56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 30)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

وہ جو خواب تھا ، میرے ساتھ بھی ،

وہ جو ملا مجھے ، وہ میرا نہیں ،

اس دنیا کی یہی ریت ہے ،

ہوتا وہی ہے جو آسمانوں پر ہے لکھا ۔۔۔۔

کمرا خالی ہوتے ہی سب کے رکے ہوئے آنسو آنکھوں سے نکلے تھے جبکہ لیزہ نے لال سرخ آنکھیں اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

لیزہ میری بات سنو بیٹا ۔۔۔۔

نور بیگم اسکا رونا دیکھ آگے بڑھی تھی جب لیزہ نے انکی بات کاٹی تھی ۔۔۔

کیا سنوں ہاں کیا سنوں اب سننے کو باقی کیا رہ گیا ہے بتائیں مجھے کیا سنوں میں ۔۔۔۔

بولتے بولتے اسکے رونے میں روانی آئ تھی جبکہ علیزہ نے آگے بڑھ کر اسکے برابر میں بیٹھ کر لیزہ کا ہاتھ تھاما تھا ۔۔۔۔

لیزہ حالات ایسے ہو گئے تھے ہم ۔۔۔ ہمارے پاس اور کوئ چارہ نہیں تھا سنبھالو خود کو ۔۔۔۔

بس کردیں آپی میں ہی کیوں سنبھالوں اپنے آپ کو کیوں ۔۔ نہیں مجھے بتائیں کیا قصور تھا میرا کیوں اندھے کنویں میں ڈالا مجھے کیوں کیا آپ سب نے میرے ساتھ ایسا ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

ہچکیوں سے روتے ہوئے لیزہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ چھپایا تھا جس پر نور بیگم کی سسکی نکلی تھی ۔۔۔۔

کوئ نہیں جانتا ۔۔ کو ۔۔ کوئ بھی نہیں میں کس تکلیف میں ہوں درد سے دل پھٹ رہا ہے میرا میں کیا کروں اب میں کروں ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟

اسکی تکلیف کا اندازہ اسکے الفاظوں سے لگایا جا سکتا تھا ۔۔۔۔

مجھے معاف کر دو بیٹا میں مجبور تھی پورا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا ہے آگر آج تمہارا نکاح نہ ہوتا تو بہت برا ہوتا ۔۔۔

نور بیگم سامنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے روتے ہوئے بولی تھیں جس پر لیزہ نے تڑپ کر سر اٹھایا تھا ۔۔۔۔

ماما ۔۔۔۔ آپ کیوں معافی مانگ رہی ہیں معافی تو مجھے مانگنی چاہیئے میں ہی پاگل تھی جو ایسے شخص سے محبت کر بیٹھی اور پھر آپ کا نام بدنام کیا اور ہمیشہ آپکے لئے مسلئہ بن جاتی ہوں اور اب بھی ایسا ہی ہوتا اس لئے آپ نے صحیح کیا جو مصیبت کو اپنے سر سے اتار دیا اچھا کیا آپ نے ۔۔۔۔

لیزہ مت کرو ایسی باتیں ۔۔۔۔۔

اسکی باتیں سن کر نور بیگم نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھاما تھا جبکہ اسنے انکے ہاتھ پیچھے کئے تھے ۔۔۔۔

صمد ۔۔۔۔ میرا موبائل ۔۔۔۔ میرا موبائل کہاں ہے ؟؟؟؟

کچھ بولتے ہوئے اس نے ایک دم سے سائڈ ٹیبل پر ہاتھ مارا تھا جس سے ٹیبل پر رکھا گلاس نیچے گرا تھا جبکہ اس نے موبائل اٹھا کر تیزی سے نمبر ڈائل کیا تھا ۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ نمبر پریس کرتی جھٹکے سے موبائل ہاتھ سے کھینچا گیا تھا جبکہ اس نے بھی نظریں اٹھا کر سامنے کھڑے زیب کو دیکھا تھا وہ کب اندر آیا کسی کو نہیں پتا چلا تھا ۔۔۔۔

