Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 01
Rate this Novel
Episode 01
“تم کبھی میری بیٹی کو چھین نہیں سکتے مجھ سے ضیشم ۔۔اور تم مس تابین وہ کرو نہ جو کرتی آئی ہو وارم ہز بیڈ۔۔۔”
“لبابہ۔۔۔شٹ دا ہیل اپ۔۔۔تابین کے ساتھ میرا رشتہ۔۔”
“اوو کم آن تم جو تھے جو ہو میں پہچان گئی ہوں ضیشم پریٹینڈ نہ کرو اگر بنا چکے ہو میری بیسٹ فرینڈ کو اپنے بستر کی رونق تو فخر کرو نہ تم۔۔۔”
ضیشم کا ہاتھ جیسے ہی اٹھا تھا لبابہ کے لیے ان ایکسپیکٹڈ تھا وہ تھپڑ شاید مارنے والے ضیشم کے لیے بھی۔۔۔ اور وہ سیڑھیوں سے نیچے گرتی چلی گئی تھیں۔۔۔۔
“ماما۔۔۔۔” نیچے کھڑی انکی پانچ سال کی بیٹی نے کی چیخ نے وہاں سب کی جان نکال دی تھی۔۔۔
خون میں لت پت لبابہ نے چہر پر ایک نئی مسکراہٹ سجائے اپنے شوہر کی طرف دیکھا تھا اور اپنی بچی کے ماتھے پر پیار کیا تھا
“تم ۔۔۔ عشنا کو کبھی مجھ سے جدا نہیں کر پاؤ گے ضیشم۔۔۔”
۔
“ضیشم وہ آگئی ہے۔۔۔اسکی فلائٹ آگئی ہے۔۔”
انہوں نے ائیر پورٹ کی ہر جانب نظر دہرائی تھی اور انکی نظریں جا ٹکی تھی اپنی بیٹی پر جسے وہ دس سال بعد دیکھ رہے تھے۔۔
“لبابہ کی کاپی لگ رہی ہے ۔۔۔بالوں میں کرلز ہیں ااسکے لمبے گھنے بال اور اس میں پڑتے کرلز میں بہت پسند کرتا تھا اور۔۔۔”
وہ بات کرتے کرتے چپ ہوئے تھے جب انکی بیوی نے منہ دوسرے طرف کرلیا تھا۔۔
“ایم سوری تابین۔۔۔ایم۔۔۔بہت سالوں کے بعد بیٹی کو دیکھ رہا ہوں۔۔۔لبابہ کی یاد بہت شدت سے آرہی ہے۔۔۔”
انہوں نے اپنی گلاسیز اتار کر اپنی آنکھیں صاف کی تھی
“عشنا بیٹا۔۔۔موسٹ ویلکم بیٹا۔۔۔”
تابین اپنی کرسی سے اٹھ گئی تھیں اور عشنا کو گلے لگانے کے لیے آگے بڑھی تھیں جو کچھ قدم پیچھے ہوگئی تھی۔۔
“ہیلو مس تابین۔۔۔ڈیڈ مجھے پتا نہیں تھا آپ اپنی بیٹی کو ریسیو کرنے کے لیے اپنی مسٹریس کو بھی ساتھ لائیں گے۔۔؟؟”
“وٹ دا ہیل۔۔۔”
پیچھے سے ایک غصے سے بھری آواز آئی تھی۔۔۔
“موم ہیں یہ ہماری ڈئیر سس۔۔۔”
“رئیلی۔۔؟ آئی ڈونٹ تھنک سو۔۔۔”
“اننف عشنا۔۔۔”
عشنا نے فائننلی اپنے ڈیڈ کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔
“اوکے۔۔۔”
وہ ایک دم سے سوفٹ ہوگئی تھی باپ کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر۔۔۔
“عشنا بیٹا بابا کو نہیں ملو گی۔۔۔”
ضیشم صاحب نے اپنے دونوں بازو کھولے تھے جیسے وہ بچپن میں کرتے تھے اور وہ پانچ سال کی بچی بھاگتے ہوئے باپ کی آغوش میں چھپ جاتی تھی آج وہ بچی باپ کی آغوش میں تو آئی تھی پر چھپنے کے لیے نہیں ہمیشہ ہمیشہ کے ہر رشتہ ناطہ توڑنے کے لیے۔۔۔
۔
“بھائی صاحب ہماری ہونے والی بہو تو بہت خوبصورت ہے ماشاللہ۔۔۔” عشنا کا وجود ساکن ہوا تھا تو ضیشم صاحب نے اپنے دوست کو چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا
۔
“واااووو موم یہ تو ماڈل ہے۔۔جانتا ہوں میں انہیں۔۔۔سیریسلی یہ میری بیوی بنے گی۔۔؟”
“ماڈل۔۔؟؟”
“ماڈل ہی نہیں ڈیزائنر بھی۔۔۔یہاں انکے بنائے گے ڈیزائن۔۔”
“رومیل بیٹا۔۔۔”
رومیل بات ادھوری چھوڑ گیا تھا پر اسکی باتیں سن کر اسکی فیملی کی آنکھوں میں عشنا کو دیکھ کر ایک نئی لالچ ابھری تھی۔۔
“عُشنا بیٹا یہ۔۔”
“ویٹ آ منٹ ڈیڈ مجھے کسی کو ملوانا ہے آپ سے۔۔۔ارتضا۔۔۔کم ہیر۔۔۔ہنی میٹ مائی ڈیڈ۔۔۔”
اس کراؤڈ سے ایک ہینڈسم ینگ مین جیس ہی عشنا کے ساتھ آکر کھڑا ہوا تھا عشنا نے اسکے بازو میں اپنا بازو ڈال کر ضیشم صاحب کی طرف دیکھا تھا جن کا مٹھی کی صورت میں بند ہوا تھا۔۔۔
“اوووہ۔۔۔ہائے انکل۔۔۔ہیلو ایوری ون کیسے ہیں آپ سب۔۔؟؟”
ارتضا نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا پر ضیشم صاحب اپنا کوٹ ٹھیک کرتے ہوئے پیچھے ہوگئے تھے
“گھر چل کر بات کرتے ہیں کم عشنا۔۔۔۔”
“میں اپنی گاڑی میں آجاؤں گی مجھے ابھی خالہ کی طرف بھی جانا ہے ٹیک کئیر۔۔۔”
عُشنا ارتضا کا ہاتھ پکڑے وہاں سے باہر آگئی تھی۔۔۔ سامنے جو گاڑی رکی تھی اسے دیکھ کر ان لوگوں کی آنکھیں اور کھلی رہ گئی تھی جب عشنا اس میں جا کر بیٹھی تھی
“آپ عشنا کو لے جائیں جہاں جانا چاہتی ہے یہ بعد مجھےبس انفارم کرتے رہیے گا آپ۔۔”
“کیا آپ آپ لگا رکھی ہے ضیشم۔۔میں لے جاتا ہوں۔۔۔فکر نہیں کرو۔۔۔”
۔
“ابراہیم۔۔۔یار وہ سر پھری ہے برداشت کرلینا اگر کچھ۔۔۔”
“ہاہاہاہا اوکے باس ڈونٹ ورری۔۔۔”
۔
ڈرائیور نے احترام میں سر ہلایا تھا اور گاڑی کو سٹارٹ کردیا تھا
“یہ کیا طریقہ ہوا ضیشم عشنا نے کسی غیر کے سامنے آپ کی عزت کا تماشہ بنا دیا۔۔۔اور اب”
“تابین ہم گھر چل کر بات کریں گے۔۔۔”
۔
“عشنا واووو مجھے تم نے اپنے ڈیڈ سے ملوا دیا سیریسلی۔۔۔تم نے سچ میں مجھے اپنا لیا ہے۔۔؟ مطلب کے اب میں تم۔۔۔”
“گیٹ آؤٹ۔۔۔۔۔سٹاپ دا کار رائٹ ناؤ۔۔۔”
آگے جھک کر اس نے ارتضا کی سائیڈ کا ڈور اوپن کیا تھا۔۔۔
“وٹ بٹ عشنا میں۔۔۔”
“یہیں تک بات ہوئی تھی ہماری۔۔۔میرے ڈیڈ کے سامنے تمہیں انٹرڈیوس کروانے کی ناؤ گیٹ آؤٹ۔۔۔”
ڈرائیور کو سوائے آواز کے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اس لیمو زین میں پیچھے کیا ہو رہا تھا اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا ڈرائیور کی بیک ونڈو بند تھی پیچھے سے
“میں یہاں کسی کو نہیں جانتا۔۔۔مجھے لگا تھا کہ میں تمہارے لیے کچھ ہوں۔۔ ہم ریلیشن شپ میں تھے ڈیم اٹ۔۔۔”
“کونسا ریلیشن شپ۔۔؟ اوقات سے بڑھ اڑھنا چاہتے ہو تو منہ کے بل گرنے کا جگرا بھی رکھو اترو گاڑی سے ۔۔۔”
