51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

“ارے عشنا بیٹا کے ڈریس کے کلر کے ساتھ وائٹ سوٹ کر رہا ہے ارحام پتر۔۔۔۔”
ارحام نے واپس اسکے پہنے مہرون رنگ کے سوٹ کو دیکھا تھا اور سرجھکائے اس لڑکی کو جو پہلو میں تےتھی۔۔۔
“آہم۔۔۔۔” ارحام نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا تھا۔۔۔
اور اب اس گھمنڈی کو شرم آرہی تھی وہ انگوٹھی پہناتے ہوئے۔۔۔
“عشنا بیٹا۔۔۔”
لبابہ بیگم نے عشنا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا اور پھر ضیشم صاحب نے بھی ان دو ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔
“موم ڈیڈ۔۔۔”
یہ وہ گھمنڈی ہی جانتی تھی کیسے اس نے اپنے آنسو کنٹرول کئیے تھے۔۔۔
پر اس سین نے تو ہال میں موجود باقی سب کو بھی ایموشنل کردیا تھا۔۔۔
“بیٹا رنگ پہناؤ۔۔۔۔”
اور عشنا نے رنگ پہنا دی تھی ارحام ابراہیم کی آنکھوں میں دیکھتے ہی اس نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔
“ارحام بیٹا۔۔۔۔”
“فائننلی۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے بولا تھا۔۔۔۔
“ہاہاہاہا کچھ زیادہ ہی جلدی نہیں ہے ارحام۔۔؟؟”
ضیشم صاحب نے ارحام کو آنکھ مارتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔
اور پھر ارحام نے عشنا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئیے اسے وہ انگوٹھی پہنا دی تھی۔۔۔
۔
“گھمنڈی۔۔۔۔ “
اس نے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
۔
۔
“ملا تو مجھے توووو۔۔۔ مگر دیر سے کیوں۔۔۔
ہمیشہ مجھے یہ شکایت رہے گئی۔۔۔۔
لگا لے گلے سے۔۔ مجھے بن بتائے۔۔۔
عمر بھر تجھے یہ اجازت رہے گی۔۔۔۔”
۔
کبھی وہ نظریں ملا رہی تھی تو کبھی چرا رہی تھی۔۔۔
“ارحام ابراہیم۔۔۔۔”
اس بار اس گھمنڈی نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
۔
۔
“واااااوووووووو۔۔۔۔۔۔ ارحام بھائی۔۔۔۔ کتنے خوش لگ رہے ہیں اور وہ گھمنڈی۔۔۔
ماشاللہ کیا جوڑی لگ رہی ہے۔۔۔”
فلذہ نے سر جھکا کر اپنی آنکھیں صاف کی تھی اور رخسار۔۔۔وہ جل رہی تھی عشنا کی خوبصورتی دیکھ کر۔۔۔
ارحام کے کزنز ایک ایک کرکے اسے مبارک باد دینے جا رہے تھے وہاں۔۔۔
“خوش ہوگئی ہو تم رخسار۔۔۔؟؟ اب تمہارے حصے میں بھی نہیں آئے گا۔۔۔”
فلذہ نے نفرت سے بھرپور نگاہوں سے اپنی کزن کو طنز کیا تھا
“ہاہاہا۔۔۔ تم دیکھنا میں اسے حاصل کرلوں گی فلذہ۔۔۔ تم سے بھی تو چھینا تھا نہ۔۔۔”
فلذہ نے واپس عشنا کی طرف دیکھا تھا رخسار کی بات سن کر،،،،
“وہ گھمنڈی ہے رخسار۔۔۔ اس کی آنکھیں نہیں دیکھی کیا تم نے۔۔۔؟ وہ میں نہیں ہوں۔۔
وہ ارحام کی طرف ایسے دیکھ رہی ہے جیسے وہ ملکیت ہوگیا ہو اسکی۔۔۔
