Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 36) Last Episode
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 36) Last Episode
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
![]()
LAST EPISODE ![]()
![]()
___________________________________
بالوں کا اونچا جوڑا بناۓ رف سے ہیولے میں لیزہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تھی کھڑکی کے پاس جا کر سب سے پہلے کھڑکی کھولی تھی اور پھر سائیڈ ٹیبل سے ریموٹ اٹھا کر اے – سی بند کیا تھا اور پھر اس کی نظر بیڈ پر پڑی تھی جہاں زیب سیدھا لیٹا بے خبر تھا جبکہ اسکے اوپر زویان الٹا لیٹا خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا ۔۔۔۔
اسے ایسے دیکھ کر لیزہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی وقت نے بہت تیزی سے اوراق پلٹے تھے آج پورے چار سال بعد بھی لیزہ میں کوئ فرق نہ آیا تھا اسلام آباد آکر اس نے یہاں بھی جاب شروع کر دی تھی لیکن پھر زویان کے آنے کی خبر نے زیب کو الرٹ کر دیا تھا اور اب جب وہ ایک سال سے اسکول جا رہا تھا تو لیزہ نے اپنی جاب پھر شروع کی تھی جس میں پھوپھو اور پھوپھا نے اسکا بہت ساتھ دیا تھا ورنہ زیب اسے ایک منٹ بھی گھر سے باہر نکلنے نہ دے ۔۔۔۔
ہے بدمعاش ۔۔۔۔ اٹھ جاؤ اسکول کا ٹائم ہو گیا ۔۔۔۔
اسکی کمر پر دھپ دھپ کرتے ہوۓ لیزہ نے پیار سے آواز لگائ تھی جس پر وہ ہل کر اپنے باپ کے اندر گھس گیا تھا جبکہ زیب کی آنکھ کھل گئی تھی ۔۔۔۔
اٹھ جاؤ زویان روزانہ اسکول سے لیٹ کرواتے ہو تم دوسرے بچوں کو بھی اور تبریز بھائ اور عشاء آپی کو بھی ۔۔۔۔
بولتے ہوئے اسنے زویان کو سیدھا کیا تھا اور پھر اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا ٹوٹ کر پیار آیا تھا اس پر اسکو یاد تھا جب وہ آنے والا تھا تو زیب روزانہ اسے کہتا تھا کہ ہمارا بےبی تمہاری طرح ہونا چاہیئے اور وہ کہتی تھی کہ زیب کی طرح ہونا چاہیئے اور اکثر اس بات پر دونوں کی لڑائ ہوتی تھی اور جب وہ آیا تھا تو اسکو بہت ہنسی آئ تھی کیونکہ وہ بنا بنایا زیب تھا ہاں اسکی آنکھیں اپنی پھوپھو ژالے کی طرح تھیں ۔۔۔۔ ژالے کا زہن میں آتے ہی اس نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔ ۔۔۔۔
چلو چلو لٹل ون میں یہیں ویٹ کر رہی ہوں واش روم سے فارغ ہو کر آؤ ۔۔۔ گو گو ۔۔۔۔۔
اسکو آنکھیں مسلتے دیکھ لیزہ نے اسے زبردستی کھڑا کیا تھا اور پھر واش روم تک چھوڑ کر آئ تھی ۔۔۔۔
واپس آکر اس نے زیب کو دیکھا تھا اور پھر نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
آج آپ کی کوئ میٹنگ نہیں ہے جو اٹھ نہیں رہے دیکھیں اٹھ جائیں آپکی وجہ سے میں لیٹ ہو جاتی ہوں ۔۔۔۔
اسکے برابر میں ٹکتے ہوئے لیزہ نے زیب کو وارن کیا تھا جس پر اس نے پلٹ کر دیکھا تھا ۔۔
پوری رات میرے اوپر چڑھ کر سوتےہیں ہمارے صاحبزادے اب سوچو وہ سوتے ہیں ہم جاگتے ہیں ۔۔۔۔
اسکی بات سن کر لیزہ زور سے ہنسی تھی ۔۔۔۔
آپکا ہی شوق تھا بچپن سے آپ نے ہی عادت ڈالی ہے اب بھگتیں ۔۔۔۔
ہنستے ہوئے اسنے زیب کو جتایا تھا جس پر اس نےلیزہ کا ہاتھ پکڑکر کھینچا تھا جس سے وہ اسکے اوپر گری تھی سینے پر ہاتھ رکھے اس نے اپنے اور اسکے بیچ فاصلہ بنایا تھا ۔۔۔۔
