51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

“میری بیٹی کی شادی پر نہ سہی۔۔۔۔ اپنی بیٹی کے جنازے پر آپ ضرور آئیں گی۔۔۔۔ چلیں آخری بار سہی آپ نے لفظ ماں بولنے کا موقع تو دیا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چلیں مس لبابہ۔۔۔۔؟؟؟”
ارحام بائیک پر جیسے ہی بیٹھا تھا اس نے آگے ہاتھ جھکایا تھا لبابہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کندھے پر رکھا تھا وہ جیسے ہی پیچھے بیٹھیں تھیں۔۔۔
“ہاہاہاہا آج پہلی بار میری بیٹی مجھ سے جیلس ہوگی۔۔۔”
اور انہوں نے اوپر آفس کی لاسٹ ونڈو کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا تھا۔۔۔
“ہاہاہا جلنے دیں۔۔۔ آپ کے آگے وہ کچھ بھی نہیں۔۔۔”
ارحام نے بائیک سٹارٹ کردی تھی۔۔۔ وہ ایک ایک پل پیچھے بیٹھی اس ماں جیسی عورت کا خوبصورت اور یادگار بنانا چاہتا تھا۔۔۔
۔
۔
“ارحام یہ راستہ نہیں ہے گھر۔۔۔۔”
“پہلے ہم یہاں ایک خوبصورت سے ریسٹورنٹ میں اچھا سا بریک فاسٹ کریں گے پھر گھر جائیں گے۔۔۔۔”
“پر بیٹا گھر چل کر۔۔۔۔۔”
“میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں بیٹھ کر بس۔۔ اگر آپ کہتیں ہیں تو واپس گھر کی طرف موڑ لیتا ہوں۔۔۔۔”
“اووووہ۔۔۔۔ اب ہم باہر ہی کھانا کھائیں گے اور سٹیٹس لگا کر جلائیں گے اس گھمنڈی کو۔۔۔۔”
لبابہ کی بات پر وہ دونوں نے ہی قہقہ لگایا تھا۔۔۔
۔
۔
“کچھ زیادہ ہی نہیں چپک رہا موم کے ساتھ۔۔۔۔”
عشنا ونڈو سے پیچھے ہٹ گئی تھی جب لبابہ بیگم نے ہاتھ ہلایا تھا۔۔
چہرے پر ایک ہلکی سی مسکان تھی۔۔۔
“میم میٹنگ روم ریڈی ہے آپ کا ویٹ ہورہا ہے بس۔۔۔۔”
“کیا میٹنگ کینسل نہیں کر سکتے۔۔۔؟ کل پرسو کا شیڈول جاری کردو۔۔۔”
“میم بورڈ آف ڈائریکٹرز سب موجود ہیں۔۔۔ یہ میٹنگ پچھلے کچھ ماہ سے پوسٹ پون ہورہی تھی۔۔۔۔”
“اوکے۔۔۔۔۔”
ناچاہتے ہو بھی عشنا میٹنگ روم میں چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“ہاہاہاہاہا آنٹی آپ کو میں گھمنڈی سے بھی زیادہ گھمنڈی سمجھتا تھا۔۔۔ پر آپ تو۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔
اتنا کبھی نہیں ہنسا میں۔۔۔۔”
ارحام نے انکے ہاتھ میں بوسہ دے کر کہا تھا۔۔۔۔
“اب ایک سیلفی ہوجائے۔۔۔؟؟ دوسری والی گھمنڈی کو زرا اور جیلس کریں۔۔۔”
“ہاہاہا انکار ہی نہ کردے شادی سے۔۔۔۔”
وہ اور کھلکھلا کر ہنسا تھا جب لبابہ نے سیلفی کی جگہ ویڈیو ریکارڈنگ سٹارٹ کی تھی
“عشنا۔۔۔۔ یہ تو ڈمپل بوائے ہے۔۔۔۔ اووو لوک ایٹ ہم۔۔۔۔ ارحام تمہارے ڈمپل او مائی گاڈ۔۔۔۔”
ارحام کے گال پر ایگزیکٹ ڈمپل والی جگہ پر انگلی رکھتے ہوئے کیمرے کی طرف چہرہ کیا تھا۔۔۔
ارحام کے شرما جانے پر اسکے ڈمپل اور واضح ہوئے تھے۔۔۔۔
“عشنا۔۔۔۔۔ میرا چھوٹی عشنا کا پروگرام کینسل۔۔۔ مجھے چھوٹا ارحام چاہیے۔۔۔ بلکل ایسے ڈمپلز والا۔۔۔۔۔”
ارحام کے گال پر کس کرکے انہوں نے موبائل کی سکرین کو دیکھتے ہوئے آنکھ ماری تھی۔۔۔۔
“ہاہاہا اب یہ لگ گیا میرا وٹس ایپ کا سٹیٹس۔۔۔۔۔”
ارحام انکی شرارت کو دیکھ کر سنجیدہ ہوگیا تھا۔۔۔
“آنٹی میں کچھ بات کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔”
“لووو جی میں تو دعا کررہی تھی تم بھول گئے ہوگے اپنی ضروری بات کو۔۔۔”
۔
“آنٹی ۔۔۔ میں چاہتا تھا آپ عشنا کو بتا دیں۔۔۔”
