Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 07
Rate this Novel
Episode 07
“وہ کہہ رہی ہے ہاتھ چھوڑو۔۔۔”
عاصم نے ان دونوں کا ہاتھ چھڑوا دیا تھا۔۔۔
“یو سٹے آؤٹ آف دس میٹر مسٹر۔۔۔”
ارحام نے عاصم کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔۔۔پر اگلے ہی لمحے عاصم نے اسے ایک زور دار مکا مار دیا تھا۔۔۔ جو پیچھے گاڑی کی طرف جا گرا تھا۔۔۔
“وٹ دا ہیل عاصم۔۔۔”
ارحام نے جب عاصم کو مکا مارنے کے لیے ہاتھ آگے کیا درمیان میں عشنا کھڑی تھی اسکا ہاتھ عشنا کے منہ کے اتنا قریب تھا کہ وہ شرمندہ ہوگیا تھا۔۔اور نے منہ پھیر لیا تھا اپنا۔۔۔
“یو گیٹ آؤٹ۔۔عشنا کہیں نہیں جائے گی۔۔”
“عاصم اندر جاؤ۔۔۔”
عشنا ارحام کی طرف بڑھی تھی۔۔۔اس نے جیسے ہی ارحام کا چہرہ اپنی طرف کیا تھا اس کے ہونٹ سے خون نکل رہا تھا جو بارش کے پانی کے ساتھ صاف بھی ہو رہا تھا اور نکل بھی رہا تھا۔۔۔
۔
“خون۔۔۔خون نکل رہا ہے ارحام ۔۔۔”
ارحام بلکل چپ تھا اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔اسے پہلی بار عشنا اس قدر غصے میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تمہیں لئیے بغیر میں یہاں سے نہیں جانے والا۔۔۔”
اس نے بھاری آواز میں سرگوشی کی تھی
“ارحام۔۔۔۔”
عشنا کی انگلی اس نے ارحام کے گال پر رکھی تھی اور بہت آہستہ سے ارحام کی ہونٹ سے وہ خون کا قطرہ صاف کیا تھا۔۔۔اسکی انگلیاں ابھی بھی ارحام کے چہرے پر تھیں۔۔۔اور نگاہیں اسکی آنکھوں پر۔۔۔
۔
“میں بارش کا موسم ہوں تجھے اک دن بھاؤں گا۔۔۔
ہو دو دن دے کر خوشیاں حشر تک لے آؤں گا۔۔۔”
۔
“گھر چلو۔۔۔”
“نہیں چل سکتی۔۔۔۔”
عشنا نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔اور اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا۔۔۔
۔
“میں بارش کا موسم ہوں میرا اعتبار نہ کرنا۔۔۔
کچھ بھی ہوجائے یارا۔۔۔۔مجھے تو پیار نہ کرنا۔۔۔”
۔
“عشنا۔۔۔”
۔
“اکھیاں ہوں گی تیری۔۔۔پھر پانی کا جھڑنا۔۔۔
کچھ بھی ہوجائے یارا۔۔۔مجھے تو پیار نہ کرنا۔۔۔۔”
۔
“عشنا۔۔۔”
ڈونٹ یو ڈیرھ۔۔۔”
اس بار وہ عشنا تھی ہی نہیں وہ گھمنڈی تھی اسکے سامنے
“کتنے پیسے دئیے میرے باپ نے تمہیں یہاں آنے کے لیے۔۔؟”
“وٹ۔۔۔تم غلط۔۔”
“آپ کر کے بات کرو۔۔۔خبردار اب اگر مجھے میرا نام لیکر پکارا تم نے۔۔”
عشنا کی وہی انگلی ارحام کے سامنے تھی جو اس دن رات کو تھی جب وہ اسے ڈراپ کرنے گیا تھا
“لیسن مس ۔۔۔آپ کے والد بہت پریشان ہیں۔۔”
“نیا جھوٹ ان کا ایک اور بیماری کا بہانہ۔۔؟؟ میری جب مرضی ہوگی میں واپس آجاؤں گی۔۔
میں کسی کی مرضی کی غلام نہیں ہوں۔۔۔”
وہ کچھ قدم اندر کی جانب بڑھی تھی جب ارحام نے غصے سے گاری پر ہاتھ مارا تھا۔۔
