51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

“میں کیا کہوں۔۔؟؟ شکریہ کہوں یا کچھ بہت برا کہوں۔۔؟ میرا موبائل خراب ہوگیا کتنے گھنٹے بارش میں کھڑے رہنے سے مس عشنا،۔۔۔لیکن میں ہار نہیں مانوں گا۔۔۔”
عشنا نے کچھ نہیں کہا تھا بس گاڑی چلا دی تھی۔۔
“ارحام تم نہیں جانتے کتنا پریشا ہوگئے تھے سب۔۔۔”
فلذہ کا ہاتھ جیسے ہی ارحام کے کندھے کو چھوا تھا۔۔۔سٹئیرنگ ویل پر عشنا کی گرفت اتنی ہی مظبوط ہوگئی تھی۔۔۔
۔
۔
وہ تینوں تو اندر چلے گئے تھے پر وہ گھمنڈی وہیں کھڑی تھی۔۔۔نہ وہ گاڑی چلا رہی تھی نہ ہی انجن بند کر رہی تھی۔۔
اور اسکی نظر سیٹ پر پڑے ارحام کے بیگ پر پڑ گئی تھی۔۔۔
۔
وہ لڑکی جو آفس سے لیکر یہاں تک بارش کے ایک قطرے سے بچتی رہی اب ارحام ابراہیم کا بیگ اٹھا کر تیز بارش میں ابراہیم ہاؤس جا رہی تھی۔۔
۔
اسکی ہیلز جب اس جمع ہوئے پانی میں ڈوبی تھی اس نے خود کو ایک دم سے روک لیا تھا۔۔اسکے پاس ابھی بھی آپشن تھا پیچھے مڑ جانے کا واپس لوٹ جانے کا لیکن وہ اس کیچڑ سےبھرے پانی میں پاؤں ڈالے اسی گھر کی طرف جا رہی تھی ہاتھ میں ارحام کا بیگ پکڑے
۔
۔
“کیا ارحام بھیا آج پھر تایا جان سے ڈانٹ پڑنےوالی ہے۔۔ایک اور انٹرویو خراب ہوگیا۔۔؟”
“ارحام میں کہہ رہا ہوں اگر آج نہیں ملی تو کل میں خود تمہیں اپنے دوست کے آفس میں سیکیورٹی گارڈ کی کرسی پر بٹھا۔۔۔”
“مجھے جاب مل گئی ہے ابو وہ۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔”
“ہاہاہا اتنا ہچکچا رہے ہیں کیا آفس بوائےکی جاب ملی ہے۔۔ارحام۔۔؟”
رخسار نے قہقہ لگاتے ہوئے پوچھا تھا
“آفس بوائے بھی کوئی بری نوکری نہیں ارحام بیٹا تم نہ امید مت ہو۔۔۔”
ارحام کی امی کو سب بچوں پر غصہ آرہا تھا وہ اپنے بڑے بیٹے مننان کو بھی غصے سے دیکھ رہی تھیں جس نے لاپروائی میں کندھے اچکا دئیے تھے
“مننان آپ ارحام کو کسی سفارش پر نوکری دلوا دیں ارحام نے باقی کی زندگی بھی ایسے ہی ضائع کردینی ہے۔۔”
فلذہ پاس سے طنز کرتے ہوئے گزری تھی
“ہاہاہاہا اب تو بیسٹ فرینڈ نے بھی پارٹی بدل لی ہے ارحام۔۔۔آفس بوائے جاب پر بہت بہت مبارک ہو۔۔۔”
رخسار اسکے پاس آنے کے لیے جیسے ہی دو قدم بڑھی تھی پیچھے کھڑی ہوئی وہ گھمنڈی بھی اتنے ہی قدم آگے بڑھی تھی۔۔۔
“کس نے کہا ارحام کو آفس بوائے جاب ملے گی ایم بی اے کی ڈگری کے ساتھ۔۔؟
اتنی زبانوں کو سیکھنے کے بعد۔۔۔اتنے ڈپلوماز اور یونیورسٹی ٹاپر ہونے کے باوجود آفس بوائے۔۔؟ مسٹر ارحام میرے آفس میں ابراہیم انڈسٹریز کے ‘سی-ای-او’ کے پرسنل سیکریٹری ہیں۔۔۔اپنی قابلیت پر انہوں نے آج کا انٹرویو پاس کیا۔۔۔”
وہ ارحام کے پاس آکر جیسے ہی رکی تھی فلذہ کے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے قدم بھی وہیں رک گئے تھے
ارحام کی سانس اٹک گئی تھی عشنا کو اپنے پاس کھڑے اور اسے اس طرح ڈیفینڈ کرتے ہوئے
۔
“جذبات نئے سے ملے ہیں۔۔ جانے کیا اثر یہ ہوا ہے۔۔۔
اک آس ملی پھر مجھ کو۔۔۔جو قبول کسی نے کیا۔۔۔”
“عُشنا میم۔۔۔وہ۔۔”
ارحام کچھ کہنے لگا تھا جب عشنا نے ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا،،،