“اوکے فائن۔۔۔۔یہی آتا ہے تمہیں۔۔َ لوگوں کو استعمال کرنا پیسے سے خریدنا۔۔؟ لیکن یاد رکھنا ہر کوئی بکاؤ نہیں ہوتا۔۔کسی دن تمہیں بھی کوئی اسی طرح استعال کرکے۔۔”
“بات مکمل مت کرنا اپنی۔۔۔استعمال وہ لوگ ہوتے ہیں جو کچھ نہیں ہوتے جن کو اپنی ویلیونہیں پتا ہوتی جو دوسروں کو موقع دیتے ہیں انہیں استعمال کرنے کا۔۔وہ ہوتے ہیں استعمال۔۔۔
اگر تم بک گئے ہو تو تمہیں سمجھ جانا چاہیے ہر ایک بکاؤ ہوتا ہے۔۔۔کل اسی وقت ائیرپورٹ چلے جانا کل کی فلائٹ ہے تمہاری۔۔۔چلو ڈرائیور۔۔”
ڈرائیور ہمدردی کی نظروں سے اس رات اس سڑک پر اس لڑکے کو دیکھ رہا تھا کہ عشنا کی آواز اسے سنائی نہیں دی تھی۔۔۔عشنا نے پیچھے سے ونڈو اوپر کی تھی۔۔
“اب آپ چلیں گے یہاں سے یا میں آپ کو خط لکھ کر ارسال کروں۔۔؟؟”
وہ ڈرائیور ہنس دیا تھا عشنا کی بات پر اور گاڑی سٹارٹ کردی تھی
“میں نے کوئی لطیفہ نہیں سنایا آپ کو سر۔۔۔”
“ہاہاہا دراصل بیٹا ہنسی اس بات پر آئی کہ باہر رہنے کے باوجود بھی آپ کو اتنی ٹھوس اردو آتی ہے۔۔اور آپ کی یہ دیسی ڈریسنگ۔۔۔ضیشم کو کتنے جھٹکے دئیے ہیں آپ نے۔۔۔”
وہ اور ہنسے تھے تو عشنا کو ارو بھی غصہ آیا تھا۔۔۔
“آپ ملازم ہیں تو ڈیڈکو نام سے نہیں سر کہہ کر مخاطب کریں۔۔۔”
اس نے وہ ونڈو بھی بند کر دی تھی۔۔۔
“بلکل لبابہ بھابھی پر گئی ہے بلکل گھمنڈی جیسی ہے۔۔۔”
انہوں نے ایک آہ بھری تھی لبابہ کا چہرہ یاد کرتے ہوئے۔۔۔
۔
“ڈیڈ بہت آسان ہے آپ کے لیے آگے بڑھ جانا پر ہم لوگ تو وہیں ہیں۔۔۔
موم نےآپ کو اپنا آپ پلیٹ میں رکھ کر دہ دیا تھا اس لیے ناقدری کر گئے آپ۔۔
پر میں وہ نہیں ہوں۔۔۔میں آپ کے سامنے ہوکر بھی آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک نہیں ملنے دوں گی ۔۔اور ایسے ہی تڑپتے ہوئے چھوڑ جاؤں گی واپس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔”
۔
شہر کی روشنیوں نے عشنا کی آنکھوں میں کرب کے وہ آنسو آنے سے روک دئیے تھے پر دل میں اٹھتے درد کو چھپانا مشکل تھا۔۔
آج اپنے ڈیڈ کی مکمل فیملی کو دیکھ کر جو اسے ہو رہا تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
مہندی کی رسم شروع ہوگئی ہے پہلی وش کس کی طرف سے۔۔؟؟”
سب کزنز نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“میں دولہے والوں کی طرف سے ہوں سن لو دنیا والوں۔۔۔پر دلہن میڈم کے لیے کچھ ارض کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
ایک خوبصورت آواز نے مائیک میں جیسے ہی بولنا شروع کیا تھا اس شادی والے گھر کے باہر تین گاڑیاں ایک ساتھ آکے رکی تھیں۔۔۔
“آپ سب کو مجھے یہاں کسی ملازم کے بیٹے کی شادی میں لانا ضروری تھا۔۔؟”
“ہاہاہا عشنا تم نے وعدہ کیا تھ مجھے بچے چپ چاپ چلو گی۔۔”
