51.6K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

“تمہاری جرات کیسے ہوئے مجھے یہاں لانے کی۔۔؟؟ تم ہوتے کون ہو میرے فیصلے کرنے والے۔۔۔”
عشنا نے ارحام کا گریبا پکڑ لیا تھا
“تمہارا شوہر۔۔۔ لیگلی ویڈڈ ہسبنڈ ۔۔۔۔ نکاح ہوا کل ہمارا۔۔۔ اپنی بیوی کو گھر لانے کے لیے مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔۔”
“گو ٹو ہیل۔۔۔”
عشنا دروازے کی جانب بڑھی تھی جب ارحام نے اسے بازو سے پکڑ لیا تھا
“تم اس حالت میں یہاں سے نہیں جارہی۔۔۔ کہیں نہیں جارہی۔۔”
“تم مجھے یہاں باندھ کر نہیں رکھ سکتے میں جاؤں گی یہاں سے موم میرا انتظار کررہی ہوں گی۔۔۔”
عشنا کی پلکیں بھیگنا شروع ہوئی تو ارحام کی آواز بھی آہستہ ہوگئی تھی
“وہ زندگی نام کے انتظار سے بہت آگے کی منزل طہ کرچکی ہیں عشنا۔۔۔ اب انتظار ہمیں کرنا ہے۔۔۔
وہ جاچکی ہیں بنا کسی کا انتظار کئیے۔۔۔”
“جھوٹ بول رہے ہو تم تمہاری ہی کوئی چال ہوگی اس میں بھی۔۔۔ وہ کہیں نہیں گئی۔۔۔۔جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔”
ارحام سے اپنا بازو چھڑا نے کی وہ بہت کوشش کررہی تھی ارحام کے سینے پر ہاتھ مار کر وہ خود کو اس مظبوط گرفت سے بری کرنا چاہتی تھی اور اگلے ہی لمحے وہ بیڈ کے ساتھ پن تھی۔۔۔
ارحام کو پہلی بار اپنے اتنا نزدیک پاکر اسکی سانس تھم گئی تھی آنکھوں سے بےپناہ آنسو جاری تھے
“عشنا۔۔۔ وہ تو چلی گئیں ہیں۔۔۔ پر تمہیں میں کہیں نہیں جانے دوں گا۔۔۔ اس وقت بیٹیاں قبرستان نہیں جاتی کیوں انکی روح کو اذیت دینا چاہتی ہو۔۔؟؟”
ان روتی ہوئی آنکھوں پر جھک کر ارحام نے بوسہ لیا تھا جس کی خود کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں عشنا کی آنکھوں میں درد کی انتہا دیکھ کر۔۔۔
۔
“ارحام ۔۔۔ماما۔۔۔۔وہ۔۔۔”
“جانتا ہوں۔۔۔ “
“وہ سچ میں چلی گئیں ہیں ارحام وہ کہتیں تھیں وہ میرا سہارا ہے۔۔۔۔”
ارحام بیڈ کی دوسری سائیڈ پر لیٹ گیا تھا عشنا کو اپنی آغوش میں لئیے۔۔۔ جہاں وہ جی بھر کر رونا شروع ہوئی تھی۔۔۔
وہ گھمنڈی اس جگہ آکر ٹوٹی تھی جس جگہ سے اس شخص نے اسے سمیٹنا تھا دوبارہ کبھی نہ ٹوٹنے کے لیے۔۔۔۔
۔
آج اس نے وعدہ کیا تھا وہ اس گھمنڈی کو اپنی آنکھوں کا تارا بنا کر رکھے گا۔۔۔
“لبابہ آنٹی کے علاوہ تمہیں کسی اور کے لیے روتا نہ دیکھوں میں۔۔۔۔ ان آنکھوں میں پھر سے زندگی کی سات بہاریں بھر دوں گا میں عشنا ارحام ابراہیم۔۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“عشنا ۔۔۔عشنا ۔۔۔ میری پری۔۔۔”
“ماما۔۔۔”
وہ اس آواز کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی تھی ان سر سبز میدانوں میں۔۔۔ جہاں کی روشنی نے اسے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کردیا تھا،،،
“عشنا۔۔۔”
“ماں۔۔۔۔”
اپنی ماں کے کھلے بازؤں کی طرف بھاگی تھی
“آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ میں ڈر گئی تھی۔۔۔ تھنک گاڈ آپ ٹھیک ہیں۔۔۔”
“عشنا۔۔۔بیٹا۔۔۔”
“موم۔۔۔۔”
روتے ہوئے لبابہ کے چہرے پر جیسے ہی ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تھی اسے کچھ دیکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔
“ماں۔۔۔۔”
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ گئی تھی۔۔۔ اور اٹھ گیا تھا ارحام بھی۔۔۔
“عشنا۔۔۔”
“ماں۔۔۔ مجھے ماں کے پاس جانا۔۔۔ وہ مجھے بلا رہی ہیں۔۔۔ یا اللہ۔۔۔۔”
ارحام نے پہلی بار اسے اس طرح سے دیکھا تھا۔۔۔ لبابہ کے انتقال کے بعد سے اب تک وہ اس گھمنڈی کو مسلسل بکھرتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“عشنا سچائی کو جھٹلانے سے وہ واپس نہیں آئیں گی۔۔”
ارحام ساتھ بیٹھے سر جھکا چکا تھا وہ اسی طرح تھے جیسے وہ رات میں تھے جب عشنا روتے روتے سو گئی تھی اسکے سینے پر سر رکھے۔۔۔
“وہ نہیں آئیں گی تو میں چلی جاؤں گی ویسے بھی کون ہے میرا۔۔؟ میرا کوئی نہیں رہا میں بےسہارا ہوگئی یتیم کرگئیں وہ مجھے۔۔۔”
منہ صاف کرتے ہوئے اسکے ہاتھوں کی وہ کانچ کی چوڑیاں کھنک رہی تھیں تو آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔۔
“عشنا میری بات سنو۔۔۔”
ارحام کو خود سے پیچھے کرکے وہ بیڈ سے اٹھ گئی تھی۔۔
“عشنا ٹائم دیکھ رہی ہو تین بج رہے ہیں۔۔۔۔ اور ان کپڑوں میں جانا چاہتی ہو۔۔؟؟”
ارحام بہت آہستہ سے اسکی طرف بڑھا تھا وہ عشنا کو اور بےبسی کی حالت میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا وہ جانتا تھا سے سکون اس قبر کو دیکھ کر آئے گا جہاں کچھ دیر پہلے دفن کیا گیا عشنا کی کُل کائنات کو۔۔۔
“ارحام۔۔۔۔”
ارحام نے دو قدموں کا فاصلہ بھی ختم کردیا تھا جب عشنا نے بھیگا ہوا چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا اسجے سینے پر ہاتھ رکھے اسکی تیز دھڑکنے عشنا کو اور رولا رہی تھی اسکی شیروانی اور اپنے سرخ جوڑے کو دیکھ کر وہ اور رو دی تھی
“ارحام۔۔۔ماما مجھے اس سرخ جوڑے میں دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔ میں چینج نہیں کرسکتی جب تک ان سے مل نہیں لیتی۔۔۔ تم انکی پسند تھے۔۔۔ تمہیں اس شیروانی میں دیکھ کر بہت خوش ہوں گی۔۔۔”
عشنا کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھے ارحام نے اپنے اور پاس کیا تھا اسے۔۔۔ اسکی آنکھیں بھی بھر رہی تھیں پر وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا
“انہوں نے ہمیں دیکھ لیا تھا عشنا۔۔۔ نکاح سے پہلے۔۔۔ نکاح کے بعد۔۔۔
عشنا۔۔۔”
عشنا کے ماتھے پر اپنا سرسر رکھ دیا تھا اس نے۔۔
“وہ بہت خوش تھیں۔۔۔یا پھر میری خوشیوں کے لیے برداشت کررہی تھیں۔۔۔
کیسے کر گئیں وہ میرے ساتھ ایسا۔۔۔؟؟ اور کیسے دے دیا دھوکا تم نے مجھے۔۔۔؟؟
مجھے لگتا ہے میں تم سب کو کبھی معاف نہیں کرپاؤں گی۔۔۔”