“تاکہ وہ ایک بار پھر میرے لیے شادی چھوڑ کر بھاگ جائے ارحام۔۔۔؟؟ منگنی پر بھی یہی ہوا تھا نہ۔۔۔؟؟ میں اپنی بیٹی کو جانتی ہوں ارحام۔۔۔ جس لمحے اسے پتہ چلا وہ اسی لمحے سب چھوڑ چھاڑ کرچلی جائے گی۔۔۔ نکاح بھی۔۔۔۔”
ارحام خاموش ہوگیا تھا اس وقت۔۔۔۔
۔
۔
“اور کب تک یہ پریزینٹیشن چلے گی مجھے اور بھی ضروری کام ہے شہیر میں نے کہا بھی تھا کیسنل کردو۔۔۔”
عشنا نے اپنے پی اے کو آہستہ آواز میں کہا تھا۔۔۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ پروجیکٹ پلاننگ سن کر تھک چکی تھی یہ پہلی بار ہورہا تھا اسکے ساتھ جس قدر بےچینی اسے اس وقت ہورہی تھی
“آپ پانی می جیئے میم بس وائنڈ اپ ہونے والی ہے میٹنگ۔۔۔۔”
عشنا نے ایک غصے کی نظر سے اسے دیکھا اور پھر پانی کا گلاس اٹھا لیا تھا عین اسی وقت سیل فون کی سکرین فلیش ہوئی تھی
پانی کا سیپ لیتے ہوئے اس نے میسج اوپن کیا تھا جس میں پہلی تصویر ہی لبابہ کی تھی پانی کا گھونٹ پیتے پیتے عشنا کے چہرے پر مسکان چھا گئی تھی۔۔۔پر جب اس نے سٹیٹس دیکھو والا میسج پڑھا
اور سٹیٹس کی کچھ سیکنڈ چلنے کے بعد منہ سے سارا پانی نکل کر اسی کے لیپ ٹاپ پر جا گرا تھا اور وہ شدید کھانسی کرنے لگ گئی تھی۔۔۔
۔
“وٹ دا ہیل ۔۔۔موم۔۔۔ سٹیٹس لگا ڈالا۔۔۔۔ وہ بھی چھوٹا ارحام۔۔۔۔ شٹ۔۔۔۔”
“میم آر یو آلرائٹ۔۔۔”
“ایم سو سوری جنٹل میزز۔۔۔مجھے ایک ارجنٹ ۔۔۔ ایک ایمرجنسی ہوگئی ہے۔۔۔”
عشنا نے موبائل فون سے کال ملا دی تھی لبابہ بیگم کو جنہوں نے پہلے کینسل کی اور پھر اپنا موبائل بند کردیا تھا۔۔۔
۔
“مو۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔ ارحام ابراہیم تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔ ماما کا سٹیٹس سب نے دیکھ لیا ہوگا۔۔۔۔ اففف۔۔۔۔ یہ دونوں ایک دن میں کتنا شاکڈ کریں گے مجھے۔۔۔؟؟”
۔
خود سے باتیں کرتے کرتے وہ آفس سے باہر لی گئی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ضیشم یہ بیسٹ ڈاکٹرز ہیں بھابھی کے علاج کے لیے یہ اچھا مشورہ دیں گے۔۔۔ “
انہوں نے شیشے کے اس پار روم میں بیٹھے بیٹھے قابل ڈاکٹرز کی طرف توجہ دلائی تھی ضیشم صاحب کی جو اپنے دوست کے اس ہسپتال میں پچھلے دو گھنٹے سے موجود تھے رپورٹ فائل ہاتھ میں پکڑے۔۔۔۔
“اگر انہیں بھی کوئی علاج نہ ملا تو۔۔۔؟ تنویر تو کہاں جاؤں گا میں۔۔۔؟؟
لبابہ کے ڈاکٹر نے تو وقت بھی دے دیا۔۔۔ دل چاہ رہا تھا اسے وہاں سے نکال باہر کروں۔۔۔ جس کے پاس بیماریوں کے نام تو تھے پر علاج نہیں۔۔۔”
۔
“ریلیکس ضیشم۔۔۔۔سکون سے میری بات سنو۔۔۔ اندر چل کر ان ڈاکٹرز سے بیٹھ کر مشورہ کرو۔۔۔ سائنسی دور ہے سب ممکن ہے۔۔۔”
تنویر صاحب نے ضیشم کو سہارا دے کر اٹھایا تھا جن سے اب اٹھا بھی نہیں جارہا تھا
پندرہ سے بیس ڈاکٹرز اس کمرے میں موجود تھے
“ہیلو سر ایم ڈاکٹر۔۔۔۔”
“پلیز ڈاکٹر۔۔۔ میرے پاس انٹروڈکشن کا وقت نہیں ہے۔۔۔پلیز مجھے بس علاج جاننا ہے۔۔۔ میری بیوی کے ٹیومر کا۔۔۔۔
یہ سب رپورٹس ہیں سب فائلز۔۔۔ اور بھی رپورٹ کروا لیں گے۔۔۔ بس ایک بار ایک بار کسی ایک رپورٹ کو جھوٹا کہہ دیں۔۔۔۔ مجھے زرا سی تسلی دہ دیں۔۔۔بس زرا سی۔۔۔”
۔
انہوں نے جب رپورٹ رکھی تھی ہاتھ کانپ رہے تھے انکے ڈاکٹر تنویر نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھے انہوں کرسی پر بٹھایا تھا اپنی۔۔۔
