51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

“اگر وہ بھی بےوفا نکلا تو۔۔۔؟؟ اگر شادی کے کچھ سال بعد میں بھی اسی جگہ کھڑی ہوئی تو۔۔۔؟؟”
عشنا نے جن نظروں سے دیکھا تھا وہی جانتی تھی اسے دو لوگوں سے کتنی نفرت ہورہی تھی اس وقت۔۔۔
ایک اپنے والد۔۔۔اور ایک اپنے شوہر ارحام ابراہیم۔۔۔۔
“اگر تم کبھی خود کو میری جگہ کھڑی پاؤ تو اسی وقت اس رشتے سے خود کو آزاد کرو لینا۔۔۔
میری طرح پچھتاؤ گی نہیں۔۔۔۔
بس ایک بات یاد رکھنا تمہارے ہر فیصلے میں ماں تمہارے ساتھ ہے۔۔۔”
عشنا انکے گلے سے لگ گئی تھی اور انکا ہاتھ ابھی بھی ضیشم صاحب کے چہرے پر تھا۔۔۔
“ضیشم۔۔۔۔ تم سے کوئی امید نہیں ہے۔۔۔پر میری بچی کا خیال رکھو گے نہ اگر ۔۔۔کبھی اسکی شادی کامیاب نہ ہو پائے تو میری بچی کو اپنی آغوش میں رکھو گے نہ۔۔۔؟؟”
بچوں کی طرح بےساختہ منہ ہلایا تھا انہوں نے۔۔۔۔اور پھر انکی بند آنکھوں کے ساتھ
وہاں کی ہر مانیٹرنگ مشین کا شور بھی بند ہوگیا تھا۔۔۔۔
لبابہ کی بند سانسوں کے ساتھ۔۔۔
۔
۔
(آنکھیں بند کرنے سے پہلے لبابہ کی نظروں نے جی بھر کر دیکھا تھا آپ نے بیٹی کو اور پھر اپنے بےوفا کو۔۔۔۔
زندگی میں ان دو لوگوں سے اس نے زندگی سے بھی زیادہ پیار کیا سب سے زیادہ پیار کیا
اور ساری زندگی وہ لوگ اسے میسر نہ ہوئے ان دو لوگوں میں اسکی جان رہی اور ان دو لوگوں کے ساتھ جینے کے لیے اب اس کے پاس جان نہیں رہی۔۔۔۔
بہت کچھ تھا بولنے کو لبوں نے ہلنا بند کردیا تھا۔۔۔۔
پچھتاوا لیے گہری سانس بھری تھی اس نے۔۔۔۔
پھر آنکھوں میں ایک چمک جاگی تھی اپنی بیٹی کے مہندی لگے ہاتھوں دیکھ کر۔۔۔۔
بند ہونٹوں سے ایک ہی دعا نکلی تھی انکی دل سے کہ کہ عشنا کی وہ قسمت نہ ہو جو انکی ہوئی۔۔۔
وہ جانتی تھی محبت میں انکی بیٹی انہیں بھی پیچھے چھوڑ جائے گی انکے دل ڈر صرف ارحام کو لیکر تھا۔۔۔۔)
گھمنڈی۔۔۔۔۔
۔
عشنا لی طرف آخری بار دیکھا تھا انہوں نے اور آنکھیں بند ہوگئیں تھیں انکی۔۔۔۔
۔
“تم جانتی ہو میں کتنا لاپرواہ ہوں لبابہ۔۔۔۔ میں نہیں رکھوں گا خیال تمہیں رکھنا ہوگا اپنی بیٹی کا خیال سن رہی ہو تم۔۔۔۔”
انہوں نے جیسے ہی سر ہلایا تھا لبابہ کو ہلانے کی کوشش کی تو کوئی حرکت نہیں تھی جسم میں۔۔۔
“لبابہ۔۔۔۔۔۔۔”
کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔ اور عشنا نے انکے سینے سے سر اٹھا لیا تھا۔۔۔
ماں کا وہ خوبصورت چہرہ جو ابھی خاموش تھا عشنا کی زندگی میں بہت بڑا طوفان برپا کردیا تھا ماں کی خاموشی نے۔۔۔۔
“ماما۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔ “
چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے اپنی طرف کھینچ لیا تھا
“پلیز۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔”
لبابہ کی بند آنکھوں کو بار بار چوم رہی تھی وہ۔۔۔ ان آنکھوں کو وہ پھر سے دیکھنا چاہتی تھی ایک بس ایک۔۔۔۔
“ایک بار آنکھیں کھولیں۔۔۔ فار گوڈ سیک ایک بار پری کہیں موم میں جی نہیں پاؤں گی۔۔۔۔”
عشنا کی چیخوں سے وہ روم گونج گیا تھا۔۔۔ اور پھر آہستہ سے ارحام نے دروازہ بند کردیا تھا۔۔۔۔
“ارحام بیٹا تم باہر کیا کر رہے ہو چلو اندر لبابہ۔۔۔۔”
