Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Last updated: 20 June 2025
Rate this Novel
Ghamandi by Sidra Sheikh
"تم کبھی میری بیٹی کو چھین نہیں سکتے مجھ سے ضیشم ۔۔اور تم مس تابین وہ کرو نہ جو کرتی آئی ہو وارم ہز بیڈ۔۔۔" "لبابہ۔۔۔شٹ دا ہیل اپ۔۔۔تابین کے ساتھ میرا رشتہ۔۔" "اوو کم آن تم جو تھے جو ہو میں پہچان گئی ہوں ضیشم پریٹینڈ نہ کرو اگر بنا چکے ہو میری بیسٹ فرینڈ کو اپنے بستر کی رونق تو فخر کرو نہ تم۔۔۔" ضیشم کا ہاتھ جیسے ہی اٹھا تھا لبابہ کے لیے ان ایکسپیکٹڈ تھا وہ تھپڑ شاید مارنے والے ضیشم کے لیے بھی۔۔۔ اور وہ سیڑھیوں سے نیچے گرتی چلی گئی تھیں۔۔۔۔ "ماما۔۔۔۔" نیچے کھڑی انکی پانچ سال کی بیٹی نے کی چیخ نے وہاں سب کی جان نکال دی تھی۔۔۔ خون میں لت پت لبابہ نے چہر پر ایک نئی مسکراہٹ سجائے اپنے شوہر کی طرف دیکھا تھا اور اپنی بچی کے ماتھے پر پیار کیا تھا "تم ۔۔۔ عشنا کو کبھی مجھ سے جدا نہیں کر پاؤ گے ضیشم۔۔۔" ۔ "ضیشم وہ آگئی ہے۔۔۔اسکی فلائٹ آگئی ہے۔۔" انہوں نے ائیر پورٹ کی ہر جانب نظر دہرائی تھی اور انکی نظریں جا ٹکی تھی اپنی بیٹی پر جسے وہ دس سال بعد دیکھ رہے تھے۔۔ "لبابہ کی کاپی لگ رہی ہے ۔۔۔بالوں میں کرلز ہیں ااسکے لمبے گھنے بال اور اس میں پڑتے کرلز میں بہت پسند کرتا تھا اور۔۔۔" وہ بات کرتے کرتے چپ ہوئے تھے جب انکی بیوی نے منہ دوسرے طرف کرلیا تھا۔۔ "ایم سوری تابین۔۔۔ایم۔۔۔بہت سالوں کے بعد بیٹی کو دیکھ رہا ہوں۔۔۔لبابہ کی یاد بہت شدت سے آرہی ہے۔۔۔" انہوں نے اپنی گلاسیز اتار کر اپنی آنکھیں صاف کی تھی "عشنا بیٹا۔۔۔موسٹ ویلکم بیٹا۔۔۔" تابین اپنی کرسی سے اٹھ گئی تھیں اور عشنا کو گلے لگانے کے لیے آگے بڑھی تھیں جو کچھ قدم پیچھے ہوگئی تھی۔۔ "ہیلو مس تابین۔۔۔ڈیڈ مجھے پتا نہیں تھا آپ اپنی بیٹی کو ریسیو کرنے کے لیے اپنی مسٹریس کو بھی ساتھ لائیں گے۔۔؟؟" "وٹ دا ہیل۔۔۔" پیچھے سے ایک غصے سے بھری آواز آئی تھی۔۔۔ "موم ہیں یہ ہماری ڈئیر سس۔۔۔" "رئیلی۔۔؟ آئی ڈونٹ تھنک سو۔۔۔" "اننف عشنا۔۔۔" عشنا نے فائننلی اپنے ڈیڈ کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔ "اوکے۔۔۔" وہ ایک دم سے سوفٹ ہوگئی تھی باپ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر۔۔۔ "عشنا بیٹا بابا کو نہیں ملو گی۔۔۔" ضیشم صاحب نے اپنے دونوں بازو کھولے تھے جیسے وہ بچپن میں کرتے تھے
اور وہ پانچ سال کی بچی بھاگتے ہوئے باپ کی آغوش میں چھپ جاتی تھی
