Ghamandi by Sidra Sheikh readelle50023 Episode 08
Rate this Novel
Episode 08
“ڈیڈ آپ میرے ساتھ ایسے نہیں کر سکتے۔۔پلیز ڈیڈ ڈونٹ ڈو ڈس ٹو مئ۔۔۔”
رشنا نے ضیشم صاحب کے دونوں ہاتھ پکڑ لئیے تھے
“پر کیا ہوا ہے بیٹا۔۔۔؟ ارحا م اور عشنا کی منگنی سے تمہارا کیا لینا دینا۔۔”
“لینا دینا ہے ڈیڈ۔۔میں ارحام سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔
میں اسکے بغیر مر جاؤں گی۔۔پلیز میرے ارحام کو مجھ سے دور مت کیجئے۔۔۔”
وہ جیسے ہی روتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی عشنا پر ضیشم صاحب کی نظر پڑی تھی جو چوکھٹ پر جانے کب سے کھڑی تھی
“عشنا بیٹا،،،،”
انہوں نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
“میں ارحام سے شادی کے لیے تیار ہوں ڈیڈ۔۔۔میری طرف سے اس رشتے کے لیے ہاں ہے۔۔۔
اگر پھر سے یہاں ماضی دہرایا گیا تو اس بار ہار کا سامنے آپ کی بیٹی کو کرنا ہوگا کہہ دیجئے گا۔۔۔”
۔
اور وہ گھمنڈی جس منگنی کے لیے انکار کرنے کے لیے آفس سے جلدی گھر آئی تھی آج اس نے فائننلی ہاں کردی۔۔۔
۔
عشنا انکے پاس سے گزر گئی تھی اپنے کمرے میں۔۔۔اور ضیشم صاحب میں اتنی ہمت نہیں ہو پارہی تھی کہ وہ رشنا کی طرف دیکھ سکے یا اسے اٹھا سکے۔۔۔
“ڈیڈ پلیز۔۔۔آپ سب کچھ کرسکتے ہیں۔۔۔سب کچھ ارحام کو مجھے دہ دیجئے پلیز ڈیڈ۔۔۔”
“ضیشم پلیز رشنا نے پہلی بار کچھ مانگا ہے ہے آپ سے وہ کچھ کرلے گی پلیز۔۔۔۔”
رشنا کو اٹھا کر تابین بیگم نے بھری ہوئیں آنکھوں سے التجا کی تھی ضیشم کو۔۔۔
“میں اب وہ بیس پچس سال پہلے والا ضیشم نہیں رہا تابین جو صرف اپنی خوشیوں کے لیے کسی اور کے ساتھ ناانصافی کرجاؤں۔۔۔
اگر عشنا نے ہاں نہیں کی ہوتی تو ضرور رشنا کی بات سنی جا سکتی تھی۔۔۔
پر اب۔۔۔اب بلکل نہیں۔۔۔رشنا کو بھولنا ہوگی اپنی یک طرفہ محبت۔۔۔
کیونکہ میں جانتا ہوں ارحام اور عشنا دونوں ایک دوسرے کے لیے پرفیکٹ ہیں۔۔”
“پرفیکٹ مائی فٹ۔۔۔ارحام کو کوئی مجھ سے چھین نہیں سکتا ۔۔۔وہ اس منگنی اس رشتے کے لیے کبھی نہیں مانے گا لکھوا لیجئے۔۔۔”
رشنا انکے سامنے کھڑی ہوگئی تھی
“وہی تو سب سے پہلے مانا تھا اس رشتے کے لیے اسی نے تو ہاں کی تھی۔۔۔اینڈ ون مور تھنگ رشنا بیٹا۔۔میرا فیصلہ ہے یہ۔۔۔مجھے کوئی تماشہ نہیں چاہیے اگلے مہینے کی سات تاریخ کو منگنی ہوگی۔۔۔”
رشنا روتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اور تابین انہوں نے ان سالوں میں پہلی بار اپنے شوہر کو اس طرح مایوس نظروں سے دیکھا تھا وہ بھی تابین کے پیچھے چلی گئیں تھیں اسکے کمرے میں۔۔۔