ابراہیم صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ارحام نے نفی میں سر ہلا دیا تھا
“لبابہ۔۔۔۔؟ “
“جی ابو۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں فارم فل کرکے ایمبولینس لے کر آتا ہوں۔۔۔۔”
ارحام اپنے آنسو پر قابو کئیے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
“جسم مرنے سے انسان مرتا نہیں۔۔۔
بس بدل جاتا ہے۔۔۔۔وہ فقط یاد میں۔۔۔”
۔
“عشنا بیٹا۔۔۔۔۔”
“شئ از نو مورر۔۔۔۔۔۔ وہ جو مجھے ہمیشہ سے کہتی آئی ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہے۔۔۔ وہ مجھے بے سہارا چھوڑ گئی مجھے یتیم کرگئی وہ آج۔۔۔۔۔
ماما۔۔۔۔ مت جائیں۔۔۔۔۔”
ابراہیم وہیں کھڑے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے لبابہ کے چہرے کو دیکھ کر انکی آنکھیں بھر گئی تھیں۔۔۔۔ انہیں نہیں پتہ تھا اتنی جلدی چلی جائے گی وہ گھمنڈی جو ایک لازمی حصہ تھیں ان سب کی زندگیوں کا۔۔۔۔
۔
“ڈیڈ۔۔۔۔ آپ کہیں انہیں جاگ جائیں یہ آپ کی بات مانیں گی۔۔۔ انہوں نے آپ کی جدائی میں سب کچھ لٹا دیا اب بھی آپ کے کچھ مانگنے پر دہ دیں گی آپ کہیں انہیں۔۔۔۔”
عشنا نے ضیشم صاحب کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔ آنسو سے تر اسکا منہ سرخ ہوگیا تھا وہ کبھی پتھر بنے باپ کو دیکھ رہی تھی تو کبھی سرد ماں کے جسم کو۔۔۔۔۔
“میری زندگی میں کبھی کوئی سکھ نہیں آیا آپ دونوں نے کبھی میرا نہیں سوچا۔۔۔۔ موم آپ میرے ساتھ پھر سے اتنی بڑی زیادتی کر گئیں ہیں۔۔۔۔”
وہ اپنے گھٹنوں پہ گر چکی تھی۔۔۔۔
وہ گھمنڈی جو کبھی سر نہیں جھکاتی تھی آج اسے ماں کی جدائی نے کس قدر جھکا دیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“موم کو کہاں لے جارہے ہو۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی ان لوگوں کو اجازت دینے کی میری موم کو چھونے کی بھی۔۔۔”
عشنا نے ان سب وارڈ بوئز کو پیچھے دھکا دے دیا تھا جو سٹریچر اند لیکر آئے تھے اس کمرے کے۔۔۔
جہاں موت صرف ایک کی ہوئی تھی اور جان تینوں کی ہی نہیں رہی تھی۔۔۔ جسم میں حرکت تھی پر دھڑکنیں ساکن لگ رہیں تھیں
ضیشم صاحب کی اور اس گھمنڈی کی
۔
“عشنا۔۔۔۔ آنٹی کو گھر نہیں لے جانا۔۔؟؟ یہیں ہسپتال میں رہنے دو گی اپنی موم کو۔۔۔؟؟ ان مشینوں میں۔۔۔؟؟ انہیں تکلیف دو گی اور۔۔؟؟ انکے جسم سے اب ان مشینوں کو اتار دو آگے بہت اذیت برداشت کرلی انہوں نے۔۔۔”
ارحام نے عشنا کے دونوں ہاتھ پکڑ لئیے تھے جب اس نے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
۔
“ڈونٹ ٹچ مئ تمہیں کوئی حق نہیں رہا۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔”
“آپ لیکر جائیں پلیز۔۔۔۔ ابو انکل کو پلیز پیچھے کیجئے۔۔۔”
ضیشم صاحب کو ابراہیم صاحب نے پیچھے کیا تھا۔۔۔
“کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا میری بیوی کو۔۔۔ابراہیم ہاتھ چھوڑ میرا یار میں خود اسے لٹاؤں گا پلیز۔۔۔۔”
۔
ابراہیم صاحب پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔شرٹ کی سلیو سے چہرہ صاف کئیے ضیشم صاحب واپس بیڈ کی طرف بڑھے تھے لبابہ کے ٹھنڈۓے ماتھے پر بوسہ دے کر انہوں نے اس سٹریچرسے دوسرے سٹریچر پر لٹا دیا تھا۔۔۔
