔اور میں جانتا ہوں۔۔۔
وہ محبت میں حاصل کرنے والوں میں سے ہے۔۔۔”
انکے چہرے پر ایک مسکان آگئی تھی ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اب کیسی ہو بیٹا۔۔؟؟”
“میں ٹھیک ہوں شہناز بی۔۔۔ڈسچارج کب ہوں گی میں۔۔؟؟”
عُشنا کے چہرے پر کوئی ایک تاثر نہیں تھا وہ سامنے وال پر کسی پتھر کی طرح دیکھ رہی تھی
“عشنا بیٹا ڈاکٹرز ابھی دو ہفتے تک تمہیں یہاں رکھنا چاہتے ہیں۔۔۔سر کی چوٹ کی وجہ سے۔۔”
“ڈیٹس اٹ۔۔۔شہناز بی۔۔۔میرا سیل فون مجھے لا دیجئے۔۔میں شانزے کو اور اپنے مینیجر کو فون کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
“پر بیٹا۔۔۔”
“آپ کی ڈیوٹی میری دیکھ بھال کی نہیں میری ماں کی دیکھ بھال کی ہے۔۔۔آپ جا سکتی ہیں۔۔۔”
اسکے لہجے میں غرور نے شہناز بی کو رولا دیا تھا۔۔۔اور روتے ہوئے انہوں نے عُشنا کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔
“عُشنا اسے ضرورت ہے تمہاری اب اسے چھوڑ کر مت جانا اس سے ناراض ہوجاؤ پر اسے تنہا مت کرکے جانا ۔۔۔”
کچھ دیر خاموشی چھا گئی تھی وہاں۔۔۔اور پھر عشنا نے نے انکی کمر پر ہاتھ رکھا تھا انہیں دلاسہ دیا تھا اسکے اس ایکٹ نے۔۔۔
“میں انہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔آپ نے ایسا سوچ بھی کیسے کیا شہناز بی۔۔؟
میں انہیں چھوڑ کر جاؤں گی بھی تو کس کے پاس۔۔؟ کون ہے میرا ماما کے سوا۔۔۔؟؟”
آنکھیں نم ہوئی تھی جب ارحام کا چہرہ اسکے سامنے آیا تھا۔
“تم جانتی نہیں ہو بیٹا کتنی خوشی دی ہے تم نے مجھے۔۔۔میں معافی مانگتی ہوں لبابہ کی طرف سے بیٹا بہت تکلیف ہوئی تمہیں۔۔۔”
عشنا کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا انہوں نے۔۔
“اب ٹھیک ہوں میں آپ فکر مت کیجئے۔۔۔”
“بیٹا۔۔۔”
“شہناز بی ۔۔۔مجھے گھر جانا ہے میرا فون دہ دیجئے۔۔۔”
عُشنا نے منہ دوسری طرف کرلیا تھا ڈسمس کردیا تھا۔۔۔
“اوکے بیٹا۔۔۔”
وہ گہرا سانس لے کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
“ماما سب کو کیوں میں ڈیڈ جیسی لگتی ہوں۔۔؟
میں نے زندگی میں ارحام کے علاوہ کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔۔۔میں ڈیڈ جیسی نہیں شہناز بی۔۔۔
ہاں جسے چھوڑا وہ ضرور انکے جیسا تھا۔۔۔”
۔
عُشنا نے آنکھیں بند کرلی تھی۔۔۔بےچینی اسے پھر سے ہورہی تھی۔۔
“میں ماما کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں جبکہ میں خود چھوڑ چھاڑ آئی ہوں انکے لیے سب کچھ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عاصم بیٹا تمہیں عشنا کے پاس جانا چاہیے پتا نہیں کیوں دل بہت گھبرا رہا ہے میرا۔۔”