“چلو ماضی کی غلطیوں سے کچھ تو سیکھا تم نے۔۔۔ارحام اچھا لڑکا ہے۔۔۔پر کیا گارنٹی ہے وہ شادی کے پانچ سال بعد تم جیسی بےوفائی نہیں کرے گا۔۔؟؟”
ارحام صاحب کی والدہ نے صوفہ پر بیٹھ کر بہت اطمنان سے سوال پوچھا تھا
۔
“ارحام ایک خوددار انسان ہے۔۔۔اور سچ پوچھیں تو ابھی ارحام سے بھی اس بارے میں بات نہیں ہوئی وہ تو خود بھاگ جائے گا جب اسے پتا چلے گا عشنا نے منگنی کے لیے ہاں کہہ دی۔۔
میں جانتا ہوں وہ ساتھ نبھائے گا امی۔۔۔”
“کیسے یقین کیا جا سکتا ہے ضیشم۔۔؟ مرد فطرت میں باوفا ہوتے ہیں پر تمہیں دیکھ کر لگتا ہر مرد فطرت میں بےوفا ہوتا ہے۔۔۔پر پھر تمہارے ابو کی وفائیں یاد آتی ہیں سوچتی ہوں مرد فطرت میں کیا ہوتا ہے۔۔؟ “
“امی کیا آپ نے مجھے کبھی تابین کے ساتھ بےوفائی کرتے ہوئے دیکھا۔۔؟”
“تم بےوفائی کیسے کر سکتے تھے جو تم پہلے ہی کرچکے تھے ضیشم۔۔۔ اور دوسری بات جس طرح کی دوست لبابہ کو ملی ضروری نہیں تھا ایسی پیٹھ میں کھنجر کھونپنے والی دوست تابین کو بھی ملتی۔۔۔”
ضیشم صاحب کو لاجواب کر گئی تھی والدہ کی باتیں اور وہ امید ہارے اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھے تھے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“جائیں یہاں سے موم پلیز۔۔۔”
“رشنا۔۔۔تم میری بیٹی ہو۔۔تم کیسے کیسی کمزور عورت کی طرح ایسے رو سکتی ہو ہار مان سکتی ہو۔۔؟”
“آپ کو نہیں پتا میرا دل کیا چاہ رہا ہے موم۔۔۔خود کو ختم کردوں موم میں ارحام کو بہت محبت کرنے لگی تھی۔۔”
“تو محبت کی ہے تو حاصل بھی کرو اسے۔۔۔میری بیٹی ایسے ہار نہیں مان سکتی۔۔”
تابین نے رشنا کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے صاف کیا تھا
“کیا مطلب موم۔۔”
وہ جو سوال رشنا نے پوچھا تھا اسی کا جواب سننا چاہتے تھے وہ جو اس وقت باہر
کھرے تھے ضیشم صاحب۔۔۔
۔
“مطلب جب تمہاری ماں نے اپنی محبت حاصل کر کے سکون کا سانس لیا تھا تو تم کیسے اسی عورت کی گھمنڈی بیٹی کے ہاتھوں اپنی محبت ہار سکتی ہو جسے میں نے نکال باہر کیا تھا ضیشم کی زندگی سے۔۔؟”
“وٹ۔۔۔؟؟”
۔
ضیشم صاحب بہت قدم پیچھے ہوگئے تھے۔۔۔اور وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔چلتے چلتے ایک کمرہ جو سالوں سے بند تھا پر اپنی چابیوں میں آج بھی اس کمرےکی چابی محفوظ رکھی ہوئی تھی انہوں نے۔۔
کمرے کو بند کرتے ہوئے لاک کرتے ہوئے انکے ہاتھ نہیں کانپے تھے کیونکہ تب انہیں ایک نئی زندگی شروع کرنی تھی۔۔
پر آج اس کمرے کو کھولتے ہوئے انکے ہاتھ ضرور کانپ اٹھے تھے۔۔۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہائے۔۔۔پاؤں رہ گئے میرے۔۔۔”
