56.4K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Asmano Pe Likha (Episode 13)

Asmano Pe Likha By Ayeza Khan

امریکہ کے حساب سے وہاں کے ساڑھے بارہ بجے کے قریب ایک گاڑی تیزی سے روڈ پر دوڑ رہی تھی اس میں چلتے تیز گانے رات کے اس وقت روڈ پر ارتعاش پیدا کر رہے تھے گاڑی میں موجود چار بندے اس وقت جیت کے نشے میں گم تھوری دیر پہلے اپنی جیت کا جشن منا کر اب گھر کی طرف روانہ تھے ایسے میں روز زیب کے برابر بیٹھی مسلسل اسے زچ کر رہی تھی مسلسل ایک ہی تکرار نے اسکا میٹر گھما دیا تھا لیکن وہ فلحال کچھ بھی بولنے کے موڈ میں نہیں تھا آج وہ کلب میں بھی بجھا بجھا سا تھا ویسا نہیں تھا جیسے وہ پہلے اپنی جیت کا جشن مناتا تھا لیکن آج ایسا لگ رہا تھا جیسے ڈرامہ کر رہا ہو یا وہاں ہو کر بھی وہاں نہ ہو ۔۔۔۔۔

سب کو گھر انکے فلیٹ پر چھوڑ کر وہ اپنے فلیٹ پر اترا تھا اور روز کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

تم ایسا کرو میری کار لے جاؤ اور کل مجھے لازمی مارنگ میں پک کر لینا یونی کے لیے ۔۔۔ اوکے ۔۔۔

زیب اسکو کہتا ہوا آگے بڑھا تھا لیکن اگلے لمحے رکا تھا ۔۔۔

روز جو زیب کی بات سن رہی تھی اسکو اترتے دیکھ کر خود بھی تیزی سے گاڑی سے اتری تھی اور زیب کی طرف بھاگ کر اسکا بازو پکڑا تھا ۔۔۔۔

زیب آج میں تمہارے ساتھ تھوڑا اور ٹائم اسپینڈ کرنا چاہتی ہوں آئ مین ۔۔۔۔۔ آج رات میں اور تم ۔۔۔۔

اسکے بازو پکڑنے پر زیب نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا تھا اور اسکی بات سن کر پہلے تو ناسمجھی سے اسے دیکھتا رہا لیکن اگلے ہی لمحے سمجھ کر اس نے اپنی مٹھیاں بھینچی تھی ۔۔۔۔

روز رات بہت ہو گئ ہے میں بھی تھکا ہوا ہوں جتنا ٹائم اسپینڈ کرنا تھا کر لیا اب کل ملتے ہیں ۔۔۔

اسنے عادت کے خلاف اسکے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑاتے ہوئے دھیمے سے کہا تھا لیکن چہرہ سپاٹ تھا ۔۔۔۔۔۔

زیب پلیز ۔۔۔ میں اب تم سے دور نہیں رہ سکتی پلیز تم نے مجھے ۔۔۔ مجھے اپنا آج کا دن دیا ہے تو رات بھی میرے نام کر دو ۔۔۔۔۔

روز اسکا دوبارہ ہاتھ پکڑکر مخمور لہجے میں بولی تھی جب کہ اسکی بات سن کر زیب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔۔۔۔

اپنی اوقات میں رہو ۔۔ مجھے دو ٹکے کا لڑکا سمجھنے کی کوشش مت کرنا آج تم نے اپنی اوقات بتا دی کہ تم بھی وہی لڑکی ہو دو ٹکے کی لیکن میں زیب مغل ہوں تم جیسی لڑکیوں کو منہ لگانا تو دور بات کرنا پسند نہیں کرتا اسکے باوجود میں نے تم سے دوستی کی کیونکہ تم الگ لگی تھیں لیکن میں بھول گیا تھا کہ امریکہ میں رہتے ہوئے کوئ معصوم کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔

زیب نے جھٹکے سے روز کے بازوؤں کو پکڑ کر گاڑی سے لگایا تھا اور پھر غرراتے ہوئے کہا تھا جب کہ اسکے تلخ لہجے اور خون برساتے لہجے کو دیکھ کر ایک پل کو وہ سہم گئ تھی لیکن اسکی باتیں سن کر اسے غصہ آیا تھا ۔۔۔۔

جسٹ شٹ اپ ۔۔۔۔۔ محبت کرتی ہوں تم سے لیکن مجھے نہیں پتا تھا اتنے ٹیپیکل ہو تم ۔۔ پتا ہوتا تو منہ بھی نہ لگاتی تمہیں ۔۔۔۔

روز نے اسکے ہاتھ جھٹکتے ہوئے انگلی اٹھا کر کہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ زیب نے اسکی وہی انگلی اپنی انگلی میں لے کر مڑوڑی تھی اور طنزیہ ہنستے ہوئے اسکی طرف جھکتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔۔

زیب مغل ہوں ہرایرے غیرے کو منہ نہیں لگاتا ۔۔ زیب مغل کی محبت ، اسکے دل پر راج کرنے والی صرف ایک ہی ہوگی جو صرف اسکی ہوگی یوز فل نہیں ہوگی ۔۔۔۔ اینڈ یو شٹ یور ماؤتھ اینڈ گو ٹو ہیل ۔۔۔۔۔۔

اسنے بڑے جنونی انداز میں بولتے ہوئے آخر میں پر اسرار لہجے میں کہا تھا جبکہ اسکی بات پر اسنے غصے سے پاگل ہوتے ہوئے اسے دیکھا تھا انتقام کی چنگاری پھوٹی تھی اسکے دل و دماغ میں اور یہ چنگاری کتنا نقصان کرتی یہ شاید وقت بتانے والا تھا ۔۔۔

زیب اسکو دیکھتے ہوئے پیچھے ہوا تھا اگلے لمحے وہ مڑ کر فلیٹ کی طرف چلا گیا پیچھے روز نے اسے دور تک جاتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔

چابی سے دروزہ کھولتے ہوئے وہ کھولتے دماغ سے اندر داخل ہوا تھا اور پیچھے زور سے دروزہ بند کیا تھا پورے لاونج میں اندھیرا ہو رہا تھا اور اس نے لائٹ جلانے کی زحمت بھی نہیں کی تھی وہ تیزی سے چلتا ہوا ایک طرف بنے بڑے سے کمرے میں داخل ہوا تھا لائٹ آن کرتے ہوئے وہ کمرے کے بیچ و بیچ ٹہلنا شروع ہو گیا تھا غصہ اتنا شدید تھا کہ پاس پڑی رائیٹنگ ٹیبل کے سامنے رکھی چئیر پر زور سے لات رسید کی تھی جس کی بنا پر وہ دور جا کر گری تھی ۔۔۔۔

سمجھتی کیا ہے آپنے آپکو ۔۔۔۔ کیسے کر سکتی ہے ایسے بات وہ بھی مجھ سے دو ٹکے کی لڑکی مجھے بتائے گی ۔۔۔۔۔

وہ واپس بیڈ کی طرف آتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا ۔۔۔

اس وقت اسے ضرورت تھی کسی کی عجیب حالت ہورہی تھی اسکی وحشت ہورہی تھی اسے یہاں سے دل چاہ رہا تھا بھاگ جاۓ یہ سوچ آتے ہی اسے نئے سرے سے غصہ چڑھا تھا اور اگلے ہی لمحے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا گلاس فرش پر گر کر چکنا چور ہوا تھا ۔۔۔۔