علیزے بیگم عاصم کے روم میں داخل ہوئی تھے کافی کے مگ کے ساتھ
“موم میں پہلے ہی ڈسکس کرچکا ہوں آپ سے اس بات کو۔۔وہ اس کنٹری سے جا چکی ہے۔۔”
“وٹ۔۔؟ وہ جا چکی ہے اور تم نے یہ بات بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔؟؟”
“کیا بتاتا۔۔؟ جس شخص کے لیے وہ مجھے کتنی بار ٹھکرا چکی تھی اب وہ عین ٹائم پر اپنی منگنی بھی چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔
اور یہ نیوز دیکھیں۔۔۔۔مجھے حیرانگی تھی کہ کیوں گئی اب سمجھ آئی کہ اس نے ان لوگوں کی گیم سمجھ لی تھی۔۔۔
اسے گئے ٹائم نہیں ہوا ہوگا اور ضیشم صاحب نے رشنا کی منگنی کروا دی۔۔۔”
اخبار پکڑنے کے بجائے کھینچا تھا علیزے بیگم نے۔۔۔
“یہ کیا بکواس ہے۔۔۔اور نئی ‘سی-ای-او۔۔’ یہ کب ہوا۔۔؟ وہ سیٹ تو عشنا کی تھی”
وہ پریشان ہوکر بیڈ پر بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔
۔
“وہ لوگ کس چیز میں ایکسپرٹ ہیں موم۔۔؟؟ ریپلیس کرنے میں ایکسپرٹ ہیں وہ لوگ
جیسے لبابہ ماسی کو کیا تھا۔۔اب انکی بیٹی کو کردیا۔۔۔”
“مجھے موم کو بتانا پڑے گا ۔۔وہ کورٹ نوٹس بھیجیں گی ان لوگوں کو وہ پیسہ وہ کمپنی لبابہ کی تھی”
وہ غصے سے اٹھی تھیں۔۔۔
“موم رک جائیں نانو کو سٹریس نہ دیجئے۔۔۔میں نے جو اب کیا ہے نا اسے دیکھ کر عُشنا ضیشم کو واپس آنا ہی ہوگا۔۔۔”
“کیا مطلب کیا کردیا تم نے۔۔؟؟”
“شہناز بی کو فون کر کے سب بتا دیا ہے۔۔۔اب آگے آپ ان پر چھوڑ دیں۔۔۔
عشنا کو ہینڈل کرنے دیں۔۔میں جانتا ہوں وہ یہ سب نیوز دیکھنے کے بعد واپس آئے گی اپنا حق لینے کے لیے۔۔۔”
“عاصم عُشنا اگر خاموشی سے گئی ہے تو وہ واپس نہیں آئے گی۔۔۔”
“موم یہ نیوز دیکھی ہے آپ نے۔۔؟؟ اسکا ہونے والا منگیتر اب کسی اور کا ہے اور اسکی موم کی وہ کمپنی بھی۔۔۔
آپ دیکھنا وہ کسی طوفان کی طرح آئے گی۔۔۔شرط لگا لیجیئے وہ آئے گی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔”
۔
“باہر کھڑی ہوکر دیکھتی رہو گی لبابہ۔۔؟ اسکے کمرے میں نہیں جاؤ گی۔۔؟؟”
ہال کی لائٹ جیسے ہی آن ہوئی تھی عُشنا کو چھپ چھپ کردیکھنے والی لبابہ ایک دم سے گھبرا گئیں تھیں۔۔۔
“آج تم اپنے کمرے سے خود اپنے قدموں پر باہر آئی ہو لبابہ۔۔۔یا آج میں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تمہیں۔۔۔؟؟”
لبابہ خاموش تھیں نظریں ابھی بھی عُشنا پر تھی جس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی
“وہ جب سے ہسپتال آئی ہے ایک بار بھی میرے کمرے میں نہیں آئی شہناز باجی۔۔
نفرت ہوگئی ہے مجھ سے۔۔؟؟ وہ چھوڑ جائے گی مجھے۔۔؟؟”
انہوں نے مڑ کر دیکھا تھا شہناز بی کو۔۔۔آنکھوں میں پچھتاوا بھی تھا اور آنسو بھی۔۔۔
جو ان سالوں میں کبھی بہنا بند نہیں ہوئے تھے
“وہ کیسے چھوڑ کر جا سکتی ہے جو سب کو چھوڑ آئی تمہارے لیے۔۔۔یہی اس نے بہت سال پہلے کیا تھا لبابہ۔۔۔میرے ساتھ چلو۔۔۔”
وہ انکا ہاتھ پکڑے اپنے کمرے میں لے گئی تھی۔۔۔۔
۔
“تم جانتی ہو کتنے سال اسکے بوڈنگ میں گزر گئے کسی لاوارث کی طرح۔۔۔
ضیشم نے اسے 5 سال کی عمر میں ڈال دیا تھا بوڈنگ میں۔۔۔
وہ وہیں پلی بڑی۔۔۔۔تمہارے گھر والے بھی اس وقت کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے تھے تم سے”
۔
انہوں نے وہ باتیں بھی بتائیں جو لبابہ کی حالت اور خراب کرسکتیں تھیں۔۔۔
پر وہ آج سب بتانا چاہتی تھیں۔۔آج موقع تھا ماں بیٹی کو ایک کرنے کا ان دونوں کو ملوانے کا۔۔۔
“آپ بس کردیں۔۔۔”
وہ اٹھ گئیں تھیں کھڑکی سے پردے پیچھے کردئیے تھے جیسے ان کا سانس گھٹ رہا ہو
“لبابہ۔۔۔وہ پاکستان گئی تھی۔۔۔اس کمپنی کے لیے جو شاید ضیشم اپنی دوسرے بیٹی کو دینے والا تھا۔۔۔”
ونڈو کے شیشے پر سر رکھ دیا تھا۔۔۔انکے آنسوؤں نے انکا چہرہ پوری طرح سے بھگودیا تھا۔۔۔
“تم جانتی ہون تم کیا اپنی جوانی میں گھمنڈی ہوگی جو تمہاری بیٹی بنی ہے۔۔۔وہ پتا ہے کس نام سے مشہور ہے۔۔؟؟”
“ہاہاہا گھمنڈی۔۔۔”
لبابہ نے ہنستے ہوئے کہا تھا اور روتے ہوئے گھٹنوں میں بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔
“لبابہ ۔۔۔وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔اور جب اسے پتا چلے گا کہ جس کے ساتھ اسکی منگنی ہونی تھی اب اسی کی چھوٹی بہن کی ہوگئی ہے تو اس پر کیا گزرے گی۔۔۔”
“کیا۔۔۔؟؟؟”
لبابہ نے حیران ہوکر پوچھا تھا۔۔۔
“میں نے جتنی معلومات اکٹھی کی ہیں۔۔۔سب یہی اشارہ کر رہی ہیں عُشنا کو اس لڑکے سے محبت ہوگئی تھی۔۔۔جس کے ساتھ اسکی منگنی ہونی تھی۔۔۔۔اور۔۔۔”
“اور کیا شہناز بی۔۔؟ یہ مت کہیے گا میری بیٹی نے میرے جیسا نصیب پایا ہے۔۔۔”
ان میں ہمت نہیں تھی اور سننے کی انکی بس ہوگئی تھی۔۔۔
“میں نے فون کردیا تھا اسے،،، تمہاری حالت کا بتا دیا تھا لبابہ۔۔۔اور وہ چلی آئی سب چھوڑ چھاڑ کر آگئی۔۔۔اب جب اسے یہ پتا چلے گا تو کیا گزرے گی اس پر۔۔؟؟
اب کمپنی کی ‘سی ای او ‘ بھی رشنا کو بنا دیا گیا ہے۔۔۔۔”
۔
“اس شخص نے میر ےساتھ کم ناانصافیاں کی تھی شہناز بی جو میری بیٹی کے ساتھ اتنا کچھ کردیا۔۔”