“یہ تمہارے باپ کی گاڑی نہیں ہے۔۔۔اپنا آپ بیچ دو گے تب بھی اسکی قیمت نہیں چکا پاؤ گے۔۔”
ڈیٹس اننف۔۔۔”
ارحام نے اسکا بازو پکڑ کر اسی گاڑی کے ساتھ پن کردیا تھا۔۔۔
“باپ کی نہ سہی ہونے والے سسر جی کی تو ہے۔۔۔ہونے والی بیگم۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟”
اس نے ارحام کی آنکھوں میں دیکھا تھا جن میں جیت کی خوشی تھی ایک۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا اسکی یہ بات توجہ حاصل کرچکی تھی۔۔۔
۔
ان دونوں پر سب کی نظریں تھی خاص کر مسز شیر گل اور علیزے بیگم کی۔۔۔ جن کے ملازم چھتریاں پکڑے کھڑے ہوئے تھے انکے پیچھے اور ان دونوں کی غصے سے بھری نظریں ارحام کو دیکھ رہیں تھیں۔۔۔
۔
“اگلے مہینے کی سات تاریخ کو منگنی ہے ہماری۔۔۔وقت پر آجانا۔۔۔”
ارحام کی بات نے اس گھمنڈی کا ہر طبق روشن کردیا تھا۔۔۔اسی پتا ہی چلا تھا وہ کب گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
اور وہ بارش میں وہیں بھیگ رہی تھی۔۔۔
“آپ نے اچھا نہیں کیا ڈیڈ۔۔۔ایک اور فیصلہ میری زندگی کا جسے آپ نے نہیں میری ماں نے کرنا تھا۔۔آپ نے یہ حق بھی چھین لیا ان سے۔۔۔”
۔
۔
“یہ سب کیا تھا عشنا۔۔؟؟ کون تھا وہ بدتمیز جس نے تمہیں اس طرح سے چھونے کی ہمت کی۔۔؟”
نانی کی آواز سے سب ہی ڈر گئے تھے پر عشنا نے جواب تک دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔
“مجھے ابھی جانا ہے واپس۔۔۔وہ سمجھتے ہیں میری زندگی کا فیصلہ وہ کریں گے اور میں چپ چاپ دیکھتی رہوں گی۔۔۔۔۔نیوورررر۔۔۔”
۔
“عشنا۔۔۔۔بات سنو۔۔۔”
عاصم بھی عشنا کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔
“علیزے پتا کرو کیا فیصلہ کیا ہے اب اس شخص نے اور اسکی چالاک ماں نے۔۔؟؟”
امی آپ اندر چلیں۔۔۔میں کرلوں گی پتا۔۔۔آپ فکر نہیں کریں۔۔۔”
“فکر کی ہی بات ہے بیٹا۔۔ٹھیک اسی طرح اسی جگہ ضیشم کھڑا تھا۔۔ اپنے جال میں پھنسا لیا میری معصوم بچی کو۔۔
ٹھیک آج وہی ماضی میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔۔
یہ لڑکا مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔۔اس عشنا کے اتنے قریب آنا مجھے پسند نہیں آیا۔۔”
“امی آپ فکر نہیں کریں عاصم کے ساتھ ہی ہماری عشنا کی شادی ہوگی وہ لوگ کامیاب نہیں ہوں گے اس بار۔۔۔”
۔
۔
پر انہیں نہیں پتا تھا کہ کامیاب کوئی بھی نہیں ہوگا سوائے ارحام اور عشنا کے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یا اللہ میں نے کیا کہہ دیا اسے سسر جی۔۔۔؟ وہ کچا چبا جائے گی مجھے۔۔۔”
ارحام نے ایک بار پھر سے اپنا ہاتھ مارا تھا سٹئیرنگ ویل پر غصے سے۔۔
“میں کیوں آگیا اس فیملی کے درمیان۔۔؟؟ اور اگر سچ میں مان گئی منگنی کو تو۔۔؟
