51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

عشنا کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا اس نے ۔۔۔
“مس عشنا۔۔۔کچھ اوڑھ لیں۔۔۔ٹھنڈ لگ جائے گی اگر بارش ہوئی تھی۔۔۔”
ارحام کی بات سے اسکے قدم رکے تھے۔۔۔اور گاڑی کا دروازہ بند کر کے وہ ارحام کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
“سمرین میری کیبن سے صوفہ پر بلیک شال پڑی ہے آپ لے آئیں گی۔۔؟”
عشنا نے ارحام کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا۔۔۔
جہاں عاصم اور باقی سب کو لگ رہا تھا کہ عشنا ارحام کو ڈانٹے گی یا بُرا بھلا کہے گی۔۔۔وہیں عشنا کے لیجے میں بہت نرمی تھی۔۔۔
۔
سمریں کچھ ہی منٹ میں وہ شال لے آئی تھی۔۔۔اور عشنا نے وہ شال پکڑ کر ارحام کے ہاتھ میں تھما دی تھی۔۔
۔
ارحام کی آنکھوں میں ایک تکلیف نمایاں تھی اسے لگ رہا تھا عشنا نے اسے یہ شال واپس کردی ہے اسکی۔۔وہ اسے واپس اپنے بیگ میں رکھنے والا تھا جب عشنا نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
“مجھے اوڑھا دیں یہ شال۔۔۔”
۔
تو جو چھو لے پیار سے آرام سے مر جاؤں۔۔۔
آجا چندا بانہوں میں ۔۔۔تجھ میں گم ہوجاؤں۔۔۔
تیرے نام میں کھو جاؤں۔۔۔۔”
۔
لفظ ادا نہیں ہوئے تھے زبان سے پھر۔۔۔
ان دنوں کی آنکھوں نے باتیں کی تھیں پھر ایک دوسرے سے۔۔۔
ارحام نے اسے شال اوڑھا دی تھیپر اسکی انگلیاں جیسے ہی عشنا کے کندھے سے ٹچ ہوئیں تھی اس گھمنڈی کی سانسیں تھم سی گئیں تھی اس ایک لمحے میں۔۔۔۔
پر عشنا کی آنکھیں ہٹ نہیں پا رہی تھی ارحام کے چہرے سے۔۔
۔
“میرے دن خوشی سے جھومیں۔۔۔گائیں راتیں۔۔۔
پل پل مجھے ڈوبائیں۔۔۔جاتے جاتے۔۔۔۔”
۔
۔
“عشنا چلیں۔۔۔”
ارحام نے اپنے ہاتھ نیچے کرلئیے تھے۔۔۔
عشنا جیسے ہی عاصم کی گاڑی میں بیٹھی تھی ارحام کے دونوں ہاتھ مٹھی کی صورت بند ہوئے تھے۔۔۔
اسے کیوں غصہ تھا کیوں اس سے برداشت نہیں ہوپارہی تھی کسی اور کی نزدیکی اس گھمنڈی کے ساتھ۔۔۔۔
“کیا سمجھتی ہے خود کو۔۔؟ کیون پاگل کر رہی ہے مجھے۔۔۔کبھی بےعزت کردیتی ہے تو کبھی سب کے سامنے اتنی عزت دہ دیتی ہے۔۔۔
نہ میں اس سے نفرت کر پا رہا ہوں اور نہ ہی۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رک گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عشنا۔۔”
عاصم نےکرسی کھینچ کر پیچھے کی تھی۔۔۔
“عاصم۔۔۔میں جانتی ہوں تم کیا بات کرنا چاہتے ہو۔۔”
“ابھی تو میں کھانے کی بات کروں گا تمہارے انتظار میں بھوکا رہا ہوں پورا دن۔۔”
عشنا کی آنکھوں میں بہت نرمی آگئی تھی اس نے ہلکہ سی مسکراہٹ دی تھی اور عاصم نے کھانا آرڈر کیا تھا
“تمہیں یاد ہے آج میرا فیورٹ کھانا۔۔؟”
اس نے ایک بائٹ لی تھی۔۔۔پر عاصم کی نظریں اپنی پلیٹ پر نہیں عشنا پر تھیں۔۔۔
“تم سی جڑی بات کیسے بھول سکتا ہوں میں۔۔؟ تم یہاں نہیں تھی تو تم پھر بھی تھی۔۔
امی میں نانو میں ماموں میں سب میں موجود رہی ہو تم عشنا۔۔۔”
“اور میری ماں۔۔؟”
عشنا نے آہستہ آواز میں پوچھا تھا۔۔اور اس بار عاصم نے اپنا سر جھکا لیا تھا
“وہ بھی سب میں ہیں عشنا۔۔بس ناراض ہیں سب۔۔۔ٹھیک ہوجائے گا سب کچھ۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔کب۔۔؟ اتنے سال تو گزر گئے عاصم۔۔۔
تم جانتے ہو۔۔زندگی بہت چھوٹی ہے۔۔آج جو دل میں ہے وہ بول دینا چاہیے۔۔زرا سی ناراضگی کا بہانہ بنا کر کسی سوالی کو ایسے نہیں ٹھکرانہ چاہیے کہ اسکی زندگی پھر سوالیہ نشان بن جائے ان رشتوں اور آنے والے وقت کے لیے۔۔۔۔”
عشنا کے ہاتھ پر عاصم نے اپنا ہاتھ رکھا تھا اور اس بار عشنا نے اپنا ہاتھ پیچھے نہیں کیا تھا
“تمہیں کون گھمنڈی کہہ سکتا ہے تمہاری سمندر جیسی گہری باتیں سن کر۔۔؟
میرے لیے تم ہمیشہ ایک پہیلی ہی رہی ہو۔۔۔”
“ہاہاہا فلرٹ کر رہے ہو۔۔؟؟ ہاہاہا۔۔۔”
وہ کھل کر ہنسی تھی۔۔۔پاکستان میں یہ ایک شخص تھا جو اسکا کزن ہی نہیں دوست بھی تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا کوشش کر رہا ہوں۔۔۔کیا کامیاب ہورہا ہوں۔۔؟؟”
عاصم نے بھی ہنستے ہوئے آہستہ آواز میں پوچھا تھا۔۔۔
“میری چیکس پر بلش شو ہو رہا ہو تو سمجھ جانا کامیاب ہو رہے ہو۔۔۔”
عاصم نے بہت غور سے دیکھا تھا پر بلش کا نام و نشان نہیں تھا۔۔۔