۔
“ڈاکٹرز۔۔۔ مسٹر ضیشم صرف اس ہسپتال کے نہیں شہر کے اور بہت سے ہسپتال کے میجر چیریٹی ہولڈر ہیں،،،، ٹرسٹی ہیں۔۔۔
کہنا کا مقصد انکے نیک کاموں کو ظاہر کرنا بلکل نہیں ہے۔۔۔ کہنے کا مقصد بس اتنا ہے کہ یہ وسیلہ بنے ہیں اتنے لوگوں کے علاج کا۔۔۔
آج انہیں ہماری ضرورت ہے۔۔۔ ان رپورٹس کو آپ پڑھیں اور ہمیں بتائیے۔۔۔ لبابہ بھابھی کا علاج یہاں ممکن نہیں تو باہر لے جائیں گے۔۔۔ بس امید کی ایک کرن دیکھا دیں ۔۔۔
اللہ پاک نے آپ کو اتنا علم بخشا ہے۔۔۔ میں چاہ کر بھی اس معاملے میں اپنے دوست کی مدد نہیں کرسکتا۔۔۔ اس لیے آپ کو بلایا ہے آپ اس فیلڈ میں ایکسپرٹ ہیں۔۔۔”
ایک لونگ بریفینگ ینے کے بعد وہ بھی بیٹھ گئے تھے اور وہ ڈاکٹرز نے ایک ایک کرکے تمام پیپرز پڑھ ڈالے تھے اور آپس میں ڈسکشن سٹارٹ کردی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“موت کو روز قریب سے دیکھتی ہوں میں ارحام۔۔۔ جب کھانسی آتی ہے خون نکلتا ہے منہ سے۔۔۔
کبھی کبھی درد اتنا تکلیف دہ ہوتا ہے لگتا ہے اگلا سانس نہیں آئے گا۔۔۔۔ موت کو اس قدر پاس سے دیکھتی ہوں پر جی رہی ہوں۔۔۔
یہ زندگی ہے۔۔۔ میں اتنا جانتی ہوں عشنا کو نکاح کے بعد پتہ چلنا چاہیے میں خود بتاؤں گی۔۔
پر تم مجھ سے وعدہ کرو تم عشنا کو نکاح سے پہلے نہیں بتاؤ گے۔۔۔”
انہوں نے ارحام کا ہاتھ اپنے ہاتھ پر رکھ کر کہا تھا اسے۔۔۔
“آنٹی۔۔۔ عشنا کو سچ نہ بتا کر دھوکا دے کر میں اس سے شادی نہیں کرسکتا۔۔ کل کو سچ جاننے کے بعد اس نے مجھ سے ایک ہی سوال کرنا ہے ‘کیا مجھے حقیقت کا معلوم تھا؟’
اس وقت میرا جواب سننے کے بعد وہ جائےگی مجھے چھوڑ کر۔۔۔
اور یہاں بات میری نہیں ہے آنٹی۔۔۔ بات کو سمجھیں۔۔۔ عشنا کے پاس وقت بہت کم ہے آپ کے ساتھ گزارنے کے لیے۔۔۔ پلیز یہ کچھ دن ہیں تو اسے اپنے سینے سے لگائے رکھیں”
ارحام کے لہجے میں زرا سی بھی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔۔۔
پر لبابہ بیگم کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔۔۔ انہیں پتہ تھا وہ کتنے لوگوں میں موجود ہیں پھر بھی۔۔۔
“ارحام۔۔۔ یہاں بات سچ میں میری یا تمہاری نہیں میری بچی کی ہے۔۔۔
عشنا کا میرے سوا کوئی نہیں ہے۔۔۔ تم اس بات کو سمجھو۔۔۔۔ جس دن میں نے آنکھیں بند کرلی اس دن عشنا ہر دروازہ بند کردے گی ہر اپنے کی طرف۔۔۔ سب سے پہلے ضیشم۔۔۔ اور پھر تم۔۔۔
نکاح کے بعد تمہارا حق ہوگا اس پر۔۔۔ تم اسے سنبھال لو گی۔۔۔
میری بچی کا کوئی تو اپنا ہوگا ارحام۔۔۔
اسکا باپ تو واپس اپنے بیوی بچوں میں مگن ہوجائے گا۔۔۔ تو میری بیٹی کے پاس کون رہے گا۔۔۔؟؟ کوئی بھی نہیں۔۔۔ مجھے تم پر تمہارے ماں باپ پر پورا یقین ہے تم لوگ آنکھ کا تارا بنا کر رکھو گے اسے۔۔۔”
“پر آنٹی۔۔۔”
“پلیز ارحام پرومس مئ تم تب تک کچھ نہیں بتاؤ گے جب تک میں نہیں کہوں گی۔۔۔
اور میرے جانے کے بعد۔۔۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی عشنا کو اکیلا نہیں چھوڑنا۔۔۔ میں اسکی ماں نہیں جنون بن گئی ہوں اسکا۔۔۔ وہ میرے پاس آنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔۔۔”
انکی وارننگ نے ارحام کی روح تک کو جھنجھوڑ دیا تھا اس پل۔۔۔ وہ جانتا تھا عشنا کی محبت اپنی ماں کے لیے۔۔۔