عشنا کے پاس سے لیکر چلے گئے تھے وہ وہیں کھڑی تھی۔۔۔۔ویسے ہی۔۔۔۔آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔۔۔
۔
“گو ٹو ہیل مسٹر ارحام۔۔۔۔”
خود کو ارحام کی گرفت سے چھڑا کر وہ بھی اپنے ڈیڈ کے پیچھے گئی تھی کتنے لوگوں سے ٹکراتی ہوئی لڑکھڑاتی ہوئی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عاصم بیٹا مجھے ایک ضروری بات کرنی تھی تم سے۔۔۔”
“ابھی نہیں نانو ابھی ایک ضروری میٹنگ میں جانا۔۔۔”
“کب تک ایسے ہی ناراض رہو گے ہم سے۔۔؟؟ ہم تو بےقصور ہیں ۔۔جو گناہ گار ہے اسکے ساتھ تو تمہارا یہ رویہ نہیں ہے عاصم۔۔۔”
ممتاز بیگم بھی ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ گئیں تھیں غصے سے
“ماں میں سمجھاتی ہوں آپ غصہ نہ کیجئے۔۔۔عاصم ابھی واپس آؤ اور ناشتہ کرو سب کے ساتھ”
“مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان لوگوں کا قصہ اس گھر سے کب ختم ہوگا۔۔۔؟؟
اب تو عشنا کی شادی بھی اپنی مرضی سے کروا لی لبابہ نے جیسے اپنی کروائی تھی۔۔۔”
عاصم کے والد صاحب نے اپنی نفرت کا اظہار اپنے الفاظ سے ظاہر کیا تھا۔۔
“پلیز ڈیڈ۔۔۔ ہر کسی کو حق ہے اپنی مرضی کا انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا تھا”
“تم لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے وہ لوگ اپنے مفاد کے لوگ ہیں۔۔۔ وہ میرا خون سہی پر میں اسے اب اپنی بیٹی نہیں مانتی۔۔۔ عشنا اور عاصم کی شادی کروا کر وہ واپس آسکتی تھی اگر آنا چاہتی تو۔۔۔ پر وہ گھمنڈی۔۔۔ کچھ نہ ہونے پر بھی اپنے گھمنڈ پر مان کررہی ہے۔۔”
انہوں نے بات مکمل کرکے ناشتہ شروع کردیا تھا۔۔۔
“موم پلیز مجھے اب اور نہیں سننا لبابہ خالہ یا عشنا کے خلاف کوئی بھی بات۔۔۔”
عاصم وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“تم دیکھ رہی ہو اپنے بیٹے کو۔۔۔؟؟ اب اسکے لیے لڑکی ڈھونڈو۔۔۔ بہت انتظار کرلیا اپنی بہن کا تم نے۔۔۔”
علیزے بیگم نے اپنا سر جھکا لیا تھا۔۔۔عشنا کی شادی عاصم کے ساتھ نا ہونے کا انہیں بھی اتنا ہی دکھ تھا جتنا کے انکی ماں کو۔۔۔
۔
“امی۔۔۔۔”
عاصم واپس بھاگتے ہوئے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
“کیا ہوا بیٹا کوئی فائل بھوک گئے ہو۔۔۔”
“امی۔۔۔ لبابہ خالہ۔۔۔۔ اب ہم میں نہیں رہیں۔۔۔”
“یااللہ۔۔۔۔”
علیزے بیگم نے ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیا تھا اور پیچھے کچھ گرنے کی آواز نے انکی طرف متوجہ کردیا تھا سب کو۔۔۔
“امی۔۔۔ “
“نانو۔۔۔”
۔
“گاڑی نکالو جلدی سے عاصم ۔۔۔”
۔
“امی آنکھیں کھولیں۔۔۔ یا اللہ لبابہ۔۔۔”
علیزے بیگم اپنی بےہوش ماں کو دیکھ رہی تھیں کبھی تو کبھی چھوٹی بہن کا چہرہ نظروں کے آگے گھومنے لگا تھا انکی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آپ کو وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا مننان آپ نے۔۔۔”
“اووہ اب تم مجھے بتاؤ گی مجھے کیا کرنا چاہیے تھا اور کیا نہیں۔۔؟”
مننان نے اپنا کوٹ اتار کر پھینک دیا روم میں داخل ہوتے ہی۔۔۔
