Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
“میں تمہیں ایک بات بتا رہا ہوں لبابہ اگر تمہیں کچھ ہوا تو میں بھی مر جاؤں گا۔۔۔”
“ضیشم۔۔۔مجھے گھر جانا ہے۔۔۔ میں اس ہسپتال میں اور نہیں رہنا چاہتی۔۔۔ ڈاکٹر سے کہہ کر ڈوس اور زیادہ کروا دینا تاکہ میں ہر فنکشن اچھے سے اٹینڈ کرسکوں۔۔۔”
ضیشم صاحب کی بات کو مکمل طور پر اگنور کردیا تھا انہوں نے اور وہ شرٹ سے اپنا چہرہ صاف کرتے ہوئے کمرے سے باہر جانے لگے تھے جب پاؤں ٹیبل سے ٹکرا گیا تھا۔۔۔
“ضیشم۔۔۔”
وہ پیچھے سے چلائی تھی۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں لبابہ۔۔۔ ٹھیک ہوں۔۔۔”
لڑکھڑاتے ہوئے باہر چلے گئے تھے وہ۔۔۔
۔
۔
“بحرِ غم سے پار ہونے کے لیے
موت کو ساحل بنایا جاے گا”
۔
اگلی صبح۔۔۔۔””
۔
رات تو جیسے تیسے گزر گئی ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کرلیے ڈسچارج پیپرز کینسل کردئیے تھے۔۔۔
اگلی صبح اور زیادہ تلخ تھی۔۔۔۔
“ضیشم۔۔۔۔”
باہر انکی امی کھڑی تھیں جن کے کھلے بازو اس بات کی گواہی دے رہے تھے وہ اپنے بیٹے کی کیفیت کو جان گئی تھیں بنا کچھ سنے۔۔۔
“یہ بہت ناانصافی ہے امی،،، اسکے ساتھ بہت بُرا ہوگا۔۔۔ مجھے کچھ کرنا ہی ہوگا۔۔۔”
ماں کی آغوش میں آکر بھی آج ضیشم صاحب کو سکون نہیں ملا تھا
وہ بار بار ایک ہی بات بڑبڑا رہے تھے
“ضیشم بھائی ہوا کیا ہے بھابھی کو۔۔۔؟”
“کچھ بھی نہیں ہوا شمع تم امی کو اندر لے جاؤ مجھے ابھی بہت کام کرنا ہے۔۔۔ میں اسے کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔”
منہ صاف کر کے وہ ڈاکٹر کے کیبن میں چلے گئے تھے نرس سے ڈائریکشن پوچھ کر۔۔۔”
۔
“ایسا کیا ہوا ہے شمع۔۔۔؟؟”
“امی اندر چل کردیکھتے ہیں آپ بھابھی کے ساتھ اداس مت ہونا وہ اور مایوس ہوجائیں گی۔۔۔”
“السلام علیکم بھابھی۔۔۔”
شمع اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گئی تھیں۔۔۔پر لبابہ بیگم کی حالت دیکھ کر وہ دونوں ہی دروازے پر رکے تھے۔۔۔
لبابہ کو جب لاسٹ ٹائم منگنی پر دیکھا تو وہ اب والی لبابہ لگ ہی نہیں رہی تھیں۔۔۔۔
۔
“لبابہ میری بچی یہ کیا حالت بنا لی ہے۔۔۔کیا ہوا بیٹا ۔۔۔”
وہ خود چل کر لبابہ کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئیں تھیں
“زندگی نے ساتھ چھوڑنے کا وعدہ کرلیا ہے امی۔۔۔”
لبابہ بیگم نے آنکھوں کی نمی چھپا کر ضٰشم صاحب کی والدہ کو امی کہا تھا کتنے سالوں کے بعد۔۔۔
“لبابہ۔۔۔۔”
“برین ٹیومر جیسی ایک لاٹری ہاتھ لگی ہے جو مجھے آپ کے بیٹے کی بےوفائی سے فائننلی چھٹکارا دلا دے گی۔۔۔”
“بھابھی پلیز۔۔۔۔آپ۔۔۔”
شمع نے اپنی امی کی طرف دیکھا تھا جو آبدیدہ ہوگئیں تھیں نظریں جھکائے
“ہمت نہیں ہارو لبابہ۔۔۔ ہمارے لیے نہیں کسی کے لیے نہیں اپنی بچی کے لیے۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا۔۔۔”
“اسی کے لیے ابھی تک روکا ہوا ہے خود کو۔۔۔ ورنہ یہ ڈاکٹرز اتنی دوائیاں کھلا دیتے ہیں کہ پوچھیں نہ۔۔۔”
انہوں نے مذاق میں ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔۔ پر انکے چہرے کی ہنسی نے ان دونوں کو اور غمزدہ کردیا تھا۔۔۔
۔
یہاں وہ خود کو مظبوط کرنے کی کوشش کررہی تھیں وہاں ضیشم صاحب اپنا وجود لئیے اس کرسی پر بیٹھے تھے کچھ دیر سے ڈاکٹر سے سوال کررہے تھے جن کا جواب انہیں اور مایوس کررہا تھا
۔
“لک ڈاکٹر۔۔۔ تم نہیں جانتے میں کون ہوں۔۔۔ میں مشہور انڈسٹریل ہوں۔۔۔ میں ایسے دس ہسپتال تمہارے نام پر بنوا کر دوں گا انعام میں بس میری بیوی کو بچا لو۔۔۔”