ضیشم سر کو کیا کہوں گا۔۔؟ پیچھا چھڑانے آیا تھا میں تو خود کو پھنسا چکا ہو۔۔۔۔۔”
باتوں باتوں میں اس کا دھیاں ہٹ گیا تھا ڈرائیو سے۔۔اور جب سامنے ایک ٹرک کو آتے دیکھا تو اس سے گاڑی سنبھل نہیں پائی تھی۔۔۔
“یا اللہ بس یہ گاڑی بچ جائے۔۔۔۔”
اسے عشنا کی غصے والی شکل جیسے ہی نظر آئی تھی اس نے گاڑی روڈ کی سائیڈ پر موڑ دی تھی۔۔۔
“بچ گئے۔۔۔۔”
پر وہ بریک لگتے لگتے بھی گاڑی درخت کے ساتھ جا ٹکرائی تھی۔۔۔ابھی وہ شکر کر رہی رہا تھا کی گاڑی ڈیمیج سے بچ گئی۔۔۔پر جیسے ہی وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا گاڑی کی ڈکی بری طرح سے کھل گئی تھی اور دھواں نکلنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
اسے بس اس گھمنڈی کی ایک ہی بات بار بار سنائی دے رہی تھی
“یہ تمہارے باپ کی گاڑی نہیں ہے۔۔۔اپنا آپ بیچ دو گے تب بھی اسکی قیمت نہیں چکا پاؤ گے۔۔”
۔
“امی۔۔۔۔بچا لو مجھے وہ مجھے کھا جائے گی،،،،،”
وہ ایک دم سے چیخا تھا اور وہاں سے بھاگ گیا تھا۔۔۔ارحام پاگلوں کی طرح وہاں سے بھاگ گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
عشنا۔۔۔عشنا۔۔۔”
عاصم نے عشنا کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
“عاصم لیو مائی ہینڈ تمہیں پتا ہے مجھے پسند نہیں کوئی میری اجازت کے بغیر مجھے ہاتھ بھی لگائے۔۔”
“اووہ آئی سی۔۔۔باہر اس نے فٹیچر نے تمہاری اجازت لی تھی تمہارا ہاتھ پکڑنے سے پہلے۔۔۔”
دروازے پر خالہ رک گئی تھیں اپنے بیٹے کی بات سن کر اور اندر عشنا کے ہاتھ رک گئے تھے کپڑے بیگ میں رکھتے ہوئے
“وہ فٹیچر میرا منگیتر ہے عاصم۔۔۔جو میرا ہے اسکی بےعزتی کی اجازت بھی میں کسی کو نہیں دیتی”
شوکڈ عاصم کا ہاتھ جھٹک دیا تھا اس نے اور باہر بیگ لے گئی تھی
“تو کام ہو ہی گیا نہ تمہارے ڈیڈ نے تمہیں بھی وہیں لا کر کھڑا کردیا جہاں وہ تمہاری ماں کو کھڑا کر چکا تھا۔۔”
عشنا کے گیٹ تک جاتے قدم رک گئے تھے۔۔۔
“مت جاؤبیٹا۔۔۔وہ جو باہر لڑکا دیکھا وہ بھی ویسا ہی نکلے گا جیسے تمہارا باپ۔۔۔ موقع کا فائدہ اٹھانے والا تمہارا۔۔۔تمہارے پیسے کا استعمال کرنے والا۔۔۔اور پھر جب تم تمہاری ماں کی طرح سب کچھ سونپ دو گی تو وہ بھی وہی کرے گا جو تمہارے باپ نے تمہاری ماں کے ساتھ کیا۔۔۔
اسے پاگل۔۔۔”
“اننف نانو۔۔۔۔”
عشنا کی آواز پہلی بار اتنی لاؤڈ ہوئی تھی
“عُشنا۔۔۔؟؟”
نانی خود بھی حیران تھی انہوں نے عشنا کی طرف بہت مایوسی سے دیکھا تھا۔۔۔
“لبابہ نے بھی ایک بار اونچی آواز میں بات کی تھی تمہارے ڈیڈ کی وجہ سے۔۔۔اور میں نے اس دن کے بعد اپنی ہی بیٹی سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔۔۔