“مننان۔۔۔۔۔”
“بکواس بند کرو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے یہی چاہتی تھی نہ تم کہ تمہارے سابقہ عاشق کی شادی نہ ہو۔۔۔۔”
مننان نے جونہی یہ بات کء تھی فلذہ کے چہرے کے تاثرات غصے سے شاکڈ میں تبدیل ہوئے تھے۔۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔؟ حیران ہوگئی کہ مجھے کیسے پتہ چلا۔۔۔؟؟؟ ہاہاہا مجھے تو تب سے پتہ یے جب سے ارحام کو بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔ بڑی محبتیں لٹا دی تم نے۔۔۔۔ اور پھر کیا ملا اس سے تمہیں بیگم۔۔۔؟”
مننان کی آنکھوں میں ایک الف ہی جنون تھا وہ تو خاموش طبیعت اور سیدھا سادہ سا مننان لگ ہی نہیں رہا تھا فلذہ کو۔۔۔۔
فلذہ کے ماتھے سے پسینہ آنا شروع ہوگیا تھا بہت زیادہ
“مننان آپ کیا کہہ رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔”
“ہاہاہا اچھا نہیں سمجھ آرہی۔۔۔؟ تو پھر انجان ہی بنی رہو نہ جیسے میں بنا ہوا ہوں تمہارے ماضی کو جان کر بھی تمہیں رانی بنا کر رکھا پلکوں پر سجا کر رکھا میں نے۔۔۔۔”
مننان کو اب احساس ہوا اس نے غصے میں آج کونسا راز کھول دیا اپنی بیوی کے سامنے۔۔۔۔
فلذہ کو پیچھے جھٹک کر وہ کپبرڈ کی طرف بڑھا تھا
“اگر آپ کو پتہ تھا تو آپ نے رشتہ کیوں بھیجا۔۔۔؟ جب پتہ تھا میں ارحام سے پیار کرتی ہوں۔۔۔”
“شش۔۔۔۔ بیگم۔۔۔۔ اتنی اونچی پرانی محبتوں کے نام مت لیں یہاں دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔۔۔۔
کسی نے سن لیا تو کیا سوچیں گے کہ کیسی بدکردار بیوی ہے جو شوہر کے سامنے عاشق کا نام لے رہی۔۔۔۔”
مننان نے جتنی حقارت سے فلذہ کو اس وقت دیکھا تھا وہ کچھ قدم پیچھے ہوکر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
۔
“آپ کا مقصد کیا تھا پھر مجھ سے شادی کرنے کا مننان۔۔۔؟؟”
اس نے ہلکی سی سرگوشی کی تھی
“تم سے شادی کرنے کا آفکورس تم خوبصورت ہو جوان ہو۔۔۔ پڑھی لکھی ہو اور۔۔۔ اگر تم ارحام کو مل جاتی تو وہ تو اسے تو سب کچھ مل جاتا نہ ۔۔؟؟ سب کی نظروں میں عزت ابو کے دل میں اور محبت۔۔۔
اور اس جائیداد کا حصہ۔۔۔ ایسا کیسے ہونے دیتا میں بیگم تم ہی بتاؤ۔۔۔؟؟”
مننان پاس آکر جیسے ہی بیٹھا تھا فلذہ غصے سے دور ہوگئی تھی
“اتنا بڑا دھوکا مننان۔۔۔؟؟”
“ہاہاہا دھوکا۔۔؟؟ دھوکا تو تم دیتی آئی ہو بیگم مجھے اپنے گھر والوں کو ہماری فیملی کو۔۔۔
سوچو اگر کسی کو تمہارے اورارحام کے عشق کے بارے میں خبر ہوئی تو کیا ہوگا۔۔۔؟؟”
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔ اپنے دھوکے کو چھپانے کے لیے اب آپ رخ ہم دونوں کی طرف کرنا چاہتے ہیں۔۔؟؟ ارحام میری پسند تھا۔۔۔ اور عشق وہ تو آپ نے مکمل نہیں ہونے دیا۔۔۔
اس پریگننسی کے بعد میں ابو کو خلا کا کہہ دوں گی۔۔ آپ نے ایک سکیم کے تحت یہ سب کیا ہے مننان آپ میری نظروں سے پوری طرح گر چکے ہیں۔۔۔”
“ہاہاہاہا بیگم بات تو سنو۔۔۔”
فلذہ کا ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھا لیا تھا مننان نے بیڈ پر۔۔۔ اور اب چہرے پر کوئی مذاق نے سنجیدگی تھی