پر اتنی شدت یہ لبابہ بیگم نے واضح کردیا تھا ابھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔۔۔۔”
۔
۔
“میم یہ رہی وہ رپورٹس۔۔۔ یہ سرجری ہونے کے بعد آپ کا ٹیومر ریمو رکردیا جائے گا۔۔۔”
“یا اللہ۔۔۔۔۔۔لبابہ۔۔۔۔”
اسمارہ بیگم نے ہنستے ہوئے لبابہ کو اپنے گلے سے لگایا تھا ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی ان سب کے چہروں پر۔۔۔ خاص کر ارحام کے۔۔۔
وہ صبح سے اپنی اپنے امی ابو کے ساتھ ہسپتال آیا ہوا تھا۔۔۔جہاں ضیشم صاحب اور لبابہ بیگم پہلے سے موجود تھیں۔۔۔
“اب آپ لوگ خوش ہیں تو گھر بھاگ جائیں۔۔۔ نکاح ہے آج میری بچی کا۔۔۔ میں نے بھی تیار شیار کرنا ہے اپنی بچی کو۔۔۔”
وہ اس بیڈ سے جلدی سے اٹھ گئی تھیں۔۔۔جب ضیشم نے آگے بڑھ کر انکا ہاتھ تھاما تھا۔۔
“میں نے کہا تھا نہ کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ لبابہ۔۔۔۔”
انکا لہجہ متکبر تھا پر انکی آنکھوں میں بےپناہ محبت بھی تھی لبابہ کے لیے۔۔۔۔
“ضیشم کچھ فیصلے ہم نہیں ہمارا رب کرتا ہے۔۔۔۔”
انہوں نے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
“چلیں خوبصورت خاتون گھر جاکر تیار ہوجائیں۔۔۔۔ عشنا کو ٹکر دینی ہے۔۔۔۔”
ارحام نے انہیں جیسے ہی آنکھ ماری تو ضیشم صاحب درمیان میں آکر کھڑے ہوئے تھے
“میں اس دن کا سٹیٹس ابھی تک نہیں بھولا ہوں ارحام دور رہو میری بیوی سے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا ۔۔۔ بدھے ہو گئے ہو تمہاری جیلسی ابھی بھی کالج کے دنوں والی ہے،۔۔۔”
“ارحام جی ضیشم بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔ اب تو تمہیں تمہاری بیوی بھی مل جائے گی۔۔۔”
ارحام کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر وہ چاروں ہنستے ہوئے وہاں سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“عشنا میری بچی۔۔۔۔ مہندی کا رنگ اتنا گہرا چڑھا ہے کہ میں نے کم ہی کسی کے ہاتھوں میں اتنا گاڑھا رنگ دیکھا ہوگا۔۔۔۔”
لبابہ عشنا کے چئیر کر بلکل پیچھے کھڑی ہوگئیں تھیں ہاتھوں میں پکڑے سونے کے اس ہار کو انہوں نے خود عشنا کو پہنایا تھا۔۔۔
“میں بھی یہی کہہ رہی تھی لبابہ ماشاللہ ہماری عشنا بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔۔۔”
میک آرٹسٹ اور پیچھے ہوگئیں تھیں جب لبابہ عشنا کے سامنے والی کرسی پر بیٹھیں تھیں
“ماما۔۔۔ اتنی جلدی مجھے خود سے دور نہ کریں ہم ڈیٹ آگے کردیتے ہیں۔۔۔ یہ کچھ دن۔۔ ایسے گزرے ہیں کہ مجھے یہ دن گھنٹوں جیسے لگے جو آئے اور چلے گئے۔۔۔”
عشنا نے انکا ہاتھ پکڑ کر التجا کی تھی۔۔۔
“عشنا زندگی بھی ایسی ہی ہے۔۔۔ یہ ملتی ہے رہتی ہے اور کھو جاتی ہے۔۔۔
مجھے اس زندگی سے کوئی گلہ نہیں تم جو ملی مجھے۔۔۔ اب میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے تیار کرکے رخصت کرنا چاہتی ہوں۔۔۔ میری خواہش ہے تم پورا کرو گی نہ۔۔؟؟”
آنکھوں بھر جانے پر بھی آنسو نہیں نکلے تھے انکے انہوں نے اتنا ضبط کیا ہوا تھا خود پر۔۔۔
“آپ کے لیے میری جان بھی قربان ماما آپ کی ایک مسکان پر میں قربان۔۔۔”
عشنا نے اپنے دونوں ہاتھ آگے کئیے تھے۔۔۔
جن پر انہوں نے چوڑیاں پہنائی تھی ان خوبصورت کنگن کے ساتھ۔۔۔۔
۔
میری بیٹی بہت خوبصورت لگ رہی ہے ماں جی۔۔۔۔”
ضٰشم صاحب کی والدہ کو مخاطب کیا تھا جو آنسو صاف کرکے آگے بڑھیں تھیں۔۔۔۔