تم تو ایک آخری نشانی رہ گئی ہو عُشنا واپس مت جاؤ وہ تمہیں بھی برباد کردے گا جیسے تمہاری ماں کو کیا۔۔۔”
۔
عشنا نے بیگ کو وہیں رکھ دیا تھا اور نانی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر انہیں صوفہ پر بٹھادیا تھا
“وہ لبابہ تھیں۔۔۔محبت کی ماری۔۔۔۔میں عُشنا ہوں۔۔۔میں وہ نہیں انکی بیٹی ہوں۔۔۔
میں محبتوں میں مرنے مٹنے والوں میں سے نہیں۔۔۔پر سر ضیشم کو میں ایک بار یہ بتانا ضرور چاہتی ہوں کہ اب انکی نہیں چلے گی۔۔۔
میری جب مرضی ہوگی میں شادی کروں گی۔۔جس سے دل چاہے گا شادی کروں گی۔۔۔
پر انکی مرضی سے نہیں۔۔۔”
۔
عُشنا عاصم اور خالہ کی طرف ایک آخری بار دیکھ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
اب اسے اور غصہ تھا اس نے آج ان لوگوں کو پھر ہرٹ کردیا تھا۔۔۔
“ڈیڈ آپ نے اچھا نہیں کیا۔۔۔آپ نے ایک دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی میرے اور میرے ان اپنوں کے درمیان۔۔۔
آپ خود اپنو ں کے ساتھ ہیں پر مجھے آپ خوش نہیں دیکھ سکتے۔۔۔
نانو ٹھیک کہہ رہی تھیں آپ مجھے اسی مقام پر پہنچانا چاہتے ہو تاکہ میں گھٹنے ٹیک دوں۔۔۔
پر ایسا نہیں ہوگا آپ پچھتائیں گے۔۔۔دیکھ لیجئے گا۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ گاڑی تو۔۔۔ارحام۔۔۔ایکسیڈنٹ ہوگیا۔۔؟؟”
عشنا اپنی گاڑی کو بریک لگا چکی تھی وہ جلدی سے اتر کر اسی طرف بھاگی تھی جہاںں اس گاڑی سے دھواں نکل رہا تھا۔۔۔
“ارحام۔۔۔”
“میڈم وہ تو یہاں سے بھاگ گیا کب کا لگتا ہے کسی کی گاڑی چُرا کر بھاگا تھا۔۔”
کچھ لوگ وہاں مجمع بنا کر کھڑے تھے۔۔
“اسے تو میں اب چھوڑوں گی نہیں۔۔۔یہ گاڑی بھی میری ضد میں ٹھوک دی ہوگی اس نے اسے تو موقع چاہیے مجھے نیچا دیکھانے کا۔۔۔”
۔
عشنا واپس گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔اور کچھ ہی دیر میں ائر پورٹ پہنچ گئی تھی وہ۔۔۔
وہ جانتی تھی اس نے کیسے یہ سفر طہ کیا تھا۔۔
اسے جتنی جلدی گھر جا کر اپنے ڈیڈ سے بات کرنے کی تھی ضیشم صاحب کو اتنی ہی جلدی پاکستان سے بھاگنے کی تھی انہیں ارحام کا فون آگیا تھا اور وہ بھی ڈر کر بھاگ گئے تھے اپنے ہی گھر سے انہیں پتا تھا غصے میں عشنا انکی کبھی کوئی بات نہیں مانے گی اس لیے وہ کچھ دن کا وقت دینا چاہتے تھے ۔
۔
“ڈیڈ۔۔۔ڈیڈ۔۔۔”
“عشنا میری بچی تم آگئی۔۔۔”
دادی نے عشنا کو اپنے گلے سے لگا لیا تھا جو چاہ کر بھی دادی کو پیچھے نہیں کر پائی تھی
“دادی ڈیڈ کہاں ہیں۔۔؟؟ مجھے ان سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔”
“ضیشم تو ایک ضروری میٹنگ کے لیے جا چکے ہیں دبئی۔۔کچھ دیر پہلے ہی انکی فلائٹ تھی۔۔”
تابین بیگم کی آواز پر عشنا نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی
“ویسے بڑی بہن جتنی اکڑ سے آپ گئی تھی مجھے تو لگاتھا کبھی واپس نہیں آئیں گی۔۔”
“کیوں نہیں آتی وہ رشنا ۔۔؟ آخر کو یہ اسکا بھی گھر ہے وہ بھی وارث ہے۔۔اور جائیداد میں تم سب سے زیادہ حصہ ہے اسکے نام۔۔۔”
پھوپھو نے رشنا کو وہیں چپ کروا دیا تھا
“پھوپھو آپ اسکی ہی کیوں سائیڈ لیتی ہیں وہ تو آپ کے ساتھ بھی نہیں رہی میں رہی ہوں۔۔”
“تم میرے ساتھ ہو کر بھی نہیں تھی رشنا۔۔اور۔۔۔وہ میرے ساتھ نہ ہو کر بھی ساتھ تھی میرے۔۔۔بچپن کے پانچ سال وہ میری بیٹی بن کر رہی۔۔”
پھوپھو نے عشنا کو اپنے گلے سے لگایا تھا انکی اور دادی کی آنکھیں بھر گئیں تھیں۔۔۔
“عشنا میری بچی ضیشم کی وجہ جو تمہاری دل آزاری ہوئی ہے میں تم سے معافی مانگتی ہوں۔۔۔”
دادی نے روتے ہوئے جیسے ہاتھ جوڑے تھے رشنا اور تابین بیگم دنگ رہ گئے تھے۔۔۔
“دادو پلیز۔۔۔انہوں نے جتنی دل آزاری کرنی تھی انہوں نے کردی اب نہیں چبھتی انکی کوئی بات دل پر۔۔۔میں ان سے دور تھی تو سکون میں تھی۔۔آپ کے لیے واپس آئی تھی۔۔اب ان سے بات کرکے میں واپس لوٹ جاؤں گی دادو۔۔انکو مبارک ہو یہ سب کچھ۔۔۔”
۔
“عشنا بیٹا۔۔۔”
“نہیں پھوپھو۔۔اس بار آپ دونوں مجھے نہیں روکیں گے ۔۔۔۔”
عشنا اپنے روم میں چلی گئی تھی
“موم آپ نے دیکھا سب اسی کو فیور کرتے ہیں جیسے میں کچھ نہیں لگتی انکی۔۔۔”
رشنا نے طنز کیا تھا
“امی آپ لوگ ہمیں کبھی اپنا بھی پائیں گے یا میں ضیشم کو کہہ کر کہیں اور شفٹ کرلوں اپنے بچوں کو۔۔؟؟”
تابین بیگم کی بات نے دادی کو ششدر کردیا تھا
“اگر ضیشم الگ ہونا چاہتا ہے تو ہوجائے۔۔پر ایک بات یاد رکھنا بہو۔۔۔لبابہ اسکی گھر کی بڑی بہو ہمیشہ رہے گی۔۔۔تمہیں اپناتے ہم تب جب تم کود ہمارے دلوں میں جگہ بناتی۔۔بچپن میں ہی عشنا کو ضیشم سے الگ کروا کر تم نے اپنی سوچ اور نیت ظاہر کردی تھی ہم پر۔۔
بس تب سے تمہارے ساتھ صرف اور صرف گزارا ہو رہا ہے تابین۔۔۔
جبکہ لبابہ کے ساتھ ان پانچ سالوں میں ایک زندگی بسر کی تھی ہم نے۔۔۔”
۔
دادی کا ہاتھ پکڑ کر پھوپھو انکو وہاں سے لے گئیں تھی۔۔۔انہیں نہیں پتا تھا عشنا انکی باتیں سن رہی تھیں۔۔۔اپنی ماں کے نام پر اسکی آج بھی آنکھیں بھر آتیں تھیں۔۔۔
۔
“آئی مس یو ماما۔۔۔بہت جلدی واپس آجاؤں گی آپ کے پاس۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام تمہارے بابا کہہ رہے تھے تمہیں کچھ دن لگ جائیں گے اسلام آباد پر تم اتنی جلدی آگئے۔۔؟”
ارحام گھر میں جیسے ہی داخل ہوا تھا والدہ نے یہی سوال پوچھا تھا
“امی کچھ چائے پانی کھانا پوچھ لیں بہت بھوک لگی ہے پلیز۔۔۔”
“ہاہاہا۔۔فلذہ بیٹا تم کھانا گرم کردو گی ۔۔؟ میں بس ابھی آئی۔۔۔تم فریش ہوجاؤ میں کپڑے نکال دیتی ہوں۔۔”
