Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 06
Rate this Novel
Episode 06
“محبت اور تم سے۔۔۔؟؟ محبت انسانوں سے ہوتی ہے پتھروں سے نہیں۔۔۔”
ارحام نے کھانا کھانا شروع کردیا تھا ان مرچوں سے بھرا ہوا کھانا۔۔۔
دو نوالے کھانے پر ہی اسکی آنکھیں لال ہوگئیں تھی کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی۔۔۔ارحام نے جیسے ہی پانی کا گلاس پکڑنے کی کوشش کی عشنا نے وہ نیچے گرا دیا تھا۔۔
“سوورری۔۔۔کھانے کی بات ہوئی تھی پینے کی نہیں۔۔۔ “
وہ شیشے کا گلاس نیچے ٹوٹ کر گرگیا تھا،،،
“مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے مجھے تمہارے اس گھمنڈ سے محبت ہونے والی ہے۔۔۔؟؟”
ارحام کی آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ہوگیا تھا جب اس نے چہرے پر مسکان سجائے ہوئے اس گھمنڈی کی سانسیں روک دی تھیں اپنی باتوں سے۔۔۔۔
“مجھ سے محبت تمہاری زندگی کی آخری غلطی ہوگی۔۔۔”
“ہاہاہاہا بدلے میں اگر تم ملتی ہو تو پھر آخری غلطی ہی سہی۔۔۔ویسے تم سے محبت میری زندگی کی غلطی نہیں ہو سکتی۔۔۔”
اور اس نے باقی کا کھانا اسکی آنکھوں میں دیکھ کر ختم کرلیا تھا جو ساکن تھی اپنی سیٹ پر۔۔۔
۔
“تمہاری جرات کیسے ہوئی یہ بکواس کرنے کی۔۔؟”
عُشنا نے پانی کا بھرا ہوا جگ ارحام کے منہ پر پھینکا تھا جس کا منہ سر کپڑے سب بھیگ چکے تھے پانی سے۔۔۔
“اور اب مجھے لگتا ہے تمہارے گھمنڈ سے مجھے بہت نفرت ہونے لگی ہے۔۔۔”
اور اٹھ گیا تھا وہ بھی اسے انسلٹ کرنا چاہتا تھا۔۔۔
“جسٹ گیٹ آؤٹ۔۔۔”
عشنا نے جیسے ہی اپنی سیٹ کو چھوڑا تھا وہ غصے سے کیبن کا دروازہ کھول کر اسے باہر نکالنا چاہتی تھی پر اسکے گرائے ہوئے پانی سے اسی کی ہیلز سلپ ہوگئی تھی۔۔
اس سے پہلے وہ نیچے گرتی ارحام کے دنوں ہاتھ اسکی ویسٹ تھے۔۔۔
“مجھے سچ میں نفرت ہوجائے گی تم سے۔۔۔”
ارحام کی گردن پر ہاتھ رکھے وہ خود کو گرنے سے تو بچا چکی تھی پر ارحام کی آنکھوں میں دیکھنے سے خود کو روک نہیں پائی تھی۔۔
“تم تمہاری محبت اور یہ نفرت آئی ڈونٹ کئیر۔۔۔”
وہ مچل اٹھی تھی اتنی نزدیکی اسے کسی مرد کے ساتھ بھی برداشت نہیں تھی اور یہ مرد جو اسکی ہرٹ بیٹ روک دیتا تھا بار بار۔۔
“مجھے تم سے ایک بات کہنی ہے۔۔۔”
ارحام کی اس بات نے عشنا کو زرا سا ہلنے سے بھی روک دیا تھا۔۔۔
“کیا۔۔۔؟؟؟”
اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“تم۔۔۔تم بہت وزنی ہو۔۔اور مجھے۔۔۔مجھے چکر آرہے ہیں۔۔۔”
ارحام کی آنکھیں بند ہوگئیں تھیں۔۔۔پہلے عشنا نیچے گری تھی اور پھر ارحام۔۔اور آفس کا دروازہ کھل گیا تھا۔۔
“او مائی گوڈ۔۔۔ایم سووو سوری عشنا میم۔۔۔”
“وٹ دا۔۔۔؟؟”
عشنا نے ارحام کو خود سے جیسے ہی پیچھے کیا تھا وہ بےہوش تھا۔۔
“میم ایم سوری۔۔میں نے کچھ نہیں دیکھا۔۔”
“کچھ ہے ہی نہیں تو کیا دیکھو گی ایڈیٹ۔۔۔”
“پر میم میں نے آپ دونوں کو۔۔”
عشنا کی پی اے نے شرما کر منہ نیچے کرلیا تھا۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔ڈاکٹر کو بلاؤ باہر سے کسی میل کو بلاؤ اسے صوفہ پر لٹائے موو فاسٹ۔۔۔”