“مسٹر ارحام کی سیلری ایک مہینے کی اتنی سائن ہوئی ہے جتنی آپ میں سے کسی جاب پرسن کی ایک سال کی ہوگی۔۔۔”
اور یہ بات عشنا نے مننان کی طرف دیکھ کر کہی تھی
چچی نے ارحام کی والدہ کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا تھا پر سب ہی انجان نے اس اچانک کی اینٹری سے
“عشنا بیٹا۔۔۔آؤ بیٹھو۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے عشنا کو بہت محبت سے کہا تھا۔۔
“نہیں مسٹر ابراہیم۔۔۔دراصل میں ارحام کو گھر تک ڈراپ کرنے آئی تھی ہماری میٹنگ کی وجہ سے یہ لیٹ ہوگئے۔۔۔”
“وااااووو لیٹ ہوگئے۔۔۔ارحام بھائی اتنی عزت۔۔۔”
کچھ میل کزنز نے ہوٹنگ کی تھی اور رخسار پیچھے ہوگئی تھی غصے سے۔۔۔وہ بار فلذہ کو دیکھ رہی تھی اور فلذہ کی نظریں صرف اور صرف ارحام پر تھیں۔۔۔
“وااوووو۔۔۔۔۔یہ مس عشنا ہے یورپ کی فیمس ماڈل اینڈ ڈیزائنر۔۔۔”
پیچھے سے ایک کزن کی آواز پر ارحام کی نظریں اٹھی تھی پر اسکی بھیگی ہوئی حالت دیکھ کر اس نے چہرہ پھر سے دوسری طرف کرلیا تھا۔۔۔اسکی آنکھوں میں شرم و حیا کو پاس کھڑی اس گھمنڈی لڑکی کو بہت زیادہ متاثر کردیا تھا۔۔۔
۔
“میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔۔”
ارحام نے آہستہ آواز میں کہا تھا
“ارحام۔۔۔یہ رات بہت چھوٹی ہے بلکل ہماری زندگی کی طرح۔۔۔لے جانے اور چھوڑنے میں گزر جائے گی۔۔۔سووووان لمحات کو سمیٹ لینا چاہیےان کی قدر کرنی چاہیے۔۔۔آپ کو آپ کی منزل پر چھوڑ دیا اب مجھے اپنا راستہ لینا ہے۔۔۔”
۔
“کسی شاعر کی غزل۔۔جو دے روح کو سکون کے پل
کوئی مجھ کو یوں ملا ہے۔۔۔جیسے بنجارے کو گھر۔۔۔”
۔
اب ارحام کی نظریں اٹھی تھی عشنا کی نظریں پہلے ہی اسکے جھکے ہوئے چہرے پر تھی ایک الگ سما تھا جو انکی نگاہیں ایک دوسرے سے ہٹ نہیں پا رہیں تھیں۔۔۔۔ انکا آئی کنٹیکٹ پہلے عشنا نے توڑا تھا نظریں دوسری طرف کرکے۔۔۔
۔
وہ جانے کے لیے جیسے ہی مڑی تھی ارحام نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“ایک منٹ ویٹ کیجئے گا جائیے گا مت۔۔۔”
وہ اوپر اپنے روم کی طرف بھاگا تھا فلذہ کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے فلذہ کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔
“بیٹا رک جاتی ابراہیم چھوڑ آتے یا صبح چلی جاتی۔۔۔”
ارحام کی امی نے عشنا کے سر پر ہاتھ رکھا تھا بہت پیار سے انہیں خوشی ہوئی تھی سب گھر والوں کے سامنے کوئی انکے ارحام کے لیے بولا تھا۔۔
“اٹس اوکے مسز ابراہیم۔۔۔”
“ہاہاہاہا بیٹا آنٹی کہہ سکتی ہو۔۔۔میں تمہاری ماں۔۔۔”
“بس بیگم وہ ضدی ہے نہیں مانے گی۔۔۔”
انہوں نے لبابہ کا نام لینے سے روک دیا تھا اپنی بیگم کو۔۔۔
“یہ۔۔۔یہ اوڑھ لیں۔۔باہر ٹھنڈ ہے۔۔۔”
ارحام اپنی بلیک چادر لے آیا تھا۔۔۔جو وہ اکثر اوڑھ کر اوپر ٹیرس پر جاتا رہتا ہے۔۔
“اوڑھا دیں۔۔۔اور یہ آپ کا بیگ ۔۔۔”
۔
اس نے بیگ جیسے ہی نیچے رکھا تھا ارحام نے اسکے کندھوں پر چادر اوڑھا دی تھی۔۔۔
۔
“مسٹر ارحام۔۔۔کل وقت پر آفس آئیے گا۔۔۔”
وہ جاتے جاتے رکی تھی۔۔۔اور فلذہ کی آنکھوں میں دیکھ کر اس نے ارحام کے کالر کو ٹھیک کیا تھا۔۔۔
“کل سے ٹائی لگا کر آئیے گا۔۔۔۔۔”
۔
