Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 19
Rate this Novel
Episode 19
“وہاب یہ ہے وہ فراڈ۔۔۔ جس نے ارحام کا پروجیکٹ کاپی کیا تھا۔۔۔۔
کل تمہیں فائدہ ہوا تھا۔۔۔ اور آج مجھے ہوا ہے۔۔۔
کیونکہ یہ دونوں ہی میری کمپنی کے قابل نہیں تھے۔۔۔۔ مسٹر ارحام آج میں نے صرف ساحر کو میری کمپنی سے نکالنا تھا۔۔۔ پر اب میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ تمہارے ساتھ کمپنی کے جو بھی معاملات تھے انہیں میں ختم کرتی ہوں تم میری کمپنی سے آزاد ہو۔۔۔”
وہ جیسے ہی وہاں سے دروازے تک پہنچی تھی ارحام نے وہاب کو غصے سے اس شئشے کی ونڈو پر مارا تھا جس کے سر پر چوٹ لگ گئی تھی اور اسے تھپڑ مار کر نیچے پھینک دیا تھا۔۔۔
“لعنت ہے تم جیسے لوگوں پر۔۔۔وہ اپنا غصہ کبھی ساحر کو مار کر اتار رہا تھا۔۔۔
پر عشنا پر ایک بھی بات کا فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔
۔
وہ اپنے گارڈز کے ساتھ وہاں سے باہر آگئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
اس نے جو بھی اندر کہا سب سچ کہا تھا۔۔۔۔
آج اس کا فائدہ ہی تو ہوا تھا۔۔۔۔ پر اسکے دل کے نقصان کے بعد۔۔۔۔۔”
۔
“ارحام ابراہیم۔۔۔یہ آخری موقع تھا جو میرے دل نے تمہیں دیا تھا۔۔۔
میری ماں کی ضد کے بعد تو میرے زندگی میں تو شاید آجاؤ پر میرے دل میں کبھی نہیں آ پاؤگے۔۔۔
محبت عزت کے بغیر ادھوری ہے۔۔۔اور رشتے یقین کے بغیر نامکمل۔۔۔
تم دونوں میں ناکام رہے ہو۔۔۔اور ایسے ناکام شخص کو میں کبھی نہیں اپناؤں گی۔۔۔”
۔
“اوو کہیں تنہا نہ رہ جائیں وے۔۔۔
روئی نہ جو یاد میری آئی وے۔۔۔
خوش رویں۔۔۔ اکھاں نہ پر آئیں وے۔۔۔”
۔
گاڑی کے روف پر سر رکھ دیا تھا اس نے۔۔۔
ایسا لگ رہا تھ جیسے ارحام کے ہاتھوں اسکے دل کے لاکھوں ٹکڑے ہوگئے ہوں
“ابھی تو شروعات بھی نہیں ہوئی تھی ارحام۔۔۔اچھا ہے میں ان گہرائیوں میں جا کر نہیں بکھری۔۔۔”
اپنی گلاسیز لگا کر وہ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔
اور اس بلڈنگ کے فرنٹ پر کھڑا وہ شخص خالی ہاتھ کھڑا اسے تکتا رہ گیا۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یو آر انڈراریسٹ مسٹر ارحام۔۔۔ مسٹر وہاب پر قاتلانہ حملہ کرنے کے جرم میں ہم آپ کو۔۔۔”
ارحام کی نگاہ اب اس سڑک پر نہیں تھیں سامنے کھڑے پولیس آفیسر پر تھیں۔۔۔ وہ تو انکے ساتھ چلنے کو بھی تیار تھا پر عشنا کے ساتھ آئے ہوئے گارڈز ارحام کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے
۔
“ایکسکئیوزمئ آفیسر۔۔۔ مسٹر وہاب پر کوئی بھی حملہ ارحام صاحب نے نہیں ہم نے کیا تھا۔۔
کیونکہ انہوں نے ہماری میڈم مس عشنا پر گن تانی ہوئی تھی۔۔۔ ہم سیکیورٹی گارڈز ہیں ہماری زمہ داری تھی انکی حفاظت۔۔۔ اور مسٹر وہاب جن پر بہت سے چارج ہوچکے ہیں وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ رپورٹ کرسکے۔۔۔”
۔
پولیس کی وین وہاں سے چلی گئی تھی اور ایمبولینس بھی زخمی وہاب اور ساحر کو وہاں سے لے گئی تھی۔۔۔
“تھینک یو آپ لوگوں کا۔۔۔”
ارحام نے ان گارڈز سے کہا تھا
“ہم وہی کر رہے ہیں جو عشنا میڈم نے ہمیں آرڈر کئیے تھے سر۔۔۔ آپ بے فکر ہوکر گھر جائیں۔۔
باقی میڈم دیکھ لیں گی۔۔۔ گھر ڈراپ کردیں۔۔؟؟”
انکی لفٹ کی آفر ارحام کو ایک کھنجر کی طرح چبھی تھی۔۔
وہ بنا کچھ جواب دئیے واپس چل دیا تھا وہاں سے اپنے گھر کی طرف۔
۔
“کیا ہوا جو تو مجھ سے دور ہوگیا۔۔۔
سپنا دونوں کا چورو چور ہوگیا ۔۔۔۔
ہوو وتیرے ساتھ روے میری پرچھائی وے۔۔۔”
۔
“یو نو وٹ۔۔۔؟؟ اب تو مجھے لگ رہا ہے رشنا سے میری منگنی ٹوٹی نہیں تھی۔۔۔ تم نے محنت کی اسکے پیچھے بھی۔۔۔ تم کیسے کرلیتی ہو اتنا سب۔۔؟؟ اتنا کالا دل تمہارا۔۔۔؟؟