ایک جھٹکے سے وہ پیچھے ہٹی تھی لہنگا ہاتھ میں پکڑے وہ اس کمرے سے باہر بھاگ گئی تھی اور پھر اس گھر سے باہر۔۔۔اور پیچھے پیچھے ارحام بھاگا تھا۔۔۔
“عشنا۔۔۔پلیز۔۔۔ میں لیکر چلتا ہوں پلیز۔۔۔۔”
ارحام نے بائک کی چابی نکال لی تھی۔۔۔ عشنا اس سڑک پر ننگے پاؤں چل رہی تھی جب ارحام بائیک سٹارٹ کئیے اسکے پاس لے گیا تھا۔۔
“پلیز بیٹھ جاؤ۔۔۔ تمہیں تو انکا پتہ بھی نہیں پتہ انکی آخری آرام گاہ کا مجھے پتہ ہے۔۔۔”
بنا کچھ کہے وہ بائیک پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
اور کچھ دیر میں وہ تیز بارش میں بھیگتے ہوئے قبرستان کے باہر کھڑے تھے۔۔۔۔
سٹیل کی گرل بند تھی عشنا نے جیسے ہی وہ کھولنے کی کوشش کی پیچھے سے چوکیدار وہاں آگیا تھا۔۔۔
“کون ہیں آپ لوگ۔۔؟؟ اس وقت اندر نہیں جا سکتے صبح کے وقت آئیے گا۔۔۔”
“ارحام مجھے ابھی اندر جانا ہے۔۔”
عشنا نے اس چوکیدار کو غصے سے دیکھا تھا اور پھر ارحام کو۔۔۔”
“ہم بس پانچ منٹ کے لیے اندر جائیں گے اور واپس۔۔۔”
“معاف کیجئے صاحب اجازت نہیں ہے یہ دروازہ صبح کھلے گا۔۔۔”
“یو۔۔۔”
وہ چوکیدار چلا گیا تھا اور اس سٹیل کے دروازے پر لگے بڑے سے تالے کو دیکھ کر عشنا نے اس شہر خاموشاں کو دیکھا تھا۔۔۔ جہاں دور دور تک خاموشی تھی
“ماما۔۔۔۔”
ایک آہ سی نکلی تھی اسکے لبوں سے۔۔۔
“عشنا ابھی گھر چلتے ہیں صبح میں خود تمہیں لےکر آؤں گا یہاں۔۔”
“نہیں۔۔۔ نہیں جاؤں گی کہیں بھی۔۔۔ تمہیں جانا ہے تو جاؤ اپنے گھر۔۔۔ اور جشن مناؤ اپنی شادی کا۔۔۔ میں اپنے سوگ کر ماتم کرکے اپنی دنیا میں لوٹ جاؤں گی۔۔۔”
ارحام نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا
“جشن۔۔؟؟ جشن منانا ہوتا تو یوں تمہارے ساتھ نہ کھڑا ہوتا۔۔۔وہ جو وہاں اندر لیٹی ہوئی ہیں منوں مٹی تلے۔۔۔ وہ میری بھی کچھ لگتی تھیں۔۔۔ تم مانو یا نہ مانو۔۔۔ جیسے انہوں نے مجھے اپنا سمجھا تھا۔۔۔میرے لیے بھی وہ میری دوسری ماں تھیں۔۔۔”
اس بارش میں اسکی آنکھوں کے آنسو پانی بن گئے تھے اور عشنا تھی کہ سب اگنور کررہی تھی۔۔۔ جیسے اب اس نے ارحام کی ہر بات کو ان سنا کردیا اور خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروا لیا تھا منہ پھیر کر وہ وہیں کھڑی ہوگئی تھی جب ارحام نے اسکے کندھے پر سے اسکے دوپٹے سے اسکا سر کور کردیا تھا
“عشنا واپس چلو۔۔۔ ابھی بھی کچھ گھنٹے ہیں۔۔۔ کیسے کھڑی رہو گی۔۔۔”
“نہیں جاسکتی۔۔۔ نہیں جا سکتے انہیں ملے بغیر۔۔۔ انہیں دیکھے۔۔۔
اب وہ مجھے نظر نہیں آئیں گی۔۔۔۔ میری ماں مجھے اب نظر نہیں آئے گی۔۔۔
ارحام کیوں نہیں بتایا مجھے۔۔۔ کیوں نہیں بتایا۔۔۔ یا اللہ۔۔۔ کچھ دن تھے۔۔۔ کچھ دن میں انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ جاتی انکا ماتھا چوم لیتی کچھ باتیں کرلیتی ۔۔۔