“تم نے علیحدہ ہونا ہے ہوجانا۔۔۔ اور بعد میں ارحام کے ساتھ شادی کرنی ہو وہ بھی کر لینا۔۔۔پر اتنی جلدی میں تمہیں یہ سب برباد کرنے نہیں دوں گا۔۔۔
بس میرا ایک پلان کامیاب ہوجائے۔۔۔”
“کیا مطلب۔۔؟؟ اب کونسا پلان۔۔؟ میری اور ارحام کی زندگی برباد کر تو دی ہے آپ نے۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ ہر بات پر ارحام کا خیال ہے تمہیں۔۔؟؟ اچھا تمہیں آزاد کردوں گا۔۔پر پہلے مجھے ارحام کو اور عشنا کو الگ کروانا ہے۔۔۔ اگر تم میرا ساتھ دو گی تو ہم دونوں کا فائدہ ہوگا۔۔۔”
فلذہ اور شاکڈ ہوگئی تھی مننان اتنی دیدہ دلیری سے سب کچھ ایکسیپٹ کررہا تھا اپنے گھٹیا مقصد بنا کسی شرم کے بتائے جارہا تھا
“آپ کا کیا فائدہ ہوگا اس میں۔۔۔مننان۔۔؟؟”
“میرا ہی تو فائدہ ہوگا۔۔۔ میں ہی تو عشنا کو سہارا دوں گا جب اسے ارحام سے نفرت ہوجائے گی۔۔۔ اور اسکی دولت بھی میری ہوگی۔۔۔ میرا ہولڈ اور پوسٹ سب سے اونچی ہوگی۔۔۔ جو تم سے شادی کرکے نہیں ملا وہ مجھے عشنا سے شادی کرکے مل جائے گا۔۔۔”
مننان کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
فلذہ کو آج ویسے ہی تکلیف ہوئی تھی جو اس دن ہوئی تھی جب ارحام نے محبت کے اظہار سے انکار کردیا تھا۔۔۔
یہ سچ ہے وہ ارحام کے لیے محبت کو دل سے نہیں نکال پائی۔۔پر مننان کے ساتھ رہ کر اس نے یہ سب تو نہیں چاہا تھا۔۔۔ کہ ایک دن اسکا خود کا شوہر اس سے یہ ڈیمانڈ کرے گا
۔
“ارحام کم تھا جو اس نے مننان پر بھی ڈوڑے ڈال دئیے۔۔۔۔”
فلذہ نے عشنا کو برباد کرنے کا سوچ لیا تھا۔۔۔۔۔
پر یہ سب بھال گئے تھے وہ دوسروں کو انگلیوں کے اشارے پر استعمال کرتی آئی ہے خود وہ گھمنڈی کسی کے ہاتھ کا کھلونا کیسے بن سکتی ہے جو جیتنا جانتی ہو وہ کسی سے کیسے ہار سکتی ہے۔۔۔
خاص کر فلذہ سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کل رات کو یہاں شہنائیاں بج رہیں تھیں اور آج صفہ ماتم بچھ چکی تھی۔۔۔
ایمبولینس جیسے ہی گیٹ کے آگے آکر رکی تھی بےیقینی سے ضیشم صاحب کی والدہ اور بہن باہر آئیں تھیں کچھ مہمان جو ناشتے کی میز پر بیٹھیں تھے جنہیں پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔
کچھ لوگوں کے علاوہ کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کچھ بھی
“ضیشم۔۔۔۔”
ضیشم صاحب کے بعد عشنا ایمبولینس سے نیچے اتری تھی جس نے ایک لمحے کو بھی ماں کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا
“عشنا میری بچی۔۔۔”
دادی نے بےسد عشنا کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا جو ابھی بھی اپنے ماں کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جو کور تھا۔۔۔
۔
“امی۔۔۔ میں نے ڈاکٹرز سے بات کی ہوئی تھی سرجری کی۔۔۔ آج عشناکی رخصتی کے بعد ہم نے چلے جانا تھا علاج کے لیے۔۔۔
پر میری بیوی کو میری بیٹی سے زیادہ جلدی سے رخصت ہونے کی۔۔۔
یہ دونوں کی ایک ہی خواہش تھی مجھے چھوڑ کر جانے کی ایک نے تو بہت پہلے سوچ لیا تھا۔۔۔ یہ دیکھ لیں۔۔۔”
ضیشم صاحب پاس آکر بیٹھ میت کےوہ میت جو کچھ دیر پہلے ایک جیتے جاگتے شخص کا وجود تھی۔۔۔ اور اب خاموش اک داستان۔۔۔
۔