کوئی اور بےہوش ہو نہ ہو پیچھے ایک کزن ضرور نیچے گرگیا تھا۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا یاور تو ہوگیا بےہوش۔۔۔۔یاررر ارحام بھائی۔۔۔۔”
پر ارحام کی نظریں ابھی بھی دروازے پر تھی جہاں سے عشنا باہر گئی تھی
“وہ جا چکی ہے بیٹا۔۔۔”
چچی نے ہنستے ہوئے ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“ہاں۔۔؟؟”
ارحام نے بےخیالی میں پوچھا تھا ان سے۔۔۔اور سب ہنس دئیے تھے سوائے تین لوگوں کے
مننان جی
رخسار صاحبہ
اور فلذہ میڈم۔۔۔
ہر ایک کا اپنا اپنا پوئنٹ آف ویو تھا آج ارحام اور اسکے جاب کو لیکر۔۔۔
“ارحام بھائی کیا لک پایا ہے یار،،، کیا خوبصورت باس۔۔۔”
“بس زیب بیٹا۔۔۔وہ فیملی ممبر ہے۔۔۔ضیشم کی بیٹی ہے کوئی ایسی بات نہ کرو جو ادب سے باہر ہو۔۔”
ابراہیم صاحب وہاں سے چلے گئے تھے بنا ارحام کو مبارک باد دئیے۔۔۔
“بیٹا بہت بہت مبارک ہو۔۔۔”
“بہت مبارک ہو ارحام۔۔۔”
مننان جلدی سے کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔
اور سب ہی ارحام کو مبارک باد دینا شروع ہوگئے تھے ارحام کی سوچ اسکا دھیان ابھی بھی عشنا پر تھا۔۔۔
وہ بےدھیانی میں اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب فلذہ نے اسکا راستہ روک دیا تھا
“یہ سب کیا تھا ارحام۔۔؟؟”
“اب لوزر کہہ کر مخاطب نہیں کریں گی فلذہ میڈم۔۔؟ “
وہ پھر سے پیچھے ہوا تھا دوسری طرف سے اپنے روم کی طرف جانے کے لیے فلذہ بھی اسی سائیڈ پر ہوئی تھی۔۔
“تم جانتے ہو آئی کئیر فور یو ارحام۔۔۔مجھے غصہ ہے ابھی بھی تم پر۔۔۔یہ سب تم پہلے بھی کر سکتے تھے۔۔آج نوکری ہوتی تو ہم دونوں۔۔”
“اننف فلذہ۔۔۔راستہ چھوڑ دو میرا۔۔ تم اس پیار کو رو رہی ہو۔۔۔مجھ سے تو میر وہ دوست بھی چھین لی تم نے جو مجھے سمجھتی تھی۔۔طعنے دینا تو دور کی بات تھی۔۔”
ارحام نے اسکی ہر بات کو درگزر کر دیا تھا آج۔۔وپ اپنے روم کے باہر تھا جب فلذہ کی بات نے اسکے قدم روک دئیے تھے
“کیا لگتی ہے وہ تمہاری۔۔؟ وہ گھمنڈی لڑکی جو کسی سے بات کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتی اس نے کیسے تمہیں اپنے اتنے پاس کھڑے ہونے دیا۔۔؟ ایک ہی دن میں یہ کیسا باس اور ایمپلائے کا رشتہ ہے ارحام۔۔؟؟”
“میں خود نہیں جانتا۔۔۔بس اتنا جانتا ہوں اس گھمنڈی نے میرے دل اور میری نظروں میں ایک نیا مقام حاصل کرلیا ہے فلذہ۔۔۔اب خوش ہو۔۔؟ اور پلیز۔۔اب تم میرے بھائی کی بیوی ہو۔۔تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا مجھ سے ایسے سوال جواب کرنے کا۔۔۔خدا حافظ۔۔۔”
فلذہ کے منہ پر دروازہ بند کردیا تھا اس نے۔۔۔وہ جیسے ہی دروازے پر سر رکھ کر کھڑا ہوا تھا۔۔
آج اسکے خیالوں میں اسکی سوچ میں فلذہ نہیں کوئی اور تھا۔۔
اس نے جلدی سے گھر کے لینڈ لائن سے ضٰشم صاحب کے گھر پر فون کیا تھا۔۔
“ہیلو نسیمہ بی۔۔؟ کیا عُشنا میڈم گھر آگئی ہیں۔۔؟؟”
“جی۔۔۔ابھی ابھی گھر پہنچی ہوں۔۔۔”
عشنا نے گہری سانس لی تھی۔۔۔
“اووو۔۔۔۔اوکے۔۔۔اینڈ تھینک۔۔۔”
“صبح وقت پر آفس میں ملو مجھے۔۔۔”
۔
عشنا نے بےرخی سے جواب دیا تھا اور فون بند کردیا تھا۔۔
۔
“ہاہاہاہا گھمنڈی میری پوری بات تو سن لیتی۔۔”