“نہیں پہلے کھانا امی پلیز۔۔۔۔”
“ہاہاہاہا اچھا ہاتھ تو دھو لو۔۔۔”
ارحام کچن میں جیسے ہی داخل ہوا تھا فلذہ کام کرتے کرتے رکی تھی
“کیسے ہو ارحام۔۔؟؟”
“میں ٹھیک ہوں۔۔”
ارحام نے اسکی طرف دیکھا بھی نہیں تھا
“ارحام مجھ سے ابھی بھی ناراض ہو۔۔؟”
“فلذہ۔۔پلیز۔۔۔اب ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا۔۔”
“مجھے پڑتا ہے ارحام۔۔تمہیں طنز کرتی رہی میں تمہارا دل دکھاتی تھی۔۔
پر ارحام دل میرا بھی دکھا ہے اور اس رات سے ایسے ہی تکلیف میں ہوں میں۔۔۔
تم نہیں جانتی اس شادی میں ۔۔۔”
“مجھے نہیں جاننا کچھ بھی فلذہ۔۔۔تم مجھے بھلانے کی کوشش کرو بس۔۔۔
جیسے میں کر رہا ہوں۔۔”
“اور تم بھلا پائے ہو مجھے۔۔؟؟”
فلذہ نے دو قدم ارحام کی جانب بڑھائے تھے
“فلذہ تم۔۔۔”
ارحام کا فون بجنا شروع ہوا تھا
“ہیلو۔۔۔”
“عشنا میڈم نے آپ کو ابھی آفس بلایا ہے۔۔”
“عشنا واپس آگئی۔۔۔؟ میں ابھی آیا۔۔۔”
۔
ارحام ایک دم سے خوش ہوگیا تھا۔۔پر اسکی خوشی نے فلذہ کے دل پر بہت زخم کردئیے تھے۔۔
“امی میں ابھی جا رہا ہوں آفس۔۔ارجنٹ کام آگئی۔۔۔”
“پر بیٹا کھانا۔۔؟؟”
“امی وہیں جا کر کھا لوں گا۔۔۔”
۔
اور وہ چلا گیا تھا۔۔۔نہ اسے اس وقت گاڑی کا ایکسیڈنٹ یاد تھا نہ منگنی والی گفتگو۔۔۔اسے یاد تھا تو بس یہ کہ اسکے ابو اور ضیشم سر عشنا کی واپسی پر کتنا خوش ہوں گے۔۔۔
اسے پتا نہیں تھا آفس جاتے ہی اسکی زندگی کی ہر وہ سختی نے شروع ہو جانا تھا جس کا اس نے کبھی وہم گمان بھی نہ کیا ہوگا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“یہ سب کیا ہورہا ہے میرا کیبن۔۔؟؟”
ارحام باہر کھڑا ہوگیا تھا پورا کیبن خالی کردیا گیا تھا اسکا۔۔
“مس عشنا کے کیبن میں جانا چاہیے وہی بتائیں گی آپ کو۔۔۔”
“تم تو گئے بہت ہوا میں اڑ رہے تھے۔۔مسٹر ارحام۔۔۔”
ایک میل سٹاف ممبر اسکے پاس سے گزر گیا تھا اسے بات کرتے ہوئے کہتے کہتے
“یہ سچ میں بہت اوپر جا رہا تھا رشنا میڈم اور ضیشم سر کی وجہ سے۔۔اصل ‘سی-ای-او’ بتائیں گی انہیں۔۔۔”
ارحام سنتے سناتے کیبن میں چلا گیا تھا۔اور پہلی غلطی ہی اس سے یہ ہوئی تھی کہ اس نے ناک نہیں کیا تھا۔۔۔
“ناک کس نے کرنا تھا۔۔؟ واپس جاؤ اور ناک کر کے میری اجازت کے بعد میرے کیبن میں آؤ۔۔۔”
باہر سٹاف تک عشنا کی آواز پہنچی تھی۔۔ارحام بنا کچھ کہے باہر آگیا تھا اور جب اس نے ناک کیا تو عشنا نے دوڑ تیسری بار ناک کرنے پر پرمیشن دی۔۔
“ناؤ سٹیس یور بزنس مسٹر ارحام میرا منہ دیکھنا بند کیجئے۔۔”
عشنا کی انگلیا لیپ ٹاپ کیز پر بہت جلدی میں کا کر رہیں تھیں۔۔۔
“میں پوچھ سکتا ہوں میرا کیبن خالی کیوں کروا دیا گیا ہے۔۔؟”