بتاؤ کیا میرا شک بھی سہی ہے میری اور رشنا کی منگنی۔۔۔”
۔
اسکی باتیں اسے ہی سنائی دے رہی تھیں چلتی سڑک پر شور سے بھر ماحول میں بھی اسے سب سنائی دے رہا تھا۔۔۔
“گھمنڈی۔۔۔ “
۔
“عشنا۔۔۔”
۔
آنکھیں بند کئیے وہ گھر کی جانب چلنا شروع ہوا تھا۔۔۔ اب اسکے پاس کچھ نہیں تھا۔۔۔ کل اسکے پاس سب تھا پر آج نہیں نہ ہی کوئی نوکری نہ ہی کوئی سیلف ریسپیکٹ۔۔۔۔
اب وہ گھمنڈی۔۔۔
“اب وہ بھی نہیں رہی میری زندگی میں۔۔۔”
۔
۔
“یہ آغاز تھا میرا۔۔۔ یہی انجام ہونا تھا۔۔
مجھے برباد ہونا تھا۔۔۔ مجھے ناکام ہونا تھا۔۔۔
مجھے تقدیر نے تقدیر کا تارا بنا ڈالا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیوں تمہیں خوشی ملتی ہے میرے گر جانے پر۔۔؟ کیوں اتنی جلن اتنا زہر ہے میرے لیے۔۔؟؟ میں تو تنگ بھی نہیں کرتا کسی کو۔۔ پھر کیوں ہر ایک کو بغض ہے میرے ساتھ۔۔؟؟”
۔
عشنا نے کار کی سپیڈ اور تیز کردی تھی۔۔۔۔
۔
تم بھی ان لوگوں جیسی نکلی نہ جو ارحام کو ہمیشہ نیچے گراتے آئے۔۔۔۔”
۔
“تمہیں تو پہچان نہیں تھی لوگوں کی پر میں نے کیسے غلطی کردی تمہیں پہچاننے میں ارحام تمہاری چھوٹی غلطی کا بچپنا اور بڑی غلطی کو نادانی سمجھتی آئی میں۔۔۔
بہت بڑی غلطی کردی میں نے۔۔۔ پر اب نہیں ہوگا ایسا کچھ اب تم پر میری نظر کبھی نہیں پڑے گی۔۔۔
ارحام آج کے بعد میں تمہیں دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دوں گی۔۔۔
یہ میرا عہد۔۔”
اور گاڑی کا کنٹرول کھو دیا تھا اس نے۔۔۔۔ جو سامنے آتے ٹرک سے ٹکڑانے لگی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“موم۔۔۔۔۔”
۔
۔
گاڑی جیسے ہی ٹکرائی تھی عشنا کی آنکھیں بند ہونے سے پہلے زبان پر ایک ہی لفظ تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دنوں بعد۔۔۔۔”
۔
“ماما میں ٹھیک ہوں پلیز اب پریشان نہ ہوں آپ۔۔۔”
“عشنا مجھے مجبور نہ کرو ایک اور تھپڑ لگانے پر۔۔۔”
“ایک اور تھپڑ۔۔۔؟؟”
ابراہیم صاحب اپنی سیٹ سے اٹھ کر آگے بڑھے تھے۔۔۔ انکی آنکھوں میں غصہ تھا لبابہ کے لیے۔۔۔
“جی۔۔۔ایک اور تھپڑ۔۔۔ ۔۔ یہ کچھ دن پہلے جس طرح سے اس اپارٹمنٹ کے گیٹ سے اندر داخل ہو ئی تھی ماتھے سے خون بہہ رہا تھا ہاتھ پر سے خون نکل رہا تھا۔۔۔
مجھے اس وقت غصہ آیا تھا جب اس نے یہ کہا تھا کہ چھوٹا سا ایکسیڈنٹ۔۔۔ چھوٹا سا۔۔۔؟؟”
وہ چلائی تھی ایک بار پھر۔۔۔ عشنا کو شرمندگی ہوئی تھی وہاں ابراہیم صاحب بھی تھے اور انکی بیوی بھی اور وہ بیٹا بھی
جو کہیں نہ کہیں ذمہ دارتھا اس ایکسیڈنٹ کا۔۔۔عشنا کو شرمندگی ہورہی تھی کہ اسکی موم نے اسے تھپڑ مارنے والی بات سب کے سامنے کی۔۔۔
“عشنا یہ کیا طریقہ ہے۔۔؟؟ یہ کیا بات ہوئی بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔؟
مجھے بالکل اچھا نہیں لگا یہ سب۔۔۔”
ابراہیم نے صاحب نے عشنا کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
اسی وقت ارحام نے عشنا کی طرف دیکھا تھا جس نے نظر چرا لی تھی۔۔۔
پچھلے ایک گھنٹے سے وہ ایسے ہی کررہی تھی۔۔۔
اسکے ماتھے پر بندھی پٹی اور ہاتھ پر لگے پلاسٹر سے اس بھی ایک تکلیف ہوئی تھی۔۔۔
وہ گھمنڈی چپ تھی پر پر اسکی آنکھوں میں چھپی نفرت نے اسے قصوروار ثابت کردیا تھا۔۔۔
“لبابہ۔۔۔ تم چلو میرے ساتھ۔۔۔۔ عشنا کو دوائی کھلا دیں گے ابراہیم۔۔۔”
اسمارا بیگم سمجھاتے ہوئے لبابہ کو باہر لے گئیں تھیں۔۔۔
۔
“بیٹا اپنی ماں کی کسی بات کا برا مت ماننا وہ تم سے بہت پیار کرتی ہے۔۔۔ اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے تمہارے سوا۔۔۔اب باہر بیٹھی رو رہی ہوگی۔۔۔”
انکی باتیں سنتے سنتے اس نے آنکھیں بند کرکے ٹیک لگا لی تھی بیڈ کے ساتھ۔۔۔