ارحام بے ساختہ ہنس دیا تھا۔۔۔اپنے کپڑے نکال کر وہ جیسے ہی باتھروم چلا گیا تھا پیچھے سے والدہ گرم کھانا لیکر کمرے میں آگئی تھیں۔۔۔
آج انکا یہاں آنے کا مقصد کچھ اور بھی تھا۔۔۔جو شاید کافی تھا ارحام اور عشنا کے درمیان کم ہونے والی نزدیکیوں کو سرے سے ختم کرنے کے لیے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عشنا بیٹا میں کھانا گرم کروا دیتی ہوں تم بس یہ بھیگے ہوئے کپڑے چینج کر آؤ۔۔پھوپھو تمہارے روم میں ہی ہے تمہارا ویٹ کر رہی تھی۔۔۔
“دادی آپ دونوں بھی نہ۔۔اگر ایسے ہی فکر کریں گے تو میں نے واپس بھاگ جانا ہے۔۔”
“جب میں مرجاؤں تو چلی جانا۔۔”
دادی چئیر پر بی بیٹھ گئیں تھیں۔۔
“دادی میں آپ کو ابھی گلے سے لگا لیتی پر آپ بیمار ہوجائیں گی بس مجھے پانچ منٹ دیجئے۔۔”
وہ دادی کا ہاتھ چوم کر اوپر چلی گئی تھی۔۔۔اپنے روم میں جاتے جاتے اس ماسٹر بیڈروم پر اسکی نظر پڑی تھی جہاں ایک پرفیکٹ فیملی تھی
ضیشم صاحب کے کندھے پر رشنا نے سر رکھا ہوا تھا اور دوسری طرف انکا بیٹا اسکے ساتھ لیٹا ہوا تھا
زرا سا دروازہ کھلا رہ گیا تھا یا پھر کسی نے جان بوجھ کر کھول دیا تھا اس گھمنڈی کو اس گھر میں اور ضیشم صاحب کی زندگی میں اسکی اصل جگہ دیکھانے کے لیے۔۔۔
“ڈیڈ مجھے میری برتھ ڈیٹ پر کیا گفٹ کر رہے ہیں۔۔؟؟”
“کیا گفٹ چاہیے میری پری کو۔۔؟؟”
ضیشم صاحب نے رشنا کے ماتھے پر بوسہ دے کر پوچھا تھا اور اسی وقت انکی نظریں عشنا پر پڑی تھیں۔۔۔جس نے پلکیں جھکا لیں تھیں۔۔۔پلکوں کی قید سے ایک آنسوکا قطرہ جیسے ہی نیچے گرا تھا عشنا نے پلکیں اٹھائیں تھی۔۔۔
اب اسکی آنکھوں میں صرف اور صرف نفرت تھی اس فیملی کے لیے خاص کر اس شخص کے لیے جو سامنے اسکے حصے کا پیار دوسروں میں بانٹنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔
۔
ضیشم صاحب نے بےساختہ اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔پر عشنا وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اب تم کیوں کمرے کا حلیہ بگاڑ رہی ہو رخسار۔۔؟؟”
“باجی مجھے اس وقت آپ کی کوئی بات نہیں سننی آپ تھوڑی دیر بعد نہیں آسکتی یہاں۔۔؟”
رخسار نے تکیہ منہ پر پھر سے رکھ لیا تھا
“نہیں مجھے سونا ہے صبح جانا ہے یونی میں۔۔تم چلی جاؤ اور پچھتاؤ اپنے رویے پر۔۔”
“ایکسکئیوزمئ۔۔؟ میں نے کیا کردیا جو میں پچھتاؤں۔۔؟؟”
“کیا کردیا۔۔؟ ارحام جس کی لیے تمہاری محبتیں ختم نہیں ہو رہی تھی اب ایک دم سے اسے طعنے دینا شروع کردئیے تم نے وہ جو ایک راستہ تھا وہ بھی نہیں چھوڑا اپنے لیے۔۔۔”
انہوں نے رخسار کے منہ سے تکیہ کھینچ لیا تھا
“ایگزیکٹلی یہی پلان تھا باجی۔۔۔میرا اور باقی سب کا اسے ڈی گریڈ کرنا تاکہ جب امی ابو رشتے کی بات کریں تو وہ احسان ہی سمجھیں پر اس۔۔۔”
“اس گھمنڈی امیر۔۔۔اور ماڈل لڑکی نے وہ پلیٹ تمہارے سامنے سے اٹھا لی۔۔۔یا پھر یہ کہوں کے کھینچ لی۔۔؟؟”
انکی طنزیہ بات نے رخسار کو غصے سے لال کردیا تھا۔۔
“آپ کو کیا فلذہ جیسی بلا کو راستے سے ہٹا دیا تو یہ کیا چیز ہے۔۔؟؟ آپ دیکھتی جائیں میں کیا کرتی ہوں وہ ٹک نہیں پائی گی میرے سامنے وہ مجھے نہیں جانتی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وہ مجھے جانتے نہیں ہیں پھر صالحہ۔۔۔میں نہیں کرتی یہ شو ان لوگوں نے جو کرنا ہیں کرلیں انکو میں بیوقوف لگتی ہوں جو میں انکی دھمکیوں میں آجاؤں گی۔۔؟؟