ارحام آج پھر لوکل بس میں گھر آیا تھا اور سٹاپ سے گھر تک پیدل ہی چلا تھا وہ۔۔۔
آج آفس میں گھمنڈی نے ڈبل ڈیوٹی کروائی تھی ہر روز کی طرح۔۔۔
پر اسے اچھا لگ رہا تھا وہاں دوسرے لوگوں کی مدد کرکے۔۔۔
۔
“ہاں سب کہاں گئے۔۔؟ گھر خالی خالی لگ رہا۔۔۔”
ارحام نے حیرانگی سے کہا تھا۔۔۔
“السلام علیکم۔۔۔ آپ فریش ہوجائیں میں کھانا لگا دیتی ہوں۔۔”
رخسار تیار شیار ہو کر ارحام کے سامنے کھڑی ہوئی تھی۔۔
“آپ۔۔؟؟ ارے رخسار جی اتنی عزت مجھے۔۔؟؟ سین کیا ہے۔۔؟؟”
ارحام نے اپنا بیگ صوفہ پر رکھ دیا تھا
“ہاہاہاہ۔۔عزت نہیں راس آرہی نہ ارحام کے بچے۔۔”
“ہاہاہا بلکل نہیں رخسار کی بچی۔۔۔گھر والے کہاں ہیں۔۔؟”
ارحام کچن سے پانی کا گلاس لینے چلا گیا تھا
“وہ۔۔۔ سب تو مننان بھائی کے ساتھ باہر ڈنر کرنے گئے ہیں۔۔ مننان بھائی کا پروموشن ہوا ہے نہ۔۔انکی گاڑی بھی ملی ہے۔۔۔سب بہت خوش تھے۔۔۔اور فلذہ بھابھی تو پوچھو مت۔۔۔”
رخسار نے کچھ باتیں بہت بڑھ چڑھ کر کی تھی۔۔۔ارحام نے سارے خاموش گھر کو ایک نظر دیکھا تھا۔۔۔اور ہاں میں سر ہلا کر روم میں فریش ہونے چلا گیا تھا۔۔۔
“ارحام تمہیں تو میرے پاس آنا ہی پڑے گا۔۔۔تم پر بس میرا حق ہے اور کسی کا نہیں۔۔۔”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ہاہاہاہا۔۔۔بہت بہت مبارک ہومننان بیٹا۔۔۔”
“ایم رئیلی پراؤڈ آف یو بیٹا۔۔۔”
فلذہ کے والد نے مننان کو گلے لگا کر مبارک باد دی تھی،،،
“بہت بہت شکریہ چاچو بس میری محنت اور آپ سب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔۔۔
فلذہ تم میرے لیے بہت لکی ثابت ہوئی ہو ویسے۔۔۔”
مننان نے اسکے ہاتھ پر بوسہ دیا تھا جو سب بڑوں کے سامنے شرما گئی تھی،،،
اس بڑے ٹیبل پر سب فیملی ممبرز بہت قہقے لگاتے ہنستے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔۔۔
“عشنا۔۔۔کیا تمہیں کوئی اعتراض نہیں اس کمپنی کی پارٹنرشپ سے۔۔؟”
عاصم نے عشنا کے ہاتھ پر جیسے ہی ہاتھ رکھا تھا عشنا نے ہاتھ پیچھے کرلیا تھا اور سامنے اس ٹیبل پر جشن مناتی ہوئی فیملی سے بھی ۔۔۔
“ارحام نہیں ہے ان سب کے ساتھ۔۔؟؟”
اس نے خودسے بات کی تھی۔۔۔اسکے دل پر ایک ٹھیس لگی تھی وہاں ہنستے مسکراتے چہروں میں وہ شخص کو نہ دیکھ کر۔۔
“عشنا کہاں کھو گئی۔۔؟؟”
“عاصم۔۔۔تمہاری کمپنی کے ساتھ پارٹنرشپ سے کسی کو بھی کوئی پرابلم نہیں ہوگی انفیکٹ مجھے بہت خوشی ہوگی۔۔۔۔
بات کرتے کرتے وہ رک گئی تھی،،اور پھر اس ٹیبل پر نظر گئی تھی جہاں سب ڈنر کرنا شروع کر چکے تھے۔۔۔
“عشنا مجھے ایک ضروری بات بھی کرنی تھی۔۔۔”
