51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“اس برتھ ڈے پر کوئی پلان ہے ہنی۔۔؟؟”
“نہیں ہے اس بار ایک ہی پلان ہے بس اب کے بار ڈیڈ کے سامنے انکی بڑی بیٹی کو نیچا دیکھانا ہے۔۔”
“رشنا تم پہلے ارحام سے شادی تو پکی کروا لو اپنی۔۔کمپنی کے چکر میں فیانسی نہ چلا جائے ہاتھ سے۔۔”
“ہاہاہاہا وہ نہیں جاتا۔۔۔بلکہ وہ تو احسان سمجھتا ہے میری ہاں کو۔۔۔ “
“ہاہاہا اس بار اصل ڈیٹ پر سالگرہ کا جشن ہوگا یا پچھلے سال کی طرح عشنا کی برتھ ڈۓے پر۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا اب رؤنگ ڈیٹ کا فائدہ نہیں ہے۔۔۔ پر اب فیک ڈیٹ رکھنی تو پڑی گی نہ۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔”
۔
ارحام نے اس آدھے کھلے ہوئے کیبن کے دروازے کو بند کردیا تھا۔۔۔
“گھمنڈی۔۔۔۔”
ایک گرم آہ بھری تھی اس نے وال کے ساتھ ٹیک لگا کر۔۔۔
۔
“کسی کے ساتھ ہوٹل روم میں تم جاتی ہو ۔۔۔کسی کے لیے ہماری منگنی کے دن تم مجھے اکیلا چھوڑ گئی تھی اور قصور میرا ہوا مس عشنا۔۔۔؟؟”
۔
“ایک اور لفظ نہیں ارحام۔۔۔میں خود نہیں جانتی کہ اگر تم نے میرے کردار پر ایک انگلی بھی اٹھائی تو میں کیا کر گزروں گی۔۔۔”
۔
کسی کے ساتھ ہوٹل روم میں مرد عورت کے جانے پر ایک ہی شک ابھرتا ہے۔۔۔
پر ایک بات یاد رکھنا مسٹر ارحام۔۔۔ جو لفظ زبان سے نکالے ہیں ان الفاظ پر تمہیں پچھتانا پڑ جائے گا ۔۔۔اور جس منگنی اور جس منگیتر پر تمہیں اتنا فخر ہے تم دیکھنا تمہارا یہ رشتہ سوائے رسوائی کے اور کچھ نہیں ہوگا،۔۔۔ یہ عشنا ضیشم کا وعدہ ہے۔۔۔۔”
۔
۔
ان باتوں نے ایک دائرے میں گھومنا شروع کردیا تھا اسکے دماغ میں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
ارحام بیٹا مجھے تم سے بات کرنی ہے کیا تم میرے کیبن میں آسکتے ہو۔۔؟؟
تمہارے ابو بھی وہیں موجود ہیں۔۔۔”
ضیشم صاحب یہ کہہ کر ایلویٹر میں چلے گئے تھے۔۔
“ابو کیا کر رہے ہیں یہاں۔۔؟؟ مجھے پہلے عشنا سے بات کرنی ہوگی۔۔۔”
ارحام جلدی سے عشنا کے کیبن میں گیا تھا جہاں عاصم مسکراتے ہوئے باہر آیا تھا
“اوووہ۔۔۔مسٹر ارحام۔۔۔”
عاصم نے اپنی پینٹ پاکٹ میں ہاتھ ڈال لیا تھا اور بہت مغرور نظروں سے ارحام کو دیکھا تھا۔۔۔
“جی سر۔۔؟؟؟”
“ارے تم تو پہلے سے غصے میں لگ رہے ہو۔۔۔ویسے یار شکریہ ادا کرنا تھا تمہارا۔۔۔
تم نے رشنا سے منگنی کرلی اور اب عشنا کو میرا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔”
“اپنی اوقات،،،”