ارحام کے چہرے سے پانی کے قطرے صاف کرنے کے لیے جیسے ہی اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا تھا اس کا ماتھ بھٹی کی طرح جل رہا تھا۔۔
“اسے تو بہت تیز بخار ہے۔۔۔”
عشنا نے جلدی سے کچھ ٹشوز سے ارحام کا چہرہ صاف کیا تھا۔۔
جیسے ہی کچھ میل ایمپلائے نے اسے اٹھایا تھا رشنا بھی بھاگتے ہوئے کیبن میں آئی تھی۔۔
“ارحام۔۔؟ پلیز اسے میرے کیبن میں لے چلیں۔۔۔”
اور وہ لوگ ارحام کو اٹھا کر لے جانے لگے تھے جر عشنا نے انکا راستہ روک دیا تھا۔۔
“میں نے کہا ہے مسٹر ارحام کو کہیں لے کر جائیں۔۔؟ یہیں لٹا دیں اس کاؤچ پر۔۔اور ڈاکٹر کو فون کیجئے۔۔۔”
وہ لوگ ارحام کو لٹا کر وہاں سے چلے گئے تھے ان دونوں بہنوں کو اکیلا چھوڑ کر
“سیریسلی۔۔؟ آپ چاہتی کیا ہیں۔۔؟ مجھے سب پتا چل گیا ہے کل آپ نے ارحام کو بارش میں کھڑا رکھا تھا۔۔دیکھیں بیچارہ بےہوش ہوگیا۔۔۔”
“رشنا بہت چلائی تھی اور وہ صوفی پر جیسے ہی بیٹھی تھی ارحام کے پاس عشنا نے کیبن کے دروازے کو زور سے بند کردیا تھا۔۔
“تم ہوتی کون ہو اس طرح سے بات کرنے والی مجھ سے۔۔؟ تمہیں اوقات نہیں پتا لگی تمہاری یہاں پر۔۔؟ یا میں نکلواؤں گی تو تمہیں سبق ملے گا۔۔؟؟”
“ہاہاہا میری اوقات۔۔؟؟ تم لوگ اپنی اوقات بھول گئے۔۔؟ تمہاری ماں کی اوقات کیا تھی میری ماں کے سامنے۔۔۔وہ عورت۔۔”
عشنا نے ایک زور دار تھپڑ مار دیا تھا اسے۔۔
“میری ماں۔۔؟؟ وہ عورت ایک عزت دار باوفا بیوی تھی۔۔تمہاری ماں کی طرح بدکردار نہیں جو کسی شادی شدہ مرد پر اپنی جوانی کے ڈورے ڈالتی رہی۔۔”
عُشنا کے الفاظ میں اس طرح کی بولڈنس پہلی بار سنی تھی رشنا تھا۔۔یورپ میں بھی انکا آمنا سامنا ایسے ہی ہوا تھا پر کبھی اس طرح سے عشنا نے جواب نہیں دیا تھا
“ہاؤ ڈئیر یو۔۔۔”
رشنا نے جیسے ہی عشنا پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی تھی اس نے ہاتھ پکڑ لیا تھا اس کا
“رشنا۔۔۔ آئندہ ایسا کیا تو ہاتھ توڑ دوں گی۔۔۔دفعہ ہوجاؤ میرے کیبن سے۔۔”
“میں ڈیڈ کو بتاؤں گی اور اپنا گال بھی دیکھاؤں گی انہوں نے کبھی مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔۔”
“جاؤ جو کرنا ہے کرو۔۔۔”
رشنا روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔اور اسی وقت ڈاکٹر بھی کیبن میں آگئے تھے عشنا کی پی اے کے ساتھ۔۔۔
“سر یہ ہیں پئشنٹ۔۔۔”
۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی ہوگئی تھی۔۔اسے نہیں سمجھ آرہی تھی اس نے کیوں ارحام کے اتنا قریب کسی اور کو جاتے دیکھ ایسے ری ایکٹ کیا۔۔۔
۔
“کیا ہو رہا ہے مجھے۔۔۔”
۔
“انہیں بہت ہائی ٹمپریچر ہے۔۔۔ایک ہفتہ کم سے کم آرام چاہیے انہیں۔۔میں نے انجیکشن لگا دیا ہے آپ یہ دوائی منگوا لیجئے گا۔۔”
“آپ کی فیس آپ کو مل جائے گی ڈاکٹر ۔۔۔”
کوئی شکریہ نہیں کوئی بھی لفظ نے اسکا دوٹوک جواب تھا ڈاکٹر کے لیے
۔
وہ ڈاکٹر اور پی اے جیسے ہین کیبن سے چلے گئے تھے عُشنا ارحام کے پاس آکر کھڑی ہوگئی تھی
” کیا کروں میں تمہارا۔۔؟؟”
