Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 15
Rate this Novel
Episode 15
“وہ۔۔۔۔وہ سب جھوٹ تھا۔۔۔؟؟ وہ تمہاری تصویریں۔۔۔”
“وہ سب سچ تھا مسٹر ضیشم۔۔۔پر تمہاری بیوی نے جس طرح سے تمہارے سامنے پیش کیا تھا وہ جھوٹ تھا۔۔۔ جس آدمی کو میرا یار بنا رہے تھے تم وہ تو بہن کا درجہ دیتا آیا مجھے۔۔۔ ابھی اپنی زندگی لندن میں گزار رہا ہے اپنی بیوی کے ساتھ۔۔
وہی بیوی جسے تم نے ذلیل کیا تھا یہ کہہ کر کہ وہ کسی بےوفا آدمی کے ساتھ کیسے رہ رہی ہے۔۔۔”
وہ دو قدم آگے بڑھی تھیں جب ضیشم نے انکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔
“تم جھوٹ بول رہی ہو لبابہ۔۔۔۔۔تم جھوٹی ہو۔۔۔”
“ہاہاہا میں جھوٹی ہوں۔۔۔ میں نے مان لیا تھا۔۔ تب بھی اور آج بھی۔۔۔
اب پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دو۔۔۔ مجھے تم سے گھن آرہی ہے ضیشم۔۔۔”
۔
ضیشم۔۔۔۔”
تابین کی آواز پر انہوں نے لبابہ کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
“ضیشم میں نے کہا تھا آپ گاڑی میں انتظار کریں آپ کیا۔۔۔”
“لبابہ نے جو کہا وہ سچ تھا۔۔؟؟”
انکی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا ہو جتنی تیزی سے وہ تابین کے سامنے کھڑے تھے۔۔
“وہ بکواس کررہی ہے جھوٹ بول رہی ہے ضیشم۔۔۔”
“وہ تصویریں سچی تھیں یا جھوٹی۔۔؟ تابین مجھے سچ بتاؤ ورنہ میں بہت برا پیش آؤں گا۔۔”
“ضیشم۔۔۔”
“میں نے کہا جو لبابہ نے کہا وہ سب جھوٹ تھا۔۔۔کیا کہہ کر گئی وہ۔۔۔ تمہارا ہاتھ تھا ان سب میں۔۔؟ ہاں یا نا میں جواب دو۔۔۔”
وہ اتنی اونچی چلائے تھے کہ لبابہ جاتے جاتے رکی تھیں۔۔۔ انکے قدم جم گئے تھے ضیشم کی اواز میں اتنا غصہ دیکھ کر۔۔۔
“وہ ضیشم۔۔۔”
“ہاں یا ناں۔۔۔؟؟”
“ہاں۔۔۔۔”
۔
تابین کے منہ سے جیسے ہی یہ لفظ نکلا تھا ضیشم صاحب کا ہاتھ اٹھ گیا تھا ان پر۔۔۔
۔
“ضیشم کاش تم اس وقت یہ کرتے جو تم نے آج کیا۔۔۔
تم نے اچھی سزا دی مجھے۔۔۔بہت اچھی سزا دی مجھ جیسی گھمنڈی کو تم جیسے شخص سے محبت کی۔۔۔”
۔
“ضیشم۔۔آپ نے مجھ پہ ہاتھ اٹھایا۔۔؟”
اس ایک تھپڑ سے وہ نیچے جا گری تھیں۔۔ ہاتھ گال پر رکھے بےیقین نگاہوں سے انہوں نے ضیشم کی طرف دیکھا تھا سر اٹھا کر۔۔
“میرا جی چاہ رہا ہے تمہیں جان سے مار دوں تابین اور پھر خود کو ختم کرلوں۔۔”
اپنی نظریں انہوں نے دوسری جانب کر لی تھی۔۔۔ وہاں انکی آنکھیں بھیگیں تھیں اور باہر لبابہ اپنا چہرہ صاف کئیے نیچے چلیں گئیں تھیں
“ضیشم۔۔۔میں۔۔”
“شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔۔۔ تم نے اتنا بڑا جھوٹ بولا مجھ سے تابین۔۔؟”
“ضیشم میں۔۔تم سے بہت پیار کرنے لگی تھی میں۔۔ مجھے جو اچھا لگا میں نے وہ کردیا
مجھے معاف کردو ضیشم میں مرجاؤں گی۔۔”
ضیشم کی ٹانگ پر جیسے ہی روتے ہوئے تابین بیگم نے اپنا سر رکھا تھا ضیشم صاحب پیچھے ہوگئے تھے