“اپنا جملہ مکمل مت کرنا ارحام۔۔۔اب تم اسکے منگیتر نہیں ہو۔۔۔ اب اسکا نام کسی کے ساتھ بھی منسلک ہو تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔۔”
۔
عاصم ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“آج پھر ناک کئیے بغیر آئے ہیں مسٹر آپ۔۔؟؟”
عشنا نے فائلز کو اٹھا کر ریڈ کرنا شروع کردیا تھا۔۔۔
“میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں عشنا۔۔۔”
“عشنا۔۔؟؟ اپنی اوقات اور میری حیثیت مت بھولو ارحام۔۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ یہاں تمہیں سٹیٹس کی فکر ہے جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ۔۔۔”
“گیٹ آؤٹ۔۔۔۔”
“عشنا۔۔۔”
آؤٹ۔۔۔مجھے پتا ہے تمہاری بات بات نہیں ایک الزام ہوگا۔۔ جو تم نے عاصم کو میرے ساتھ اکیلے اس کیبن میں دیکھ کر گھڑ لیا ہوگا اپنے ذہن میں۔۔۔
گو آہیڈ۔۔۔
شکر ہے منگنی ہوئی ہی نہیں۔۔۔تم تو آج مجھے میرے ہی کزن کے ساتھ اس کیبن میں دیکھ کر منگنی توڑ دیتے۔۔۔”
عشنا اپنی کرسی پر ریلیکس ہوکر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“تم۔۔۔ تم اتنا چھوٹا سوچتی ہو میرے لیے۔۔۔؟؟”
اسکی ہاتھ کی مٹھی بند ہوگئی تھی۔۔۔ اسکے لہجے میں ایک درد ابھر آیا تھا۔۔
“اووو کم آن۔۔۔۔ تم نے اتنا چھوٹا نہیں سوچا تھا ارحام۔۔۔تم تو اپنے لگائے گئے الزامات کو ہی بھول گئے ہو۔۔۔؟؟
میں نہیں بھولی کچھ بھی۔۔۔وہ تمہاری زبان سے میرے کردار پر لگائے گئے الزام وہ ادا ہوئے لفظ تم بھول سکتے ہو پر میں نہیں ارحام۔۔۔
کردار پر انگلی اٹھانے والے ہاتھ روکے نہیں جا سکتے پر اتنا سبق ضرور دیا جاسکتا ہے کہ دوبارہ انکو اتنی ہمت نہ دی جائے۔۔۔
دروازہ بند کرجانا جاتے ہوئے۔۔۔۔”
۔
ارحام کی آنکھیں عشنا پر تھی جس نے اسکی طرف دیکھا تھا۔۔۔
کوئی بھی اپنی چہرہ دوسری طرف نہیں کر پایا تھا۔۔۔
۔
“ہر ملاقات پہ محسوس۔۔یہی ہوتا ہے۔۔
مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے۔۔۔۔”
۔
“عشنا۔۔۔۔”
“جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”
۔
ارحام وہاں سے خاموشی سے چلا گیا تھا۔۔۔آج جواب دینے کے لیے اسکے پاس کچھ بھی نہیں تھا
۔
آج وہ خود پر شرمندہ تھا اور وہ جانتا تھا۔۔۔آج سے وہ سفر شروع ہوجائے گا جس میں وہ پچھتائے گا رشنا سے رشتہ جوڑ کر۔۔۔۔
۔
اس نے جیسے ہی دروازہ بند کیا تھا عشنا نے وہ فائل چھوڑ دی تھی۔۔۔اسکی نگاہ ارحام کی بیک پر ہی تھی۔۔۔
آج اسے ارحام ابراہیم کی نظروں میں وہ جذبات نظر آئے تھے جو اسکی نظروں میں تھے جب اسے منگنی کا پتا چلا تھا۔۔۔
۔
آنکھیں جیسے ہی جھکی تھیں ایک آنسو کا قطرہ نیچے گرا تھا اسکی آنکھوں سے۔۔۔