اسے خبر نہ ہوئی تھی ابراہیم کب وہ دوائی ارحام کو پکڑا کر باہر چلے گئے تھے۔۔۔۔۔
۔
“میں کوشش کروں گی کہ میری وجہ سے وہ اور ہرٹ نہ ہوں انکل۔۔۔”
اور جب اس نے آنکھیں کھولیں تو انکی جگہ ارحام کھڑا تھا بیڈ کے پاس۔۔۔
“دوائی۔۔۔”
اس نے اپنے ہاتھ کو آگے بڑھایا تھا۔۔۔۔
“زہر کھانا پسند کروں گی تمہارے ہاتھ سے دوائی کھانے سے اچھا۔۔۔”
اسکے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے عشنا کے ہاتھ پر جو تکلیف ہوئی اسکی زبان سے ایک آہ نکلی تھی
اور آنکھ سے ایک آنسو۔۔۔
“عشنا۔۔۔۔”
“مس عشنا کہہ کر مخاطب کریں مسٹر ارحام۔۔۔۔ اور دفعہ ہوجائیں میرے بیڈروم سے۔۔۔”
نظریں پھیر لی تھیں اس نے۔۔۔
“ہمم اوکے۔۔۔ میں چلا جاؤں گا۔۔۔ اتنی نفرت ہے تمہیں تو میں تمہارے سامنے نہیں آؤں گا۔۔۔ پر مجھے بس میرے ایک سوال کا جواب دہ دو عشنا۔۔۔۔”
وہ بیڈ پر بےتکلفی سے بیٹھا تھا عشنا کے پاس۔۔۔
“مجھے کسی سوال کا جواب نہیں دینا۔۔ شکر کرو میں نے کسی کو کچھ۔۔۔”
“کیوں نہیں بتایا۔۔؟؟ میں پوچھنا چاہتا ہوں کیوں نہیں بتایا کسی کو بھی کچھ۔۔۔؟؟
بتا دیتی سب کو کہ کتنا ناکام انسان ثابت ہوا ہوں میں۔۔۔”
اسکی مدھم آواز پر عشنا نے اسکی جانب دیکھا تھا جو سر جھکائے بیٹھا تھا اسکے پاس۔۔۔
“بتا دیتی سب کو جو ہوا تھا عشنا۔۔۔کیونکہ مجھ میں ہمت نہیں ہے کسی کو بتانے کی۔۔۔
تم بتا دیتی تو اچھا ہوتا۔۔۔ میرے گھر والے اور میں تمہیں بار بار یہاں نظر نہیں آئیں گے۔۔۔
خاص کر اپنی امی کو بتا دینا۔۔۔ وہ جو اتنی عزت مجھے دیتی آئیں ہیں۔۔۔ شاید یہ جان کر انکی آنکھیں کھل جائیں۔۔۔۔۔
اور ایک بات۔۔۔تم چاہے چپ رہو۔۔۔ میں جانتا ہوں میں وجہ ہوں اس سب کی۔۔۔
میری وجہ سے ہورہا ہے یہ سب۔۔۔ تمہارا ایکسیڈنٹ کی وجہ بھی میں ہوں۔۔۔
جانتا ہوں میں۔۔۔پر میری وجہ سے خود کو سزا مت دو عشنا تم۔۔۔”
۔
اسکی باتیں اس گھمنڈی کو کچھ پل کے لیے کمزور بنا گئیں تھیں۔۔۔
“تمہاری وجہ سے۔۔؟؟ تمہاری کوئی اوقات نہیں رہی میری زندگی میں اب ارحام۔۔”
“اسکا مطلب پہلے حیثیت تھی میری۔۔۔؟؟”
اسب کے ان دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ تمہاری بھول ہے ارحام۔۔۔۔ تم میری زندگی میں نہ پہلے ضروری تھے نہ اب ہو۔۔۔”
“پر تم۔۔۔ تم ضرورت بن گئی تھی میری۔۔۔”
اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔ جو اس گھمنڈی نے سن کر بھی ان سنی کر دی تھی۔۔۔۔
“جاتے ہوئے دروازہ بند کرجانا۔۔۔ اور آئندہ یہاں مت آنا۔۔۔ مجھے تمہارے چہرے سے بھی نفرت ہے۔۔۔”
۔
“عشنا۔۔۔۔۔”
وہ روم کا دروازہ جیسے ہی کھلا تھا عاصم پریشانی کے عالم میں اندر آیا تھا۔۔۔
وہ جیسے ہی قدم آگے ہوا تھا ارحام پیچھے ہوتا چلا گیا تھا۔۔۔
“کیا حال بنا لیا ہے تم نے پاگل۔۔۔”
“تم آگئے ہو نہ۔۔۔ ٹھیک ہوجاؤں گی۔۔۔”
اس نے ارحام کی بیک کو دیکھ کر اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔۔
۔
۔
“”مہربانی نہیں تمہارا پیار مانگا۔۔تمہیں منظور ہے تبھی تو یار مانگا ہے۔۔۔
غیروں کے ڈر سے۔۔تیرے شہر سے۔۔۔ میں کبھی رشتہ توڑوں نہ۔۔۔۔”
۔
“گد بائے مس عشنا۔۔۔”
ارحا دروازہ بند کرکے چلا گیا تھا۔۔۔پر عاصم کو عشنا کے ساتھ دیکھ کر جو اسے تکلیف ہوئی تھی ایسی تکلیف تو اسے فلذہ کو مننان کے ساتھ دیکھ کر بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔۔””
۔
۔
“موسٹ ویلکم مس عشنا ضیشم۔۔۔ موسٹ ویلکم۔۔۔ اور یہ کون ہیں بیوٹیفل لیڈی۔۔؟؟
مجھے نہیں پتہ تھا آپ کی بہن بھی اس میٹنگ کو اٹینڈ کریں گی۔۔۔؟؟”
انہوں نے لبابہ بیگم کے سامنے ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔ ہاتھ ملانے کے لیے۔۔۔
