Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 27)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 27)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے وہ تمام تصویریں صمد کے نمبر پر سینڈ کی تھیں اور اگلے لمحے اچھوت کی طرح اس نے موبائل پھینکا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہاں اس نے سوچا تھا محبت میں سب جائزہوتا ہے اور اس نے وہ کام بھی انجام دے دیا تھا لیکن اب اسکا دل کرلایا تھا وہ کیسے اپنی بہن نما کزن کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے جبکہ اسے پتا تھا کہ پہلے ہی اسکا بھائ کیا کر چلا ہے ۔؟۔۔۔۔
ہاں وہ ژالے مغل اپنے بھائ کی طرح خود غرض بن گئ تھی محبت میں اندھی ہوگئ تھی کیونکہ اس کے اندر لیزہ جتنا صبر نہیں تھا وہ صمد کو لیزہ کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی تھی شادی تو دور کی بات تھی ۔۔۔۔
موبائل اٹھائے اس نے سم نکال کر توڑ کر ڈسٹبن میں ڈالی تھی اور پھر سر پکڑ کر زمین پر بیٹھتی چلی گئ تھی ۔۔ ۔۔۔۔
سر کے بالوں کو دونوں مٹھیوں میں پھنساۓ وہ ضبط کے کڑے مراحل توڑتے ہوئے زور سے چیخی تھی اور پھر دھاڑے مارکر روئ تھی کہ اس وقت اسکو سنبھالنے والا کوئ نہ تھا
کیونکہ یہ سب اسکا خود کا کیا دھرا تھا۔ ۔۔۔
ہاں وہ ژالے مغل تھی جس نے اپنی بہن کے ساتھ گیم کھیلا تھا ہاں لیزہ دوبارہ ہاری تھی لیکن اب کی دفعہ اسکی ہار کیا رنگ لائے گی یہ قبل از وقت جاننا ناممکن تھا ۔۔۔۔
بیڈ پر بیٹھے وہ کئی بار اننون نمبر سے آئ ہوئ تصویریں دیکھ چکا تھا اور کچھ گھنٹوں میں ہی وہ نمبر بھی معلوم کروا چکا تھا لیکن سب کی طرح سم بند کر دی گئ تھی یعنی اب اسکا کوئ نام و نشان باقی نہ رہا تھا یہاں تک کہ وہ فوٹو شاپ پر بھی لے کر گیا تھا کہ معلوم کر سکے لیکن شاپ کیپر کے بتانےپر کہ یہ تصویریں اصلی ہیں اسکا دماغ سن ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
ابھی بھی وہ اسی سوئ جاگی کیفیت میں موبائل میں تصویر دیکھتے ہوئے گہری سوچ میں گم تھا جب اسکی امی دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی تھیں جس پر وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔
صمد بیٹا کچھ کام تو نہیں کر رہے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
دروازے پر رکتے ہوئے انھوں نے صمد سے پوچھا تھا جس پر وہ جلدی سے سیدھا ہوا تھا ۔۔۔۔
جی ماما ۔۔۔۔ آجائیں مجھے بلا لیتی آپ میں آجاتا ۔۔۔
ارے نہیں نہیں بات مجھے کرنی تھی تو آنا بھی مجھے ہی تھا خیر ضروری بات کرنی ہے تم سے ۔۔۔۔
انھوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ کر اس سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
جی ماما بولیں آپ اجازت کیوں لے رہی ہیں ۔۔۔۔
اس نے گہری سانس لے کر اپنی ماں کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
صمد دیکھو بیٹا اب تو زیب کی طبیعت بھی بہتر ہے چلنے پھرنے میں معمولی سا مسلئہ ہے بس اب ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیئے شادی کی ڈیٹ فکس کرنا ہے مجھے اسی مہینے کی میں اب اپنے گھر میں بہو دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔
ایک ہی سانس میں بولتے ہوئے انھوں نے صمد کی بولتی بند کی تھی اگر وہ یہ بات پہلے کرتیں تو وہ خوشی سے نہال ہو جاتا لیکن ابھی کچھ دیر پہلے جو اس نے تصویریں دیکھی تھیں اس نے صمد کے تمام احساسات کو کچل ڈالا تھا وہ خالی خالی پن سے اپنی ماں کی بات سن رہا تھا ۔۔۔۔
کیا بات ہے صمد کوئ مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ جواب کیوں نہیں دے رہے سب ٹھیک ہے نہ ۔۔۔۔۔
اپنی بات کا جواب نہ سن کر انھوں نے صمد کو دیکھ کر تشویش سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
نہ ۔۔۔ نہیں کچھ نہیں جیسا آپ چاہیں ۔۔۔۔
دل پر پتھر رکھ کر اس نے اپنی ماں کو اجازت دی تھی ۔۔۔۔
تو بس پھر ٹھیک ہے میں کل ہی جارہی ہوں بہروز بھائ کی طرف اب تم آرام کرو مجھے بہت ساری تیاری کرنی ہے ۔۔۔۔
خوشی سے پر لہجے میں وہ بولتی ہوئیں باہر نکل گئ تھیں جبکہ صمد وہیں بیٹھا اپنے دل کے ٹکڑے ہوتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
وقت بہت تیزی سے گزرا تھا پھوپھو کو واپس گئے تین ماہ ہوگئے تھے اور اب انکی واپسی جلد ہی ہونی تھی جبکہ زیب یہیں پر ہی موجود تھا کیونکہ اسے ابھی بھی کافی مسئلہ ہوتا تھا چلنے پھرنے میں ۔۔۔۔
ایک بھر پور انگڑائ کے ساتھ اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کو ہلایا تھا ہلکا سا درد اٹھا تھا جو وہ بہت آرام سے سہہ گیا تھا ابھی وہ بیڈ سے اٹھ کر سیدھا ہوا تھا جب دروازہ کھول کر ریان اندر داخل ہوا تھا اس کو جاگتے دیکھ وہ مسکرایا تھا ۔۔۔۔
کیسے ہیں زیب بھائ ؟؟؟ کہیں درد تو نہیں ہے ؟؟؟
نہیں الحمداللہ اب بہت بہتر ہوں سب خیریت ہے آج مجھے کسی نے جگایا نہیں ورنہ ژالے تو مجھے تنگ کر دیتی ہے ۔۔۔۔
بیڈ سے کھڑے ہوتے ہوئے اس نے غیر معمولی پن دیکھ کر پوچھا تھا ۔۔۔۔
ہاں بہت مصروف ہیں سب آج اس لیے شاید میں بھی آپکے کپڑے نکالنے آیا تھا فریش ہو جائیں اور باہر آجائیں ۔ ۔۔۔
بلیک کلر کا کرتا شلوار اسے پکڑاتےہوۓ وہ اس سے بولا تھا جس نے ناسمجھی سے ریان کو دیکھا تھا ۔۔۔
آپکونہیں پتا آج لیزہ کی ڈیٹ فکس ہو رہی ہے اسی سلسلے میں اس کے سسرال والے آرہے ہیں ۔۔۔
زیب کو اپنی طرف دیکھتے دیکھ ریان نے جلدی سے بتایا تھا جب کہ زیب کا رنگ تیزی سے بدلہ تھا سفید پڑتے چہرے کے ساتھ اس نے ریان کو جاتے ہوئے دیکھا تھا سن ہوتے وجود نے ساتھ وہ دوبارہ سے بیڈ پر ڈھے گیا تھا اب شاید اٹھنے کی ساکت نہیں تھی۔ ۔۔۔۔
نیوی بلیو کلر کی شارٹ شرٹ اور ہم رنگ ٹراؤزر پہنے گلے میں ڈوپٹہ لئے وہ ہلکے میک اپ میں سوگواریت لئے بیٹھی تھی جبکہ اس کے عین سامنے موجود زیب اور اس کے برابر بیٹھے ریان کے ساتھ ہی صمد درانی نے اسے نظر بھر کر دیکھا تھا ایک عجیب سی بے چینی ژالے کے وجود میں ہوئ تھی وہ یہ سب نہیں دیکھ سکتی تھی ہاں وہ محبت کے لیے خود غرض ہو گئ تھی اور ہاں وہ زیب مغل کی ہی بہن تھی جس نے محبت کے جھانسے میں لیزہ کی زندگی برباد کی اور اب اسکی بہن یہ کام لیزہ بہروز خان کے ساتھ کر رہی تھی کوئ فرق نہیں تھا دونوں میں ۔۔۔۔۔