۔
“جاگتے جاگتے اک عمر۔۔۔کٹی ہو جیسے۔۔۔۔
جان باقی ہے مگر سانس تھمی ہو جیسے۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“جی سر آپ نے بلایا۔۔۔”
“ارحام بیٹا اب تو میرے کیبن میں ہو پلیز انکل کہو۔۔۔اور رشنا سے شادی کے بعد تم نے ویسے بھی مجھے پاپا بلانا ہے۔۔۔”
“ارحام نے ابراہیم صاحب کی طرف دیکھا تھا جو خود بہت سنجیدہ انداز میں وہاں بیٹھے تھے۔۔۔
“خیریت تھی ضیشم مجھے بھی اتنی ارجنٹلی بلایا۔۔۔؟؟”
ارحام انکے پاس والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔
“ابراہیم میں بس چاہتا ہوں ارحام اور رشنا کی شادی جلدی سے جلدی ہوجائے۔۔۔
تم جانتے ہو جس طرح سے حالات چل رہے ہیں۔۔۔گھر میں بھی بہت ٹینشن چل رہی ہے۔۔
میں اور تابین چاہتے ہیں بچوں کی شادی جلدی سے ہوجائے۔۔۔”
ایک پل کو ارحام کی دھڑکن تھم سی گئی تھی ان سب کی باتیں سن کر۔۔۔
“انکل اتنی جلدی شادی۔۔؟؟”
ارحام کے ہاتھ ر ابراہین نے ہاتھ رکھا تھا اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا
“کیوں بیٹا کوئی اعتراض ہے۔۔؟ میرا مطلب ہے اب تو تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔”
ارحام وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“ایم سوری ضیشم انکل۔۔۔ پر آپ ابو سے اس بارے میں پوچھ سکتے ہیں جو انکا فیصلہ ہوگا وہ مجھے منظور ہوگا۔۔۔”
ارحام جلدی سے چلا گیا تھاباہر۔۔۔
“ارحام نے ایسے رہ ایکٹ کیوں کیا کیا کچھ ہوا ہے ابراہیم۔۔؟؟”
“نہیں میرے یار کچھ نہیں ہوا۔۔۔وہ بس گھبرا گیا ہے۔۔تم تو جانتے ہو نئی نوکری ہے۔۔۔
اور ابھی اس نے آگے کی نہیں سوچی۔۔۔”
“تو میں کس لیے ہوں ابراہیم۔۔؟ ارحام میرا دوسرا بزنس سنبھال سکتا ہے اسلامآباد کی برانچ میں اسکے نام کردوں گا۔۔۔ اسے کسی بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
“وہ میرا بیٹا ہے ضیشم۔۔۔ تمہیں یاد ہے تمہارے ہاں ڈرائیوری کے وقت تم نے کیا کچھ آفر نہیں کی مجھے۔۔۔کیا میں نے کبھی کچھ قبول کیا تھا۔۔؟؟
ویسے ہی وہ میرا بیٹا ہے ضیشم۔۔۔ ابھی ان دونوں بچوں کو وقت چاہیے۔۔۔”
وہ بھی جانے کے لیے اٹھے تھے۔۔۔
“کیا لبابہ تمہارے گھر گئی تھی اس لیے تم نے شادی جلدی کرنے سے منع کیا ہے ابراہیم۔۔؟؟
کیا کچھ کہا تھا لبابہ نے۔۔؟؟ وہ نہیں چاہتی کہ میں اور میرے بچے خوش۔۔۔”
“بس ضیشم۔۔۔کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔؟؟ تم جانتے ہو لبابہ نے ان چار گھنٹوں میں ایک بار بھی ذکر نہیں کیا تمہارا یا تمہارے بچوں کا۔۔