انہیں تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا سامنے کھڑے شخص کے فلرٹ کرتے لہجے سے۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ بہن۔۔۔ یا رائٹ۔۔۔ بڑی بہن ہیں میری۔۔۔”
عشنا نے لبابہ بیگم کو سائیڈ ہگ کرتے ہوئے کہا تھا وہی جانتی تھی اپنی موم کے شاک فیس کو دیکھ کر کیسے اس نے اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی
“نائس ٹو میٹ یو مسٹر۔۔۔؟؟”
“نعمان چوہدری۔۔۔”
وہ آلموسٹ لبابہ کی عمر کے تھے جن کی نظریں ہٹ نہیں پارہی تھیں سامنے کھڑی اس خوبصورت لیڈی سے جو عشنا کو غصے سے دیکھ رہیں تھیں
“گھر چل کر بتاؤں گی چھوٹی بہن۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔۔”
لبابہ بیگم نعمان صاحب کے ساتھ ریزروو ٹیبل پر چلیں گئیں تھیں جنہوں نے بہت احترام سے کرسی پیچھے کی تھی انکے لیے۔۔۔
“ہاہاہاہ بڑی بہن۔۔۔ موم۔۔۔ آپ سچ میں بہت ینگ لگ رہی ہیں۔۔۔”
عشنا بھی ہنستے ہوئے اس ٹیبل کی جانب بڑھی تھی۔۔۔
۔
“سووو کیا لیں گے آپ۔۔۔؟؟ مس لبابہ۔۔؟؟”
“آئی تھنک پہلے میٹنگ ہوجائے مکمل۔۔کیوں عشنا۔۔؟؟ ہم نے آگے شاپنگ پر بھی جانا ہے۔۔؟؟”
“اتنی جلدی کیا ہے مس۔۔؟؟ لنچ کیے بغیر تو نہیں جانے دوں گا میں۔۔۔
ویٹر۔۔۔۔”
وہ خود ہی آرڈر کر چُکے تھے ان تینوں کے لیے۔۔۔۔ باتیں جیسے جیسے بزنس کی شروع ہوئیں تھیں لبابہ بیگم جتنے انٹرسٹ سے ہر بات کا جواب دے رہی تھی۔۔۔
اس وقت عشنا فخر سے اپنی ماں کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ ایک بزنس وومن لگ رہی تھی اس وقت۔۔۔
“آفکورس ٹرسٹ کے بغیر کچھ بھی مکمل نہیں ہے۔۔۔”
لبابہ کی آخری جملے نے عشنا کو کھوئی دنیا سے باہر نکالا تھا۔۔۔
“کچھ کھاؤ بیٹ۔۔۔میرا مطلب ہے بہن کچھ کھا لو۔۔۔”
لبابہ نے بیٹا لفظ کہتے کہتے خود کو روکا تھا اب عشنا کو تنگ کررہی تھیں وہ۔۔
پلیٹ بھر کر عشنا کے سامنے رکھ دی تھی اور آنکھوں سے حکم دیا تھا اپنی بیٹی کو سب کھانے کا۔۔۔
نعمان صاحب جو چپ ہوگئے تھے ان دونوں کے خوبصورت لمحات کو۔۔۔اور گہرا سانس بھرا تھا پیچھے کرسی پر ٹیک لگا کر۔۔۔
“بزنس میں ہی یقین چلتا ہے لبابہ۔۔۔”
بنا مس کہے انہوں نے جب لبابہ کا نام لیا تھا انکی نظر انکی بیٹی سے ہٹ کر نعمان پر جا پڑی تھی،،،
اب کہیں جا کر انہوں نے پوری توجہ دی تھی سامنے بیٹھے شخص پر۔۔۔
“یہی تو ایک واحد جگہ ہے جہاں لوگوں کو پتہ ہوتا ہے دھوکا کرنے پر سزا بھی ملتی ہے نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔۔۔۔ رشتوں میں تو یقین نہ بھی ملے تو زندگی گزر ہی جاتی ہے۔۔۔
رشتوں میں یقین ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔۔۔”
دونوں ماں بیٹی انہیں دیکھ رہی تھیں بزنس کی باتوں سے ہنسی مذاق سے کب نعمان صاحب اتنا سیریس ہوگئے تھے انہیں خبر نہ ہوئی۔۔۔
۔
“ایم سوری۔۔۔کچھ اور منگوانا پسند کریں گی آپ دونوں۔۔؟؟”
“نہیں شکریہ۔۔۔۔”
عشنا تو سامنے پڑی فائل کو پڑھنا شروع ہوئی تھی۔۔۔ پر لبابہ بیگم وہ بار بار نعمان کی طرف دیکھ رہیں تھیں۔۔ جو سر جھکا بیٹھ گئے تھے
“عجیب آدمی ہے۔۔۔۔”
۔
“اس ڈیل کو فائل سمجھوں میں مس عشنا۔۔؟؟ وہاب کے بعد شاید آپ کو ٹرسٹ کرنا مشکل ہو اور آپ کے اسسٹنٹ کے دھوکے کے بعد بھی۔۔۔”
انہوں نے پانی کا گلا س واپس رکھا تھا۔۔۔
“اسسٹنٹ۔۔؟؟ ارحام۔۔؟؟ کیا ہوا آفس میں عشنا۔۔؟”
لبابہ نےاپنا چہرہ ٹشو پیپرز سے صاف کیا تھا۔۔۔
“کچھ نہیں مو۔۔۔ارحام نے کوئی بھی دھوکا نہیں دیا تھا مسٹر نعمان۔۔۔
وہ ٹرسٹ ورتھی ہے۔۔۔”
“تو کیوں اسے کمپنی سے نکال دیا آپ نے۔۔؟ ایم سوری دراصل یہ ایک ہوٹ ٹاپک بنا ہوا ہے۔۔ خاص کر ہم بزنس پارٹنرز میں۔۔۔”
انکے لہجے میں کوئی طنز نہیں تھا۔۔۔وہ جاننا چاہتے تھے بس