وہ ہار نہیں مانے گی۔۔۔ “
فلذہ بھی اسی طرف چلی گئی تھی رخسار کو اور جلا کر۔۔۔
۔
“تم غلط ہو فلذہ میں نے ارحام کو اتنا ذلیل اس لیے نہیں کیا تھا کہ کسی اور کا ہونے دوں۔۔
میں اسے پا لوں گی۔۔۔ تم دیکھ لینا۔۔۔ اسکی شادی سے پہلے وہ میرا ہوگا۔۔۔۔”
۔
رخسار تو سچ میں ساری پلاننگ کربیٹھی تھی۔۔۔پر اسے نہیں پتہ تھا وہ ارحام کے ساتھ کھڑی لڑکی کوئی عام لڑکی نہیں تھی۔۔۔
عشنا ضیشم تھی وہ۔۔۔ گھمنڈی۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کچھ زیادہ ہی خوشیاں نہیں محسوس ہورہی مسٹر ارحام۔۔؟؟ دانت زرا کم نکالیں۔۔۔”
عشنا نے اسے ڈانٹا تھا جو اور کھلکھلا کر ہنس دیا تھا۔۔۔
“کیوں نہ خوش ہوں۔۔۔؟؟ آخر اسے پا لیا ہے جسے وہ پانا چاہتا تھا۔۔۔”
ارحام نے دروازے پر کھڑے عاصم کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
“ارحام۔۔۔”
عشنا نے اسکی بات پر شاکڈ ہوکر پوچھا تھا۔۔۔
“تم آج سے میری ہوئی مس گھمنڈی۔۔۔”
وہ اور شاکڈ ہوگئی تھی ارحام کے اس کھلے اظہار پہ۔۔۔ اور اسی وقت لائٹس آف ہوگئی تھیں۔۔۔
ایک سافٹ ٹیون سونگ شروع ہوا تھا۔۔۔اور دو سپوٹ لائٹس ان پر آگئیں تھیں۔۔۔
اور ایک ضیشم صاحب پر۔۔۔
“بیگم۔۔۔؟؟”
ضیشم صاحب نے سب کے سامنے لبابہ کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا جو غصے سے دیکھنا شروع ہوئی تھی۔۔۔
“وااااہ۔۔۔ بھئ واہ ضیشم۔۔۔ بڈھے ہوگئے ہو جوانی کے کارنامے نہیں بھولے۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے جیسے ہی کہا تھا ہال میں موجود تمام ہی گیسٹ ہنس دئیے تھے
“ضیشم۔۔۔۔”
“ہماری بیٹی کی خوشی کے لیے۔۔۔”
لبابہ نے آنکھیں بند کرکے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔اور اپنا ہاتھ ضیشم صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا
۔
“دل نے میرے۔۔ تیرے دل سے کہا۔۔۔
عشق توہے وہی۔۔۔جو ہے بے انتہا۔۔۔
تو نے کبھی جانا ہی نہیں۔۔۔
میں ہمیشہ سے تیرا۔۔۔ تیرا ہی رہا۔۔۔۔”
۔
لبابہ کی ویسٹ پر ہاتھ رکھے انہیں نے کپل ڈانس شروع کیا تھا۔۔۔
۔
“مئے آئی۔۔؟؟ مس گھمنڈی۔۔۔؟؟”
ارحام نے بھی عشنا کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔ وہ آج ہر ایک لمحہ اینجوائے کرنا چاہتا تھا۔۔۔
۔
“کہ جب تک جئیوں میں۔۔۔جیوں ساتھ تیرے۔۔۔
پھر چاند بن جاؤں ۔۔۔تیری گلی کا۔۔۔”
۔
ارحام نے اسکی ویسٹ پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا سارا ہال ہوٹنگ اور ٹیزنگ سے گونج اٹھا تھا۔۔۔
۔
“میں جس دن بھلا دوں۔۔۔ تیرا پیار دل سے۔۔۔
وہ دن آخری ہو میری زندگی۔۔۔”
۔
“لبابہ یاد آیا کچھ۔۔۔؟؟”
‘ہم ۔۔۔تم کہتے تھے
” نہ ٹھہرے گا کوئی آنکھوں میں میری
ہو نہ سکوں گا۔۔۔میں اور کسی کا۔۔۔”