آج وہ بچی باپ کی آغوش میں تو آئی تھی پر چھپنے کے لیے نہیں ہمیشہ ہمیشہ کے ہر رشتہ ناطہ توڑنے کے لیے۔۔۔ ۔ "بھائی صاحب ہماری ہونے والی بہو تو بہت خوبصورت ہے ماشاللہ۔۔۔"
عشنا کا وجود ساکن ہوا تھا تو ضیشم صاحب نے اپنے دوست کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا ۔ "واااووو موم یہ تو ماڈل ہے۔۔جانتا ہوں میں انہیں۔۔۔سیریسلی یہ میری بیوی بنے گی۔۔؟" "ماڈل۔۔؟؟" "ماڈل ہی نہیں ڈیزائنر بھی۔۔۔یہاں انکے بنائے گے ڈیزائن۔۔" "رومیل بیٹا۔۔۔" رومیل بات ادھوری چھوڑ گیا تھا پر اسکی باتیں سن کر اسکی فیملی کی آنکھوں میں عشنا کو دیکھ کر ایک نئی لالچ ابھری تھی۔۔ "عُشنا بیٹا یہ۔۔" "ویٹ آ منٹ ڈیڈ مجھے کسی کو ملوانا ہے آپ سے۔۔۔ارتضا۔۔۔کم ہیر۔۔۔ہنی میٹ مائی ڈیڈ۔۔۔" اس کراؤڈ سے ایک ہینڈسم ینگ مین جیس ہی عشنا کے ساتھ آکر کھڑا ہوا تھا عشنا نے اسکے بازو میں اپنا بازو ڈال کر ضیشم صاحب کی طرف دیکھا تھا جن کا مٹھی کی صورت میں بند ہوا تھا۔۔۔ "اوووہ۔۔۔ہائے انکل۔۔۔ہیلو ایوری ون کیسے ہیں آپ سب۔۔؟؟" ارتضا نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا پر ضیشم صاحب اپنا کوٹ ٹھیک کرتے ہوئے پیچھے ہوگئے تھے "گھر چل کر بات کرتے ہیں کم عشنا۔۔۔۔" "میں اپنی گاڑی میں آجاؤں گی مجھے ابھی خالہ کی طرف بھی جانا ہے ٹیک کئیر۔۔۔" عُشنا ارتضا کا ہاتھ پکڑے وہاں سے باہر آگئی تھی۔۔۔
سامنے جو گاڑی رکی تھی اسے دیکھ کر ان لوگوں کی آنکھیں اور کھلی رہ گئی تھی جب عشنا اس میں جا کر بیٹھی تھی "آپ عشنا کو لے جائیں جہاں جانا چاہتی ہے یہ بعد مجھےبس انفارم کرتے رہیے گا آپ۔۔" "کیا آپ آپ لگا رکھی ہے ضیشم۔۔میں لے جاتا ہوں۔۔۔فکر نہیں کرو۔۔۔" ۔ "ابراہیم۔۔۔یار وہ سر پھری ہے برداشت کرلینا اگر کچھ۔۔۔" "ہاہاہاہا اوکے باس ڈونٹ ورری۔۔۔" ۔ ڈرائیور نے احترام میں سر ہلایا تھا اور گاڑی کو سٹارٹ کردیا تھا "یہ کیا طریقہ ہوا ضیشم عشنا نے کسی غیر کے سامنے آپ کی عزت کا تماشہ بنا دیا۔۔۔اور اب" "تابین ہم گھر چل کر بات کریں گے۔۔۔" ۔ "عشنا واووو مجھے تم نے اپنے ڈیڈ سے ملوا دیا سیریسلی۔۔۔تم نے سچ میں مجھے اپنا لیا ہے۔۔؟ مطلب کے اب میں تم۔۔۔" "گیٹ آؤٹ۔۔۔۔۔سٹاپ دا کار رائٹ ناؤ۔۔۔" آگے جھک کر اس نے ارتضا کی سائیڈ کا ڈور اوپن کیا تھا۔۔۔ "وٹ بٹ عشنا میں۔۔۔" "یہیں تک بات ہوئی تھی ہماری۔۔۔