56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 04)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

تھام لیں گے ہاتھ تمھارا ،۔

کسی کی مجال نہ ہو گی دیکھنے کی۔۔۔۔

ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو ،۔

میرے سنگ سنگ گاؤ گوریو ،۔

لڑکیوں کی جھرمٹ میں وہ سہج سہج نیچے اتر رہی تھی سب سے آگے لیزہ اور ژالے تھیں اسکے بعد ساری کزنز دوستیں تھیں ۔۔۔۔۔ علیزہ کو اسٹیج کی طرف لے جایا گیا تو رمیض ہاتھ آگے کر کے کھڑا ہو گیا جس پر لیزہ نے اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔۔

اممممہہہممممم ۔۔۔۔۔۔ ابھی آپ یہ ہاتھ نہیں تھام سکتے کیونکہ آپکے پاس کوئ سرٹیفیکیٹ موجود نہیں ہے ۔۔۔۔

لیزہ کے شرارت سے کہنے پر اسنے خفگی سے سب کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

اس لیے کہہ رہا تھا نکاح کر دیں ۔۔۔۔ کوئ سنتا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔

رمیض کا دکھی لہجہ سن کر سب کی ہنسی نکل گئی تھی ۔۔۔۔۔ جبکہ علیزہ اپنی جگہ ایک دم سے جھینپ گئ تھی ۔۔۔۔۔

اسکو بیٹھا کر سب لڑکے لڑکیوں نے نشستیں سنبھالیں تھی ۔۔۔۔ ایک طرف لڑکے اور ایک طرف لڑکیاں اپنے آپکو منوانے کے لئے تیار تھیں ۔۔۔۔۔

لڑکوں سے شروع ہو گا ۔۔۔۔

اریبہ نے لپک کر کہا تھا ۔۔۔۔ اسکی بات پر لڑکوں نے ایک دوسرے کودیکھا تھا اور پھر بس سب شروع ہوئے تھے ۔۔۔۔

سب نے اپنی سریلی آوازوں کے جوہر دیکھائے تھے ہنسی مزاق میں یہ محفل رات گئے تک برخاست ہوئ تھی ۔۔۔ بڑے تو شدید تھک گئے تھے اسی لئے سب کمروں میں چلے گئے تھے جب کہ گولڈن گینگ نے لیزہ کے کمرے میں ڈیرہ جما لیا تھا ۔۔۔۔۔ صبح فجر کی آذان پر سب اپنے اپنے کمروں میں گۓ تھے ۔۔

منور ولا میں آج خاص ناشتے کا انتظام کیا گیا تھا خواتین سب کچن میں جب کہ باقی سب ادھر ادھر پڑے ہوئے تھے سب لمبا سونا چاھتے تھے لیکن سب بڑوں کے آرڈر پر اٹھنا پڑا اور ہمیشہ کی طرح آج بھی لیزہ منظر سے غائب تھی ۔۔۔۔۔

لیکن حیرت کا جھٹکا جب لگا جب لیزہ جماہی روکتے ہوئے نیچے اترتے ہوئے نظر آئ ۔۔۔۔

اسلام و علیکم ۔۔۔۔ اسنے آتے ہی سلام کیا اور کسی کی طرف دیکھے بغیر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔

سب نے سلام کا جواب دیا تھا اور پھر مسکرا دیئے تھے ۔۔۔۔ وہ ایسی ہی تھی لا پرواہ سی۔ ۔۔۔۔۔

بھائ صاحب ماشاء اللّٰہ سے ایک بیٹی کی شادی کر ہی رہے تھے تو ساتھ اسکو بھی نمٹا دیتے ۔۔۔۔ ویسے بھی اس نے کونسا تیر مار لینا ہے ۔۔۔۔۔

ثمن پھوپھو جو کافی دیر سے اسے دیکھ رہی تھیں آخر کار بول اٹھیں ۔۔۔۔ انکی بات سن کر سب نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

ابھی عمر ہی کیا ہے اسکی ثمن اور ویسے بھی لیزہ ابھی پڑھ رہی ہے ۔۔۔۔

نور بیگم کی بجائے تائ امی نے اسکا دفاع کیا تھا ۔۔۔۔

ہاں تو وہی تو کہہ رہی ہوں پڑھ لکھ کر کونسا کچھ کر لینا ہے ۔۔۔ کب سے تو انگلش میں فیل ہو رہی ہے فائدہ پڑھنے کا ۔۔۔۔۔

انھوں نے اپنے بیٹے ارحم کی نظریں لیزہ پر دیکھ کر طنز کے تیر چلاۓ تھے ۔۔۔۔ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ انکا اکلوتا بیٹا لیزہ کو پسند کرتا ہے لیکن یہ ناممکن سی بات تھی کہ وہ اپنے ہونہار بیٹے ارحم کے لیے اسکا ہاتھ مانگیں ۔۔۔۔ ایک تو کم صورت دوسرا نکمی بقول انکے ۔۔۔۔