اسکی زبان پر بس اسکی اپنی بچی کا نام تھا۔۔۔
جس کے بارے میں تم نے سوچنا چھوڑ دیا تھا اب وہ سوچ رہی ہے۔۔۔
اور میں نے جلدی شادی سے منع نہیں کیا۔۔۔
پر میں چاہتا ہوں دونوں بچوں کو وقت دیا جائے۔۔۔”
وہ دروازے تک چلے گئے تھے۔۔۔پر جاتے جاتے انہوں نے پھر پیچھے مڑ کر دیکھا تھا ضیشم کو
جو نیچے سر کئیے کھڑے تھے
“لبابہ کے لیے اتنی نفرت پال رکھی ہے تم نے ضیشم کہ تم نے اتنا کچھ برا کردیا اسکے ساتھ۔۔
آج بھی اسکے لیے تم منفی سوچتے ہو۔۔۔
جبکہ اس نے کبھی برا نہیں چاہا تمہارا۔۔۔اور تم نے کبھی کوئی موقع نہیں چھوڑا نہ۔۔؟؟”
۔
وہ یہ کہہ کر وہاں سے جا چکے تھے۔۔۔پیچھے ایک شخص کو چھوڑ کر جو اب ایک ناکام انسان سمجھنے لگا تھا خود کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ دن کے بعد۔۔۔۔۔”””
۔
۔
“ارحام۔۔۔کیا ہوا ہے تمہیں نہ تم فون اٹھا رہے ہو نہ ہی مجھ سے بات کرتے ہو۔۔”
“میں بیزی ہو رشنا۔۔۔”
“کہاں بیزی ہو۔۔؟ اس گھمنڈی کے آرڈرز فالو ہی کیوں کرتے ہو تم۔۔؟؟”
“کیونکہ وہ میری باس ہے۔۔۔نوکری کرتا ہوں میں اسکی کمپنی میں۔۔۔”
ارحام نے اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی بہت کوشش کی تھی۔۔۔
۔
“تو چھوڑ دو نوکری۔۔۔ کیا کر لے گی وہ۔۔؟ کورٹ لے جائے گی۔۔۔ میں دیتی ہوں تمہیں پیسے اسکے منہ پہ ماروں جتنا نقصان ہوا ہے اسکا۔۔۔”
۔
“تاکہ پھر تمہاری غلامی کروں میں۔۔؟؟ میں آگے کم طعنے نہیں سنتا جو ایک اور لسٹ میں شامل کرلوں۔۔۔”
وہ اپنے ڈیسک پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
بہت سے سٹاف ممبرز کے کان انکی گفتگو میں لگے ہوئے تھے سب کو صاف سنائی دے رہی تھی ان دونوں کی باتیں۔۔۔
۔
“عشنا میم سائٹ دیکھنے آپ نے کب جانا ہے ڈرائیور۔۔”
“آج میں نے موم کے ساتھ شاپنگ پہ جانا ہے۔۔۔تم جاؤ۔۔۔”
۔
عشنا وال کے ساتھ کھڑے ہوگئی تھی۔۔۔سامنے سین ہوتے دیکھ کر۔۔۔
۔
“تم میرے منگیتر ہو ارحام۔۔۔جو میرا ہے وہ تمہارا ہے۔۔۔ڈیڈ۔۔۔”
“اننف رشنا۔۔۔ میں منگیتر ہوں۔۔۔ مجھے غلام نہ سمجھو۔۔۔ ابھی تک سب سن رہا ہو برداشت کر رہا ہوں۔۔۔پلیز مجھے خاموش رہنے دوں۔۔۔
یہاں نوکری میری مرضٰ سے کررہا ہو۔۔عزت اور خودداری سے۔۔۔
جب میرے پاس خود کا کمایا ہوا پیسہ ہوگا تو میں چلا جاؤں گا۔۔۔”
“ارحام۔۔۔۔”
“پلیز لئیو۔۔۔۔۔”
۔
“مسٹر ارحام اگر آپ کے لوونگ مومنٹ ختم ہوگئے ہوں تو ڈرائیور سے گاڑی کی کئیز لے لیجئے آپ ہمیں شاپنگ سینٹر لے جارہے ہیں۔۔۔
۔
“وہ اب ڈرائیور بھی بن گیا ہے۔۔؟ ڈسگسٹنگ عشنا۔۔۔”