“لبابہ بھابھی۔۔۔۔” شمع روتے ہوئے پاس بیٹھی گئی تھی عشنا کے جو ہسپتال اتنا رو رہی تھی منتیں کررہی تھیں اب وہ خاموش تھی کسی پتھر کی طرح۔۔۔
“عشنا کچھ بولو بیٹا کچھ بولا۔۔۔۔”
“دادو۔۔۔ آپ کے بیٹے اور بہو نے اس زندگی میں میرے ساتھ بہت زیادتیاں کردی ہیں کچھ بولنے کو نہیں رہا۔۔۔
کچھ بھی۔۔۔ میری دنیا اجڑ چکی ہے۔۔۔ میرے پاس کچھ نہیں رہا۔۔۔۔”
یہ کہتے ہیں عشنا نے واپس لبابہ کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔۔
“موم۔۔۔ یہاں کچھ بھی نہیں ہے آپ کے بغیر مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے۔۔۔”
سرخ جوڑے میں اسکی کھنکتی چوڑیوں کی آواز ان روتی ہوئی چیختی آوازوں میں بھی ارحام کو صاف سنائی دے رہی تھی جو وہاں ایک پلر کے ساتھ سر لگائے بیٹھ گیا تھا۔۔۔
عشنا کی حالت دیکھ کر اب اسے احساس ہورہا تھا کہ اس نے بہت بڑی غلطی کردی عشنا کو نہ بتا کر ۔۔۔
“ارحام بیٹا۔۔۔”
“ابو۔۔۔ اگر کچھ دن پہلے عشنا کو پتہ چل گیا ہوتا تو وہ جی بھر کر اپنی ماں سے اپنے دل کی باتیں کرلیتیں۔۔۔ زندگی کے کسی پل وہ مجھے معاف بھی کردے تب بھی میں خود کو معاف نہیں کرپاؤں گا۔۔۔”
“ارحام بیٹا۔۔۔ لبابہ نے سب کو منع کیا تھا۔۔۔ تمہاری غلطی نہیں ہے لبابہ عشنا کو خوش دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔”
پر ارحام نفی میں سر ہلائے وہیں بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اسمارہ بھابھی۔۔۔۔ ابراہیم بھائی کا فون آیا تھا۔۔۔ لبابہ کا انتقال ہوگیا ہے۔۔”
“یا اللہ۔۔۔۔”
انکے ہاتھ سے کھانے کی پلیٹ نیچے گر گئی تھی۔۔۔
“بھابھی آپ۔۔۔ آپ یہاں سنبھالیں۔۔۔مجھے جانا ہوگا۔۔۔”
اسمارہ وہاں سے باہر بھاگ گئیں تھیں۔۔۔ گھر سے باہر تک کتنے رشتے داروں نے راستہ روکا تھا پر وہ بنا کسی کی بات کا جواب دئیے چلی گئیں تھیں۔۔۔
۔
“لبابہ۔۔۔۔ یہ عمر نہیں تھی تمہاری جانے کی۔۔۔ تم ۔۔۔”
روتے ہوئے موبائل فون پر ابراہیم صاحب کا نمبر ڈائل کیا تھا انہوں نے
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عشنا کا ڈریس چینج کروا دیں بھابھی۔۔۔ بس کچھ ہی دیر میں جنازہ اٹھا لیا جائے گا۔۔۔”
“لبابہ۔۔۔۔”
ممتاز بیگم روتے ہوئے عاصم اور علیزے کے ساتھ ہال میں داخل ہوئی تھی
“لبابہ میری بچی۔۔۔”
لبابہ کے ماتھے کو چومتے ہوئے بار بار انہیں ہلانے کی کوشش کی تھی
“یہ میرے جانے کا وقت تھا لبابہ۔۔۔ تمہارا نہیں۔۔۔”
“آپ۔۔۔ آپ اب کیا کرنے آئیں ہیں یہاں۔۔؟؟ جب تک وہ زندہ تھیں آپ انکی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھیں۔۔۔”
آج عشنا نے نانو لفظ نہیں کہا تھا۔۔۔ اب اسکے چہرے پر کوئی آنسو نہیں تھا۔۔۔
تھا تو دنیا جہاں کی نفرت وہاں موجود ہر اس شخص کے لیے جو باعثِ تکلیف رہا تھا اسکی ماں کے لیے۔۔۔
۔
۔
اس ہال میں ایک شور برپا تھا۔۔۔ محسوس ہورہا تھا جانے والا سب کا دل عزیز تھا۔۔۔
سب کو جان سے پیارا رتھا عشنا ہر ایک کا رونا دیکھ رہی تھی
سب سے زیادہ اپنے والد کا۔۔۔ جس شخص نے ساری زندگی جانے والے کو خون کے آنسو رولایا اور اب وہ خود پانی بہارہے تھے۔۔۔
کتنا آسان ہوتا ہے نہ ساری زندگی کسی کی آزمائشیں لیتے رہنا اسے غم دیتے رہنا