“تم اس پوزیشن میں ہو کہ تم پوچھ سکو کچھ۔۔؟ تمہیں تو میں نے سیکریٹری بننے کا لیٹر بھی ایشو نہیں کیا تھا آفس بوائے تھے تم بھول گئے۔۔؟؟”
عشنا نے نظریں اٹھا کر جیسے ہی ارحام کے چہرے کی مایوسی کو دیکھا تھا اسے بھی ایک تکلیف ہوئی تھی ایک اجنبی سی تکلیف۔۔۔پر اس نے اگنور کردیا تھا سب کچھ اب وہ اس شخص پر زرا سا بھی یقین نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
“عشنا میرا مقصد تمہیں لے جانے کا صرف یہی تھا ضیشم انکل۔۔۔”
“عشنا میڈم۔۔؟ ضیشم انکل نہیں سر۔۔۔اور آپ اپنی پرسنل باتیں گھر تک ہی رکھیں مسٹر۔۔۔
یہ ہے آپ کے آج کے کام۔۔۔۔آپ کی کرسی باہر گیٹ کیپر کے ساتھ لگ چکی ہے۔۔۔جب آپ کو فون جائے گا آپ اسی وقت آفس آئیں گے۔۔۔اب سے آپ کی اصل جگہ وہ کرسی ہوگی۔۔۔جہاں ہر آن جانے والے کو آپ سلام کریں گے۔۔”
“اور تمہیں لگتا ہے میں ایسا کروں گا۔۔؟؟”
ارحام نے دونوں ہاتھ اسکی ڈیسک پر رکھ دئیے تھے وہ جیسے ہی اسکی اوڑھ جھکا تھا اسکی آنکھوں میں ایک چیلنج تھا مس عشنا کے لیے۔۔۔
“کیوں نہیں کرو گے۔۔؟ یہ جو سامنے فائل ہے اس میں وہ سارا ڈیمیج ہے جو تم نے میری گاڑی کے ساتھ کیا۔۔۔وہ ایک ہی پسندیدہ گاڑی تھی میری جو میں نے امہورٹ کروائی تھی یہاں۔۔۔
اسکی قیمت چار کڑور سے بھی اوپر ہے۔۔۔جسے تم نے کھٹارہ بنا کر رکھ دیا۔۔۔
تم اب اورر ٹائم دو گے اس آفس کو۔۔۔اسکا نقصان تم خود بھرو گے یا تمہارے باپ کو نوٹس بھیجوں۔۔۔؟؟”
اسکی آواز میں بلا کا غرور اور آنکھوں میں امیری کا فخر تھا۔۔۔ارحام ابراہیم کو آج پہلی یہ لڑکی نہایت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
“تم سچ میں اس حد تک جا رہی ہو مجھے نیچا دیکھانے کے لیے۔۔؟ میں نے سوچا نہیں تھا،،، مجھے لگا تھا تم گھمنڈی ہو بدتمیز ہو۔۔۔پر تم سنگدل بھی ہو۔۔۔
میں سوچ نہیں سکتا تھا پرسنل اور پروفیشنل زندگی کو تم اس طرح سے مکس کرو گی۔۔۔”
ارحام نے وہ فائل غصے سے اٹھا لی تھی
وہ دروازہ تک ہی بڑھا تھا جب عشنا کی اگلی بات نے اسکے قدم روک دئیے تھے
“جیسے میں سوچ نہیں سکتی تھی تم پیسوں کے لیے اتنا گر جاؤ گے۔۔۔
تمہیں کیا لگا تھا میں تم جیسے شخص سے شادی کروں گی جس کی اپنی کوئی حیثیت اپنی کوئی پہچان نہیں۔۔
جس نے سوائے عیاشی کے کچھ نہیں کیا زندگی میں۔۔۔تم شادی کرو گے مجھ سے۔۔؟؟
جاؤ اور جا کر دیکھو خود کو۔۔۔اور میری ریپوٹیشن دیکھو پھر موازنہ کرنا ارحام۔۔۔
تم نے منگنی کے لیے ہاں کرکے خود کو اٹھایا نہیں ہے گرا لیا ہے میری نظروں میں۔۔۔
مجھے تو لگا تھا تم ایک خود دار آدمی ہو۔۔۔پر میں غلط تھی۔۔۔
تم سب مرد جہاں ایک اچھی آپرچیونٹی دیکھ لو،،،وہاں سب خودداری ہوا میں اڑا کر بس گھٹنوں پر بیٹھ جاتے ہو۔۔۔”