ارحام کے ماتھے سر بال پیچھے ہٹا کر وہ کچھ پل کو وہیں کھڑی رہی تھی۔۔۔
۔
“درد پہلے سے ہیں زیادہ۔۔خود سےپھر یہ کیا وعدہ ۔۔۔
خاموش نظریں ۔۔۔رہیں بےزبان۔۔۔”
۔
“محبت تمہیں مجھ سے تو کیا کسی اور سے نہیں ہو سکتی وہ جو تم لکھ چکے ہواپنی ڈائری میں۔۔۔
اور نفرت،،،وہ میں کوشش کروں گی تمہیں مجھ سے ہوجائے اور شدید قسم کی ہوجائے۔۔۔کیونکہ یہ ایک رشتہ میں بہت اچھے سے نبھاؤں گی تمہارے ساتھ۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا۔۔۔ عشنا اور ارحام کی شادی۔۔؟ مطلب تم کیسے سوچ سکتے ہو ایک ڈرائیور کا بیٹا اور۔۔۔”
“بس کر جاؤ۔۔بار بار ایک ہی بات یار مت کر۔۔۔تجھے پتا نہیں اتنے سالوں میں تو میرے پاس ہے تو مجھے ہمیشہ سے یقین رہا سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔
اب ارحام میری وہ امید ہے ابراہیم میں نے دیکھا ارحام کو عشنا کے ساتھ وہ جیسے بات کررہا تھا چپ کروا رہا تھا۔۔اور میری گھمنڈی بیٹی اسے ارحام ہی قابو کر سکتا ہے۔۔”
ملازمہ نے چائے کے کپ ٹیبل پر رکھ دئیے تھے پر ابراہیم صاحب ابھی بھی ایک پریشانی میں تھے
“عشنا بیٹی کو میں جتنا جانتا ہوں ضیشم اسکی زندگی میں کوئی اس لیے نہیں آنا چاہیے کہ وہ اسے قابو کر سکے۔۔تم نے بھی ایسا چاہا تھا کیا ہوا تھا۔۔؟
میں جانتا ہوں میرے بیٹے کی خود داری کو۔۔۔اور اب تو خود میں نے اسکی پسند اس سے چھین کر بڑے بیٹے کو دہ دی۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟؟ مطلب۔۔۔وہ فلذہ کو پسند کرتا تھا۔۔؟؟”
“ہمم۔۔۔”
وہ دونوں ہی خاموش ہوگئے تھے۔۔۔
۔
شیر گِل ہاؤس سے کال آئی ہے۔۔۔”
ملازمہ نے فون ضیشم صاحب کو جیسے ہی پکڑایا تھا انکے ہاتھ جیسے کانپ گئے تھے
“ہیلو۔۔۔”
“السلام علیکم ۔۔”
ضیشم صاحب کہتے ہوئے رک گئے تھے پر جب ابراہیم نے انکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا انہیں تھوڑا حوصلہ ملا تھا
“آپ بات نہیں کریں گی علیزے باجی۔۔؟؟”
ضیشم نے بہت آہستہ سے کہا تھا
“کون باجی۔۔؟ میری بہن کو تباہ کرتے ہوئے تم سب رشتے تباہ کرچکے تھے ضیشم عشنا سے بات کرنی تھی میں نے۔۔۔
امی۔۔۔بات کر لیجئے۔۔۔”
علیزے بیگم نے فون اپنی والدہ کو پکڑا دیا تھا غصے سے
“السلام علیکم امی۔۔”
“مسز شیر گِل۔۔۔ ضیشم ایک رشتہ تو تم نبھا نہیں سکے ہمارے ساتھ اتنے رشتے بنانے کی کوشش نہیں کرو۔۔۔عشنا کہاں ہے۔۔؟ اس نے تو ہمارے ہاں رکنا تھا۔۔؟
اب کونسی سازش کر رہی ہو تم اور وہ تمہاری ماں۔۔؟”
انکی غصے سے بھری ڈانٹ سن کر ضیشم صاحب کے لبوں پر مسکان آگئی تھی۔۔۔
۔
“نہیں کوئی سازش نہیں کر رہے امی۔۔۔میرا مطلب مسز شیر گِل۔۔۔بس عشنا نے ابھی ابھی آفس جوائن کیا میری کمپنی کی ‘سی-ای-او”
انکی بات کاٹ دی گئی تھی
“تمہاری کمپنی۔۔؟ اچھا ہوا تم نے خود اسے اسکی سیٹ دہ دی۔۔مجھے تو لگتا تھا وہ بھی تمہاری اس بیٹی کو دو گے جسے میری عشنا کے باقی سب حقوق دئیے۔۔۔”