“ہاہاہاہا مجھے پتا ہے عشنا ابراہیم اور بلشنگ۔۔؟؟ کبھی ہو نہیں سکتا۔۔۔”
“ہاہاہا بیٹر لک نیکسٹ ٹائم ۔۔۔”
۔
دونوں نے کھانا جیسے ہی ختم کیا تھا عاصم نے اس ٹیبل پر ایک چھوٹا سا باکس رکھ دیا تھا۔۔
اور عشنا سمجھ گئی تھی پر انجان بننا چاہتی تھی۔۔۔
“یہ کیا ہے۔۔۔؟؟”
اس نے اس باکس کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
“تمہیں قید کرنا چاہتا ہوں۔۔۔عُشنا ضیشم”
اسکی گرفت عشنا کے ہاتھ میں زرا سی مظبوط ہوئی تھی جب وہ اور جھکا تھا اس ٹیبل پر
“عُشنا ضیشم اپنے گھمنڈ کی قیدی ہے عاصم لوگوں کی غلامی مجھے منظور نہیں۔۔”
اور اس نے بہت آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا۔۔۔
“تو پھر وہ کیوں جُڑنے جا رہا ہے۔۔؟ کیوں تم اسکو حکمرانی دینے جا رہی ہو خود پر۔۔؟”
“مجھ پر کبھی کسی کی حکمرانی نہیں ہو سکتی عاصم۔۔۔میں حکومت کروں گی ارحام ابراہیم پر۔۔میری حکمرانی مسلط ہوگی اس پر اسکی زندگی پر۔۔۔”
عاصم شوکڈ ہوا تھا کچھ پل کو
“کیا کوئی مقصد ہے تمہارا۔۔؟ اس لیے سوچوں میں اسکی اتنی قسمت کیسے جاگ گئی۔۔
تم کیا کرنے والی ہو۔۔؟ “
“ہاہاہا۔۔۔تم ایسے کہہ سکتے ہو عاصم۔۔۔”
“تو پھر کیا میں انتظار کروں عُشنا۔۔؟ تمہارا مقصد پورا ہونے کےبعد تم اسے چھوڑ بھی تو سکتی ہو نہ۔۔؟؟”
اور عشنا نے ڈرنک کرتے کرتے وہ پانی کا گلاس نیچے رکھ دیا تھا۔۔۔اور اس بار وہ جھکی تھی عاصم کی طرف۔۔۔
۔
“میں رشتہ بنانے میں کبھی پہل نہیں کرتی لیکن جب پہل کردوں تو میں اس کمٹمنٹ کو آخر تک نبھانے میں یقین رکھتی ہوں عاصم
مجھے دھوکا دینے اور دھوکا کھانے دونوں ہی کاموں سے نفرت ہے۔۔۔
میں جب اپنا آپ سونپ دوں گی کسی رشتے میں تو مجھے بھی میرے پارٹنر سے یہی واپسی میں چاہیے۔۔۔”
۔
عاصم نے آنکھیں بند کر لی تھی اسکے لیے شاید ایک آخری امید بھی ختم ہوگئی تھی اس لڑکی کی جس کی چاہت اس نے ہمیشہ سے کی تھی
“اوکے۔۔۔عشنا ضیشم۔۔۔میں نے تمہارے آگے ہمیشہ گھٹنے ٹیکے ہیں۔۔آج میری محبت ٹیک رہی ہے۔۔میں موم اور نانو کو سمجھا دوں گا۔۔
وہ تمہاری برتھ ڈے پر ہم دونوں کی منگنی کا سوچ رہیں تھیں۔۔۔
“اووو گاڈ۔۔۔سیریسلی۔۔۔؟؟؟ عشنا کیا ہے سب کی نظر میں۔۔؟
یہاں ڈیڈ اور وہاں خالہ۔۔۔”
عشنا نے غصے می خود سے کہا تھا۔۔اور اسکی بات سے اور تکلیف ہوئی تھی عاصم کو پر بھیگی پلکوں سے وہ ایک مسکان دئیے اپنی کرسی سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
“ہماری ڈیل ابھی بھی ہے کمپنی پارٹنرشپ کی میڈم یا نہیں۔۔؟”
اس نے ہاتھ جیسے ہی آگے بڑھایا تھا عشنا نے اسکے ہاھ پر اپنا ہاتھ رکھنے کے بجائے وہ رنگ باکس رکھ دیا تھا۔۔
“بلکل ہے۔۔۔میں پرسنل اور پروفیشنل دونوں ہی زندگیوں کو الگ رکھنا اچھے سے جانتی ہوں مسٹر۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ضیشم اس کمرے میں ایک قدم بھی مت رکھنا میں خود کو ختم کرلوں گی۔۔۔”
ماضی کی ایک آواز انہیں سنائی دی تھی انکے قدم اس کمرے کی چوکھٹ پر تم گئے تھے
“میری بات سن لو لبابہ۔۔میرے اور تابین کے درمیان کچھ بھی نہیں ہے “
میری قسم کھاؤ ضیشم ہمارے آنے والے بچے کی قسم کھاؤ۔۔۔عُشنا کی قسم کھاؤ۔۔۔میں یقین کرلوں گی۔۔۔تمہارا۔۔۔میں وہم گمان سمجھ لوں گی کہ میں نے تمہیں اسکے ساتھ کسی ہوٹل روم میں دیکھا۔۔۔میں تمہاری قسم کھانے کو تیار ہوں میں کبھی اس بات کو بھی نہیں درمیان لاؤں گی ہمارے۔۔”
“لبابہ۔۔۔”
“سچ بول دو ضیشم سچ بول دو۔۔۔”
“تابین سے میں نکاح کرچکا ہوں۔۔۔”
ایک تھپڑ کی آواز گونجی تھی اس اندھیروں سے بھرے کمرے میں۔۔
وہ تھپڑ جو انہیں ماضی میں پڑا تھا اسکے نشان تو اب نہیں تھے اتنے سالوں کے بعد۔۔۔
پر اس تھپڑ کی چھاپ رہ گئی تھی ضیشم صاحب کی زندگی میں۔۔۔
قدموں کو پیچھے موڑ لیا تھا دروازہ لاک کردیا تھا اور واپس اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔۔
۔
“ضیشم کہاں رہ گئے تھے۔۔ڈنر کرنے بھی نہیں آئے میں کچھ لا دوں۔۔؟؟”
تابین نے ان سے بہت آہستہ سے پوچھا تھا
“سکون لا دو مجھے تابین۔۔۔سکون چاہیے مجھے۔۔۔”
اپنا سر پکڑے وہ بیڈ پر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“ضیشم آپ عشنا کی فکر لئیے بیٹھے ہیں۔۔؟ یہ لڑکی نے آپ کا سکون برباد کردیا ہے۔۔