لوگ گواہ ہیں جس نے جب جب عُشنا ضیشم کو اپنا غلام کرنا چاہا اسے منہ کی کھانی پڑی ہیں۔۔۔”
وہ آخری بات ضیشم صاحب کو دیکھ کر کی تھی اس نے جو ابھی ابھی ڈائننگ ٹیبل پر آکر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“میں بہت جلدی واپس آجاؤں گی۔۔۔ یہاں کچھ کھیل کھیلنے میں مجھے خود بھی بہت مزہ آرہا ہے۔۔۔اس بار سامنے والے کو ہرانے نہیں ہے غرور بھی توڑنا ہے۔۔۔”
اور عشنا نے فون بند کردیا تھا۔۔۔دادی ہنستے ہوئے ضیشم کے کھلے منہ کو دیکھ رہیں تھیں۔۔
“آپ نے تو دو گھنٹے پہلے اپنی فیملی کے ساتھ ڈنر کرلیا تھا ڈیڈ اب خیریت ہے۔۔؟؟”
عشنا نے اپنا ڈنر سٹارٹ کردیا تھا۔۔۔
“کیا ایک باپ اپنی بیٹی کے پاس بیٹھ بھی نہیں سکتا۔۔۔؟ اس سے بات بھی نہیں کر سکتا۔۔؟”
عشنا کے ہاتھ پر انہوں نے ہاتھ رکھا تھا انکی آواز بھی بہت بھاری ہوئی تھی انکے جذبات کی طرح
“مجھے یاد ہے آخری بار میرے باپ نے میرے ساتھ بیٹھ کر بات ایک بوڈنگ سکول کے میٹنگ روم میں کی تھی۔۔۔
جہاں میرے باپ نے دو محبت بھرے لفظ بولنے کے بجائے یہ کہا تھا اس بوڈنگ سکول میں میرا گھمنڈ میری عقل ٹھکانے آجائے گی۔۔۔مجھے زندگی گزارنے کا سلیقہ آجائے گا۔۔۔کیونکہ میں باہر کی دنیا کے لیے نقصان دہ ہوں۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔” دادی کے منہ سے ایک آہ نکلی تھی اور ضیشم صاحب نے سر جھکا لیا تھا اپنا۔۔۔
“امی خدا کے لیے سنبھالیں خود کو۔۔۔”
پھوپھو والدہ کے پاس بیٹھ گئیں تھی۔۔۔
“دادی۔۔۔ابھی تو کچھ بتایا بھی نہیں میں نے آپ کا یہ حال ہے سچ جان جائیں گی تو جان سے جائیں گی آپ۔۔۔
وہ لوگ بھی الگ ہوتے ہیں جو کڑوی حقیقتوں کو جان کر بھی جان کی آمان پا جاتے ہیں۔۔۔
زندہ رہتے ہیں ان درد دینے والی حقیقت کے ساتھ۔۔۔”
۔
وہ جتنے قدم دور ہورہی تھی ضیشم صاحب اتنا سمجھ گئے تھے اب یہ دوریاں کبھی ختم ہونے والی نہیں تھیں۔۔
“ضیشم۔۔۔”
“امی اور کچھ مت کہیئے گا۔۔۔”
“ضیشم میں بس اتنا پوچھنا چاہتی ہوں اپنی بیوی اور اپنی بیٹی کے ساتھ اتنی زیادتیاں کرکے تمہیں رات کو نیند کیسے آجاتی ہے۔۔؟ دل گھبرا نہیں جاتا لبابہ کے نام پر۔؟ بیٹی کی فکر نہیں ہوئی جب وہ بوڈنگ میں تھی۔۔؟ کبھی خود پر شرمندگی نہیں ہوئی۔۔؟”
انکی آنکھیں بھر آئیں تھیں ماں باتوں سے۔۔اسی وقت انکے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا تھا
“امی یہ آپ کے بیٹے ہیں آپ کا خون ہیں۔۔۔ انہیں تب ماضی یاد آئے گا جب یہ اپنے مستقبل سے خوش نہیں ہوں گے۔۔۔ہم دونوں اپنے بچوں کے ساتھ بہت خوشہیں ضیشم نے ماضی میں جو بھی فیصلے لئیے اپنی خوشیوں کے لیے کئیے تھے۔۔۔لبابہ اگر موو آن نہیں کر سکی تو یہ اسکی غلطی تھی۔۔۔کر لیتی وہ بھی شادی۔۔بسا لیتی وہ بھی گھر۔۔۔کس نے کہا تھا ضیشم کی محبت میں موت کو۔۔”
“اننف تابین۔۔۔”
ضیشم صاحب جتنے غصے سے اٹھے تھے انکی کرسی پیچھے گر گئی تھی۔۔
“پر ضیشم۔۔۔”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔کمرے میں جاؤ اپنے۔۔۔۔”