“اللہ پاک نظر بد سے محفوظ رکھے۔۔۔ آمین۔۔۔۔”
“نیچے ارحام بھائی بھی کچھ کم نہیں لگ رہے ۔۔۔ میچنگ شیروانی پر سر پہ سہرا وااااووو۔۔۔۔ مجھے کیوں نہیں ملے پہلے۔۔۔؟؟”
“ہاہاہاہا شیطان۔۔۔۔”
“عشنا نے اپنی کزن کو غصے سے دیکھا تھا
“ہاہاہا۔۔۔اففف اللہ لڑکی مذاق کررہی تھی۔۔۔۔”
۔
۔
“مولوی صاحب آگئے ہیں۔۔۔ لبابہ۔۔۔”
ضٰشم صاحب نے دروازے پر ناک کیا تھا اور باقی سب روم سے چلے گئے تھے سوائے ان تینوں کے۔۔۔
“مجھے سمجھ نہیں آرہی تم دونوں میں سے زیادہ خوبصورت کون لگ رہا ہے۔۔۔”
وہ دروازہ بند کرکے اندر آگئے تھے۔۔۔
“میری بچی۔۔۔۔ ابھی کل کی بات ہے۔۔۔ میری گڑیا اپنے ہاتھوں میں چھوٹی سی گڑیا پکڑے بھاگتی تھی۔۔۔ اور مجھے کہتی تھی اس نے اپنی گڑیا کی شادی کرنی ہے۔۔۔۔
اور آج اتنی بڑی ہوگئی ہے گڑیا کہ اپنی شادی کے جوڑے میں ملبوس میرے سامنے کھڑی ہے۔۔۔”
عشنا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لئیے ماتھے پر بوسہ دیا تھا۔۔۔ آج ان تینوں کے دل و دماغ میں کوئی نفرت نہیں تھی۔۔۔ آج عشنا آخری بار اپنے ماں باپ کو ساتھ دیکھ کر یہ لمحات اپنے اندر محفوظ کرلینا چاہتی تھی۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔۔”
“عشنا۔۔۔۔ جو ہوا میں بدل نہیں سکتا۔۔۔ ہاں میں ایک سچ تسلیم کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
نہ میں ایک اچھا شوہر بن پایا نہ ایک اچھا باپ۔۔۔
میں تو ایک اچھا انسان بھی نہیں بن پایا۔۔۔”
“ڈیڈ پلیز۔۔۔”
عشنا نے کچھ قدم پیچھے ہوکر کمرے کی طرف نظر دہرائی تھی اور بیڈ پر سے اپنا موبائل اٹھا لیا تھا
۔
“ایک یادگار فیملی فوٹو ہوجائے۔۔۔؟؟؟”
“ہاں۔۔۔ بلکل۔۔۔”
لبابہ نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کرلی تھی۔۔۔
“مس گھمنڈی فیملی فوٹو ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔۔۔”
ضیشم صاحب نے لبابہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔ اور عشنا نے ایک فوٹو لی اور پھر خود بھی ساتھ کھڑی ہوگئی تھی۔۔۔۔
وہ بہت خوش تھی۔۔۔ اتنی خوش کہ وہ پیچھے کھڑے اپنے موم ڈیڈ کے اداس چہروں کو دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔”
“عشنا بیٹا۔۔۔۔
مولوی صاحب کے دوسری بار دہرانے پر لبابہ نے عشنا کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“قبول ہے۔۔۔۔۔”
“قبول ہے۔۔۔۔”
“قبول ہے۔۔۔۔۔۔”
۔
“مبارک ہو۔۔۔۔۔ ارحام بیٹا مبارک ہو۔۔۔۔عشنا میری بچی۔۔۔”
۔
دو نام گونج رہے تھے۔۔۔۔ لبابہ نے گرم جوشی سے عشنا کو اپنے گلے لگایا تھا اور کچھ منٹ ایسے ہی گلے لگائے رکھا تھا۔۔۔
اور پھر ارحام کو ایسے ہی محبت سے پیار کیا تھا۔۔۔
۔
ان کا کام پورا ہوگیا تھا۔۔۔۔پوری طرح سے۔۔۔۔ وہ قدم پیچھے لیتی ہوئی اس حال سے باہر چلی گئیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ایک ایک فوٹو۔۔۔۔ جلدی سے گائیز۔۔۔۔”
۔
ہر طرف شور شرابہ تھا۔۔۔ عشنا اپنی دنیا سے اس وقت باہر آئی جب ارحام کو ساتھ بٹھا دیا گیا تھا۔۔۔
اور اب عشنا نے ارحام کو دیکھا تھا۔۔۔
اور پھر اسکی نظریں ہٹ نہیں پا رہی تھی۔۔۔
“مسز ارحام ابراہیم۔۔۔۔”
ارحام نے عشنا کے ہاتھ پر جیسے ہی اپنا ہاتھ رکھا تھا ہال ٹیزنگ سے گونج اٹھا تھا۔۔۔ اور عشنا نے شرماتے ہوئے اپنا پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی
“ایسے تو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔ گھمنڈی۔۔۔ بہت بھاگ لی تم۔۔۔۔”
اور بہت سی تصاویر لی گئی تھیں۔۔۔
۔
“ارحام بیٹا بات سنو۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے گھبراہٹ میں ارحام کو سٹیج سے نیچے بلایا تھا۔۔۔
“مجھے تو لگتا تھا آپ اپنی موم سے بہت پیار کرتی ہیں۔۔۔ پر آپ تو بہت سکون سے بیٹھی اینجوائے کررہی ہیں۔۔۔ اور وہاں بیچاری لبابہ آنٹی اپنی آخری سانسیں گن رہی ہیں۔۔۔”
عشنا کے ہاتھ سے اسکا پرس گر گیا تھا جب مننان کی بات سن کر رہ کھڑی ہوئی تھی
“یہ۔۔کیا بکواس کررہے ہیں۔۔۔؟؟”
عشنا کے چلانے پر اسمارہ بیگم نے مننا ن کو پیچھے دھکیل دیا تھا
“تمہارے ابو نے منع کیا تھا تمہیں مننان۔۔”
“یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔؟؟ میری موم۔۔۔۔ موم۔۔۔ماما۔۔۔”
وہ چلائی تھی۔۔۔ پر وہاں اس ہال میں کوئی نہیں تھا۔۔۔
ہاتھوں میں لہنگا پکڑے وہ سٹیج سے نیچے اتری تھی اور کچھ ہی سیکنڈ میں مہمانوں کو راستے سے پیچھے دھکا دیتے ہوئے وہ اس ہال سے باہر بھاگ گئی تھی۔۔۔۔
۔
“تم کہاں جارہی ہو۔۔؟؟ اندر چلو۔۔۔”
ارحام نے مظبوطی سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“میرا ہاتھ چھوڑو ارحام۔۔۔”
“عشنا کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟”
“کچھ نہیں چھوٹے بھائی میں نے عشنا کو سچ بتا دیا ہے۔۔۔ لبابہ آنٹی سٹی ہسپٹل میں ہیں یہ بھی بتا دیا ہے۔۔۔تم نے جھوٹ بولا بس یہ نہیں بتایا۔۔ تم نے اپنی شادی پوری کرنے کے لیے اتنی بڑی بات چھپائی یہ بھی نہیں بتایا۔۔۔”
مننان نے فلذہ کا ہاتھ چھوڑ کر کہا تھا جو اسے زبردستی وہاں سے لے جارہی تھی
“کیا۔۔۔؟؟ تم نے صرف شادی کرنے کے لیے مجھ سے یہ سب چھپایا۔۔۔”
“عشنا میری بات۔۔۔”
عشنا کا ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔۔ اور بہت لوگوں کے سامنے اٹھا تھا۔۔۔۔
“آئی ہیٹ یو۔۔۔۔ میں نہیں جانتی ماما کو کیا ہوا ہے۔۔۔پر اگر انہیں کچھ ہوگیا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرون گی مسٹر ارحام۔۔۔۔”
وہ وہاں سے بھاگ گئی تھی۔۔۔۔
“چھوٹے بھائی۔۔۔۔”
ارحام نے اپنی بند مٹھی گاڑی کے شیشے پر مار دی تھی اور خون نکلتے ہاتھ سے اس نے مننان کا گریبان پکڑ لیا تھا۔۔۔
“ارحام نہیں بیٹا۔۔۔”
ابراہیم صاحب جلدی سے وہاں آگئے تھے۔۔۔۔پر ارحام نے اپنے بڑے بھائی کو گاڑی کے ساتھ پن کردیا تھا
“میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا مننان بھائی۔۔۔؟؟ آپ سچ میں میرے بھائی ہیں۔۔۔؟ اتنی گری ہوئی حرکت کی آپ نے۔۔۔”
“ارحام گریبان چھوڑومننان کا۔۔۔”
فلذہ جیسے ہی غصے سے آگے آئی تو ارحام نے اپنی انگلی سے وارننگ دی تھی۔۔۔
“ایک اور لفظ نہیں فلذہ۔۔۔ ورنہ میں جو کروں گا تم دونوں میاں بیوی پچھتاؤ گے۔۔۔
آج کے بعد۔۔۔ میرا کوئی تعلق نہیں تم دونوں سے۔۔۔۔ ابو۔۔۔ کہہ دیں ان سے۔۔۔
یہ شخص میرا بڑا بھائی نہیں ہوسکتا۔۔۔ آپ نے دیکھا انہوں نے میرا گھر بسنے سے پہلے اجاڑ دیا۔۔۔
وہ لڑکی میری بیوی ہی نہیں میری محبت بھی ہے۔۔۔ ابو اب میں کیا کروں گا۔۔۔؟؟
اس نے لبابہ آنٹی کے جانے کے بعد پہلا لفظ مجھے سے طلاق کا کہنا ہے۔۔۔”