“تمہیں پتا ہے۔۔۔وہ وہ بن گئی ہے جو تمہارا خواب تھا لبابہ۔۔۔
اب وہ ۔۔۔وہ بن رہی ہے جو تمہیں بننا تھا۔۔۔۔”
وہ کاغذ وہیں چھوڑ گئیں تھیں شہناز بی اور چلی گئی تھیں وہاں سے۔۔۔
انہیں پتا تھا وقت چاہیے لبابہ کو۔۔۔
۔
انکے جانے کے بعد لبابہ سب کچھ لیکر عشنا کے روم میں چلی گئیں تھی۔۔۔اپنی اس بیٹی کے پاس جس سے انہیں بہت نفرت تھی کچھ دن پہلے۔۔۔۔
کچھ دن پہلے جو خود اپنی بیٹی کو مارنا چاہتی تھی۔۔۔
وہ بیٹی جو انہیں ایک ہی شخص کی یاد دلاتی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آج سے میری بیٹی رشنا ضیشم اس کمپنی کی ‘سی-ای-او’ ہیں۔۔۔”
“واااوووو ڈیڈ۔۔۔ آئی لووو یو سوووو مچھ۔۔۔۔۔”
رشنا اپنی سیٹ سے اٹھ گئی تھی۔۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو میڈم رشنا جی۔۔۔”
ارحام نے چھیڑتے ہوئے کہا تھا اسے۔۔۔
“ہاہاہاہ۔۔۔تھینک یو سر۔۔۔میرے پرسنل اسسٹنٹ بنو گے۔۔؟؟؟”
رشنا نے سرگوشی کی تھی جو سب کو ہی سنائی دی تھی۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو رشنا بیٹا۔۔۔”
“تھینک یو انکل۔۔۔”
“اظہر میری بیٹی کو مبارک باد نہیں دو گے۔۔؟”
ضیشم صاحب نے بورڈ آف ڈائیریکٹر ممبر کو کہا تھا،،
“اگر رشنا ڈیزرو کرتی تو ضرور کہتا میں۔۔۔بٹ ہم سب ہی جانتے ہیں اس سیٹ کو کون زیادہ ڈیزرو کرتا تھا۔۔۔۔”
ارحام کے چہرے کی مسکان چلی گئی تھی اتنے دنوں کے بعد وہی نام سنائی دیا تھا جسے وہ بھلانا چاہتا تھا۔۔۔
۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟ میں اس کمپنی کے فیصلے لے سکتا ہوں۔۔۔ نوے فیصد شئیرز میرے ہیں
تم میرے فیصلے کے پابند ہو اظہر۔۔۔”
“تم ان شئیرز کے ہولڈر اس لیے ہو کہ تم نے پہلے اپنی بیوی کو اس پوسٹ سے نکال باہر کیا اور پھر اپنی بیٹی کو۔۔۔ایم سوری۔۔۔میری بات بُری لگی ہو تو۔۔۔”
وہ اپنی فائلز اٹھا کر باہر چلے گئے تھے۔۔۔
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔سر۔۔۔”
ارحام بھی وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔اور سب ممبرز چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔آپ فکر نہیں کریں میں اپنی محنت سے سب کے دل جیت لوں گی۔۔۔۔”
رشنا نے ضیشم صاحب کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اپنی بیٹی کا دل جیتنے کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا شہناز بی۔۔۔؟؟ کلا رات سے ایسے ہی سو رہی ہے اسے ہوش کیوں نہیں آرہا۔۔؟؟”