“ڈسگسٹنگ تو یہ ہے تم سب کے سامنے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہوئی ہو۔۔۔
اینڈ اگئین مجھے میم کہہ کر بلانا یہ میرا آفس ہے تمہارا گھر نہیں۔۔۔رستہ چھوڑو اب میرا۔۔۔
مجھے مجبور نہ کرو کہ تمہیں یہاں سے نکال کر سیکیورٹی سے بین کروا دوں گی اینٹری تمہاری یہاں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“راہوں میں ہم کو ملو۔۔۔جہاں بس پیار ہو۔۔۔
سر پہ فضاؤں کے۔۔۔ عشق سوار ہو۔۔”
۔
ارحام نے دروازہ جیسے ہی کھولا تھا عشنا گلاسیز لگا کر پاس سے گزر گئی تھی۔۔۔
“گڈ ڈے میم۔۔۔۔”
ارحام یہ کہہ کر بیک سیٹ کا دروازہ بند کرچکا تھا۔۔۔
“میم نہیں بیٹا آنٹی کہہ سکتے ہو۔۔۔۔”
“ماما چلیں اندر۔۔۔” عشنا کی غصے والی آواز پر لبابہ بھی اسکے پیچھے شاپنگ مال چلی گئیں تھیں۔۔۔
۔
“عشنا ضیشم۔۔۔۔
۔
ارحام نے گہرا سانس لیا تھا اسکی آنکھوں نے دور تک عشنا کو جاتے دیکھا تھا۔۔
آج اسکے گھمنڈ پر اسے غصہ نہیں آرہا تھا۔۔۔
گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر وہ وہیں کھڑا ہوگیا تھا۔۔اسکے ذہن میں صرف ایک ہی خیال تھا۔۔۔ اسکی نگاہوں میں ایک ہی چہرہ تھا عُشنا ضیشم کا۔۔۔
دوپہر کی کڑی دھوپ میں کھڑا وہ شخص اس گھمنڈی کو بار بار باہر دیکھنے پر مجبور کررہا تھا
“ایکسکئیوزمئ ماما میں ابھی آئی۔۔۔”
عشنا نے ایکسکئیوز کیا تھا اور سامنے سیلز بوائے سے بات کررہے شاپ مینیجر کے پاس جا کر کچھ کہا تھا۔۔۔
“یہ پیسے۔۔۔”
نو نیڈ میڈم آپ کا کام ہو گیا سمجھئے بس۔۔۔”
انہوں نے اپنے ملازم سے کچھ کہا تھا جو کچھ دیر میں وہاں سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“آسمان کو پھر زمین سے اتنی محبت ہو۔۔۔
وفا پھیلی ہو زمین پہ۔۔۔چاہتوں کی صحبت ہو۔۔۔”
۔
“سر یہ لے لیجئے۔۔۔دھوپ بہت تیز ہے۔۔۔”
“ارے اسکی ضرورت نہیں ۔۔آپ کو کسی نے بھیجا ہے۔۔؟؟”
ارحام نے اندر کی جانب دیکھا تھا۔۔
“نہیں سر۔۔ ہمارے مینیجر نے دیکھا اس لیے بھیج دیا مجھے۔۔۔ آپ لے لیجئے پلیز۔۔۔”
اور وہ چھتری ارحام کو دے کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
“عشنا۔۔۔۔مجھے انتظار کرنا چاہیے تھا۔۔۔شاید میں کبھی تمہارے سامنے اعتراف نہیں کرپاؤں۔۔پر مجھے جلدی تھی۔۔۔ “
ارحام نے گاڑی پر سر رکھ لیا تھا جیسے ہی چھتری اس نے سر پر کی تھی اپنے۔۔
“آپ کچھ اور نہیں لیں گی ماما بس جوس۔۔؟؟”
عشنا نے اپنا چہرہ اس شیشے کی ونڈو سے پیچھے کرلیا تھا جہاں سے وہ نیچے بار بار ارحام کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اوکے تم نے بھی تو جوس بھی آرڈر نہیں کیا۔۔۔”
“میرا دل نہیں کر رہا ماما۔۔۔”