پہلے اسکی ماں نے زندگی برباد کر رکھی تھی اور اب۔۔۔”
“اننف۔۔۔”
وہ چلائے تھے پر انکے چلانے سے زیادہ انکے چہرے پر آنسوؤں کو دیکھ کر تابین شوکڈ ہوئیں تھیں
“ضیشم۔۔۔”
“تابین۔۔۔نہ ہی میری بیٹی نے میری زندگی برباد کی نہ ہی اسکی ماں نے۔۔۔
میں نے خود اپنی زندگی برباد کی تھی ۔۔۔”
۔
وہ اٹھ کر چلے گئے تھے وہاں سے اور تابین اپنی جگہ سے اٹھ نہیں پائی تھی۔۔۔آج پہلی بار انہوں نے اس طرح سے دیکھا تھا ضیشم کو۔۔۔
اتنا ٹوٹا ہوا اتنا کمزور۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“وٹ ابو سیریسلی۔۔۔؟؟ وہ گھمنڈی مان گئی۔۔؟؟ کیسے۔۔۔؟؟”
ارحام چلایاتھا اسکی امی اپنی ہنسی چھپا رہی تھی
“مجھے تو لگا تمہیں پتا ہوگا عشنا نے نہیں بتایا تھا کیا بیٹا۔۔؟”
“اسے مجھے ٹارچر کرنے سے فرصت ملے تو بتائے نہ جو بتانا تھا۔۔”
ارحام نے ہلکی آواز میں کہا تھا
“عجیب بات ہے بیٹا تمہارے ری ایکشن پر حیرت ہے۔۔۔تم نے ہی تو اگلے مہینے کی سات تاریخ بتائی تھی اسے۔۔۔”
ابراہیم صاحب بھی اب اپنی ہنسی چھپا رہے تھے
“ارے اسے گھمنڈی کو واپس لانے کے لیے۔۔۔مجھے کیا پتا تھا مان جائے گی۔۔
مجھے لگا تھا ٹھکرا دے گی مجھے اور بس ضیشم انکل کے سامنے ہم لوگ بھی برے نہیں بنے گے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا اب تو مان گئی ہے وہ بیٹا۔۔۔اب تو پھنس گئے ہو تم۔۔۔”
ارحام کے ساتھ ہی اسکی امی بیٹھی تھیں۔۔۔
“امی ڈرائیں تو نہیں وہ گھمنڈی کچا چبا جائے گی شادی کے بعد۔۔۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ارے اب میری ہونے والی بہو اتنی بری بھی نہیں ہے۔۔۔”
“ہاہاہاہاہاہا بہت بری ہے ابو۔۔۔”
اور وہ تینوں ہی ہنسنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔ارحام اپنا غصہ بھول گیا تھا اپنے ماں باپ کے چہرے پر خوشی دیکھ کر۔۔۔
“ارحام بیٹا۔۔۔عشنا کو کبھی کوئی تکلیف مت آنے دینا۔۔۔ضیشم نے عشنا کو لیکر کسی پر کبھی یقین نہیں کیا پر تم پر۔۔۔تم پر آنکھ بند کر کے اس نے یقین کیا ہے بیٹا اسے توڑنا مت۔۔۔”
ابراہیم کی آواز میں بہت مان تھا اپنے بیٹے کے لیے اور شاید یہ بھرم یہ یقین ارحام کو فرسٹ ٹائم دیکھنے کو ملا تھا۔۔۔
“ابو آپ بے فکر رہیں میں پوری کوشش کروں گا۔۔۔میں۔۔اسے خوش رکھوں گا ابو۔۔۔”
ارحام کو جیسے ہی ابراہم صاحب اپنے گلے سے لگاتے ہیں مننان دروازہ ناک کرنے کے بجائے غصے سے چلا جاتا ہے واپس اپنے کمرے میں۔۔۔
اسے یہ برداشت نہیں تھا کہ ارحام کی شادی اتنے بڑے گھر میں ہو۔۔
وہ جانتا تھا شادی کے بعد ارحام ضیشم صاحب کی کمپنی اور بزنس کا مالک بن جائے گا۔۔
اور وہ اتنی محنت کے باوجود بھی اپنے چھوٹے بھائی سے مات نہیں کھانا چاہتا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔”
۔
“گڈ مارننگ میم۔۔۔”
ارحام کی لہجے میں پہلے جیسی اکڑ نظر نہیں آئی تھی آج عشناکو اس نے بنا کچھ کہے آفس میں جانا ضروری سمجھا تھا۔۔۔
“گھمنڈی ایک بار شادی ہوجائے ساری اکڑ ختم کردوں گا۔۔۔”
ارحام اپنی ہی سوچ پر ہنس دیا تھا۔۔۔
۔
“ارحام آج میرا برتھ ڈے ہے اور تم میرے ساتھ پارٹی میں بھی نہیں آؤ گے۔۔؟؟”
پر رشنا شام کو باہر ہوٹل میں پارٹی۔۔؟ کیا سوچیں گے سب۔۔کہ رشتے کی بات بڑی بہن کے ساتھ چل رہی ہے اور میں تمہارے ساتھ اینجوائے کررہا۔۔۔”
ارحام اور وہ آفس کینٹین میں بیٹھے تھے جب رشنا وہاں بہت خوش ہوتے ہوئے آئی تھی
“تو بڑی بہن بھی تو اپنی شام رنگین کر ہی رہیں ہیں۔ شادی سے پہلے عاصم کے ساتھ۔۔۔”
“وٹ۔۔؟؟”
ارحام شوکڈ ہوگیا تھا۔۔۔
“نہیں یقین تو دیکھ لینا۔۔۔وہ ہوٹل بھی ڈیڈ کا ہے جہاں آج تم عشنا کو دیکھ لینا کسی اور کے ساتھ ہوٹل روم میں جاتے ہوئے۔۔۔”
“اننف رشنا۔۔۔لڑائی جھگڑے اپنی جگہ پر کسی کے کردار پر کیچڑ اچالنے سے پہلے سوچ لو وہ کون ہے۔۔
عشنا ضیشم کردار کی اتنی ہلکی نہیں ہوسکتی اتنی پہچان ہے مجھے۔۔۔”
وہ اٹھ کر جانے لگا تھا جب رشنا نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔۔
“آج شام میرے پارٹی وینیو میں آجانا ارحام۔۔۔خود دیکھ لینا تم۔۔۔وہ مس گھمنڈی ہی نہیں ہیں اور بھی بہت کچھ ہیں۔۔۔”
