Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 24) Part - 2
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 24) Part - 2
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
اور کیا جرم ہے پتا ہی نہیں
اتنے حصوں میں بٹ گیا ہوں میں
میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
زندگی موت تیری منزل ہے
دوسرا کوئی رستہ ہی نہیں
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
زندگی اب بتا کہاں جائیں
زہر بازار میں ملا ہی نہیں
جس کے کارن فساد ہوتے ہیں
اس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں
کیسے اوتار کیسے پیغمبر
ایسا لگتا ہے اب خدا ہی نہیں
چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
اپنی رچناؤں میں وہ زندہ ہے
نورؔ سنسار سے گیا ہی نہیں
گاڑی میں موجود دو نفوس اس وقت خاموش بیٹھے اپنی راہ کی طرف گامزن تھے گاڑی سے باہر کے مناظر کو بظاہر دیکھتے ہوئے وہ کہیں اور پہنچی ہوئ تھی جبکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی علیزہ گاہے بگاہے اسے دیکھ رہی تھی جس کی آنکھوں سے آنسو بے آواز نکل رہے تھے اور وہ انہیں صاف کرنے کی بھی تردد نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
ایک گہری سانس لے کر اس نے ہاسپٹل کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی تھی جب وہ بغیر کچھ بولے تیزی سے اتر کر بھاگی تھی پیچھے علیزہ بھی تیزی سے گارڈ کو چابی پکڑا کر اسکے پیچھے بھاگی تھی ۔۔۔۔
لیزہ کو اندر آتے دیکھ سب نے سلام کیا تھا لیکن وہ کچھ بھی سنے بغیر اندر کی طرف بڑھ گئ تھی ۔۔۔۔
ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہو کر اس کے قدم سست پڑے تھے کیونکہ سب کرسیوں پر بیٹھے تھے اور پھوپھو زاروقطار رو رہی تھیں ۔۔۔
علیزہ نے اسکے پاس آکر ہلایا تھا اور آگے بڑھنے کے لیے کہا تھا ۔۔۔۔
ایک دم سے رمیض کی نظر علیزہ پر پڑی تھی وہ اٹھ کر ان دونوں کی طرف آیا ۔۔۔
تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو کس کے ساتھ آئ ہو ۔۔۔؟؟؟
رمیض آپ ابھی چھوڑیں سب کو مجھے بتائیں زیب کیسا ہے ؟؟؟
اسکی ڈانٹ سن کر علیزہ نے بات بدلی تھی جبکہ زیب کے ذکر پر رمیض کے چہرے پر تکلیف دہ اثرات مرتب ہوئے تھے ۔۔
ٹھیک نہیں ہے وہ بلاڈنگ بہت ہو رہی ہے ڈاکٹر کہہ رہے ہیں خون رکے گا تو ہم آپریشن کریں ورنہ انکی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
جبکہ لیزہ یہ سب سن کر تیز قدموں سے کمرے کی طرف بڑھی تھی لیکن اندر سے نکلتے صمد سے بری طرح ٹکرا کر رکی تھی ۔۔۔
لیزہ سنبھل کر کیا ہوگیا ۔۔ ؟؟؟
اسنے لیزہ کو کاندھوں سے پکڑ کر روکا تھا
جس پر اس نے صمد کی شکل دیکھی تھی ۔۔۔
صمد ۔۔ صمد وہ ٹھیک ہو جاۓ گا نہ ؟؟؟ ۔
کیا کچھ نہیں تھا اسکی آواز میں دکھ ، درد، تکلیف کچھ کھو دینے کا ملال اسے شدت سے اندر زخمی پڑے زیب سے جلن ہوئ تھی اگلے لمحے اس نے لیزہ کے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔
ٹیک اٹ ایزی لیزہ ۔۔۔ میں ہوں نہ ایسا ہو سکتا ہے کہ لیزہ روۓ اور صمد اسے روتا ہوا دیکھ لے نہیں نہ تو پھر بس اللہ سے دعا کرو وہ سب کی سنتا ہے وہی تو سننے والا ہے بے شک بس اب تم روتی ہوئ نظر نہ آؤ مجھے دعا کرو اس کے لئے ۔۔۔۔
دھیرے دھیرے اسے سمجھاتے ہوئے صمد نے اسے دیکھا جس کی آنکھیں اسکی باتیں سن کر اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔۔۔
پھر میں اس کو ایک دفعہ دیکھ لوں ؟؟؟
بچوں کی طرح سوال کیا گیا تھا جو صمد کو اندر تک زخمی کر گیا تھا ۔۔۔
نہیں ابھی تمہاری خود کی حالت درست نہیں ہے اور ویسے بھی میں نے کہا ہے نہ ابھی دعا کرو تم ۔۔۔ تم دعا کرو گی تو جلدی اثر ہو گا ۔۔۔