عاصم نے جیسے ہی اپنی کوٹ کی جیب سے ایک رنگ باکس نکالا تھا ابھی وہ ٹیبل پر رکھنے لگا تھا کہ عشنا اپنی کرسی سے اٹھ گئی تھی۔۔۔
“عاصم ایک منٹ میں آئی زرا،،،”
وہ اسی ٹیبل پر چلی گئی تھی۔۔
“اووہ مائی گاڈ مس عشنا۔۔۔”
ارحام کا کزن احترام اٹھا گیا تھا اور جلدی سے ایک کرسی عشنا کی طرف کی تھی
“ہیلو۔۔۔ایوری ون۔۔۔؟؟”
عشنا نے ابراہیم صاحب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“عشنا بیٹا۔۔۔کیسی ہو۔۔۔؟؟”
ارحام کی امی نے ہمیشہ کی طرح عشنا کو گلے لگایا تھا اسکے سر پر پیار دیا تھا۔۔۔
“پلیز بیٹھو بیٹا۔۔۔”
“یس مس عشنا ۔۔”
سب کے اسرار پر وہ خالی چئیر پر بیٹھ گئی تھی جو بلکل فلذہ کے سامنے ہی تھی
“سووو۔۔۔آپ سب کسی گڈ نیوز پر سیلیبریٹ کر رہے ہیں۔۔؟؟”
عشنا نے مننان اور فلذہ کی طرف اشارہ کرکے پوچھا تھا جس پر سب ہی ہنس دئیے تھے۔۔
“ہاہاہاہا۔۔۔نہیں میری پروموشن پر یہ سیلیبریشن کی جا رہی ہے۔۔۔کمپنی کی طرف سے مجھے گاڑی ملی ہے۔۔۔سووو سب گھر والوں کو میری اور فلذہ کی طرف سے دعوت تھی۔۔”
مننان نے فلذہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا۔۔۔
“اوووہ۔۔۔ارحام بھی تو فیملی ممبر ہے فلذہ اسے انوائٹ نہیں کیا آپ دونوں نے۔۔؟؟”
عشنا نے ڈرنک کا گلاس اٹھا کر پوچھا تھا۔۔۔وہ لوگ کھانا کھاتے ہوئے رکے تھے
“ارحام۔۔۔وہ۔۔۔گھر میں نہیں تھا۔۔۔”
فلذہ نے جلدی سے جواب دیا تھا او ر غصے سے عشنا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
“تو آپ لوگ اسے انفارم کردیتے۔۔۔وہ گھر میں اکیلا ڈنر کرے گا۔۔؟؟”
اب کے عشنا کی آواز میں غصہ تھا۔۔۔
“اٹس اوکے بیٹا۔۔۔رخسار ہے وہ اسے کھانا گرم کرکے دہ دے گی۔۔۔”
رخسار کے نام پر وہایک دم سے اس ٹیبل سے اٹھ گئی تھی۔۔۔
“کیا ہوا بیٹا۔۔۔؟؟”
“کچھ نہیں آنٹی۔۔مجھے اچھا نہیں لگا میرا ہونے والا منگیتر کسی غیر محرم کے ساتھ اکیلا رہے۔۔۔
ابراہیم انکل آپ آئندہ اس بات کا خیال رکھیں۔۔۔میں ان معاملات میں اپنی موم جیسی نہیں ہوں۔۔۔
جو میرا ہے وہ میرا ہی ہو۔۔۔ایسا میرا ماننا ہے۔۔۔”
عشنا نے فلذہ کی آنکھوں میں دیکھ کر یہ بات کی تھی۔۔۔اور وہاں سے سیدھا باہر چلی گئی تھی
“وٹ دا ہیل۔۔۔؟ ابو منگیتر۔۔؟؟ ارحام کی اوقات ہے ضیشم صاحب کے گھر کا داماد بننے کی۔۔؟؟”
مننان نے جس قدر غصے سے کہا تھا سب ہی شوکڈ تھے۔۔۔
“کیوں اوقات نہیں ہے میرے بیٹے کی۔۔؟”
ارحام کی والدہ نے بھی اسی لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔”
“بھائی صاحب یہ منگیتر۔۔؟ منگنی۔؟؟ کب ہوئی بات پکی۔۔؟؟”
اس بار فلذہ کے والد نے بات کی تھی۔۔۔