“مسٹر ضیشم۔۔۔ میں جانتا ہوں آپ کو۔۔۔ میرے فادر بزنس پارٹنر رہ چکے ہیں آپ کے۔۔
پر۔۔یہ میرے بس میں نہیں ہے۔۔۔ میرے کیا کسی کے بس میں بھی نہیں ہے۔۔۔
بہت زیادہ دیر ہوگئی ہے۔۔۔ کچھ سال پہلے اگر علاج شروع ہوجاتا تو۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گیا تھا جب ضیشم صاحب نےاٹھ کر کرسی کو پیچھے پھینک دیا تھا۔۔۔
“نونسنس۔۔۔کچھ نہیں ہوا۔۔میں دنیا کے بیسٹ ڈاکٹرز کو دیکھاؤں گا اور اسے واپس یہاں لاؤں گا۔۔۔”
“وہاں لے جانے سے پہلے انہیں اتنی مہلت دیجئے کہ بیٹی کی شادی دیکھ لیں۔۔ ورنہ آپ کو یہ پچھتاوا کبھی جینے نہیں دے گا۔۔۔”
ڈاکٹر کی بات سن کر ان کے قدم باہر جاتے جاتے تھم گئے تھے
“کیا بکواس کررہے ہو۔۔۔”
“بہت کم وقت رہ گیا ہے۔۔۔ سر۔۔۔ پتہ نہیں وہ اب تک سروائیو کیسے کر رہی تھیں۔۔۔
اتنی زیادہ میڈیسن کی ڈوس لے رہی تھیں۔۔۔۔ اب انکو میڈیسن کھانے کے بعد بھی خون کی الٹیاں آتی رہیں گی،،،،”
“یہ۔۔۔بات لبابہ کو تو نہیں بتائی۔۔۔؟؟”
“انہیں پہلے سے پتہ ہے۔۔۔ اور ابراہیم انکل کو بھی پتہ ہے۔۔۔ وہ کہہ کر گئے تھے انکے بیٹے اور عشنا کی شادی اسی ہفتے کردی جائے گی۔۔۔”
۔
۔
وہ وہاں سے جلدی جلدی باہر چلے گئے تھے۔۔۔
“کچھ نہیں ہوگا تمہیں لبابہ۔۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“امی لبابہ کہاں گئی ۔۔؟؟”
“وہ چلی گئی ہے بیٹا۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ آپ نے جانے دیا۔۔؟؟ خدا کا خوف کریں آپ لوگ وہ بیمار ہے۔۔۔کیسے جانے دیا۔۔؟؟ یااللہ۔۔۔۔”
وہ پھر اسے ہسپتال سے باہر گئے تھے۔۔۔۔ اس عمر میں چاہے وہ جتنے مرضی ایکٹو تھے۔۔۔
پر اب ان میں انرجی نہیں رہی تھی لبابہ کی بیماری نے انہیں اندر ہی اندر کھا لیا تھا دیمک کی طرح۔۔۔
۔
“لبابہ۔۔۔۔”
پر وہ گاڑی وہاں سے چلی گئی تھی ڈرائیو وہ خود کررہی تھیں۔۔۔
“سر۔۔۔”
“تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔؟؟ تم نے چابی کیوں دی لبابہ کو۔۔۔؟؟”
ڈرائیور کو گریبان سے پکڑ کر کہا تھا
“سر میڈم نے فون کرکے بلایا تھا۔۔۔ایم سوری سر۔۔۔ “
“دفعہ ہو جاؤ۔۔۔۔”
“ضیشم بیٹا۔۔۔۔”
“شمع امی کو لیکر گھر جاؤ۔۔۔ میں آتا ہوں۔۔۔لبابہ کو لیکر۔۔۔”
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
آپ سب کو میں نے یہاں اس لیے بلایا ہے تاکہ ایک بہت ضروری بات کرسکوں۔۔۔۔”
“ابو میں بعد میں آجاؤں گا۔۔۔۔”
“نہیں ارحام بیٹا رک جاؤ۔۔۔۔”
ابراہیم صاحب کے دونوں بھائی اپنی بیویوں کے ساتھ وہاں موجود تھے
مننان اور فلذہ کو بھی انہوں نے بلایا تھا وہاں
پر کسی کو وجہ پتہ نہیں تھی ہسپتال سے آنے کے بعد انہوں نے سٹڈی روم میں سب کو جمع ہونے کا کہا تھا۔۔۔۔
۔
“میں نے اور اسمارہ نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔ ارحام اور عشنا کی شادی اسی ہفتے ہوگی۔۔۔۔
اور۔۔۔۔”
ارحام کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی انکے اچانک کے فیصلے سے حیران ہوئے تھے۔۔۔۔
“اور ابو۔۔۔۔؟ اور چوروں کی طرح ہی سب کچھ ہو رہا ہے اتنی جلدی بھی کیا ہے۔۔۔اب ایسا بھی نہیں کہ لبابہ انٹی اسی ہفتے اس دنیا۔۔۔”
“بس مننان بھائی۔۔۔بات کو مکمل مت کیجئے گا۔۔۔”
ارحام سیٹ سے کھڑا ہوا تھا طیش میں
“آواز نیچی رکھو ارحام امیر گھر کی لڑکی سے شادی ہورہی ہے تو ہو۔۔۔ ہمیں اپنے نیچے لگانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔”