آنکھوں میں سنجیدگی لاۓ صمد نے لیزہ کو کہا تھا اور اسے لئے باہر کرسیوں کی طرف لایا تھا ۔۔۔
نور آنٹی ۔۔۔ لیزہ کو دیکھیں کچھ کھلائیں اسے اور پھر میں چیک اپ کرتا ہوں اس کا ۔۔۔
اسے لیے وہ کرسیوں پر بیٹھ گیا تھا اور پھر نور بیگم کو ہدایت دی تھی ۔۔۔
نہیں پلیز میرا دل نہیں چاہ رہا کچھ بھی کھانے کا ۔۔ میں بس زیب کے لیے دعا کرنا چاہتی ہوں بس ۔۔۔
بات کاٹ کر وہ جلدی سے بولی تھی اور پھر بغیر سنے پریئیر روم کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔۔
ان پیپرز پر سائن کر دیں ۔۔۔
صمد ہی فارم لئے ان کی طرف آیا تھا مرد حضرات کی طرف جا کر اس نے کہا تھا جس پر انھوں نے ناسمجھی سے صمد کو دیکھا تھا ۔۔۔
لیکن یہ کس چیز کا فارم ہے ۔۔ ؟؟؟
احمد صاحب نے فکرمندی سے پوچھا تھا ۔۔۔
انکل خون بہت ذیادہ بہہ گیا ہے انٹرنل مسلئے آرہے ہیں اگر آپریٹ نہ کیا تو کومہ میں جانے کا خدشہ ہے لیکن اگر آپریٹ کر دیا اور اسکے بعد بلڈنگ میں فرق نہ آیا تو خدا نہ کرے انکی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے دونوں ٹانگیں فریکچر ہیں ان کو صحیح ہونے میں کم از کم کچھ مہینے لگ سکتے ہیں اگر وہ خود چاہیں تو جلدی ریکوور کرسکتے ہیں یہ فارم اسی چیز کی نشان دہی ہے کہ خدا نہ کرے آپریشن کے بعد اگر کوئ مسلئہ ہوتا ہے تو آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم انہیں کم وقت میں بہترین طبی فوائد مہیا کریں لیکن اس کے لئے آپ کی اجازت اور سپورٹ کی ضرورت ذیادہ ہے ۔۔۔۔
تفصیل سے بتاتے ہوئے اس نے سب کو سکتے میں چھوڑ دیا تھا وہ جانتا تھا یہ بات کوئ عام بات نہیں ہے لیکن وہ ایک ڈاکٹر تھا اور اسے یہ سب انہیں بتانا ہی تھا ۔۔۔۔
وہ ۔۔۔ وہ ٹھیک ہو جائے گا تم دیکھنا بس ۔۔ تم سب تیاری کرو دیکھنا وہ ٹھیک ہو جاۓ گا اتنا بڑا دکھ نہیں دے گا وہ ہمیں اپنے بوڑھے ماں باپ کو اتنا بڑا دکھ نہیں دے گا ۔۔۔۔
اپنی نم آنکھوں سے انہوں نے بغیر سوچے دستخط کیے تھے جبکہ وہ صرف کچھ گھنٹوں میں ہی بیمار اور بوڑھے دکھنے لگے تھے ۔۔۔
رمیض نے اپنے باپ کو کاندھوں سے پکڑ کر کرسی پر بیٹھایا تھا جبکہ صمد رمیض کو تھپکی دیتا ہوا نکل گیا تھا کہ اب اسے آپریشن کی تیاری جلد از جلد کرنی تھی ۔۔۔۔
نوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاۓ سفید ڈوپٹے کے ہالے میں بھیگے چہرے کے ساتھ دعا مانگنے میں مگن تھی ۔۔۔
کہنے کو تو محبت ختم ہو چکی تھی لیکن کیا محبت ختم ہوتی ہے ؟؟؟ اور اسکے دل نے چیخ چیخ کر نہیں کہا تھا اپنے آپ سے فریاد کی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنے لئے کچھ مانگتی ایک جھماکے سے اس کے سامنے گزرے کل کی یاد تازہ ہوئ تھی جب صمد نے اپنے ہاتھوں سے اسے انگوٹھی پہنائی تھی ۔۔۔ چونک کر اس نے اپنے الٹے ہاتھ کی چھوٹی انگلی دیکھی تھی وہاں چمکتی باریک سے ہیرے کی انگوٹھی نے اسے حال میں لاکر پھینکا تھا تکلیف سے اسکے ہاتھ بے جان ہوئے تھے ایک دم سے اس نے اپنے ہاتھوں کو گالوں پر پھیر کر چہرہ صاف کیا تھا اور پھر ہاتھ اٹھائے تھے لیکن اب کے اسکا لہجہ اور انداز بدلے ہوئے تھے ۔۔۔
یا اللہ ۔۔۔۔ آپ تو سب جانتے ہیں نہ پھر میرے دل سے اسکی محبت نکال دیں ۔۔۔ یا میرے مالک اس کو زندگی اور صحت دے اسکے ماں باپ کے لیے جنہوں نے اسے پالا پوسا اور وہ ایک دنیاوی محبت کے لیے اپنے خونی رشتوں کو کیسے چھوڑ سکتا ہے ۔۔۔ یا اللہ تو سن لے میری یا میرے مالک ۔۔۔
اپنے ہاتھوں کو اٹھائے اسکے الفاظ بدلے تھے لیکن تڑپ اتنی تھی کہ اگر کوئ سن لیتا تو اسے یقین ہوتا کہ محبت کیسے کی جاتی ہے اور محبت ہوتی کیا ہے ۔۔ ؟؟