ممانی اگر آپ اجازت دیں تو میں بات کرنا چاہتا ہوں لیزہ سے ۔۔۔۔ ؟؟؟

موبائل ہاتھ میں پکڑے اس نے رسانیت سے اجازت طلب کی تھی جس پر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر کھڑی ہو گئی تھیں جبکہ لیزہ نے لال بھبھوکا چہرے سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

مجھے کوئ بات نہیں کرنی سنا تم نے اور آپ دونوں کہاں جارہے ہیں میں نے کہانہ مجھے بات نہیں کرنی سمجھ میں نہیں آرہا کیا ۔۔۔ ؟؟؟؟

جھٹکے سے کھڑے ہوتے ہوئے وہ بولتی ہوئ باہر جاتی نور بیگم اور علیزہ کی طرف بڑھی تھی اور اسی وقت زیب نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا دروزہ بند ہوا تھا اور کمرے میں گہری خاموشی چھا گئ تھی جبکہ لیزہ نے حیران نظروں سے اپنا ہاتھ دیکھا تھا جو زیب کے ہاتھوں میں تھا ۔۔۔۔

تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ پکڑ نے کی ؟؟؟

اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں میں سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوۓ وہ چیخی تھی جس پر زیب نے سنجیدگی سے اسکا چہرہ دیکھا تھا ۔۔۔۔

ہاتھ کیا تمہارا پورا کا پورا پکڑنے کی ہمت ہے مجھ میں اور حق رکھتا ہوں ۔۔۔۔

میں تمہیں ایسا کوئ حق نہیں دیتی سنا تم نے میرا ہاتھ چھوڑو میں نے کہا ۔۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات پر زیب نے زور سے لیزہ کو اپنی طرف کھینچا تھا جس سے وہ زیب کے سینے سے لگی تھی اسکا بازو تھامے اس نے اپنے آپ کو سنبھالا تھا جبکہ زیب نے اسے کمر سے تھام کر پن کیا تھا ۔۔۔۔ ۔

چھوڑنے کے لئے نہیں پکڑا یہ ہاتھ میں نے اور تاقیامت تھاما رہونگا اور حق کی بات مت کرو ابھی کہ اب تو تمہارا تم پر بھی حق نہیں ہے سر کے بالوں سے لے کر پیروں کے ناخن تک تم صرف میری ہو میرا حق ہے تم پر بیوی ہو میری ۔۔۔۔

اپنی گرم سانسیں اسکے چہرے پر چھوڑتے زیب نے اسے اپنے اور اسکے بیچ بن چکے رشتے کو باور کروایا تھا جبکہ لیزہ کا چہرہ اتنی سی قربت پر لال سرخ ہوا تھا ۔۔۔۔

اپنی خوش فہمیاں اپنے تک رکھو صمد میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا وہ واپس آئے گا تم دیکھنا ۔۔۔۔

ایک جھٹکے سے اسے پیچھے کرتے ہوئے لیزہ بولتے ہوئے مڑی تھی لیکن اگلے لمحے زیب نے تیش سے اسکا ہاتھ پکڑ کر مڑوڑا تھا اور پیچھے کھینچا تھا جس سے اسکی کمر اسکے سینے سے لگی تھی اپنے ساتھ لگائے اب کہ اسکے لہجے میں شدید غصہ تھا ۔۔۔۔

اب تو نام لے لیا تم نے اسکا لیکن ایک دفعہ پھر اگر تمہارے منہ سے اسکا نام سنا تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا کان کھول کر بات سن لو میری مجھے پسند نہیں میری بیوی یعنی لیزہ زیب مغل کے منہ سے کسی غیر مرد کا نام بھی سنوں کیوں کہ لیزہ ازل سے زیب کی تھی اور ابد تک زیب کی ہے اور جنت میں بھی میں تمہیں بانٹ نہیں سکتا وہاں بھی مجھے تم ہی چاہیئے ۔۔۔۔