کچھ یاد آیا تھا اسے اسکی جھجھک اسکا نظریں جھکانا اسکی پلکوں کا رقص کیا کچھ نہ یاد آیا تھا اسکی آنکھوں کے سامنے سارے منظر تازہ ہوئے تھے کہ جب جب وہ لیزہ کے قریب جاتا تھا وہ گھبرا کر آنکھیں جھکا لیتی تھی اسکی خوبصورت آنکھوں کا نظارہ یاد کر کے اسے ایک دم بے چینی ہوئی تھی اسکا دل چاہا تھا کہ وہ سامنے آجاۓ کہیں سے لیکن یہ کیفیت ایک لمحے کی تھی اگلے ہی لمحے وہ اپنے خول میں سمٹ چکا تھا اس سے پہلے کہ وہ اور کچھ سوچتا جیب میں رکھا موبائل بجا تھا وہ ایک دم ہوش کی دنیا میں آیا تھا اس نے جیب سے موبائل نکال کر اسکرین دیکھی تھی ایک سکون بھرا احساس ہوا تھا اسے ۔۔۔

ہیلو ۔۔۔ ماما ۔۔۔۔۔

زیب نے جلدی سے ریسیو کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔

ہیلو میرے بیٹے ۔۔۔۔ کیسے ہو ؟؟؟؟

جبکہ دوسری طرف فریدہ بیگم اسکی آواز سن کر نہال ہوئی تھیں ۔۔۔

میں ٹھیک ہوں ماما ۔۔۔۔ بہت یاد آ رہی ہے آپ کی ۔۔۔۔

زیب نے تیزی سے اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا اسکی بات سن کر فریدہ بیگم کی آنکھیں جھلملائئ تھیں ۔۔۔۔

سیم ٹو یو میری جان ۔۔۔۔ ماں صدقے ۔۔۔۔۔ آجاؤ نہ ملنے کتنا وقت ہو گیا ہے تجھے دیکھے ہوئے ۔۔۔۔

انکی بات پر زیب نے ہولڈ بولتے ہوئے لیپ ٹاپ نکالا تھا اور ایک منٹ بول کر کال ڈسکنیکٹ کی تھی ۔۔۔

یہ لیں ۔۔۔ میں نے آپکا کام آسان کر دیا ۔۔۔۔

اس نے لیپ ٹاپ کنیکٹ کر کے ویڈیو کال کی تھی جس پر وہ ہنس دی تھیں ۔۔۔

پاگل ایسے دل نہیں بھرتا ایک ماں کا ۔۔۔۔ بس تم سے ایک شکوہ ہے بغیر بتائے بغیر ملے چلے گئے ۔۔۔ بتانا تک نصیب نہیں ہوا تمہیں ۔۔۔۔

انھوں نے پیار سے کہتے ہوئے آخر میں ناراضگی سے کہا تھا ۔۔۔

ماما بس بہت ارجنٹ نکلنا تھا مجھے خود نہیں پتا تھا ورنہ آپکو لازمی انفارم کرتا ۔۔۔۔

ایک لمحے کے لئے انکی بات سن کر وہ چپ ہوا تھا اور پھر ٹھہر ٹھہر کر بولا تھا ۔۔۔۔

تمہیں پتا ہے لیزہ کی ۔۔۔۔۔۔۔

فریدہ بیگم اپنی دھن میں زیب سے لیزہ کا ذکر چھیڑ بیٹھی تھیں ۔۔۔

اسکے نام پر زیب کا دل دھڑکا تھا ۔۔۔

پھوپھو ۔۔۔۔ پھوپھو ۔۔۔۔۔

علیزہ جو کب سے دروزے پر کھڑے ہوکر ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی لیزہ کا ذکر آتے ہی وہ تیزی سے اندر داخل ہوئی تھی اور زور سے بولی تھی ۔۔۔

جہاں اسکے زور سے بولنے پر پھوپھو نے دل پر ہاتھ رکھا تھا وہیں زیب کی سانسیں اٹک گئی تھیں ۔۔۔