“ضیشم اور یں درمیان یہ بات بہت پہلے سے طہ تھی۔۔۔ضیشم کو ارحام۔۔۔اسکا کردار اسکی خودداری ہمیشہ سے ہی بہت پسند تھی۔۔۔اور اس نے ہی بات شروع کی تھی۔۔”
“یا اللہ میں نہ کہتی تھی میرے ارحام کے لیے کوئی ہیرے جیسی لڑکی ملی گی ہمیں۔۔۔”
“شی از سووو بیوٹیفل تائی جان۔۔۔ہمیں کب ایسی ملے گی۔۔؟؟”
“ہاہاہاہاہا بدماش۔۔۔۔”
ڈنر پھر ہنستے ہنساتے باتیں کرتے ہوئے گزر ہی گیا تھا۔۔۔
پرمننان اور فلذہ کے علاوہ رخسار کے والدین بھی خاموش ہوگئے تھے۔۔آج انہوں نے اپنی بیٹی کے لیے ارحام کے رشتے کی بات چھیڑنی تھی اور یہاں۔۔۔
۔
۔
“عشنا۔۔۔؟؟عشنا۔۔۔۔”
عاصم نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا
“عاصم گھر چل کر بات کرتے ہیں ناؤ لئو مائی ہینڈ۔۔۔”
“میں اس گھر کبھی نہیں آؤں گا۔۔۔جہاں میری خالہ کے ساتھ یہ سب ہوا۔۔۔”
“اوکے آفس میں بات کریں گے۔۔۔”
عشنا کا ہاتھ پھر سے پکڑ لیا تھا عاصم نے۔۔۔
“عشنا۔۔۔وہ منگنی اور منگیتر والی بات سچ تھی۔۔؟؟ مجھے لگا تھا وہ مذاق تھا۔۔۔”
“عاصم۔۔۔وہ سب سچ ہے۔۔۔میں ابھی ڈیٹیل کچھ بھی نہیں بتا سکتی۔۔۔”
۔
“پر عشنا میں تم سے۔۔۔۔”
“گڈ نائٹ عاصم۔۔۔”
۔
عشنا گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔۔۔
۔
“پتا نہیں اس نے کھانا کھایا بھی ہوگا یا نہیں۔۔؟؟ وہ لڑکی کیوں گھر رک گئی کیا چاہتی ہے وہ۔۔؟؟”
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“ارے اسے کل تو مار کر بھگایا تھا یہ پھر سے آگیا یہاں۔۔؟”
گیٹ کیپر نے اس کتے کے بچے کو پھر سے مارنے کی کوشش کی تھی
“آپ اسے نہ ماریں چلا جائے گا۔۔۔”
ارحام نے کھانے کی پلیٹ پھر سے اٹھا کر کھانا شروع کیا تو وہ وہ پپی پھر سے بھونکنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
“یہ نہیں مانے گا ایسے۔۔میں اسے مار کے بھگاتاہوں۔۔۔”
“نہیں سر میں دیکھ لیتا ہوں۔۔ میرے خیال سے اسے بھوک لگی ہے۔۔”
ارحام نے انکو بہت عزت سے کہا تھا اور پھراپنے کھانے کی پلیٹ نیچے رکھ دی تھی اور خود بھی جھک گیا تھا وہاں۔۔۔
۔
عُشنا میم آج عاصم انٹرپرائزز کی طرف سے میٹنگ کا وقت شام سات بجے کا رکھ دیا ہے اور وہ چاہتے ہیں میٹنگ میں صرف وہ کمپنی کے ‘سی-ای-او’ سے ملنا چاہتے ہیں۔۔”
سمرین کی باتوں کی طرف تو دھیان رہا ہی نہیں تھا اس کا جیسے ہی اسکی نظر اس کتے کی طرف جھکے ہوئے شخص پر پڑی تھی۔۔
جس کل اس نے اسکی خودداری پر طنز کیا تھا۔۔۔اور آج وہ وہیں بیٹھا تھا گیٹ کیپر کے ساتھ والی کرسی پر۔۔
وہ کس طرح معزز طریقے سے سب کو سلال کرکے ویلکم سر گڈمارننگ سر کہہ رہا تھا۔۔
۔
سمرین جاؤ مسٹر ارحام کو اپنی طرف سے کینٹن میں کھانا کھانے کی دعوت دیں۔۔میرا نام نہیں آئے۔۔جائیں۔۔۔”