اور بعد مرنے کے اسکے لیے رونا ۔۔۔ پچھتاوے کے آنسوؤں سے جانے والے واپس نہیں آتے۔۔۔۔
۔
“میری ماں کو سکون مل گیا یہاں کے مطلبی دوغلے لوگوں سے۔۔۔
وہ خود سکون کی متلاشی مجھے بےسکون کر گئیں ہیں میرا سکون کہاں ہے۔۔؟؟”
عشنا نے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
۔
اور جب باہر سے مرد اندر آئے تھے اسکی آنکھوں کے سامنے سب دھندلا گیا تھا۔۔
اسے اپنی ہی آواز سنائی دے رہی تھی جو منتیں کررہی تھی میری ماں کو مت لے جاؤ۔۔۔
اور جب اسکے ہاتھوں میں ہمت نہیں رہی تھی جسم میں جان نہیں رہی تھی وہ پیچھے گر گئی تھی۔۔۔
اس سے پہلے اسکا سر زمین پر لگتا ارحام نے اسے اٹھا لیا تھا۔۔۔عشنا کو اٹھا کر اوپر کمرے میں لے جانے کے بجائے وہ وہاں سے باہر لے گیا تھا۔۔۔
اور گاڑی کی بیک سیٹ پر لٹا کرسیدھا اپنا گھر۔۔۔ جو آج اسے اسکی بیوی کا بھی اتنا ہی تھا جتنا کہ اسکا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام بیٹا۔۔۔عشنا کو تم یہاں لے آئے ہو۔۔۔”
ارحام اپنی بانہوں میں اٹھائے عشنا کو گھر میں کے آیا تھا،،، جہاں سب ہی شاکڈ تھے
کسی کو یقین نہیں آرہا تھا ارحام ایسا کچھ بھی کرسکتا۔۔۔
“چچی وہ میری بیوی ہے ظاہر ہے یہیں لاؤں گا اسے۔۔۔”
ارحام عشنا کو سیدھا اپنے بیڈروم میں لے گیا تھا۔۔۔
جو کمرہ بےحد خوبصورتی سے سجایا گیا تھا گلاب کےپھولوں سے۔۔۔ کینڈلز ابھی بھی جل رہی تھی بیڈ پر پھولوں سے ان دونوں کے نام کے پہلے حرو ف لکھے گئے تھے۔۔۔
پر ارحام نے ہر چیز کو اگنور کرکے عشنا کو بیڈ پر لٹایا تھا۔۔۔اور واپس جلدی سے باہر چلا گیا تھا
“چچی پلیز آپ عشنا کا خیال رکھئے گا میں جنازہ سے ہوکر آیا۔۔۔۔”
۔
اس گھر میں مہمانوں کا رش ابھی بھی تھا۔۔۔ شور بھی بہت تھا جو آج اسے اور غصہ دلا رہا تھا۔۔۔
اسے سب محسوس ہورہا تھا۔۔۔ اسے پتہ چل رہا تھا کون وہاں ان کی دکھ بھری گھڑی میں شامل ہوا اور کون نہیں۔۔۔
پر وہ کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا اسے وقت۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم سنبھالو خود کو۔۔۔ گھر چلو۔۔۔”
“گھر۔۔۔ کونسا گھر جہاں سے میں نے اپنی بیوی کو نکالا تھا۔۔؟؟
وہ گھر جس میں آج میں اپنا پرانا گھر بسانا چاہتا تھا پر میری بیوی نے مجھے یہ سزاسنا دی۔۔۔
لبابہ،،، تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ۔۔۔۔”
“آپ کو نہیں لگتا بہت دیر ہوگئی ہے ضیشم سر۔۔؟؟”
“ارحام چپ ہوجاؤ۔۔۔”
“نہیں ابو میں چپ نہیں رہوں گا۔۔۔ یہ رو کس پر رہے ہیں۔۔؟؟ بیوی چلی گئی۔۔؟؟ پر انکے پاس تو بیوی ہے نہ۔۔۔؟؟ بچے بھی ہیں سب کچھ ہے۔۔۔
اگر کسی کا کچھ گیا ہے تو وہ عشنا ہے۔۔۔ اسکا تو سب کچھ چھن گیا۔۔۔
اور آپ مسٹر ضیشم آپ کہیں نہ کہیں قصوروار ہیں۔۔۔ آپ کا قصور ہیں اس میں۔۔۔
اب آپ محبت جتا رہے ہیں۔۔۔؟؟ وہ واپس نہیں آنے والی اب وہ گھمنڈی جا چکی ہے
اور وہ گھمنڈی جو میری بیوی ہے میں اس پر آپ کا سایہ بھی نہیں پڑنے دوں گا یاد رکھئیے گا۔۔۔”
۔
ارحام وارننگ دے کر قبرستان سے چلا گیاتھا۔۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عشنا میری بات سنو بیٹا۔۔۔ وہاں اب کچھ نہیں رہا وہ لوگ دفنا چکے ہیں۔۔”