مننان کی بات پر ارحام نے صرف اپنے ابو کی طرف دیکھا تھا وہ اس وقت کوئی بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا تھا اسکا دماغ تو عشنا کے لیے فکر مند تھا جب سے وہ ہسپتال سے واپس آیا تھا
“مننان اپنی حدود کو پار مت کرو۔۔۔ میں برداشت کررہا ہوں تمہارے رویوں کو۔۔۔۔”
“بھائی صاحب مننان کی طرف سے میں معافی مانگتا ہوں آپ بات مکمل کریں۔۔۔”
فلذہ کے والد نے مننان کو واپس صوفہ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا اور فلذہ۔۔۔۔
وہ ارحام سے نظریں نہیں ہٹا پارہی تھی۔۔۔ وقت اتنی تیزی سے پھسلنے لگا تھا۔۔۔۔
“اور عشنا کو یا کسی کو بھی لبابہ کے کینسر کا پتہ نہیں چلنا چاہیے۔۔۔
جب تک لبابہ خود نہیں بتاتی کسی کو۔۔۔ “
“بھائی صاحب ایسا کیسے ممکن ہے عشنا کو پورا حق ہے سچائی جاننے کا۔۔۔اس بیچاری کے پاس یہی وقت ہے اپنی ماں کے ساتھ گزارنے کا۔۔۔۔”
چچی کی بات سن کر ارحام نے مایوس نظروں سے اس کمرے کی خالی جگہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“آپ جیسا کہتے ہیں ویسا ہی ہوگا بھائی صاحب۔۔۔۔”
دونوں بھائیوں نے ایک ساتھ کہا تھا
“کیوں آپ کو ڈر ہے ابو۔۔۔۔؟ عشنا کے لیے ہمدردی ہے یا ارحام کی شادی ٹوٹ جانے کا خدشہ۔۔۔؟
عشنا یہ شادی اپنی موم کے لیے کر رہی ہے شاید۔۔۔؟ اگر موم ہی نہ رہی تو کیسی شادی۔۔۔؟
لگتا ہے اس بار وہ عین نکاح والے دن چھوڑ کر چلی جائے گی ہمارے ارحام کو۔۔۔۔”
نڈر ہوکر وہ اپنے والد کے سامنے کھڑا ہوا تھا
اسکے طنز اور باتوں میں اپنے ہی بھائی کے لیے یہ نفرت ارحام کو آج نظر آرہی تھی۔۔۔ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فلذہ نے بھی وہی بات دہرائی
“اگر عشنا کو پتہ چل جاتا ہے اور وہ پھر شادی سے انکار کردے تو یہ تو اچھی بات ہے ارحام۔۔۔۔
تم ایک زبردستی کے رشتے سے بچ جاؤ گے۔۔۔۔۔”
“ابو آپ کا فیصلہ بتا دیجیئے گا میں کچھ ضروری کام سے باہر جا رہا ہوں۔۔”
فلذہ کو نفرت بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے وہ کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔۔
۔
“میں نے جو کہہ دیا اس پر عمل ہو مننان۔۔۔ عشنا کو پتہ نہیں چلنا چاہیے۔۔۔
اور بہو۔۔۔ تم گھر لی بڑی بہو ہو بات کو کرنے سے پہلے سوچ لیا کرو”
ابراہیم پہلے بار فلذہ پر برہم ہوئے۔۔۔۔
“اگر پھر بھی پتہ چلا گیا تو۔۔۔؟؟؟ ہمارے منہ تو آپ بند کروا دیں گے”
“وہ پتہ چلنا نہ چلنا بعد کا مسئلہ ہے۔۔۔ اگر اس گھر سے کسی نے بھی میرے اس فیصلے کی مخالفت کی خاص کر میرے بیٹے نے تو۔۔۔۔”
“تو کیا ابو۔۔۔؟ کہہ دیجیئے۔۔۔۔”
“تمہیں تمہارا حصہ دے کر گھر سے فارغ کردوں گا میں مننان۔۔۔۔
ارحام کا گھر بسنے سے جو روکے گذ یا کوئی رکاوٹ پیدا کرے گا اسکی میرے گھر میں کوئی جگہ نہیں۔۔۔۔”
وہ جانے لگے تھے جب مننان نے انکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“ابو آپ شاید بھول رہے ہیں میں داماد بھی ہوں کسی کا۔۔۔
چچا جان سے پوچھ لیجیۓ وہ برداشت کرلیں گے ان کے اکلوتے داماد کے ساتھ یہ ناانصافی۔۔۔؟؟؟ بٹوارہ برداشت کرلیں گے آپ۔۔۔۔”
“مننان۔۔۔۔۔”
اسمارہ بیگم نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا بڑے بیٹے کی اس گستاخی پر۔۔۔۔ وہ جس طرح بدتمیزی کررہا تھا
“مننان تم میرے داماد ضرور ہو۔۔۔۔ پر میرے بڑے بھائی سے زیادہ عزیز مجھے کوئی نہیں۔۔۔ انہوں نے اگر۔۔۔ خدا نہ خواستہ کچھ ایسا کہا ہوتا تو میں ان سے بات بھی کرتا اور تمہاری طرف داری بھی
پر وہ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔۔
مجھے اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔ ابراہیم بھائی آپ ان دونوں کی طرف سے بےفکر رپیں۔۔۔”
انکی بات ختم ہونے سے پہلے مننان فلذہ کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گیا تھا۔۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ابھی ابھی ایک اڑتے پرندے نے میرے کانوں میں آکر سرگوشی کی کہ کوئی اپنا خفا ہے مجھ سے اور بہت شدید خفا ہے۔۔۔۔”
عشنا کے ہاتھ سائن کرتے کرتے رک گئے تھے جب لبابہ نے کیبن کا دروازہ کھولا تھا بنا ناک کئیے ہاتھ میں کھانے کا پیکٹ تھا اور آئس کریم تھے جو عشنا کے لیے بچپن میں خرید کر لاتی تھیں وہ۔۔۔
۔
“آپ کو وقت مل گیا۔۔؟؟ کوئی بیٹی بھی ہے جس کی منگنی کے دن سے آپ غائب ہیں ۔۔۔”
عشنا نے آج بچوں کی طرح ری ایکٹ کیا تھا واپس پیپرز کو فائل میں رکھنے لگی تھی جب لبابہ بیگم نے وہ چیزیں ٹیبل پر رکھ دی تھی اور عشنا کے پاس گئیں تھیں۔۔۔
“میری دوست بہت سخت بیمار تھیں عشنا۔۔۔ اور اسکے پاس کوئی اپنا نہیں تھا۔۔۔ میں ہسپتال اسی کے پاس تھی۔۔۔ مجھے ڈر تھا کہیں وہ رات کی تاریکی میں کہیں کھو نہ جائے اسکی بیٹی بھی چھوٹی تھی تو مجھے جو سہی لگا میں نے وہ کیا میری بچی تمہارا دل دکھایا ہے مجھے معا۔۔۔”
عشنا نے اٹھ کر انکے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
“ماما آپ مجھے بتا دیتی میں بہت پریشان رہی ہوں۔۔۔ میں بتا نہیں سکتی۔۔۔
پلیز دوبارہ ایسا کچھ ہو تو بتا دیجئے گا دونوں ساتھ جائیں گے۔۔۔”
عشنا انکے گلے لگ گئی تھیں۔۔۔ لبابہ بیگم کو وقت مل گیا تھا اپنی آنکھیں صاف کرنے کا۔۔۔
“میں بتا کر جانا چاہتی ہوں۔۔۔میرا مطلب ہے بتا کر جانا چاہتی تھی عشنا۔۔۔ وقت ہی نہیں ملا۔۔۔ اففف۔۔۔ میں نہیں چاہتی تھی تمہاری خوشیوں میں تمہیں کوئی اداسی کی بات بتاؤں ۔۔۔”
“ماما۔۔۔۔”
لبابہ کی بھاری آواز پر عشنا نے پیچھے ہٹ کرانہیں دیکھنا چاہا تھا پر انکی گرفت اور مظبوط ہوگئی تھی عشنا پر۔۔۔۔
“ہم دونوں ہی ایک دوسرے کا سہارے رہے ہمیشہ۔۔۔ اب تمہیں ایک ہمسفر ملنے والا ہے۔۔۔”
لبابہ بیگم نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرکے عشنا کو دیکھا تھا۔۔۔ جو حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“یہاں آکر بیٹھو۔۔۔میرے پاس۔۔۔”
وہ سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ گئیں تھیں اور اپنی گود پر ہاتھ رکھے عشنا کو بلایا تھا۔۔۔
پر عشنا انکے پاس بیٹھنے کے بجائے انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی تھی
“ماما کیا ہوا ہے۔۔؟؟ میرے جانے پر افسردہ ہیں تو بتا دیجئے میں نہیں جاؤں گی۔۔۔”
“تمہارے نہیں اپنے جانے پر تمہیں تنہا چھوڑ جانے پر افسردہ ہوں۔۔۔”
عشنا کے سر پر اپنا سر رکھ لیا تھا آنکھیں بند کر لی تھی
“کیا مطلب ماما۔۔۔؟؟ کہاں جارہی ہیں آپ۔۔۔؟؟”
عشنا نے اٹھنے کی کوشش کی تھی مگر لبابہ نے اپنا سر پیچھے نہیں کیا تھا۔۔۔
“بیٹا میں نے واپس تو جانا ہی تھا نہ۔۔؟؟ وہاں۔۔۔ اب اپنے کام بھی تو دیکھنے ہیں نہ۔۔؟؟”
عشنا کے ماتھے پر بوسہ دے کر اپنا سر اٹھا لیا تھا انکے چہرے پر ایک خوبصورت مسکان تھی جس کو دیکھ کر عشنا بھی خاموش ہوگئی تھی
“ماما ابھی شادی میں وقت ہے آپ۔۔۔”
“شادی کی ڈیٹ اسی ہفتے رکھ دی ہے میں نے عشنا۔۔۔۔”
وٹ۔۔۔؟؟ “
عشنا اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔ بہت جلدی کررہی ہوں میں۔۔۔ پر عشنا۔۔۔ میں اب واپس جانا چاہتی ہوں میری بچی۔۔۔”
“ماما کیوں اتنی جلدی۔۔۔؟؟”