“آپ آئیں کبھی گھر۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔میرا آخری چکر تمہارے اس گھر میں تب لگا تھا جب میری بیٹی خون میں لت پت پڑی ہوئی تھی۔۔۔ایسے منحوس گھر اور گھٹیا لوگوں کو ہم دیکھ کر بھی راضی نہیں۔۔۔تم عشنا کو پیغام دہ دینا ہمیں آکر ملے وہ۔۔۔”
۔
بہت رؤب ڈال کر انہوں نے فون بند کردیا تھا۔۔۔
“ابھی بھی سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔؟ انکا ڈانٹنا انکی آواز میں اور سب۔۔۔”
“سب کچھ ویسا ہی ہے ضیشم سوائے اس ایک انسان کے۔۔۔سب وہیں ہیں پر وہ نہیں ہے۔۔۔”
ضیشم صاحب نے سر جھکا لیا تھا ابراہیم کی بات پر۔۔۔
۔
“آیا وہ پھر نظر ایسے۔۔۔بات چھڑنے لگی جیسے۔۔۔
آنکھوں میں چبھتا ۔۔۔۔ کل کا دھواں۔۔۔۔
۔
حال تیرا نہ ہم سا ہے۔۔۔
اس خوشی میں کیوں غم سا ہے۔۔
بسنے لگا کیوں پھر وہ جہاں۔۔۔
۔
وہ جہاں دور جس سے گئے تھے نکل۔۔۔۔
پھر سے یادوں نے کردی ہے جیسے پہل۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں ٹھیک ہوں اب رشنا۔۔”
ارحام نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا اسکے ہاتھ سے اسے اتنی نزدیکیاں اچھی نہیں لگتی کسی بھی غیر محرم کے ساتھ۔۔یہ اسکا اصول تھا ہمیشہ سے۔۔۔
“چلو میں تمہیں گھر ڈراپ کردوں جلدی سے اس سے پہلے ہٹلر واپس آجائے میٹنگ سے۔۔۔”
“پر میں ٹھیک ہوں اب رشنا۔۔۔تمہیں بھی میری وجہ سے ڈانٹ پڑ جائے گی پھر سے۔۔۔”
“اسکی تم فکر نہیں کرو آج ڈیڈ کو فیصلہ کرنا ہی ہوگا،،،”
اور وہ ارحاما کا ہاتھ پکڑ کر عشنا کے کیب ن سے باہر لے گئی تھی
“تم بس یہیں رکو میں گاڑی کی کیز لے آؤں۔۔”
ارحام ریسیپشنٹ کے ڈیسک پر سر رکھ کر کھڑا تھا اسے پھر سے چکر آنا شروع ہوگئے تھے۔۔
“ارحام۔۔۔؟؟”
سامنے عشنا کھڑی تھی۔۔۔اس سے پہلے وہ پیچھے کی سائیڈ پر لڑکھڑا کر گرتا عشنا نے اسکے کندھے سے پکڑ لیا تھا اسے۔۔۔
“او مائی گاڈ۔۔۔”
۔
بہت سے ایمپلائیز ایک دوسرے کو شرارتی مسکراہٹ پاس کی تھی۔۔۔
“تم ٹھیک ہو۔۔۔؟؟” اس کے ہاتھ ابھی بھی ارحام کے کندھوں پر تھے وہ جھکا ہوا تھا آنکھیں اسکی کھل رہی تھیں بند ہو رہیں تھیں۔۔۔
“میں۔۔ٹھیک۔۔۔”
“ارحام چلو۔۔۔اینڈ یو مس عشنا گھر ڈیڈ کے سامنے بات ہوگی اب ہماری۔۔۔”
وہ ارحام کا ہاتھ پکڑے اسے وہاں سے لے گئی تھی۔۔۔
۔
“آپ ارحام کو آج کل کر کے ایک ہفتے کی لئیو کا کہہ دیجئے گا۔۔۔”
عشنا اپنی پی اے کو کہہ کر واپس کیبن میں چلی گئی تھی۔۔۔
اسے جہاں رشنا کی چالاکی پر غصہ آرہا تھا وہیں وہ پریشان بھی ہورہی تھی ارحام کی حالت دیکھ کر۔۔۔
۔
وہ گھمنڈی پہلی بار اپنی ماں کے علاوہ کسی اور کے لیے پریشان ہوئی تھی۔۔۔اور اسے ڈر لگ رہا تھا اپنے ان نئے پیدا ہوتے جذبات سے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“امی آپ نے جو بھی کہا ٹھیک کہا وہ شخص اسی بےعزتی کے قابل ہے۔۔”
“لیکن وہ ابھی بھی عشنا کا باپ ہے علیزے۔۔”
“کسے فکر ہے امی۔۔؟ آپ یہ بتائیے کہ عشنا کو آفس میں الجھا کر ہم سے دور کرنا چاہتے ہیں وہ لوگ۔۔
میں عاصم کو بھیج دوں عشنا کو لینے۔۔؟”
“نہیں میری بچی عاصم خامخواہ الجھ پڑے گا ان سے۔۔تم اپنے دونوں بھائیوں کو جانتی ہو۔۔