ارحام کی آواز گونج اٹھی تھی۔۔۔۔ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے وہ مننان کو پیچھے دھکا دے کر وہاں سے عشنا کے پیچھے بھاگا تھا
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“ایک اور انجکشن دو۔۔۔ کوئی بھی دوائی دو۔۔۔ خون کی الٹیاں رک کیوں نہیں رہی۔۔۔”
ضیشم صاحب ڈاکٹر کو ایک ہی بات بار بار کہہ رہے تھے۔۔۔
“دیکھیں۔۔۔ سر۔۔۔۔۔ دوسرا انجکشن لگانے کا مطلب ہے انہیں۔۔۔”
ضیشم۔۔۔۔ آپ جائیں ڈاکٹر۔۔۔”
لبابہ نے ڈاکٹر کو اور نرسز کو وہاں سے جانے کو کہہ دیا تھا۔۔۔ پاس رکھے ٹاول سے منہ صاف کرکے انہوں نے چہرے پر وہی مسکان سجا لی تھی۔۔۔۔
۔
“لبابہ۔۔۔ تم نے ان لوگوں کو کیوں بھیج دیا ڈیم اٹ یہ انکی ڈیوٹی ہے۔۔۔ میں اپنے دوست کو فون کرتا ہوں ہم ابھی سرجری کروائیں گے۔۔۔”
انکے کانپتے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا وہ جیسے ہی پاس بیٹھے تھے
ضیشم۔۔۔۔ سرجری کا مطلب ہے میرے پاس جو وقت ہے تم وہ بھی گنوا دینا چاہتے ہو جیسے میری خوشیوں کے ساتھ کیا اب میری آخری سانسوں کے ساتھ کرنا چاہتے ہو۔۔؟؟”
“تم بہت کڑی باتیں کررہی ہو۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں کس تکلیف میں ہوں لبابہ۔۔”
آنکھوں کے آنسوؤں نے سب کچھ دھندلا کردیا تھا اور ایک سسکی نکلی تھی جب لبابہ کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا۔۔
“لبابہ مت جاؤ۔۔۔ پلیز مت جاؤ۔۔۔۔ مجھے چھوڑ کر مت جاؤ۔۔۔” روتے ہوئے اپنے حصار میں لیا تھا انہوں نے لبابہ کو جنکی خود کی آنکھیں بھر گئیں تھیں۔۔۔
“ضیشم جس دن تم نے مجھے اپنی زندگی سے نکالا تھا۔۔۔ میں اس دن سے انتظار میں تھیں ان تین لفظوں کے۔۔۔۔ ‘لبابہ مت جاؤ’ اب جب تم کہہ رہے ہو۔۔۔ اب بات میرے بس سے باہر ہے ضیشم۔۔۔۔”
۔
اور دروازہ کھل گیا تھا وہ گھمنڈی جو کبھی کسی کے سامنے روئی نہیں تھی وہ گھر سے یہاں تک پاگلوں کی طرح بھاگتی ہوئی روتے ہوئے آئی تھی بنا کسی کی پرواہ کئیے۔۔۔۔
“ما۔۔۔ما۔۔۔۔”
پھولے ہوئے سانسوں کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی تھی اتنی مشینوں کے درمیان اپنی ہنستی مسکراتی ماں کو دیکھ کر رو گھٹنو ں کے بل گر گئی تھی انکے بیڈ کے پاس۔۔۔
منہ کو ہاتھوں میں دئیے۔۔۔
“پرسو مجھے ایک خواب آیا تھا میں ڈر کر اٹھ گئی تھی۔۔۔ پہلو میں آپ بھی اٹھ گئیں تھیں۔۔۔
آپ نے کہا تھا خواب تھا بیٹا پریشان نہیں ہوتے۔۔۔۔ آپ نے پوچھا تھا خواب کا میں نے نہیں بتایا۔۔۔
آپ جانتی ہیں وہ خواب صبح کا خواب تھا ماما۔۔۔۔ میں اپنے خواب میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔ ایک سنسان جگہ تھی ما۔۔ما۔۔۔۔ میرے ہاتھ مٹی سے بھرے ہوئے تھے۔۔۔”
عشنا اٹھ گئی تھی۔۔۔ ضیشم صاحب میں ہمت نہیں تھی بیٹی کو سہارا دینے کی وہ تو خود ہمت ہار بیٹھے تھے
“عشنا۔۔۔۔ وقت بہت کم ہے میرے پاس آکر بیٹھو۔۔۔”
لبابہ بیگم نے جھوٹ نہیں بولا تھا۔۔ اپنے بازو کھولے تھے
“آپ نے تو کہا تھا ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہیں ماں۔۔۔”
“ہم دونوں ایک دوسرے کا سہارا ہیں میری پری۔۔۔۔ پر اب وہ زمہ داری میں نے ارحام کو دہ دی ہے میرے جانے کے بعد وہی مخلص سہارا بنے گا تمہارا۔۔۔”
انکی بات نے ضیشم صاحب کو اور زخمی کردیا تھا پر وہ خاموش تھے۔۔۔
“ماما۔۔۔ پلیز۔۔۔ ڈونٹ گو۔۔۔۔ مجھے بھی ساتھ لے جائیں۔۔۔ہم دونوں کے علاوہ ہمارا کوئی نہیں۔۔۔ آپ کے بغیر کچھ نہیں ہے یہ عشنا۔۔۔”