بھابھی اور بھائ صاحب ہم نے بہت انتظار کے بعد فیصلہ کیا ہے اور مجے یقین ہے آپ اور وقت نہیں مانگیں گے ہم سے ۔۔۔۔
بلکل ہم نے واقعی آپ سب کو بہت انتظار کروایا لیکن اب ہم آپکو انتظار کی سولی پر نہیں چڑھائیں گے جب آپ کو مناسب لگے آپ تاریخ بتا دیں ۔۔۔۔
نور بیگم نے مسکراتے ہوئے بات کاسلسلہ جوڑا تھا ۔۔۔۔
بس ہم چاہتے ہیں اسی مہینے ہم اپنی بہو لے جائیں اور پھر ہمیں ظلم و ستم بھی تو شروع کرنا ہے ۔۔۔۔۔
صمد کی ماں کی شرارت بھری آواز پر سب کے لب مسکراۓ تھے جبکہ لیزہ بھی صمد کو دیکھ کر مسکرا دی تھی ۔۔۔۔
اس کی مسکراہٹ پر جہاں زیب بری طرح تپا تھا وہیں صمد کے بھی ہونٹ بلا ارادہ مسکراۓ تھے سامنے موجود محبوب کی مسکراہٹ ہی اتنی طاقت رکھتی تھی کہ وہ سب بھلا کر اسکو نظر بھر کر دیکھے اور ہر درد تکلیف بھول جائے ۔۔۔۔۔
بلکل آب آپکی ہی بیٹی ہے تو پھر ٹھیک ہے اس مہینے کی 21 تاریخ کیسی رہے گی ۔۔۔۔؟؟؟؟
بہروز صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے اپنے بڑے بھائی سے پوچھا تھا جس پر انھوں نے ہاں کا سگنل دیا تھا ۔۔۔۔
لیکن ہم مایوں کے ایک دن بعد ہی نکاح کرنا چاہتے ہیں اور پھر مہندی اور پھر بارات کیونکہ کافی عرصے کے بعد ہمارے گھر دوبارہ خوشی آئ ہے تو ہم کھل کر انجوائے کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔
علیزہ جو سب کاروائی ہوتے دیکھ رہی تھی بیچ میں بول کر اپنی شرط رکھی تھی جس پر سب نے اسکی بات کی تائید کی تھی اور پھر فیصلہ ہوا تھا کہ مایوں اور نکاح 19کوساتھ ہی ہو گا 20 کو مہندی جب کہ 21 کو بارات ہو گی اور ڈھولکی تو 15 سے ہی شروع کر دینی تھی سب نے ۔۔۔۔۔
بھر پور ماحول میں کھانا کھایا گیا تھا اور پھر ایک بہت خوبصورت شام گزار کر وہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تھے پیچھے وہ سب گھر والے شادی ڈسکس کرتے ہوئے اپنی اپنی رائے کو فوقیت دے رہے تھے لیکن چار لوگ ایسے تھے جو اپنے اپنے کمروں میں بے بسی سے منہ لپیٹے پڑے تھے ایک طرف صمد جو محبت کو پا کر کھو دینے پر رو رہا تھا دوسری طرف ژالے بے نام سی محبت میں آنسو بہا رہی تھی جبکہ تیسری طرف زیب غور سے پنکھے ہر نظریں جمائے اپنی کھوئ ہوئ محبت کو پانے کے لیے ترس رہا تھا ایک آنسو کنپٹی پر جزب ہوا تھا اور چوتھا اور آخری شخص جس نے سب کچھ گنوا کر ایک محبت کرنے والے شخص کو پایا تھا وہ رات کی تاریکی میں اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے جو اسکا شوقیہ عمل میں شامل تھا اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچ رہی تھی ایک طرف اس نے زیب کی محبت کھوئ تھی تو بدلے میں اسے صمد کی بے لوث محبت ملی تھی ایک پل کو اسکے لب جامد ہوئے تھے اگلی ہی لمحے وہ مسکرائ تھی ۔۔۔
ہاں میں صمد درانی سے بے لوث محبت کرونگی اسکی محبت کا جواب ہمیشہ محبت سے دونگی ۔۔۔
اس نے اپنے آپ سے پکا عہد کیا تھا اور یقیناً یہ وعدہ اب اسے شادی تک اپنے آپ سے دہراتے رہنا تھا ۔۔۔۔
تم نے بھی زندگی کا تماشہ بنا دیا ۔۔۔۔
اتنا درد دیا کہ اگر درد کو الٹا کرو تو درد ہی بنتا ہے ۔۔۔
