Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 29)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 29)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
لال سرخ گلابوں کی خوشبو پورے کمرے میں
بکھری ہوئی تھی جس سے وہاں داخل ہونے والا بندہ اس کمرے کی سجاوٹ اور مہک سے لطف اندوز اور شاعرانہ تبصرے کر رہے تھے یہ کمرہ اور کسی کا نہیں لیزہ بہروز خان کا تھا کیونکہ انکا کہنا تھا کہ نکاح میرے کمرے میں ہوگا اور پھر میں ڈریس چینج کر کے باہر نکلوں گی وجہ کوئ نہیں جانتا تھا جبکہ کمرے میں موجود بیڈ پر لیزہ جبکہ اسکے بلکل سامنے لال ڈوپٹے اور لال گلابوں کا ہی ایک پردہ بنایا گیا تھا جو نکاح کے دوران بیچ میں موجود ہوتا اور نکاح ہوتے ہی ہٹ جاتا ۔۔۔۔
کمرے کی ایک ایک چیز منفرد اور قیمتی تھی اپنی مثال آپ تھی جبکہ لیزہ نے خود پیازی کلر کے سوٹ میں موجود ہلکے میک اپ اور ہیوی جیولری جبکہ نتھنی اور جھومر رسم کے مطابق لڑکے والے لے کر آتے جبھی وہ لیزہ کو پہنائ جاتی ۔۔۔ لائٹ میک اپ پر سرخ لپ اسٹک کا شیڈ لگاۓ اس وقت وہ قیامت لگ رہی تھی جبکہ اسکا دل انجانے دھڑکے سے زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔۔
سب اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے جب بہروز صاحب نے راحیل اور ریان کو باہر بلایا تھا اور جو بات انہیں کہی تھی وہ انکے پیروں سے زمین کھینچ گئ تھی ۔۔۔
یہ ۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ تایا جان ۔۔۔ ؟؟؟؟
حیران نظروں سے ریان نے سامنے کھڑے اپنے عزیز جان تایا کو دیکھا تھا جو اپنے آپ کو سنبھالتے بول رہے تھے ۔۔۔۔
میں ۔۔۔ مجھے کال آئ تھی بھابھی کی وہ بول رہی ہیں صمد کا کچھ اتا پتا نہیں ہے صبح سے غائب ہے کسی کو کچھ نہیں معلوم ۔۔۔۔
ٹوٹے پھوٹے لہجے میں انہوں نے پیچھے انکو بلانے آتی نور بیگم کے سر پر بم پھوڑا تھا جبکہ وہ صرف انکا نام ہی پکار سکی تھیں ۔۔۔
گھپ اندھیرے کمرے میں موجود وہ نفوس اس وقت پے در پے سگریٹ پھونک رہا تھا مسلسل پینے کی وجہ سے اسے کھانسی کا دورہ پڑا تھا اگلے ہی لمحے اس نے کمرے میں موجود ڈھیر پر ایک اور سگریٹ کا اضافہ کیا تھا اور اٹھ کر پانی پیا تھا کھڑکیاں کھولے اس نے ایک گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا تھا لیکن ایسا کر کے اس کے سینے میں جلن بڑھی تھی سینہ مسلتے ہوئے اس نے فون اور چابی اٹھائ تھی لیکن فون دیکھ کر وہ چونکا تھا کیونکہ اسکرین پر پچاس سے زائد مس کال تھیں اور وائس میسجز کی بھرمار تھی ۔۔۔۔۔
دوبارہ کال کرتے ہوئے اس کے قدم بھی تیز ہوۓ تھے لیکن کسی نے اب کی بار کال نہیں اٹھائ تھی اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اسپیڈ بڑھائے تھی ۔۔
دل زور سے بے ہنگم انداز میں دھڑکا تھا اسے لگا تھا کہ اگر آج اسے دیر ہو گئ تو بس پھر سب ختم ہو جائے ۔۔۔۔۔
