56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 21)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

آپکی چوائس اچھی ہے نو ڈاؤٹ …..

رات کے نو بجے وہ باہر سے گزرتی گاڑیوں کو نظر میں رکھے اسکی سوچ کا پروانہ کہیں اور پرواز کر رہا تھا جب خاموشی میں صمد کی آواز نے خلل ڈالا تھا اسنے چونک کر اسکو دیکھا تھا ۔۔۔۔

میں کہہ رہا ہوں آپکی چوائس اچھی ہے نو ڈاؤٹ ۔۔۔۔

لیزہ کو اپنی طرف ناسمجھی سے دیکھتے دیکھ وہ دوبارہ بولا تھا جس پر اس نے ہلکی سی اسمائل پاس کی تھی ۔۔۔۔

ایک بات پوچھوں آپ سے ۔۔۔۔ ؟؟?؟

لیزہ کی خاموشی محسوس کرتے ہوئے اسکے دماغ میں کچھ آیا تھا جب اس نے اس سے اجازت مانگی تھی ۔۔۔

آپ کو پوچھنے کی ضرورت کب سے پڑ گئ ۔۔۔۔ ؟؟؟

جب سے آپ کو ایسا پایا ہے ۔۔۔۔۔

صمد نے دوبدو جواب دیا تھا ۔۔۔

اور کیسا پایا آپ نے مجھے ۔۔۔ ؟؟؟؟

اسکے جواب پر چونک کر لیزہ نے پوچھا تھا ۔۔۔۔

لیزہ ۔۔۔۔۔۔ آپ خوش نہیں ہیں کیا ۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟

چند لمحوں تک خاموش رہنے کے بعد اسکی آواز لیزہ کے کانوں میں پڑی تھی جبکہ اس کے۔سوال پر وہ ساکت ہوئ تھی ۔۔۔۔۔

خاموش خاموش سی ہو پوچھتے ہیں سب ،۔

بڑے دیدہ لوگ ہیں اداسی کا سبب پوچھتے ہیں ۔۔

اب کیا اسکا دکھ اداسی اسکے چہرے سے عیاں ہوتی ہے ۔۔۔ اس سوچ نے اس پر ڈھیروں پانی ڈال دیا تھا جیسے ۔۔۔

اگر میں کہوں نہیں تو ؟؟؟؟؟؟

لیزہ نے شاکی انداز میں اس نے سوال کیا تھا جس پر صمد نے آنکھیں بند کرکے گہرے سانس ہوا کے سپرد کیا تھا ۔۔۔۔

تو میں کہوں گا مجھ سے کہہ کر دیکھو میں اپنی محبت سے دستبردار ہو جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔

ریلیکس ہوتے ہوئے اسنے لیزہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا اسکے مظبوط لہجے پر ایک لمحے کو لیزہ ٹہر گئ تھی ۔۔۔۔۔

اور اگر میں کہوں ہاں تو ؟؟؟؟؟؟

اس نے ٹہرے لہجے میں صمد سے دریافت کیا تھا جس پر وہ کھل کر مسکرایا تھا ۔۔۔

تو میں وعدہ کرتا ہوں تمہارے قدموں میں محبت لا کر ڈال ڈونگا کہ تم مجبوراً مجھ سے محبت کرنے پر مجبور ہو جاؤ گی تمہارے انہی قدموں میں اتنی خوشیاں بھرونگا کہ سنبھالتے سنبھالتے تھک جاؤ گی اور تمہیں مجھ سے محبت ہو ہی جائے گی ۔۔۔۔۔

اسکے مسکراتے لہجے میں کہے جملوں نے اتنا اسے ساکت نہیں کیا تھا جتنا اسکی آنکھوں نے کیا تھا جو اسکی محبت میں پور پور ڈوبی اس پر ٹکی تھیں ۔۔۔۔