پر تم تو ہوگئے نہ کسی اور کے ضیشم۔۔۔؟؟”
لبابہ نے جیسے ہی ضیشم صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
عشنا نے اسی وقت اپنا سر ارحام کے کندھے پر رکھ دیا تھا۔۔۔ اسکی نظریں اپنے موم ڈیڈ پر تھیں۔۔
ان دونوں کی بےبسی پر تھی۔۔۔
“عش۔۔۔۔”
ارحام کہتے کہتے رکا تھا جب اپنے کندھے پر اسے نمی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ اور اسکی نظریں بھی دوسری جانب گئی تھیں
جہاں لبابہ بیگم اور ضیشم صاحب تھے۔۔۔
“شش اٹس اوکے۔۔۔۔”
اور عشنا نے نظریں اٹھا کر ارحام کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔۔
۔
“ملا تو۔۔۔مجھے توووو مگر دیر سے کیوں۔۔۔
ہمیشہ مجھے یہ شکایت رہے گی۔۔۔”
۔
“ان آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگتے۔۔۔۔”
ارحام نے ااپنی انگلیوں سے اسکے آنسو صاف کئیے تھے۔۔۔
۔
“لگا لے گلے سے۔۔۔ مجھے بن بتائے۔۔۔
عمر بھر تجھے یہ اجازت رہے گی۔۔۔”
۔
“میرا دل کررہا تھا تمہیں اپنے گلے سے لگا لوں تمہارے سارے درد مجھے میں سما جائیں۔۔
پر میں انتظار کروں گا ہمارے نکاح کا عشنا۔۔۔”
عشنا نے چہرہ دوسری طرف کرلیا تھا۔۔۔ بے رخی سے اپنے آنسو صاف کئیے تھے اس نے۔۔
وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی سامنے کھڑے اس شخص کے سامنے۔۔۔ جس نے کوئی موقع نہیں چھوڑا تھا اسے ہرٹ کرنے کا۔۔۔
اب کے اس نے نظر اٹھا کر اپنے موم ڈیڈ کی طرف دیکھا تو لبابہ بیگم اپنا ہاتھ چھڑا کر وہاں سے جا چکی تھیں۔۔۔
۔
“میں ابھی آئی۔۔۔”
عشنا بھی ایکسکئیوز کرکے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔
۔
“ارحام جی واہ واہ۔۔۔۔ یار آخر تم کامیاب ہوگئے اس امیر زادی کو پھنسانے میں۔۔۔”
مننان بھائی باقی سب کے ساتھ ارحام کو مبارک باد دینے پہنچے تھے پر رہ نہیں پائے تھے طنز کئیے بغیر۔۔۔
“مننان۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے بڑے بیٹے کو غصے سے دیکھا تھا
“ارے ابو غلط کیا کہا میں نے۔۔۔؟؟ ارحام تم اب اس گھمنڈی کو اپنی انگلیوں پہ نچا سکتے ہو”
“اننف مننان بھائی۔۔۔ وہ لڑکی منگیتر ہے اب میری۔۔۔ بار بار گھمنڈی کہنا بند کریں۔۔۔
عزت ہے وہ میری۔۔۔ ہمارے خاندان کی۔۔۔ آپ بڑے ہیں۔۔ باپ کے درجے پہ ہیں تو وہیں رہیں۔۔۔
اور جہاں تک رہی بات پھنسانے کی تو میں تو امید ہی ہار بیٹھا تھا کہ وہ مجھے ملے گی۔۔۔”
ارحام کی بات میں نرمی نے فلذہ کو ایک پتھر بنا دیا تھا۔۔۔
“امی ابو۔۔۔۔ آپ دونوں نے راضی کیا نہ۔۔۔؟؟ آپ دونوں نہیں جانتے کہ اگر میں ہاتھ میں چراغ لے کر بھی ڈھونڈتا تو عشنا جیسی لائف پارٹنر نہ مل پاتی مجھے۔۔۔
جو آپ دونوں نے مجھے دہ دی ہے۔۔۔۔ میں اسے ہمیشہ خوش رکھوں گا۔۔۔