“جلدی کچھ نہیں ہوتا عشنا صدیاں لگ جاتی ہیں۔۔۔۔”
“ماما آپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔؟؟؟”
“ہاں میری پری میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
وہ اپنی سوچ میں گم سی ہوگئیں تھیں جب عشنا نے واپس انکی گود میں سر رکھ دیا تھا۔۔۔
“آپ جانتی ہیں ہم دونوں ایک دوسرے کا مظبوط سہارا بن کر رہے ساتھ نہیں تھے تب بھی ماما۔۔۔”
عشنا نے کہتے ہوئے آنکھیں بند کرلی تھی ماں کی گود اسکے لیے جنت تھی اس وقت جتنا سکون اسے مل رہا تھا
“کچھ دن میں تمہارا نکاح ہوجائے گا۔۔۔۔ پیا گھر چلی جائے گی میری بچی۔۔۔
اور پتہ ہے پھر کیا ہوگا۔۔۔۔؟؟”
“ماماماما ۔۔۔۔ہاہاہاہا پلیز۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا اب شرما رہی ہے میری گھمنڈی۔۔۔۔۔ مگر بہت سال انتظار کرنا پڑے گا چھوٹی عشنا یا ارحام کے لیے۔۔۔۔
کیونکہ جس طرح بلی چوہے کی طرح لڑتے ہو نہ۔۔۔ شادی کے بعد کوئی چانس نہیں رومینس کا۔۔۔”
“موم۔۔۔۔۔”
عشنا کی ہنسی گونجی تھی اس کیبن میں اسکے گال لال ہوگئے تھے اپنی موم کی ٹیزنگ سے۔۔۔
“ہاہاہاہاہا اچھا مطلب چانسز جلدی کے ہیں۔۔۔؟؟ ہاہاہا “
وہ ہنستے ہوئے کھانسی کرنے لگی تھی۔۔۔
“عشنا پانی دینا۔۔۔۔”
عشنا جیسے ہی اٹھ کر گلاس لینے گئی تھی لبابہ بیگم نے ناک سے آتے خون کو جلدی سے صاف کیا تھا۔۔۔
“ماما کھانسی آرہی ہے آپ نے بتایا نہیں چلیں ڈاکٹر کے۔۔۔”
“شش۔۔۔۔ بس لڑکی۔۔۔۔ ڈاکٹر ڈاکٹر بس۔۔۔”
عشنا نے انہیں پانی پلایا تھا اب وہ پریشان نظروں سے لبابہ کو دیکھ رہی تھی
“بچپن میں میں نےسوچا تھا تمہیں ڈاکٹر بناؤں گی۔۔۔۔ اچھا ہوا نہیں بنایا ورنہ اس صوفہ کو تم نے سٹریچر بنا لیا ہوتا اور مجھے باندھ کر اس کمرے کو وارڈ بنا دیا ہوتا۔۔۔”
انکے جوک پر عشنا انکی طرف دیکھتی رہی تھی اور پھر کیبن کو دیکھا اور پھر لبابہ کو۔۔۔۔ اور وہ پھر کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہا۔۔۔ماما۔۔۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔میری بچی۔۔۔۔”
انکے گلے سے لگ کر عشنا ویسے ہی لیٹ گئی تھی انکی گود میں۔۔۔
پتہ نہیں وہ ماں بیٹی کے دل میں کیا چل رہا تھا۔۔۔ لبابہ اپنا ہر ایک لمحہ اپنی بچی کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھیں جانے سے پہلے۔۔۔۔
اور عشنا وہ بےچین سی ہوگئی تھی آج۔۔۔
“عشنا تم رو رہی ہو۔۔۔؟؟”
اپنے پہلو میں انہیں جب محسوس ہوئی تو انہوں نے عشنا کا چہرہ اپنی طرف کرنے کی کوشش کی تھی پر عشنا نے انکی آغوش میں خود کو چھپا لیا تھا۔۔۔
“مجھے یاد ہے بہت سال پہلے اس حادثے سے پہلے آپ نے ایسے ہی اپنی آغوش میں لیا تھا ماما مجھے۔۔۔
اس رات کا ایک ایک پل یاد ہے۔۔۔ بہت باتیں کی تھیں۔۔، میں پانچ سال کی تھی پر آپ کی کہی باتیں مجھے یاد رہی۔۔۔۔
اور آج۔۔۔بھی۔۔۔۔ ان لمحات میں وہی تاثیر ہے ماما۔۔۔۔ تب میں کچھ نہیں کرپائی تھی۔۔۔
پر اس بار آپکی طرف آنے والی ہر تکلیف کو مجھ پر سے ہوکر گزرنا ہوگا۔۔۔”
عشنا نے خود کو انکے پہلو سے اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔
“آپ کو مجھ سے کوئی جدا نہیں کرسکتا ماما۔۔۔۔ شادی کے بعد میں اڑ کر آپ کے پاس آجاؤں گی۔۔۔۔اور کوشش کروں گی آپ کو چھوٹی عشنا یا ارحام کے لیے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔۔۔”
عشنا انکو آنکھ مار کر واپس اپنی کرسی کے پاس چلی گئی تھی۔۔۔
“ہاہاہاہاہا عشنا۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا اپنا چہرہ دیکھئے۔۔۔۔”
“عشنا کی بچی۔۔۔۔”