ابھی انکی بات کا کوئ جواب دیتا جب لیزہ کی آواز پر سب خاموش ہوئے تھے ۔۔۔۔

جی صحیح کہا پھوپھو ۔۔۔۔ میں پڑھ لکھ کر وہی کروں گی جو آپکی بیٹی نے کیا ہے ۔۔۔ آخر کو جب وہ پڑھ لکھ کر پالر میں جاب کر سکتی ہے تو میں کیوں نہیں ۔۔۔۔۔

لیزہ نے طنزیہ انکی بیٹی کو دیکھا تھا جو ابھی بھی میک اپ کی دکان بن کر بیٹھی ہوئ تھی ۔ ۔۔۔۔

اور پلیز مجھے ڈسکس نہ کیا کریں ۔۔۔۔ مجھے ڈسکس کریں گے تو پچھتائیں گے آپ آخر کو میرے اندر اتنی خوبیاں جو ہیں ۔۔۔۔۔

اسنے میٹھے سے لہجے میں کہہ کر بات ختم کی تھی ۔۔۔۔ جبکہ پھوپھو خونخوار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔۔

لیزہ کے اٹھ کر جاتے ہی زیب جو اسے تائیدی نظروں سے دیکھ رہا تھا اسکے پیچھے ہو لیا ۔۔

زیب کو اسکے پیچھے جاتے دیکھ کر سارہ بھی ایسکیوز کرتی ہوئ اٹھ گئ ۔۔۔۔

میں تو امپریس ہو گیا تم سے ۔۔۔۔۔

وووااااووووو ۔۔ ۔ کیا جواب دے کر آئ ہو ۔۔

وہ ابھی باہر لان کی طرف بڑھی تھی جب پیچھے سے کسی کی آواز آئ تھی اسنے کوفت سے اپنا سر جھٹکا تھا ۔۔ ۔۔۔۔

پلیز نوٹ اگین ۔۔۔۔ آئ ڈونٹ انٹرسٹڈ ان یور بکواس ۔۔ ۔۔۔۔۔۔

لیزہ نے اکتاہٹ میں جواب دیا تھا ۔۔۔۔ اسکی آدھی انگلش اور آدھی اردو سن کر اسکی ہنسی نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔

انٹرسٹنگ ۔۔۔۔۔ خالا تو کہ رہیں تھی تمہیں انگلش نہیں آتی اتنی اچھی تو آتی ہے ۔۔۔۔۔

اسکے ستائشی الفاظوں میں چھپا مزاق سمجھ کر اسکا دماغ کھولا تھا ۔۔۔۔

پروبلم کیا ہے ہاں ں ں ۔۔۔۔۔ تمہیں کوئ اور نظر نہیں آرہا بات کرنے کے لیے جو بار بار میرا دماغ کھانے آجاتے ہو ۔۔۔۔۔

اسنے بنا لحاظ کے زیب کو سنائی تھی جب کہ اسکے الفاظوں پر زیب کی آئبرو تنی تھیں ۔۔۔۔۔

دیکھو یہاں بہت لڑکیاں ہیں جو تم جیسے انگریزی بابو سے بات کرنے کے لئے مر رہی ہیں لیکن میں ان میں سے نہیں ہوں ۔۔ میں آپکا لحاظ کر رہی ہوں اس لیے کیونکہ آپ میری بہن کے دیور ہیں بس ۔۔۔۔۔

اسنے ایک گہری سانس لے کر زیب کو آخری نظر دیکھا تھا اور اندر پلٹ گئ تھی ۔۔۔۔۔

وہ ایسی ہی ہے ۔۔ مغرور اکھڑ مزاج ۔۔۔۔۔ تمہارے ہاتھ نہیں آنے والی وہ ۔۔۔۔۔

وہ جو غصہ ضبط کر رہا تھا آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا تھا سارہ کو کھڑے دیکھ کر اسے سبگی کا احساس ہوا تھا ۔۔۔۔۔

لڑکیا ں تو آگے پیچھے گھومتی تھی اسکے تو ایک کم شکل و صورت کی لڑکی نے اسے اتنا کیسے سنا دیا ؟؟؟ اس سے برداشت کرنا مشکل تھا ۔۔۔۔

سارہ کی بات پر اس نے چلینچنگ نظروں سے سارہ کو دیکھا تھا جیسے کہ رہا ہو ۔۔۔

سرئیسلی ۔۔۔۔ جب کہ اسکا اشارہ سمجھ کر سارہ کی مسکراہٹ گہری ہوئ تھی ۔۔۔۔

سارے بڑے اس وقت ایک کمرے میں موجود تھے اور سامنے بہت سے زیورات اور پیک کئے ہوۓ کپڑے سلیقے سے رکھے تھے ۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ اللّٰہ پہننا نصیب کرے ۔۔۔۔۔

فریدہ پھوپھو نے بے ساختہ دعا دی تھی جب کہ سب نے آمین کہا تھا ۔۔۔۔

بھائ یہ والا سیٹ بہت پیارا ہے ۔۔۔ یہ سیٹ مجھے دے دیں نہ میں اپنی سارہ کے لیے رکھ لوں گی ۔۔۔ ویسے بھی ماموؤں پرحق ہوتا ہے بھانجیوں کا ۔۔۔۔۔