میں نے اپنی قسم دے کر انہیں وہاں جانے سے روکا ہوا ہے پچھلے ہفتے سے۔۔”
“میں بس یہ چاہتی ہوں عُشنا اس شخص کے پاس زیادہ وقت نہیں رہے۔۔
وہ اس قابل نہیں ہے۔۔”
“امی میں بھی یہی سوچ رہی ہوں کیسے وہ رہتی ہوگی کسی اور عورت کے ساتھ اور ان دو بچوں کے ساتھ۔۔۔کیا گزرتی ہوگی عشنا کے دل پر۔۔۔”
ان دونوں نے ہی ایک آہ بھری تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اچھا ارحام میں چلتی ہوں۔۔۔”
“اندر آجاؤ سب کو اچھا لگے گا۔۔۔”
“ارحام بھائی کیا قسمت ہے یار۔۔۔رات میں مس عشنا ڈراپ کرنے آئی تھی اور اب۔۔
مس رشنا۔۔۔”
چچا کے بیٹے نے ایک سیٹی ماری تھی
“وٹ۔۔ارحام وہ تمہیں ڈراپ کرنے آئی تھی۔۔؟
رشنا نے آہستہ آواز میں غصے سے پوچھا تھا۔۔۔
“رشنا بیٹا۔۔۔”
ارحام کی امی نے گلے لگایا تھا رشنا کو بہت پیار سے۔۔۔اور اسی وقت پیچھے سے کزن سے کچھ گنگنانا شروع کردی تھی
“میری بڑی عجیب کہانیاں۔۔۔اک راجہ تے دو رانیاں۔۔۔”
۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔
ارحام نے غصے سے دیکھا تھا جو الٹا ہنس دئیے تھے اور آنکھ ماری تھی ارحام کو۔۔۔
“یار ہمیں ایک نہیں لفٹ کرواتی باس آپ سہی جا رہے ہو۔۔۔”
بہت افسردہ چہرہ بنا لیا تھا اس کزن نے۔۔۔
“آنٹی بس ارحام کا خیال رکھئیے تیز بخار ہورہا ہے۔۔یہ ارحام کی میڈیسن ہے۔۔”
۔
رشنا کچھ دیر اور وہاں بیٹھی تھی اور پھر چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“ہاہاہاہا اب رخسار بیگم۔۔؟ یار یہ تو دو دو راستے میں کھڑی ہیں۔۔۔”
“باجی یقین کرو۔۔۔یہ اور فلذہ کوئی بھی میٹر نہیں کرتی بس۔۔۔
وہ جو کل رات میں نے اس گھمنڈی کی آنکھوں میں دیکھا تھا وہ جنون کچھ ایسا تھا کہ میرے لیے لمحہ فکریہ ہے۔۔۔اور مجھے پہلے ہی کرنا ہوگا جو بھی کرنا ہوگا۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وٹ۔۔؟ پر سمرین مجھے وہ ہٹلر باس کیسے ایک ہفتے کی چھٹی دے سکتی ہے۔۔؟؟”
ارحام موبائل سپیکر سے ہٹا کر کان پر لگا لیا تھا۔۔۔اور حیران تھا عشنا کی پی اے کی کال سن کر
“ہاہاہاہا ابھی تو دہ دی ہےاب اینجوائے کرو۔۔۔ویسے یہاں بھی سب ہی شوکڈ ہیں۔۔۔”
“وہ تو ہوں۔۔۔اتنی مہربانی۔۔؟؟”
“میں بعد میں کال کروں گی۔۔”
“ایک منٹ کیا۔۔۔کیا میں عشنا۔۔۔میرا مطلب مس عشنا سے بات کر سکتا ہوں۔۔؟؟”
ارحام نے نروس ہوتے ہوئے کہا تھا
“واووو۔۔۔؟؟ وہ انگلی پکڑا رہی ہے ہاتھ پکڑنا چاہتے ہو۔۔؟ منہ کے بل گرو گے یہ امیر لوگ ہے اوپر سے گھمنڈی۔۔۔ویل ویٹ میں کیبن میں ہی جا رہی۔۔”
اسکی باتوں نے ارحام کی سیلف رسپیکٹ کو ہرٹ کردیا تھا پر اسے شکریہ کہنا چاہتا تھا بس۔۔۔
“میم۔۔۔مسٹر ارحام آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔۔”
“سیریسلی۔۔؟ وہ کوئی گورنر ہے جس کا فون لیکر تم میرے کیبن میں بنا ناک کئیے آئی ہو۔۔؟
اسے چھٹی فون پر مصروف رہنے کے لیے نہیں دی میں نے۔۔۔جاؤ بند کرو اسے اور چائے لیکر آؤ۔۔۔”
ارحام کی نظریں فون پر تھیں وہ کال کٹ چکی تھی۔۔۔وہ مایوس ہوگیا تھا پر کیوں۔۔؟
کیا اسے نہیں پتا تھا وہ گھمنڈی ہے۔۔؟؟