وہ بھی آنکھیں صاف کرے اسی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔
“ہاہاہاہاہاہا ماما۔۔۔۔”
ونڈو کے پاس کھڑے وہ دل قہقہ لگا کر ہنسے تھے۔۔۔۔
پر باہر ایک جھلک دیکھنے پر عشنا کی ہنسی چلی گئی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“جی امی میں راستے میں ہوں آپ فکر مت کیجیئے آتے ہوئے لے آؤں گا۔۔۔”
ارحام نے بائیک آہستہ کردی تھی فون سنتے ہوئے
“امی میں گھر آکر بات کروں گا خدا حافظ”
ارحام نے سپیڈ اور آہستہ کردی تھی جب روڈ کی دوسری سائیڈ پر اس نے کسی کو چلتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔۔
“مس ماریہ۔۔۔۔؟؟ “
بائیک کو کچھ فاصلے پر روک کر پوچھا تھا اور ماریہ رک گئی تھی
“ارحام۔۔۔؟ تم یہاں۔۔۔؟”
“جی انٹرویو تھا میرا۔۔۔ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔۔؟؟”
“میں وہ۔۔۔۔ میں بھی اسی کمپنی میں انٹرویو دینے آئی تھی۔۔۔”
فائیلز کو اور مظبوطی سے پکڑ لیا تھا اس نے اس چہرے کی اداسی ارحام کو سب بتا رہی تھی پر وہ پھر بھی سننا چاہتا تھا ماریہ کے منہ سے۔۔۔۔
“انٹرویو۔۔۔؟ ضیشم سر کی کمپنی کم پیسے دیتی ہے جو ایک اور نوکری۔۔؟”
“مجھے نکال دیا گیا ہے۔۔۔”
“اوو۔۔۔۔ہ۔۔۔۔ ایک بات کلیئر کیجیے کیا اس دن جو ہوا اس بات پر نکالا گیا۔۔۔؟؟”
“وہ۔۔۔۔ ایم سوری اس دن میں نے شچ میں لمٹ کراس کردی تھی نہ میں کچھ کہتی نہ ہی میری نوکری جاتی۔۔۔۔
میری والدہ اتنی بیمار ہیں۔۔۔ میں یہ تیسرا انٹرویو دے چکی ہوں۔۔۔”
ماریہ نے رونا شروع کیا تو ارحام واپس اپنی بائیک پر بیٹھ گیا تھا اور بائیک سٹارٹ کرکے ماریہ کے پاس لے گیا تھا
“آئیے بیٹھیں۔۔۔۔”
“پر۔۔۔میں۔۔۔”
“یقین رکھیں۔۔۔ آپ کو آگے انٹرویو دینے کی ضرورت نہیں محسوس ہوگی۔۔۔”
ارحام نے کہتے ہی چہرہ آگے کرلیا تھا اسے غصہ تھا عشنا پر۔۔۔ وہ شرمندہ تھا اسکی وجہ سے ماریہ کی نوکری گئی
ماریہ جیسے ہی پیچھے بیٹھی تھی ارحام نے ضیشم انڈسٹری کا راستہ اختیار کیا تھا۔۔۔۔۔۔
“عشنا میڈم غصہ کریں گی۔۔۔پلیز۔۔۔۔”
“آپ اترئیے اندر چلیں میں پارک کرکے آیا۔۔۔۔۔”
۔
ارحام کے کندھے پر ہاتھ رکھے ماریہ بائیک سے اتری تھی اور ارحام کچھ سیکنڈ میں اسکے ساتھ اندر آفس میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔
۔
وہ عشنا کو دو چار سنانا چاہتا تھا اسے بتانا چاہتا تھا کہ جن نوکریوں سے وہ لوگوں کو ایسے نکال دیتی وہ انکی روزی روٹی کا واحد ذریعہ معاش ہوتا ہے۔۔۔۔
۔
پر اسے نہیں پتہ تھا ماریہ کو اسکے ساتھ عشنا نے اوپر ونڈو سے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔
اور اسے اس جتنا غصہ تھا ارحام پر کسی انجان لڑکی کو بائیک پر بٹھانے کا یہ وہی جانتی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“تم بات کو نہیں سمجھ رہے ارحام ہم دونوں کا برا حال ہوجائے گا۔۔۔”
پر ارحام کچھ نہیں سنتا۔۔۔۔
وہ سیدھا عشنا کے کیبن میں داخل ہوجاتا ہے
“ہیر یو گو۔۔۔۔ ماما یہ ابھی میرے مجازی خدا نہیں بنے اور دیکھیں کیسے رؤب سے کھڑے ہیں میرے کیبن میں۔۔۔”
عشنا ہاتھ باندھ کر کھڑی تھی اور لبابہ بیگم اپنی ہنسی نہیں چھپا پا رہیں تھیں ارحام کا شاکڈ فیس دیکھ کر
“آنٹی آپ کب۔۔۔”
“عشنا میم ایم سو سوری میں بس جارہی ہوں۔۔۔”
“پر ارحام نے ماریہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور اسی وقت چند قدموں کا فاصلہ بھی عشنا نے ختم کردیا تھا
“اگر اگلے پانچ سیکنڈ میں تم نے ہاتھ نہیں چھوڑا تو میرا ہاتھ کبھی پکڑ نہیں پاؤ گے مسٹر ارحام”