آج ہم زویان کو اسکی دادو کے پاس سلائیں گے کیا کہتی ہو ۔۔۔۔
زیب کی زومعنی بات پر لیزہ نے سرخ چہرے سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
بلکل بھی نہیں زویان کو آپکے اور میرے بغیر نیند نہیں آتی اور پھر وہ پھوپھو کو تنگ کرے گا جومیں برداشت نہیں کرونگی اور ایک بات اپنا یہ رومینس کسی اور وقت کے لئے اٹھا کر رکھیں کیونکہ سب نیچے انتظار کر رہے ہیں ناشتے پر اور زویان بھی واش روم سے آنے والا ہے ۔۔۔۔
اسکی بات سن کر زیب نے گہرا سانس خارج کیا تھا اور پھر اسکا ہاتھ چھوڑ کر کروٹ بدل لی تھی جس پر لیزہ نے اسے دیکھا تھا اور پھر واش روم کے دروزے کو دیکھتے ہوئے وہ زیب پر جھکی تھی اور اسکے گال پر کس کر کے پیچھے ہٹ گئ تھی جس پر زیب کے لب مسکراۓ تھے جبکہ لیزہ تیزی سے نیچے بھاگ گئ تھی ۔۔۔۔۔
___________________________________
ماما یہ نہیں کھانا مجھے آلو کا پراٹھا بنا دیں ۔۔۔۔
ابھی ابھی لیزہ نے اسکے سامنے بریڈ اور دودھ رکھا تھا جب وہ بول اٹھا تھا جس پر لیزہ نے آنکھیں پھاڑ کر اسے اور پھر وقت دیکھا تھا اسکی وین آنے میں صرف دس منٹ تھے تبریز اور عشاء نے بھی بے بسی سے اسے دیکھا تھا وہ جانتے تھے کہ اب اسکی ضد پکی تھی ۔۔۔۔۔
زویان ابھی ٹائم نہیں بیٹا رات کو کہہ دیتے میں بنا کر رکھ دیتی مصالحہ لیکن ابھی بلکل وقت نہیں ہے آپ ایسا کریں ابھی یہ کھا لو میں کل پکا بنا دونگی ۔۔۔۔
پیار و محبت سے بولتے ہوۓ لیزہ نے اسے سمجھایا تھا دل تو چاہا تھا ایک تھپڑ لگائے ۔۔۔۔
اوکے ویسے پاپا کہتے ہیں ماما کی بات پر بھروسہ مت کیا کرو ۔۔۔۔
تین سال کچھ مہینے کا تھا لیکن نہایت شارپ اور جلدی سارے کام وقت سے پہلے کر لینے والا تھا جیسے کہ آیا وقت سے پہلے تھا پھر گٹھنے گھٹنے چلنا تو اسکی شان میں گستاخی تھی اس لئے جلدی ہی اٹھنا بیٹھنا اور پھر چلنا بھی شروع ہو گیا شارپ مائینڈڈ اتنا کہ جو ہو رہا ہوتا اسے کیچ کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا بولنا بھی بہت جلدی سیکھا تھا اور اب بلکل صاف بولتا تھا پڑھائ میں بلکل اپنے باپ پر گیا تھا بقول لیزہ کے وہ پہلے بلکل اچھی نہیں تھی وہ تو بعد میں کچھ بہتری آئی تھی لیکن زیب شروع سے پڑھائ میں اے ون تھا اور زویان اسی پر گیا تھا ۔۔۔۔۔
ماشاءاللہ تو رات بھر اپنے پاپا کے سینے پر لیٹ کر آپ کے پاپا آپکو یہ سیکھاتے ہیں واؤ زبردست گریٹ ۔۔۔۔۔
زیب کو خشمگی نظروں سے گھورتے ہوئے لیزہ نے داد دی تھی جس پر زیب بوکھلایا تھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا صفائ پیش کرتا وین کے ہارن نے اسکی جان بچائ تھی زویان کو کرسی سے اتارتے ہوئے زیب نے اسے بیگ پہنایا تھا اور پھر اسکی واٹر بوتل لے کر اسے لیزہ کی طرف پاس کیا تھا لیزہ نے جھک کر آیت الکرسی پڑھ کر زویان پر اور پھر دونوں بچوں کر دم کیا تھا اور اللہ حافظ کہہ کر سی آف کیا تھا زیب انہیں چھوڑ کر واپس آیا تھا ۔۔۔۔
گاڑی کی چابی اٹھائے والٹ پکڑے وہ دانت نکال کر سب کو اللہ حافظ کہہ کر پلٹا تھا جب لیزہ کی آواز پر رکا تھا ۔۔۔
زیب !!!!!