کافی دیر سے وقتاً فوقتاً صمد کو کال کرنے کے بعد سب اس وقت ہال میں موجود صوفوں پر دم سادھے بیٹھے تھے جبکہ خواتین پریشان کھڑی تھیں پورا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا سب باہر لان میں موجود نکاح ہونے کا انتظار کر رہے تھے جبکہ لڑکیاں جنکو سب معلوم تھا لیکن لیزہ کے سامنے سب کچھ بھی ظاہر نہ کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔
بھائ کیا ہو گا اب پورا گھر بھرا ہوا ہے برات نہ آئ تو کیا ہو گا ہم تو کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔۔۔۔
ثمن بیگم جو کب سے خاموش کھڑی تماشہ دیکھ رہی تھیں بولے بغیر نہ رہ سکیں جس پر بس نے مڑ کر انہیں دیکھا تھا سب کے اس طرح دیکھنے پر وہ گڑبڑائی تھیں اور پھر منہ بنا کر گردن نور بیگم کی طرف موڑی تھی ۔۔۔
بھابھی بیگم برا مت ماننا لیکن جس طرح آپ کی بیٹی نے میرے بیٹے کو انکار کیا نہ اگر اسکے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے تو غلط نہیں ہے کچھ ۔۔۔۔
ثمن بیگم کے انکشاف پر سب کے سروں پر دھماکہ ہوا تھا ۔۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا ثمن ؟؟؟؟
نور بیگم نے حیرانگی سے انکی طرف مڑ کر کہا تھا ۔۔۔
ہاں تو آپ کو نہیں پتا کیا تین دفعہ ارحم نے لیزہ کو پروپوز کیا تھا لیکن ہر دفعہ اس نے منع کیا اسے کتنی محبت تھی ارحم کو اس سے لیکن میرا بیٹا یہ دکھ لے کر لندن جا کر بیٹھ گیا ہے اور شادی میں شرکت بھی اسلئے نہیں کی اب اگر وہ ہوتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا ۔۔۔۔
تفاخر سے بولتے ہوئے انہوں نے نور بیگم کو سر جھکانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔۔
یہ کوئ وقت نہیں ہے ان سب باتوں کا ثمن اگر ایسا کچھ تھا تو تم تو ایک دفعہ یہ سب بتاتی یا پھر رشتہ ہی لے کر آتی لیکن تم نے ایسا نہیں کیا تو اب اس سب کا فائدہ ۔۔۔۔
فریدہ بیگم نے آگے بڑھ کر ثمن کی بولتی بند کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ثمن ہی کیا جو خاموش ہو جائے ۔۔۔۔
بس کر دیں فریدہ باجی یہاں معاملہ دوسرا تھا شاید آپکو یہ سب پتا ہو لیکن لیزہ کے انکار کے پیچھے ایک بہت بڑی وجہ تھی خیر اب پچھتاوے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔۔۔۔
طنزیہ ہنستے ہوئے انہوں نے وار کیا تھا جبکہ زیب نے انہیں سرخ آنکھوں سے دیکھا تھا ۔۔۔
خالہ اگر آپ اس وقت خاموش نہیں ہو سکتی تو یہاں سے چلی جائیں ۔۔۔۔
سنجیدگی سے بولتے ہوئے اس نے سخت لہجہ اپنایا تھا ۔۔۔
تمہیں کیوں اتنی لگ رہی ہے بولو کیوں اتنی آگ بھڑک رہی ہے مطلب میں کیوں چلی جاؤں تم ۔۔۔ تمہیں یہاں ہونا ہی نہیں چاہیئے تھا تم کیوں ہو یہاں ۔۔۔۔
ثمن بیگم نے تمسخر اڑایا تھا جس پر زیب نے مٹھیاں بھینچی تھیں ۔۔۔
بس کریں آپ سب ہم یہاں پریشان ہیں آپ کو اپنی لگی ہوئ ہے حد ہوگئ ہے ویسے ۔۔۔۔
بہروز صاحب جو کب سے سن رہے تھے ایک دم زور سے بولے تھے پورے ہال میں سناٹا چھا گیا تھا ۔۔۔۔
بہروز کیا کریں ہم سب پوچھ رہے ہیں نکاح کا ۔۔۔ ؟؟؟؟