لیزہ نے جھٹکے سے اپنی آنکھیں پھیری تھیں وہ ان آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی وہ ایسا نہیں کر سکتی وہ زیب کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتی لیکن کیا تھا صمد درانی جو اپنی آن بان شان سب بھول ایک سانولی رنگت کی لڑکی سے محبت کر بیٹھا تھا کیا تھا وہ شخص ۔۔۔۔۔

لیزہ کو نظریں پھیرتے دیکھ اس نے اپنی توجہ ڈرائیونگ پر کی تھی لیکن دماغ میں لاتعداد سوچیں آرہی تھیں جنہیں اب اسے پایہ تکمیل تک پہنچا نا تھا ۔۔۔۔ ۔

مغل ہاؤس میں اس وقت سب بڑے ہال میں موجود لیپ ٹاپ سامنے رکھے منور ولا میں موجود تمام لوگوں کو اپنی اپنی شاپنگ ڈسکسشن کر رہے تھے جبکہ خواتین نام ڈیسائڈ کرنے کے لیے خالہ یا چاچو کےانتخاب میں لگی ہوئی تھیں ایک رونق برپا تھی سب موجود تھے آمنے سامنے بس مغل ہاؤس سے زیب جو کہ سامنے صوفے پر بیٹھا آفس ورک کر رہا تھا اور منور ولا سے لیزہ اور نور بیگم غائب تھے ۔۔۔۔

لو بھابھی سے بات کریں وہ آپکو اور بھی سب بتائیں گی ۔۔۔۔۔۔

صائمہ بیگم کے کہنے پر لیپ ٹاپ کا رخ انکی طرف گیا تھا ۔۔۔۔

خیر خیریت پوچھنے کے بعد انہوں نے آنے کا پوچھا تھا جبکہ فریدہ بیگم نے پرسوں رات کی فلائٹ بتائ تھی ہلکی پھلکی باتوں کے بعد نور بیگم کی طرف خاموشی محسوس کرتے ہوئے فریدہ بیگم بولی تھیں ۔۔۔۔

کیا بات ہے نور کچھ کہنا چاہتی ہو ۔ ۔ ؟؟؟

جی آپا ۔۔۔۔۔ وہ آپ صمد درانی کو جانتی ہیں نہ ؟؟؟ جو ریان کا دوست بھی ہے اور اب لیزہ اسکے ہاسپٹل میں بھی جاب کر رہی ہے ۔۔۔۔۔

انہوں نے تمہید باندھتے ہوئے کہنا شروع کیا تھا جبکہ لیزہ کے نام پر زیب کا زہن بیدار ہوا تھا اسکے کان کھڑے ہوۓ تھے لیزہ کے ساتھ ایک لڑکے کا نام سن کر ۔۔۔۔۔

ہاں ہاں میں جانتی ہوں بہت پیارا بچہ ہے ماشاءاللہ سے مجھے بہت پسند ہے وہ ۔۔۔۔۔

فریدہ بیگم نے اسکی تعریفوں کے پل باندھے تھے جب کہ برابر میں بیٹھی ہوئ ژالے کا چہرا گلال ہوا تھا اسکا ذکر آیا تھا جس کے لئے اسکا دل دھڑکتے نہ تھکتا تھا کب اس سے محبت ہوئ ژالے نہیں جانتی تھی لیکن کچھ ٹائم پہلے بھی اسکی ملاقات صمد سے ہوئ تھی اور وہ اسے پہلی نظر میں پسند آیا تھا اسکی آنکھیں بلا ارادہ ہی حیا میں جھکی تھیں ۔۔۔۔

جی آپا بلکل بہت لائق بچہ ہے تقریباً چار سال سے اسکے ماں باپ لیزہ کے لئے پوچھ رہے تھے لیکن اب لیزہ نے انہیں مثبت جواب دیا ہے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اب میں چاہتی ہوں آپ آہی رہی ہیں تو ہم ان دونوں کی انگیجمنٹ بھی رکھ لیتے ہیں تو کیا خیال ہے آپکا ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟

آسمان پھٹا تھا یا زمین زیب کو اندازہ نہیں ہوا تھا اسکے کان سائیں سائیں کر رہے تھے صرف ایک جملہ جو اسکے کانوں میں گونج رہا تھا ۔۔۔

لیزہ نے مثبت جواب دیا ہے ۔۔۔۔

لیزہ نے مثبت جواب دیا ہے ۔۔۔۔

گود میں رکھا ہوا لیپ ٹاپ اسے بوجھ کی طرح لگا تھا وہ ساکت بیٹھا کانوں میں گونجتی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن جب وہ برداشت سے باہر ہوئ تو کانوں پر ہاتھ رکھے وہ زور سے چیخا تھا اور ہاتھ مارتے ہوئے لیپ ٹاپ دور پھیکا تھا ۔۔۔۔

فریدہ بیگم جو خود سکتے میں تھی دھڑم کی آوازپر اور چیخ سنتے ہوئے وہ پیچھے مڑیں تھیں اور زیب کو دیکھ کر انکا ہاتھ دل پر گیا تھا جب کہ دوسری طرف سب نے دہل کر ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔۔

لیزہ جو ابھی ہال میں داخل ہوئی تھی سکتے میں سب کو لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے دیکھ وہ بھی تیزی سے بڑھی تھی لیکن سامنے کا منظر ہلا دینے والا تھا ۔۔۔۔

زیب ۔۔۔۔۔

فریدہ بیگم تیزی سے اسکی طرف بڑھی تھیں جب زیب نے انکو ایک نظر دیکھ کر لیپ ٹاپ کو دیکھا تھا جہاں لیزہ کا چہرا آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔۔۔۔۔

وہ لیزہ کو نظروں میں رکھے تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا کمرا دھڑ سے بند کر کے بیڈ پر گرا تھا ۔۔۔۔

ہال میں ایک دم سناٹا ہوا تھا سب اپنی جگہ جامد بیٹھے تھے جبکہ لیزہ سفید چہرہ لیے اوپر کی طرف بڑھ گئ تھی ۔۔۔۔۔

ماہم کا ہاتھ پڑا تھا اور کال کٹ گئ تھی کالی کالی اسکرین کو دیکھتے ہوئے سب نے چور نظروں سے نور بیگم جو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔

یہ ۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ کیا تھا ماما ۔۔۔۔۔ کیا ہواہے زیب کو ۔۔۔۔ اس نے کبھی ایسا بیہیو نہیں کیا تھا تو اب کیوں وہ بھی اچانک ایسے ؟؟؟؟

رمیض جو خود ساکت کھڑا تھا زیب کی حالت دیکھ ماں سے پے در پے سوال کر گیا تھا انہوں نے اپنے شوہر اور بیٹے کو دیکھتے ہوئے صوفے پر ڈھے گئی تھیں ۔۔۔

پہلے اسے محبت کا چسکا بھی تو نہیں لگا تھا ۔۔۔۔ پہلے اس نے کسی کو دھوکا بھی تو نہیں دیا تھا ۔۔۔۔ بڑے ہوگئے ہیں محبت کر بیٹھے ہیں لیکن سمجھتے نہیں ہیں محبت کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے محبت چھینی نہیں جاتی وہ تو سچی ہو تو بن مانگے مل جاتی ہے ورنہ ناممکن ہوتا ہے ۔۔۔۔۔