اور ارحام نے جلدی سے ہاتھ چھوڑ کر خود کو بہت قدم ماریہ سے دور کرلیا تھا
“میں بس ایک درخواست کرنے آیا تھا اس دن جو ہوا اس کے لیے ماریہ کو نوکری سے نکالنا ٹھیک نہیں تھا”
“کیا سہی ہے کیا نہیں اب تم بتاؤ گے۔۔۔؟؟”
“عشنا پلیز۔۔۔۔”
“یو مسٹر۔۔۔۔”
ارحام عشنا کی اٹھی انگلی دیکھ کر لبابہ بیگم کے پیچھے کھڑا ہوگیا تھا
“کبھی کبھی مجھے ڈر لگتا ہے کہیں یہ گھمنڈی مجھے کچا نہ چبا جائے۔۔۔”
ارحام نے لبابہ بیگم کے کان میں سرگوشی کی تھی پر عشنا نے بھی سن لیا تھا
“ہاہاہاہا۔۔۔ تم دونوں کے حالات دیکھ کر لگتا ہے اگلے دس سال تک چھوٹی عشنا یا ارحام کی خوشخبری نہیں ملنے والی۔۔۔”
وہ ہنستے ہنستے تینوں کو شاکڈ کرگئی تھیں۔۔۔
“ارحام بیٹا گھر جارہے ہو تو مجھے بھی لے جانا تمہارے گھر والوں نے ڈیٹ فائنل کرنی ہیں ار تیاریاں بھی اتنی کرنی ہیں ضیشم سے ابھی بات بھی نہیں کی گھر سجانا ہے ڈھولکی بھی کریں گے اور مہندی کا فنگشن بھی کمال کا ہوگا۔۔۔۔”
وہ چہچہاتے ہوئے باہر چلی گئیں تھیں۔۔۔
“میم وہ۔۔۔”
“عشنا۔۔۔پلیز۔۔۔ہماری خوشیوں میں کوئی اداس نہیں رہنا چاہیے ارحام نےعشنا کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا اگر دروازے کی سپورٹ نہ ہوتی تو ماریہ لازمی بےہوش ہوگئی ہوتی اب تک۔۔۔
“اوکے۔۔۔تم کل سے واپس آجانا۔۔۔ناؤ آؤٹ۔۔۔۔”
“تھینک یو سوو مچ میم۔۔۔۔۔ یو آر بیسٹ ارحام۔۔۔ اللہ آپ دونوں کی جوڑی سلامت رکھے آمین۔۔۔۔”
ماریہ عشنا کے گال پر کس کرکے باہر بھاگ گئی تھی
“وٹ دا ہیل۔۔۔۔”
عشنانے بند دروازے کو حیرانگی سے دیکھا تھا
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
ارحام بھی ہنستے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا تھا جب عشنا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر واپس کیبن کی طرف کھینچا تھا۔۔۔
“مسٹر ارحام یہ آخری بار تھا جب تمہاری بائیک میں میرے سوا کوئی اور لڑکی بیٹھی۔۔۔
دوبارہ کسی کو تمہارے اتنا قریب بیٹھے دیکھا تو یاد رکھنا۔۔۔”
“اوووو۔۔۔۔۔۔ تم جل رہی ہو۔۔۔؟؟”
“ایکسکئیوزمئ۔۔۔۔ تم اتنا فری کیوں ہو رہے ہو۔۔؟؟ ہاتھ پکڑا سب کے سامنے۔۔۔اور اب اتنا کنفیڈنٹ کے میرے سامنے کھڑے ہو۔۔۔”
عشنا خود بھی ارحام کی بولڈنیس پر حیران تھی۔۔۔
“نکاح ہونے والا ہے کچھ دن میں تم میری محرم بننے والی ہو۔۔۔”
ارحام نے دو قدموں کے فاصلے کو بھی ختم کردیا تھا۔۔۔
“ارحام۔۔۔۔”
“اور یہ چھوٹا ارحام نہیں چھوٹی عشنا چاہیے مجھے تو۔۔۔۔ پر اسے میں گھمنڈی نہیں بننے دوں گا۔۔۔۔”
ارحام جلدی سے باہر چلا گیا تھا کیبن سے۔۔۔۔
اور پھر باہر تک وہ چیخ سنائی دی تھی سٹاف ممبر کو۔۔۔۔
“ارحام ابراہیم۔۔۔۔۔ “
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم۔۔۔۔”
تابین نے سٹڈی کا دروازہ کھولا تھا جہاں سرف دھواں ہی دھواں تھا اس سگریٹ کے دھویں کا جو پی پی کر ضیشم صاحب نے سٹرے بھر دیا تھا۔۔۔۔
“چلی جاؤ یہاں سے ڈونٹ ڈسٹرب مئ تابین۔۔۔”
لائٹر سے پھر ایک سگار کو آگ دی تھی انہوں نے اپنی بڑی سی کرسی پر بیٹھ کر وہ گود میں رکھے اسی فوٹو فریم کو دیکھی جارہے تھے۔۔۔
۔
۔
“ضیشم عشنا اور تمہارے ہوتے ہوئے مجھے کبھی کمی محسوس نہیں ہوئی ۔۔۔ یہ ہماری چھوٹی سی جنت ہے ضیشم۔۔۔ آپ کی حفاظت میں محفوظ ہیں۔۔۔۔”
“تمہیں نہیں پتہ ضیشم میں اس سٹیج پر ہوں تمہیں کھو دیا تو میں تو بکھر جاؤں گی۔۔۔ میری ہستی اجڑ جائے گی۔۔۔ تم نہیں جانتے ضیشم۔۔۔۔ یہ گھمنڈی تمہارے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے۔۔۔ “