نور بیگم انکے برابر بیٹھتے ہوئے روتی ہوئیں بولی تھیں جس پر انہوں نے بے بسی سے انہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔
اگر آج نکاح نہ ہوا تو پھر بس دوبارہ شادی نہ ہونے کی اسکی ۔۔۔۔
ثمن بیگم نے دوبارہ آگ اگلی تھی جس پر ریان نے غصے سے انہیں دیکھا تھا ۔۔۔
ہم ابھی موجود ہیں پھوپھو اسکا فیصلہ کرنے کے لئے سنا آپ نے اور ویسے بھی نکاح آج ہی ہوگا صمد نہ صحیح میں ہی صحیح ۔۔۔۔
سرخ آنکھوں سے اسنے زیب کو دیکھتے ہوئے سب کے سروں پر بم پھوڑا تھا سب نے حیران نظروں سے ریان کو دیکھا تھا جبکہ چچی جان نے آگ بگولہ ہوتے ہوئے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
یہ ۔۔۔ یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم دماغ درست ہے تمہارا تم ۔۔۔ تم سوچ بھی کیسے سکتے ہو ایسا میرے ہوتے ہوئے ایسا کبھی نہیں ہو گا سنا تم نے مر جاؤں گی مگر اسکو اپنی بہو نہیں بناؤں گی ۔۔۔۔
ایک دم سے چیختے ہوئے وہ آپے سے باہر ہوئی تھیں جبکہ سب انکے ردعمل پر شوکٹ رہ گئے تھے اور ریان نے عجیب نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا تھا ۔۔۔
آپ کچھ بھی کہیں لیکن نکاح آج ہی ہوگا ۔۔۔۔
سنجیدہ لہجہ اپنایا گیا تھا جس پر زیب نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا تھا مٹھیاں بھینچے اسکی نظروں کا مرکز ریان تھا ۔۔۔۔
اور ویسے بھی مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہے کس کو اچھی نہیں لگے گی وہ ہے ہی اچھی اسے ناپسند کرنے کا کوئ جواز نہیں بنتا ۔۔۔۔
ابھی وہ اور بولتا جب زیب کی بس ہوئ تھی وہ کیسے برداشت کرتا ریان کےمنہ سے یہ سب ۔۔۔۔
بس ۔۔۔۔ ایک لفظ اور نہیں تمہیں یا کسی کو بھی اس سب کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
لال سرخ آنکھوں سے اس نے ریان کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک فیصلہ سنایا تھا جس پر سب نے ایک بار پھر حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
نکاح خواں اور باقی سب آگئے ہیں لیزہ کا چہرہ ڈھانپو اور پردہ حائل کرو ۔۔۔۔
وہ جو کافی دیر سے بیٹھے بیٹھے تھک گئ تھی اور باقی سب بھی کچھ نہیں بول رہے تھے جب علیزہ باہر سے بولتی ہوئ آئ تھی وہ ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھی تھی دل بہت زور سے دھڑکا تھا چہرے پر گھونگھٹ کرے اس نے اندر آتے مرد حضرات اور پھر نکاح خواں کو دیکھا تھا اور پھر نظریں جھکا دی تھیں ۔۔۔۔
نکاح شروع ہوا تھا ایک دم کمرے میں سناٹا چھا گیا تھا کمرے میں موجود نفوس نظریں جھکائے کھڑے تھے پردے کے دوسری طرف لیزہ کے برابر میں نور بیگم بیٹھی تھی جبکہ سامنے علیزہ اور باقی سب آس پاس کھڑی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔
لیزہ خان بنت بہروز خان آپکا نکاح زیب مغل ولد احمد مغل سے حق مہر پانچ لاکھ روپے سکئہ رائج و الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟
نہ زمین پھٹی تھی نہ آسمان گرا تھا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس نے اپنے برابر بیٹھی ماں کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