ثمن پھوپھو اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کہے بغیر نہیں رہ سکیں تھیں ۔۔۔۔

یہ جس کے نصیب کا ہے اسی کو جاۓ گا اور صحیح کہا تم نے ہم سارہ کی دفعہ میں اس سے اچھا دیں گے انشاللہ ۔۔۔۔

اب کہ بہروز صاحب نے جواب دیا تھا ۔۔۔۔ وہ سب کچھ برداشت کر سکتے تھے لیکن اپنی بیٹیوں کے حق پر ڈاکا قطعاً نہیں ۔۔۔۔۔

جب کہ بھائ کی بات پر وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی تھیں ۔۔۔۔

یہ آپکے صاحب زادے نے کب آنا ہے یا شادی کے بعد آئے گا ۔۔۔

تنویر صاحب کی بات پر انھوں نے خفگی سے انھیں دیکھا تھا ۔۔۔۔

کل صبح پہنچ رہا ہے اپنی فیملی کے ساتھ راحیل ۔۔۔۔ آپ تو بس جیسے آپکا تو کچھ نہیں لگتا ۔۔۔۔

تائ امی کے جلے کٹھے جواب پر وہ ہنس کر باہر نکل گئے تھے جب کہ وہ بڑبڑاتے ہوئے سامان سمیٹنے لگی اور یہ سب دیکھ کر سب کے چہروں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئ تھی ۔۔۔۔سارے بڑے اس وقت ایک کمرے میں موجود تھے اور سامنے بہت سے زیورات اور پیک کئے ہوۓ کپڑے سلیقے سے رکھے تھے ۔۔۔۔۔

ماشاءاللہ اللّٰہ پہننا نصیب کرے ۔۔۔۔۔

فریدہ پھوپھو نے بے ساختہ دعا دی تھی جب کہ سب نے آمین کہا تھا ۔۔۔۔

بھائ یہ والا سیٹ بہت پیارا ہے ۔۔۔ یہ سیٹ مجھے دے دیں نہ میں اپنی سارہ کے لیے رکھ لوں گی ۔۔۔ ویسے بھی ماموؤں پرحق ہوتا ہے بھانجیوں کا ۔۔۔۔۔

ثمن پھوپھو اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کہے بغیر نہیں رہ سکیں تھیں ۔۔۔۔

یہ جس کے نصیب کا ہے اسی کو جاۓ گا اور صحیح کہا تم نے ہم سارہ کی دفعہ میں اس سے اچھا دیں گے انشاللہ ۔۔۔۔

اب کہ بہروز صاحب نے جواب دیا تھا ۔۔۔۔ وہ سب کچھ برداشت کر سکتے تھے لیکن اپنی بیٹیوں کے حق پر ڈاکا قطعاً نہیں ۔۔۔۔۔

جب کہ بھائ کی بات پر وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی تھیں ۔۔۔۔

یہ آپکے صاحب زادے نے کب آنا ہے یا شادی کے بعد آئے گا ۔۔۔

تنویر صاحب کی بات پر انھوں نے خفگی سے انھیں دیکھا تھا ۔۔۔۔

کل صبح پہنچ رہا ہے اپنی فیملی کے ساتھ راحیل ۔۔۔۔ آپ تو بس جیسے آپکا تو کچھ نہیں لگتا ۔۔۔۔

تائ امی کے جلے کٹھے جواب پر وہ ہنس کر باہر نکل گئے تھے جب کہ وہ بڑبڑاتے ہوئے سامان سمیٹنے لگی اور یہ سب دیکھ کر سب کے چہروں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئ تھی ۔۔۔۔

جب سے تم سے دل لگایا ہے ،۔

ہم عام تھے خاص ہو گیۓ ۔۔۔۔۔

چوڑی پیشانی پر اس وقت گہرے سوچوں کی پرچھائیاں تھیں امریکہ میں رہتے ہوئے دو سال ہو گئے تھے اسکو آج تک کسی نے اگنور نہیں کیا تھا یہاں تک کہ اسکی پرسنیلٹی ایسی تھی کہ کوئ اگنور کر ہی نہیں سکتا تھا اور بے عزتی تو بہت دور کی بات تھی ۔۔۔۔ لیکن یہاں آکر اسکا غرور پہلی دفعہ ٹوٹا تھا لیکن نہیں وہ ایسا نہیں ہونے دے سکتا تھا کیونکہ اسنے کبھی ہارنا سیکھا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔

ہاں وہ ضد لگا چکا تھا ۔۔۔۔ لیزہ جو ایک معمولی سی لڑکی تھی اس کی جرأت پر حیران تھا ۔۔۔۔

اسکے چہرے پر ایک خفیف سے مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔۔ وہ یہ جنگ بھی جیت لے گا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اب کہ اس کے نصیب میں بہت بڑی ہار لکھی ہے کہ منہ کے بل گرے گا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو گی ۔۔۔۔۔

تم میرا غرور میری انا سب لے لو ،

دے دو مجھےغم اور مجھ پر ستم ڈھالو ۔۔۔