“اور کون کون سے جھوٹ بولے تم نے تابین۔۔؟ اور کیا کیا تم نے میرا گھر خراب کرنے کے لیے جو میرا اور لبابہ کا تھا۔۔؟”
“ضیشم۔۔۔”
“اب میں تم سے نہیں لوگوں سے سچائی سنوں گا۔۔ مجھے نہیں سمجھ آرہا کیا کروں میں۔۔۔”
“ضیشم کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔جیسے چل رہا تھا ویسے چلنے دیں۔۔ پلیز ضیشم ابھی رشنا کے بارے میں سوچیں اگر یہ تصاویر کسی نے دیکھ لی تو کیا ہوگا۔۔”
ضیشم کے چہرے پر ہاتھ رکھے گڑگڑائی تھیں وہ۔۔۔
“یہ تصویریں تو چلی جائیں گی تابین۔۔پر آج کی یہ سچائی نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔۔
سب کچھ بدل دیا ہے۔۔۔”
ایک سرگوشی کی تھی بند آنکھوں سے انہوں نے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اگلی صبح۔۔۔۔”
۔
“عاصم بیٹا مجھے چکر آنے لگے ہیں۔۔۔۔”
“ہاہاہا جو نیوز میں دوں گا اسے سن کر تو بےہوش ہوجائیں گی آپ۔۔۔”
عاصم نے کہتے ہوئے علیزے بیگم کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور انہیں بیٹھا دیا تھا صوفہ پر۔۔
“صبح صبح دونوں ماں بیٹے میں کیا گڈ نیوز شئیر ہورہی ہے۔۔؟؟”
شہاب صاحب اپنا نیوز پیپر پکڑے وہاں آئے تھے اپنے کمرے سے۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔ آپ بھی سنے گے تو دنگ رہ جائیں گے۔۔۔ لبابہ ماسی آگئی ہیں واپس۔۔۔
وہ بھی ٹھیک ٹھاک۔۔۔ پہلے سے زیادہ خوبصورت اور۔۔۔”
عاصم کی بات سنے بغیر وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔ڈیڈ۔۔۔۔”
“عاصم۔۔بیٹا نہ روکو انہیں۔۔۔”
“پر موم ڈیڈ کو تو خوش ہونا چاہیے نہ۔۔۔”
“نہیں وہ۔۔۔تم نہیں سمجھو گے بیٹا۔۔۔”
علیزے بیگم نے اپنی آنکھیں صاف کی تھیں جب عاصم نے اپنی نانو کو سیڑھیاں اترتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔
“نانو۔۔۔ لبابہ ماسی یہاں آچکی ہیں پاکستان۔۔۔ یہ دیکھیں انکی ابھی کی تصویریں۔۔۔”
“بہت جلدی وہ اپنے دھوکے باز شوہر کے سوگ سے باہر نکلی ہے۔۔؟؟ چلو شکر ہے اپنی بیٹی کی بھی فکر ہوئی اسے۔۔”
انہوں نے ان تصاویر کو دیکھے بغیر نیچے پھینک دیا تھا
“علیزے ناشتہ نہیں لگوایا ابھی۔۔؟ کہاں ہے سب ملازم۔۔؟ کہاں ہے شہاب اور باقی سب۔۔؟”
انکی آواز نے سب کو چونکا دیا تھا۔۔۔ بہت سالوں کے بعد اتنے غصے میں وہ بولی تھیں۔۔
“بس پانچ منٹ امی میں لگواتی ہوں۔۔۔ عاصم بیٹا یہ سب اٹھا کر اپنے روم میں لے جاؤ۔۔”
“بٹ موم۔۔”
“عاصم۔۔۔”
“نووو موم۔۔۔ آپ لوگ کب تک اس بات کو ٹالتے رہیں گے۔۔؟ جب وہ ٹھیک نہیں تھی تو آپ لوگ ہی مرے جا رہے تھے۔۔ اب جب وہ یہاں ہیں سہی سلامت ہیں تو یہ ری ایکشن۔۔؟
نانو۔۔ وہ تو آپ کی لاڈلی ہے نہ۔۔؟ آپ کیوں اب نہیں دل نرم کر رہی۔۔؟
انہوں نے ضد کی تھی آپ ناراض ہوئی۔۔۔ حساب ہوگیا برابر نانو۔۔ آپ کی بیٹی کے پاس آپ کو جانا چاہیے۔۔۔”
عاصم نے انکے دونوں ہاتھ پکڑ لیا تھا
“عاصم امی کو مت الجھاؤ بیٹا وہ بیمار ہوجائیں گی۔۔۔”