کچھ دن میں میں صدیوں جتنا پیار لے لیتی اپنی ماں سے کیوں نہیں بتایا ارحام۔۔۔”
ارحام کے گریبان پر عشنا کے ہاتھ تھے وہ جھنجھوڑ رہی تھی اسے۔۔۔ اور کسی چھوٹے بچے کی طرح وہ ارحام کے گھٹنو ں پر گر گئی تھی
ارحام کے گھٹنوں پر اس نے جیسے ہی سر رکھا تھا ارحام نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کرلی تھیں
۔
“ماں کہاں سے لاؤں گی۔۔۔ یہ گھمنڈی وہ گھمنڈی کہاں سے لائے گی واپس۔۔۔
میں تو آباد ہونے سے پہلے اجڑ گئی ہوں۔۔۔”
وہ چوکیدار جو کبن سے یہ سب دیکھ رہا تھا اس نے تالا کھول دیا تھا جلدی سے۔۔۔
پر عشنا میں ہمت نہیں تھی اٹھنے کی۔۔۔ارحام نے اسے وہاں سے جانے کا اشارہ کردیا تھا۔۔۔ عشنا کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر ایک گلہ ضرور ہے کیا تھا لبابہ کا نام لیکر۔۔۔
“آپ کی بات نہ مانی ہوتی میں نے کاش۔۔۔ میں ساری زندگی اپنی بیوی کا گناہ گار رہوں گا لبابہ آنٹی۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ماما۔۔۔۔السلام علیکم۔۔۔۔آپ مجھے کہتی تھیں سلام کیا کرو۔۔۔ دیکھیں میں نے بات کرنے سے پہلے آغاز کردیا سلام کرنے کا۔۔۔۔”
کچھ دیر میں دن نکل آیا تھا بارش ابھی بھی ہورہی تھی پر بہت ہلکی ہلکی۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ لٹکائے وہاں آکر بیٹھ گئی تھی اپنی ماں کی قبر کے پاس۔۔۔
لگی تختی پر ماں کے نام نے اسے اور توڑ دیا تھا۔۔۔۔
“میرے وہم گماں میں نہیں تھا ماما ایک دن آئے گا ایسا بھی۔۔۔ آپ تو میری جان تھی
آپ اپنے ساتھ میری جان لے گئیں ہیں۔۔۔”
اسے کوئی شرم محسوس نہیں ہورہی تھی مٹی میں بارش کے پانی سے اسکے کپڑے بھر گئے تھے
ارحام پیچھے کھڑا تھا پر اسے فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔
عشنا ضیشم کہاں سے چلی اور کہاں آگری تھی۔۔۔
“آپ کو جانے کی اتنی جلدی کیوں تھی۔۔۔؟؟ مجھے جی بھر کر دیکھ لیٹی اس سہاگ کے جوڑے میں۔۔۔ آپ نے بہت جلدی کی جانے کی اور مجھے ایک لمبے انتظار کے لیے چھوڑ گئیں۔۔۔۔ مجھے بھی ساتھ لے جائیں۔۔۔”
عشنا کی التجا پر ارحام کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھی وہ اور برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
آج اسے سمجھ آیا تھا وہ گھمنڈی کیوں تھی وہ پتھر دل کیوں تھی۔۔۔ اور اب وہ دعا کررہا تھا اندر قبرستان میں بیٹھی عشنا پھر سے گھمنڈی بن جائے۔۔۔ اس سے وہ گھمنڈی کی بےرخی تو برداشت ہوجائے گی پر اس عشنا کا ٹوٹنا نہیں۔۔۔
“یا اللہ میری گھمنڈی کو صبر عطا فرما دے۔۔۔اسکے دل کو قرار آجائے۔۔۔”
۔
“ماں۔۔۔میں نے خواب دیکھا۔۔۔ آپ کو دیکھا۔۔۔ آپ بھی مجھے دیکھ رہی ہیں نہ۔۔؟؟
ابھی کچھ گھنٹے ہوئے ہیں آپ کو گئے اور دیکھیں میرے کان ترس گئے ہیں۔۔۔
آپ کی پری ترس گئی ہے۔۔۔۔ مجھے اپنی آغوش میں سلا لیں۔۔۔۔ میں باہر انتظار کرکے اتنا تھک گئی ہوں۔۔۔ یہ لوگ مجھے اندر نہیں آنے دے رہے تھے