“دادی ویسے آنا ضروری تھا میرا۔۔؟ اتنے سال بھی تو آپ لوگ فنکشن اٹینڈ کرتے ہی تھے نہ۔۔؟؟”
“عشنا وہ ملازم ہی نہیں دوست بھی ہے میرا،،،”
“لگ رہا ہے۔۔ورنہ ایک ڈرائیور کے بیٹے کی شادی پر اتنا اعلی شان انتظام۔۔؟
مجھے لگا تھا آپ نے چیریٹی دینا بند کردی ہوگی۔۔؟؟ سب کچھ تو گھر ہی رہ جاتا ہوگا نہ۔۔؟ پر اب لگ رہا آپ بہت مہان ہیں ڈیڈ۔۔پرفیکٹ دوست جنٹلمین۔۔؟؟”
عشنا کا ہاتھ پکڑ کر دادی اسے کھینچتے ہوئے ضیشم سے دور لے گئیں تھیں۔۔
“تم کیوں احساس نہیں کرتی اپنے باپ کا عشنا۔۔”
دادی جیسے ہی وہاں داخل ہوئیں تھی سب لوگ احترام میں کھڑے ہوئے تھے۔۔
“دادی احساس کرلیا تو خود کو پلیٹ میں رکھ کر دہ دوں گی نہ۔۔؟ احساس کرنا مطلب جذبات کے ہاتھوں کنٹرول ہوجانا ۔۔۔نا۔۔؟”
دادی نے شاید عشنا کی بات نہیں سنی تھی انہیں جیسے جیسے وہاں خواتین ملتی جا رہیں تھیں وہ عشنا کو سب سے ملوانا شروع ہوگئی تھیں۔۔۔
“ضیشم بھائی کی بیٹی ہے۔۔۔؟ ماشاللہ لبابہ کی طرح خوبصورت ہے۔۔”
وہاں سے وہ اٹھ کر آئیں تھیں اور عشنا کو گلے لگایا تھا۔۔۔اپنی ماں کا نام سن کر عشنا کے قدم پیچھے ہونے سے رک گئے تھے
“آپ جانتی ہیں میری ماں کو۔۔؟”
“ارے کون نہیں جانتا سب جانتے ہیں یہاں۔۔۔رقیہ دیکھو تو لبابہ کی بیٹی آئی ہے۔۔۔”
اور دو تین خواتین آگئیں تھیں پر مائیک کی آواز بھی انکی باتیں ڈسٹرب کرنا شروع ہوگئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
“ہے آج میرے یار کی شادی مگرمیں خوش نہیں
ہے کسی کے پیار کی شادی مگر میں خوش نہیں
میں نے روکا اسے ٹوکا اسے سمجھایا بھی
دے کے واسطہ اپنی یاری کا منایا بھی۔۔۔”
اس لڑکے نے کہتے ہوئے جیسے ہی اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا سب ہنسنا شروع ہوئے تھے
۔
“اس کی راہ کا پتھر بنا اور کانٹا بھی
پھول بن کے اس کے سامنے مرجھایا بھی”
۔
“میری بیسٹ فرینڈ فلذہ۔۔۔۔”
۔
ا س نے آخری لائن سٹیج پر بیٹھی اس لڑکی کی طرف دیکھ کر بولی تھی۔۔
جو اپنے منگیتر کے پاس سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔۔
۔
ہے آج میرے یار کی شادی مگرمیں خوش نہیں
ہے کسی کے پیار کی شادی مگر میں خوش نہیں۔۔”
۔
“ارحام بھائی محفل لوٹ لی ہے یار۔۔۔۔اب آگے کون ہے ۔۔۔”
ایک اور کزن نے مائک پکڑ لیا تھا ارحام سے۔۔۔
ارحام خاموشی سے اس فنکشن سے جانا چاہتا تھا۔۔وہ اپنے بڑے بھائی اپنی بیسٹ فرینڈ اپنی کزن کے لیے بہت خوش تھا پر دل میں ایک تکلیف تھی جو وہ جانتا تھا کم نہیں ہوگی زیادہ ہوگی۔۔۔
مہمانوں کو ملتے ملاتے وہ جیسے ہی کوریڈور سے اپنے روم کی طرف جانا شروع ہوا تھا کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک خالی کمرے کی طرف کھینچا تھا،،،
