Asmano Pe Likha By Ayeza Khan Readelle50266 Asmano Pe Likha (Episode 12)
Rate this Novel
Asmano Pe Likha (Episode 12)
Asmano Pe Likha By Ayeza Khan
وہ واحد شخص ہو ،۔
جس کے لئے میں نے خود کو بیکار کر دیا۔
وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ بھی بہت تیزی سے ۔۔۔ کہتے ہیں جب وقت ساتھ نہ دے تو آپکا وقت وہیں کہیں ٹہر جاتا ہے اوروقت کی قدر بھی اسی وقت ہوتی ہے جب آپ اس لمحات سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہوں اور نہ چاہ کر بھی ایسا نہ ہو اس وقت وقت سے ذیادہ ظالم کچھ نہیں لگتا ۔۔۔۔
بلکل اس کے ساتھ ایسا ہوا تھا طرح طرح کی باتیں اسکے کانوں میں اکثر پڑتی رہتی تھیں اسکو ایسا لگتا تھا جیسے کوئ اور بھی ہے جو اسکے اس جرم میں برابر کا شریک ہے لیکن وہ کان منہ لپیٹے سامنے سے گزر جاتی تھی ابھی کل کی ہی تو بات ہے جب ایک آنٹی بڑے ٹھاٹ سے اندر صوفے پر دھنسی بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
خیر سے لیزہ آگے نہیں پڑھ رہی اسکی نظر اتارا کرو جب سے شادی ہوئ ہے چپکی لگ گئ ہے اسکو۔۔ حادثہ بھی تو بہت برا تھا ویسے معلوم ہوا کہ ہوا کیا تھا اسے ۔۔۔۔ اچھی بھلی تو تھی ۔۔۔ بھلا ایسا کیا سوگ لگا لیا ۔۔۔۔
ان محترمہ کی باتیں اسکے کانوں میں صور کی طرح پہنچی تھی لیکن جب وہ نیچے گئ تو وہ بلکل سپاٹ تھی ۔۔۔
آگے سے گزرتے ہوئے آنٹی نے میٹھے لہجے میں خیر خیریت دریافت کی تھی جس پر وہ سر اثبات میں ہلا کر نکل گئ تھی ۔۔۔
لگتا ہے اثر ہو گیا ہے اس پر ۔۔۔ ایسا کرو اسکی ماں کو بولو ایک پیر بابا ہیں میری نظر میں انکے پاس لے جاؤ وہ اسکا علاج کر دیں گے ۔۔۔۔
آنٹی اسے جاتے ہوئے دیکھ کر آہستہ سے بولی تھیں باہر نکلتے ہوئے آنٹی کی آوازیں مدھم ہوگئی تھیں لیکن اسکے دل کا شور ہر کوئ سن سکتا تھا اسنے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے گہری سانس لی تھی ۔۔۔
تو یہ سب بھی ہونا ہے میرے ساتھ ، کیا محبت تو نے تو بدنام ہی کردیا مجھے ۔۔
وہ اپنی حالت پر طنزیہ ہنستی ہوئ گاڑی میں بیٹھی تھی۔۔۔
آج کل وہ میڈیکل ٹیسٹ کی تیاری کررہی تھی وہ جانتی تھی کلیر نہیں ہوگی لیکن اپنے بابا کے لیے ایک دفعہ اپنے آپکو آزمانا چاہتی تھی ۔۔۔
اور جب ہم ایک کام کے لیے عزم باندھ لیں تو باقی سب کچھ اللہُ تعالیٰ کرتے ہیں اور وہ جانتی تھی اللہُ اسکے ساتھ ہے کامل یقین ہونا چاہئیے بس۔۔۔۔
زیب ۔۔۔۔۔ زیب ۔۔۔۔۔۔۔ زیب ۔۔۔۔۔۔۔
سورج کی کرنوں میں اس وقت امریکہ کی مشہور یونیورسٹی میں فٹ بال میچ جاری تھا جس میں شور و نعروں کے بیچ نکلتا اسکا نام اسے تمانیت بخش رہا تھا وہ پورے جوش وخروش سے میچ کھیل رہا تھا کیونکہ اسے پتا تھا وہ ہار ہی نہیں سکتا اس نے ہارنا سیکھا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔
ایک دم شور اٹھا تھا اور زیب نے ایک کک مار کے آخری وار کیا تھا اور بال اچھل کر باسکٹ میں گئ تھی اور پھر کیا تھا ایک شور تھا ایک ہنگامہ تھا جس نے پورا گراؤنڈ سر پر اٹھا لیا تھا سب اسکو مبارک باد دینے کے لیے اور گلے ملنے کے لیے آگے بڑھے تھے اور وہ سب سے ملتا ہوا داد وصول کر رہا تھا جیسے یہ سب اسکا حق ہو وہ مغرور حسن کا دیوتا اپنے ڈمپل دیکھاتا ہوا لڑکیوں کے دل کے تار چھیڑ رہا تھا اور وہ یہ بات اچھے سے جانتا بھی تھا ۔۔۔
کانگریچولیش ۔۔ ڈئیر فائنیلی یو وون ونس مور اور مجھے بہت خوشی ہے ۔۔۔۔
وہ جو سب سے مل کر ابھی فارغ ہوا تھا اور اندر بڑھا تھا جب بیچ میں کسی نے اسے روکا تھا اور گلے لگتے ہوئے اسکے گال سے اپنا گال مس کیا تھا جس پر زیب ٹھہر گیا تھا ۔۔۔۔
نسوانی آواز پر وہ ہوش میں آیا تھا ۔۔۔ آج پھر اسکو کوئ شدت سے یاد آیا تھا اور دل چاہا تھا وہ سامنے ہو اور ایسے ہی گلے لگائے لیکن ۔۔۔۔۔ اور اس لیکن کے آگے سب ختم تھا سب ۔۔۔
اسنے سامنے موجود لڑکی کو خود سے آرام سے دور کیا تھا ۔۔۔
شکریہ ۔۔۔ بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔۔ ویسے تم میچ میں نہیں تھیں ۔۔۔۔
زیب نے اسکی مبارک باد وصول کرتے ہوئے اس سے استفسار کیا تھا ۔۔۔
وہ میری کلاس تھی نہ بس اس لیے ۔۔ ویل ۔۔۔ آج کیا کر رہے ہو فری ہو تو کہیں سلیبریٹ کرتے ہیں تمہاری جیت ۔۔۔۔
روز نے اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا روز اسکی جونئیر تھی لیکن اسکی خوبصورتی نے زیب کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا وہ سرخ و سفید رنگت کی لمبے قد کی لڑکی تھی اسکے بوب کٹ بال اس پر بغیر آستینوں کی شرٹ اسکو دوسروں میں الگ بناتا تھا اسی وجہ سے زیب اسکی طرف متوجہ ہوا اور وہ تو سب کے منہ سے زیب کا سن سن کر ویسے ہی اسکی گرویدہ تھی اسکی طرف کھنچی چلی آئ تھی ۔۔۔۔
وائے ناٹ ڈارلنگ ۔۔۔۔۔ جہاں تم کہو ۔۔۔
روز کے سوال پر زیب نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
سی سائیڈ ۔۔۔۔ جسٹ میں اور تم اور ایک حسین رات ۔۔۔۔۔۔
روز نے قریب ہوتے ہوئے اس کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ جواب دیتا اسکی پوکٹ میں رکھا موبائل بجا تھا جس پر وہ ہوش میں آیا تھا ایک قدم پیچھے ہوتے ہوئے اس نے موبائل نکالا تھا جب کہ روز بدمزہ ہوئ تھی ۔۔۔۔
ایکسکیوز می ۔۔۔۔۔۔
وہ روز کو معزرت کرتا ہوا آگے نکل گیا تھا ۔۔۔۔
ہیلو ۔۔۔۔۔ یار کہاں غائب تھے سب پتا ہے میں کتنا پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔
زیب نے کال پک کرتے ہی دوسری طرف موجود ژالے کو کہا تھا ۔۔۔۔
اسلام و علیکم بھائ ۔۔۔۔ بس ابھی ابھی اسلام آباد پہنچے ہیں ٹائم ہی نہیں مل رہا تھا خیر آپ سنائیں آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔ پیپر کب ہیں آپکے ۔۔۔۔