۔
سمرین کی آنکھیں کھل گئیں تھیں عشنا کی بات پر۔۔۔
“اوکے میم۔۔۔”
اور وہ چلی گئی تھی۔۔اسی نظریں ابھی بھی وہیں نیچے تھیں اس پر۔۔۔
ارحام ابراہیم۔۔۔۔”
عشنا نے سرگوشی کی تھی اسکی آنکھیں جیسے ہی بند ہوئیں تھیں اس ڈائری کا ایک صفحہ اسکی یاداشت سے گزرا تھا جیسے۔۔۔
۔
“فلذہ کہتی ہے میں بہت قابل ہوں مجھے بہت اچھی نوکری مل جائے گی۔۔۔میرے پاس ڈگری ہے۔۔
پر وہ نہیں جانتی یہاں قابلیت ہی نہیں سفارش بھی ضروری ہوتی ہے۔۔۔
میں ضرور وہ سب کر کے دیکھاؤں گا جو سب میرے لیے سوچتے ہیں۔۔۔
اور پھر میں اسے رشتہ بھجوا دوں گا۔۔۔میں حیران ہوں وہ جو دوست بن کر میرے لیے اتنا سوچتی ہے۔۔میری شریکِ حیات بن کر کیا خوبصورت زندگی بن جائے گی میری۔۔؟؟
نہیں ہم دونوں خوبصورت بنائیں گے ایک دوسرے کا ساتھ دے کر۔۔۔
فلذہ ارحام ابراہیم۔۔۔یا اللہ میرے لیے سب بہتر کردینا میری چاہت میرے قسمت میں لکھ دینا۔۔۔میں اسے بےحد پیار۔۔۔”
۔
“مس عشنا۔۔۔”
عشنا ایک جھٹکے سے ان ڈائری کے صفحات سے جیسے نکل کر باہر آئی تھی اپنی ‘پی اے کی بات سن کر۔۔
“ہمم۔۔۔”
عشنا نے خود کو چھپا لیا تھا کرٹن کے پیچھے جب ارحام نے اوپر کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
اور یہ سب کچھ نوٹ کر رہی تھی سمرین جو ہنس بھی رہی تھی اندر ہی اندر۔۔۔اور حیران بھی ہو رہی تھی اس گھمنڈی پر۔۔۔
“میم ارحام نے منع کردیا ہے۔۔ا س نے کہا ہے اسے منع کیا گیا تھا اب وہ آفس کے اندر نہیں داخل ہوگا۔۔۔”
“تم کینٹین سے کھانا لیکر باہر لے جاؤ۔۔۔اور اگر کھانا واپس لے کر آئی تو تم چھٹی ہی سمجھنا اس کمپنی سے۔۔۔”
“وٹ۔۔۔بٹ میم۔۔۔”
“جو کہا وہ کرو۔۔۔یا میں ابھی ۔۔۔”
“نووو۔۔نو میں اسے اپنے ہاتھوں سے کھلا کر آتی ہوں۔۔۔”
وہ جلدی سے دروازے کی طرف بھاگی تھی
“ڈونٹ یو دئیڑھ سمرین۔۔۔اسکے قریب جانے کی جرات بھی مت کرنا۔۔۔بس کھانا دے کر آؤ۔۔۔”
“میم میرا وہ مطلب۔۔۔”
گیٹ آؤٹ۔۔۔”
عشنا واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
“پر اسکا دھیان وہیں تھا۔۔۔اور اس نے ایک ہی شخص کو فون کرنے کی سوچی تھی جس پر اسے خود سے زیادہ یقین تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
“تمہاری اوقات یہیں کی تھی۔۔۔کیا نام بتایا تھا ارحام۔۔۔تمہاری شرٹ پر لگے اس کیچڑ کی طرح ہو تم اس آفس میں۔۔”
عاصم گاڑی سے باہر آگیا تھا اور اسی وقت عشنا بھی آفس سے باہر آگئی تھی
“تمہیں پتا ہے تمہاری منگیتر کے ساتھ آج ڈنر ڈیٹ ہے میری۔۔۔”