کیا ہوا علیزہ سب خیریت ہے ۔۔۔؟؟؟؟

فریدہ بیگم نے دل پر ہاتھ رکھے ہی اس سے پوچھا جس پر وہ شرمندہ ہو گئ تھی ۔۔

سوری پھوپھو ۔۔۔ وہ کسی کلائنٹ کی کال آئ تھی وہ آپ کو ارجنٹلی بلا رہی ہیں انکی بات سن لیں شاید کوئ ضروری بات ہو ۔۔۔

علیزہ نے جلدی جلدی بہانہ بنایا تھا جس پر فریدہ بیگم کھڑی ہوگئی تھیں ۔۔۔

بیٹا میں ابھی آئ جب تک تم اپنی بھابھی سے بات کرو ۔۔

وہ زیب کو کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی تھیں ۔۔۔

علیزہ دھیرے دھیرے چلتے ہوئے موبائل کے سامنے گئ تھی جس پر زیب مسکرایا تھا ۔ ۔

ہیلو بھابھی کیسی ہیں بھائ کیسے ہیں ۔۔ تنگ تو نہیں کرتے ذیادہ ۔۔۔۔

اس نے آرام سے اس سے دریافت کیا تھا ۔۔۔

الحمداللہ سب ٹھیک ہیں خوش ہوں اور رمیض لاکھوں میں ایک ہیں جو میری محبت پر لبئیک کہتے ہیں ۔۔۔

اسنے بظاہر مسکراتے ہوئے زیب کو دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔۔

تم سناؤ اتنی اچانک کیسے چلے گئے تم خیریت تھی نہ سب ۔۔۔۔۔

علیزہ نے کچھ کھو جتے ہوئے اس سے پوچھا تھا جس پر وہ سنجیدہ ہوا تھا ۔۔۔

بس کام تھا کچھ آپ سنائیں سب ٹھیک تھا وہاں میرا مطلب ۔۔۔ لی ۔۔ لیزہ کیسی ہے ۔۔ ؟؟؟؟؟

اس کو مطمئین کرتا ہوا آخر میں وہ ہچکچایا تھا۔۔۔۔۔

مر گئ لیزہ تمہیں نہیں پتا چلا ۔۔۔۔ چلوخیر بتا دیتی ہوں لیزہ کا دی اینڈ ہو گیا مر گئ وہ ۔۔۔۔۔ اب اور کچھ تو نہیں پوچھنا تمہیں ۔۔۔ ؟؟؟

اسکے سوال پر علیزہ نے اطمینان سے مسکراتے ہوئے اسے کہا تھا جس پر وہ سن رہ گیا تھا اگلے ہی لمحے کال ڈسکنیکٹ ہوگئ تھی لیکن وہ جہاں کا تہاں بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔

یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ کیا کہ رہی ہیں بھابھی ۔۔۔۔ لیزہ مر ۔۔۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا دماغ خراب ہوگیا ہے انکا شاید ۔۔۔۔

زیب پاگل سا اپنے آپ میں بڑبڑارہا تھا خود سے ہی جواب اور خود سے ہی سوال کر رہا تھا بے چینی تھی کہ بڑھتی ہی جارہی تھی اسنے سیگریٹ نکالی تھی اور اگلے دو گھنٹے میں کمرا سگریٹوں سے بھر گیا تھا ۔۔۔

کچھ سوچ کر اس نے موبائل نکالا تھا اور نمبر ڈھونڈ کر پریس کیا تھا دوسری طرف کال جا رہی تھی اسی کے ساتھ ساتھ زیب کا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔۔۔

ہیلو ۔۔۔۔۔

دوسری طرف سے کال اٹھا لی گئی تھی اسکا دل رک گیا تھا اسے لگا تھا اگر اس نے سانس لی تو وہ سمجھ جائے گی ۔۔۔۔