نکاح خواں نے دوبارہ الفاظ دہراۓ تھے جبکہ لیزہ نے آنسو بھری آنکھوں سے نور بیگم کو دیکھ کر انکار میں سر ہلایا تھا جس پر انہوں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر دبایا تھا ۔۔۔۔
الفاظ دوبارہ دہراۓ گئے تھے اور اسکے بعد ہی نکاح خواں کی آواز کمرے میں گونجی تھی ۔۔۔
لڑکی کے جواب نہ دینے پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ راضی نہیں ہے اور اگر ایسا ہے تو نکاح نہیں ہوتا نکاح کے لئے دل سے راضی ہونا لڑکے اور لڑکی دونوں کا بہت ضروری ہے زبردستی ایک رشتے میں باندھنے سے نکاح نہیں ہوتا آپ ایک دفعہ لڑکی سے اسکی مرضی معلوم کر لیں ۔۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔۔۔
ابھی نکاح خواں نے اپنی بات ختم کی تھی جب کپکپاتی ہوئی آواز میں لیزہ نے قبول ہے کہا تھا ۔۔۔۔
تم ہی تم تھے خیالوں میں ،
تمہی تو تھے بے خیالی میں ۔۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔۔۔۔
آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو گرے تھے پورا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ضبط سے ۔۔۔۔۔۔۔
جھلکتا عشق رنگوں میں ،
میرے آنکھوں کے پیالوں سے ۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔۔
آخری دفعہ کہتے ہوئے اسکا ضبط ٹوٹا تھا اور وہ بے بسی سے اپنی ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی جبکہ دوسری طرف موجود زیب نے ضبط سے نظریں جھکائی تھیں ۔۔۔۔
جو رشتہ تم نے توڑا تھا ،
پھر نہ جانے کیوں نہیں جوڑا ۔۔۔۔۔۔
زیب مغل ولد احمد مغل آپکا نکاح لیزہ خان بنت بہروز خان سے کیا جاتا ہے کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
پورے چھ سالوں کا سفر اسکی آنکھوں کے سامنے گھومے تھے اور پھر صرف ایک آواز نے اسکو ضبط کے مراحل پر لا کر چھوڑا تھا ۔۔۔۔
بھول جاؤ مجھے اور آگے بڑھ جاؤ ۔۔۔۔۔ میری محبت مر گئ ہے ۔۔۔۔ میں تمہیں نفرت کے قابل بھی نہیں سمجھتی ۔۔۔۔تو مر جاؤ ۔۔۔۔۔
آنکھیں بند کر کے کھولتے ہوئے اس نے تین دفعہ ” قبول ہے ” کہا تھا اور پھر ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گالوں سے ہوتا ہوا اسکی داڑھی میں جذب ہوا تھا ۔۔۔۔۔
قبول ہے تیرا عشق مجھے ،
نفرت اور محبت دونوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔
ماما یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ماما ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
حیران نظروں سے دیکھتے ہوئے سارہ نے کہا تھا جبکہ ثمن بیگم نے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
میں کیا کرتی تم خود بتاؤ اس نے اپنا فیصلہ سنایا اور بہروز بھائ فوراً مان گئے میں خود حیران ہوں ۔۔۔۔
ماما ایسا ۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟ میں ۔۔ میں محبت کرتی ہوں زیب سے آپ نے روکا کیوں نہیں ۔۔۔۔ ؟؟؟؟