وہ جو زمین پر عشنا کے بیڈ پر سر رکھ کر رات سے لیٹی ہوئی تھی شہناز بی کو کمرے میں آتے دیکھ انہوں نے پوچھا تھا۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔لبابہ تم یہاں ہو زمین سے اٹھو۔۔۔کیا کر رہی ہو۔۔۔تم بیمار پڑ جاؤ گی اپنی دوائی کھا لو۔۔۔”
انہوں نے لبابہ کا ہاتھ پکڑ کر روم سے باہر لے جانے کی کوشش کی تھی
“شہناز بی میں نے دوائی کھا لی تو میں اس دنیا سے اس دنیا میں چلی جاؤں گی جہاں صرف اندھیرا ہے۔۔
اور اگر ایک بار واپس اس اندھیرے میں چلی گئی تو پھر یہ ہمت نہیں جُٹا پاؤں گی جو اب دیکھا رہی ہوں۔۔اپنی بدنصیب بیٹی کے پاس بیٹھ کر۔۔۔جسکے ماں باپ دونوں نے اسے یتیم بنا دیا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم ابراہیم بھائی سے بات کریں نا شادی کی۔۔۔”
“میں یہاں عشنا سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں پچھلے ایک مہینے سے تابین۔۔۔
شادی کر دیں رشنا کی جب کہ عشنا کا کچھ پتا نہیں چل رہا۔۔۔”
انہوں نے اری ٹیٹ ہوکر کہا تھا
“تو پتا کرنا ہی کیوں ہے ضیشم۔۔؟؟ امی تو جا چکی ہیں آپ کی بہن بھی گئی۔۔۔اب تو کسی کو جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
“جواب دینے کی ضرورت ہے تابین۔۔۔میرے ضمیر کو جواب دینا ہے میں نے وہ جب سے یہاں سے گئی ہے میں نے ناراضگی میں غصے میں یہ جاننے کی کوشش نہیں کی تھی میرے مینیجر نے اسکی فلائٹ کنفرم کردی تھی۔۔۔
پر اب اٹس ٹو مچ۔۔۔پورا مہینہ ہونے والا ہے۔۔۔”
“ضیشم آئی ڈونٹ تھینک سو۔۔۔۔ اٹس ہائی ٹائم۔۔۔اب ہمارے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔۔۔بات کیجئے شادی کی۔۔۔
یا پھر کمپنی کی سیریمنی میں آناؤنسمنٹ کردیں۔۔۔جب آفیشیلی رشنا ‘سی-ای-او’ بنے گی تو شادی کی ڈیٹ بھی اناؤنس کیجئے۔۔۔”
۔
وہ غصے سے چلائی تھی اور پھر انکی آنکھوں میں آرہے آنسوؤں نے نرم کردیاتھا ضیشم صاحب کو
“اوکے ریلیکس۔۔۔میں کروں گا بات۔۔۔ ابھی 2 مہینے ہیں ۔۔میں کہتا ہوں ابراہیم سے تب تک کرتے ہیں کچھ۔۔۔”
“سچ میں۔۔۔؟؟ رشنا کتنا خوش ہوگی۔۔۔بس یہ وقت جلدی سے گزر جائے۔۔۔”
۔
وہ خوشی خوشی رشنا کے روم میں گئی تھی
انہیں کیا پتا تھا دو مہینوں کے بعد ایک ایسے طوفان نے آنا تھا اور سب کچھ برباد کر کے رکھ دینا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ ایسے کیوں جا رہی ہیں۔۔۔؟؟ ساتھ والے ڈراؤر میں گن پڑی ہے۔۔۔اور فروٹ والی ٹرے میں چھری۔۔۔ماما میں پھر سے سونے کی ایکٹنگ کرتی ہوں آپ مجھے مار کر سب ختم کردیں۔۔۔”
لبابہ کا ہاتھ پکڑ کر عشنا نے بند آنکھوں سے کہا تھا۔۔۔
“تم جاگ رہی تھی۔۔۔”