پہلے غصے بعد میں گھمبیر لہجے میں بولتے ہوئے اس نے لیزہ کے بالوں کے پاس سر جھکا کر ایک لمبا سانس کھینچا تھا جبکہ لیزہ کی سانسیں سینے میں اٹکی تھیں دل ایک سو بیس کی اسپیڈ سے دوڑا تھا اور ڈھنڈے پسینے نے اسکے قدم لڑکھڑا نے پر مجبور کر دئیے تھے ۔۔۔۔

زیب نے اسکی کپکپاتی ٹانگیں محسوس کر کے نا محسوس انداز میں اسے بیڈ پر بیٹھایا تھا اور دور ہٹ کر ایک نظر اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔

لیزہ زیب مغل ویلکم ٹو مائ لائف ۔۔۔۔ میرا جنون میرا عشق میری شدت اب تمہیں ہی سہنی ہے تو پلیز بریو ہو جاؤ صرف کل کی بات ہے بس ۔۔۔۔

زیب بولتا ہوا باہر نکل گیا تھا پیچھے لیزہ اپنی دھڑکنوں کو سنبھالے ہاتھ سینے پر رکھے لال سرخ چہرے کے ساتھ اسکا بدلہ ہوا لہجہ اور انداز محسوس کر کے لیزہ کا پورا جسم کپکپا گیا تھا ایک جھٹکے سے اٹھ کر وہ واش روم میں بند ہوئ تھی ۔۔۔۔

سبز رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس گیندے کے پھولوں کا زیور پہنے وہ سب کے بیچ سوگوار سی کیفیت میں بیٹھی تھی ہر طرف ہنسی قہقہے رنگ برنگے ملبوسات پہنے لڑکیاں اپنے جوہر دیکھاتے ہوئے ادھر اُدھر تتلیاں بن کر گھوم رہی تھیں ایسے میں لڑکے سفید شلوار قمیض پہنے گلے میں مختلف رنگوں سے بنی چندری پہنے کبھی اندر تو کبھی باہر کے چکر لگا کر گھن چکر بنے ہوئے تھے تیز آواز میں بجتے گانے بھی اسکے موڈ کو تبدیل نہیں کر پارہے تھے ایسے میں سب بڑے رسم کا انتظام کرتے ہوئے ٹیبل سجا رہے تھے اور وہ ایک خوبصورت سے جھولے پر بیٹھی جسے گیندے اور موتیا کے پھولوں سے سجایا گیا تھا ہر طرف پھول ہی پھول اسکا دیدار کر رہے تھے جبکہ وہ ایک ہی طرف نظریں جمائے بیٹھی گہری سوچ میں گھم تھی ۔۔۔۔۔

ہے ۔۔۔ لیزہ کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔ ؟؟؟

علیزہ جو اسے کافی دیر سے دیکھ رہی تھی اگر یہ کہا جائے کہ نظر رکھی ہوئ تھی تو غلط نہ ہو گا اسکے پاس جا کر بیٹھتے ہوئے بولی تھی جبکہ منہ پر مصنوعی ہنسی موجود تھی ۔۔۔۔

آپی ڈر لگ رہا ہے یہ سب کیا ہو رہا ہے میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا آپی یہ غلط ہوا ہے نہیں ہونا تھا ۔۔۔۔

علیزہ کا ہاتھ پکڑے اس نے پریشانی سے کہا تھا جو وہ سمجھ کر اسکا ہاتھ دبایا تھا ۔۔۔۔

کچھ نہیں ہو گا ہم ہیں نہ جو ہوا وہ ایسے ہی ہونا لکھا تھا یہ سوچ سوچ کر پریشان نہ ہو سب کی نظریں تم پر ہیں لیزہ اور اگر دلہن خوش نظر نہ آئے مطلب لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع مل جاتا ہے ۔۔۔۔