بہت خوش رکھوں گا۔۔۔۔”
اسمارہ بیگم نے آگے بڑھ کر ارحام کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔
آج اس نے اپنے پورے خاندان کے سامنے اپنے جذبات رکھ دئیے تھے۔۔۔
وہ جو اپنی لائف کو پرائیویٹ رکھتا آیا تھا۔۔۔
آج عشنا کے لیے اپنی پسندیدگی کھول کر بتا دی تھی اس نے۔۔۔
“ارحام وہ ہیرا ہے۔۔۔ اسے اپنی بےقدری سے کھو نہ دینا کہیں۔۔۔”
“بلکل نہیں ابو۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ ابھی تو جینے کے معنی ملے ہیں مجھے۔۔۔
ابھی تو جینا ہے اپنے لیے اپنی خوشیوں کے لیے۔۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے اسے اپنے گلے سے لگا کر بوسہ دیا تھا ماتھے پہ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“رشنا بس بیٹا بس۔۔۔”
“بس۔۔۔؟ وہ نیچے اناؤنسمنٹ کرچکے ہیں۔۔۔ میرے ارحام کو کسی اور کے ساتھ جوڑ دیا ڈیڈ نے موم۔۔۔”
اس نے وہ گلدان اٹھا کر دیوار پر مار دیا تھا۔۔۔
جیسے کچھ دیر پہلے کیا تھا۔۔۔ اس کمرے کی ہر مہنگی چیز اٹھا کر توڑ دی تھی اس نے۔۔۔
“رشنا۔۔۔ بس کر جاؤ۔۔۔”
“نہیں کروں گی۔۔۔ ڈیڈ نے کس چیز کا بدلہ لیا ہے موم۔۔؟؟ کیوں کیا ہمارے ساتھ انہوں نے ایسا وائے۔۔۔۔”
وہ روتے روتے نیچے بیٹھ گئی تھی
“مجھے خود نہیں پتہ کیسے بدل گئے وہ۔۔۔ رشنا تمہارے ڈیڈ ایسے نہیں تھے بہت محبت کرتے ہیں وہ ہم سب سے ضرور کوئی وجہ۔۔۔”
“ہاہاہا محبت۔۔۔؟؟ کس خیالی زندگی میں ہیں آپ۔۔۔؟؟ انکی آنکھوں میں محبت صرف اس عورت کے لیے دیکھی میں نے۔۔۔
آپ ٹھہری دوسری عورت۔۔۔”
“رشنا۔۔۔۔”
تابین بیگم نے ہاتھ اٹھا دیا تھا اپنی بیٹی پر۔۔۔۔
“تا۔۔۔”
دروازے پر کھڑے ضیشم صاحب اپنی بیوی کو آواز دیتے دیتے رکے تھے۔۔۔
اس کمرے سے آتے شور نے مجبور کردیا تھا انہیں یہاں آنے کو۔۔۔
۔
“دوسری عورت۔۔۔؟؟ تمہارا باپ خود آیا تھا میرے پاس۔۔۔۔ محبت ہوں میں اسکی۔۔۔
وہ محبت جس کے لیے اس نے اپنا شادی شدہ گھر تک چھوڑ دیا تھا۔۔۔
سنا تم نے۔۔۔ دوسری عورت وہ ہے ہمارے رشتے میں۔۔۔ تمہارے باپ نے اپنی مرضی سے کیا تھا جو بھی کیا۔۔۔ ان دونوں کی محبت اور وہ شادی اسی دن ختم ہوگئی تھی جب تمہارے باپ نے اپنی سو کالڈ بیوی سے پہلی بار جھوٹ بولا تھا۔۔۔
مجھے دوسری عورت بولا تو منہ توڑ دوں گی تمہارا۔۔۔۔یہ لفظ زہر لگتا ہے مجھے۔۔۔”
رشنا نے ہنستے ہوئے اپنے گال سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا تھا۔۔۔
“آپ کو تب یہ لفظ زہر نہیں لگا جب آپ خود بنی دوسری عورت موم۔۔۔ اب جب کوئی اور درمیان میں آگیا ہے تو۔۔۔
آپ جانتی ہیں۔۔۔ آپ دوسری عورت ہیں وہ نہیں۔۔۔وہ۔۔۔”
رشنا کو ایک اور تھپڑ مارا تھا تابین نے۔۔۔۔”