“ہر روز کی طرح آج بھی آنکھ کھل گئی تھی ماما۔۔۔کہتے ہیں بچے ایک قدم بھی اٹھاتے ہیں ماں کو پتا چل جاتا ہے۔۔
اور یہاں آپ ایک قدم اٹھا رہی تھیں اور مجھے خبر مل رہی تھی میرا دل دے رہا تھا۔۔”
اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ لبابہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھیں۔۔۔عُشنا کے گلے جیسے ہی لگیں تھیں وہ اس کمرے میں دونوں ماں بیٹی کے رونے کی آواز گونج رہی تھی۔۔۔
گھر کے ملازموں نے لبابہ کو تو روتے ہوئے دیکھا تھا سنا تھا۔۔
پر اس گھمنڈی کے رونے نے سب کو رولا دیا تھا۔۔۔
“ماما میں آج بھی وہیں کھڑی ہوں۔۔۔۔میں آج بھی وہی ہوں آپ کی عُشنا وہ پانچ سال کی پری آپ کی۔۔۔”
“عُشنا میری پری۔۔۔کیا کردیا میں نے۔۔۔کیا کردیا تمہیں کبھی رونے نہیں دیا تھا بچپن میں میں نے۔۔اور میری لاپروائی نے تمہیں کتنی تکلیفیں کتنی اذیتیں دہ دیں۔۔۔
کتنی بڑی مجرم ہوں میں تمہاری۔۔جو شوہر کے دھوکے میں اولاد سے نفرت کر بیٹھی تمہیں گنوا دیا میں نے تمہارے بچپن کو گنوا دیا عُشنا میں نے۔۔۔کتنی ظالم ماں ثابت ہوئی ہوں میں”
ہونکوں اور سسکیوں سے بھری آوازیں نیچے ہال تک سنی جا رہیں تھی ان دونوں ماں بیٹی کی
“آپ تو خود مظلوم تھیں ماما۔۔۔آپ تو خود اذیتوں میں رہی۔۔۔آپ تو خود تکلیفوں میں رہ ماما۔۔ہم دونوں سے ہم دونوں کو چھین لیا گیا
میں ڈیڈ کو کبھی معاف نہیں کروں گی ماما۔۔۔وہ اچھے نہیں ہیں۔۔۔”
عشنا نے کسی معصوم بچے کی طرح شکایت لگائی تھی۔۔۔
اب تو روتے روتے آنکھیں سوجھ گئیں تھیں۔۔۔چکر آنا شروع ہوگئے تھے اسے
“میں بھی معاف نہیں کروں گی بیٹا۔۔۔پر جو تمہارے ساتھ کیا ہے ضیشم نے اس کا حساب تو دینا ہی ہوگا اسے۔۔۔میرا حق تو چھین لیا تابین نے پر میری بیٹی کا جو تھا اسے وہی ملے گا۔۔۔
پھر چاہے وہ کمپنی ہو یا وہ لڑکا۔۔۔”
۔
انہوں نے جیسے ہی عُشنا کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا عشنا کی آنکھیں بند ہوچکی تھیں۔۔۔
۔
ہمت نہیں تھی تو وہ بھی وہیں لیٹ گئیں تھیں عُشنا کے ساتھ۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ماہ بعد۔۔۔۔”
۔
“میں آج کے دن دو بڑی نیوز شئیر کرنا چاہتا ہوں آپ سے۔۔۔
میں میرے ہونے والے داماد مسٹر ارحام ابراہیم کو اس کمپنی میں اپنا پارٹنر بنانے جا رہا ہوں۔۔۔
اور کمپنی کی ‘سی-ای-او’ میری بیٹی رشنا ۔۔۔”
کانفرنس روم تالیوں سے گونج اٹھا تھا۔۔۔
اور اسی وقت نیچے آفس کی بلڈنگ کے سامنے دو گاڑیاں پارک ہوئی تھی۔۔۔
فرسٹ فلور پوری طرح سے خالی تھا۔۔۔انکی ہیلز کی آواز تھی جو سنائی دے رہی تھی۔۔۔
۔