“تو موم وہ ٹھیک کب ہیں۔۔ نانو آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟ آپ کی باہر ملک میں وہ زندگی گزار کر واپس آئی ہیں جن کی بد دعائیں آپ نے اپنے غصے اپنی ناراضگی میں دی انہیں۔۔ اب وہ یہاں ہیں تو یہ فاصلہ ختم کردیں۔۔ بہت بھگت لیا انہیں نے۔۔۔”
۔
“عاصم۔۔۔”
“علیزے۔۔۔ ہمارا عاصم کب سے اتنا سمجھدار ہوگیا۔۔؟؟”
انہوں نے اپنی عینک اتار کر عاصم کے سر پر پیار دیا تھا۔۔۔
“میں نے انہیں دیکھا تھا نانو۔۔ وہ عشنا کے ساتھ ایسے ہیں جیسے انکی ہوری دنیا عشنا ہو۔۔
اور عشنا۔۔۔ وہ اتنی خوش ہے کہ میں نے کبھی اسے اتنا خوش نہیں دیکھا۔۔”
۔
علیزے بیگم نے بےیقین نے اپنی والدہ کو دیکھا تھا۔۔۔ وہاں موجود ہر فیملی ممبر کی آنکھیں اشکبار تھیں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تم چاہ کر بھی ارحام کو چھین نہیں سکتی عشنا جی۔۔۔ وہ میرا ہوچکا ہے۔۔ تم جیسی گھمنڈی لڑکی کی طرف وہ دیکھے گا بھی نہیں۔۔۔”
۔
عشنا نے پانی کے گلاس کواٹھا کو دروازے پر دہ مارا تھا۔۔۔
رشنا کی کہی باتیں اندر تک اسے جلا رہی تھیں۔۔۔اور اسی وقت دروازے پر ناک ہوئی تھی۔۔۔
“مئے آئی کم ان میم۔۔؟؟”
ارحام کی دھیمی آواز نے اسے اور گھائل کردیا تھا جب وہ بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ پہنے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔
۔
“مسٹر ارحام۔۔۔آج آپ کچھ زیادہ ہی ہوٹ نہیں لگ رہے اس وائٹ شرٹ میں۔۔۔؟؟”
عشنا کی اس تعریف میں ارحام کی آنکھیں پوری طرح سے کھل گئی تھی۔۔۔ اور کھانسی آنا شروع ہوگئی تھی اسے۔۔۔
“میم۔۔آپ ٹھیک تو ہیں۔۔؟؟”
ارحام نے فائل ڈیسک پر رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
“نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔”
عشنا نے لیپ ٹاپ سکرین پر نظر دہرائی تھی جب رشنا کو اسی فلور پر دیکھا تھا اس نے کیمرہ میں وہ اٹھ گئی تھی۔۔۔اور ارحام کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
“ٹائی ٹھیک سے نہیں لگائی مسٹر ارحام۔۔۔” عشنا کے ہاتھ بہت آہستہ سے ارحام کے کندھے سے ہوتے ہوئے اسکی ٹائی کی طرف گئے تھے جو اتنا حیران تھا کہ رہ ایکٹ نہیں کر پارہا تھا۔۔
سامنے کھڑی گھمنڈی جو اس کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی اب اسکے اتنے قریب آ گئی تھی۔۔۔
“تمہاری دھڑکنے اتنی تیز کیوں ہوگئی ہیں ارحام۔۔؟؟”
عشنا کی انگلیاں ارحام کے دھڑکتے دل پر آرکی تھیں
“یہ یہ آپ کیا کر رہیں ہیں مس۔۔۔”
“عشنا۔۔۔اب عشنا نہیں کہو گے مجھے ارحام۔۔؟؟”
“یہ کیا کر رہی ہیں۔۔۔آپ۔۔۔”
ارحام زرا سا پیچھے ہوا تو صوفہ پہ جا بیٹھا تھا۔۔۔
“تمہیں سیڈیوس کر رہی ہوں۔۔۔چاہتی ہوں تم سیڈیو س ہو جاؤ اور چھوڑ دو اپنی منگیتر کو۔۔۔”
عشنا جیسے ہی ارحام کے پاس بیٹھی تھی ارحام غصے سے اٹھ گیا تھا