زیب جو بکھرے ہیولے میں گاڑی کی چابی لیے نیچے اتر رہا تھا اپنی ماں کی بات پر ایک لمحے کو رکا تھا اگلے لمحے وہ تیزی سے باہر نکل گیا تھا کسی نے اسے نہیں روکا تھا اور کسی نے اپنے برابر بیٹھی ہوئ لڑکی کو بھی نہیں دیکھا تھا جو اپنی نئی محبت کے اختتام پزیر ہونے پر ماتم بھی نہیں کر سکتی تھی جو اس وقت خشک آنکھیں لیے غیر مرئ نکتے پر دیکھے اپنا دل خالی خالی محسوس کر رہی تھی اسکا دل شدید قسم کا کر لایا تھا دل چاہا تھا وہ بھی اپنے بھائ کی طرح سب کچھ تہس نہس کر دے لیکن نہیں اسے ایسا نہیں کرنا تھا اسے ابھی اپنی ماں کو سنبھالنا تھا جو دل پکڑے ساکت بیٹھی تھیں جبکہ علیزہ رمیض کے کاندھے پر ہاتھ رکھے اسے شاکٹ سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی کہ سب اسکے لیے بھی بلکل عجیب تھا زیب اتنا سرئیس ہو گیا ہے لیزہ کو لے کر کہ اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی مفلوج ہوگئ تھی ۔۔۔۔۔

ر پکڑے بیڈ پر بیٹھے وہ اس وقت خشک آنکھوں سے زمین کو گھور رہی تھی اس کے لیے یہ بات سمجھنا مشکل تھی کہ اب وہ کیا چاہتا ہے ۔۔۔۔

کیا وہ یہ چاہتا ہے کہ میں ساری زندگی اسکی بے وفائی کے سہارے گزاروں ؟؟؟؟؟

اسکے ذہن میں خیال آیا تھا اور اسی کہ ساتھ وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی کمرے کی کھڑکی کھولے اس نے افق پر چمکتے آدھے چاند کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

یہ چاند اور اسکی چاندنی رات بھی اسکو اپنی طرف متوجہ نہیں کر پارہی تھی عجیب سے کھوۓ ہوۓ لہجے میں وہ چاند کو تک رہی تھی ۔۔۔۔۔

آپ دل پر نہ لیجیے گا لیکن ،۔

میرے دل سے اتر گئے ہو ۔۔

برسوں بعد وہی درد وہی آرزو اسکے دل میں دوبارہ جاگی تھی کہ کاش وہ مر جاتی وہ مرجاتی اسی دن تو آج اس طرح تکلیف میں نہ ہوتی درد دینا کتنا آسان ہے نہ لیکن درد سہنا مرنے کے ہی برابر ہے ہاں ۔۔۔۔ وہ مر ہی تو رہی ہے آہستہ آہستہ اس کے اندر جینے کی امید دم توڑ رہی ہے اور وہ جانتی تھی وہ انقریب مر جائے گی ۔۔۔۔۔

اپنی مٹھیوں کو سختی سے بند کرے اس نے اپنی آنکھوں میں جمع پانی اپنے اندر اتارا تھا وہ کمزور نہیں پڑے گی اب ۔۔۔ وہ اب اسکو جیتنے نہیں دے گی وہ مر جائے گی لیکن اب اسے اپنے آپ سے کھیلنے نہیں دے گی ہاں آج آخری رات تھی اسکی جو اس نے جاگتے ہوۓ گزاری تھی آج آخری رات تھی جب اس نے اس ظالم کو سوچتے ہوئے گزاری تھی لیکن کون جانے ایسا تھا بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔

کچھ کھوئ سی لگ رہی ہو اور ڈل بھی ؟؟؟؟؟

صمد جو ابھی ابھی اسکے روم میں داخل ہوا تھا اپنا ڈاکٹر کوٹ اتارتے ہوئے ٹیبل پر رکھا تھا اور اسکو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔ بس سر میں ہلکا سا درد ہے بس اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔

مطلب ہلکا سا درد ۔۔۔۔۔ تم نے چیک اپ کیوں نہیں کروایا تمہیں پتا ہے یہ ہلکا سا درد بھی کتنا مسئلہ بن سکتا ہے ۔۔۔۔