ضیشم صاحب نے دروازہ بند کردیا تھا آہستہ سے اور پاس دیوار پر سر رکھ لیا تھا اپنا۔۔۔
۔
“اک تجھ پہ تھا بھروسہ۔۔۔ تو زبان سے پھیر گیا۔۔۔
مجھ پہ تو آسمان سا۔۔۔کوئی جیسے گر گیا۔۔۔۔”
“تابین کیا کردیا میں نے تمہارے لیے اور تم۔۔۔۔”
۔
“تیرے قدموں پہ تھا رکھا۔۔۔ میں نے یہ جہاں۔۔۔
ٹھکرایا تو نے مجھ کو۔۔۔جاؤں میں کہاں۔۔۔۔”
۔
“تمہاری غلطی نہیں تھی تابین۔۔۔ غلطی میری تھی۔۔۔ ہر محبت ہر رشتے میں تم جیسے لوگ آتے ہیں۔۔۔ اگر مجھ جیسے مرد ہی کمزور ہوں تو رشتے ایسے ہی ٹوٹتے ہیں جیسے میرا ٹوٹا لبابہ کے ساتھ۔۔۔۔
۔
“میری سمجھ نہ کجھ وی آوے۔۔۔
میری جان چلی نہ جاوے۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عشنا۔۔۔۔”
عاصم کی درد بھری آواز سن کر عشنا کی گرفت اور مظبوط ہوئی تھی اس رئیلنگ پر۔۔۔
“خالہ نہیں آئی نہ۔۔۔؟؟ نہ ہی نانو۔۔۔؟؟”
“وہ کیسے آتی۔۔؟؟ انہیں کونسا انکی بیٹی نے دعوت دی تھی۔۔ انہیں تو انکی بیٹی کی بیٹی نے بلایا تھا۔۔۔”
عاصم پاس آکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
“عاصم۔۔۔”
عاصم نے عشنا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئیے تھے۔۔۔
“میری موم کی۔۔۔ اور موم کی موم کی بہت خواہش تھی تمہیں اس گھر کی بہو اور میری بیوی بنتے دیکھنے کی۔۔۔”
“اووو۔۔۔۔۔”عشنا نے سر نیچے کرلیا تھا۔۔۔۔
“پر خواہشیں پوری ہوجائیں ایک بار میں تو یہاں کوئی طلبگار نہ رہے کسی کا۔۔؟؟”
ٹیریس پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں ایک سکون سا دے رہی تھیں عشنا کو۔۔۔ پر اب عاصم کی باتوں نے وہ سکون جیسے چھین لیا تھا۔۔۔
۔
“اووو رے لمحے تو کہیں مت جا۔۔۔
ہوسکے تو ۔۔۔عمر بھر تھم جا۔۔۔۔”
۔
“عاصم۔۔۔۔موم فون کرنا چاہتی تھی۔۔۔”
عشنا نے نظر چرا لی تھی۔۔۔پر عاصم۔۔۔وہیں کھڑا حسرت بھری نگاہوں سے اس خوبصورت لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“تم آج سے پہلے اتنی خوبصورت نہیں لگی تھی عشنا۔۔۔ارحام کے نام کا رنگ چڑھ گیا ہے۔۔۔”
“یہ تو بلکل ٹھیک کہا۔۔۔”
ارحام عشنا کے پاس آکر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔ آج اسکی نظروں میں عشنا کے لیے شک نہیں تھا۔۔۔
پر عاصم کے ہاتھ عشنا کے ہاتھ میں دیکھ کر اسکی آنکھوں میں غصہ ضرور آیا تھا۔۔۔
“خوش نصیب ہو۔۔۔جو تمہیں یہ ملی۔۔۔ پر عشنا کے لیے میں یہ سب نہیں کہ سکتا۔۔۔
کیونکہ تم میں کچھ ایسا ہے نہیں جو اسکی خوش نصیبی بنے۔۔۔”
عاصم نے ابھی بھی عشنا کے ہاتھ نہیں چھوڑۓے تھے۔۔۔ اپنی کڑوی باتوں سے اس نے ارحام کو ری ایکٹ کرنے پہ مجبور کردیا تھا
“مجھے خوشی ہے کہ مجھ میں وہ سب نہیں جو تم میں ہے۔۔۔۔ اس لیے وہ آج میری ہے۔۔۔