رشنا نے ارحام کے کندھے پر جھک کر بہت آہستہ آواز میں کہاتھا اسکی اس نزدیکی کو دیکھ کر وہ دور کھڑی گھمنڈی کی نظروں میں رشنا سے زیادہ ارحام کے لیے نفرت بڑھی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام کو میرے کیبن میں بھیجو۔۔۔”
عشنا نے وہ فائل بند کردی تھی جس کی میٹنگ اسے کل اٹئینڈ کرنی تھی ۔۔۔
پر اسکا دھیان لگ ہی نہیں رہا تھا وہ اپنا غصہ اتارنا چاہتی تھی کسی پر ۔۔ارحام کی نزدیکیاں رشنا کے ساتھ اسے ایک لمحہ بھی نہیں بھا رہیں تھیں۔۔۔
“میم وہ تو کچھ دیر پہلے ہی مس رشنا کے ساتھ چلے گئے ہیں۔۔؟؟”
“کہاں گئے ہیں کس سے پوچھ کر گئے ہیں۔۔؟؟ فون ملائیں انہیں اور ابھی آفس بلائیں۔۔۔”
عشنا کی کیبن سے آتی آواز نے سب کو ہی ڈرا دیا تھا۔۔۔
“ارحام تو بیٹا گیا کام سے۔۔۔”
“ہاہاہاہا باقی کالیک بھی قہقہ لگا کر ہنسے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“آج عشنا کی سالگرہ ہے امی۔۔۔سب کو انوائٹ کریں گے کل۔۔۔آج ہم بارہ بجے کے بعد عشنا کے روم میں کیک لیکر جائیں گے۔۔۔”
ضیشم صاحب جس طرح سے بات کر رہے تھے انکی امی اور بہن حیران تھیں انکو اس طرح خوش دیکھ کر۔۔۔
“تم میرے ضیشم ہی ہو نہ۔۔؟؟ تم نے تو پہلے کبھی نہیں منائی تھی عشنا کی سالگرہ۔۔۔انفیکٹ تمہیں تو یاد بھی نہیں تھی کبھی۔۔۔”
“یہی بات میں پوچھنا چاہتی ہوں دادو۔۔۔”عشنا بازو باندھے کھڑی تھی
“عشنا بیٹا۔۔۔”
“پلیز ڈیڈ۔۔۔اب آج کل والا اور اب والی عُشنا تب والی عُشنا نہیں رہی۔۔
تب والی عشنا کو انتظار ہوتا تھا۔۔اب والی کا انتظار آپ کیجئے کیونکہ میں عاصم کے ساتھ جا رہی ہوں۔۔۔خالہ اور نانو یہ دن میرے ساتھ منانا چاہتے ہیں ہمیشہ کی طرح۔۔۔گڈ نائٹ۔۔۔”
۔
“عشنا بیٹا۔۔۔”
پر عشنا نے آج سب کو اگنور کردیا تھا
“ضیشم رشنا کی بھی برتھ ڈے ہے آج آپ شاید بھول رہے ہیں۔۔۔”
تابین نے بھی غصے کا اظہار کیا تھا
“میں کچھ نہیں بھولا تابین۔۔۔تم نے مجھے کچھ بھی بھولنے نہیں دیا۔۔۔”
“کیا مطلب۔۔۔؟؟ آُ کیون بار بار اس طرح طنز کر رہے ہیں۔۔اگر آپ کی بیٹی آپ سے نفرت کر رہی ہے تو ہمارا کیا قصور ہے۔۔۔؟؟”
“یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا بہو۔۔؟”
دادی نے اونچی آواز میں کہا تھا انہیں بھی پتا تھا سب ملازم سن رہے تھے انکی باتیں۔۔
“امی جانے دیجئے۔۔۔”
۔
وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“چلو رشنا کیک نہیں کاٹو گی۔۔؟؟”
“ارحام جوائن نہیں کرو گے مجھے۔۔؟”
ارحام کی نظریں بار بار ہر طرف گھوم رہیں تھیں بس وہ ایک بار چاہتا تھا کہ رشنا غلط ثابت ہو۔۔
وہ یہاں تک آ تو گیا تھا پر اسکا دل نہیں مان رہا تھا۔۔۔
“ہیپئ برتھ ڈے رشنا۔۔۔” ارحام نے کیک کی بائٹ کھلائی تھی اسے ۔۔۔
“کم آن ارحام بار بار دروازے کی طرف مت دیکھو ایسے مجھے لگے گا تم بس اپنا شک سچ ہوتے دیکھنے آئے ہو میرے لیے نہیں آئے
“ایسی بات نہیں ہے رشنا۔۔۔مجھے کوئی شک نہیں ہے کسی پر بھی۔۔۔میں بس ٹائم دیکھ رہا ہوں۔۔گھر سے فون آرہا ہے آفس سے فون آچکے ہیں اتنے۔۔۔تم رکو یہیں میں چلا جاتا ہوں گھر پلیز۔۔۔”
ارحام نے ہر طرح کا ایکسکئیوز لگا دیا تھا اسے۔۔۔پر وہ اب یہاں اور نہیں رکنا چاہتا تھا اسے بس اس جگہ سے جانا تھا۔۔۔اسے اب شرمندگی ہورہی تھی اپنے ہی شک پر۔۔
آج سے پہلے کبھی اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔۔۔۔
“اوکے بابا جاؤ۔۔۔دھیان سے جانا۔۔۔۔”
ارحام اپنا موبائل اٹھائے وہاں سے چلا گیا تھا
“ارے رشنا یہ کیا یہ تو چلا گیا ۔۔۔”
“ہاہاہا ابھی واپس بھی آئے گا۔۔۔میں نے ہمارے موبائل ایکسچینج کر دئیے تھے۔۔۔
“رشنا تمہاری وہ گھمنڈی بہن اینٹر ہوگئی ہے۔۔۔اب بلاؤ ارحام کو۔۔۔”
عشنا عاصم کے ساتھ ہی ہوٹل کے دوسرے گیٹ سے اندر داخل ہوئی تھی اور اسے وقت رشنا نے کال کردی تھی
“ارحام میرا موبائل غلطی سے تمہارے پاس چلا گیا پلیز واپس آسکتے ہو۔۔؟ ڈیڈ کی کال آئے گی تو پریشان ہوجائیں گے۔۔۔”
اس نے جلدی سے فون بند کردیا تھا۔۔۔
“کام ہوگیا عشنا جی اب دیکھنا وہ خود منگنی سے انکار کرے گا۔۔۔”
۔
“خالہ یہاں آئی ہیں۔۔؟؟سیریسلی “
“ہاہاہاہا تو اور کیا نانو نے تو پکا دیا تھا پورا ہفتہ یہی گفتگو چل رہی تھی۔۔۔۔”
عاصم نے روم کا دروازہ کھولا تھا اور عشنا ہنستے ہوئے اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
اور نیچے حال میں کھڑا وہ شخص اپنی ہی آنکھوں پر یقین نہیں کر پارہا تھا