رسانیت سے سمجھاتے ہوئے اس نے مسکرا کر لیزہ کو دیکھا تھا جو اسکی بات سمجھتے ہوئے خود بھی سوگوار سی ہنسی ہونٹوں پر سجاۓ بیٹھ گئ تھی جبکہ آنکھوں میں نمی اب بھی موجود تھی ۔۔۔۔۔

___________________________________

زیب ۔۔۔۔۔۔

جھٹکے سے وہ اٹھ کر بیٹھی تھی اور بغیر سوچے ہی زور سے چیخی تھی جس پر ثمن بیگم نے دوڑ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا جسے بری طرح جھٹکا گیا تھا ۔۔۔۔

کہاں ہے زیب ۔۔۔ ؟؟؟ بتائیں مجھے کہاں ہے زیب ؟؟؟؟

ان سے پوچھتی ہوئ وہ بکھرے بالوں سے بیڈ سے اتری تھی ۔۔۔۔

سارہ سنبھالو اپنے آپ کو بیٹا ۔۔۔۔۔

نہیں ہوں آپکی بیٹی سنا آپ نے نہیں ہوں آپکی بیٹی مجھے روکئیے گا مت ورنہ میں کچھ کر دونگی ۔۔۔۔۔

بدتمیزی سے بولتے ہوئے وہ بغیر چپل پہنے باہر نکل گئ تھی پیچھے وہ اپنا سر تھامے بیڈ پر گر سی گئی تھیں ۔۔۔۔

بند کرو یہ سب ۔۔۔۔۔

گانوں کے شور میں اسکی آواز دب گئ تھی لیکن سب کی نظریں اسکی طرف ضرور اٹھ گئ تھیں جبکہ سامنے جھولے پر بیٹھے لیزہ اور زیب نے بھی چونک کر دیکھا تھا اسکا حال دیکھ کر سب نے حیرت بھری نظروں سے پیچھے آتی ثمن بیگم کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

میں نے کہا بند کرو سب یہ سمجھ میں نہیں آرہا ۔۔۔۔

اسکے دوبارہ چیخنے پر ایک لڑکے نے ہاتھ ہلا کر گانےبند کروائے تھے اگلے لمحے پورے لان میں سناٹا چھا گیا تھا موت کا سا سناٹا ۔۔۔۔

تم ۔۔۔۔ کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا بتاؤ مجھے کیوں کیا ایسا ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہ زیب کے سامنے کھڑی ہوئ تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے زیب کا گریبان دونوں ہاتھوں میں جگڑا تھا جبکہ وہ حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

یہ کیا بکواس ہے سنبھالیں اپنی بیٹی کو خالہ ۔۔۔

زور کا جھٹکا دے کر اس نے اپنا گریبان چھڑوایا تھا وہ کیسے برداشت کر لے کسی کا ہاتھ اپنے گریبان پر ۔۔۔۔

کیوں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟ ماما کیوں سنبھالیں مجھے اب نہیں سنا جا رہا کیا یا سننا نہیں چاہتے ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟

اپنی بات پر زور دیتے ہوئے وہ ہنسی تھی اس وقت وہ پاگل ہی لگ رہی تھی ۔۔۔۔

لسن سارہ ۔۔۔۔ یہ وقت نہیں ہے ان سب باتوں کا ہم بعد میں بات کریں گے ۔۔۔۔۔

اسکا انداز دیکھ کر زیب نے اسے آرام سے کہا تھا لیکن اسکی بات سن کر وہ تو بھڑک گئ تھی ۔۔۔۔

اچھا ۔۔۔ بعد میں کب جب تم اپنی زندگی میں گھم ہو جاؤ گے بعد میں کب ۔۔۔ ؟؟؟ مجھے بتاؤ ابھی بات ہو گی جو ہو گی اور ابھی فیصلہ ہو گا ۔۔۔۔۔

اپنے الفاظوں پر زور دیتے ہوئے وہ لیزہ کی طرف پلٹی تھی ۔۔۔

محبت ہے یہ میری ۔۔۔۔ تم نے چھین لی کیسے ۔۔ ہمیشہ ایسا کرتی ہو لیکن اب نہیں کیونکہ اب معاملہ زیب کا ہے اسی لئے۔۔۔۔