انہیں پتہ نہیں ہے شاید اندر ماں ہے میری۔۔۔۔”
وہیں اپنا سر رکھے وہ خاموش ہوگئی تھی اس قبر پر پھولوں کی پتیاں بارش میں گیلی ہوچکی تھی جن پر اپنی انگلیاں پھیر رہی تھی اور پھر اس نام پر۔۔۔
“لوونگ وائف۔۔۔۔ مدر ڈاٹر۔۔۔آپ کو ان میں سے کہیں بھی سکون نہیں ملا۔۔۔
آپ کو کسی رشتے سے سکون نہیں ملا۔۔۔
کبھی کبھی زندگی بہت ناانصافی کرجاتی ہے۔۔۔ آپ کے ساتھ بُرا کرنے والے خوش ہیں اور آپ۔۔۔ آپ خوشیاں نہ دیکھ پائیں۔۔۔ آپ بہاریں نہ دیکھ پائیں۔۔۔
آپ چھوٹا ارحام۔۔۔ چھوٹی عشنا نہ دیکھ پائی۔۔۔۔
آپ میری خوشیاں نہ دیکھ پائی ماں۔۔۔”
۔
۔
“ناجانے کونسی دنیا ہے وہ میرے ربا۔۔۔۔
جہاں سے لوٹ کے کوئی صدا نہیں آتی۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“کیا۔۔۔؟؟ آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں مجھے بھی عشنا کی وہ حالت دیکھنی تھی کیسے شیر بنتی تھی اپنی ماں کے سامنے۔۔”
رشنا کی اونچی آواز پر تابین بیگم نے کمرے کا دروازہ جلدی سے بند کرلیا تھا
“شش آہستہ بولو۔۔۔ کوئی سن لے گا۔۔۔”
“تو۔۔؟؟ سنتا ہے تو سن لے۔۔۔ موم ایک راستے کا کانٹا تو گیا اب عشنا کو ارحام کی زندگی سے باہر نکالنا ہے۔۔۔ اس نے ارحام سے شادی تو کرلی پر میں اسے ارحام کی بیوی بننے سے پہلے ڈائیورس دلوا دوں گی۔۔۔”
“رشنا پھر سے کوئی غلطی مت کردینا۔۔۔ابھی کچھ دن تو بلکل نہیں تمہارے ڈیڈ کے سامنے کوئی بھی ایسی بات مت کرنا۔۔۔”
“کیوں۔۔؟؟ ڈیڈ ہی تو اب ہمارے کام آئیں گے۔۔۔ عشنا کی ارحام سے ڈائیورس بھی وہی کروائیں گے۔۔۔ اب تو آپ خوش ہیں نہ۔۔؟؟ وہ عورت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی گئی۔۔۔”
“تم سوچ بھی نہیں سکتا لبابہ کی موت نے مجھے کتنی تسکین دی ہے میرے بس میں ہوتا تو میں اسے ایسی موت دیتی کہ۔۔۔”
“کہ۔۔۔؟؟”
پیچھے سے ایک آواز پر دونوں ماں بیٹی شاکڈ ہوگئی تھیں۔۔۔
“ضیشم۔۔۔۔”
“تابین۔۔۔۔”
دروازے کو جتنی زور سے بند کیا تھا سب لوگوں تک آواز گئی تھی
۔
“تم انسان ہو۔۔؟؟ کس طرح کی انسان ہو۔۔؟؟ میری بیوی کو گئے کچھ گھنٹے ہوئے ہیں نیچے سوگ مناتے صفہ ماتم بچھائے رشتے داروں کے ساتھ بیٹھنا تو دور کی بات تم تو جشن منا رہی ہو ۔۔”
ضیشم نے جس مظبوط گرفت سے تابین کے کندھے کو پکڑا تھا
“ڈیڈ لئیو ہر۔۔۔ کیا برا کہا انہوں نے۔۔؟؟ وبال جان بنی ہوئی تھی وہ عورت اسی کی وجہ سے عشنا نے ارحام کو حاصل کیا اچھا ہو جو وہ مر۔۔۔”
رشنا کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا تھا انہوں نے۔۔۔
“یہ میرا خون ہے۔۔؟؟ تابین۔۔۔ تم نہ خود ایک اچھی انسان بن پائی اور نہ اپنی اولاد کو اچھی تربیت دے پائی۔۔۔”
“اننف ضیشم میں سب کچھ برداشت کررہی ہوں۔۔۔ بس بہت ہوا۔۔۔ جتنا سوگ منانا ہے منا لیں واپس تو آپ کو یہیں آنا ہے میرے پاس اپنے بچوں کے پاس۔۔۔