اب کہ سارہ کی آواز تیز ہوئ تھی جبکہ ثمن بیگم اسکے قریب پہنچی تھی ۔۔۔۔
دیکھو سارہ ۔۔۔۔۔
کیا دیکھو ۔۔ کیا دیکھوں میں آپ جانتی تھیں جانتی تھیں لیکن پھر بھی آپ ۔۔۔ آپ نے کچھ نہیں کیا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔؟؟؟؟
انکے ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے سارہ نے چیختے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
وہ ۔۔۔ وہ جیت کیسے سکتی ہے ؟؟؟؟ زیب تو میرا تھا نہ تو وہ لیزہ کو کیسے مل سکتا ہے ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ نہیں نہیں میں ایسا نہیں ہونے دونگی ایسا نہیں ہونے دونگی ۔۔۔۔
بے بسی سے روتے ہوئے وہ دروازے کی طرف مڑی تھی جب ایک دم سے رکی تھی ۔۔۔۔
اس کا نکاح ہو گیا ہے سارہ ۔۔۔۔
ثمن بیگم کی آواز کنویں میں سے آتی محسوس ہوئی تھی جبکہ سارہ وہی دروزے پر کھڑے کھڑے ہی دس فٹ نیچے دفن ہو گئ تھی ۔۔۔۔
اسکی ماں ایسا کیسے کر سکتی تھی اسکے ساتھ ۔۔۔۔
اس سوچ نے اسکا دماغ ماؤف کیا تھا اور پھر ایک دم سے وہ لڑکھڑا کر گری تھی اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئ تھی ۔۔۔۔
تیز ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ درانی ہاؤس پہنچا تھا گاڑی جھٹکے سے روکتے ہوئے وہ تیزی سے اندر بڑھا تھا جب سب ہی اسے لاونج میں بیٹھے مل گئے تھے ۔۔۔۔
کھٹکے پر اسکی ماں نے گردن اٹھا کر دیکھا تھا اور صمد کو دیکھ وہ کھڑی ہوئی تھیں ۔۔۔۔
صمد ۔۔۔۔۔ کہاں تھے تم ؟؟؟؟ کہاں تھے میں نے پوچھا ۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟
ماں کی آواز پر صمد کی نظریں جھکی تھی جبکہ سب اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔
موم میں بس ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا ایک زناٹے دار تھپڑ نے اسکی بولتی بند کی تھی ۔۔۔۔۔
بند کرو بکواس ۔۔۔ کہاں تھے تم کیوں آۓ ہو اب واپس ہماری اور اس بچی کی زندگی تباہ کر کے تمہیں سکون نہیں ملا جو سب ختم کرکے چلے آئے ہو ۔۔۔۔
اپنے باپ کی تیز آواز پر اسکا جھکا سر اٹھا تھا ۔۔۔۔
ڈیڈ کچھ ۔۔۔ کچھ نہیں بگڑا ۔۔۔ اب ۔۔۔ ابھی چلیں میں ۔۔۔ مجھے غلط فہمی ہوگئ تھی ڈیڈ ۔۔۔۔
کپکپاتے ہوئے لہجے میں ضبط سے بولتے ہوئے وہ بولا تھا ۔۔۔۔
ہا ہا ہا ۔۔۔۔۔ واہ بیٹا واہ ۔۔۔۔ عزت افزائی کروا کر تم کہہ رہے ہو کچھ نہیں بگڑا صحیح کہا تم نے کچھ نہیں بگڑا ابھی کیوں کہ تمہاری غیر موجودگی نے اس بچی پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی اس لئے زیب نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام کر سب کی بولتی بند کر دی نکاح ہو گیا ہےاسکا سنا تم نے نکاح ہو گیا ہے اسکا ۔۔۔۔۔
جبکہ اپنے باپ کی آواز اسکے لئے قیامت لے آئ تھی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے وہ تیزی سے پیچھے ہٹا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے باہر نکل گیا تھا پیچھے وہ سب اسے جاتے دیکھ صوفے پر گر گئے تھے ۔۔۔۔۔