وہ کہتے کہتے زیب کی طرف پلٹی تھی ۔۔۔۔

تم زیب ابھی اور اسی وقت اسے طلاق دو گے ۔۔۔۔

جبکہ اسکی بات سن کر سب نے دہل کر اسے دیکھا تھا دوسری طرف نظروں میں حیرانی سموۓ لیزہ نے اسے دیکھا تھا لیکن اگلا لمحہ قیامت خیز تھا شاید سارہ کے لئے جب دیکھتے ہی دیکھتے زیب نے ایک زور دار تھپڑ اسکے گال پر رسید کیا تھا ایک دم لان میں خاموشی چھا گئ تھی اور اسی وقت دروازے سے لان کی طرف آتا صمد بھی وہیں رک گیا تھا ۔۔۔۔

تھپڑ اتنا زور کا تھا کہ سارہ کے ہونٹ سے خ+و+ن جاری ہوا تھا جس پر لیزہ نے آگے بڑھ کر زیب کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔

اگر ایک دفعہ اور یہ بکواس کی تو میں بھول جاؤں گا کہ تم عورت زاد ہو سنا تم نے ۔۔۔۔ مر جاؤں گا لیکن طلاق نہیں دونگا اسے اور ایک بات اگر یہ بات اب کسی نے کہی تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا سمجھ گئیں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

اسکی دھاڑ نے وہاں اچھے اچھوں کو ڈرا دیا تھا جبکہ سارہ پھٹے ہونٹ سے گال پر ہاتھ رکھے زیب کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی جب زیب نے اسکا بازو پکڑ کر اٹھایا تھا سب کی ہلکی سی چیخ نکلی تھیں جبکہ لیزہ نے اسکا بازو پکڑ کر روکا تھا ۔۔۔۔

جانتی ہو کون ہے یہ ۔۔۔۔ ؟؟؟؟ محبت ہے میری یہ محبت ۔۔۔۔

اسکے ہاتھوں کا لمس اپنے بازوؤں پر محسوس کر کے زیب نے سارہ کو خ +و+ن خوار نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا اسکی بات پر سب نے چونک کر اسے پھر لیزہ کو دیکھا تھا جو خود حیرت میں ڈوبی ہوئی تھی ۔۔۔۔

محبت بھی چھوٹا لفظ ہے میرا عشق ہے یہ میری روح ہے یہ میری زندگی ہے یہ تمہیں پتا ہے چھ سال ۔۔۔۔ چھ سالوں سے میں نے انتظار کیا ہے جب میں پورے استحقاق سے اسے بتاؤں کہ وہ میرے لئے کیا ہے اور تم کہتی ہو چھوڑ دوں اسے مر تو سکتا ہے زیب مغل اب لیکن ۔۔۔۔۔

اب لیزہ زیب مغل کو چھوڑ نہیں سکتا محبت تو ایک احساس ہے جو خود ہمارے دل و دماغ میں پیدا ہوتا ہے یہ زبردستی نہیں کروائی جاتی جیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے لیکن یہ بات میں نہیں جانتا تھا تمہاری محبت یک طرفہ ہے نہ میں نے کبھی تم سے اس سلسلے میں بات کی نہ حوصلہ افزائی کی کیوں کہ ایک محبت میں ہارا ہوا شخص دوسروں کو کیا بتاۓ گا کیا محبت سیکھاۓ گا لیکن آج جو تم نے اپنی حد پار کی ہے نہ اگر تمہاری جگہ کوئ اور ہوتا میں کب کا زمین میں گاڑ چکا ہوتا ۔۔۔۔

تیش میں بولتے اسکا لہجہ اور ہاتھوں کا دباؤ اسکے بازوؤں پر سخت ہوا تھا جس سے اسکی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے اگلے لمحے اس نے جھٹکے سے اسے اپنے سے دور کیا تھا ۔۔۔۔۔