“مجھے لگا تھا کہ شاید اسے فکر ہے۔۔پر شاید میں غلط ہوں پچھلی بار کی طرح۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔”
۔
“ارحام کو میرے کیبن میں بھیجو سمرین۔۔۔”
“بٹ میم وہ تو چھٹی پر ہیں۔۔”
عشنا نے باقی رکے ہوئے سٹاف کو دیکھا تھا اور اپنے کیبن میں چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“یہ سب کیوں ہورہا ہے۔۔؟؟ کیوں وہ ایک لوو سٹینڈرڈ آدمی مجھے اتنا بےچین کر رہا ہے۔۔۔
اسکی ڈائری کو پڑھنا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔
کیا کروں میں۔۔۔؟؟ خالہ کی طرف چلی جاتی ہوں کچھ ٹائم کے لیے۔۔؟پر دادی اداس ہوجائیں گی۔۔”
۔
۔
“آپ ڈیڈ اتنے دن بعد آئے ہیں آج آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔۔”
عشنا جیسے ہی گھر داخل ہوئی تھی رشنا کی گونجتی ہوئی آواز سنائی دی تھی اسے۔۔
“مجھے بتاؤ گی بیٹا کیا بات ہوئی۔۔؟”
انہوں نے رشنا کے ماتھے پر بوسہ دے کر پوچھا تھا
“آپ اس لڑکی کو نکال دیں یہاں سے وہ آفس میں میری انسلٹ ہر ایک سٹاف کے سامنے کرچکی ہے۔۔۔اسکی کوئی جگہ نہیں ہے نہ یہاں پر نہ ہی ہمارے آفس میں ڈیڈ۔۔۔
اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا سب کے سامنے۔۔۔”
رشنا نے آدھا سچ آدھا جھوٹ بولا تھا جس پر ضیشم صاحب کو غصہ آگیا تھا۔۔۔
“تھپڑ مارا۔۔۔؟؟ ایسا نہیں کر سکتی وہ بیٹا۔۔۔”
“ایسا ہی کیا ہے میں نے سر ضیشم۔۔۔آپ کی بیٹی کو تھپڑ مارا زور دار۔۔۔اور جانتے ہیں کیوں مارا۔۔؟؟
اس نے میری ماں کے کردار پر بات کی تھی۔۔۔جب کے کردار تو اسکی اپنی ماں کا ٹھیک نہیں تھا۔۔۔”
“عشنا۔۔۔”
ضیشم صاحب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا پر انہوں نے مارا نہیں تھا۔۔اور نہ ہی انکے سامنے کھڑی انکی گھمنڈی بیٹی نے منہ پیچھے کیا تھا وہ ڈٹی ہوئی تھی سامنے کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
ہاں البتہ انکے اٹھے ہاتھ کو دیکھ کر وہاں تابین بیگم اور رشنا کے چہرے کھل اٹھے تھے۔۔۔
“ضیشم۔۔۔”
دادی اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھیں انہوں نے غصے سے اپنے بیٹے کو پیچھے جھٹک دیا تھا۔۔۔
“آپ کا ہاتھ کیوں رک گیا ڈیڈ۔۔؟ کیا غلط کہہ دیا۔۔؟ آپ کے اس گھر میں آپ کی اور آپ کے بچوں کے دماغ میں ایک بات ایک چیز جو کہ کبھی جانے والی نہیں وہ ہے ایک خوش فہمی۔۔۔
آپ بیوی کو دھوکا دیتے رہے اور سمجھتے رہے جو آپ کر رہے وہ دھوکا نہیں۔۔۔
وہ جو پیچھے کھڑی ہیں وہ ان پر یقین کرنے والی دوست کا گھر توڑتی رہیں اور یہ سمجھتی رہیں وہ ٹھیک کر رہیں ہیں۔۔۔
اب صورت حال یہ ہے کہ آپ دونوں کے بچے آپ دونوں چیٹرز۔۔۔ دھوکے باز لوگوں کو سہی۔۔۔
اور اس مظلوم کو بد کردار سمجھتے ہیں۔۔۔جس نے اپنے مجازی خدا اور اور اپنی بیسٹ فرینڈ کو اپنا سب کچھ دہ دیا۔۔۔”
۔
وہ یہ کہہ کر اپنی پھوپھو اور دادی کا ہاتھ جھٹک کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