“اب تو دیکھ لیا اپنی آنکھوں سے ارحام۔۔۔یہ گھمنڈی ہی نہیں بد۔۔۔”
“اننف رشنا۔۔۔یہ رہا آپ کا موبائل۔۔۔”
اور اپنا موبائل ارحام نے کھینچ لیا تھا اور بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
“وہ جو بھی ہے جیسی مرضی ہے۔۔۔میں اب اگر پیچھے ہٹوں گا تو ابو کی دوستی خراب ہوگی ضیشم انکل کے ساتھ۔۔اور انہیں کیا پتا نکی بیٹی کیا کچھ،،،،”
وہ ایسے لفظ منہ سے بھی بولنا نہیں چاہ رہا تھا جو کچھ وہ ابھی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اگلے دن میڈم آپ نے بلایا مجھے۔۔؟”
ارحام نے کیبن میں ناک کیا تھا
“کل کہاں تھے۔۔؟ کس سے پوچھ کر آفس سے باہر قدم رکھا تھا۔۔؟”
“عشنا نے اپنے لیپ ٹاپ کی سکرین غصے سے بند کردی تھی پر ارحام نے ایک بار بھی نظریں اٹھا کر اسکی طرف نہیں دیکھا تھا جس پر عشنا کو اور بھی غصہ آرہا تھا۔۔۔
۔
“رشنا کے ساتھ اسکی برتھ ڈے پارٹی پر میں۔۔”
“شٹ اپ مسٹر ارحام۔۔۔رشنا کے لیے کام کر رہے ہیں آپ۔؟؟ کتنی ڈھتائی سے بتا رہے ہیں۔۔آج آپ باہر نہیں بیٹھیں گے آج آپ آفس کا کام کریں گے۔۔۔سمرین۔۔۔
سٹور روم کی چابی دیں صاحب کو۔۔آج یہ وہ فائلز لا کر دیں گے مجھے۔۔۔اور ریکارڈ فائلز کو رکھیں گے بھی یہ ہی۔۔۔”
سمرین نے چابی جیسے ہی ٹیبل پر رکھی تھی عشنا نے اٹھا کر ارحام کے پاؤں کی طرف پھینک دی تھیں وہ۔۔۔
“جائیں مسٹر ارحام آدھےگھنٹے میں سب فائلز یہاں ملیں مجھے۔۔۔”
“اوکے میم۔۔۔”
ارحام چابیاں اٹھا کر چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
اور اسکی خاموشی اور چپ چاپ سب ماننے پر اس گھمنڈی کا پارا اور ہائی ہوا تھا۔۔۔
“یہ سمجھتا کیا ہے خود کو۔۔۔مجھے نہیں پتا تھا ارحام تمہارا کردار اس طرح کا ہوگا۔۔۔اگر میری بہن کے ساتھ اتنی ہی اٹیچنٹ تھی تو میرے اور اپنے باپ کو یہ بات بتا دینی چاہیے تھی تمہیں۔۔اور ابھی اتنی ڈھتائی سے کھڑے تھے میرے سامنے میں کردار میں ایسا لائف پارٹنر کیسے برداشت کرپاؤں گی۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم مجھے ہرا نہیں سکتی۔۔۔جو کرنا ہے تم کرو۔۔۔میں ہار نہیں مانوں گا۔۔۔”
پچھلے بیس منٹ سے وہ کھانسی کر رہا تھا اس سٹور روم میں تو ہر جگہ مٹی ہی مٹی تھی۔۔۔
اسے اب محسوس ہورہا تھا کہ کیوں عشنا نے اسے یہاں بھیجا۔۔۔یہ سٹور روم تو ایسے تھا جیسے سالوں سال کوئی آیا نہ ہو یہاں۔۔۔۔۔۔
“اب اس لائٹ کو کیا ہوگیا۔۔۔”
ارحام نے بار بار جل بجھ رہی لائٹ کو دیکھا تھا۔۔۔اور پھر کچھ سوچنے کے بعد اس نے سیڑھی لگا کر لائٹ کو سہی کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“اس گھمنڈی کو اس سٹور روم کی مینٹینس کا خیال نہیں ہے ویسے ہر چیز میڈم کو کلاسی چاہیے۔۔۔”
وہ بڑبڑا رہا تھا پر اسے پتا نہیں چلا تھا اس سٹور روم میں کوئی اور بھی تھا۔۔۔جس نے اس سیڑھی پر ایک زور دار جھٹکا دیا تھا۔۔۔اور ارحام نیچے گر گیا تھا۔۔۔اور بہت سی فائلز گر گئی تھی اس پر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“سمرین میری ساری میٹنگ کینسل کردو مجھے ابھی ایک ارجنٹ کام پر جانا ہے۔۔”
عشنا نے اپنا پرس اور موبائل پکڑ لیا تھا۔۔۔پر آفس کے باہر گیٹ کیپر کے پاس والی خالی کرسی دیکھ کر اسے وہ اتنی جلدی یاد آگیا تھا جسے پچھلے تین گھنٹوں سے وہ بھولی ہوئی تھی۔۔۔
“ارحام۔۔۔سٹور روم سے واپس نہیں آیا وہ۔۔؟”
عشنا بہت جلدی واپس اندر بھاگی تھی۔۔
“سمرین ارحام کہاں ہے۔۔؟”
“میڈم وہ تو جاچکے ہیں شاید رشنا میڈم کے ساتھ۔۔۔”
آفس کے سٹاف سے کسی نے آواز لگائی تھی پر عشنا کو یقین نہیں آیا تھا۔۔
اسے بےچینی ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔
“میں دیکھتی ہوں سٹور روم۔۔۔”
عشنا کے پیچھے سمرین اور دو گارڈز بھی گئے تھے
“یار ہم کہیں مر ہی نہ جائیں اگر عشنا میڈم کو پتا چلا تو۔۔”
“نہیں پتا چلتا میں نے لاک کردیا تھا اب دروازہ کون توڑے گا۔۔؟”
۔
“میڈم یہاں تو لاک ہے لگتا ہے ارحام جا چکا ہے۔۔”
“وہ ایک ہی غلطی بار بار نہیں کرے گا۔۔۔اسے کھولو یا توڑو پانچ منٹ میں یہ دروازہ مجھے کھلا ہوا چاہیے۔۔۔”
“پر میڈم چابی تو نہیں۔۔”
“آپ اس لاک کو توڑ دیجئے۔۔۔”