سن میں سب کان کھول کر ۔۔۔۔ یہ لڑکی اب لیزہ زیب مغل ہے میری بیوی میری محبت جسے اللہ نے میرے لئے چنا ہے جس کی تقدیر مجھ سے شروع ہو کر مجھ پر ختم ہوتی ہے جو سات آسمان کے اوپر لکھا ہے میرا اور لیزہ کا ساتھ ایسا ہے اور ہمیں اب موت ہی الگ کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔

انگلی اٹھاۓ اس نے چاروں طرف دیکھ کر کہا تھا جس پر لیزہ نے بھیگی آنکھوں سے زیب کو دیکھا تھا وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی زیب سب کے سامنے یہ سب کہے گا لیکن اب وہ پہلے والا زیب نہیں تھا جیسےلیزہ اب پہلے والی لیزہ نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔

ہنگامہ ختم ہوتے ہوتے بھی رات کا اڑھائی بجا گئ تھی ایسے میں لیزہ کو اسکے کمرے میں لایا گیا تھا کیونکہ اب سب کچھ سہنا اس کے بس میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔

صبح کا سورج اپنی جوبن میں تھا ایک تو گرمیوں کے دن اوپر سے عجیب بے کسی سی دل و دماغ پر سوار تھی وہ اپنی حالت سمجھ نہیں پا رہی تھی کہیں بہت دور اسکا ذہن مطمئن تھا لیکن کچھ تھا جو نظروں سے اوجھل تھا پھیلے ہوئے کمرے میں وہ اور دو مہندی لگانے والی بیٹھی اسکے ہاتھوں کو رنگ رہی تھیں ایسے میں وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے تھک گئ تھی کوئ لڑکی بھی ساتھ نہیں تھی ابھی کہ وہ ہی انکو روک دے تھوڑا سا ۔۔۔۔

سوچتے سوچتے وہ پیچھے ہوئ تھی اور ایک آہ اسکے منہ سے برآمد ہوئی تھی جبکہ لڑکیوں نے چونک کر دیکھا تھا تکلیف اسکے چہرے میں موجود تھی ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے اسکی کمر اکڑ گئ تھی ۔۔۔۔

آپ تھک گئی ہیں تو بتا دیں ہم تھوڑی دیر بعد آجائیں گے ۔۔۔۔

ایک لڑکی نے تیزی سے اس سے کہا تھا جس پر اس نے سر ہلا کر جانے کا بولا تھا ۔۔۔ ابھی وہ بیک سے ٹکی ہی تھی جب راحیل بھائ دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوئے تھے اور وہیں رک گئے تھے ۔۔۔۔

ارے میرا بیٹا آرام کر رہا تھا چلو میں بعد میں آجاؤں گا ۔۔۔۔

مسکرا کر بولتے ہوئے وہ واپسی کے لئے مڑے تھے جب لیزہ نے تیزی سے انہیں روکا تھا ۔۔۔

نہیں نہیں راحیل بھائ میں ٹھیک ہوں بلکل آپ آجائیں پلیز ۔۔۔۔

اسکی بات پر وہ قریب آکر اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر بیٹھ گئے تھے کہا کچھ نہیں تھاجس پر وہ جز بز ہوئ تھی ابھی وہ کچھ بولتی جب دروزہ کھول کر تقریبآ سب ہی اندر آئے تھے اور سب سے پیچھے زیب آیا تھا جس کو دیکھ کر لیزہ کا حیران چہرہ سپاٹ ہوا تھا ۔۔۔۔۔

سب ایک ایک کر کے اندر آکر کچھ بیٹھ اور کچھ کھڑے ہوگئے تھے ۔۔ جبکہ زیب بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسکے بلکل سامنے پیر نیچے لٹکا کر بیڈ پر بیٹھ گیا تھا جس پر لیزہ بیڈ کراؤن سے چپک گئ تھی ۔۔۔۔

ارے واہ محفل لگی ہوئ ہے میں تو جوس دینے آئ تھی لیکن یہاں تو محفل کا انتظام ہے ۔۔۔۔