وہ منہ بناتے ہوئے دادی کو دیکھ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں تھیں۔۔۔
“امی۔۔ماضی کو ماضی میں رہنے دیں۔۔۔گڑھے مردیں باہر نکالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔”
“بھائی آپ سب کچھ کرلیں جو ہم اس وقت محسوس کر رہے ہیں آپ اسے ہمارے زہنوں سے ہٹا نہیں سکتے۔۔۔
آپ پتھر دل ہیں ہم نہیں۔۔۔۔چلیں امی آپ کو کمرے میں لے جاؤں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“امی آپ سو جاتیں اس وقت تک جاگ رہیں ہیں۔۔۔”
ارحام نے ٹاول اتار کر بیڈ پر پھینک دیا تھا۔۔۔
“ارحام بیٹا نیچے جو ہوا ان سب کی باتوں کو دل پر مت لینا۔۔۔”
ارحام کھانا کھاتے کھاتے رک گیا تھا۔۔۔
“نہیں لیتا امی میں اتنا کمزور نہیں ہوں۔۔”
“میں۔۔۔میں نے پوری کوشش کی تھی تمہاری شادی فلذہ سے ہوجائے۔۔۔پر تمہارے ابو۔۔
انہوں نے میری ایک نہیں سنی۔۔۔”
ارحام کا سر جھک گیا تھا ۔۔ماں تو آخر ماں ہیں پہچان گئیں تھیں
“امی اسے میں ایک لوزر لگنے لگا ہوں وہ جو مجھے ہر ناکامی پر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی تھی۔۔
آپ۔۔آپ جانتی ہیں نہ مجھے نوکریاں ملتی تھیں۔۔۔یہ میرا ضمیر تھا جو ٹھوکر مارتا رہا ہر اس نوکری کو جو حلال رزق نہیں دیتی تھی۔۔۔”
اسکی بھری ہوئیں آنکھیں چھلک گئیں تھیں۔۔۔
“یا اللہ ارحام تم نے اپنے ابو سے بات کیوں نہیں کی۔۔۔”
وہ خود بھی رو دی تھی۔۔ارحام نے کھانے کی ٹرے پیچھے کر کے ماں کی گود میں سر رکھ لیا تھا
“بات کیسے کرتا امی۔۔میں چاہتا تھا نوکری کرکے بات کروں گا میں جانتا تھا ابو بنا نوکری کے میرے رشتے کی بات نہیں کریں گے۔۔اور دیکھیں زرا سی دیر میں کیا سے کیا ہوگیا ہے۔۔۔”
جوان بیٹے کو روتے ہوئے دیکھ شاید ہی کوئی ماں مظبوط رہ سکے
“تم جانتے ہو اس میں بھی اللہ نے کوئی بہتری رکھی ہو ارحام بیٹا تم جانتے ہو اب تم دونوں کے درمیان ایک حیا کا پردہ اب وہ تمہاری بھابھی ہے بیٹا کبھی کچھ ایسا نہ کرنا کہ ہر رشتہ پامال ہوجائے”
۔
“امی کیا یہ تربیت ہے آپ کی۔۔؟ میں نہیں بہک سکتا کبھی بھی فلذہ ایک اچھی لڑکی ہے بہت باحیا اور نیک۔۔۔میں خوش ہوں مننان بھائی کے لیے۔۔۔”
“جیتے رہو میرے لال خوش رہو۔۔۔”
ارحام کے ماتھے پر بوسہ دے کر وہ ارحام کے بال سہلانا شروع ہوگئیں تھیں اور ایک گہری خاموشی چھا گئی تھی وہاں۔۔
“ویسے نیچے زیب ابھی تک بےہوش ہی ہے۔۔کیسے وہ گھمنڈی لڑکی نے اتنی عزت کے ساتھ جاب دہ دی بیٹا۔۔؟؟”
ارحام جو ابھی اداس تھا ہنستے ہوئے اٹھ گیا تھا
“ہاہاہا امی میں سیکریٹری کی جاب سے پہلے وہاں آفس بوائے ہی ہوں۔۔
پتا نہیں کیوں اس نے سب کے سامنے ایسا کیا۔۔۔”
ارحام ایک نئی سوچ میں گم ہوگیا تھا
“کیونکہ وہ تمہیں کسی کے سامنے ذلیل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی ارحام۔۔۔بلکل لبابہ پر گئی ہے۔۔وہ بھی ایسی ہی تھی سخت باہر سے۔۔اور اندر سے نرم “
۔
“پر امی گھمنڈی ہونا اچھی بات نہیں ہے۔۔۔عشنا ضیشم نے چاہے آج جو بھی کیا ہوا وہ اندر سے بھی نرم نہیں ہے۔۔میں جان گیا ہوں اسے۔۔۔نہ کسی کی عزت نہ ہی کسی سے محبت کرسکتے ہیں ایسے لوگ”