“تمہیں شرم نہیں آتی ایک غیر مرد کو اس طرح سیڈیوس کرتے ہوئے۔۔۔؟ فار گوڈ سیک انگیجڈ ہوں میں۔۔۔منگیتر ہے میری جسے میں بےحد محبت کرتا ہوں چھوڑ نہیں سکتا۔۔۔””
۔
منگیتر ہے تمہاری،،،سانسیں تھوڑی جسے تم چھوڑ دو گے تو مر جاؤ گے۔۔”
“سیریسلی عشنا یہ تم ہو۔۔؟ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا تم اس طرح۔۔۔یو نو وٹ۔۔؟ تم دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوگی نہ تو میں کبھی تمہاری طرف دیکھوں گا بھی نہیں۔۔۔تم۔۔۔”
“شش۔۔۔ وہ باتیں نہ کہو جن پر تمہیں ساری زندگی افسوس رہے۔۔۔”
عشنا نے اسکے ہونٹوں پر اپنی انگلی جیسے ہی رکھی تھی کیبن ڈور اوپن ہوگیا تھا۔۔۔
“وٹ دا ہیل۔۔۔ارحام۔۔۔؟؟ڈسگسٹنگ۔۔۔”
رشنا دروازہ زور سے بند کرکے چلی گئی تھی وہاں۔۔۔
ارحام شاکڈ تھا پر عشنا کی ہنسی پر اس نے دروازے کی طرف دیکھا تھا۔۔
“ہاہاہاہاہاہا۔۔۔جائیں مسٹر ارحام۔۔۔ اسے منائیں جا کر۔۔۔”
“اوووہ۔۔۔یہ سب ڈرامہ تھا رشنا کو یہ سب دیکھانا اور۔۔۔”
“کیوں تمہیں کیا لگا میں تمہیں۔۔۔؟؟”
عشنا نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔
“تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا تم ایک گھمنڈی خود غرض لڑکی ہو۔۔”
وہ کہتے ہوئے ڈور کی جانب بڑھا تھا جب عشنا نے اسکا نام پکارا تھا بہت آہستہ آواز میں
“ارحام ابراہیم۔۔۔ میں چاہتی ہوں جو آج آپ نے کہا آپ اس پر قائم رہیں۔۔۔
اگر میں دنیا کی آخری لڑکی بھی ہوں گی تو میری طرف دیکھنا بھی مت۔۔۔”
۔
وہ چاہ کر بھی پیچھے مڑ نہیں پایا تھا آج گھمنڈی کے لہجے میں ایک درد تھا جس درد کو اسکا دل محسوس کررہا تھا۔۔۔
۔
آج اس نے پھر سے بہت بڑی باتیں کہہ دیں تھیں جانے انجانے میں۔۔۔
۔
“تم اب اگر چاہو گے بھی تو میں نہیں ملوں گی تمہیں۔۔۔”
اس گھمنڈی کی خود سے کی گئی سرگوشی بھی اسے سنائی دے گئی تھی۔۔۔
کیا رشتہ تھا ان دونوں میں جو لفظ تکلیف پہنچا رہے تھے انہیں۔۔۔
۔
کیا یہ خاموش محبت کی شروعات تھی۔۔؟ یاانکی شروع ہونے سے پہلے کی داستان۔۔؟؟
یہ کیسی شروعات تھی۔۔؟
پر ایک بات تو طہ تھی انکی محبت بھی انکی طرح گھمنڈی تھی۔۔۔
۔
۔
“گھنے اک پیڑ سے مجھے ۔۔جھونکا کوئی لے کہ آیا ہے۔۔۔
سوکھے اک پتے کی طرح۔۔۔ ہوا نے ہر طرف اڑایا ہے۔۔۔”
۔
“ارحام ابراہیم۔۔۔ تم میری کسی ہمدردی کے قابل نہیں ہو سب کو لگتا ہے مجھے تم سے محبت ہوگی۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“لبابہ میں بہت خوش ہوں آپ ہماری یہاں کھانے پر آئی۔۔۔ مجھے اور بھی خوشی ہوتی اگر آپ کی بیٹی بھی ساتھ آتی۔۔۔ اظہر بہت باتیں کرتے ہیں آپ کی۔۔آپ کی بیٹی عُشنا کی۔۔۔”
“تعریف تو نہیں کرتے ہوں گے اظہر صاحب۔۔۔ ہاہاہا یقینا گھمنڈی کہہ کر ہی مخاطب کرتے ہوں ۔۔؟؟”
“ہاہاہا۔۔۔ آپ کو کیسے پتا۔۔؟؟”
“ہاہاہا بیگم کیوں مروانا ہے مجھے یہ ہٹلر ہے۔۔۔”
“وہ تینوں ہنستے ہوئے باہر گیٹ تک آگئے تھے۔۔۔”
“آپ کو اظہر ڈراپ کر آئیں لبابہ رات بہت ہوگئی ہے۔۔۔”