وہ جا چکی ہے۔۔۔ اور مت بھولیں لبابہ کو اس جگہ آپ نے خود چھوڑا ہے۔۔۔
چلو بیٹا جب تک اس گھر میں سوگ ہے ہم دونوں یہاں نہیں رکیں گے۔۔۔”
“تمہیں واپس یہاں آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اب تابین بیگم۔۔۔”
تابین اور رشنا کے قدم رک گئے تھے۔۔۔
“میں تمہیں طلاق۔۔۔”
“ضیشم بس۔۔۔ بیٹا۔۔۔ بس۔۔۔”
ضیشم صاحب کی والدہ اندر داخل ہوئی تھی کمرے کے باہر وہ سب باتیں سن رہی تھیں اور بھی بہت سے لوگوں نے تمام گفتگو سن لی تھی۔۔۔مگر سب خاموش تھے۔۔
۔
“ماں آپ۔۔۔”
“نہیں ضیشم بیٹا آگے وہ لفظ نہ بولنا۔۔۔”
“واااہ دادی واہ۔۔۔۔۔ کمال ہے آپ کے انصفانہ رویے پر۔۔۔۔”
عشنا ارحام کے ساتھ کھڑی تی پیچھے اسی بکھری ہوئی حالت میں۔۔۔
“عشنا بیٹا۔۔۔”
“ڈونٹ ٹچ مئ۔۔۔۔”
دادی کے ہاتھ کو عشنا نے جھٹک دیا تھا وہ دادی جنہیں ہمیشہ عزت پیار دیا احترام کیا۔۔۔
“عشنا۔۔۔”
“آپ اب تو اپنے بیٹے کو بہت روک رہی ہیں تب کہاں تھی جب یہ میری ماں کے ساتھ زیادتیاں کررہے تھے تب کہاں تھیں آپ۔۔۔؟؟ میں ہمیشہ سمجھتی تھی آپ ان سب میں بےقصور ہیں پر میں بھول گئی تھی کہ آپ تو ماں ہیں اولاد کے گناہوں کے جتنے زمہ دار وہ خود ہوتے ہیں اتنی ماں باپ کی تربیت بھی ہوتی ہے۔۔۔”
دادی کچھ قدم پیچھے ہوگئی تھی
“نہیں عشنا میری بچی۔۔۔۔”
ضیشم آگے بڑھے تھے
“آپ نے کیسے منع کردیا کیونکہ آپ جانتی ہیں آپ کے بیٹے کا گھر تباہ ہوجائے گا اس عمر میں،،، پر میری ماں کا کیا۔۔؟؟ نہ وہ زندہ میں رہی نہ مردوں میں۔۔۔۔
اور آپ۔۔۔ یہ کیا سوگ منا رہے ہیں آپ ڈیڈ۔۔۔؟؟ کس کے جانے کا۔۔؟ جنہیں آپ نے گھر اس گھر سے نکال باہر کیا تھا۔۔۔ کیا کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔ جوانی کے خمار میں دولت کے نشے میں۔۔۔
اور آج دنیا کے سامنے یہ ڈھونگ کر رہے ہیں۔۔۔”
وہ چلائی تھی سب اکھٹے ہوگئے تھے۔۔۔ آج اسے پرواہ نہیں تھی اپنے یا اپنے ڈیڈ کے سٹیٹس کی۔۔۔
آج سے فکر نہیں تھی کہ ‘لوگ کیا کہیں گے” آج وہ سب کہنا چاہتی تھی جو وہ یہاں کہنے آئی تھی۔۔۔
۔
“آپ جانتے ہیں آج میں نے آپ کا نام نہیں لیا۔۔۔ آج میں اس بد نصیب کی قبر پر گئی تھی۔۔۔ وہ بدنصیب جسے نہ شوہر کا پیار ملا نہ اولاد کا سکھ۔۔۔ آج میں اس عورت کے پاس گئی تھی۔۔۔ جس نے ساری زندگی آپ پر واار دی۔۔۔
اب مجھے آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے۔۔۔ آپ نے اس عورت کے ساتھ اِس عورت کی لیے کیا وہ اس قابل تھیں۔۔۔؟؟”
عشنا نے تابین کی طرف اشارہ کرکے پوچھا تھا۔۔
“نہیں۔۔۔۔”
ضیشم صاحب کے جواب پر تابین ہرٹ ہوئی تھی پر عشنا کو دل کے کسی ایک کونے میں سکون ضرور ملا تھا۔۔۔
“یہ تو اور اچھی بات ہے،،،، جو بیج آپ نے بویا ہے میری دعا ہے آپ اس عذاب میں ساری زندگی رہیں۔۔۔آج کے بعد میں آپ کی صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتی ڈیڈ۔۔۔