اور اس گارڈ نے دو منٹ میں وہ توڑ دیا تھا دروازہ جیسے ہی کھلا تھا سینٹر میں ارحام گرا ہوا تھا۔۔۔جسے دیکھ کر سب سے پہلے عشنا اس کمرے میں بھاگی تھی
“ارحام۔۔۔؟”
ارحام کا سر اس نے جیسے ہی اپنی گود میں رکھا تھا اسکے ہاتھوں میں کون لگا تھا جس پر وہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔۔۔
“انہیں جلدی سے میرے کیبن میں لے چلیں دھیان سے اٹھائیں گا انہیں۔۔۔سمرین ڈاکٹر کو جلدی سے فون کریں”
وہ سب لوگ تو چلے گئے تھے پر عشنا جاتے جاتے رکی تھی وہاں۔۔
مٹی میں اسے بہت سے جوتوں کے نشان نظر آئے تھے پھر اس نے گری ہوئی سیڑھی کو دیکھا تھا اور پھر اس کمرے کو ایک بار دیکھ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“ایوری ون اٹینشن پلیز۔۔۔۔”
وہ آفس کے سینٹر میں جیسے ہی کھڑی ہو کر سب سے متاثر ہوئی تھی سب سٹاف اپنا کام چھوڑ چھاڑ کر عشنا کے سامنے تھے۔۔۔
“ایک منٹ دہ رہی ہوں سب کو یہ جس کا بھی کام ہے ارحام کو چوٹ پہنچانے کا پھر سٹور روم بند کردینے کا۔۔۔ابھی بتا دیں۔۔۔۔”
پر سب ہی سر جھکائے کھڑے تھے کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا۔۔
“بہتر بھائی چارہ لگایا ہوا ہ۔۔؟ غلط کام میں بھی ساتھ دینا ہے آپ لوگوں کو تو دیجیئے۔۔۔۔
پر اس آفس کی چھت کے نیچے نہیں۔۔۔مس سمریں ان سب کو کمپنی سے نکالنے کا لیٹر جاری کردیجئے۔۔۔”
۔
“نوو میم پلیز ہم بتاتے ہیں۔۔۔”
اور آپس میں بہت سی سرگوشیوں کے بعد ایک ہی لڑکے کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔۔
“یہاں میرے سامنے آؤ۔۔۔”
وہ جیسے ہی سامنے آیا تھا عشنا نے اسے کالر سے پکڑا تھا اور اپنے کیبن کی طرف لے گئی تھی۔۔
جہاں ارحام کی پٹی ڈاکٹر کرچکے تھے اور وہ بھی ہوش میں آ چکا تھا۔۔۔
“انکے سر میں زیادہ چوٹ نہیں آئی تو انکو سٹیچیز کی ضرورت نہیں اور انکی لفٹ ٹانگ پر درد رہے گی کچھ دن تک۔۔۔یہ میڈیسن اور یہ ٹیوب انکو لگاتے رہیں ٹائم ٹو ٹائم۔۔۔” ڈاکٹر تو باہر چلے گئے تھے ارحام نے اب سر اٹھا کر عشنا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
وہ جو گھمنڈی صبح سے یہ کوشش کر رہی تھی کہ ارحام ایک بار نظریں اٹھا کر اسے دیکھے۔۔
اب وہ تاب نہیں لا پارہی تھی ارحام کے دیکھنے کی۔۔۔
اسکی آنکھوں میں نفرت بھی تھی اور بہت گلے شکوے بھی پر وہ الزام وہ جو شک تھا وہ اسکی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔
۔
“ایم سوری ارحام وہ میں نے مذاق میں۔۔”
“ارحام سر بولو۔۔۔اور ابھی اپنے گھٹنوں پر بیٹھ کر دونوں ٹانگے دباؤ۔۔۔اور تب تک دباؤ جب تک کے درد ختم نہیں ہو جاتا۔۔۔”
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔عش۔۔۔میڈم۔۔۔”
“ایک اور لفظ نہیں مسٹر ارحام ورنہ یہ اور اسکے دوستوں کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ جائے گا۔۔”
اور وہ دونوں ہی چپ ہوگئے تھے عشنا اپنی چئیر پر بیٹھ گئی تھی بظاہر تو اپنا لیپ ٹاپ اوپن کرکے اس نے ٹائپنگ کرنا شروع کردی تھی۔۔۔
“ایم سوری یار۔۔۔”
اس لڑکےنے بہت آہستہ آواز میں کہا تھا اب اسے برا لگ رہا تھا ارحام کی حالت دیکھ کر۔۔
“تم یہاں بیٹھ جاؤ یار ہٹلر کو چھوڑو۔۔۔”
ارحام نے بھی آہستہ آواز میں کہا تھا پر عشنا نے سن لیا تھا اس بات پر اسے غصہ آنا چاہیے تھا پر وہ ہنس دی تھی۔۔۔
کچھ دیر میں جب ارحام وہیں لیٹ کر سو گیا تھا تو اس لڑکے کو باہر جانے کا اشارہ کر دیا تھا عشنا نے۔۔
“ایم سوری میم۔۔۔میں جانتا ہوں جو میں نے کیا غلط کیا۔۔آپ چاہیے تو مجھے نکال دیجئے جاب سے۔۔۔”
وہ شرمندگی سے اپنی بات مکمل کرکے وہاں سے چلا گیا تھا
عشنا نے کیبن کا دروازہ بند کردیا تھا اور جب واپس اپنی چئیر پر جانے لگی تھی تو ارحام کی تکلیف میں کراہٹ نے اسکے قدم روک دئیے تھے
اب وہ اپنے گھٹنوں کے بل پر بیٹھی تھی۔۔۔جب اسکی انگلیاں ارحام کے ماتھے پر رکھیں تھیں اس نے ارحام کی تکلیف جیسے کم ہورہی تھی وہ ارحام کا سر جیسے جیسے دبانا شروع ہوئی تھی۔۔۔
۔
“اس شخص میں ایسی کیا بات ہے جو اس گھمنڈی کو اس نے گھٹنوں پر بٹھا دیا ہے۔۔۔”
سمرین نے واپس کیبن ڈور بند کردیا تھا۔۔۔
“تم میں آخر کیا ہے ایسا جو مجھے جھکنے پر مجبور کردیتا ہے ارحام۔۔؟؟”
یہ سوال اسکا خود سے تھا یا ارحام سے وہ نہیں جانتی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ ہفتے بعد۔۔۔”