“کسی کو بھی نہیں نکالا گیا۔۔ مسٹر ارحام نے اپنی مرضی سے ریزائن کیا۔۔۔ اب سائن کریں ہم۔۔؟؟ ہمیں آگے بھی جانا ہے۔۔۔”
عشنا نے فل سٹاپ لگا دیا تھا ۔۔۔پر لبابہ بیگم کو گہری سوچ میں مبتلا کر گئی تھی ان دونوں کی باتیں۔۔۔
“ارحام نے ریزائن کردیا۔۔۔؟؟ کیا چھپا رہی ہے عشنا مجھ سے۔۔؟؟ اس دن جو ایکسیڈنٹ ہوا اسکی وجہ کہیں ارحام تو نہیں۔۔؟؟
کہیں میں جلد بازی تو نہیں کر رہی ارحام پر یقین کرکے۔۔؟؟”
۔
۔
وہاں سے گاڑی تک کا فاصلہ انہی سوچوں میں کٹا تھا لبابہ بیگم کا۔۔۔
“سو مس لبابہ۔۔۔؟؟ کیا آپ شادی شدہ ہیں۔۔۔””
آخر کار نعمان صاحب نے پوچھ لیا تھا۔۔۔
“ایٹ دس پوائنٹ۔۔۔ نو۔۔۔ نمبر لے لیجئے انکا۔۔۔”
“وٹ دا ہیل۔۔۔عشنا گاڑی میں بیٹھو۔۔۔اینڈ مسٹر نعمان۔۔۔ میں میریڈ ہوں۔۔۔”
عشنا ہنستے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی
“اوو۔۔۔ ویسے آپ کو دیکھ کر لگا نہیں۔۔۔”
“خدا حافظ۔۔۔”
“ایک منٹ مس لبابہ۔۔۔۔”
انہوں نے پھر سے راستہ روکا تھا۔۔۔
“جی۔۔۔”
“ہممم کچھ نہیں۔۔۔ٹیک کئیر۔۔۔”
وہ مسکراتے ہوئے وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی وہ لوگ نہیں مانیں گے۔۔۔ واپس چلتے ہیں۔۔۔”
“کیوں نہیں مانیں گے۔۔؟؟ وہ تمہارے نکاح میں اب بھی ہے ضیشم۔۔ اور عشنا۔۔
تمہیں نہیں لگتا اب اسے تم دونوں کا پیار ملنا چاہیے۔۔۔؟”
وہ لوگ ائیر پورٹ سے باہر نکل آئے تھے۔۔۔
“بھائی اب ڈر کیوں رہے ہیں۔۔؟ نہیں نکالتی بھابھی اپنے اپارٹمنٹ سے باہر ہمیں۔۔۔”
“اگر نکال دیا تو۔۔۔؟؟ “
ضیشم صاحب نے پیچھے مڑ کر بہن کو دیکھا تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا آپ تو سچ میں ڈر رہے ہیں۔۔۔ چلیں تو سہی۔۔۔۔”
۔
۔
وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ گئے تھے ضیشم صاحب نے ڈرائیور کو اپارٹمنٹ کا ایڈریس سمجھانا شروع کیا تھا دل میں ایک خوف بھی تھا اور ایک ڈر بھی تھا۔۔۔ پر انکی فیملی انکے ساتھ کھڑی تھی انہیں ہمت حوصلہ دینے کے لیے۔۔۔
اتنے سالوں میں پہلی بار انہوں نے کسی کام سے پہلے تابین کو بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔ اپنے بچوں سے پوچھنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔۔
اپنی فیملی سے دور رہ کر انہیں ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی جادو کے اثر سے باہر آگئے ہوں وہ۔۔۔
اب انہیں قدر محسوس ہورہی تھی اپنی پہلی بیوی اور بچوں کی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“موم۔۔۔۔”
وہ دونوں خاموش اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے تو لبابہ بیگم نظریں چرا رہیں تھیں پر عشنا بھی بازآنے والی نہیں تھی وہی جانتی تھی پورے رستے کیسے ہنسی کنٹرول کی تھی اس نے۔۔۔
“عشنا ڈونٹ یو۔۔۔”
انہوں نے لائٹس آن کرکے وارننگ دی تھی پر عشنا پہلے ہی اپنی دونوں ہیلز اتار کر ہاتھ میں پکڑ چکی تھی،،،
“موم۔۔۔۔ اوپپسسس بڑی بہن۔۔۔؟؟ ہاہاہاہاہاہا
او مائی گاڈ۔۔۔۔ موم آپ بلش کررہیں تھیں۔۔۔۔ میری گھمنڈی موم کو بلش کرتے میں نے پہلی بار دیکھا۔۔۔
ہاہاہا،۔۔۔”
عشنا کی بچی۔۔۔۔”
لبابہ نے بھی اپنے جوتے اتار دئیے تھے۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ ماما آپ کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔۔۔۔ نمبر تک بات آگئی تھی۔۔۔
اور شادی۔۔؟؟ ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
عشنا کے پیچھے لبابہ بیگم غصے سے بھاگ رہیں تھیں پورے اپارٹمنٹ میں انکا شور تھا۔۔۔
دروازہ لاک کرنا تو وہ پہلے ہی بھول گئے تھے۔۔۔
“اب کہاں جاؤ گی۔۔۔ بلش کی کچھ لگتی ۔۔۔”