جہاں پہلے سے اندھیرا تھا۔۔کھڑکی سے آتی ہوئی روشنی ہی تھی وہاں بس۔۔۔
۔
“ارحام ۔۔۔پلیز روک لو سب کچھ۔۔۔ہم دونوں برباد ہوجائیں گے اس جدائی میں۔۔۔”
ارحام کے کندھے پر جیسے ہی اس لڑکی نے اپنا سر رکھا تھا ہاتھوں کی چوڑیوں نے ایک چور برپا کردیا تھا وہاں جہاں خاموش طوفان اٹھنے کی زد میں تھا
۔
“فلذہ بھابھی۔۔۔کیا بات کر رہی ہیں آپ۔۔میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔”
“سیریسلی ارحام۔۔؟ بھابھی۔۔؟ ہم دوست بھی ہیں بیسٹ فرینڈ آج تک تم نے مجھےکبھی مایوس نہیں کیا آج کر رہے ہو تو ایسے جیسے پھر کبھی کسی مایوسی سے ایسی شکست نہ ملے۔۔۔”
فلذہ کی بھرے ہوئے مہندی لگے ہاتھ جب ارحام کے گال پر لگے تھے ارحام پیچھے ہٹا تھا اسکی بیک جیسے ہی دیوار کے ساتھ لگی تو لائٹس آن ہوگئی تھی۔۔
“کیا کہہ رہی ہو میں نہیں جانتا فلذہ۔۔خدا کے لیے رونا بند کرو تمہاری شادی ہے جھلی لڑکی ایسی باتیں نہ کرو جو سچ نہیں ہوں۔۔”
وہ جانے کو تھا جب فلذہ نے اسکا گریبان پکڑا تھا۔۔
“میں تم سے پیار کرتی ہوں ارحام۔۔۔جب سےپیار کا مطلب سمجھ آیا تھا سے۔۔۔
ڈرتی تھی اظہار کرنے سے تمہارے انکار کرنے سے۔۔۔میں انتظار میں رہی ارحام تمہارے انتظار میں۔۔۔اس رشتے پر بھی ہاں تمہیں سمجھ کر کی تھی میں نے۔۔۔
پر تمہارا نہیں تمہارے بڑے بھائی کا رشتہ آیا۔۔۔پلیز ارحام روک دو میں گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گی۔۔۔ہمارے پیار کو بکھرنے سے بچا لو۔۔”
“ہمارے پیار۔۔؟ میں تم سے پیار نہیں کرتا فلذہ ۔۔نہیں کرتا میں تم سے پیار۔۔۔”
دروازہ کھولنے کے لیے جیسے ہی ارحام نے ہاتھ بڑھایا تھا فلذہ نے ایک ڈائری آگے کردی تھی اسکے۔۔۔
۔
“کیوں نہیں بتایا تھا مجھے کہ پیار نہیں کرتے،،،؟؟ اس ڈائری میں تم نے اپنا دل بیان کردیا ارحام وہ دل جو میرے نام پر دھڑکتا رہا۔۔اب بول دو جھوٹ ہے یہ۔۔۔
ارحام کیوں ہم دونوں کہہ نہیں پائے۔۔۔کیوں تم نہیں کہہ پائے مجھے۔۔۔؟؟”
ارحام کے گریبان سے ہاتھ چھوٹ گئے تھے فلذہ جیسے ہی اسکے قدموں کے پاس گر گئی تھی
“جیسے تم کہہ نہیں پائی تھی ۔۔میں بھی نہیں سکا۔۔تمہیں اس وقت یہ ڈائری نہیں پڑھنی چاہتی تھی۔۔جھلی تم نے کیا کر ڈالا ہے یہ۔۔۔تمہاری زندگی میں میں نہیں مننان بھائی ہیں۔۔۔میں ۔۔۔فلذہ بہت دیر ہوگئی ہے۔۔۔”
ارحام نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر خود کو پیچھے کرلیا تھا۔۔
۔
“نہیں ارحام خدا کے لیے دیر نہیں ہوئی ہم دونوں نیچے جائیں گے سب کو بتا دیں گے۔۔
تم مرد ہو تم زندگی اس بات کو چھپا کر ویسے ہی جی سکتے ہو پر میں کیسے شادی کے بعد چھپاؤں گی مننان سے۔۔؟ یہ تو مننان کو دھوکا دینے والی بات ہوگی۔۔میں کیسے کروں گی یہ سب ارحام۔۔میں جھوٹ بول کر کیسے شروع کروں گی زندگی۔۔۔”