راحیل جو سلسلہ کلام جوڑنے لگا تھا ماہم کی آواز پر رک گیا تھا جبکہ اسکی شوخی پر سب کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے ۔۔۔۔

لیزہ آپی میں ایک پھول بناتی ہوں آپکے ہاتھ میں پلیز بنانے دیں بس ایک ۔۔۔۔

وہ جو رکھ کر باہر جانے لگی تھی لیزہ کو بیٹھے دیکھ کر مہندی اٹھا کر بیڈ پر چڑھی تھی اور معصومانہ انداز میں پوچھا تھا جس پر اس نے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

خوشی سے چہکتے ہوئے اسنے مہندی کی نوک ہاتھ پر رکھی تھی جب پیچھے سے زیب نے مہندی اسکے ہاتھوں سےچھینی تھی جس پر حیرت سے منہ موڑ کر اس نے زیب کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

میں بلکل اجازت نہیں دونگا کہ میری بیوی کے کوئ ہاتھ خراب کرے وہ بھی اسکے اتنے اہم دن پر ۔۔۔۔

رسانیت سے بولتا ہوا اسنے کاندھے آچکا دئیے تھے جبکہ ماہم منہ بنا کر بیڈ سے اتر کر باہر نکل گئ تھی ۔۔۔۔

پیچھے وہ سب اسکی اور زیب کی تکرار پر ہنس دیئے تھے جبکہ لیزہ نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔

میں نے آپ سب کو ایک خاص بات کے لئے جمع کیا ہے جس کا تعلق زیب کی زندگی سے ہے اور ظاہر سی بات ہے زیب کی زندگی سے اب لیزہ کی بھی زندگی جڑی ہے تو میری بہن کو کچھ نہ ہو اس لئے ابھی یہ بات کرنا ضروری تھی ۔۔۔۔ کل اگر حالات کے پیش نظر نکاح اچانک نہ ہوتا تو میں کبھی بھی بغیر چھان بین کے زیب کا نکاح لیزہ سے نہ کرتا لیکن حالات ہی ایسے ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔

بات بڑھتے دیکھ راحیل نے بس کو بلانے کا مقصد بیان کیاتھا جس پر سب کے ساتھ ساتھ لیزہ بھی چونکی تھی زیب نے بھی حیران ہو کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔

ایسا کیا ہوگیا راحیل جو آج بات کرنا ضروری تھی کچھ بولو بھی ۔۔۔۔

فریدہ بیگم نے پریشانی سے راحیل سے سوال کیا تھا ۔۔۔۔

زیب ۔۔۔۔۔ کیا تمہاری کسی کے ساتھ کوئ دشمنی چل رہی تھی ؟؟؟؟ مطلب کہ امریکہ میں یا اسلام آباد میں ۔۔۔ ؟؟؟ اگر ایسا کچھ ہے تو مجھے ابھی بتاؤ ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

اسکے سوال پر زیب نے اسکی طرف تشویش سے دیکھا تھا ۔۔۔

ایسا کچھ نہیں راحیل بھائ میری کسی سے بھی کوئ دشمنی نہیں ہے ۔۔۔۔

سوچ کر بتاؤ اچھے سے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟

اسکے جواب پر انہوں نے زیب پر زور ڈالا تھا جس پر وہ سوچ میں پڑ گیا تھا لیکن سوچنے کے بعد بھی اسے کچھ یاد نہ آیا تھا ۔۔۔۔

روز کون ہے ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟

اب کہ سوال نہیں لیزہ کے سر پر دھماکا کیا گیا تھا ۔۔۔۔

تو کیا زیب کے کسی اور کے ساتھ بھی مراسم تھے ۔۔۔۔

اس سوچ نے اسکے رگ و پے میں آگ بھر دی تھی جلتی آنکھوں سے اس نے زیب کو دیکھا تھا جو خود بھی روز کے نام پر سیدھا ہواتھا ۔۔۔۔