آج شام میں جلدی آ جائیے گا مجھے شاپنگ پر جانا ہے لازمی ۔۔۔۔۔
دانت پر دانت جمائے مسکراتے ہوئے لیزہ نے اسے بقول زیب کے سزا سنائی تھی جس پر وہ سر ہلا کر مسکراتا ہوا جی بیگم کہتا ہوا باہر نکل گیا تھا پیچھے پھوپھو اور پھوپھا دونوں کی نوک جھوک پر ہنس دئیے تھے ۔۔۔۔
دیکھا آپ نے بھڑکاتے ہیں زویان کو میرے خلاف ۔۔۔۔
روٹھے روٹھے انداز میں لیزہ نے زیب کی شکایت کی تھی ۔۔۔
صحیح کہہ رہی ہو تم میں آج ہی اس سے بات کرتی ہوں ویسے ہی زویان دو ہاتھ آگے ہے اسے اور پتا نہیں کیا کیا سیکھا رہا ہے ۔۔۔
پھوپھو کی بات پر وہ ہلکی پھلکی ہو گئ تھی ۔۔۔۔
علیزہ آپی اور رمیض بھائ نہیں اٹھے آج خیریت ہے نہ سب ؟؟؟
دو منٹ خاموشی کے بعد ہی لیزہ کی آواز گونجی تھی ۔۔۔
ہاں سب ٹھیک ہے شاید سو رہے ہونگے دونوں رات دیر سے شاپنگ سے آئے تھے اور پیکنگ میں ٹائم لگ گیا تو یقیناً دیر سے سوئے ہونگے ۔۔۔۔
ہممم ۔۔۔۔ صحیح ہے بلکل کام تو مجھے بھی بہت ہیں اور دیکھیں کتنے اچھے ہیں رمیض بھائ اور ایک زیب ہیں مجھے شاپنگ پر لے کر ہی نہیں جاتے بول بول تھک جاؤں جب لیکر جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
منہ بنا کر اس نے کہا تھا جس پر اپنی فائلز لینے کے لئے واپس آتے زیب کے قدم تھمے تھے پھوپھو کی نظریں بھی دروزے کی طرف اٹھی تھیں ۔۔۔۔
ارے زیب خیریت ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
جبکہ پھوپھو کی آواز پر لیزہ کا دل بے فضول میں دھڑکا تھا ۔۔۔۔
جی ایک فائلز بھول گیا تھا لیزہ روم سےلادو زرا بلیو کلر کی ہے فائل ۔۔۔۔
زیب کے بولنے پر لیزہ سر ہلاتی ہوئی کمرے کی طرف بڑھ گئ تھی ۔۔۔۔
فائلز لاکر اسکو پکڑاتے ہوئے اسکی نظر ٹیبل پر پڑی تھی جہاں دونوں اندر چلے گئے تھے جبکہ زیب نے فائل پکڑ کر اسکواپنی طرف کھینچا تھا ۔۔۔۔
لیزہ زیب مغل !!!!! تمہارے لئے یہ بندہ ہر وقت حاضر ہے کبھی بھی دوسروں سے مقابلہ مت کرنا اپنا کیونکہ تم تم ہو اور جہاں تک بات ہے شاپنگ کی تو دنیا ڈھیر کر دونگا تمہارے قدموں میں یہ شاپنگ کیا چیز ہے اگلی دفعہ تمہارے منہ سے شکوے نہیں نکلیں گے کیونکہ میں ایسا موقعہ ہی نہیں آنے دونگا ۔۔۔۔
مضبوط لہجے میں بولتا ہوا زیب نے اسے بہت کچھ باور کروایا تھا جس پر اس نے پہلے گہری سانس خارج کی تھی اور پھر مسکراتے ہوئے اسکے اوپر حصار بنایا تھا اور پھر اسے دھکے دے کر گاڑی کی طرف بامشکل بڑھایا تھا اور وہ ہنستا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔
اوپر کھڑے احمد صاحب اور فریدہ بیگم نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا تھا اور پھر کھل کر ہنس دئیے تھے ۔۔۔۔