“تمہیں پتا ہے ایسے گھمنڈی لوگ جب کسی سے محبت کرتے ہیں تو ایک تاریخ رقم کرجاتے ہیں۔۔جیسے لبابہ نے کی تھی ضیشم بھائی صاحب کے لیے۔۔۔
اسکی محبت کی چمک نے اسکی آنکھوں کو اس طرح سے پُرنور کردیا تھا کہ کسی اور مرد کو پھر ان آنکھوں نے نہیں دیکھا۔۔وہ آنکھیں جیسے اندھی ہوجاتیں تھی کسی غیر مرد کو دیکھتے وقت۔۔۔”
۔
ارحام اٹھ گیا تھا بیڈ سے۔۔۔ایک بےچینی سے ہونا شروع ہوگئی تھی اسے۔۔جیسے ہرٹ بیٹ تیز ہورہی تھی اسکی۔۔۔
“اور مجھے یقین ہے عُشنا کو جس سے بھی محبت ہوگی۔۔وہ بےپناۃ ہوگی بےحد ہوگی۔۔۔
پر میری دعا ہے اسکی زندگی میں ضیشم بھائی صاحب جیسے کوئی شخص نہ آئے۔۔۔”
۔
ارحام کے ماتھے کو چوم کر وہ وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔۔اسے عُشنا ضیشم کی سوچوں میں تنہا چھوڑ کر۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم انڈسٹڑیز۔۔۔”
۔
“تم میڈم کہاں تھی۔۔۔؟؟”
“سیریسلی مسٹر۔۔؟؟ کل سے آفس میں بھی نظر نہیں آئے مجھے تو ڈیڈ نے بتایا۔۔۔
اس سڑیل کے سیکریٹری ۔۔؟؟”
رشنا نے ارحام کا ہاتھ پکڑ لیا تھا بات کرتے ہوئے۔۔
“ہاہاہا بہن ہے تمہاری اور باس بھی سن لے گی۔۔۔”
“باس مائی فٹ ارحام میرا حق تھا اس کرسی پر۔۔۔”
“اووہ ایم سوری۔۔۔کچھ کھا لیں۔۔؟؟”
ارحام نے بات کو جلدی سے بدل لیا تھا وہ آفس کینٹین میں اینٹر ہوئے تھے سب نے ہی رشنا کو سلام اور گڈ آفٹرنون کہنا شروع کردیا تھا۔۔
“یہ ہے میری پاور یہاں۔۔ اس کمپنی کو میں نے ہینڈل کیا تھا ڈیڈ کی غیر حاضری میں اب اس کو یہ سب دہ دیا ہے۔۔۔”
“اٹس اوکے رشنا ضیشم انکل نے جو بھی کیا کچھ سوچ کر کیا ہوگا۔۔”
“ارحام آپ جو عُشنا میڈم اپنے کیبن میں بلا رہی ہیں ہیں۔۔”
عشنا کی پی اے نے ارحام کو دیکھتے ہی کہہ دیا تھا
“اچھا۔۔۔؟؟ صبح سے تو مجھے اگنور کیا جا رہا تھا اب کیا ایمرجنسی آگئی۔۔؟ کہہ دو میں کھانا کھا رہا بریک ٹائم ہے یہ۔۔”
ارحام نے خالی ٹیبل پر رشنا کو بیٹھے کا کہا تھا اور کینٹین میں آرڈر کرکے خود بھی بیٹھ گیا تھا۔۔۔
پر اسے معلوم نہیں تھا وہاں لگے ہوئے ہر کیمرے کے ویوو سے وہ ان دونوں کو دیکھ رہی تھی
“وااووو۔۔اچھا ہوا تم نے انسلٹ کردی اینڈ ڈونٹ ورری وہ تمہیں نکال نہیں سکتی میں بھی اس کمپنی میں کوئی حیثیت رکھتی ہوں۔۔”
ابھی وہ کھانا شروع کرنے لگے تھے کے کنٹین کی طرف آتی وہ ہیلز کی آواز نے ارحام کی توجہ حاصل کر لی تھی اسکی نظریں اٹھیں اور عشنا کی نظروں سے جا ٹکرائی تھیں۔۔۔
۔
“ابھی ابھی بھولے بھی نہ تھے تمہیں
خیال بن کہ پھر تم آگئے۔۔۔۔۔”
۔
“کیا تمہیں میرا پیغام نہیں ملا تھا میں نے تمہیں کیبن میں بلایا تھا اپنے۔۔؟؟”
عُشنا کی گونجتی آواز نے وہاں سب کو ہی ڈرا دیا تھا۔۔۔سب اپنی اپنی کرسی سے اٹھ گئے تھے۔۔۔
“وہ کیوں آتا۔۔؟؟ میں نے منع کیا تھا اسے۔۔۔”
“اینڈ ہو دا ہیل آر یو۔۔؟ کس پوسٹ پر ہو تم جو تم نے کمپنی کے ‘سی-ای-او’ کے خلاف جانے کی سوچی۔۔؟ کس رائٹ سے تم نے اسے روکا۔۔؟؟”
“ایکسکئیوزمی عشنا۔۔۔”
“عُشنا میڈ۔۔۔مس رشنا۔۔۔میری پوسٹ دیکھ کر بات کریں۔۔ایک اور لفظ اگر میں نے سنا تو کمپنی سے باہر ہوں گی آپ۔۔۔ایم آئی کلئیر۔۔۔؟؟”
“یوو۔۔۔۔”