جی بلکل جانتا ہوں میری یونیورسٹی میں پڑھتی ہے مجھ سے ایک سال جونئیر ہے لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟

زیب نے جو سچ تھا وہی سب کے سامنے بولاتھا لیکن لیزہ کے دل میں جو بدگمانی پیدا ہو چکی تھی اسکو کوئ کیسے دھوئے گا ۔۔۔۔۔

زیب جس وقت اور جس گاڑی سے تمہارا ایکسیڈینٹ ہوا تھا وہاں تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ وہ ایکسیڈینٹ حادثہ نہیں تھا وہ ایک سوچی سمجھی پلیننگ تھی کسی نے زیب کی گاڑی کو ٹریس کیا تھا اور یہ کوئ ایک ہفتے تک مسلسل ہوتا رہا ہے ۔۔۔۔

راحیل نے آہستہ سے سب پر انکشاف کیا تھا جس پر فریدہ بیگم نے دہل کر زیب کو دیکھا تھا جبکہ سب شاکٹ کھڑے تھے لیز ہ کا حال بھی مختلف نہ تھا اس نے بیڈ کی چادر کو مٹھی میں پکڑا تھا ۔۔۔۔

لیکن ۔۔۔۔ لیکن ایسا کون کر سکتا ہے ۔۔۔ ؟؟؟ کون میرے بچے کو مارنے کی کوشش کرے گا اسکی کسی سے کوئ دشمنی نہیں ہے ۔۔۔۔

احمد صاحب نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا تھا ایک باپ کے لیے یہ دھچکے کی بات ہے کہ اسکے بیٹے انکے ایک بازو کو کوئ مارنا چاہتا ہے ۔۔۔۔

معلومات کے بعد پتا چلا ہے کہ جان لیوا حملہ روز نامی ایک امریکن لڑکی نے کروایا ہے اور اسکی تلاش جاری ہے جبکہ وہ فلحال امریکہ سے بھی مووآن کر چکی ہے ۔۔۔۔۔

انکے نئے انکشاف پر لیزہ کا دل چاہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے وہ کیا کیا سوچ چکی تھی زیب کو لیکر اور بات کیا تھی اسکی سوچوں سے الٹ ۔۔۔۔

خیر بتانے کا مقصد یہ تھا کہ سب کئیر فل رہیں کیونکہ جب تک ہمیں اسکا پتا نہیں چل جاتا ہمیں الرٹ رہنا ہوگا اور زیب تمہیں اپنے ساتھ لیزہ کا بھی بھر پور دیہان رکھنا ہے سمجھ رہے ہو نہ ۔۔۔۔ ؟؟؟

راحیل نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تھا جس پر وہ سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

میں نہیں جانتا اسکو مجھ سے کیا دشمنی ہے لیکن اب میں خود بھی پتا لگواتا ہوں اور جہاں تک بات ہے لیزہ کی ۔۔۔۔

بولتے بولتے وہ لیزہ کی طرف مڑا تھا جو سفید چہرے کے ساتھ زیب جو ہی دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں میں اس وقت وحشت ، خوف کیا کیا نہیں تھا ۔۔۔۔

خود تو مر سکتا ہوں لیکن لیزہ کو کچھ نہیں ہونے دونگا یہ تو مجھے اللہ پاک کی طرف سے ملی گئ ایک دعا کی طرح ہے اور بھلا دعا کو بھی کوئ اپنے سے دور کرتا ہے میری سانسیں بند ہو جائیں لیکن لیزہ زیب مغل کو آخری سانس تک محفوظ رکھونگا یہ میرا خود سے اپنے آپ سےسب سے اور لیزہ سے وعدہ کرتا ہوں ۔۔۔۔

ایک جذب سے بولتے ہوئے اس نے لیزہ کے ہاتھوں کو پکڑ کر چوما تھا جس پر اسکا چہرہ لال سرخ اناری ہوا تھا اور باقی سب اسکی حرکت پر ادھر اُدھر دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