اسے پتا تھا وہ اب یہاں ایک پل بھی نہیں رہ سکتی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا آج بھی عشنا میڈم نہیں آئی۔۔۔؟؟”
ارحام نے پھر سے سمرین کا راستہ روکا تھا۔۔۔
“نہیں وہ نہیں آئی شاید اب آئے بھی نہیں۔۔۔ویل ضیشم سر نے آپ کو اپنے کیبن میں بلایا ہے۔۔”
“اوووہ۔۔۔اوکے۔۔۔۔”
ارحام نے اپنی ٹائی اور بال ٹھیک کئیے تھے۔۔۔اور ضیشم صاحب کے کیبن کی جانب چل دیا تھا،،،
۔
“سر آپ نے بلایا۔۔۔؟؟”
“ارحام آج میں اس کمپنی کے باس کی طرح نے بلایا بیٹا۔۔کسی اپنے کی طرح بلایا ہے تمہیں۔۔”
وہ بات کرتے کرتے کھانسی کرنا شروع ہوگئے تھے۔۔
“سر۔۔۔سر پانی پی جئیے پلیز۔۔آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟”
“بیٹا مجھے میری بیٹی واپس لا دو بس۔۔۔”
“کیا مطلب سر۔۔؟ رشنا تو ۔۔”
“رشنا نہیں عشنا میری بڑی بیٹی۔۔۔اس بار پھر سے ایک غلطی ہوگئی مجھ سے ارحام۔۔۔وہ پچھلے ایک ہفتے سے اپنی نانی کے پاس اسلام آباد گئی ہے ناراض ہو کر۔۔۔مجھے نہیں لگتا کہ وہ واپس بھی آئے گی۔۔۔اسے واپس لے آؤ بیٹا۔۔۔”
“اووو۔۔۔۔”
ارحام سب سمجھ گیا تھا۔۔۔اور وہ خاموش ہوگیا تھا۔۔وہ جانتا تھا اگر وہ گھمنڈی اس طرح خاموش ہوگئی ہے تو وجہ بہت بڑی ہوگی۔۔۔آج وہ بھی نہیں چاہتا تھا اس گھمنڈی کو واپس یہاں لانا۔۔۔
پتا نہیں وہ وجی بھی نہیں جاننا چاہتا تھا
“ارحام بیٹا پلیز۔۔۔”
“آپ نے ایسا کیا کیا کہ وہ ناراض ہو کر چلی گئی۔۔؟ جتنا میں ان کو جانا ہوں وہ مقابلہ کرنے والوں میں سے ہیں بھاگنے والوں میں سے نہیں۔۔۔”
ارحام کی بات سن کر ایک ایک چمک اٹھی تھی ضیشم صاحب کی آنکھوں میں اپنی بیٹی کے لیے کسی کا اتنا یقین دیکھ کر انہیں اب اپنے کئیے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا،،،
“وہ۔۔۔کچھ دن پہلے ایک معمولی بحث پر میرا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔پر میں نے اسے مارا نہیں تھا۔۔۔”
“سر یقین کیجئے جوان اولاد پر ہاتھ اٹھا دینا اور مارنا ایک برابر ہوتا ہے۔۔اور جب اولاد عُشنا ضیشم جیسی خوددار ہو۔۔”
ارحام خاموش ہوگیا تھا۔۔۔
“پلیز ارحام۔۔۔میں ابراہیم سے پہلے بات کر چکا ہوں۔۔۔وہ بھی یہی چاہتا ہے تم جاؤ عشنا کو لینے۔۔۔”
“اوکے۔۔۔پر کس حق سے۔۔۔؟؟”
“اسکے منگیتر ہونے کے حق سے۔۔۔تمہارے والد اور میرے درمیان یہ بات بہت دن پہلے طہ ہوچکی تھی۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟ ضیشم انکل۔۔؟؟ ابو ایسا کیسے کرسکتے ہیں ۔۔اور آپ۔۔؟ آپ نہیں جانتے آپ کی گھمنڈی بیٹی۔۔۔”
“میری گھمنڈی بیٹی کو تم ٹھیک کرسکتے ہو۔۔۔ارحام میں ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہا ان سپورٹ کارز کی ریس میں تم مجھے نہیں ہارا سکتے مسٹر عاصم۔۔۔”
“عشنا میڈم زیادہ شوخیاں نہ ماریں وہ تو موم کی کال آگئی تھی “بچوں بارش ہونے والی ہے بھلا ہوا چلتے چلتے بارش کیسے ہو۔۔۔”
اور بارش ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔”
“ہاہاہاہا تو کیا کہہ رہے تھے مسٹر عاصم۔۔۔؟؟” وہ دونوں بھیگ چکے تھے۔۔۔اور بھیگ رہا تھا وہ شخص جو پچھلے دو گھنٹے سے انتظار کر رہا تھا یہاں کھڑا ہو کر عشنا کا۔۔۔