اپنا مابائل ٹیبل پر رکھ کر لبابہ نے اسی جانب دیکھا تھا
“ہممم دل کیسے کرے گا جب دھیان ہی کہیں اور ہے۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟ نوو ماما میرا دھیان کہیں اور نہیں۔۔”
عشنا نے نظریں دوسری اوڑھ کرلی تھیں۔۔۔
“چھپا کرکیا ہوجائے گا عشنا۔۔؟؟ ماں ہوں تمہاری ۔۔۔پر میں دوست بننا چاہتی ہوں۔۔۔”
انہوں نے عشنا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
“دراصل باہر دھوپ بہت تیز تھی اور میں۔۔۔”
“دھوپ۔۔؟؟ باہر تو تیز ہوا چل رہی ہے۔۔۔”
اور عشنا کی نظر ایک جھٹکے سے باہر گئی تھی۔۔۔لبابہ کی ہنسی نے اسے مجبور کردیا تھا سر جھکانے پر۔۔۔
“آووو۔۔۔میری گھمنڈی بیٹی شرما رہی ہے۔۔۔؟؟؟”
عشنا کی گال پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے عشنا کا چہرہ اٹھایا تھا۔۔
“پلیز ماما۔۔۔ ایم نوٹ انٹرسٹڈ۔۔۔ وہ میرا میچ نہیں ہے۔۔۔
وہ اس قابل ہوتا تو یقین رکھتا میرے معیار پر پورا اترتا۔۔۔”
عشنا نے اب کی بار باہر نہیں دیکھا تھا۔۔۔
“لبابہ۔۔۔؟؟؟ اوو مائی گاڈ۔۔”
ایک چیخ نے دونوں ماں بیٹی کا دھیان کہیں اور کردیا تھا۔۔۔
“اریج۔۔؟؟”
لبابہ اپنی سیٹ سے اٹھی تھیں سامنے کھڑی عورت بھی انکی عمر کی تھی
“تم سچ میں میرے سامنے کھڑی ہو۔۔؟؟”
وہ دونوں بہت گرم جوشی سے ملی تھیں ایک دوسرے کو۔۔۔
“میٹ مائی ڈاٹر عشنا۔۔۔”
“ماشاللہ عشنا بیٹا۔۔۔۔”
انہوں نے عشنا کو جیسے ہی اپنے گلے سے لگایا تھا عشنا نے منہ بنا کر اپنی موم کی طرف دیکھا تھا جو ہنس دی تھیں۔۔۔
“میں اپنے بیٹے کو ملوانا تو بھول ہی گئی شہوار بیٹا کم ہیر۔۔۔”
ایک ٹال ہینڈسم لڑکا آگے بڑھا تھا
“ہیلو آنٹی۔۔۔ہیلو مس عشنا۔۔۔”
لبابہ نے سر پر پیار دیا تھا۔۔۔ر جب اس نے ہاتھ عشنا کے آگے بڑھایا تھا عشنا نے اپنا سیل فون اور پرس اٹھا لیا تھا۔۔۔
“ہائے۔۔۔نائس میٹنگ یو۔۔۔ماما میں ابھی چلتی ہوں آپ کو ڈرائیور پک کرلے گا۔۔۔بائے۔۔”
عشنا نے لبابہ کے گال پر کس کی تھی اور جلدی سے وہاں سے چلی گئی تھی بنا اس لڑکے کو دیکھے جس کی نظریں ابھی بھی عشنا پر تھیں۔۔۔
“شئی از بیوٹیفل۔۔۔”
شہوار نے لبابہ کی جانب دیکھ کر کہا تھا
“ہاہاہا اس کے سامنے مت کہہ دینا بیٹا۔۔۔غصے والی ہے۔۔۔”
“لبابہ میں بہت خوش ہوں تم دیکھ کر تم تو غائب ہی ہوگئی تھی۔۔۔بنا بتائے۔۔۔
پر جب ضیشم بھائی صاحب کی دوسری شادی کا سنا تو مجھے سب سمجھ آگیا تھا۔۔۔”
۔
۔
انکی باتیں آپس میں شروع ہوگئی تھی۔۔۔ باہر ہوتی بارش کی طرح۔۔۔
۔
گارڈ نے جیسے ہی دروازہ کھولا تھا۔۔ گرتی بارش کی بوندوں نے اسکے پاؤں وہیں روک دئیے تھے۔۔۔