۔
“آپ کو جلدی آناہوگا انکی حالت کریٹیکل ہے بہت۔۔۔”
“آپ مجھے کچھ گھنٹوں کا وقت تو دہ سکتیں ہیں نہ۔۔؟ میں واپس آجاؤں گی بس میں ڈیڈ سے کہتی ہوں منگنی تھوڑی جلدی کروا دیں گے وہ۔۔۔”
“ہاہاہاہا مس عشنا ویسے تو آپ بہت وفاداری اور خودداری کی باتیں کرتیں ہیں کیا ارحام جیسا لائف پارٹنر برداشت کرلیں گی۔۔؟؟ جو پچھلے کتنے دنوں سے میرے ساتھ اپنی دوریاں کم کرچکا ہے۔۔۔”
رشنا کی بات پر اسکی سانسیں رک گئی تھیں جیسے۔۔۔
“کیا بکواس ہے رشنا یہ۔۔۔”
“افففو سس۔۔۔بڑی بہن۔۔۔کچھ دنوں سے تو آپ بھی نوٹ کر رہی رہیں ہیں۔۔۔ارحام کیسے ایک ہی لڑکی کے ساتھ وفادار رہ سکتا ہے جب کے اسکی زندگی میں اور بہت ہیں دل بھلانے کے لیے۔۔۔”
“مجھے ابھی تم سے بات نہیں کرنی۔۔۔”
“نہ کرو۔۔۔پر نیچے ہال میں جانے سے پہلے اس طرف چلی جانا جہاں ارحام اپن سابقہ محبت کے ساتھ کچھ وقت گزاری کر رہا ہے۔۔۔
میں تو کبھی ایسے شخص سے شادی نہیں کرتی۔۔۔میں نہیں چاہتی جو تمہاری موم کے ساتھ ہوا وہ میرے ساتھ بھی ہو۔۔۔آفٹر آل یہ غریب لوگ ایسے ہی تو ہوتے ہیں۔۔۔”
۔
وہ کہہ کر چلی گئی تھی پر عشنا میں پھر نیچے اس ہال میں جانے کی ہمت نہیں ہوئی تھی جہاں کچھ منٹ میں منگنی کی آناؤنسمنٹ ہونی تھی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میں کیسے منگنی کے لیے مان جاؤں۔۔۔؟؟اس نے ان دنوں کوئی ایک کمی نہیں چھوڑی مجھے نیچا دیکھانےکے لیے اور میں کیا کرے گی وہ۔۔؟؟ کیا اپنا سکے گی مجھے اور میری فیملی کو وہ۔۔؟؟
کیا میری چھوٹی سی سیلری میں وہ گزارا کر پائے گی یا میرے گھر والوں کو بھی ایسے ہی انسلٹ کرے گی جیسے مجھے کرتی ہے۔۔”
ارحام نیچے ایکسکئیوز کرکے تو اوپر تنہائی میں آگیا تھا۔۔۔جہاں کوئی اور بھی اسکے پیچھے اوپر آیا تھا۔۔۔
۔
۔
“بہت جلدی موو آن کیا تم نے ارحام۔۔۔مجھے یقین نہیں آرہا کہ آج تمہاری منگنی ہے اس گھمنڈی سے۔۔تم تو بہک جانے والوں میں سے نہیں تھے۔۔۔”
ارحام کے قدم چلتے چلتے رکے تھے کوریڈور سے آتی آواز نے اسے وہیں روک دیا تھا۔۔۔
“فلذہ۔۔۔پلیز۔۔۔”
“پلیز وٹ ارحام۔۔؟ اسکی خوبصورتی پر فدا ہوئے ہو یا اسکی دولت پر اسکی شہرت پر۔۔؟”
“نہ ہی اسکی خوبصورتی نے مجھے قائل کیا ہے نہ ہی اسکی دولت نے۔۔۔
وہ گھمنڈی مجھے کیسے پسند آسکتی ہے جس سے میں پہلی ملاقات میں نفرت کرنا شروع ہوگیا تھا۔۔”
ارحام کی بات پر وہ پازیب پہنے قدم رک گئے تھے ۔۔اسکی نظریں پہلے اپنے مہندی لگے ہاتھ دیکھ رہیں تھیں اور پھر ارحام کے کندھے پر رکھے فلذہ کے ہاتھوں کو
“تو پھر کیوں کر رہے ہو یہ منگنی ارحام۔۔۔”
“مجبور ہوں۔۔ ابو نے مجبور کردیا ہے۔۔۔ضیشم صاحب کے احسانات کا بدلہ مجھے چکانا ہوگا اس گھمنڈی سے شادی رکے۔۔۔
مجھے اس سے محبت نہیں ہے۔۔۔میں اس گھمنڈی سے کیسے محبت کرسکتا ہوں۔۔۔
اتنی بےعزتی کے بعد۔۔؟ میں جانتا ہوں آگے کی زندگی کیسے گھٹ گھٹ کر گزارنی ہوگی مجھے اسکے ساتھ۔۔۔”
وہ جتنے لفظ ادا کررہا تھا وہ گھمنڈی اتنے ہی قدم پیچھے ہو رہی تھی۔۔۔
۔
اور پھر اسکے قدم وہاں سے چلنا شروع ہوئے تھے اور اسکی گاڑی ائرپورٹ پر رکی تھی۔۔۔
۔
اس گھمنڈی کو موقع چاہیے تھا اس محبت سے دور جانے کا۔۔ان نئے ابھرتے جذبات سے دور بھاگنے کا۔۔اور اسے موقع مل گیا تھا۔۔۔
۔
یہ انکی پوشیدہ محبت کا آغاز تھا یا نئی نئی محبت کو الوداع۔۔۔؟؟؟
۔
۔
“میں اپنی ضد میں اپنی زندگی نہیں برباد کرسکتی اور تب جب مجھے اس سے محبت ہونا شروع ہوگئی تھی۔۔۔
میں اپنی اس نئی محبت کو تو برداشت کر سکتی ہوں پر رشتہ جُڑ جانے کے بعد وہ تکلیف نہیں جو اسکی بےوفائی اور لاپروائی دے گی مجھے۔۔۔۔”
۔
۔
اسکی فلائٹ تو پاکستان سے جا چکی تھی۔۔۔۔
اور وہاں اس ہال میں کچھ لوگوں میں ایک قہرام سا مچ گیا تھا
“امی وہ منگنی سے پہلے گئی ہے یہاں سے آپ مجھے کیوں کھینچ کر لے آئی ہیں۔۔۔”
اور ارحام کی امی نے وہ کیا تھا جو انہوں نے آج تک نہیں کیا ہو۔۔۔۔انہوں نے اپنے بیٹے پر ہاتھ اٹھا دیا تھا۔۔۔
“کونسی سی عزت دار خود دار لڑکی منگنی کرنا چاہے گی تم سے جو باتیں تم نے اپنی ہونے والی منگیتر کے بارے میں فلذہ سے کی۔۔۔؟؟”
ارحام کی نظریں ایک ڈر میں اٹھیں تھیں۔۔۔
“امی آپ نے سن لی وہ سب باتیں۔۔؟؟”