“موم ایم سو ہیپی۔۔۔۔تھینک یو سوو مچ ڈیڈ۔۔۔”
رشنا نے تابین کو گلے سے لگا لیا تھا
“اور میں دوسری گڈ نیوز یہ دینا چاہتا ہوں کہ میری بیٹی کی شادی اگلے مہینے کی۔۔۔”
“گڈ ایووننگ ایوری ون۔۔۔”
گارڈ نے دروازہ جیسے ہی کھولا تھا پورے سٹائل سے وہ دونوں ماں بیٹی اندر داخل ہوئی تھیں۔۔۔
اور جو لوگ بیٹھے تھے جو لوگ کمپنی کے بہت پرانے ایمپلائے تھے وہ شاکڈ سے کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔
“لبابہ۔۔۔۔” تابین نے سرگوشی کی تھی اور اسے وقت لبابہ نے اپنی گلاسیز اتار دی تھی اور
“یا ڈیٹس مئ لبابہ شیر گل۔۔۔اس کمپنی کی لیگل اونر۔۔۔ 70٪ شئیرز ہولڈر۔۔”
“گڈ ایووننگ آپ سب بیٹھ سکتے ہیں آئی تھینک اب رئیل اونر کے آنے سے ابھی تک کے تمام فیصلے پینڈنگ ہوجائیں گے۔۔۔ڈیڈ۔۔۔پلیز سٹ۔۔۔”
عُشنا نے ضیشم صاحب کو بہت ریسپیکٹ سے کہا تھا اور ارحام کے پاس سے گزر گئی تھی۔۔۔
سب اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھنے لگے تھے جب لبابہ ہیڈ چئیر کی جانب بڑھی تھی جس پر ضیشم صاحب نے بیٹھنا تھا
“آئی تھنک یہ میری سیٹ ہے آپ دوسری کرسی پر بیٹھیں۔۔۔”
وہ جو ابھی تک ایک شاکڈ سٹیٹ میں تھے۔۔۔لبابہ کو اتنے قریب سے سن کر ایک جھٹکے سے باہر آئے تھے۔۔۔اور اس انسلٹ پر وہ خاموشی سے دوسری کرسی پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“آپ بھی بیٹھ جائیں مسٹر ارحام۔۔۔۔”
کسی نے ارحام کو کھڑے دیکھ کر کہا تھا۔۔۔جو کب سے عُشنا کی جانب ہی متوجہ تھا۔۔۔
“انکا کیا کام ہے یہاں سینئرز میں بیٹھنے کا۔۔؟؟ یہ بورڈ آف ممبرز ہیں۔۔؟؟ شئیرز ہولڈر ہیں۔۔؟ کیا ہیں۔۔۔ایک معمولی سیکٹری ہیں جہاں تک مجھے یاد ہے۔۔۔”
عُشنا نے سخت لہجے میں کہا تھا اور پہلی بار۔۔۔اس گھمنڈی نے چار لوگوں میں اس شخص کی بےعزتی کی تھی۔۔۔جو رشنا کے اتنے پاس کھڑا تھا
“عشنا بیٹا۔۔۔”
ضیشم صاحب کی آنکھوں میں غصہ تھا پر کسی کے سامنے وہ کچھ کہنا نہیں چاہتے تھے
“مسٹر ضیشم یہ آفس ہے۔۔۔بی پروفیشنل۔۔۔بیٹا بیٹی داماد اور پروموشن ایسے کام نہیں ہونے چاہیے۔۔۔۔”
“ارحام یہاں سے نہیں جائے گا۔۔۔اگر یہ گیا تو میں بھی چلی جاؤں گی۔۔”
“تو چلی جاؤ۔۔۔تم۔۔۔”
“اٹس اوکے مس عُشنا۔۔۔میں جو بھی یہاں اناؤنس کرنا چاہتی ہوں انکا سننا بھی ضروری ہے۔۔۔”
اور تابین غصے سے بیٹھ گئی تھی سب کے ساتھ۔۔۔
عُشنا کی غصہ کرتی نگاہ رشنا کے ہاتھ پر تھی جو ارحام کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھی۔۔۔
اور لبابہ کی نظریں اپنی بیٹی پر اپنے چہرے کی مسکان وہ روک نہیں پائی تھی۔۔۔