ورنہ میں بھی تمہاری جگہ پہ کھڑا ہوتا اتنا سب ہونے کے بعد بھی۔۔۔
اور جہاں تک خوش نصیبی کی بات۔۔۔ وہ تو میں ہوں۔۔۔ مجھے یہ ملی ہے۔۔۔ جس کی طلب سب کو تھی۔۔۔
مجھے اسکا ساتھ مل گیا ہے۔۔۔ کافی ہے میرے لیے۔۔۔”
ارحام نے آہستہ سے کہتے کہتے عاصم کے ہاتھوں سے عشنا کے ہاتھ چھڑا دئیے تھے۔۔۔۔
“سب نیچے ڈنر کے لیے بلا رہے ہیں۔۔۔جلدی آجانا۔۔۔”
ارحام عشنا کے اسی ہاتھ پر بوسہ دے کر نیچے چلا گیا تھا جس ہاتھ میں وہ منگنی کی رنگ پہنی ہوئی تھی اس نے۔۔۔
۔
وہ حیران کرگیا تھا اپنے ایکشن اور باتوں سے اس گھمنڈی کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“شکر اللہ کا سب اچھے سے ہوگیا امی۔۔۔ سب کتنا خوش تھے نہ ضیشم بھی لبابہ کے ساتھ۔۔۔”
“ہاں شمع۔۔۔ اتنے سالوں کے بعد ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھا۔۔۔ اللہ کرے وہ دونوں ایسے ہیں رہیں۔۔۔”
۔
ملازم گھر کی صفائی میں مشغول تھے اور گھر کے لوگ آپس میں آج کی گزرے فنکشن کو ڈسکس کررہے تھے۔۔۔
مہمان سب جا چکے تھے کچھ ہی دیر پہلے۔۔۔
۔
۔
“لبابہ تم نے کھانا نہیں کھایا۔۔۔”
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے تھے پلیٹ لیکر وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔
اور جب واپس آنے لگے تھے تو باتھروم سے بہت عجیب سے آوازیں آرہی تھی انہیں۔۔۔
“عشنا بیٹا۔۔؟؟ آر یو آلرائٹ۔۔۔؟؟ لبابہ۔۔۔؟؟”
ہچکچاتے ہوئے جیسے ہی دروازہ کھولا تھا باتھروم کا تو لبابہ سنک میں سر جھکائے الٹیاں کررہی تھی۔۔
“لبابہ۔۔۔؟؟”
وہ پلیٹ ٹیبل پر رکھے باتھروم میں داخل ہوئے تھے۔۔۔ اور لبابہ بیگم نے جلدی سے پانی ڈال کر اپنا منہ صاف کیا تھا۔۔۔
“لبابہ تم ٹھیک ہو۔۔؟؟”
“تم کس کی اجازت سے اندر آئے ہو ضیشم۔۔۔؟ پوری شام تو برباد کردی میری۔۔ اب جاؤ یہاں سے۔۔۔”
“لبابہ۔۔۔”
“گیٹ آؤٹ پلیز۔۔۔۔”
اور ٹاول منہ پر رکھے باہر آگئی تھیں جیسے کچھ چھپا رہی ہوں۔۔۔
“لبابہ۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔ ؟؟”
“کچھ نہیں زیادہ کھانا کھا لیا تھا شاید۔۔۔”
“جھوٹ مت بولو۔۔۔ تم نے کچھ بھی نہیں کھایا میں تمہیں ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔”
“اب تم میری جاسوسی بھی کرنے لگے ہو۔۔؟؟”
“نہیں۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔”
“جو بھی تھا۔۔۔ خدا کے لیے جاؤ۔۔۔”
وہ ٹاول غصے سے پھینک کر کپبرڈ کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
“لبابہ میری بات سن لو۔۔۔”
“تم نے میری بات سنی تھی۔۔؟؟ جب میں عشنا سے ملنے کی فریاد کرتی تھی تمہیں۔۔؟؟
جب میں تمہیں منع کرتی تھی تابین کے ساتھ تعلقات بنانے سے۔۔۔ تم نے سنی تھی میری بات۔۔؟؟