عشنا جیسے ہی صوفہ پر گری تھی لبابہ بیگم نے اسے گدگدی کرنا سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔ موم سوری۔۔۔ہاہاہا سٹاپ اٹ۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔ تمہیں تو تمہارۓ ڈیڈ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے اور زیادہ اسے گد گدی کرنے لگیں تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاموم۔۔۔ “بھاگتے بھاگتے لبابہ بیگم کسی سے جاٹکرائی تھی۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔؟؟”
عشنا کے چہرے کی ہنسی مانند پڑ گئی تھی جب اس نے اپنی موم کو اپنے ڈیڈ کی آغوش میں دیکھا تھا
۔
وہ تینوں لوگ بھی اتنے حیران تھے جتنی یہ دونوں ماں بیٹی۔۔۔
جن کو ابھی کچھ دیر پہلے اتنا ہنستے خوش ہوتے دیکھ کر دادی پھوپھو تو خوش ہوئی تھیں پر ضیشم صاحب۔۔۔ جن کے دل میں وہ درد پھر سے شروع ہوگیا تھا۔۔۔
وہ دونوں خوش تھیں انکے بغیر۔۔۔
انہوں نے لبابہ کی ویسٹ پر رکھے ہاتھ کو پیچھے کرلیا تھا واپس کھڑا کرکے انہیں۔۔۔
۔
“السلام علیکم بیٹا۔۔۔”
دادی نے آگے بڑھ کر لبابہ کے ماتھے پر پیار دیا تھا۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔؟؟ تمہیں یاد ہے میں کچھ لگتا ہوں تمہارا بیٹا۔۔۔؟”
افسردگی سے پوچھا تھا انہوں نے۔۔۔
“کیسے ہیں آپ۔۔۔؟؟”
عشنا انکے سوال کو درگزر کرکے انکے گلے آ لگی تھی۔۔۔
“آپ یاد تھے ہمیشہ ڈیڈ۔۔۔اور یاد رہیں گے۔۔۔”
“ہمم۔۔۔” عشنا کے ماتھے پر بوسہ دیا تو لبابہ ان دونوں سے بہت قدم دور ہوگئی تھی۔۔
“آئیے اندر۔۔۔ کیا لیں گے آپ۔۔؟؟ چائے کولڈ ڈرنک۔۔؟؟”
“چائے۔۔۔؟؟ تم بنا رہی ہو تو ضرور۔۔۔”
ضیشم صاحب پاس سے اس طرح گزرے تھے لبابہ کی انکا کندھا ٹچ ہوا تھا لبابہ کے کندھے سے۔۔۔
“آپ پھر بلش کررہیں ہیں موم۔۔۔پلیز۔۔۔مت کیجئے۔۔۔”
“عشنا۔۔۔”
“ہاہاہا اوکے سوری۔۔۔۔”
عشنا کا موڈ اچھا ہوگیا تھا۔۔پتہ نہیں کیوں اپنے ڈیڈ کا دھیما اور دکھی لہجہ دیکھ کر اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ارحام تیز بخار ہورہا ہے دوائی کھا لو۔۔۔۔بیٹا پلیز۔۔۔”
“امی پردے مت ہٹائیں اندھیرا رہنے دیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔”
ارحام نے بازو رکھ لیا تھا اپنی آنکھوں پر۔۔۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اسکی زندگی میں ہو کیا رہا تھا۔۔۔
ایک پل کے لیے اسے لگا تھا جیسے اسکے اور عشنا کے رشتے کی بات چل رہی ہو اور اگلے پل اسے یہ بتایا جارہا تھا کہ عشنا کی شادی کسی اور سے ہورہی ہے۔۔۔
پچھلے کچھ ہفتوں سے اب تک۔۔۔ وہ اپنی تنہائیوں میں گم ہوکر رہ گیا تھا۔۔۔
وہ ارحام ابراہیم۔۔۔ جو فلذہ کے چلے جانے پر ایسے امید نہیں ہارا تھا زندگی سے۔۔
آج اسے اس لڑکی کے جانے سےہورہا تھا۔۔۔ جس سے کبھی کسی جذبے کا اظہار تک نہیں کیا تھا اس نے۔۔۔
کچھ تھا جس کا اظہار کرنا تھا ارحام کو۔۔؟؟
ارحام نے لمبا سانس لیا تھا۔۔۔ کمرے کی خاموشی جانچ کراسے لگا تھا کہ اسکی امی جا چکی تھی۔۔
پر اس نے جیسے ہی آنکھوں سے ہاتھ ہٹایا اسکی امی اسکے پاس کھڑی تھیں۔۔
“امی۔۔۔۔آپ یہیں ہیں۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔چلو اب اٹھو۔۔ اور فریش ہوکر آؤ۔۔۔”
“امی دل نہیں کر رہا تھکا ہوا ہوں بہت۔۔۔ کل پھر انٹرویو کے لیے جانا ہے۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں دیکھ کر اسمارہ بیگم بیڈ پر بیٹھ گئی تھیں۔۔
“ارحام بیٹا بات کیا ہے۔۔؟ میرا محنتی بیٹا کبھی محنت سے نہیں گھبرایا۔۔۔ بات کچھ اور ہی ہے۔۔۔کیا عشنا سے لڑائی ہوئی۔۔؟ تم نے جاب چھوڑ دی وجہ نہیں بتائی۔۔۔
عشنا کے ایکسیڈنٹ کے بعد سے تم ایسے ہوگئے ہو۔۔۔”
ارحام کے ماتھے پر ہاتھ رکھے بہت پیار سے پوچھا تھا انہو ں نے۔۔۔