ژالے نے پہ در پہ کی سوال کر لیے تھے ۔۔۔۔
اچھا ااا کافی دیر لگ گئ کراچی میں ۔۔۔۔ خیریت ۔۔۔۔ ؟؟؟
زیب نے اسکے سوالات اگنور کر کے کچھ کھوج لگانے والے اسٹائل میں پوچھا تھا ۔۔۔
جی بھائ سب ٹھیک ہے امی ابھی سوئ ہیں جیسے ہی اٹھیں گی بات کرلیجئے گا میں بھی آرام کر لوں اوکے پھر بات ہوگی ۔۔۔۔
ژالے ٹھنڈے لہجے میں کہتی ہوئ فون بند کر چکی تھی
جبکہ وہ سن رہ گیا تھا ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ گھر سے کال آئ ہو اور ایک گھنٹے سے پہلے وہ چھوڑ دے ۔۔۔۔
تو کیا لیزہ نے اسے سب ۔۔۔۔۔۔۔
زیب منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا اور پھر اپنی سوچ پر لعنت بھیجی تھی ۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔ وہ مر جائے گی لیکن اپنا مزاق نہیں بنوائے گی ۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے کچھ سوچ کر وہ مطمئن ہو گیا تھا اور باہر کی طرف نکل گیا تھا کیونکہ اب اسکا موڈ نہیں تھا کلاسس لینے کا ۔۔۔۔
تو پرسکون اس لیے ہے کہ ،۔
ابھی وقت ہے تجھے عشق کی ہوا لگنے میں ۔۔
اگر یہ کہہ دو کے۔
نام میرے حیات ساری،۔
تو میں تمہاری!
یا مجھ سے ملنے کی جستجو میں
ہو بیقراری،۔
تو میں تمہاری!
ہو تجھ سے میرا عجیب رشتہ،۔
بدن ہو میرا، تو درد تیرا،۔
میں چوٹ کھاؤں.
تمہاری آنکھوں سے ہوں اشک جاری.
تو میں تمہاری!
ہتھیلیوں پر حنا لگا کر
اگر میں بیٹھوں حضورِ والا!
تو رُخ پہ اُڑتی شریر زُلفیں.
اگر سنواری
تو میں تمہاری!
لگائیں بازی محبتوں کی
میرا یہ دعوٰی کہ جیت میری!
جو ہاروں میں .
تُو بازی پلٹ دے ساری.
تو میں تمہاری!
نہر نہ کھودو، نہ خاک چھانو!
نہ بانسُری کی دھنیں سناو۔
جو سن سکو
قہقہوں میں تم میری آہ و زاری
تو میں تمہاری!
قدم جو رکھوں زمیں پہ اپنے۔
تو پھول بکھرے ہوں رہگزر میں،۔
ہنسی پہ میری
نہال ہو کے ہو صدقہ واری۔
تو میں تمہاری!
نہ لعل و گوہر، نہ تختِ شاہی
زمین زیور نہ صدقہ وارو،۔
غزل کوپڑھ کے
جو تم نے میری نظر اُتاری
تو میں تمہاری۔۔۔ ![]()
رات کے پہر آسمان پر چمکتے ہوئے چاند کو دیکھتے ہوئے وہ پینسل ہاتھ میں پکڑے ساکت بیٹھی تھی کمرے کی کھڑکی سے جھانکتا ہوا چاند آج اسے دیکھ کر خود بھی اداس تھا اس لیے بار بار بادلوں کی اوٹ میں چھپ رہا تھا ۔۔۔۔
ایک آنسوں اسکی آنکھ سے نکل کر سامنے رکھی کاپی پر گرا تھا وہ جو میڈیکل ٹیسٹ کی تیاری کر نے بیٹھی تھی لیکن اس خود غرض شخص کی یاد نے اسے اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ اب پڑھ پاتی ۔۔۔۔۔
تیز ہوا کا جھونکا کھڑکی سے اندر داخل ہوا تھا اور سامنے رکھے پیپر اڑتے دیکھ لیزہ ایک دم ہوش میں آئ تھی اور پیپر پر اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔۔
گہرا سانس لے کر اسنے انگلی کے پور سے اپنے آنسوں صاف کیے تھے لیکن اگلے لمحے پھر چہرا تر تھا اس نے بے بسی سے کھڑکی سے جھانکتے چاند کو دیکھا تھا اور پھر اسنے ایک دفعہ پھر ضبط کھویا تھا ۔۔۔۔
کیوں کیوں کیوں کیا میرے ساتھ ایسا ۔۔۔۔۔ میں نے کیا بگاڑا تھا یا اللہ اسکا ۔۔۔۔ اسنے کیوں کیا میرے ساتھ ایسا میں نے دل سے چاہا تھا اسے محبت کی تھی ۔۔۔ وہ کیوں نہ سمجھا مجھے ۔۔۔ کیوں کیوں ۔۔۔۔۔ ہاں میں غلط تھی میں بھول گئ تھی اپنی حدود میں بھول گئ تھی ۔۔۔۔ یا اللّٰہ مجھے معاف کر دے ۔۔۔ مجھے سکون دے یا میرے مالک ۔۔۔۔ آپ تو دلوں کے حال سے واقف ہیں نہ بس ایک دفعہ مجھے پہلے جیسا بنا دے ۔۔۔ مجھے گناھوں سے پاک کر دے مجھے اس محبت سے آزاد کر دے میرے مولا ۔۔۔ ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گی وہ جیت جائے گا اورمیں ۔۔۔ میں ہار جاؤں گی ۔۔۔۔ پلیز اللّٰہ پلیز مجھے صبر دے ۔۔۔ مجھے صبر دے ۔۔۔۔
رات کے اس فسوں خیز ماحول میں ایک دیوانی لڑکی محبت میں آزمائی ہوئ لڑکی رائیٹنگ ٹیبل پر سر رکھے زار و قطار رونے میں لگی ہوئ تھی اسکی آواز اس وقت درد سے پھٹ رہی تھی وہ اللہ سے فریاد کرتے ہوئے کوئ معصوم سوگوار مورتی لگ رہی تھی اور کہتے ہیں نہ جب اللّٰہ سے دعا مانگی جائے وہ بھی دل سے تو لازمی قبولیت کا شرف بخشتی ہے بس اپنے رب پر اندھا اعتماد کرنا ہوتا ہے پھر وہ ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور اسکی چاہت آپکی چاہت سے دس گناہ زیادہ بہتر ہے لیکن کاش یہ انسان سمجھ لیں ۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ اپنے رونے کا عمل اور بڑھاتی جب موبائل کی بپ نے اسے متوجہ کیا تھا اسنے حیران نظروں سے سیل دیکھا تھا اگلے لمحے اسکی نظریں گھڑی پر گئ تھی مسلسل بجتے موبائل کو ہاتھ میں لیے وہ اسکرین دیکھ رہی تھی جہاں اس وقت اننون نمبر جگمگارہا تھا اسنے کال ڈسکنیکٹ کرتے ہوئے موبائل واپس رکھا اگلے ہی لمحے وہ دوبارہ بجا تھا اسنے کوفت سے اسکرین دیکھی تھی غصہ بھی شدید آیا تھا اور ابھی وہ اس کنڈیشن میں نہیں تھی کہ کسی کے منہ لگتی ۔۔۔
جب فون مسلسل بجتا رہا تو لیزہ کو مجبوراً اٹھانا پڑا ۔۔۔
ہیلو ۔۔۔۔۔
لیزہ نے کوفت سے موبائل کان میں لگا کر بولا تھا ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف موجود شخص کی سانسیں سینے میں اٹکی تھیں ۔۔۔۔
ہیلو ۔۔۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔۔۔
لیزہ کے دوسری اور تیسری بار پوچھنے پر بھی جب کوئ نہ بولا تو اسنے کال کاٹ دی اور موبائل آف کر دیا ۔۔۔
ایسا کر کے اسے دلی سکون ملا تھا اسنے اٹھ کر پانی پیا تھا اور پھر ایک دفعہ پھر عزم کرتے ہوئے پڑھنے بیٹھی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ ابھی بہت سے موقع آنے ہیں جب وہ اپنے عزم کو دہراۓ گی ۔۔۔۔