رشنا نے کچھ بات کرنا چاہی تو ارحام نے اسکا ہاتھ پکڑ کر عُشنا کے تن بدن میں ایک آگ لگا دی تھی۔۔۔اس قدر غصہ اسے شاید ہی کبھی کسی پر آیا ہوں جتنا اس لڑکی کا ہاتھ پکڑنے والے شخص پر آرہا تھا۔۔۔
“میم عشنا ہم کھانا کھا کر آجاتے ہیں ابھی آفس بریک۔۔۔”
ارحام کی بات کو کاٹ دیا تھا اس نے
“اگلے پانچ منٹ میں کیبن میں ملو مجھے۔۔۔”
وہ چلی گئی تھی۔۔۔
“اس ایلویٹر پر مسٹر ارحام میرے آفس میں نہیں آئیں گے انہیں کہیے کہ سیڑھیوں سے آئیں۔۔”
وہ گارڈ کو حکم دے گئی تھی۔۔۔
اسے بھی پتا تھا سیڑھیوں سے اسکا آفس فلور پانچ منٹ میں طہ کرلینا نا ممکن تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سمرن مجھےکینٹین سے کھانے کی پوری ٹرے بھر کر لا کر دو اور ساتھ ریڈ چلی سوس بھی لیکر آؤ۔۔۔”
۔
وہ کسی شیرنی کی طرح سے اپنے کیبن کے چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔
ارحام سے پہلے سمرن کیبن میں داخل ہوئی تھی اور کچھ سیکنڈ بعد ارحام۔۔جس کا سانس پھولا ہوا تھا۔۔۔اسکی نظر پہلے کھانے کی ٹرے میں پڑی تھی پر عشنا پر۔۔”
“کھانا کھاؤ گے۔۔؟ کم بیٹھو۔۔۔سپیشل کھانا کھاؤ۔۔۔”
ارحام کے لیے کرسی پیچھے کردی تھی اس نے۔۔۔
“میم میں اور رشنا۔۔۔”
“سٹارٹ کریں مسٹر ارحام اس ٹرے کا سارا کھانا آپ کھائیں گے۔۔۔”
عُشنا نے کہتے کہتے اس کھانے میں وہ سب مرچیں ڈال دی تھی اور ٹرے سامنے رکھ دی تھی ارحام کے۔۔
“یہ سب کیا مذاق ہے۔۔؟”
“ویل اسے ختم نہیں کریں گے تو آپ مذاق بن جائیں گے اپنی فیملی کا۔۔کیا بتائیں گے کہ نوکری کے دوسرے دن کیوں نکال دئیے گئے۔۔؟؟”
وہ کہتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“سیریسلی۔۔۔؟؟ کل رات کے بعد سوچ رہا تھا کہ تم۔۔۔”
“کہ میں کیا۔۔؟ میں گھمنڈی تھی ہوں اور رہوں گی۔۔۔میرے بارے میں زیادہ نہ سوچا کرو۔۔ میں نہیں چاہتی کسی کی محبت کا بوجھ پڑے مجھ پر۔۔۔”
اسکی آواز میں ایک وارننگ تھی اور ایٹیٹیوڈ تھا۔۔ایک واضح پیغام تھا جو ارحام سمجھ چکا تھا۔۔۔
“محبت اور تم سے۔۔۔؟؟ محبت انسانوں سے ہوتی ہے پتھروں سے نہیں۔۔۔”
ارحام نے کھانا کھانا شروع کردیا تھا ان مرچوں سے بھرا ہوا کھانا۔۔۔
دو نوالے کھانے پر ہی اسکی آنکھیں لال ہوگئیں تھی کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔ارحام نے جیسے ہی پانی کا گلاس پکڑنے کی کوشش کی عشنا نے وہ نیچے گرا دیا تھا۔۔
“سوورری۔۔۔کھانے کی بات ہوئی تھی پینے کی نہیں۔۔۔ “
وہ شیشے کا گلاس نیچے ٹوٹ کر گرگیا تھا،،،
“مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے مجھے تمہارے اس گھمنڈ سے محبت ہونے والی ہے۔۔۔؟؟”
ارحام کی آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ہوگیا تھا جب اس نے چہرے پر مسکان سجائے ہوئے اس گھمنڈی کی سانسیں روک دی تھیں اپنی باتوں سے۔۔۔۔
“مجھ سے محبت تمہاری زندگی کی آخری غلطی ہوگی۔۔۔”
“ہاہاہاہا بدلے میں اگر تم ملتی ہو تو پھر آخری غلطی ہی سہی۔۔۔ویسے تم سے محبت میری زندگی کی غلطی نہیں ہو سکتی۔۔۔”
اور اس نے باقی کا کھانا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر ختم کرلیا تھا جو ساکن تھی اپنی سیٹ پر۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