میری پوری زندگی کھا گئی تمہاری محبت ضیشم۔۔۔ مجھے برباد کردیا ۔۔۔
اب کچھ نہیں ہے۔۔۔ یہ زندگی بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔یہ بلبلہ بھی۔۔۔”
وہ کہتے کہتے رکی تھیں۔۔۔۔
“لبابہ خدا کا واسطہ ہے ایسی باتیں مت کرو۔۔۔میرے دل میں تمہاری لیے محبت کبھی کم نہیں ہوئی۔۔۔ میں “
“تم کیا۔۔؟؟ تم کچھ نہیں ضیشم۔۔۔تم۔۔۔”
کہتے کہتے انہیں پھر سے کھانسی آئی تھی۔۔۔ وہ ٹاول کو منہ پر رکھے انہوں نے جیسے ہی کھانسی کرنا شروع کی تھی
ضیشم صاحب نے اس ٹاول پر لگے خون کو دیکھ لیا تھا۔۔۔ پاؤں سے جیسے زمین نکل گئی تھی خون سے بھرے ٹاول کو دیکھ کر۔۔۔
۔
“لبابہ۔۔۔”
وہ کھانسی کرتے کرتے ہی بےہوش ہوگئی تھی۔۔۔
“لبابہ۔۔۔۔”
وہ لبابہ کو اٹھا کر اس کمرے سے باہر لے گئے تھے۔۔۔
۔
“ہاہاہا اور ضیشم بھائی ابھی بھی اتنے ہی رومینٹک ہیں لبابہ بھابھی کے لیے۔۔۔ “
وہ لوگ ہنستے ہنستے رکے تھے جب ضیشم نیچے آئے تھے بےہوش لبابہ کو لے کر۔۔۔۔
“یا اللہ۔۔۔ضیشم کیا ہوا ہے لبابہ کو۔۔۔اوریہ خون اسکے منہ سے۔۔؟؟کیا تم نے۔۔”
انہوں نے شک بھری نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جو اشکبار تھا اپنی بیوی کی یہ حالت دیکھ کر۔۔۔
۔
“امی۔۔۔ میں ایسا کبھی نہیں کرسکتا۔۔۔ یا اللہ آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں۔۔؟؟
شمع۔۔۔ اوپر کمرے سے وہ خون سے بھرا تولیہ کہیں چھپا دو،،،، عشنا کو کچھ نہیں پتہ چلنا چاہیے۔۔۔
وہ پوچھے تو کہہ دینا لبابہ اپنی دوست کے پاس گئی ہے۔۔۔کچھ بھی۔۔۔پلیز۔۔۔”
وہ التجا کرکے لے گئے تھے لبابہ کو۔۔۔
بہت سی آوازوں اور لوگوں نے انہیں باہر تک فالو کیا تھا۔۔۔پر انہیں فکر نہیں تھی۔۔۔
“لبابہ۔۔۔پلیز۔۔۔۔”
گاڑی میں لٹاتے ہوئے ایک ہی بات بار بار دہرا رہے تھے وہ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
ڈاکٹر صاحب میری بیوی اب کیسی ہیں۔۔۔پلیز کچھ بتائیں۔۔۔”
“ضیشم رک جا یار ۔۔۔ حوصلہ رکھ۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کیا تھا انہیں۔۔۔
“انکی حالت اب ٹھیک ہے۔۔۔پر۔۔۔”
“پر کیا ڈاکٹر۔۔۔؟؟”
“ایم سوری۔۔۔پر انکے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔۔۔اور آج انہوں نے میڈیسن بھی نہیں لی جسکی وجہ سے انہیں خون کی الٹیاں آئی۔۔۔”
“کیا بکواس کررہے ہو ڈاکٹر۔۔۔؟؟ کونسا وقت۔۔۔؟؟ دماغ ٹھیک ہے تمہارا۔۔۔؟؟”
انہوں نے گریبان پکڑ کر جھنجھوڑ دیا تھا
“ضیشم۔۔۔۔”
ابراہیم صاحب نے انہیں پیچھے کردیا تھا۔۔۔
“دیکھیں میں آپ کی حالت کو سمجھ سکتا ہو۔۔۔آپ ابھی اپنی بیوی سے ملیں۔۔ اور پھر میرے کیبن میں آئیے۔۔۔”
ڈاکٹر وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔اور ضیشم غصے سے خود کو چھڑا کر اندر آئی سی یو میں چلے گئے تھے