“چلیں۔۔۔”
ارحام نے خود سے چھتری ہٹا کر عشنا پر کردی تھی۔۔۔
۔
“کتنا سکون ملے۔۔۔ سنگ تیرے اے صنم۔۔۔
دور کبھی جاکر۔۔۔کرنا نہ ہم پہ ستم۔۔۔۔”
۔
وہ دونوں سیڑھیوں سے اترنا شروع ہوئے تھے۔۔۔اس چھتری کے سائے میں وہ تو بارش سے محفوظ رہی پر ارحام پوری طرح سے بھیگ چکا تھا۔۔۔
عشنا کی دھڑکنے تیز تیز دھڑکنا شروع ہوگئیں تھیں۔۔۔۔
۔
“تو ہے تو زندگی کتنی حسین ہے۔۔۔ بن تیرے پھیکی ہے تجھ سے رنگین ہے۔۔۔
ہر ایک سانس میری۔۔۔مجھ سے یہ کہتی ہے۔۔۔ میرے آسمان کی ۔۔۔ تو ہی زمین ہے۔۔”
۔
تھین۔۔۔”
تھینکس کہتے کہتے عشنا نے خود کو روک لیا تھا۔۔۔
“اٹس اوکے میم۔۔۔”
ارحام نے چھتری بند کر دی تھی اور واپس اوپر گیا تھا۔۔۔ اسے سیلز بوائے کو اس نے وہ چھتری دی تھی اور پھر وہاں سے آگیا تھا۔۔۔
“آپ گھر چلیں گی یا آفس۔۔؟؟”
“آفس۔۔۔ اور تم گھر جا سکتے ہو۔۔۔بھیگ چکے ہو۔۔”
“نہیں میں۔۔۔”
“یہ میرے آرڈر ہیں مسٹر ارحام۔۔۔”
عشنا نے گاڑی کا شیشہ نیچے کردیا تھا۔۔۔
۔
“صبح کا چین میرا۔۔۔شام کا سکون ہے۔۔۔
پیار تیرا پیار نہیں۔۔۔ میرا جنون ہے۔۔۔”
۔
آنکھیں بند کرکے اس نے جیسے ہی سیٹ پر سر رکھا تھا۔۔۔ چہرے پہ آتی اسکی زلفوں نے ارحام ابراہیم کی نظروں کو قید کرلیا تھا اس ایک لمحے میں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے اپارٹمنٹ میں آنے کی۔۔۔”
“جیسے تمہاری جرات ہوئی میری بیٹی کے خلاف یہ تصاویر پبلش کروانے کی۔۔۔”
“کیا بکواس کر رہی ہو تم۔۔؟؟ “
“میں بکواس کررہی ہوں۔۔؟ لبابہ تم مجھ سے بدلہ لینے کے لیے اتنا نیچے گر جاؤ گی۔۔؟
میری بیٹی کی یہ تصویریں۔۔۔”
“یہ تصویریں میں کیوں پبلش کرواؤں گی۔۔؟؟ تمہاری بیٹی کو شرم نہیں آئی کہ کس کی بیٹی ہے وہ پھر بھی وہ یہ سب کام کر رہی ہے۔۔۔ اور یہ پکچرز میں موجود لڑکا تو اسکا منگیتر بھی نہیں ہے۔۔۔”
“لبابہ۔۔۔”
تابین بیگم نے ہاتھ اٹھا دیا تھا۔۔۔اور ضیشم صاحب جلدی سے اندر آئے تھے پر لبابہ اپنی مظبوط گرفت میں تابین کا ہاتھ پکڑ چکی تھی
“ہاؤ ڈیڑھ یو۔۔۔؟؟ مس تابین ضیشم آئندہ ایسی جرات نہ کرنا ہاتھ توڑ کہ رکھ دوں گی،”
ایک جھٹکے سے انہوں نے ہاتھ پیچھے کردیا تھا تابین کا۔۔۔
“تم نے ٹھیک نہیں کیا لبابہ رشنا کا پرسنل میٹر۔۔۔”
“پرسنل میٹر یا پرسنل آفئیر۔۔۔؟؟”
“تمہیں کیا لگتا ہے اس جھوٹی تصویروں سے تم اسے بدنام کردو گی۔۔؟؟”
“میں تم نہیں ہوں تابین۔۔۔ یہ پینٹرے تمہارے ہوا کرتے تھے۔۔۔ میری تصاویر بھی اسی طرح تم نے پبلش کروائیں تھی۔۔۔ آج وقت نہیں وہی تمہاری بیٹی کے ساتھ کردیا۔۔۔