“تم کبھی کسی کو نہیں بتاؤ گی۔۔۔فلذہ تم کسی کو دھوکا نہیں دے رہی میں جانتا ہوں تمہارے نکاح کے ان دو بول کے بعد تم میرا نام تک بھول جاؤ گی۔۔۔الوداع۔۔۔”
ارحام وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
“اور وہبالکونی کا دروازہ بھی بند ہوا تھا جو کھلا ہوا تھا۔۔۔”
۔
“ایموشنل فولز۔۔۔”
عشنا نے بالکونی کا دروازہ بند کردیا تھا۔۔۔ٹھنڈی ہوا میں آنکھیں بند کرکے اسے ایک ہی چہرہ نظر آرہا تھا اپنی ماں کا۔۔۔
رئیلنگ پر ہاتھ رکھے وہ ہر طرف نظرگھما رہی تھی۔۔۔
۔
۔
“اوووو فلذہ جی آپ یہاں ہیں۔۔؟ رو رہی ہیں۔۔؟؟ ارحام نے انکار کردیا ۔۔؟؟”
ایک ہنستی ہوئی آواز نے فلذہ کو سر اور جھکانے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
“میں جانتی ہوں تم نے کیا ہے یہ سب یہ رشتے کی بات سب کے کانوں میں تم نے اچھا نہیں کیا کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا۔۔۔؟؟کیوں چھین لی میری محبت مجھ سے۔۔؟؟”
فلذہ جیسے ہی چلائی تھی اس لڑکی نے دروازہ بند کیا تھا
“کیا چھینا تھا۔۔؟؟ ارحام کو چھینا تھا مجھ سے تم نے بچپن سے اب تک فلذہ وہ تم سے پہلے میری محبت تھا۔۔۔میرا عشق تھا وہ۔۔۔ہاں میں نے کیا یہ سب کچھ۔۔ مننان بھائی میں کیا برائی ہے۔۔؟ اس طرح واویلہ مچا رہی ہو۔۔ارحام ری جیکٹ کر تو گیا ہے ابھی ابھی تمہیں۔۔۔اور ایک بات بتاؤں۔۔؟؟
تمہاری شادی کے بعد میری اور ارحام کی منگنی کرنے والے ہیں گھر والے۔۔۔
اب تم جلو اور جلتی رہو فلذہ جیسے میں جلتی آئی ہوں۔۔۔”
“ایک منٹ رخسار۔۔۔” وہ جاتے ہوئے رک گئی تھی فلذہ کی بات پر۔۔۔
“تم آج خوش ہو رہی ہو میرا حق چھین کر کل کو تم سے کوئی ایسے ہی ارحام کو چھین کر لے جائے گا۔۔ٹھیک ایسے ہی تم بھی گڑگڑاؤ گی روؤ گی رخسار پر تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔۔”
“ہاہاہاہا میں رخسار ہوں فلذہ نہیں۔۔۔میرا حق کون چھین سکتا ہے مجھ سے۔۔؟ میں تمہیں ایسی لگتی ہوں کہ بیٹھی روتی رہوں گی۔۔؟ میرا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ۔۔ارحام میرا تھا میرا ہے اور میرا رہے گا۔۔۔کسی میں اتنی جرات نہیں ہے۔۔اور اگر کوئی آیا تو میں اسے ویسے ہی نکال باہر کروں گی ارحام کی زندگی سے جیسے تمہیں کیا۔۔۔بیسٹ فرینڈ۔۔؟؟ ہاہاہاہ۔۔۔”
رخسار جیسے ہی باہر گئی تھی۔۔۔۔فلذہ اور رونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
اس کمرے میں لگی اسکی اور ارحام کی تصاویر اسے اور زیادہ تکلیف دینا شروع ہوئی تو وہ اپنے آنسو صاف کرکے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“یہ سوغات ۔۔۔؟؟ فضول کے کام محبت عشق ۔۔۔اسکے لیے اتنا سمندر بہا رہی تھی وہ بیوقوف لڑکی۔۔۔”