“اور میں اس گھمنڈی کے لیے سب کچھ کردوں گا۔۔۔ لبابہ ہمیں کوئی الگ نہیں کرسکتا۔۔۔ہماری چھوٹی سی دنیا کو میں بکھرنے نہیں دوں گا،،، میں محافظ بنوں گا۔۔۔”
۔
انکی آنکھیں چھلکی تھیں جب تابین بیگم نے پاس بیٹھ کر انکے گھٹنے پر ہاتھ رکھا تھا
“ضیشم کیا بات ہے۔۔۔”
“کیا بات نہیں پوچھو ضیشم کیا تکلیف ہے۔۔۔۔ تابین بیگم۔۔۔۔”
جب انہوں نے فوٹو فریم اٹھا کر تابین کے سامنے کیا تو تابین کی نظروں میں اب ہمدردی نہیں نفرت نظر آئی تھی ضیشم صاحب کو۔۔۔۔
۔
“تم مجھے آج ایک بات بتاؤ تابیں۔۔۔۔ کل میں کسی اور عورت کے ساتھ کوئی رشتہ بنا لوں تمہیں گھر سے نکال دوں تو تم کیا کرو گی۔۔۔؟؟”
“یہ کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔؟؟ مجھے تکلیف تو آپ ویسے بھی دے چکے ہیں اسے واپس گھر لاکر اب اور لیا تکلیف دیں گے۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تکلیفیں شروع ہوں گی۔۔۔۔ تمہاری بھی اور میری بھی۔۔۔
ماضی پھر سے دھراوں گا میں۔۔۔۔۔ لکھ لو میری بات۔۔۔۔
اگر اسے کچھ ہوا تو کوئی سکون میں نہیں رہے گا۔۔۔۔
نہ تم اور نہ میں۔۔۔۔۔
آخر کو اس جہنم کو ہم نے بنایا تھا۔۔۔۔ اب ہم دونو اس میں جلیں گے”
۔
بہت سی آنکہیں باتیں کردی تھیں انہوں نے۔۔۔
پر انکی آنکھوں میں اب وہ ضیشم نہیں دیکھا تھا تابین بیگم نے اب وہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھ ہوگئیں تھیں۔۔۔۔
۔
“اب کونسی نئی مصیبت آگئی ہے۔۔۔ ہر روز ایک نئی دھمکی۔۔۔”
“پر اس بار میں دھمکی نہیں دے رہا۔۔۔۔بس دوا کرنا وہ نہ ہو جو لوگ کہہ رہے ہوں۔۔۔۔ وہ ہو جو میرا دل کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔
بس اللہ ایک بار میری یہ دعا سن لے۔۔۔۔۔ میں اسکی اس نعمت کی کبھی ناقدری نہیں کروں گا۔۔۔۔۔”
انکی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“السلام علیکم۔۔۔۔۔۔”
“لبابہ۔۔۔۔؟؟؟؟”
لبابہ نے موبائل دوسرے کان پر لگا لیا تھا بڑی بہن کی آواز سن کر۔۔۔
“مجھے یقین نہیں آرہا لبابہ۔۔۔۔”
“آپ کیسی ہیں۔۔۔؟ کیا۔۔۔ کیا ماما سے بات ہوجائے گی میری۔۔۔؟؟”
“لبابہ خیریت ہے۔۔۔؟ عشنا ٹھیک ہے۔۔۔؟؟”
“جی باجی۔۔۔۔ مجھے امی سے بات کرنی ہے۔۔۔۔”
“لبابہ امی۔۔۔ وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ مجھے تھوڑا وقت دو میں انہیں سمجھاؤں گی۔۔۔۔”
“ہاہا۔۔۔وقت ہی تو نہیں ہے باجی۔۔۔۔ وقت ہی کا تو رونا ہے۔۔۔۔
آپ۔۔۔ عشنا کی شادی طہ کر دی ہے میں نے اسی ہفتے۔۔۔۔ آپ کو کل صبح تک کارڈ مل جائے گا۔۔۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔ لبابہ اتنی بھی کیا جلدی تھی۔۔۔؟ امی سے کسی سے مشورہ لینا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ شادی۔۔۔۔”
“مجھ سے بات کروا۔۔۔۔”
پیچھے سے والدہ نے موبائل پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
“تم نے اگر ہم لوگوں کو نکال باہر کرنا تھا تو پوری طرح کرتی۔۔۔۔
اپنی بیٹی کو بھی وہی زندگی دے رہی ہو جس عذاب سے خود نہیں بچ پائی۔۔۔ وہی غریب لوگ۔۔۔۔ جاب لیس لڑکا۔۔۔۔”
وہ چلائی تھی۔۔۔۔
“ماما۔۔۔۔۔”
“لبابہ یہ آخری بار تم نے مجھے ماں بولا ہے آج کے بعد تمہاری کال نہ آئے یہاں جو کرنا ہے کرو۔۔۔۔۔”
انہوں نے غصے سے فون بند کردیا تھا۔۔۔۔۔
“میری بیٹی کی شادی پر نہ سہی۔۔۔۔ اپنی بیٹی کے جنازے پر آپ ضرور آئیں گی۔۔۔۔ چلیں آخری بار سہی آپ نے لفظ ماں بولنے کا موقع تو دیا۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