“نہیں بھابھی میں چلی جاؤں گی۔۔۔ بہت اچھا لگا آپ سب سے مل کر۔۔۔”
اظہر صاحب کی بیوی کے گلے لگتے ہوئے انہوں نے کہا تھا۔۔۔”
“میں گاڑی تک چھوڑ آؤں بگ گرل۔۔؟؟”
“یا شیور۔۔۔”
گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اظہر صاحب نے لبابہ کہ سر پر ہاتھ رکھا تھا جیسے کوئی بڑا بھائی رکھتا ہو۔۔
“لبابہ تم دوست جیسی بھی ہو اور میری بہنوں جیسی بھی۔۔۔ میں جانتا ہوں تمہیں اذیت میں دیکھنا کتنا تکلیف دہ تھا۔۔۔ اب جب عشنا کی محبت تمہیں ان سب سے باہر لے آئی ہے تو واپس اس دلدل میں دھکیل مت دینا اپنے دل کو۔۔۔
ضیشم۔۔ تمہاری محبت کے قابل نہیں ہے لبابہ۔۔۔ جتنی جلدی ہو سکے الگ کرلو اپنا نام اسکے نام سے۔۔۔”
۔
لبابہ نے سر جھکایا تھا تو گہرا سانس بھرا تھا اظہر صاحب نے
“تم سوچ رہی ہوگی کہ کیسا بھائی ہوں جو تمہیں طلاق کا مشورہ دہ رہا ہے۔۔
پر اگر میرے بس میں ہوتا تو اس وقت کچھ کرتا میں۔۔ تاکہ تم بھی آج اپنا گھر بسا کر بیٹھی ہوتی جیسے وہ ایک الگ گھر بنا کر بیٹھا ہے۔۔۔ وہ میرا دوست نہیں رہا اب بزنس پارٹنر ہے۔۔۔
اس جیسے خود غرض انسان کبھی کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتے۔۔۔”
“ہممم۔۔۔ اوکے میں چلتی ہوں خدا حافظ۔۔۔”
ان سے اور کچھ بھی سننے کی ہمت نہیں تھی۔۔ گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرچکی تھیں وہ۔۔
جب اظہر صاحب اور انکی بیوی اندر چلے گئے تھے وہاں ایک بند گاڑی بھی سٹارٹ ہوئی تھی جس نے لبابہ کی گاڑی کو فالو کرنا شروع کردیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“دادو میں۔۔میں وہاں ابھی نہیں جا سکتی ماما کو بھی میری ضرورت ہے۔۔”
عشنا نے لاک کھول کر اپارٹمنٹ کی لائٹس آن کی تھی۔۔۔
“اور تمہارے ڈیڈ۔۔؟ میرا بیٹا اکیلا ہے۔۔عشنا۔۔”
عشنا نے موبائل دوسرے کان پر لگا لیا تھا آج پورا پارٹمنٹ خالی تھا۔۔۔
۔
اسکے لائٹ آن کرتے ہی دو ملازمہ سامنے آ کر کھڑی ہوگئیں تھیں اسکے
“ماما سو گئیں ہیں۔۔؟؟”
“نہیں میم وہ ابھی تک نہیں آئیں۔۔۔”
عشنا نے اپنا پرس پکڑا دیا تھا ۔۔۔اور دادی کی باتیں پھر سے سننا شروع ہوگئی تھی وہ خاموشی کے ساتھ۔۔
“لبابہ اس وقت کہاں گئی ہے سب ٹھیک تو ہے بیٹا۔۔؟”
“وہ دادی انہوں نے ایک دوست کی طرف ڈنر پہ جانا تھا شاید وہیں دیر ہوگئی ہو۔۔۔”
“عشنا بیٹا ایک بار وہاں اپنے ڈیڈ کے پاس چلی جانا۔۔۔”
“دادی آپ کیوں انہیں چھوڑ کر چلیں گئیں ہیں جبکہ آپ کو بھی انکی فکر ہے۔۔”
“کبھی کبھی ایسے قدم اٹھانے پڑتے ہیں عشنا۔۔۔کسی کو اسکی غلطی کا احساس دلانے کے لیے خود کو دور کرنا پڑتا ہے ان سے۔۔”
دادی کی بات سن کر ارحام کا چہرہ گھومنا شروع ہوگیا تھا سکے سامنے۔۔۔
۔
“دادی میں۔۔۔”
گاڑی کے ٹائرز کے سکریچز کی آوازیں جیسے ہی سنائی دی تھی عشنا خاموش ہوگئی تھی بات کرتے کرتے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“لبابہ۔۔۔لبابہ میری بات سنو۔۔۔”