عشنا بات کرتے کرتے اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔۔آج وہ بھی ہرٹ ہوئی تھی۔۔۔
پر کیوں اسے تکلیف ہوئی تھی ارحام کے ہاں کہنے پر۔۔۔
۔
“عشنا۔۔۔میں۔۔۔میں تمہاری سوچ نہیں بدل سکتا۔۔پر یقین جانو۔۔اگر تم دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوتی تب بھی میں تمہاری طرف نہیں دیکھتا شادی تو دور کی بات ہے۔۔۔
اینڈ یو نو وٹ۔۔۔تم میری ہمدردی کے بھی قابل نہیں ہو میری نفرت کے بھی قابل نہیں ہو۔۔۔”
وہ وہاں سے اسے بھی لاجواب کرگیا تھا۔۔۔جیسے اس نے کیا تھا اسے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔”
۔
ڈیڈ کون سی منگنی کس کی منگنی۔۔؟”
ارحام اور عشنا کی منگنی۔۔۔”
ضیشم صاحب کی بات پر سب ہی حیران تھے پر رشنا۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
“ڈیڈ آپ میرے ساتھ ایسے نہیں کر سکتے۔۔پلیز ڈیڈ ڈونٹ ڈو ڈس ٹو مئ۔۔۔”
رشنا نے ضیشم صاحب کے دونوں ہاتھ پکڑ لئیے تھے
“پر کیا ہوا ہے بیٹا۔۔۔؟ ارحا م اور عشنا کی منگنی سے تمہارا کیا لینا دینا۔۔”
“لینا دینا ہے ڈیڈ۔۔میں ارحام سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔
میں اسکے بغیر مر جاؤں گی۔۔پلیز میرے ارحام کو مجھ سے دور مت کیجئے۔۔۔”
وہ جیسے ہی روتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی عشنا پر ضیشم صاحب کی نظر پڑی تھی جو چوکھٹ پر جانے کب سے کھڑی تھی
“عشنا بیٹا،،،،”
انہوں نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“میں ارحام سے شادی کے لیے تیار ہوں ڈیڈ۔۔۔میری طرف سے اس رشتے کے لیے ہاں ہے۔۔۔
اگر پھر سے یہاں ماضی دہرایا گیا تو اس بار ہار کا سامنے آپ کی بیٹی کو کرنا ہوگا کہہ دیجئے گا۔۔۔”
۔
اور وہ گھمنڈی جس منگنی کے لیے انکار کرنے کے لیے آفس سے جلدی گھر آئی تھی آج اس نے فائننلی ہاں کردی۔۔۔
۔
عشنا انکے پاس سے گزر گئی تھی اپنے کمرے میں۔۔۔اور ضیشم صاحب میں اتنی ہمت نہیں ہو پارہی تھی کہ وہ رشنا کی طرف دیکھ سکے یا اسے اٹھا سکے۔۔۔
“ڈیڈ پلیز۔۔۔آپ سب کچھ کرسکتے ہیں۔۔۔سب کچھ ارحام کو مجھے دہ دیجئے پلیز ڈیڈ۔۔۔”
“ضیشم پلیز رشنا نے پہلی بار کچھ مانگا ہے ہے آپ سے وہ کچھ کرلے گی پلیز۔۔۔۔”
رشنا کو اٹھا کر تابین بیگم نے بھری ہوئیں آنکھوں سے التجا کی تھی ضیشم کو۔۔۔
“میں اب وہ بیس پچس سال پہلے والا ضیشم نہیں رہا تابین جو صرف اپنی خوشیوں کے لیے کسی اور کے ساتھ ناانصافی کرجاؤں۔۔۔
اگر عشنا نے ہاں نہیں کی ہوتی تو ضرور رشنا کی بات سنی جا سکتی تھی۔۔۔
پر اب۔۔۔اب بلکل نہیں۔۔۔رشنا کو بھولنا ہوگی اپنی یک طرفہ محبت۔۔۔
کیونکہ میں جانتا ہوں ارحام اور عشنا دونوں ایک دوسرے کے لیے پرفیکٹ ہیں۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