اور وہ پہلی بار عشنا کو اس طرح کئیر فری ہنستے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔پر اسکی ہنسی کی وجہ کوئی اور تھا اس بات پر اسے ایک نیا ہی غصہ آرہا تھا
“عشنا۔۔۔”
عشنا اور عاصم کی ہنسی رکی تھی اور اندر جاتے ان دونوں کے قدم بھی۔۔۔
عاصم جو کہ اس انجان آدمی کو پہلی بار یہاں دیکھ رہا تھا جبکہ عشنا وہ بہت شوکڈ تھی۔۔۔
تیز بارش میں وہ بار بار پلکیں جھپک رہی تھی
“میں لینے آیا ہوں آپ کو۔۔۔آپ کے ڈیڈ بہت پریشا ن تھے۔۔۔”
“مجھے نہیں جانا واپس۔۔۔چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔”
عشنا واپس جانے کے لیے مڑی تھی جب ارحام نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
“ارحام ہاتھ چھوڑو میرا۔۔۔”
“عشنا گھر چلو۔۔۔”
وہ دونوں ایسے ایک دوسرے کا نام پکار رہے تھے جیسے اجنبی نہیں ہوں۔۔۔ایک الگ ہی سما تھا۔۔
“وہ کہہ رہی ہے ہاتھ چھوڑو۔۔۔”
عاصم نے ان دونوں کا ہاتھ چھڑوا دیا تھا۔۔۔
“یو سٹے آؤٹ آف دس میٹر مسٹر۔۔۔”
ارحام نے عاصم کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔۔۔پر اگلے ہی لمحے عاصم نے اسے ایک زور دار مکا مار دیا تھا۔۔۔ جو پیچھے گاڑی کی طرف جا گرا تھا۔۔۔
“وٹ دا ہیل عاصم۔۔۔”
ارحام نے جب عاصم کو مکا مارنے کے لیے ہاتھ آگے کیا درمیان میں عشنا کھڑی تھی اسکا ہاتھ عشنا کے منہ کے اتنا قریب تھا کہ وہ شرمندہ ہوگیا تھا۔۔اور نے منہ پھیر لیا تھا اپنا۔۔۔
“یو گیٹ آؤٹ۔۔عشنا کہیں نہیں جائے گی۔۔”
“عاصم اندر جاؤ۔۔۔”
عشنا ارحام کی طرف بڑھی تھی۔۔۔اس نے جیسے ہی ارحام کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا اس کے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا جو بارش کے پانی کے ساتھ صاف بھی ہو رہا تھا اور نکل بھی رہا تھا۔۔۔
۔
“خون۔۔۔خون نکل رہا ہے ارحام ۔۔۔”
ارحام بلکل چپ تھا اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔اسے پہلی بار عشنا اس قدر غصے میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تمہیں لئیے بغیر میں یہاں سے نہیں جانے والا۔۔۔”
اس نے بھاری آواز میں سرگوشی کی تھی
“ارحام۔۔۔۔”
عشنا کی انگلی اس نے ارحام کے گال پر رکھی تھی اور بہت آہستہ سے ارحام کی ہونٹ سے وہ خون کا قطرہ صاف کیا تھا۔۔۔اسکی انگلیاں ابھی بھی ارحام کے چہرے پر تھیں۔۔۔اور نگاہیں اسکی آنکھوں پر۔۔۔
۔
“میں بارش کا موسم ہوں تجھے اک دن بھاؤں گا۔۔۔
ہو دو دن دے کر خوشیاں حشر تک لے آؤں گا۔۔۔”
۔
“گھر چلو۔۔۔”
“نہیں چل سکتی۔۔۔۔”
عشنا نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔اور اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا۔۔۔
۔
“میں بارش کا موسم ہوں میرا اعتبار نہ کرنا۔۔۔
کچھ بھی ہوجائے یارا۔۔۔۔مجھے تو پیار نہ کرنا۔۔۔”
۔
“عشنا۔۔۔”
۔
“اکھیاں ہوں گی تیری۔۔۔پھر پانی کا جھڑنا۔۔۔
کچھ بھی ہوجائے یارا۔۔۔مجھے تو پیار نہ کرنا۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