ضیشم اپنی گاڑی کو پارک کرکے لبابہ کے پیچھے بھاگے تھے
“کب سے فالو کر رہے ہو۔۔؟ تمہاری عادت نہیں گئی نہ شک کرنے کی۔۔؟”
“لبابہ۔۔۔تمہاری قسم میں نے شک نہیں کیا میں بس تمہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔ تم۔۔ تم سے بات کرنا چاہتا تھا۔۔”
ضیشم نے انکا ہاتھ جیسے ہی پکڑا تھا وہ ایک لمحہ رک گئی تھیں۔۔۔
۔
“لبابہ۔۔مجھے یاد ہے میری بےوفائی کی بڑی وجہ وہ تصویریں بھی تھیں۔۔۔
جن میں تمہیں کسی اور کے ساتھ دیکھ کر میری ساری محبت مرگئی تھی تمہارے لیے۔۔ مجھے لگنے لگا تھا تم مانگ لو گی مجھ سے فیصلہ۔۔ میں نے سوچ لیا تھا ہر با یہ گھمنڈی مجھ سے آگے رہی۔۔ چاہے وہ مجھ سے بےپناہ محبت ہو یا۔۔۔ اپنا کیرئیر قربان کرنے کی۔۔۔
آج میں مات دہ دوں تمہیں تمہارے مانگنے سے پہلے تمہیں فیصلہ دہ دوں۔۔ ویسا ہی دھوکہ دہ دوں۔۔”
انکے آنسوؤں سے پورا چہرہ بھر گیا تھا اور وہی آنسو ان دونوں کے ہاتھوں میں گرنا شروع ہوگئے تھے۔۔۔
لبابہ کا سر جھک گیا تھا جب ضٰشم نے اپنا سر انکے سر کے ساتھ جوڑا تھا۔۔
“مات تو دہ دی آپ نے۔۔پر اس گھمنڈی کو نہیں دی مات ضیشم۔۔۔اپنی بیوی کو دی وہ مات کسی اور عورت کے ساتھ تعلقات استوار کرکے۔۔ مات آپ نے اس گھمنڈی کو نہیں دی اس محبوبہ کو دی جس نے ہمیشہ محبت کی آپ سے۔۔
مات آپ نے مجھے نہیں دی تھی مات آپ نے میری ممتا کو دی۔۔۔
ہماری۔۔۔ ہماری بیٹی کو دی۔۔۔
کچھ جھوٹی بنائی گئی تصویروں پر بیوی کے کردار کو داغ دار کرنے والے مرد مجازی خدا کیسے ہوسکتے ہیں۔۔؟”
ضیشم نے اپنا سر اٹھایا تھا۔۔۔ آج وہ پوری طرح سے سرنڈر کرچکے تھے اپنی بھیگی آنکھوں کے ساتھ سر جھکائے کھڑے تھے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرچکے تھے وہ۔۔۔
“تم نے سہی کہا مات میں نے اپنی بیوی کو نہیں دی اپنے آپ کو دی ہے لبابہ۔۔ موقع دیا کسی تیسرے کو ہمارے درمیان آنے کا۔۔۔نہ اچھا شوہر بن پایا نہ اچھا باپ۔۔۔”
“اچھے باپ آپ بنے ہیں ضیشم۔۔۔ میری میری بیٹی کے نہیں۔۔اپنی دوسری بیوی کے بچوں کے اچھے باپ بنے ہیں۔۔۔
کیسے ایک الزام پر آپ نے سب برباد کردیا نہ۔۔؟؟ پر سب سے زیادہ برباد ہماری بیٹی عُشنا کو کیا اسکے بچپن کو کیا۔۔۔
اور اب ارحام کو چھین کر کردیا۔۔۔بہت کامیاب ہوئے ہیں مجھے اور میری بیٹی کو برباد کرنے میں ضیشم۔۔۔۔”
اپنی انگلیاں انکے ہاتھ سے چھڑا کر وہ اپنے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھنا شروع ہوگئی تھی۔۔
اس سے پہلے وہ اپارٹمنٹ میں داخل ہوتی۔۔۔ عشنا اپنا منہ صاف کئیے اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔۔۔
۔
“لبابہ۔۔۔مجھے معاف کردو۔۔۔”
پر ان سب آوازوں کو درگزر کردیا تھا انہوں نے اور اپارٹمنٹ کا دروازہ ضرور سے بند کیا تھا اپنے جواب میں۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“میم مسٹر ارحام نےیہ ڈاکومنٹس بھیجیں ہیں۔۔۔”