“تو میں قبرستان چلی جاؤں گی۔۔۔فار گوڈ سیک چھوڑیں مجھے۔۔۔”
“ابھی تم اس حالت میں نہیں ہو۔۔۔۔”
“ہو دا ہیل آر یو۔۔؟؟ راستہ چھوڑیں میرا۔۔۔”
“عشنا بیٹا۔۔۔”
ڈونٹ کالڈ مئ بیٹا۔۔۔”
عشنا نے انہیں پیچھے دھکیل دیا تھا
“امی۔۔۔ آپ جائیں میں ہینڈل کرلوں گا۔۔۔”
“ارحام کچھ مت کہنا وہ جس کرب سے گزر رہی ہے۔۔۔”
“آپ جائیے باہر۔۔۔”
ارحام نے دروازہ بند کرکے کمرے کی حالت دیکھی تھی جو پوری طرح سے برباد کردیا گیا تھا۔۔۔ کمرے کی پر چیز ٹوٹ چکی تھی وہ کینڈلز وہ ڈیکوریشن وہ پھولوں سے بھرا بستر اب بیڈ شیٹ کے ساتھ زمین پر بکھرے پڑے تھے
“تمہاری جرات کیسے ہوئے مجھے یہاں لانے کی۔۔؟؟ تم ہوتے کون ہو میرے فیصلے کرنے والے۔۔۔”
عشنا نے ارحام کا گریبا پکڑ لیا تھا
“تمہارا شوہر۔۔۔ لیگلی ویڈڈ ہسبنڈ ۔۔۔۔ نکاح ہوا کل ہمارا۔۔۔ اپنی بیوی کو گھر لانے کے لیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔۔”
“گو ٹو ہیل۔۔۔”
عشنا دروازے کی جانب بڑھی تھی جب ارحام نے اسے بازو سے پکڑ لیا تھا
“تم اس حالت میں یہاں سے نہیں جارہی۔۔۔ کہیں نہیں جارہی۔۔”
“تم مجھے یہاں باندھ کر نہیں رکھ سکتے میں جاؤں گی یہاں سے موم میرا انتظار کررہی ہوں گی۔۔۔”
عشنا کی پلکیں بھیگنا شروع ہوئی تو ارحام کی آواز بھی آہستہ ہوگئی تھی
“وہ زندگی نام کے انتظار سے بہت آگے کی منزل طہ کرچکی ہیں عشنا۔۔۔ اب انتظار ہمیں کرنا ہے۔۔۔
وہ جاچکی ہیں بنا کسی کا انتظار کئیے۔۔۔”
“جھوٹ بول رہے ہو تم تمہاری ہی کوئی چال ہوگی اس میں بھی۔۔۔ وہ کہیں نہیں گئی۔۔۔۔جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔”
ارحام سے اپنا بازو چھڑا نے کی وہ بہت کوشش کررہی تھی ارحام کے سینے پر ہاتھ مار کر وہ خود کو اس مظبوط گرفت سے بری کرنا چاہتی تھی اور اگلے ہی لمحے وہ بیڈ کے ساتھ پن تھی۔۔۔
ارحام کو پہلی بار اپنے اتنا نزدیک پاکر اسکی سانس تھم گئی تھی آنکھوں سے بےپناہ آنسو جاری تھے
“عشنا۔۔۔ وہ تو چلی گئیں ہیں۔۔۔ پر تمہیں میں کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔ اس وقت بیٹیاں قبرستان نہیں جاتی کیوں انکی روح کو اذیت دینا چاہتی ہو۔۔؟؟”
ان روتی ہوئی آنکھوں پر جھک کر ارحام نے بوسہ لیا تھا جس کی خود کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں عشنا کی آنکھوں میں درد کی انتہا دیکھ کر۔۔۔
۔
“ارحام ۔۔۔ماما۔۔۔۔وہ۔۔۔”
“جانتا ہوں۔۔۔ “
“وہ سچ میں چلی گئیں ہیں ارحام وہ کہتیں تھیں وہ میرا سہارا ہے۔۔۔۔”
ارحام بیڈ کی دوسری سائیڈ پر لیٹ گیا تھا عشنا کو اپنی آغوش میں لئیے۔۔۔ جہاں وہ جی بھر کر رونا شروع ہوئی تھی۔۔۔
وہ گھمنڈی اس جگہ آکر ٹوٹی تھی جس جگہ سے اس شخص نے اسے سمیٹنا تھا دوبارہ کبھی نہ ٹوٹنے کے لیے۔۔۔۔
۔
آج اس نے وعدہ کیا تھا وہ اس گھمنڈی کو اپنی آنکھوں کا تارا بنا کر رکھے گا۔۔۔
“لبابہ آنٹی کے علاوہ تمہیں کسی اور کے لیے روتا نہ دیکھوں میں۔۔۔۔ ان آنکھوں میں پھر سے زندگی کی سات بہاریں بھر دوں گا میں عشنا ارحام ابراہیم۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