“لبابہ۔۔۔۔”
پر ضیشم صاحب کی زبان سے اپنا نام سن کر انکے چہرے کی وہ مسکان ایک غصے میں بدل گئی تھی۔۔۔
“مس لبابہ۔۔۔مسٹر ضیشم۔۔۔”
ایک اور انسلٹ سیدھا منہ پر ہوئی تھی انکی۔۔۔
“لبابہ۔۔۔میرا مطلب ہے مس لبابہ۔۔۔مجھے یقین نہیں آرہا میری آنکھوں پر۔۔۔
تم تو پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوکر آئی ہو۔۔۔”
اظہر صاحب کے کھلے الفاظ پر جہاں سب حیران تھے وہیں لبابہ کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔۔
“تم بلکل نہیں بدلے۔۔۔بڈھے ہوگئے ہو پھر بھی۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔جاؤ جاؤ نہیں ہوا بڈھا جوان ہوں۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔”
انکی باتوں پر بہت لوگ ہنسے تھے
“اب پروفیشنل لیکچر کہاں گیا آپ کا۔۔؟؟”
رشنا نے اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔
“آواز نیچیکرکے بات کرو۔۔”
“اٹس اوکے عشنا۔۔۔ویسے بھی میری اناؤنسمنٹ کے بعد انکی آوازیں بند ہوجانی ہے۔۔۔”
اور انہوں نے اپنے گارڈ کو اشارہ کیا تھا جس نے دو فائلز انکے سامنے رکھ دی تھی۔۔۔
۔
“ابھی تک جو بھی فیصلے ہوئے اور آج جو اناونسمنٹ مسٹر ضیشم نے کی ہیں میں ان سب کو ری جیکٹ کرتی ہوں۔۔۔
اس کمپنی کی ‘سی-ای-او’ میری بیٹی عُشنا بنیں گی۔۔۔جو پہلے سے تھیں۔۔۔”
“پر وہ جا چکی تھی یہاں سے۔۔۔ڈیڈ آپ کچھ کہیں پلیز۔۔۔”
رشنا اپنی جگہ سے اٹھ کر چلائی تھی۔۔۔
“میں کر رہا ہوں بات بیٹا بیٹھ جاؤ۔۔۔
مس لبابہ جہاں تک مجھے یاد ہے اس کمپنی کے 50 فیصد شئیر آپ کے پاس تھے۔۔ آپ میرے کئیے گئے فیصلے کو رد نہیں کر سکتیں۔۔۔”
“مسٹر ضیشم یہ رہے وہ تمام شئیرز جو میرے نام پر ٹرانسفر ہوئے اور اب میری بیٹی عشنا شیرگل کے نام پر ہیں۔۔”
“عشنا شیر گل۔۔؟؟ سیریسلی۔۔؟ وہ عشنا ضیشم ہے۔۔۔”
“ان دونوں کی لڑائی پر عشنا نے اس ٹیبل سے نظریں اٹھائیں تھیں اور اسکی آنکھیں اس شخص سے جا ٹکرائی تھیں جو خاموش تھا ابھی تک۔۔۔
“آپ سب نے سن لیا ہوگا۔۔۔آُ سب جا سکتے ہیں باقی میٹنگ ہم کچھ دیر بعد کنٹینیو کریں گے۔۔۔گڈ ڈے۔۔۔”
سب ممبرز وہا ں سے چلے گئے تھے۔۔۔
“اینڈ یو مسٹر ارحام۔۔۔ اپنی پرانی ڈیوٹی پر آجائیں جس کا کنٹریکٹ سائن کیا تھا کمپنی کے ساتھ آپ نے میرے پرسنل سیکٹری ہیں آپ۔۔۔اب آپ جا سکتے ہیں۔۔۔باہر والوں کا فیملی میٹر میں کوئی کام نہیں۔۔۔”
اسکا لہجہ اتنا سخص اور ٹھنڈا تو شاید انکی پہلی ملاقات پر بھی نہیں تھا جو آج تھا۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