عشنا ارحام کے فوٹو فریم کو دیکھ کر تھوڑا غصہ ہوا تھا وہ باہر جانے لگی تھی جب اسکے پاؤں کے ساتھ وہ ڈائری ٹکرائی تھی۔۔۔
۔
“ناکام عاشق کی ناکام محبت۔۔؟؟”
اس نے وہ ڈائری اٹھا کر وہاں ٹیبل پر رکھنا چاہی تھی۔۔۔پر اگلے ہی لمحے اس نے وہ ڈائری اپنے پرس میں ڈال لی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ارحام میں نے تمہیں کسی سے ملوانا ہے یاد ہے بیٹا میں ذکر کرتا تھا لبابہ بھابھی کا۔۔؟ ضیشم سر کی سابقہ بیوی۔۔؟ انکی بیٹی سے تمہیں ملوانہ ہے۔۔۔”
۔
“ابو میں ابھی کسی سے ملنا نہیں چاہتا دیکھیں کام کتنا ہے۔۔۔اور۔۔۔”
۔
“اب ہماری بیوٹیفل بھابھی فلذہ ایک خوبصورت سا ڈانس کریں گی۔۔۔”
۔
اور لائٹس آف ہوگئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
“کچھ کزنز کے جھڑمٹ میں اسکا بھی ڈانس شروع ہوا تھا جس نے ارحام کے قدم باہر جانے سے روک دئیے تھے۔۔۔
۔
۔
“دی نہیں دعا بھلے نہ دی کبھی بددعا۔۔۔
نہ خفا ہوئے۔۔نہ ہم ہوئے کبھی بےوفا۔۔۔
۔
تم مگر۔۔۔بےوفا ہوگئے۔۔۔۔کیوں خفا ہوئے۔۔۔
کہ تم سے جدا ہوکے ہم تباہ ہوگئے۔۔۔۔تباہ ہوگئے۔۔۔”
فلذہ کی نظریں ارحام پر تھیں اور وہں عشنا ضیشم کی نظریں فلذہ کے ڈانس موو پر تھی جیسے ہاتھ میں کولڈرنک پکڑے وہ یہ سب کچھ دیکھ کر اینجوائے کر رہی تھی۔۔۔
“عشنا بیٹا آؤ نہ کھانا کھائیں ساتھ۔۔۔”
“پھوپھو یہ ایک پرفورمنس دیکھ لوں زرا کافی انٹرسٹد لگ رہی۔۔۔”
“شکر ہے تم اینجوائے کر رہی ہو بیٹا خوش رہو۔۔۔”
۔
“سجدے میں ہم نے مانگا تھا۔۔۔عمر بھی ہماری لگ جائے تم کو۔۔۔
خود سے ہی توبہ کرتے تھے۔۔۔نظر نہ ہماری لگ جائے تم کو۔۔۔”
۔
“ہم مگر ناگوارہ تمہیں کس طرح ہوگئے۔۔۔؟؟
کہ تم سے جدا ہوکے ہم تباہ ہوگئے۔۔”
۔
“واااہ۔۔۔۔ مننان بھائی۔۔۔ہائے۔۔۔۔”
مننا جیسے ہی سٹیج پر کھینچ کر لایا گیا تھا پورے ہال میں کزنز نے شور مچا دیا تھا۔۔۔
۔
ارحام جاتے جاتے کسی سے ٹکرا گیا تھا
“دیکھ کر نہیں چل سکتی اندھی ہوکیا۔۔؟؟”
عشنا جو اپنا ڈریس صاف کر رہی تھی سامنے بدتمیز آواز پر اس نے باقی ڈرنک کا گلاس بھی نیچے پھینک دیا تھا
“ایکسکئیوزمئ۔۔؟ تم اندھے ہو ۔؟ اور یہ کس لہجے میں بات کر رہے ہو۔؟ ایک تو ڈرنک گرا کر میرا اتنا ایکسپینسیو ڈریس خراب کردیا اوپر سے۔۔۔”
“سیریسلی۔۔؟؟ ایکسپینسیو۔۔؟ کتنے کا ہے پانچ ہزار دس ہزار۔۔؟”
ارحام سارا غصہ اس لڑکی پر اتار رہا تھا جس کی غلطی بھی نہیں تھی۔۔
“اوقات ہے اسے خریدنے کی۔؟ دس ہزار۔۔؟ تمہاری چھوٹی سوچ اور حیثیت دس ہزار تک کا ہی سوچ سکتی ہے۔۔۔”