___________________________________
آج آپ جلدی گھر آجائیں گے ڈاکٹر کی آپوئمنٹ ہے آج ۔۔۔۔
اپنے اوپر سپرے کرتے صمد کے ہاتھ رکے تھے اس نے شیشے میں پیچھے ژالے کو دیکھا تھا جو پچھلے چار سال میں تھوڑی صحت مند ہو گئ تھی لیکن اسکی آنکھوں کے نیچے ہلکے اور اس میں ہلکورے لیتا دکھ صمد کی آنکھوں سے چھپا ہوا نہیں تھا ۔۔۔۔
میں نے تمہیں کہا تھا مجھے ایک دو دن پہلے بتانا لیکن تم سمجھو جب نہ ۔۔۔۔۔
اسکو آنکھوں کے حصار میں رکھے صمد نے کہا تھا جس پر اسکی نظریں جھکی تھیں ۔۔۔۔
وہ رات کو ہی ڈاکٹر نے میسج کر کے بتایا تو میں نے آپ کو ابھی بتایا ہے ۔۔۔۔
ژالے کی بات سن کر صمد کا ہاتھ رکا تھا ایک دم پیچھے مڑتے ہوئے اس نے ژالے کا موبائل اٹھایا تھا جبکہ ژالے نے آنکھیں کس کر بند کر کے کھولی تھیں ۔۔۔۔
پانچ منٹ تک ژالے کا موبائل چھاننے کے بعد اس نے بیڈ پر موبائل تقریباً پھینکا تھا اور پھر اسکی طرف مڑا تھا ۔۔۔۔
اوکے میں آجاؤں گا تم ریڈی رکھنا بچوں کو بھی چیک اپ کے بعد ڈنر کریں گے اور پھر ریان کی شادی کے لئے شاپنگ بھی کروا دونگا لیکن ٹائم پر ریڈی رہنا ایک منٹ نہ اوپر نہ نیچے ۔۔۔۔
گھڑی پہنتے ہوئے موبائل اٹھا کر اور چابی لیکر وہ ژالے کو تنبیہہ کرتا ہوا باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔
آنکھوں میں ڈھیر سارے آنسو لئے ژالے دھپ سے بیڈ پر بیٹھی تھی اپنے سر کے بالوں کو پکڑے وہ سر نیچے جھکاۓ آنسو بہاتے ہوئے اپنی زندگی کو سوچنے لگی تھی جہاں اسے صرف خسارہ ہی ملا تھا ۔۔۔۔
ہاں وہ کیسے بھول گئ کسی اور کا نصیب اگر چھینوگے تو سکون سے آپ بھی نہیں رہ سکو گے جیسے آج وہ سکون میں نہیں تھی کہنے کو اور دیکھنے کو وہ بہت اطمینان سے تھی لیکن وہ جانتی تھی وہ اپنی زندگی گزار رہی تھی بس چل رہی تھی ایک روبوٹ کی طرح جس کا ریموٹ صمد کے ہاتھ میں تھا تین سال پہلے ہی اس نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا تب لیزہ نے سب کو کچھ کچھ منا کر انہیں بچوں سے ملوایا تھا تب سب اسے دیکھ کر خود بھی مطمئن ہو گئے تھے جبکہ ژالے بہت روئ تھی لیکن ایسا نہیں تھا کہ سب کا دل بلکل صاف ہو گیا ہو پر کچھ کچھ گرد جھٹی تھی جس کی وجہ سے سالوں گزرنے کے بعد اب کہیں جا کر اسے یاد کیا جاتا تھا ایسا اسے لگتا تھا لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کوئ بھولا ہی کب تھا ۔۔۔۔