“امی ایسا کچھ نہیں ہے۔۔ سب ٹھیک ہے۔۔”
اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ ماں کی آنکھوں میں دیکھ کر سچ بتا سکے اپنی غلطیاں بتا سکے
اپنے پچھتاوے بتا سکے۔۔۔
وہ خود سے بھی شرمندہ تھا اور اس گھمنڈی سے بھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“بہت مزے دار کھانا بنایا ہے بہو۔۔ میرا مطلب ہے بیٹا۔۔۔”
“آپ مجھے میرا نام لیکر بلا لیجیئے۔۔۔”
لبابہ نے رُخے لہجے میں کہا تھا۔۔۔چائے کے بعد عشنا نے زبردستی روک لیا تھا کھانے کے لیے سب کو۔۔۔
اور اس وقت سے اب تک وہ بچتی پھیر رہی تھی ضیشم صاحب کی نظروں سے۔۔۔
“میٹنگ کیسی گئی۔۔؟ نعمان ایک اچھا اور ایماندار شخص ہے۔۔۔”
ضیشم صاحب کے تعریف کرنے پر عشنا بےتحاشہ ہنسی تھئ
“ہاہاہا۔۔۔ جی۔۔۔ بہت زیادہ ۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔”
“عشنا۔۔۔”
لبابہ بیگم نے وارننگ بھی دی تھی۔۔۔
“کیا ہوا بیٹا۔۔۔؟؟”
اس بار دادی ان ماں بیٹی کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔۔۔ جس طرح لبابہ عشنا کو کچھ بتانے سے منع کرہی تھیں۔۔۔
“مسٹر نعمان کو آج کی میٹنگ میں موم میری بڑی بہن لگی۔۔۔ہاہاہاہا جسٹ امیجن۔۔۔
کوئی موم کی اس قدر تعریف کررہا تھا،،، اینڈ سڈنلی۔۔۔”
“عشنا۔۔۔۔”
“اوکے موم۔۔۔ دادی مسٹر نعمان نے کہا جب موم کو میری بہن موم کا چہرہ دیکھنے والا تھا۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔”
دادی اور شمع پھوپھو بھی کھل کر ہنسے تھے اس وقت۔۔۔۔ ضیشم صاحب کے غصے کو دیکھتے ہوئے بھی۔۔
“اور تو اور۔۔۔ نمبر بھی مانگا۔۔۔ پوچھ رہے تھے موم میریڈ ہیں۔۔۔”
“اور تم نے کیا جواب دیا۔۔؟؟”
ضیشم نے ڈائیریکٹ لبابہ سے پوچھا تھا۔۔۔ جن کی نگاہ پہلے سے ہی ان پر تھی۔۔
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔؟؟ آپ کون ہیں یہ سوال پوچھنے والے۔۔؟ میں جو مرضی کہوں انہیں۔۔۔”
۔
وہ اٹھ کر برتن کچن میں لے گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اچھا ہوا آپ لوگ آگئے۔۔۔ میں خود بھی بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔
عشنا بیٹا چائے بنا لاؤ گی۔۔؟؟”
لبابہ بیگم نے سرونٹ کے ہوتے ہوئے عشنا کو حکم دیا تھا۔۔۔ جو حیران ہوتے ہوئے بھی ہاں میں سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی تھی
“لبابہ بیٹا کیا بات ہے۔۔؟؟”
دادی انکے پاس آکر بیٹھ گئیں تھیں
“میں ارحام کے ساتھ عشنا کی شادی کی بات پکی کر چکی ہوں۔۔۔ اور نیکسٹ منتھ میں ان دونوں کی شادی کروا دوں گی۔۔۔”
“ایکسکئیوز مئ۔۔؟؟ تم نے عشنا کی شادی کی بات پکی کردی اور مجھ سے پوچھنا ضروری نہیں سمجھا۔۔؟؟
وہ میری بھی بیٹی ہے۔ لبابہ۔۔۔ تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا۔۔؟؟”
وہ غصے سے لبابہ کے سامنے آکھڑے ہوئے تھے۔۔۔وہ جو ابھی اتنے خاموش بیٹھے تھے۔۔۔
اب انکا غصہ آسمان چھو رہا تھا۔۔۔
“بیٹی ہے آپ کی۔۔؟؟ مجھے تو لگا تھا صرف رشنا ہے آپ کی بیٹی اس لیے تو عشنا کی خوشیاں ہمیشہ اسے ملتی آئیں جو آپ کی دوسری بیوی کی اولاد تھی۔۔”
“لبابہ بات کو دوسری طرف مت لیکر جاؤ۔۔۔عشنا کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے تو نے مجھے بتائے بغیر کیا ہے۔۔۔اگر بتا دیتی تو ہم دونوں جاتے وہاں۔۔۔”
“ہم دونوں۔۔؟؟ کبھی کبھی ضیشم صاحب آپ بھی مذاق کی حد کر دیتے ہیں۔۔
آپ کو بتاتی تو آپ نے اپنی دوسری بیوی کا ہاتھ پکڑنا تھا اور ارحام کی شادی کروا دینی تھی رشنا سے۔۔
جیسے پہلے کیا تھا۔۔۔ میری بیٹی کی غیر موجودگی کا فائدہ اچھے سے اٹھایا تھا۔۔۔”
“لبابہ۔۔۔۔”