وہ ایک دم سیدھے ہوتے ہوئے بولتا ہوا کمرے سے باہر نکلا تھا اور پیچھے لیزہ ارے ارے کرتی رہ گئ تھی ۔۔۔۔۔

ہاتھ آگے دو جلدی ۔۔۔۔

فرسٹ ایڈ لاتے ہوئے اس نے لیزہ کا ہاتھ آگے کرنے کا بولا تھا جس پر اس نے اسکی بات پر عمل کیا تھا وہ جانتی تھی منع کرنے کا کوئ فائدہ نہیں تھا ۔۔۔۔

ہممممم ۔۔ ۔ بی ۔ پی نارمل ہے الحمداللہ ۔۔۔۔۔

اسکا بی ۔ پی اپریٹس سے چیک کرنے کے بعد اس سے بولا تھا جس پر لیزہ نے اسے جتانے والے انداز میں دیکھا تھا ۔۔۔۔

ہاں لیکن تمہیں ایک بیماری لگ گئ ہے ۔۔۔

اسکی طرف دیکھتے ہوئے اس نے لیزہ سے استفسار کیا تھا جبکہ اس نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

ہاں نہ بہت خطرناک ہے اگر تم مجھے بتا دو تو میں ہیلپ کر سکتا ہوں تمہاری ۔۔۔۔

مجھے کوئ بیماری نہیں ہے میں ٹھیک ہوں آپ ایسے ہی پریشان ہو رہے ہیں ۔۔۔

منہ بناتے ہوئے اس نے صمد کو دیکھا تھا جسکی نظریں اب تک اس پر ٹکی ہوئی تھیں ۔۔۔۔

ہے ۔۔۔۔۔ آپکو عشق کی بیماری ہے اور جب یہ بیماری کسی سے چمٹ جاتی ہے تو بس یا تو ملن یا پھر موت ۔۔۔۔۔

اس نے بھر پور سنجیدگی سے لیزہ کو دیکھا تھا جبکہ لیزہ کی سانسیں سینے میں اٹکی تھیں ۔۔۔۔۔۔

اووووو ہو واؤوووو ۔۔۔۔۔۔ یہاں تو اپنی ہی کہانی کھلی ہوئ ہے بھئ ہاسپٹل میں جب یہ کام ہو گا تو پھر ماحول تو بگڑے گا نہ ۔۔۔۔

ریان جو ابھی ابھی دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا تھا صمد کے ہاتھ میں لیزہ کا ہاتھ دیکھ اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے دیکھ اسکی آواز پورے کمرے میں گونجی تھی جبکہ لیزہ اور صمد اسکے یہاں اچانک آجانے پر خجل ہوۓ پیچھے ہوۓ تھے ۔۔۔

بھئ معافی چاہتا ہوں لیکن یہ سب یہاں مت کریں آپ لوگ پلیز ہاسپٹل ہے ریپو خراب ہو گی یار ۔۔۔۔

ریان نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے شرمندہ کر دینے والے لہجے میں اس سے کہا تھا ۔۔۔۔

بکواس مت کرو ذیادہ یہاں ایسا کچھ نہیں ہو رہا تھا سنا تم نے ۔۔۔۔

لیزہ کو اسکی بکواس سے تپ چڑھی تھی ۔۔۔۔

تم تو بولو ہی مت چھپی رستم مجھے تک نہ بتایا میرے ہی دوست پر ہاتھ صاف کر لیا واہ بھئ ۔۔۔۔

وہ اپنی ہی ترنگ میں بولتا غلط الفاظ استعمال کر گیا تھا جس پر لیزہ کا رنگ تیزی سے بدلہ تھا سفید پڑتے چہرے کے ساتھ وہ کھڑی ہوئی تھی اور ان دونوں کے روکنے کے باوجود نکلتی چلے گئ تھی پیچھے ایک دم کمرے میں سناٹا چھا گیا تھا۔۔۔