آپ کے آس پاس بھی رہی تو میں بھی وہیں ہوں گی جہاں آپ نے میری ماں کو بھیج دیا۔۔۔”
ارحام کا ہاتھ پکڑے وہ وہاں سے لے گئی تھی اسے اپنے ساتھ۔۔۔
“اچھا ہوا جان چھوٹی۔۔ دیکھا آپ نے ماں جی۔۔ یہ تربیت تھی لبابہ کی۔۔
مسز شیر گل دیکھا آپ نے اپنی پوتی کی کرتوتیں۔۔۔”
ممتاز بیگم اپنی سیٹ سے اٹھ کر آگے بڑھیں تھیں۔۔۔
“میں نے اپنی بیٹی کو منع کیا تھا تم جیسے چھوٹے لوگ بڑے دھوکے دے سکتے ہو ایمانداری رشتہ نہیں۔۔۔ میری بات نکلی ضیشم۔۔۔ میری بیٹی نے ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا تمہاری محبت میں وہ ایسی پاگل ہوئی،،، تمہارے دھوکے نے اسے سچ میں پاگل بنا دیا۔۔۔۔
جو تم نے میرے ساتھ کیا آج وہی تمہارے ساتھ بھی ہوا چھوڑ گئی تمہاری بیٹی۔۔۔
لبابہ کو تو میں نے معاف کردیا تھا۔۔۔پر وہ ہمیں معاف نہیں کرکے گئی۔۔۔
اسکے لیے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔”
وہ اپنی بیٹی داماد اور عاصم کے ساتھ وہاں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلی گئی تھی
۔
سب ہی خالی ہوگیا تھا وہ لوگ ابھی بھی وہیں کھڑے تھے جہاں تھے۔۔۔
“ضیشم۔۔۔”
“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تابین۔۔۔۔ اس گھر سے چلی جاؤ۔۔۔ تم جہاں جس جگہ رہو گی تمہیں خرچہ ملتا رہے گا۔۔۔تمہیں زندگی میں سب کچھ ملے گا پر میں نہیں ملوں گا۔۔۔”
انہوں نے سر اٹھا کر سب کو پریشان کردیا تھا انکے بھیگے چہرے کو دیکھ کر آج سب کو وہاں وہ شخص نظر آرہا تھا۔۔۔ جس نے اپنی بیوی نہیں اپنی محبت کو کھودیا تھا۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔”
“ضیشم۔۔۔”
موم۔۔۔”
رشنا نے بےہوش تابین کو سہارا دیا تھا۔۔۔پر ضیشم صاحب کے قدم نہیں رکے تھے۔۔۔
وہ بھی گھر سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارحام عشنا بیٹا کہاں چلے گئے تھے تم دونوں ہم لوگ پریشان ہوگئے تھے۔۔۔”
اسمارہ بیگم نے ارحام اور عشنا کی حالت دیکھ کر اندازہ لگالیا تھا
اور عشنا کو آگے بڑھ کر گلے سے لگایا تھا۔۔۔ وہ جو اپنے گھر سے یہاں تک غصے میں آئی تھی اسمارہ بیگم کے گلے لگ کر عشنا وہ وہی سکون محسوس ہوا تھا جو اپنی ماں کے گلے لگ کر ہوتا تھا۔۔
پر وہ اب جذبات میں بہنا نہیں چاہتی تھی بلکل بھی نہیں۔۔۔
“میری فکر نہ کریں۔۔۔ میں آض رات کی فلائٹ سے واپس جارہی ہوں۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر ایک بجلی گرا گئی تھی ارحام کے گھر والوں پر۔۔۔
“اتنی بدتمیز بہو لائی ہو اسمارہ۔۔؟؟”
“اسکے لئیے تم نے میرے ساتھ لڑائی کی تھی ارحام۔۔؟؟ دیکھ لو چوبیس گھنٹے نہیں ہوئے اور علیحدگی کا فیصلہ سنا دیا تمہاری گھمنڈی نے۔۔۔”
مننان نے ارحام کے زخموں پر مرہم لگانے کی کوشش کی تھی جو ایک نظر اسے دیکھ عشنا کے پیچھے اپنے کمرے میں گیا تھا۔۔۔
۔