“لبابہ۔۔۔۔”
وہ گرتے پڑتے اس بیڈ کے پاس چلے گئے تھے جہاں وہ گھمنڈی لیٹی ہوئی تھی منہ پر آکسیجن ماسک لگائے۔۔۔
“گھمنڈی۔۔۔۔”
آنکھوں کو صاف کئیے وہ بیڈ کے پاس آکر بیٹھ گئے تھے۔۔۔
“تم۔۔۔ تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ میں تمہیں بچا لوں گا لبابہ۔۔۔ تم دیکھ لینا میں تمہیں۔۔۔”
“تم جاننا نہیں چاہو گے۔۔۔مجھے ہوا کیا ہے۔۔۔؟؟”
انہوں نے ماسک جیسے ہی اتارنے کی کوشش کی تھی ضیشم صاحب نے انکے ہاتھ کو روک دیا تھا۔۔۔
“نہیں لبابہ۔۔۔ ابھی اسے مت اتارو۔۔۔ کچھ غلط نہ ہوجائے۔۔۔ جب تک میں اچھے ڈاکٹر سے بات۔۔۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔میرا برین ٹیومر لاسٹ سٹیج پر ہے ضیشم۔۔۔۔
ہاں میں اس سے بچ سکتی تھی۔۔۔ اگر۔۔۔”
“اگر۔۔۔؟؟ اگر کیا لبابہ۔۔۔۔ کوئی برین ٹیومر نہیں ہے تمہیں پاگل۔۔۔
تم ٹھیک ہو۔۔۔۔”
لبابہ نے زبردستی ماسک اتار دیا تھا اپنا۔۔۔
“اگر کچھ سال پہلے مجھے پاگل خانے ایڈمٹ کروانے کے بجائے مجھے کسی ہسپتال لے جاتے تو شاید میں اس بیماری سے جیت جاتی۔۔۔
تم جانتے ہوئے وہاں سے گرنے کے بعد میں بچ کر بھی نہیں بچی تھی۔۔۔
جس وقت تم اپنی شادی میں اپنے بچوں میں مصروف تھے۔۔۔ اس وقت میرے دماغ میں یہ ٹیومر گھر بنا رہا تھا اپنا۔۔۔”
“لبابہ۔۔۔۔”
لبابہ کے کندھے پر سر رکھے وہ رونا شروع ہوگئے تھے۔۔۔۔ وہ جو نہیں روئے تھے لبابہ کے جانے پر۔۔۔۔ اپنی بیٹی کو بوڈنگ بھیجنے پر۔۔۔ اپنی شادی خراب کرنے پر۔۔۔
اپنی بیوی کو دھوکا دینے پر۔۔۔وہ جو کبھی نہیں روئے تھے۔۔۔وہ آج رو دئیے تھے
وہ بھی بچوں کی طرح۔۔۔”
“لبابہ پلیز۔۔۔۔ پلیز لبابہ۔۔۔۔”
انکی گرفت مظبوط ہوگئی تھی لبابہ کی ویسٹ پر۔۔۔
“ضیشم۔۔۔ کیوں رو رہے ہو۔۔۔؟؟ زندگی نے ناانصافی میرے ساتھ کی ہے تمہارا تو کچھ نہیں گیا نہ۔۔۔؟؟
میرا گیا ہے میں نے کھویا ہے۔۔۔۔
میری آخری خواہش ہے عشنا کی شادی دیکھنا اسکی خوشیاں دیکھنا۔۔۔
بس تب تک ڈاکٹر سے کہنا مجھے ایسے دوائیاں دے جو مجھے ٹھیک رکھیں۔۔۔
دعا کرنا تب تک زندہ رہوں میں۔۔۔۔
اپنی بیٹی کے لیے۔۔۔۔ اپنی عشنا کے لیے۔۔۔۔
وہ برداشت نہیں کر پائے گی ضیشم۔۔۔۔”
ضیشم صاحب کے بالوں پر انکی چلتی انگلیاں رکی تھی جب ضیشم صاحب نے سر اٹھا کر اپنی بیوی کو دیکھا تھا
“اور میں۔۔۔؟؟ میں برداشت کرلوں گا ۔۔۔؟؟”
“تم تو چاہتے تھے میں چلی جاؤں ضیشم۔۔۔ تم مجھے نہیں رکھنا چاہتے تھے اپنی زندگی میں۔۔۔
اس لیے تو تم نے وہ سب کیا۔۔۔ جو کوئی دشمن بھی نہ کرے۔۔۔
تم چاہتے تھے میں چلی جاؤں۔۔۔ اب میں فائننلی جا رہی ہوں۔۔۔۔۔”
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