صمد کہنے کو بہت اچھا تھا اسکی ہر ضرورت کو بغیر بولے پورا کر دیتا تھا لیکن اکیلے میں ژالے کو کبھی بھی اس سے وہ مرتبہ نہیں ملا تھا جو ایک بیوی کو چاہئیے ہوتا ہے فرائض ادا کرنا اور ہوتا ہے محبت کرنا اور شاید محبت میں وہ بد نصیب واقع ہوئ تھی ہاں بچوں کے بعد اسکے اندر بہتری آئ تھی وہ ژالے کو سنتا تھا سمجھنے لگا تھا لیکن ایک عادت جو جڑ پکڑتی جا رہی تھی وہ تھی شک کی عادت اس عادت نے ژالے کو پریشان کے ساتھ ساتھ سب سے دور کر دیا تھا وہ غیروں سے بات کرتے ہوئے بھی صمد کی طرف دیکھتی تھی اور وہ کیسے نہ شک کرے اس نے اعتبار کے قابل چھوڑا کب صمد کو جو وہ شک نہ کرے ۔۔۔۔۔
جب سوچ سوچ کر اور رو رو کر تھک گئ تو اپنے بالوں کو سمیٹ کر منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر کمرا درست کرنے لگی تھی کہ ابھی اسے کھانا بھی بنانا تھا کیونکہ بچے اسکے ہاتھ کے بغیر کسی کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھاتے تھےاور ابھی وہ اسکول گئے ہوئے تھے اور انکے آنے میں ابھی بہت ٹائم تھا ۔۔۔۔
ژالے اور صمد تین سال پہلے ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے ماں باپ بنے تھے اور شاید صمد کو ڈر تھا کہ کہیں وہ جو ژالے کے ساتھ کر رہا ہے وہ اسکی بیٹی کے آگے نہ آئے اس لئے وہ ڈر گیا تھا لیکن وہ چاہ کر بھی ژالے کو وہ محبت نہیں دے سکتا تھا جو اسکا حق تھا اس کے لئے ابھی ژالے کو بہت جدوجہد کرنی تھی کہ برف پگھلنے میں وقت نہیں لگتا ہے ۔۔۔۔۔
___________________________________
بات سنو یہ ۔۔۔۔ یہ کیا پسند کیا ہے تم نے میرے لئے ؟؟؟؟
اپنے دونوں ہاتھوں میں بامشکل ڈریس پکڑے وہ کمرے میں داخل ہوئ تھی جس پر اس نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا جو غضب کی لال سرخ ہو کر دروازے پر کھڑی تھی ۔۔۔۔
زہے نصیب !!!! آپ آئے ہمارے کمرے میں کبھی ہم آپ کو کبھی اس کمرے کو دیکھتے ہیں ۔۔۔۔
کنگا نیچے رکھ کر ریان نے چمکتی ہوئ آنکھوں سے سامنے کھڑی اریبہ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
جو پوچھا ہے اسکا جواب دو مجھے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
غصے سے لال پیلی ہو کر اسنے دوبارہ پوچھا تھا جس پر وہ ہنس دیا تھا لیکن اگلے لمحے سریس منہ بناتے ہوئے آگے آیا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے سوئٹ ہارٹ کتنی دفعہ بولا ہے اتنا غصہ مت کیا کرو بعد کے لئے بچا کر رکھو یار ۔۔۔۔
اور میں نے کتنی دفعہ کہاں ہے مجھے پسند نہیں ہے اتنے فضول کمنٹس سمجھ کیوں نہیں آتی تمہیں ۔۔۔۔
انگلی اٹھا کر اس نے ریان کی طرف کی تھی جس پر اس نے ڈرنے کی ناکام کوشش کی تھی ۔۔۔
اچھا اچھا کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے ؟؟؟
میں یہ کیسے پہنوں گی شادی پر ؟؟ یہ بہت بھاری ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا کیسے پہنو گی ۔۔۔۔ ؟؟؟
اسکی بات ریان نے تحمل سے سنی تھی ۔۔۔۔