“مجھے اگلی فلائٹ چاہیے۔۔۔ورنہ پرائیویٹ جیٹ بک کروا لو مجھے ابھی واپس جانا ہے ماریہ
میرا ریزائن لیٹر میں وہاں جا کر بھیجوا دوں گی۔۔۔ کمپنی کی پوسٹ سے میں ریزائن کررہی ہوں۔۔۔ مسٹر ضیشم کو تم انفارم کردینا۔۔۔”
وہ بات کررہی تھی فون پر جب ارحام کی موجود اپنے پیچھے اسے محسوس ہوئی تھی
“تم سب ارینجمنٹ کروا کر انفارم کردینا اور کپڑوں والا پارسل کمپنی کے ڈرائیور سے بھجوا دو ارحا۔۔۔ مسٹر ابراہیم کے گھر کا پتہ ہے نہ۔۔؟؟”
عشنا نے فون بند کردیا تھا پر پیچھے نہیں پلٹ کر دیکھا تھا
“تم جارہی ہو واپس۔۔؟؟ ابھی ابھی تو تمہیں پایا تھا عشنا۔۔۔۔ ابھی کھونے کے در پہ ہوں۔۔۔ میں تمہیں روکوں گا نہیں۔۔۔ مجبور بھی نہیں کرو ں گا۔۔۔”
وہ پیچھے ہوا تھا جب عشنا نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“مجھے کھونا نہیں چاہتے تو میرے ساتھ چلو۔۔۔ یہاں سے بہت دور میری دنیا میں۔۔”
اسکے چہرے پر کوئی نرمی کوئی پیار نہیں تھا آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی آج وہی غرور تھا اس گھمنڈی کے چہرے پر جب اس نے ارحام کے سامنے یہ آفر رکھی تھی
“ساتھ چلوں۔۔۔؟؟ تمہاری دنیا میں۔۔؟؟ ہمارے نکاح کے بعد میرا تمہارا کچھ نہیں رہا تھا عشنا۔۔۔
میں تم سے ہم ہوئے تھے اس نکاح کے بعد۔۔۔میں کیسے اپنے ماں باپ اپنی فیملی کو چھوڑ کر ساتھ جا سکتا ہوں عشنا۔۔۔؟؟
میں شوہر ہوں اور جب میں کہہ رہا ہوں تو یقین کرو تمہاری قسم ہر قدم پر تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہوں سب کچھ چھوڑ کر میں آگے بڑھنے کو تیار ہوں۔۔۔
پر میرے ماں باپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔۔”
ارحام نےدونوں ہاتھ عشنا کے چہرے پر رکھ کر اپنی طرف کیا تھا۔۔۔
“کیا ایک بار۔۔۔۔تمہارے جانے سے پہلے تمہیں اپنے گلے سے لگا سکتا ہوں میں۔۔؟؟
اب تو محرم ہیں۔۔۔اب تو میری محرم ہو۔۔۔”
جب عشنا نے سرجھکا لیا تو ارحام نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔۔
اسکے آنسو ارحام کی شرٹ بھیگو رہے تھے اور ارحام کے اسکے کندھے پر گر رہے تھے۔۔۔
“گھمنڈی۔۔۔۔ میں جانتا ہوں اس وقت سب سے زیادہ نفرت تمہیں مجھ سے ہورہی ہوگی۔۔۔ میں اس وقت تمہارا ساتھ چھوڑ رہا ہوں جب تمہیں میری سب سے زیادہ ضرورت ہے۔۔۔
پر عشنا بہت مشکل سے خودداری کی زندگی جینا شروع کی ہے۔۔۔اپنی زمہ داریوں سے منہ نہیں موڑ سکتا۔۔۔۔”
ارحام نے ماتھے پر بوسہ دے کر کچھ قدم پیچھے ہونے کی کوشش کی تھی جب عشنا نے ارحام کے چہرے کو اپنے پاس کرلیا تھا۔۔۔
“تمہیں تمہاری خودداری کی زندگی بہت بہت مبارک ہو ارحام۔۔۔”
ارحام کے گکے میں بازو ڈالے اس نے ان دو چہروں کے درمیان کی وہ دوری بھی ختم کردی تھی جب بوسہ دیا تھا ارحام کے لبوں پر۔۔۔۔اور پھر اسکی آنکھوں پر۔۔۔۔
اور وہ پیچھے ہوچکی تھی پوری طرح۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