عشنا نے روتے ہوئے دوسری طرف سر رکھ لیا تھا۔۔۔
“عشنا۔۔۔ ایک بات یاد رکھنا میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔ تم ہماری سچی محبت کی نشانی ہو۔۔۔ ہم دونوں نے بعد میں تمہارے ساتھ بہت زیادتی کی ہے پر۔۔۔ پر وہ پانچ سال ہم دونوں نےبہت پیار کیا۔۔۔
میرے بس میں ہوتا تو میں تمہیں کبھی اپنے جیسی گھمنڈی نہ بننے دیتی۔۔۔ تم وہ سب ڈیزرو نہیں کرتی تھی جو ہم دونوں نے کیا تمہارے ساتھ۔۔۔
تمہارے پاپا اپنی دوسری شادی میں مصروف ہوگئے اور میں اپنے روگ میں برباد ہوگئی۔۔۔
مجھے آنکھیں بند کرنے سے پہلے ایک پچھتاوا رہے گا عشنا۔۔۔ کیوں میں نے کسی بےوفا شخص کے پیچھے خود کو برباد کردیا۔۔۔ شادی ہی ناکام ہوئی تھی نہ دنیا تو ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔”
سانس رک رک کر آنا شروع ہوگیا تھا انکا
“لبابہ۔۔۔۔”
“ماما۔۔۔۔”
“میں نے اگر اس وقت علیحدگی لیکر دوسری شادی کرلی ہوتی تو آج تم ایک اچھی محبت بھری زندگی گزار رہی ہوتی میرے ساتھ۔۔۔۔
میں نے ایک بےوفا محبت ایک ناکام شادی کے لیے سب برباد کردیا تمہیں بھی اور خود کو بھی۔۔۔۔”
عشنا نے انکے سینے پر سر رکھ لیا تھا اپنی ماں کے چہرے پر وہ درد اس سے برداشت نہیں ہورہا تھا۔۔۔
“پر ایک سچ یہ بھی ضیشم تم میری پہلی اور آخری محبت رہے۔۔۔۔ دیکھو تم کہتے تمہیں میری گھمنڈی سے ڈر لگتا ہے کہیں میں بدل نہ جاؤں پر دیکھو اس گھمنڈی نے تم سے ہر وعدہ وفا کیا۔۔۔”
ضیشم کی چہرے پر ہاتھ رکھ کرانکا چہرہ اپنی اوڑھ کیا تھا۔۔۔ اور ماتھے بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
“لبابہ۔۔۔ میں نے بھی تم سے بہت پیار کیا۔۔۔ میں اندھا ہوگیا تھا۔۔۔ میں جھوٹ کو سچ سمجھ بیٹھا تھا۔۔۔۔میری محبت۔۔۔۔”
جب کچھ نہیں بول سکے تو انہوں نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔
“ماما ہم ابھی کہ ابھی واپس چلیں جائیں گے۔۔۔ وہاں سے علاج کروائیں گے۔۔۔۔ سب چیزوں کا علاج ہے۔۔۔۔”
عشنا کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر چپ کروا دیا تھا انہوں نے۔۔۔
“عشنا۔۔۔ بس چھوٹے ارحام یا عشنا کے لیے اور انتظار نہ کروانا۔۔۔ ہاہاہا وہ لڑکا بہت اچھا ہے۔۔۔
ارحام۔۔۔۔”
“اگر وہ بھی بےوفا نکلا تو۔۔۔؟؟ اگر شادی کے کچھ سال بعد میں بھی اسی جگہ کھڑی ہوئی تو۔۔۔؟؟”
عشنا نے جن نظروں سے دیکھا تھا وہی جانتی تھی اسے دو لوگوں سے کتنی نفرت ہورہی تھی اس وقت۔۔۔
ایک اپنے والد۔۔۔اور ایک اپنے شوہر ارحام ابراہیم۔۔۔۔
“اگر تم کبھی خود کو میری جگہ کھڑی پاؤ تو اسی وقت اس رشتے سے خود کو آزاد کرو لینا۔۔۔
میری طرح پچھتاؤ گی نہیں۔۔۔۔
بس ایک بات یاد رکھنا تمہارے ہر فیصلے میں ماں تمہارے ساتھ ہے۔۔۔”
عشنا انکے گلے سے لگ گئی تھی اور انکا ہاتھ ابھی بھی ضیشم صاحب کے چہرے پر تھا۔۔۔
“ضیشم۔۔۔۔ تم سے کوئی امید نہیں ہے۔۔۔پر میری بچی کا خیال رکھو گے نہ اگر ۔۔۔کبھی اسکی شادی کامیاب نہ ہو پائے تو میری بچی کو اپنی آغوش میں رکھو گے نہ۔۔۔؟؟”
بچوں کی طرح بےساختہ منہ ہلایا تھا انہوں نے۔۔۔۔اور پھر انکی بند آنکھوں کے ساتھ
وہاں کی ہر مانیٹرنگ مشین کا شور بھی بند ہوگیا تھا۔۔۔۔
لبابہ کی بند سانسوں کے ساتھ۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