“ہمم۔۔۔” عشنا نے وہ فائلز پکڑ لی تھیں۔۔
“میم آپ کو نہیں لگتا مسٹر ارحام لاسٹ ویک سے اسی طرح بہانے لگا رہے ہیں اور کسی نہ کسی کو بھیج دیتے ہیں آپ کے کیبن میں خود آنے کے بجائے۔۔ انہیں آپ نوکری سے نکال کیوں نہیں دیتی۔۔۔آپ۔۔”
“فلحال آپ مس ماریہ مجھے مجبور نہ کیجئے کہ آپ کو کام سے فارغ کیا جائے۔۔۔ جائیں یہاں سے اور ایچ آر ڈیمارٹمنٹ سے مسٹر کبیر کو بھیج دیں۔۔ یہ اکاؤنٹس میں سے اتنی بڑی رقم کیوں اور کس نے نکلوائی ہے۔۔؟؟”
۔
“یس میم۔۔ اینڈ ایم سو سوری میم۔۔۔”
عشنا نے ہاں میں سر ہلا دیا تھا۔۔۔
۔
کچھ ہی منٹ میں اکاؤنٹنٹ نے ناک کیا تھا۔۔۔
“مسٹر کبیر اتنی بڑی رقم اکاؤنٹ سے نکلی ہے مجھے اس بارے میں نہ پوچھا گیا نہ بتایا گیا ہے۔۔”
“میم۔۔۔ وہ۔۔ سر ضیشم سر نے یہ پیسے نکلوائے تھے اور مجھے منع کیا تھا کسی کو بھی بتانے سے۔۔۔”
“وجہ جان سکتی ہوں۔۔؟”
عشنا نے ہر کام روک دیا تھا
“وہ۔۔ انہوں نے یہ پیسے کچھ لوگوں کو دینے تھے دراصل۔۔۔”
“وٹ۔۔۔؟؟ مجھے ایک سانس میں بتائیے۔۔۔نہیں تو میں۔۔۔”
اور اس ایک سانس میں عشنا کے سامنے سب کچھ تھا۔۔۔
“وہ لوگوں نے اس پبلش ہوئی کہانی کو ہٹا دیا تھا پر ایک بھاری معاوضے کے بعد۔۔۔”
۔
عشنا نے اپنی کار کیز اٹھا لی تھی اور کیبن سے باہر چلی گئی تھی۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“اتنے غصے میں گئیں ہیں کیا ہوا۔۔؟؟”
ارحام نے اپنی کرسی سے اٹھ کر کبیر کا راستہ روکا تھا۔۔
“وہ۔۔۔وہ ۔۔میں ہی مر جاؤں گا بیٹی کے ہاتھوں سے نہیں تو بیٹی کے باپ کے ہاتھوں۔۔”
کبیر بڑبڑانا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“کیا مطلب۔؟ کیا کیا ہے تم نے۔۔؟؟”
ارحام نے اسکا کالر جیسے ہی پکڑ کر پوچھا تو دو تین سٹاف ممبرز نے ان دونوں کو پیچھے کروایا تھا۔۔۔
“دیکھو ارحام۔۔۔”
“کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟”
“چلو میں بتاتا ہوں۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ڈیڈ پلیز میرا یقین کریں آپ۔۔۔وہ سب پاسٹ تھا۔۔۔”
“پاسٹ تھا۔۔؟تم آج تک اندھیرے میں رکھا تم۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔میں اسے چھوڑنا چاہتی تھی۔۔ وہ تو۔۔”
اور ایک زور دار تھپڑ پڑا تھا رشنا کےمنہ پر۔۔۔ سب کو لگا تھا ضیشم صاحب ہوں گے۔۔ پر کوئی اور سامنے کھڑا تھا رشنا کہ۔۔
“سچ آ ڈسگریس۔۔۔شیم آن یو رشنا۔۔۔ یہ کرتوتیں ہیں تمہاری۔۔؟؟ منگنی سے پہلے سب کچھ ہوتا تو بات اور تھی۔۔۔پر منگنی کے بعد۔۔۔؟؟”
عشنا نے اسے کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا تھا۔۔۔
“تم ہوتی کون ہو میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے والی۔۔۔؟؟”
تابین کو عشنا کے پاس جانے سے پہلے انکا ہاتھ ضیشم صاحب نے پکڑا تھا۔۔۔
“تم کون ہوتی ہو مجھے ایسے مارنے والی۔۔؟ کس حق سے۔۔؟ میری زندگی ہے یہ عشنا یو بچ۔۔”