انہوں نے لبابہ کے کندھے پر دونوں ہاتھ جیسے ہی رکھے تھے دادی اور شمع اٹھ گئیں تھیں اور عشنا۔۔۔ وہ دروازے پر کھڑی ہکی بکہ رہ گئی تھی۔۔۔ اپنے دونوں ماں باپ کی اتنی اونچی اوازیں سن کر۔۔۔
“میں تمہیں کچھ نہیں سمجھتی۔۔۔ وہ میری بیٹی ہے۔۔۔ اسکی زندگی کے ہر فیصلے کرنے کا حق میں رکھتی ہوں۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ گھمنڈی کہیں کی۔۔۔ یہ فیصلے نہیں ضد ہے تمہاری۔۔۔ عشنا سے ایک بار بھی پوچھا تم نے۔۔؟؟ اسے کیا چاہیے کیا نہیں۔۔۔؟؟
وہ نفرت کرتی ہے ارحام سے۔۔۔ وہ تمہارا فیصلہ کیوں مانے گی۔۔۔؟؟
اسی وقت انکار کردے گی تم دیکھ لینا۔۔۔عشنا۔۔۔۔”
اپنی بات مکمل کرتے ہی ایک جھٹکے سے لبابہ کو پیچھے دھکیل دیا تھا انہوں نے اور عشنا کو اونچی آواز دے کر بلایا تھا
“اگر عشنا نے میرے فیصلے پر انکار کردیا نہ ضیشم۔۔۔ تو پھر کبھی عشنا کو لیکر میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گی ۔۔”
عشنا کے قدم تھم گئے تھے اپنی ماں کی آواز میں ایک ہار دیکھ کر۔۔۔
آج ماں باپ کی لڑائی نے ان بچپن کی لڑائیوں کو پھر سے تازہ کردیا تھا۔۔۔
آج وہ پانچ سال کی کمزور عشنا نہیں تھی۔۔۔
آج وہ گھمنڈی تھی۔۔۔ اور آج وہ اپنا گھمنڈ اپنے ماں باپ کو دیکھا کر رہے گی۔۔۔
ایسی سوچ رکھ کر وہ فل کنفیڈنٹ سے آگے بڑھی تھی،،،
“موم۔۔۔ ڈیڈ۔۔۔”
“بیٹا بتاؤ اپنی موم کو اپنا فیصلہ۔۔۔ انکی غلط فہمی تو ختم ہو آج۔۔۔”
“ڈیڈ موم نے جو بھی فیصلہ کیا ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔۔۔”
اس نے آنکھیں بند کرکے وہ الفاظ ادا کردئیے تھے۔۔۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ میں راضی ہوں ارحام کے ساتھ شادی کرنے کے لیے۔۔۔”
“ہاہاہاہا مسٹر ضیشم سن لیا اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔۔”
“موم۔۔۔ میری شادی کا ہر فنکشن ڈیڈ کے گھر سے ہوگا۔۔ اور آپ دونوں ہر وہ فرض ایک ساتھ ادا کریں گے جو آپ دونوں نے کبھی نہیں کیا۔۔۔
ایک ہیپی کپل بن کر آپ میری شادی کی ہر رسم پوری کریں گے۔۔۔
میرے سسرال میں یہ باتیں نہیں ہونی چاہیے کہ میرے ماں باپ کی شادی کامیاب نہیں ہوئی تو میں بھی گھر بسا نہیں سکتی۔۔۔”
بات کرتے کرتے وہ گھمنڈی اشک بار ہوگئی تھی۔۔۔
“اگر آپ دونوں کو میری شرط منظور ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔ اسی ہفتے منگنی ہوگی ارحام کے ساتھ میری۔۔۔
اگر نہیں تو آپ دونوں۔۔۔۔ چپ چاپ میری زندگی سے چلے جائیے گا۔۔۔ میں خود کو یتیم سمجھ کر باقی کی زندگی گزار لوں گی۔۔۔”
اور وہ اس کمرے سے بھاگ گئی تھی۔۔۔۔
ان دونوں لوگوں کو ہی نہیں ان چار بڑے لوگوں کو اپنی باتوں سے بہت چھوٹا بنا گئی تھی وہ ۔۔۔
لبابہ۔۔۔لڑکھڑا کر صوفہ پر بیٹھ گئیں تھیں۔۔۔اور ضیشم صاحب۔۔۔ اسی جگہ کھڑے تھے۔۔۔
۔
۔
“یہ کیا کہہ گئی ہے ماں ۔۔۔؟؟ یہ یتیم لفظ کیسے استعمال کرسکتی ہے خود کے لیے۔۔؟؟
میں اسے۔۔۔”
انکا ہاتھ پیچھے سے کسی نے پکڑ لیا تھا۔۔۔پر وہ انکی ماں نہیں انکی بیوی تھی۔۔۔
“ضیشم۔۔۔ میں اور عشنا کل ہی شفٹ ہو جائیں گے تمہارے مینشن میں۔۔۔اسی ہفتے منگنی ہوگی عشنا اور ارحام کی۔۔۔۔۔
اسی مہینے شادی بھی ہوگی۔۔۔۔اسکے بعد میں چلی جاؤں گی “
ہاتھ پکڑے ہوئے انہوں نے اپنی بات مکمل کی تھی۔۔۔
اور ضیشم صاحب اپنے گھٹنوں پر تھے لبابہ کے سامنے۔۔۔
“لبابہ۔۔۔ اتنی جلدی یہ سب۔۔۔ تم اسے وقت دو ۔۔۔ وہ ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔”
اور لبابہ بیگم نے بھیگی پلکیں اٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔۔۔
“وقت ہی تو نہیں ہے ضیشم۔۔۔۔ وقت ہی نہیں ہے۔۔۔۔”
۔
۔
اپنا ہاتھ چھڑائے وہ وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