تو کوئ بات نہیں میں مدد کردونگا تمہاری ۔۔۔۔
اسکی بات سن کر اریبہ نے لال رخ چہرے کے ساتھ اسےگھور کر دیکھا تھا ۔۔۔۔
شٹ اپ تم سے بات کرنا بے کار ہے اور ہاں میں یہ نہیں پہنوگی جو کرنا ہے کر لو ۔۔۔۔
غصے سے بولتے ہوئے وہ جانے کے لئے مڑی تھی لیکن ایک جھٹکے سے ریان نے واپس کھینچا تھا ۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم یہی سنڈریلا والا ڈریس پہنواور میں تمہارا شہزادہ بنوں کیونکہ تمہیں شہزادہ ہی لینے آئے گا اور تم اس ڈریس میں یقیناً آپنے آپ کو شہزادی محسوس کروگی ۔۔۔۔
خوبصورتی سے بولتے ہوئے ریان نے اسے کہا تھا جس پر وہ سمجھتے ہوئے اس سے ہاتھ چھڑوا کر بھاگ گئ تھی پیچھے وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا دیا تھا اسکی محبت جو اسکی ہو رہی تھی کیوں وہ خوش نہ ہوتا وہ بہت خوش تھا کیوں کہ اسکی محبت کی منظوری آسمانوں کے اوپر سے آئ تھی ہاں لیکن ایک بات تہہ تھی کہ انکی لڑائ تو مسٹ تھی اس کے بغیر یہ دونوں ادھورے تھے ۔۔۔۔
___________________________________
سب کہتے ہیں محبت میں جنون ، ضد انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی کہنے کو اسی حد سے محبت شروع ہے لیکن محبت تو اعتبار کا نام ہے یقین کا نام ہے اور محبت ایک روشنی ہے جو ہر ایک کو راستہ دکھا سکتی ہے لیکن ہر کوئ اس راستے کی تلاش میں نہیں نکلتا ۔۔۔۔۔
ابھی وہ اور کچھ سوچتی جب اس کی کمر پر ہلکا دباؤ بڑھا کر اسے اپنے حصار میں لیا گیا تھا جس پر لیزہ نے چونک کر دیکھا تھا ۔۔۔
سوئیں نہیں ابھی تک ؟؟؟
نیند نہیں آرہی ۔۔۔۔ زیب!!!! سب اچھا ہوتا جا رہا ہے نہ ۔۔۔ ؟؟؟؟
اس نے بڑی آس سے زیب سے پوچھا تھا جس پر زیب نے اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا جس پر لیزہ مسکرائ تھی ۔۔۔۔
یہ سب تمہاری وجہ سے ممکن ہوا ہے کیونکہ تم ہو وہ روشنی لیزہ جس نے اتنے اندھیرے میں روشنی بکھیری علیزہ بھابھی اور بھائ کی شادی تو اٹل تھی لیکن ہماری شادی اور پھر صمد اور ژالے کی شادی اگر تم نہ ہوتیں تو شاید ہم بہت فیصلے غلط کر دیتے لیکن ایسا کبھی نہ ہوتا کیونکہ لیزہ زیب مغل ہمیشہ سے زیب کی تھی اسے زیب کا ہی ہونا تھا ۔۔۔۔
جھک کر اسکے ماتھے پر عزت سے بوسہ دیتے ہوئے زیب نے کہا تھا جس پر وہ آنکھوں میں آنسو لئے اسکے سینے پر سر رکھ چکی تھی ۔۔۔۔
محبت ، اگر ہم محبت کو ایک لفظ میں لکھیں تو م سے ملن ہوتا ہے تو م سے موت ہو گی کہیں محبت ملن کا سماں ہوتا ہے تو کہیں ملن ہوتے ہی موت کا سماں لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔
جیسے لیزہ کی محبت میں طاقت تھی اس لئے اسے زیب کی محبت ملی اور بدلے میں زیب نے اسے بے لوث محبت سے نوازا تھا ہاں وہ اس سے بدلہ لینا چاہتی تھی اپنے گزرے چھ سالوں کا لیکن ایسا نہیں ہوا تھا کیونکہ محبت تو کہیں نہ کہیں لیزہ کی ابھی بھی زندہ تھی نفرت تو محبت کے بیچ آتی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔
ایک محبت علیزہ اور رمیض کی تھی جن کی منزل بھی ایک دوسرے کا ساتھ لکھا تھا ۔۔۔۔
ایک محبت ریان کی تھی جس نے چھپی ہوئ محبت اپنے وقت پر ہی سب کو بتائ تھی اور اریبہ کو بتایا بھی نہیں تھا اور کسی کا ہونے بھی نہیں دیا تھا اور آج انکی محبت کو منزل ملنے والی تھی یقیناً محبت سچی ہو تو کیا نہیں ہوتا ۔۔۔۔
اور ایک محبت تھی ژالے کی جس نے صمد سے محبت کی اور بدلے میں صمد نے لیزہ سے ٹوٹ کر محبت کی لیکن ژالے اپنی محبت حاصل کر کے بھی بے مول ہی رہی تھی اور آج وہ سب سے الگ صمد کی بے اعتنائی میں اپنی زندگی بسر کر رہی تھی ۔۔۔۔
ان سب میں سب سے زیادہ نقصان سارہ اور احمر کا ہوا تھا ایک لیزہ سے محبت کر کے ناکام رہا تو ایک سارہ تھی جس نے زیب سے جنونی محبت کی اور اس میں وہ بھی ناکام رہی ہاں شاید ان سب میں انکی ماں ثمن بیگم کا قصور تھا جن کے اعمال نے انکے بچوں پر برے اثرات ڈالے تھے ۔۔۔۔
زندگی کی کہانی کبھی بھی ہنسی خوشی مکمل نہیں ہوتی اصل میں موت ہی کے بعد زندگی مکمل ہوتی ہے لیکن اگر ہم دیکھیں تو زندگی میں ہر کوئ خوش نہیں رہتا سب کی کہانی ہیپی اینڈنگ نہیں ہوتی اور اگر ہم یہ بات سمجھ لیں تو کیا ہی بات ہو ۔۔۔۔۔
لیکن جو ہوتا ہے وہ ہاتھوں کی لکیروں میں لکھا ہوتا ہے زندگی کی یہ کہانی انکے آنے سے پہلے ہی آسمانوں پر لکھی جا چکی ہوتی ہے اور جو پہلے سے تہہ ہو وہ ہو کر رہتا ہے ۔۔۔۔
محبت کی یہ کہانی یہی اختتام پذیر ہوتی ہے اس سوچ کے ساتھ کہ صمد اور ژالے کی محبت بھی پروان چڑھے گی اس سوچ کہ ساتھ کہ سارہ اور احمر کو بھی اچھا ہم سفر ملے گا اور اللہ نے سب کے جوڑ بناۓ ہیں بس وقت وقت کی بات ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
کیا کروں شکوہ اپنے خدا سے
جو بھی ہوا ہے نصیب میرا
تیرے قدم تو پانی پر تھے
جانے کیسے میں پار لگا
یہ دوریاں ، مجبوریاں
بن تیرے نہ تھے بیان
تیرے ساتھ بھی میرا نام بھی
آسمانوں پر ہے لکھا ۔۔۔۔۔
بارش کی بوندوں میں
چاند کی ہتھیلی میں
دیکھا ہے تم کو میرے ہمنوا
ریشم کے دھاگوں میں
رشتوں کی ڈوری میں
چن لیا تم کو میرے ہمسفر
ایک پیاس ہے ایک درد ہے
بن تیرے نہ تھے بیان
تیرے ساتھ بھی میرا نام بھی
آسمانوں پر ہے لکھا ![]()
___________________________________
![]()
![]()
…..ختم شد ۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