میرے ڈیڈ کے سامنے تمہیں انٹرڈیوس کروانے کی ناؤ گیٹ آؤٹ۔۔۔" ڈرائیور کو سوائے آواز کے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اس لیمو زین میں پیچھے کیا ہو رہا تھا اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا ڈرائیور کی بیک ونڈو بند تھی پیچھے سے "میں یہاں کسی کو نہیں جانتا۔۔۔مجھے لگا تھا کہ میں تمہارے لیے کچھ ہوں۔۔ ہم ریلیشن شپ میں تھے ڈیم اٹ۔۔۔" "کونسا ریلیشن شپ۔۔؟ اوقات سے بڑھ اڑھنا چاہتے ہو تو منہ کے بل گرنے کا جگرا بھی رکھو اترو گاڑی سے ۔۔۔" "اوکے فائن۔۔۔۔یہی آتا ہے تمہیں۔۔َ لوگوں کو استعمال کرنا پیسے سے خریدنا۔۔؟ لیکن یاد رکھنا ہر کوئی بکاؤ نہیں ہوتا۔۔کسی دن تمہیں بھی کوئی اسی طرح استعال کرکے۔۔" "بات مکمل مت کرنا اپنی۔۔۔استعمال وہ لوگ ہوتے ہیں جو کچھ نہیں ہوتے جن کو اپنی ویلیونہیں پتا ہوتی جو دوسروں کو موقع دیتے ہیں انہیں استعمال کرنے کا۔۔وہ ہوتے ہیں استعمال۔۔۔ اگر تم بک گئے ہو تو تمہیں سمجھ جانا چاہیے ہر ایک بکاؤ ہوتا ہے۔۔۔کل اسی وقت ائیرپورٹ چلے جانا کل کی فلائٹ ہے تمہاری۔۔۔چلو ڈرائیور۔۔" ڈرائیور ہمدردی کی نظروں سے اس رات اس سڑک پر
اس لڑکے کو دیکھ رہا تھا کہ عشنا کی آواز اسے سنائی نہیں دی تھی۔۔۔عشنا نے پیچھے سے ونڈو اوپر کی تھی۔۔ "اب آپ چلیں گے یہاں سے یا میں آپ کو خط لکھ کر ارسال کروں۔۔؟؟" وہ ڈرائیور ہنس دیا تھا عشنا کی بات پر اور گاڑی سٹارٹ کردی تھی "میں نے کوئی لطیفہ نہیں سنایا آپ کو سر۔۔۔" "ہاہاہا دراصل بیٹا ہنسی اس بات پر آئی کہ باہر رہنے کے باوجود بھی
آپ کو اتنی ٹھوس اردو آتی ہے۔۔اور آپ کی یہ دیسی ڈریسنگ۔۔۔ضیشم کو کتنے جھٹکے دئیے ہیں آپ نے۔۔۔" وہ اور ہنسے تھے تو عشنا کو ارو بھی غصہ آیا تھا۔۔۔ "آپ ملازم ہیں تو ڈیڈکو نام سے نہیں سر کہہ کر مخاطب کریں۔۔۔" اس نے وہ ونڈو بھی بند کر دی تھی۔۔۔ "بلکل لبابہ بھابھی پر گئی ہے بلکل گھمنڈی جیسی ہے۔۔۔" انہوں نے ایک آہ بھری تھی لبابہ کا چہرہ یاد کرتے ہوئے۔۔۔ ۔ "ڈیڈ بہت آسان ہے آپ کے لیے آگے بڑھ جانا پر ہم لوگ تو وہیں ہیں۔۔۔ موم نےآپ کو اپنا آپ پلیٹ میں رکھ کر دہ دیا تھا اس لیے ناقدری کر گئے آپ۔۔ پر میں وہ نہیں ہوں۔۔۔میں آپ کے سامنے ہوکر بھی آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں ملنے دوں گی ۔۔اور ایسے ہی تڑپتے ہوئے چھوڑ جاؤں گی واپس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔" ۔ شہر کی روشنیوں نے عشنا کی آنکھوں میں کرب کے وہ آنسو آنے سے روک دئیے تھے پر دل میں اٹھتے درد کو چھپانا مشکل تھا۔۔ آج اپنے ڈیڈ کی مکمل فیملی کو دیکھ کر جو اسے ہو رہا تھا