اور ایک تھپڑ پڑا تھا کہ رشنا نیچے گر گئی تھی۔۔۔
“بچ ورڈ دوبارہ کہا تو منہ توڑ دوں گی بدتمیز لڑکی۔۔۔ اور کونسی زندگی۔۔؟
ارحام کو چیٹ کرکے اسکے ساتھ منگنی کرکے یہ گل کھلا رہی ہو تم۔۔
اگر ارحام کی جگہ کوئی اور منگیتر ہوتا تو میں برداشت کرلیتی پر تمہیں ایک وہی شخص ملا دھوکا دینے کے لیے رشنا۔۔؟ وہ جو تمہارے ساتھ اتنا مخلص رہا۔۔وہ جو میرے آنے کے بعد اپنا فیصلہ بدل سکتا تھا۔۔ پر نہیں بدلا۔۔۔کیونکہ وہ کمیٹڈ تھا تمہارے ساتھ۔۔۔
اور تم اسی کو ڈبل کراس کر گئی۔۔؟؟ شرم نہیں آئی۔۔؟؟ اگر یہ سب ارحام کو پتا چل جاتا تو کیا بیتتی اس پر۔۔؟؟”
عشنا جیسے ہی چلائی تھی سب چپ ہوگئے تھے اسکے غصے کو دیکھ کر۔۔
“اس پر جو بیتتی جو بیتتی۔۔۔تمہیں کیوں اتنی آگ لگ رہی ہے۔۔ اگر تمہارے چھوڑ جانے کے بعد وہ اتنی جلدی میرے ساتھ مووو آن کرگیا ہے تو اس نیوز کے بعد بھی اس نے برداشت کرلینا تھا۔۔۔ ایسا ہوگیا ہے تو ہوگیا۔۔۔یہ اس گھٹیا شخص کی وجہ سے ہوا ہے جس نے یہ سب وائرل کیا بلڈڈی باسٹرڈ۔۔۔۔”
” یو نو وٹ رشنا۔۔۔ تم جیسی لڑکی ارحام ابراہیم کو ڈیزرو نہیں کرتی۔۔۔ اور مجھے سمجھ نہیں آتی تم جیسے سازش کرنے والیوں کو کیسے ایسے مرد مل جاتے ہیں۔۔؟ جنہوں دوسروں کی معصومیت پر نہیں جھوٹ پر یقین ہوتا ہے۔۔”
یہ بات کرتے ہوئے اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔اور پھر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔پر جاتے ہوئے وہ جس شخص سے ٹکرائی تھی اسکی طرف دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا اس نے۔۔۔
“ار۔۔۔ارحام۔۔۔۔”
رشنا زمین سے اٹھ نہیں پا رہی تھی جب ارحام نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔
اور اسکے چہرے پر ایک جیت کی مسکراہٹ آگئی تھی
“ارحام میں جانتی تھی تم اس گھمنڈی پر نہیں مجھ پر یقین کرو گے وہ سب جھوٹ۔۔۔”
رشنا کے الفاظ دھرے کے دھرے رہ گئے تھے جس پکڑے ہوئے ہاتھ کی انگلی سے ارحام نے منگنی کی وہ انگوٹھی اتار لی تھی۔۔۔
اسے اپنی شرٹ کی جیب میں ڈال کر اپنے ہاتھ سے اپنی انگوٹھی نکال کر ارحام نے ضیشم صاحب کے ہاتھ میں تھما دی تھی۔۔۔
۔
“میں نے ہمیشہ عزت کی۔۔۔عُشنا سے شادی کے لیے ہاں میں نے آپ کی خوشی کے لیے کی تھی۔۔
رشنا سے منگنی میرے ابو کے جڑے ہاتھوں کو دیکھ کر کی۔۔
پر یہاں آکر اس مقام پر آ کر سمجھ آرہی ہے وہ کیوں مجھے کہتی رہی کہ مجھ میں خود داری باقی نہیں رہی۔۔۔ اب سمجھ آرہا ہے۔۔۔ جب انسان اپنے اصول و ضوابط بھلا کر دوسرے کے آگے خود کو جھکا لے تو خودداری ہوا میں بلبلے کی طرح سے اڑ جاتی ہے۔۔۔
اس گھمنڈی کا گلہ کرنا جائز تھا سر۔۔۔ اور اب میرا یہ رشتہ توڑنا بھی۔۔۔”
ارحام نے صرف ضیشم صاحب کو دیکھا تھا اور باقی کسی کو بھی نہیں۔۔۔اور وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
۔
۔