عشنا کی آواز پر جیسے ہی دو تین مہمانوں نے اس طرف دیکھا تھا ارحام نے بنا کچھ سوچے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔اور اسے دروازے تک لے گیا تھا
“میرے گھر میں مجھے میری اوقات بتا رہی ہو تم۔؟ ہو کون۔۔؟ دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔پیسے کا رؤب کسی اور پر جھاڑنا۔۔”
ارحام دوسری جانب چلا گیا تھا پیچھے اس لڑکی کو دہلیز پر چھوڑ کر جس کی آنکھوں سے آگ برس رہی تھی۔۔۔
“عشنا بیٹا میں تمہیں کسی سے ملوانہ۔۔”
“ڈیڈ مجھے گھر جانا ہے۔۔۔”
عشنا اپنا ہاتھ چھڑا چکی تھی۔۔۔
“پر ابھی تو سب مصروف ہوگئے ہیں ڈرائیور نہیں تو کون تمہیں چھوڑنے جائے گا۔۔؟”
آپ کے ڈرائیور کہاں ہیں۔۔ جن کے بیٹے کی شادی ہے۔۔؟؟
بلائیں انہیں۔۔۔”
“آواز نیچی رکھو۔۔عشنا۔۔۔”
اٹس اوکے ضیشم سر میں چھوڑ آتا ہوں عشنا بیٹی کو گھر۔۔۔”
“ڈونٹ کالڈ می بیٹی۔۔۔میں نے کہا تھا ملازم ہیں آپ وہی رہیں۔۔۔”
” اووو سووو سوری بی۔۔عشنا میم مائی مسٹیک۔۔۔چلیں میڈم۔۔؟”
وہ اپنی ہنسی چھپا رہے تھے ضیشم غصہ بھی ہورہے تھے اپنی بیٹے پر اور اپنے دوست پر رشک بھی ہورہا تھا انہیں۔۔۔
۔
“ابو میں چھوڑ آتا ہوں آپ کے مالک کی بیٹی کو آپ بھائی کے ساتھ رہیں۔۔۔”
وہی آواز اب اس قدر نرم تھی۔۔۔
“السلام علیکم ضیشم انکل۔۔۔میرا مطلب ہے سر۔۔۔”
عشنا بنا کسی کو ملے وہاں سے باہر چلی گئی تھی۔۔
“ایکسکئیوزمئ میم۔۔۔ایم سوری مجھے نہیں پتا تھا آپ ضیشم سر کی بیٹی۔۔۔”
عشنا اپنی گاڑی کے پاس جا کر رک گئی تھی
“جنہیں پہچان نہ ہو کسی کی وہ اپنی زبان اور اوقات سے اپنا تعارف کروادیتے ہیں۔۔۔سو ڈونٹ وری۔۔۔”
گاڑی کی چابی جیسے ہی عشنا نے ارحام کے سامنے کی تھی۔۔۔ارحام نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔اور اسی وقت وہ چابی ہاتھ میں دینے کے بجائے نیچے گرا دی تھی۔۔
ارحام نے خاموشی کے ساتھ نیچے جھک کر وہ چابی اٹھانا چاہی تھی اسکے ہاتھ پر عشنا کی ہیلز تھیں۔۔۔
“تم نے اندر میری اوقات اور اپنی حیثیت کی بات کی تھی۔۔۔دیکھ لو گھر بھی تمہاری ہے۔۔۔اور اب حیثیت اور اپنی اوقات میں فرق دیکھو مسٹر ارحام ابراہیم۔۔۔
جس ڈریس کی قیمت تم دس ہزار لگا رہے تھے چند سال میرے ہاں ڈارئیور کی نوکری کر کے بھی اس ڈریس کی قیمت نہیں چکا سکتے۔۔۔سو دوبارہ زبان کھولنے سے پہلے اپنی اوقات اور اپنی جیب کا وزن دیکھ لینا۔۔۔”
عشنا نے ارحام کے ہاتھ سے اپنی ہیلز اٹھائی تھی ارحام کی انگلی سے خون نکل رہا تھا پر اسکے چہرے پر درد کی ایک جھلک نہیں تھی۔۔
۔
“وہ اب حیران ہوا تھا کیوں یہ لڑکی اتنے سال بوڈنگ سکول میں رہی تھی۔۔۔”
“اب اسے سمجھ آئی تھی کیوں لوگ ضیشم صاحب کی بیٹی کو گھمنڈی کہتے تھے۔۔”
“گھمنڈی۔۔۔سیریسلی۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