“میں بھی اور اس لڑکی نے بھی ارحام۔۔۔تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔وہ تو عزت بننے والی تھی نہ تمہاری۔۔؟ تمہارا لباس۔۔؟؟ جسے تم نے کسی غیر کے سامنے بےلباس کردیا ۔۔۔تمہیں زرا سی شرم بھی نہیں آئی۔۔۔؟؟”
ارحام کا سر جھک گیا تھا والدہ کی آواز جیسے جیسے اونچی ہوئی تھی۔۔۔
“امی میں غصے میں تھا۔۔۔آپ نے دیکھا وہ آپ کی گھمنڈی بہو کیسے اس لڑکے عاصم کے ساتھ گھوم پھیر رہی تھی۔۔۔وہ دونوں۔۔۔”
“ارحام ایک لفظ نہیں اسکے کردار پر۔۔۔وہ لڑکی لبابہ کی بیٹی ہے۔۔۔میں جانتی ہوں ان ماں بیٹی کو۔۔۔انکے خون میں بےوفائی بےحیائی نہیں ہے سنا تم نے۔۔۔
تم جسے بدکردار کہنے والے ہو وہ تمہاری ہونے والی عزت ہے کچھ شرم کر لیتے زرا سی بھی۔۔۔”
“پر امی۔۔۔”
“ارحام۔۔۔۔”
ماں بیٹی کی باتوں کو روک دیا تھا دروازے پر ہورہی دستک نے۔۔۔۔
“بیٹا۔۔۔عشنا کا کہیں کچھ پتا نہیں چل رہا۔۔۔یہاں سب بزنس پارٹنرز میرے تمام گیسٹ کو یہی پتا ہے تمہاری منگنی میری بیٹی سے ہونے والی ہے۔۔۔
میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں میری بیٹی رشنا سے منگنی کرلو۔۔۔ہمارے خاندان کی عزت خراب ہونے سے بچا لو۔۔۔”
“ضیشم تم فکر نہیں کرو ارحام وہی کرے گا جو تم کہو گے۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے ارحام کے سامنے ہاتھ جوڑنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
“ابو آپ لوگ چلیں میں آتا ہوں۔۔۔”
“جس کا ڈر تھا وہی ہوا ارحام۔۔۔ تم نے ایک ہیرا گنوا دیا ہے اپنی بیوقوفی میں۔۔۔
وہ گھمنڈی تمہاری تقدیر تھی۔۔۔اب تم رشنا کے ساتھ زندگی گزارو گے تو تمہیں قدر محسوس ہوگی۔۔۔”
“امی اتنی طرف داری اسکی۔۔؟؟ وہ مجھے چھوڑ کر گئی ہے ہم دونوں خاندانوں کی عزت کی بھی پرواہ نہیں کی اس نے۔۔”
“کیوں اس نے پرواہ نہیں کی۔۔؟؟ اس نے تمہیں دیکھ لیا آج۔۔۔کوئی بھی لڑکی سب برداشت کر سکتی ہے پر عشنا جیسے نہیں۔۔۔اسے زندگی میں وہ سب نہیں چاہیے جو اسکی ماں کو ملا۔۔۔
ضیشم صاحب نے جب اپنی بیوی کو کسی اور عورت کے سامنے بےلباس کیا تو کیا ہوا تھا۔۔؟؟
آج وہی تم نے عشنا کے ساتھ کیا۔۔۔اس نے اپنی ضد یہ کمپنی سب کچھ ٹھکرا دیا۔۔۔۔”
ارحام حیران تھا اپنی والدہ کی ہر بات پر وہ حیران تھا اسکی خاموش طبیعت والدہ کو کیسے اتنا سب کچھ پتا ہے۔۔۔۔
“امی آپ یہ سب کیسے جانتی۔۔۔”
“لبابہ میری بھی دوست تھی۔۔۔ ایسی دوست جو بہت نصیب والوں کو ملتی ہے۔۔۔
تابین وہ دوست تھی ہماری جس نے اپنی ہی دوست کا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا۔۔۔
اور ہم سب خاموش رہے۔۔۔”
۔
“ارحام۔۔۔۔”
ارحام کو جیسے ہی آواز آئی تھی وہ اپنا آپ سیدھا کرکے نیچے چل دیا تھا۔۔۔
“امی میں اب جو کرنے جا رہا ہوں مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہوگا۔۔۔
عشنا جیسے گھمنڈی لڑکی۔۔۔ میری بیوی بننے کے لائق نہیں تھی۔۔۔رشنا بھی ایک اچھی لڑکی ہے میری عزت کرنے والی۔۔۔آپ سب کی عزت کرے گی ہمارے گھر کے ماحول میں ایڈجسٹ ہوجائے گی آپ دیکھ لیجئے گا۔۔۔”
۔
وہ جتنے فخر سے اس کمرے سے گیا تھا۔۔۔اسے ایک اجنبی سا درد ہونا شروع ہوگیا تھا اسکے دل میں۔۔۔
اسے کیا پتا تھا اس منگنی کی انگوٹھی پہننے کے بعد اسکا دل بغاوت کردے گا۔۔۔
اور اسے وہ درد بھی محسوس ہونا شروع ہوجائیں گے جو اسے فلذہ سے جدا ہوکر محسوس نہیں ہوئے تھے۔۔۔
اسے اس گھمنڈی سے اپنی اس محبت کا احساس ہونا شروع ہوچکا تھا جب فلذہ نے اسے وہ رنگ پہنا دی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
“بہت بہت مبارک ارحام بیٹا رشنا میری بچی۔۔۔”
تابین بیگم نے ان دونوں کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔۔
“ارحام رشنا۔۔۔”
رشنا نے ارحام کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
وہ جو نام ارحام نے ساتھ جوڑ دئیے تھے۔۔۔اسے نہیں پتا تھا۔۔۔
اس گھمنڈی نے کس طرح سے الگ کردینے تھے۔۔۔
وہ جو خاموشی سے چلی گئی تھی وہ محبت کی ماری عُشنا تھی۔۔۔وہ جو ڈر گئی تھی۔۔۔
آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔۔اب ارحام ابراہیم کی تقدیر میں اسکا نام تو بہت پہلے ہی لکھا جا چکا تھا۔۔۔
۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
۔