لیکن بے فکر رہو میں یا عشنا کی تربیت اتنی خراب نہیں ہے۔۔ سووو اپنے امیر شوہر سے کہو اصل مجرموں کو ڈھونڈیں۔۔۔۔
بلکہ نہ ڈھونڈیں۔۔۔تم ایسا کرو اپنی بیٹی سے کہو کہ اپنے بوائے فرینڈ سے دوبارہ جب بھی ملے تو میڈیا سے دور ہو کر ملے۔۔۔”
۔
وہ اپنے ہی اپارٹمنٹ سے باہر جاتے ہوئے ضیشم سے ٹکرا گئیں تھیں جنکی آنکھوں میں نمی دیکھی تھی انہوں نے۔۔۔
انکے دل میں آج بھی درد ہوا تھا سامنے کھڑۓے اس شخص کو اس حال میں دیکھ کر۔۔۔
“وہ۔۔۔۔وہ سب جھوٹ تھا۔۔۔؟؟ وہ تمہاری تصویریں۔۔۔”
“وہ سب سچ تھا مسٹر ضیشم۔۔۔پر تمہاری بیوی نے جس طرح سے تمہارے سامنے پیش کیا تھا وہ جھوٹ تھا۔۔۔ جس آدمی کو میرا یار بنا رہے تھے تم وہ تو بہن کا درجہ دیتا آیا مجھے۔۔۔ ابھی اپنی زندگی لندن میں گزار رہا ہے اپنی بیوی کے ساتھ۔۔
وہی بیوی جسے تم نے ذلیل کیا تھا یہ کہہ کر کہ وہ کسی بےوفا آدمی کے ساتھ کیسے رہ رہی ہے۔۔۔”
وہ دو قدم آگے بڑھی تھیں جب ضیشم نے انکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔
“تم جھوٹ بول رہی ہو لبابہ۔۔۔۔۔تم جھوٹی ہو۔۔۔”
“ہاہاہا میں جھوٹی ہوں۔۔۔ میں نے مان لیا تھا۔۔ تب بھی اور آج بھی۔۔۔
اب پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دو۔۔۔ مجھے تم سے گھن آرہی ہے ضیشم۔۔۔”
۔
ضیشم۔۔۔۔”
تابین کی آواز پر انہوں نے لبابہ کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
“ضیشم میں نے کہا تھا آپ گاڑی میں انتظار کریں آپ کیا۔۔۔”
“لبابہ نے جو کہا وہ سچ تھا۔۔؟؟”
انکی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا ہو جتنی تیزی سے وہ تابین کے سامنے کھڑے تھے۔۔
“وہ بکواس کررہی ہے جھوٹ بول رہی ہے ضیشم۔۔۔”
“وہ تصویریں سچی تھیں یا جھوٹی۔۔؟ تابین مجھے سچ بتاؤ ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گا۔۔”
“ضیشم۔۔۔”
“میں نے کہا جو لبابہ نے کہا وہ سب جھوٹ تھا۔۔۔کیا کہہ کر گئی وہ۔۔۔ تمہارا ہاتھ تھا ان سب میں۔۔؟ ہاں یا نا میں جواب دو۔۔۔”
وہ اتنی اونچی چلائے تھے کہ لبابہ جاتے جاتے رکی تھیں۔۔۔ انکے قدم جم گئے تھے ضیشم کی اواز میں اتنا غصہ دیکھ کر۔۔۔
“وہ ضیشم۔۔۔”
“ہاں یا ناں۔۔۔؟؟”
“ہاں۔۔۔۔”
۔
تابین کے منہ سے جیسے ہی یہ لفظ نکلا تھا ضیشم صاحب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا ان پر۔۔۔
۔
“ضیشم کاش تم اس وقت یہ کرتے جو تم نے آج کیا۔۔۔
تم نے اچھی سزا دی مجھے۔۔۔بہت اچھی سزا دی مجھ جیسی گھمنڈی کو تم جیسے شخص سے محبت کی۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