ہیلو ۔۔۔۔ ہیلو ۔۔۔۔۔

اسکی بھیگی آواز اور رت جگے کی خماری عجیب سی کیفیت طاری کر رہی تھی اس پر ۔۔۔۔

دوسری تیسری دفعہ پوچھنے پر اسنے کال کاٹ دی تھی جبکہ زیب بے چین ہوا تھا اسنے دوبارہ کال ملائ تھی جبکہ اب دوسری طرف سے نہیں اٹھائے گئ تھی اور پھر کتنی دفعہ کال کی تھی لیکن اب موبائل آف کر دیا گیا تھا ۔۔۔

اسنے اپنا فون بیڈ پر اچھالا تھا اور ایک اور سگریٹ جلایا تھا لیکن اب کے وہ نامحسوس طریقے سے سکون میں تھا کیونکہ وہ بلکل صحیح تھی اور زیب کے لئے یہی بات کافی تھی ۔۔۔

آج دوسری رات تھی جب اسے لیزہ بے تحاشہ یاد آئ تھی اور پہلی رات تھی جب اس نے پوری رات سگریٹ پیتے ہوئے گزاری تھی ۔۔۔۔

عشق کا عیام میں صاحب ،۔

نشہ سر چڑھ کر تو بولے گا ۔۔

صبح کا خوبصورت منظرچڑیا کی چہچہاہٹ اور سورج کی کرنیں نکلنے کو بے تاب تھیں ایسے میں منور ولا کے ہال میں وہ گیلی گھاس پر ننگے پیر کتاب ہاتھ میں لیے یاد کرنے میں مگن تھی ۔۔۔ چاروں طرف سے بیگانہ وہ دھرانے میں لگی ہوئ تھی آج اسکا ٹیسٹ تھا آج یا تو آر یا تو پار وہ سب کچھ چھوڑ کراپنے بابا کا خواب پورا کرنے کا عزم لیا ہوا تھا ۔۔۔۔

لیزہ ۔۔۔ لیزہ ۔۔۔۔ چاچی بلا رہی ہیں تمہیں ناشتہ تیار ہے ۔۔۔۔

وہ رٹا لگا نے میں لگی ہوئی تھی جب زیان کی آوازپر اندر بڑھی تھی ۔۔۔

کیسی تیاری ہے بھئ ۔۔۔۔۔۔ ٹاپ کر لو گی نہ ۔۔۔۔۔

وہ ابھی ٹیبل پر بیٹھی تھی جب چھوٹی چچی کی آواز پر چونکی تھی دو مہینے سے انکا رویہ ایسے ہی تھا اسکے ساتھ بات کرتے ہوئے لہجے میں حقارت ہوتی تھی ۔۔۔۔ کوئ محسوس کرے یا نہ کرے اس نے انکا رویہ محسوس کر لیا تھا اور وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی ۔۔۔۔

اسنے انکی بات کا کوئ جواب نہیں دیا تھا جس پر بہروز صاحب نے گلا کھنکارتے ہوئے اپنی چھوٹی بھابھی اور کزن کو دیکھا تھا ۔۔۔

انشاء اللہ مجھے پورا یقین ہے اپنی بیٹی پر۔۔۔۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں ۔۔۔۔۔

بابا نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا جس پر وہ بھی بھیگی آنکھوں سے مسکرا دی تھی جبکہ چچی نے طنزیہ منہ بنایا تھا ۔۔۔۔

بھروسہ ہے ۔۔۔ ابھی میرا منہ کھل گیا نہ تو پتا چلے گا کون معصوم ہے کون سیدھا ۔۔۔۔ اور یقین تو یوں چکنا چور ہوگا کہ بس ۔۔۔۔

چچی نے طنزیہ لہجے میں دیکھتے ہوئے اس پر وار کیا تھا جس پر وہ سن رہ گئ تھی ۔۔۔۔

کیا انکو پتا ہے سب کچھ ۔۔۔۔ ؟؟؟

اس سوال نے اسکا دماغ سن کر دیا تھا ۔۔۔۔۔