ارحام نے کچھ نہیں کہا تھا۔۔اس نے پیچھے مڑ کر اپنے بیگ سے ایک نئی شرٹ نکال لی تھی جو اس نے جیسے ہی پہننا شروع کی تھی بہت سی فی میلز کی نظریں اس پر تھیں۔۔
“نائس باڈی ۔۔”
عشنا کبھی غصے سے اس ایمپلائے کو دیکھ رہی تھی تو کبھی ارحام کے اس پبلک ڈسپلے کو۔۔۔
“ابھی ہماری منگنی نہیں ہوئی سر۔۔۔اس لیے تمہاری پہنچ میں۔۔۔
جس دن میری ہوئی تو تم اپنی اوقات عشنا ضیشم کی زندگی میں دیکھ لینا۔۔۔
کیونکہ جیسے اسے نفرت ہے شئیرنگ سے ویسے مجھے بھی ہے اور اس معاملے میں میں عشنا سے بہت آگے ہوں۔۔۔”
ارحام نے شرٹ کے بٹن بند کرنا شروع کردئیے تھے۔۔۔اس کی باتوں نے اس گھمنڈی کو وہیں روک دیا تھا اسی جگہ۔۔۔
“چلیں عشنا۔۔۔؟؟”
عشنا کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا اس نے ۔۔۔
“مس عشنا۔۔۔کچھ اوڑھ لیں۔۔۔ٹھنڈ لگ جائے گی اگر بارش ہوئی تھی۔۔۔”
ارحام کی بات سے اسکے قدم رکے تھے۔۔۔اور گاڑی کا دروازہ بند کر کے وہ ارحام کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
“سمرین میری کیبن سے صوفہ پر بلیک شال پڑی ہے آپ لے آئیں گی۔۔؟”
عشنا نے ارحام کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا۔۔۔
جہاں عاصم اور باقی سب کو لگ رہا تھا کہ عشنا ارحام کو ڈانٹے گی یا بُرا بھلا کہے گی۔۔۔وہیں عشنا کے لیجے میں بہت نرمی تھی۔۔۔
۔
سمریں کچھ ہی منٹ میں وہ شال لے آئی تھی۔۔۔اور عشنا نے وہ شال پکڑ کر ارحام کے ہاتھ میں تھما دی تھی۔۔
۔
ارحام کی آنکھوں میں ایک تکلیف نمایاں تھی اسے لگ رہا تھا عشنا نے اسے یہ شال واپس کردی ہے اسکی۔۔وہ اسے واپس اپنے بیگ میں رکھنے والا تھا جب عشنا نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
“مجھے اوڑھا دیں یہ شال۔۔۔”
۔
تو جو چھو لے پیار سے آرام سے مر جاؤں۔۔۔
آجا چندا بانہوں میں ۔۔۔تجھ میں گم ہوجاؤں۔۔۔
تیرے نام میں کھو جاؤں۔۔۔۔”
۔
لفظ ادا نہیں ہوئے تھے زبان سے پھر۔۔۔
ان دنوں کی آنکھوں نے باتیں کی تھیں پھر ایک دوسرے سے۔۔۔
ارحام نے اسے شال اوڑھا دی تھیپر اسکی انگلیاں جیسے ہی عشنا کے کندھے سے ٹچ ہوئیں تھی اس گھمنڈی کی سانسیں تھم سی گئیں تھی اس ایک لمحے میں۔۔۔۔
پر عشنا کی آنکھیں ہٹ نہیں پا رہی تھی ارحام کے چہرے سے۔۔
۔
“میرے دن خوشی سے جھومیں۔۔۔گائیں راتیں۔۔۔
پل پل مجھے ڈوبائیں۔۔۔جاتے جاتے۔۔۔۔”
۔
۔
“عشنا چلیں۔۔۔”
ارحام نے اپنے ہاتھ نیچے کرلئیے تھے۔۔۔
عشنا جیسے ہی عاصم کی گاڑی میں بیٹھی تھی ارحام کے دونوں ہاتھ مٹھی کی صورت بند ہوئے تھے۔۔۔
اسے کیوں غصہ تھا کیوں اس سے برداشت نہیں ہوپارہی تھی کسی اور کی نزدیکی اس گھمنڈی کے ساتھ۔۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
